Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 13)
Rate this Novel
Aks (Episode 13)
Aks by Khanzadi
ڈر کے مارے مہک کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔۔۔بے بس سی الماری کے ساتھ کھڑی رہی۔
شایان چند لمحے زمین پے نظریں جمائے کھڑا رہا پھر اچانک اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور مہک کی طرف دیکھا۔
اس کی سوجھی ہوئی سرخ آنکھیں دیکھ کر ایک لمحے کے لیے مہک کو اپنے دل کی دھڑکن بند ہوتی محسوس ہوئی۔
کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہیں؟
وہ ڈرتے ڈرتے تھوڑا آگے بڑھی۔
شایان بے بس سا فرش پر بیٹھ گیا۔
مہک بھی اس کے سامنے بیٹھ گئی ہاتھ بڑھا کر اس کے کندھے پر رکھا۔
آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟
شایان نے گردن گھما کر اپنے کندھے پر رکھے مہک کو ہاتھ کو دیکھا اور اور بے بس سا مسکرا دیا۔
اس کے دیکھنے پر مہک نے فوراً اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا اور شرمندگی سے نظریں جھکائی اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
پلیز آپ اس طرح نیچے مت بیٹھیں۔۔۔میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا مجھے اچھا نہیں لگتا آپ کا زمین پر بیٹھنا۔
کیا ہوا ہے آپ کو،اتنے پریشان کیوں ہیں آپ اور اتنے دنوں سے کہاں تھے؟
آپ اچانک سے غائب ہوئے اور دوبارہ واپس ہی نہیں آئے۔
سب خیریت ہے ناں؟
مہک ایسے سوال کر رہی تھی جیسے برسوں سے اسے جانتی ہو۔
شایان نے سر اوپر اٹھاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا ہم کیسے آتے ہماری ماں زندگی کی آخری سانسیں گن رہی تھیں۔
ہمیں جانا پڑا۔۔۔
اوہ۔۔۔مہک نے افسردگی سے نظریں جھکا لی سمجھ ہی نہی آیا اور کیا پوچھے۔
ہمیں چھوڑ کر جا چکی ہیں وہ ہمیشہ کے لئے۔۔۔ہم سے بہت دور کبھی نہ واپس آنے کے لیے۔
اوہ۔۔۔بہت دکھ ہوا سن کر۔۔۔اللہ ان کو جنت میں اعلی مقام عطا کرے اور ان کی مغفرت فرمائے آمین۔
مہک کے دعا کرنے پر شایان نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا اور سر جھکا لیا۔
اس کی نظر مہک کے ہاتھوں پر لگی مہندی پر پڑی تو اس نے سر اٹھا کر غور سے مہک کو سر تا پاؤں دیکھا۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ”۔۔۔اتنا سچ کر کہاں گئی تھیں آپ؟
شایان کے سوال پر مہک نے سر نفی میں ہلایا اور ڈر کر کھڑی ہو گئی۔۔۔جس سوال سے وہ ڈر رہی تھی آخر شایان نے وہی سوال کر ڈالا۔
ڈر کے مارے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔
شایان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اسے کچھ غلط ہونے کا اندازہ ہوا۔
فوراً اٹھ کر کھڑا ہوا اور مہک کی طرف بڑھا۔کچھ پوچھا ہے ہم نے۔۔۔ہماری بات کا جواب کیوں نہیں دیا آپ نے؟
ہمارے سوال پر اتنی گھبراہٹ کیوں ہو رہی ہے آپ کو اور آپ کے ہاتھ پاؤں کیوں کانپ رہے ہیں؟
کچھ چھپا رہی ہیں آپ ہم سے؟
کچھ بھی نہیں۔۔۔مہک نے سر نفی میں ہلایا اور نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔
شایان کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی۔۔۔اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔
مہک نے کمرے سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن اس کے قدم اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
