366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 29)

Aks by Khanzadi

وہ دیوار کا سہارا چھوڑتے ہوئے کھڑا ہوا اور مہک کی طرف بڑھا اور اپنا پاؤں مہک کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

وہ درد سے چلائی لیکن اس ظالم شخص پر اس کی چیخوں کا کوئی اثر نہی پڑا۔۔۔وہ مسکرا رہا تھا۔

مہک جتنی زور سے چلاتی وہ اس کے ہاتھ پر مزید دباؤ ڈالتا۔۔۔یہ،یہ اوقات ہے تم انسانوں کی۔

ہم سے مقابلہ کرنے کا سوچ رہی تھی۔۔۔بلاو اب جس کو بلانا ہے۔

دیکھتے ہیں ہم کون بچانے آئے گا تمہیں ہم سے۔۔۔جس کی امید لگائی ہوئی ہے وہ تو نہی آ سکے گا یہاں،کبھی بھی نہی۔

ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں اور ہر کام اپنی مرضی کے مطابق ہی کرتے ہیں۔

کوئی ہماری زندگی میں یا ہمارے معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے تو ہم اس کا وجود ہی مٹا دیتے ہیں۔

ایک معمولی سی لڑکی۔۔۔ہم تمہیں جان سے مار دیں گے۔

جب اتنا درد دینے کے بعد بھی اس کا دل نہ بھرا تو اس نے مہک کی گردن دبوچ لی۔

وہ ٹھیک سے سانس بھی نہیں لے پا رہی تھی اور اسے اپنی گردن پر اس ظالم شخص کی انگلیاں گوشت میں دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔

جلن اور آگ کی تپش سے اسے اپنی گردن پگھلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔

پھر اچانک اس درندے نما شخص نے مہک کی گردن چھوڑی اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔

چچچچ۔۔۔کہا حال ہو گیا تمہارا چند لمحوں میں لیکن فکر نہی کرو،ہم تمہیں اتنی آسانی سے مرنے نہیں دیں گے۔

جب تک تم خود موت نہی مانگو گی تب تک ہم تمہیں زندہ رکھیں گے۔

ہم تمہیں اس قدر تڑپائیں گے کہ تم موت کے آخری دہانے پر کھڑی ہو گی اور پھر ہم تمہیں موت کے آخری دہانے سے کھینچ کر باہر لائیں گے،تمہیں نئی زندگی دیں گے اور پھر تمہیں موت کی طرف دھکیل دیں گے۔

اتنی آسانی سے تو نہیں مرنے دیں گے۔۔۔کسی غلط فہمی میں مت رہنا کہ ہم تم پر رحم کھائیں گے۔

ہرگز نہی!

ہم سے رحم کی امید بلکل مت رکھنا۔

مہک زمین پر بے سدھر پڑی تھی اور اس کی نظریں چھت پے بنے روشن دان سے دکھائی دیتے آسمان پر جمی تھی۔

وہ اس ظالم شخص کی آواز سن رہی تھی اس میں کچھ بھی بولنے کی ہمت نہی تھی۔۔۔بے بس اور لاچار سی کسی کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔

اسے لگ رہا تھا شاید ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ اس کے ساتھ ہو گا۔۔۔بس انتظار ہی کر سکتی تھی۔

ظبط سے آنکھیں بند کر لی۔۔۔اس کی آنکھوں سے چند آنسو بہتے ہوئے اس کے بالوں میں جذب ہو گئے۔

کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا تھا۔۔۔چند ماہ میں اس کی زندگی پوری طرح بدل چکی تھی۔

وہ اس وقت خود کو کسی گہرے کنویں میں ڈوبتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔

سو جاو۔۔۔جتنا آرام کرنا ہے کر لو کیونکہ اب تمہاری ساری زندگی اسی قید خانے میں گزرنی ہے۔

ایک بار پھر اس کی آواز مہک کے کانوں میں گونجی۔

وہ چلتا ہوا مہک کے قریب آیا اور اس کے پاس زمین پر بیٹھ گیا۔

مہک کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس کے گال پر ہاتھ لگایا۔

مہک نے گلے سے آہ نکلی مگر اس کی آواز جیسے اس کے حلق میں ہی اٹک گئی۔۔۔وہ درد سے تڑپ اٹھی اور چیخنا چاہتی تھی لیکن کچھ نا کر سکی۔

اس کی ہاتھ پر مہک کے خون سے بھر چکی تھیں۔۔۔وہ باری باری اپنی انگلیوں پر لگے خون کو ہونٹوں تک لیجاتا اور مہک کی طرف دیکھ کر مسکراتا۔

مہک نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔اس کی وحشیانہ نظریں اس کا چہرہ جھلسا رہی تھی۔