چند لمحوں بعد شایان نے آنکھیں کھولی اور مہک کی طرف دیکھا۔۔۔اس کی آنکھیں غصے سے انگارہ بن چکی تھیں۔
اتنا بڑا دھوکہ وہ بھی ہمارے ساتھ۔۔۔آپ نے یہ کیا کر دیا مہک؟
ہم نے پوچھا آپ نے یہ کیا کر دیا؟
مہک کی طرف سے جب کوئی جواب نہ ملا تو شایان غصے سے چلایا۔
میری غلطی نہیں ہے اس نے میں۔۔۔گھر والوں نے کیا ہے یہ سب کچھ۔
دائم۔۔۔دائم۔۔۔دائم اس دائم کو تو ہم چھوڑیں گے نہیں اس نے بالکل اچھا نہیں کیا ہمارے ساتھ۔
ہم اسے کبھی معاف نہیں کریں گے کبھی بھی نہیں۔۔۔
یہ جانتا ہی نہیں اس نے کس کے ساتھ جنگ کا اعلان کیا ہے۔
اس کی بھول ہے کہ آپ کو ہم سے چھین لے گا۔۔۔ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے کم بھی نہیں۔
شادی تو کر لی اس نے لیکن کبھی بھی آپ کے قریب نہیں آنے دیں گے ہم اسے۔
آپ ہماری ہیں اور صرف ہماری ہی رہیں گی۔ اسے مرنا پڑے گا۔۔۔بس یہی ایک راستہ ہے اسے آپ کی زندگی سے نکالنے کا۔
ہم نے سمجھایا تھا آپ کو کہ اگر پیار سے ہماری بات مان لیں گی تو ہم کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے لیکن آپ نے ہماری ایک نہیں سنی۔
ابھی شایان بول ہی رہا تھا کہ دائم کمرے میں داخل ہوا ہوا اور مہک کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔
مہک نے ڈر کر شایان کی طرف دیکھا اور دائم کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔۔۔جیسے اسے کہنا چاہ رہی ہو کہ یہاں سے چلے جائیں۔
کیا ہوا مہک سب خیریت تو ہے ناں؟
اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو تم؟
دائم نے مہک کا ہاتھ تھام لیا اور دوسرا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھتے ہوئے پریشانی سے ادھر اُدھر نظر دوڑائی۔
جیسے ہی اس نے مہک کا ہاتھ تھاما شایان ان پر تو جیسے آگ برسنا شروع ہو گئی۔
اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
وہ نہ تو مہک کو دیکھ پا رہا تھا اور نہ ہی دائم کو۔
مہک اس کی حالت دیکھ کر ڈر گئی اور دائم کا بازو تھام کر اس کے پیچھے چھپ گئی۔
کیا ہوا مہک؟
کس سے چھپ رہی ہو٫سب خیریت تو ہے ناں؟
کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔مجھے کچھ بتاؤ تو سہی؟
وہ وہ۔۔۔سامنے شایان ان کو آگ لگ گئی ہے۔ وہ جل رہے ہیں انہیں بچا لیں آپ۔
کون ہے سامنے مہک؟
سامنے تو کوئی بھی نہی ہے اور کون سی آگ؟
شایان کہاں سے آ گیا مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا۔
دائم نے پورے کمرے میں دیکھ لیا اسے کچھ نظر نہیں آیا لیکن مہک کی حالت بہت خراب لگ رہی تھی اس سے شایان کا چیخنا چلانا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
وہ آگے بڑھنے کے لئے تڑپ رہا تھا تاکہ دائم کو اس سے دور کر سکے لیکن وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا بہت بے بس لگ رہا تھا۔
مہک ہوش میں آؤ کچھ نہیں یہاں۔۔۔ دائم نے اس کے دونوں بازو تھامے ہوئے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا اور کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑا۔
کوئی نہیں ہے یہاں۔۔۔تمہارا وہم ہے اب اور کچھ نہی۔
اب وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔
یہ وہم نہیں ہے وہ یہی ہے میرے سامنے،وہ آگ میں جل رہا ہے مر جائے گا وہ اسے بچا لیں خدا کے لئے۔
اچھا کہاں ہے وہ دکھاؤ مجھے مہک؟
مہک جیسے ہی دائم کی طرف دیکھتی ہوئی پیچھے کی طرف پلٹی نہ تو وہاں پہ کوئی آگ تھی اور نہ ہی شایان۔
ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی اور فرش پر بیٹھ کر فرش کو ہاتھ سے چھوا۔۔۔وہ یہی پہ تھا اسے آگ لگی ہوئی تھی اور وہ یہی زمین پر بیٹھا تھا۔
یہاں بیٹھا ہوا تھا تو پھر وہ گیا کہاں؟
دائم نے مہک کو اپنے سامنے کھڑا کیا اور اس کا سر اپنے کندھے سے لگاتے ہوئے ہوئے اسے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔
مہک نے سر اوپر اٹھا کر گردن گھما کر پھر سے اسی جگہ دیکھا جہاں شایان کھڑا تھا لیکن اب وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
میں سچ کہہ رہی ہوں وہ یہی پر تھا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے اگر وہ یہاں پہ تھا بھی تو اب جا چکا ہے میں نے کہا ناں اب وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
لیکن اس کو آگ لگی ہوئی تھی اور وہ چلا رہا تھا وہ پورا جل رہا تھا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا مہک۔۔۔اس کی ٹینشن مت لو اس کی یہی سزا ہے میں ہوں ناں نے تمہارے ساتھ۔
آپ نہی ہیں میرے ساتھ۔۔۔مہک فوراً پیچھے ہٹی اور دور ہو کر کھڑی ہو گئی۔
آپ تو مجھے طلاق دینے والے ہیں ناں تو پھر ساتھ ہونے کا دکھاوا کیسا؟
دائم کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔۔۔پاگل میں تمہیں طلاق کیوں دوں گا؟
اگر طلاق ہی دینی ہوتی تو میں کبھی بھی یہ نکاح نہ کرتا۔
تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں ایسا کچھ کروں گا؟
نہ پہلے کبھی تمہارا ساتھ چھوڑا ہے اور نہ اب چھوڑوں گا۔۔۔ہمیشہ ہر حال میں تمہارے ساتھ تھا اور رہوں گا۔
اپنے دل سے یہ فضول بدگمانیاں نکال دو امی کے کہنے پر کچھ بھی نہیں کرنے والا میں میں اور نہ ہی چاچو کے کہنے پر۔
میں نے اللہ کو حاضر ناظر جان کر تمہیں قبول کیا ہے طلاق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
میں نہیں جانتا امی ایسا کیوں کر رہی ہیں لیکن کچھ بھی ہو میں ہار نہیں مان سکتا اور نہ ہی تمہیں ہارنے دوں گا۔
ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو تم۔۔۔پاگل ہو گئی ہو۔
اس شایان نامی جن نے تمہیں بالکل پاگل بنا دیا ہے مجھے لگتا ہے تمہارا تھوڑا بہت جو دماغ تھا نہ وہ بھی یہ لے گیا ہے۔
تمہارا نمبر کیوں بند ہے؟
کب سے کال کر رہا ہوں لیکن مجال ہے جو تمہارا نمبر ملا ہو۔
فون تو خراب ہو گیا ہے مجھے بتانا یاد نہیں رہا۔۔۔
کیسے خراب ہو گیا؟
گر گیا تھا میرے ہاتھ سے اور خراب ہو گیا۔ بابا سے کہہ دوں گی لا دیں گے وہ نیا۔
مصروفیات ہی کچھ ایسی تھی کہ ٹائم ہی نہیں ملا بتانے کا۔
چاچو سے کیوں؟
مجھ سے بھی کہہ سکتی ہو۔۔۔میں لا دوں گا فکر نہ کرو۔
آپ کیوں لائیں گے میرے لئے فون؟
اچھا۔۔۔اب مجھے اس کیوں کا مطلب بھی سمجھانا پڑے گا تمہیں؟
مطلب اب میں تمہیں ایک ایک لفظ بتاوں کہ کیوں لا کر دوں گا اور کس حق سے لاکر دوں گا؟
حد کرتی ہو یار بالکل بچی ہو تم کچھ دیر پہلے نکاح ہوا ہے ہمارا بیوی ہو تم میری اب۔۔۔ مجھ پر اور میرے پیسوں پر پورا حق ہے تمہارا۔
اب تمہاری جو بھی ضروریات ہیں وہ میرے زمے ہیں ہیں۔۔۔کوشش کرو کہ چاچو کو کہنے سے پہلے مجھ سے کہہ دیا کرو۔