بلکل اسی طرح تمہارے خون کا ایک ایک قطرہ پی جائیں گے ہم اور وہ ہمارا کچھ بھی نہی بگاڑ سکے گا۔۔۔زور سے قہقہ لگاتے ہوئے وہاں سے غائب ہو گیا۔

مہک نے بے بسی سے نظریں روشن دان سے نظر آتے آسمان پر لگائی اور ہوش و حواس سے بیگانی ہو گئی۔

________________________________

دوپہر سے شام اور شام سے رات ہو چکی تھی لیکن مہک کا کچھ پتہ نہ چل سکا اور ناں ہی شایان کی کوئی خبر ملی۔

دائم مہک کے کمرے میں ہی بیٹھا ہوا تھا اس کا دل ہی نہی کر رہا تھا یہاں سے جانے کو۔

شاید مہک یہی واپس آ جائے اسی امید میں یہاں سے جا ہی نہی سکا۔

مہک کی امی گھر آ چکی تھیں لیکن دوائیوں کے زیرِ اثر سو رہی تھی ورنہ ان کی طبیعت مزید بگڑ سکتی تھی۔

پورے گھر میں سوگوار سا ماحول بنا ہوا تھا ہر کوئی صدمے سے دوچار تھا۔

قاسم اپنے بابا کے ساتھ ڈرائنگ روم میں باقی مرد حضرات کے ساتھ بیٹھا تھا اور خواتین ٹی وی لاونج میں بیٹھی مہک کی سلامتی کے لیے دعائیں کرنے میں مصروف تھیں۔

سب لوگ ادھر ہی آ گئے تھے کیونکہ دائم کی ضد تھی کہ وہ یہاں سے نہی جائے مجبوراً سب کو یہی رکنا پڑا۔

کھانا دو جا کر بھائی کو۔۔۔پتہ نہی کب تک مہک کے کمرے میں بیٹھا سوگ مناتا رہے گا۔

دائم کی امی نے مصباح کو آواز دی اور اس کے ہاتھ کھانا بھجوایا۔

جی امی۔۔۔مصباح کھانے کی ٹرے اٹھائے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔

دروازہ نوک کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور کھانے کی ٹرے میز پر رکھ دی۔۔۔بھائی کھانا کھا لیں۔

دائم صوفے پر بے سدھ سا نظریں چھت پے جمائے لیٹا ہوا تھا مصباح کی آواز سن کر گرم موڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور نظریں دوبارہ چھت پر جما دی۔

بھوک نہی ہے۔۔۔واپس لے جاؤ۔

جب بھوک لگے گی میں خود بتا دوں گا۔

بھائی ایسے تو نا کریں۔۔۔مصباح آنسو بہاتی ہوئی اس کی طرف بڑھی اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔

ایسا کب تک کریں گے؟

سب پریشان ہیں بھائی۔۔۔یہ دکھ صرف آپ اکیلے کا نہیں ہے۔

چاچو اور چچی جان کا سوچیں ان کی اکلوتی بیٹی تھی مہک۔۔۔سب اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

سب کا دکھ الگ ہے مصباح۔۔۔میرا دکھ کوئی نہیں سمجھ سکتا،وہ میری بیوی بعد میں بنی لیکن اس سے پہلے وہ میری دوست تھی۔

وہ اپنی ہر ٹینشن میرے ساتھ شئیر کرتی تھی شروع سے۔۔۔شاید اسے مجھے پر بہت اعتماد تھا۔

جب میں نکاح نامے پر سائن کر رہا تھا اس وقت میرے ہاتھ کانپ رہے تھے لیکن اس کی زندگی بچانے کے لیے یہ نکاح ضروری تھا تو میں پیچھے نہی ہٹا اور ہر جگہ اس کے ساتھ کھڑا رہا لیکن آج۔۔۔آج میں اس کے ساتھ نہیں تھا۔

کتنا تڑپی ہو گی وہ۔۔۔مجھے آواز بھی دی ہو گی لیکن آن میں اس کی آواز سن ہی نہی پایا۔

کاش میں آج اس کے ساتھ ہوتا۔۔۔کچھ بھی کر کے اسے بچا لیتا چاہے میری اپنی جان ہی کیوں ناں چلی جاتی لیکن اسے بچا لیتا۔

مجھے اس بات کا بہت دکھ ہے کہ میں اس کا محرم ہو کر بھی اس کے لیے کچھ نہی کر سکا۔

ایسی بات نہیں ہے بھائی۔۔۔آپ نے اسے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی اور ہر جگہ اس کا ساتھ بھی دیا ہے لیکن شاید اس کی قسمت میں یہی لکھا ہو۔