آپ کے بیوی ماننے یا نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے تائی جان تو مجھے کبھی قبول نہی کرنے والی۔
انہوں نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے میں کبھی بھی آپ کی بیوی بن کر اس گھر میں نہیں آسکتی۔
تو تمہیں اس گھر میں میری بیوی بن کر جانے کو کون کہہ رہا ہے؟
تم اس گھر میں اپنی دادی کی پوتی بن کر بھی جا سکتی ہو۔
کہا تھا ناں اماں جان کو بڑی فکر ہے تمہاری۔۔۔ بہت فکرمند ہو رہی تھیں تمہیں اس گھر میں لانے کے لئے۔
لو ہو گیا ان کا خواب پورا۔۔۔ان کے ہوتے ہوئے کسی کی مجال نہیں کہ تمہیں وہاں سے نکال سکے۔
تم صرف میری بیوی نہیں اس گھر کی بیٹی بھی ہو جتنا باقی سب کا حق ہے اتنا ہی تمہارا بھی حق ہے اس گھر پر۔
خود کو کمتر سمجھنا بند کر دو۔۔۔خاور نے جو کرنا تھا کر دیا اس کی وجہ سے زندگی بھر خود کو سزا مت دو۔
اس نے جو کیا اس کی سزا بھگت رہا ہے وہ اب اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے۔
مصباح کی کال آئی تھی بتا رہی تھی کہ خاور چیخ رہا ہے۔
کچھ دیر پہلے شازیہ اس کے کمرے میں گئی تو اس نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔
سمجھ نہیں آتی مجھے اس لڑکے کی آخر یہ چاہتا کیا ہے؟
پہلے تم سے نکاح سے انکار کر دیا اور شازیہ سے نکاح کی ڈیمانڈ کی اور جب اس کی یہ ڈیمانڈ پوری ہو گئی ہے تو اب اسے لگتا ہے کہ اس نے غلطی کردی ہے۔
اب سارا غصہ شازیہ پر نکال رہا ہے۔۔۔پتہ نہیں کیا چل رہا ہے اس کے دماغ میں۔
چلو چھوڑو ان سب باتوں کو ابھی چلو میرے ساتھ میں تمہیں فون لے دیتا ہوں۔
ابھی کیسے سے۔۔۔؟
اچھا نہیں لگے گا اس طرح گھر سے باہر جانا۔
کہہ تو تم ایسے رہی ہو جیسے پہلے کبھی میرے ساتھ باہر گئی ہی نہی۔
نہی میرا وہ مطلب نہی تھا۔۔۔پہلے کی بات اور تھی لیکن اب۔۔۔
کیا اب۔۔۔؟
کچھ نہی بدلا ابھی بھی سب پہلے جیسا ہی چپ چاپ چلو میرے ساتھ۔
لیکن میں ان کپڑوں کے میں کیسے جا سکتی یوں؟
ہاں تو چینج کر لو ناں۔۔۔اچھا لگے یا نہ لگے جانا تو تمہیں پڑے گا۔
تم چینج کرو تب تک میں چاچو سے اجازت لے کر آتا ہوں دائم اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے تیزی میں کمرے سے نکل گیا۔
مہک بے بس سی آگے بڑھی اور الماری سے دوسرا سوٹ نکال کر چینج کرنے چلی گئی۔جیسے ہی باہر آئی دائم اسی کا انتظار کر رہا تھا۔
آجاؤ جلدی کرو۔۔۔مہک کے چہرے پر نظریں جمائے بولا۔
مہک نے نظریں جھکا لی اور اچھی طرح شال اوڑھتی ہوئی اس کے پیچھے چل دی۔
نیچے آئی اور سوالیہ نظروں سے اپنے بابا کی طرف دیکھا انہوں نے سر اثبات میں ہلا دیا اور اٹھ کر اس کے پاس آئے۔
چلی جاؤ۔۔۔بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
مہک نے ڈرتے ڈرتے اپنی امی کی طرف دیکھا دیکھا تو انہوں نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہاں میں ہلا دیا۔
خیریت سے جا دونوں اور خیریت سے واپس آؤں۔۔۔آمین۔
دونوں چلتے ہوئے گیٹ تک آئے اور دائم نے مہک کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
مہک چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔اس کے بیٹھے ہیں دائم نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
محک کو سب کچھ بہت عجیب لگ رہا تھا وہ دائم کے ساتھ جانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن وہ اپنے کمرے میں اکیلی بھی نہیں رہنا چاہتی تھی۔
کچھ دیر کے لئے گھر سے دور جانا چاہتی تھی گردن موڑ کر اپنے ساتھ والی سیٹ پر پرسکون سے بیٹھے دائم کی طرف دیکھا۔
چند لمحوں میں کیسے رشتے بدل گئے سوچتے ہوئے مسکرا دی۔
میں تو ہمیشہ آپ کو بھائی سمجھتی تھی مجھے نہیں پتا تھا کہ جسے میں اپنا بھائی سمجھتی ہو وہی میرا شوہر بن جائے گا۔
مہک کی بات پر دائم مسکرا دیا۔۔۔کزن بھائی تھا سگا بھائی نہیں اور ویسے بھی خاندان میں اکثر یہ ہوتا رہتا ہے۔
کچھ پتا نہیں ہوتا کہ جس کو بہن بولتے ہو وہی پارٹنر بن جائے۔۔۔میں نے بھی کب سوچا تھا کہ یہ سب ہو جائے گا۔
میں بھی تمہیں بہن ہی سمجھتا سمجھتا تھا۔۔۔اچھا یہ ٹاپک چھوڑتے ہیں اب ہم میاں بیوی ہیں کیوں بہن بھائی والی فیلنگ جگانا چاہ رہی ہو۔
اب کچھ نہی ہو سکتا۔۔۔
دائم کی بات پر مہک ہنس دی۔
دائم نے گاڑی کو بریک لگائی اور گردن موڑتے ہوئے مہک کی طرف دیکھا اور کھلکھلا کر ہنس دیا اسے دیکھ کر مہک بھی زور زور سے ہنسنا شروع ہو گئی۔
کچھ دیر دونوں ہنستے رہے اور جب ہنس ہنس کر تھک گئے تو دائم نے مسکراتے ہوئے مہک کے چہرے پر نظریں جمائی تو مہک نظریں جھکانے پر مجبور ہو گئی۔
دائم نے گاڑی سٹارٹ کی اور مہک کو کان پر جھکا۔۔۔یہ لاسٹ والی فیلنگ کچھ اور ہی تھی ناں؟
جی۔۔۔مہک نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
میرا مطلب نہیں۔۔۔ایسا کچھ نہیں بس ویسے ہی۔
ویسے آپ کا خواب تو چکنا چور ہو گیا۔۔۔کیا کہہ رہے تھے آپ۔۔۔ایسی بیوی لاؤں گا کہ سب دیکھتے ہی رہ جائیں گے اور میری بیوی سے سب کی ملاقات نکاح والے دن ہی ہو گی۔ دونوں میں سے ایک بات تو پوری ہوگئی آپ کی کہ آپ کی بیوی سے ہم سب کی ملاقات نکاح والے دن ہی ہو گی لیکن دوسری بات تو درمیان میں رہ گئی۔
ہاں صحیح کہا تم نے۔۔۔اس بات کا بہت افسوس ہے مجھے اور ہمیشہ رہے گا۔
میری بیوی اتنی خوبصورت ہو گی کہ سب اسے دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔۔۔میری یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکے گی۔
اب ہزار بار دیکھی ہوئی شکل کوئی کتنا دیکھے گا۔۔۔
ہاں صحیح ہے۔۔۔ویسے آپ کی یہ خواہش ابھی بھی پوری ہو سکتی ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ویسے بھی میں تو آپ کو بھا۔۔۔
دائم کی بات پر مہک چڑ گئی اور بھائی بولنے ہی والی تھی کہ دائم کے گھورنے پر چپ ہو گئی۔
منہ بند رکھو۔۔۔کچھ بھی بول دیتی ہو۔
آ گئی مارکیٹ۔۔۔چلیں جی آپ کا فون لیتے ہیں اور پھر چلتے ہیں گھر۔
تھکا دیا ہے اس نکاح کے تیاریوں نے مجھے بہت مشکل ہوتا ہے دوسروں کی شادی کے کام کرنا لیکن مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ دوسروں کی شادی میں کام کرتے تھے اپنی شادی بھی ہو جاتی ہے۔
چھوڑو آو چلتے ہیں۔۔۔دونوں مارکیٹ کے اندر چلے گئے آئے اور کچھ دیر بعد فون خرید کر کر واپس گھر کے لئے روانہ ہو گئے۔
گھر جا کر سم ایکٹیو کر لینا۔۔۔کچھ کھانا تو نہی؟
بھوک لگی ہے؟
نہی میں نے کھانا کھا لیا تھا اگر آپ نے کھانا ہے تو کھا لیں۔
لیکن مجھے بہت بھوک لگی ہے کچھ کھاتے ہیں۔۔۔دائم نے گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے باہر پارک کی اور دونوں اندر چلے گئے۔
وہ جان بوجھ کر یہ سب کچھ کر رہا تھا تا کہ مہک اس صدمے سے باہر نکلے اور حقیقت کو تسلیم کرے۔