ہم ایسی مخلوق سے نہیں لڑ سکتے۔۔۔اور آپ ابھی بھی ہار نا مانیں ہو سکتا ہے وہ بلکل ٹھیک ہو۔

جس طرح خاور نے بتایا اس لحاظ سے لگتا تو نہی کہ وہ ٹھیک ہو گی۔۔۔پتہ نہی کیوں میرے دل کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی چین نہی مل رہا۔

ایسے لگ رہا ہے جیسے وہ بہت اذیت میں ہے۔

اللہ پر بھروسہ رکھ پتر۔۔۔دادی جان خاور کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی۔

آپ اوپر کیوں آئی اماں جان۔۔۔مجھے بلا لیتی میں خود نیچے آ جاتا۔

دادی کی آواز سن کر دائم جلدی سے اٹھا اور انہیں سہارا دیتے ہوئے صوفے تک لایا،بیٹھ جائیں آرام سے یہاں۔

خود ان کے گھٹنوں پر سر گرائے بیٹھ گیا۔

دادی جان نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا،خود کو سنبھالو میرے بچے اگر تم ہمت ہار دو گے تو مجھے کون سنبھالے گا؟

اماں جان آپ ہی سمجھائیں بھائی کو میری بات تو سن ہی نہیں رہے۔۔۔یہ کھانا کھلا دیں ان کو پلیز۔

مصباح کمرے سے باہر نکل گئی۔

خاور بیڈ پر بیٹھا دائم کو دیکھ رہا تھا اور کسی گہری سوچ میں گم تھا۔

کھانا کھاو چلو شاباش۔۔۔دادی جان نے زبردستی دائم کو کھانا کھلایا۔

چلو اب گھر یہاں رات کیسے گزارو گے؟

دادی جان نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔

دائم نے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔نہی اماں جان میں یہاں سے نہی جا سکتا۔

مہک کسی بھی وقت واپس آ سکتی ہے اگر اسے میں یہاں نا ملا تو شاید وہ سمجھے گی میں بہت خود غرض ہوں اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے جو میں سکون سے اپنے گھر بیٹھا ہوں۔

میں نہی چاہتا وہ مجھ سے بدگمان ہو۔۔۔آپ لوگ جائیں گھر،میں یہاں ٹھیک ہوں۔

جب تک مہک واپس نہیں آ جاتی میں یہاں سے کہی نہی جاؤں گا۔

کیسے نہی جاؤں گے تم یہاں سے؟

دائم کی امی کمرے میں داخل ہوئی۔

یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے اماں جان۔۔۔دیکھ لیا آپ سب نے نتیجہ،زندگی تو میرے بیٹے کی برباد ہو گئی ناں۔

آپ بچا لیں اپنی پوتی کو۔۔۔نکاح ہونے کے باوجود وہ جن اسے لے اڑا۔

یہ ہوائی مخلوقات اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتی۔۔۔آپ سب کی ہٹ دھرمی میں میرا بیٹے کے ساتھ بہت زیادتی ہو گئی ہے۔

وہ مہک کے لے گیا بات ختم۔۔۔اب کیا ساری زندگی اس کے نام پر ماتم کرتے رہو گے تم؟

ویسے بھی اس کی اب تمہاری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے دائم۔۔۔وہ اپنی بات مکمل کرنے ہی والی تھیں کہ ان کی نظر خاور پر پر گئی۔

خاور نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔وہ اشارے میں انہیں سمجھانا چاہ رہا تھا کہ ابھی سہی وقت نہی ہے۔

وہ خاور کا اشارہ سمجھتی ہوئی خاموش ہو گئیں اور دائم کا ہاتھ تھام لیا چلو یہاں سے بیٹا۔

امی پلیز۔۔۔دائم نے فوراً اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

آپ کو کتنی بار سمجھا چکا ہوں مہک کے اور میرے نکاح کو لے کر بخث نا کیا کریں لیکن آپ سمجھتی ہی نہیں۔

کتنی بار سمجھاؤں آپ کو کہ میں نے یہ نکاح کسی کے دباؤ میں آ کر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے کیا تھا۔

مہک کے بارے میں ایک بھی اور لفظ برداشت نہیں کروں گا میں۔۔۔چلی جائیں آپ یہاں سے۔

“میری بیوی ہے وہ”۔۔۔اس وقت صدمے سے دوچار ہوں میں،آپ کو مجھے سنبھالنا چاہیے تھا۔

اگر تسلی نہیں دے سکتی تو کم ازکم میرا دکھ تو نا بڑھائیں۔

یہ نہی سمجھنے والی دائم۔۔۔تم اپنے آپ کو مت کھپاو،اس کی فطرت نہی بدل سکتی۔

دادی جان بھی بول پڑی۔

اس کو بس اپنی پڑی ہے۔۔۔ایک فیصلہ تم نے اس کی مرضی کے بغیر کیا لے لیا اس نے تو تو اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ ہی بنا لیا۔