وہ خود بھی تھوڑا گھبرا رہا تھا مہک کے ساتھ ایسے بات کرنے سے لیکن اگر وہ خود ہمت ہار جاتا تو مہک کو کیسے سنبھالتا۔
بس اسی لیے بار بار اس کے سامنے اپنے درمیان بننے والے نئے رشتے کی سچائی بیان کر رہا تھا۔
کھانا کھانے کے بعد دائم نے اسے گھر چھوڑا اور اپنے گھر چلا گیا۔
مہک کمرے میں آئی اور سم ایکٹیو کرتے ہی خاور کے میسیجز پڑھے۔
اس کا نمبر بند ہونے کی وجہ سے وہ بے تحاشہ میسیج کر چکا تھا کہ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔
مہک نے فوراً اس کا نمبر بلاک کیا اور دائم کا نمبر ڈائل کیا۔
نام پر نظر پڑی تو فوراً کال کاٹ دی اور سر تھامے پھر سے آنسو بہانا شروع ہو گئی۔
یہ سب کیا ہو گیا میرے ساتھ۔۔۔ایسا میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟
جب تم نے مجھ سے محبت کا دعوی کیا اس وقت مجھے تمہاری محبت قبول نہی تھی خاور۔۔۔لیکن جب میں نے خود کو تمہاری امانت سمجھ کر تم پر بھروسہ کیا تو تم نے میرا بھروسہ میرے منہ پر مار دیا۔
یہ کیسی محبت تھی تمہاری کبھی مجھ سے تو کبھی کسی اور سے؟
مار دیا تم نے مجھے۔۔۔زندہ لاش بنا دیا۔
بیڈ پر لیٹی بہت دیر تک روتی رہی اور روتے روتے وہی سو گئی۔
رات کے کسی پیر اس کی آنکھ کھلی تو اپنے سامنے بیٹھے وجود کو دیکھ کر ڈر کر خود میں سمٹ کر بیٹھ گئی۔
شایان اس کے پاؤں والی سائیڈ پر بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
کیوں کیا آپ نے ایسا مہک؟
اس کی آنکھوں میں ہار کا درد تھا۔۔۔مہک نے اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھے اور سر نفی میں ہلایا۔
آپ کیوں کر رہے یہ سب کچھ؟
جو آپ چاہتے ہیں وہ کبھی نہی ہو سکتا٫آپ یہ ضد چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟
آخر کس بات کی سزا دے رہے ہیں خود کو؟
میں آپ کی نہی ہو سکتی۔۔۔کبھی بھی نہی۔
یہ ممکن ہی نہیں ہے۔۔۔اور جس محبت کی بات آپ کر رہے ہیں ناں ایسی محبت کو میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے بدلتے دیکھا ہے۔
آپ بھی محبت کے اس خول سے باہر نکل آئیں۔۔۔یہ محبت وحبت کچھ نہی ہوتی۔
“کوئی کسی کا نہی ہوتا۔۔۔لوگ اپنا نفع و نقصان دیکھ کر محبوب بدل لیتے ہیں۔”
آپ بھی اپنا محبوب بدل لیں جیسے عین وقت پر خاور نے بدل لیا۔
“ہم ایسا کبھی نہی کر سکتے کبھی بھی نہی۔۔۔ہمارے لیے محبت٫عشق سب ایک نام پر ختم ہوتے ہیں اور وہ نام ہے مہک”
بس۔۔۔اس سے آگے ہماری اڑان ہی نہی ہے۔۔۔ہمیں اس سے آگے بڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
ہم خود کو بھی ختم کر لیں گے اور آپ کو بھی لیکن آپ کو کسی دوسرے کا نہی ہونے دیں گے۔
ہماری باتیں افسانہ لگ رہی تھی آپ کو؟
اب ہم آپ کو بتائیں گے کہ ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔
سب کو سزا ملے گی۔۔۔کسی کو معاف نہیں کریں گے ہم آپ کو بھی نہیں۔
ہم نے آپ سے بہت محبت کی ہے مہک لیکن آپ نے ہمیں دھوکا دے کر ہماری محبت کو نفرت میں بدل دیا ہے۔
اب تک آپ نے صرف ہماری محبت دیکھی تھی لیکن اب آپ کا سامنا ہماری نفرت سے ہو گا۔
ہماری نفرت اور ہمارا غصہ برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جائیں آپ۔۔۔غصے سے مہک کی طرف بڑھا اور اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
جاری ہے۔۔۔