اماں جان آپ کو تو ہمیشہ میں ہی اپنے بیٹے کی دشمن لگتی ہوں اور جو اس نے میرے ساتھ کیا اس کا کیا؟

ایک ماں اپنے بیٹے کو پالتی ہے،پڑھا لکھا کر کامیاب بناتی ہے اور ایک دن آتا جب وہی بیٹا ماں سے اجازت لینا تک ضروری نہیں سمجھتا اور اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ لے لیتا ہے۔

آپ کی نظر میں یہ سب ٹھیک ہے؟

بات اگر خاندان کی عزت ہو تو ہاں۔۔۔میری نظر میں یہ سب ٹھیک ہے۔

اماں جان نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔

آپ کے پوتے نے خاندان کی عزت تو بچا لی اماں جان لیکن اس نے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی۔

ایک منٹ کے لیے سوچیں اگر وہ جن مہک کو کبھی واپس بھیجے ہی ناں تو کیا کریں گی آپ؟

بہو کے سوال پر اماں جان نے حیرت زدہ انداز میں اسے دیکھا اور طنزیہ مسکرائی۔۔۔کیا کہنے ہیں تمہارے،ہم سب یہاں مہک کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگ رہے اور تم اس کے واپس نا آنے کی امید لگائے بیٹھی ہو۔

حد کر دی آج تم نے۔۔۔بہت ہی خود غرض عورت ہو تم،ایسی بات منہ سے نکالنے سے پہلے ایک بات یہ تو سوچ لیتی کہ تمہارے گھر میں بھی ایک بیٹی ہے اور اگر یہ سب کچھ تمہاری بیٹی کے ساتھ بھی ہوا ہوتا تو تم اس وقت یہی کہتی؟

دور ہو جاؤ میری نظروں سے۔۔۔اور خبردار جو دوبارہ میرے سامنے آئی۔

ٹھیک ہے اماں جان۔۔۔میں ہی ہار مان لیتی ہوں،چلی جاتی ہوں یہاں سے۔

وہ ایک نظر خاور کو دیکھتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

پتہ نہیں وہ کونسی مائیں ہوتی ہیں جو مشکل وقت میں بچوں کا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔۔۔ایک میری بہو ہے جو ہمیشہ اپنے بچوں کی ٹینشن بڑھاتی ہے۔

چھوڑیں اماں جان۔۔۔آپ گھر جا کر آرام کریں،میں ٹھیک ہوں۔

تم ٹھیک نہی ہو دائم۔۔۔حالت دیکھ اپنی،گھر جا کر کیا کرنا ہے میں نے۔

یہی بیٹھی ہوں بیٹے اور بہو کو اس حالت میں اکیلا چھوڑ کر کہاں جانا ہے میں نے۔

خاور پریشان سا بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔اس کی توجہ بیڈ کے نیچے پڑی فائل پر تھی وہ کسی طرح اس فائل کو یہاں سے لیجانا چاہتا تھا لیکن دائم کمرے سے باہر جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

اماں جان میں چلتا ہوں۔۔۔آپ چلیں گی نیچے یا یہی رہیں گی؟

آخر کار خاور جانے کے لیے اٹھ کر دادی جان کی طرف بڑھا۔

چلتی ہوں میں بھی،رکو مجھے بھی ساتھ لیتے جاو۔۔۔میں یہاں بیٹھ کر کیا کروں گی۔

آ جاؤ تم بھی نیچے بیٹا۔۔۔یہاں اکیلے بیٹھو گے تو پریشانی اور بڑھے گی۔

جی اماں جان آپ چلیں میں آتا ہوں۔۔۔دائم نے مخض ان کو تسلی دی۔

ان کے جانے کے بعد کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔کوئی تو راستہ ہو گا اس تک پہنچنے کا۔

آخر ایسا کیا ہے اس شیشے میں جو مجھے نظر نہی آتا؟

کتنی ہی دیر شیشے کے سامنے کھڑا رہا لیکن کچھ حاصل نہی ہوا آخر کار تھک ہار کر دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا۔

اسے پتہ ہی نہیں چلا کب اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔رات کے آخری پہر اس کی آنکھ کھلی تو چونک کر کھڑا ہو گیا۔

کمرے میں ہر طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا لیکن اس شیشے میں سے روشنی نکل رہی تھی۔

دائم تیزی سے شیشے کی طرف بھاگا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی روح تک کانپ گئی۔

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *