366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 01)

Aks by Khanzadi

امی آپ کو کچھ عجیب نہی لگتا اس گھر میں؟

ایک ہفتہ ہو گیا ہے ہمیں یہاں آئے ہوئے اور مجھے بہت خوف سا محسوس ہوتا ہے یہاں۔

بس کر دو مہک۔۔۔عجیب باتیں شروع کی ہوئی ہیں تم نے۔اتنا اچھا گھر مل گیا ہے وہ بھی سستا اور کیا چاہیے؟

کرایے کتنے بڑھ گئے ہیں پتہ بھی ہے؟

تمہیں کیا پتہ ہو گا تم نے تو بس سکون سے کالج جانا ہوتا ہے اور کھانا کھا کر سونا ہوتا ہے۔

گھر کے سارے کام میری زمہ داری ہیں اور اوپر سے فضول دماغ کھا رہی ہو تم۔

نہی امی میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے کسی کی مجھ پر نظر ہے۔

کوئی ہر وقت مجھے دیکھتا رہتا اور میرے کانوں میں عجیب عجیب سی رونے کی آوزیں آتی ہیں اور کوئی آہستہ سے میرا نام بھی پکارتا ہے۔

اچھا۔۔۔آہستہ سے کوئی تمہارا نام پکارتا ہے اور تمہیں سنائی بھی دیتا ہے واہ۔

ضرور کوئی ڈراونی فلم دیکھ لی ہو گی اسی کا بھوت سوار ہے تم پر۔

نہی امی جب سے یہاں آئی وائی فائی ہی بند ہے فلم کیا دیکھنی ہے میں نے؟

لگوا دیتی ہوں تجھے نیٹ بھی فکر نہی کرو۔۔۔اچھا تو سب ڈرامہ اس لیے ہے تا کہ میں نیٹ جلدی لگوا دوں؟

نہی امی ایسی کوئی بات نہی ہے۔آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔

کر لیا تمہاری بات پر بھروسہ یہ ناشتہ اٹھاو اور باپ اور بھائی کو دے کر آو اور خود بھی کھا کر تیار ہو جاو پھر چلاو گی کہ دیر ہو رہی ہے۔انہوں نے بات ختم کرنے کے لیے ناشتے کی ٹرے مہک کی طرف بڑھا دی۔

وہ بے بس سی چپ چاپ ٹرے اٹھائے کچن سے باہر نکل گئی۔

عجیب عجیب سی باتیں کر رہی ہے پاگل۔۔۔اور کم پریشانیاں ہیں جو اب نیا ڈرامہ شروع کر لیا اس نے کہ کسی کی نظر ہے مجھ پر اور رونے کی آوزایں سنائی دے رہی ہیں۔

پگلی۔۔۔کہی سچ میں تو نہی ایسا کچھ؟

وہ اچانک سے پریشان ہو گئیں۔جوان بچی ہے کہی کوئی سایہ تو نہی پیچھے پڑ گیا اس کے یا پھر کسی نے جادو نا کروا دیا ہو۔

اگر کچھ ہے تو ضرور اس کی تائی کا کام ہو گا یہ۔۔۔اس کو تو میں چھوڑوں گی نہی۔

نہی وہ لوگ تو ابھی تک ہمارے گھر آئے تک نہی پھر کیسے ہو سکتا ہے یہ؟

میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں۔آج اس کے بابا آتے ہیں تو ان سے بات کرتی ہوں ایک تین چار دن ہو گئے ہیں ہو اس لڑکی نے پریشان کر رکھا ہے۔کہی سے دم کرواتے ہیں وہ اسے۔

مہک کالج پہنچی اور اپنی دوست مدیحہ کو ساری بات بتائی۔

دیکھو مہک جس جگہ تم لوگ رہتے ہو وہاں پہلے قبرستان تھا اور ایسے واقعات اکثر سننے کو ملتے ہیں وہاں کے لوگوں سے۔۔۔ایک لڑکی تو چھت پے کپڑے سکھانے گئی تھی اس کا آج تک پتہ نہی چلا٫میری اماں کی ایک دوست رہتی تھیں وہاں ان کی بھی لاش ملی تھی ان کے گھر سے اور ان کی پوری فیملی کہاں غائب ہوئی آج تک پتہ نہی چلا۔

مدیحہ کی باتیں سن کر مہک مزید خوفزدہ ہو گئی۔وہ آوازیں صرف مجھے سنائی دیتی ہیں اور کسی کو نہی اس کا مطلب میں بھی غائب ہو جاوں گی؟

ہاں ہاں صرف تم ہی نہی تمہارے ساتھ ساتھ تمہارا گھر بھی غائب ہو جائے گا بے وقوف لڑکی۔۔۔میں تمہیں بنا رہی تھی اور تم بن گئی؟

حد ہوتی ہے بے وقوفی کی یار۔۔۔جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہی ہے۔وہاں کوئی قبرستان نہی تھا اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ سنا ہم نے۔

یہ سب تمہارے ذہن کا وہم ہے اور کچھ نہی۔۔۔تم نے ضرور کوئی برا خواب دیکھا ہو گا۔

اچھا سنو میں سمجھاتی ہوں کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ ہمارے کانوں میں عجیب عجیب آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔

اب اس کی وجہ کوئی بھوت نہی بلکہ ہم خود ہوتے ہیں۔تم گھر سیٹنگ کرنے میں بہت تھک چکی ہو اور ٹھیک سے سو نہی سکی بس یہی وجہ ہے اس کی اور کچھ نہی۔

تم آرام کرو اچھی طرح اور اپنے مائینڈ کو ریلیکس کرو بلکل ٹھیک ہو جاو گی۔

نہی مدیحہ وہ عجیب عجیب آوازیں نہی ہوتی بلکہ کوئی میرا نام پکارتا ہے اور عورتوں کے رونے کی آوازیں آتی ہیں۔ایسے لگتا ہے جیسے وہ رو رو کر چیخ کر مجھے بلانے کی کوشش کرتی ہیں اور میں دور بھاگنےکی کوشش کرتی ہوں جیسے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے اور میرا نام پکارنے والی آواز کسی لڑکے کی ہے۔

ایسی آواز میں نے پہلے کبھی نہی سنی۔۔۔بہت محبت سے پکارا جاتا ہے میرا نام اور میرے کمرے میں وہ اتنا بڑا شیشہ اسے دیکھتی ہوں تو ایسے لگتا ہے جیسے ایک دنیا بستی ہے اس شیشے میں۔

اس شیشے کو دیکھتے ہی میں اس میں کھو سی جاتی ہوں۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دوسری طرف بھی کوئی مجھے دیکھ رہا ہے۔

مطلب توں فل پاگل ہو چکی ہے بہن۔۔۔توں میری بات مان یہ پڑھائی چھوڑ اور کسی سائیکاٹرسٹ سے اپنا علاج کروا۔۔۔مطلب حد ہی ہو گئی ہے یار٫تمہیں صرف سٹریس ہے اور کچھ نہی اور اگر تمہیں اس شیشے سے اتنا ہی مسئلہ ہے تو اسے کمرے سےاتروا کر کہی اور لگوا دو۔

کہا تھا میں نے امی سے لیکن وہ مانی ہی نہی۔۔۔کہہ رہی تھیں کہ اگر شیشہ اتارا تو دیوار خراب ہو جائے گی اور الگ سے پینٹ کروانی پڑے گی۔

سر آگئے۔۔۔ایک لڑکی تیزی سے دوڑتی ہوئی کلاس میں آئی تو سب لڑکیاں خاموش ہو گئیں۔۔۔مدیحہ نے کرن کو بھی خاموش رہنے کا اشارہ دیا۔

یہ سر ہیں یا کوئی جادوگر؟

دوسرے بینچ پر بیٹھی ایک لڑکی نے کمنٹ پاس کیا۔

سر نے پلٹ کر اس لڑکی کی طرف دیکھا تو وہ چونک گئی اور نظریں جھکا لیں۔

اتنی دور سے سر کو آواز کیسے چلی گئی۔۔۔مہک اور مدیحہ دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

My Self Shayan

آپ کے سر عابد کی جگہ مجھے ہائیر کیا گیا ہے۔کسی کو کچھ پوچھنا ہے تو ڈائریکٹ مجھ سے پوچھ سکتا ہے بجائے اس کے کہ میرے بارے میں کمنٹس پاس کیے جائیں۔

ان کا اشارہ اس لڑکی کی طرف تھا۔

Any Question?

سب اسٹوڈنٹس نے سر نفی میں ہلایا تو انہوں نے لیکچر شروع کر دیا۔

وہ لیکچر دینے میں مصروف تھے اور مہک ان کو ہی دیکھ رہی تھی کہ اچانک سر نے اس کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھوں سے عجیب سی روشنی مہک کی آنکھوں میں پڑی اور وہ خوفزدہ ہو کر ادھر اَدھر دیکھنے لگی کے شاید کسی اور نے بھی وہ روشنی دیکھی ہو مگر سب اپنی اپنی نوٹس بک پر لیکچر نوٹ کرنے میں مصروف تھے۔

سر شایان چلتے ہوئے مہک کے پاس آئے اور دونوں ہاتھ بینچ پر رکھتے ہوئے اس کی طرف جھکتے ہوئے مسکرا دیے۔”ہم سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے،”ہم تو آپ کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔

آپ نے ہماری جان بچا کر ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔اب ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم آپ کی حفاظت کریں۔

حفاظت مگر کس سے سر اور آپ کیا کہہ رہے ہیں یہ سب؟

میں تو آپ کو جانتی تک نہی۔۔۔آپ کی جان کب بچائی میں نے اور مجھے کس سے خطرہ ہو سکتا ہے؟

میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟

“آپ نے کسی کا کچھ نہی بگاڑا بلکہ ہماری جان بچا کر ہمارے دشمن کو شکست دی ہے اور اب وہ ہمارے ساتھ ساتھ آپ کی جان کے بھی دشمن بن گئے ہیں۔”

لیکن آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہی ہے “ہم ہر وقت آپ کے ساتھ ہیں سایے کی طرح۔۔۔آپ کو کچھ نہی ہونے دیں گے۔”

آپ کا دھیان کہاں ہے۔۔۔۔؟

اس آواز پر مہک چونک کر کھڑی ہو گئی اور حیرت زدہ سی اپنے اردگرد دیکھنے لگی سر تو اپنی جگہ پر کھڑے تھے۔

میں نے پوچھا آپ کا دھیان کہاں ہے؟

میں کب سے پڑھا رہا ہوں اور آپ کہی اور گم ہیں۔اگر پڑھنے کا دل نہی کر رہا تو کلاس سے باہر جا سکتی ہیں آپ۔

سوری سر۔۔۔مہک تیزی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور شرمندہ سی نظریں جھکائے کھڑی ہو گئی۔

Get out…

جی۔۔۔سر شایان کی غصے بھری آواز سن کر مہک ڈر گئی۔

I said Get out…

پوری کلاس حیرت زدہ سی کبھی مہک کو دیکھتی تو کبھی سر کو۔۔۔مہک کے پاس کلاس سے باہر جانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہی بچا۔

چپ چاپ اپنا بیگ اٹھایا اور آنسو پونچھتی ہوئی کلاس سے باہر نکل گئی۔

اس کے کلاس سے جاتے ہی پوری کلاس ایسے بیٹھی جیسے یہاں کوئی ہے ہی نہی۔

مہک چلتی چلتی لائبریری میں آ گئی۔حد ہے ویسے ایسا بھی کیا کر دیا تھا میں نے جو سر اتنا غصہ ہو گئے۔

میرا دھیان زرا سا بھٹکا تھا اور مجھے تو پتہ بھی نہی چلا کہ آخر میرے ساتھ ہوا کیا تھا۔

پتہ نہیں کیا چل رہا ہے آجکل میرے ساتھ۔۔۔امی کو بتایا بھی ہے لیکن وہ بھی میرا یقین نہی کر رہی اور مدیحہ نے بھی بات مزاق میں ڈال دی ہے۔

سمجھ نہی آ رہا کس کو بتاوں؟

ایسی کوئی اچھی کزن بھی تو نہی ہے میرے پاس جو میری بات کو سمجھے۔۔۔سب کی سب مطلبی ہیں۔کاش میری ایک بہن ہوتی جس سے میں اپنی ہر بات بنا ڈرے شئیر کر سکتی۔

ہم سے شئیر کریں جو بھی شئیر کرنا چاہتی ہیں آپ۔۔۔

مہک کے کان میں ایک لڑکی کی آواز آئی یقیناً وہ اس کے بلکل پیچھے کھڑی تھی۔

مہک نے ڈرتے ڈرتے گردن گھمائی لیکن پیچھے کوئی نہی تھا۔۔۔ڈر کے مارے اس کی چیخ نکلنے ہی والی تھی کہ اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ روکا کیونکہ وہ اس وقت لائبریری میں تھی۔

کسی کے چلنے کی آواز تک نہی آئی لیکن کسی کی موجودگی کو مہک اچھی طرح محسوس کر سکتی تھی۔

ککککون۔۔۔کون ہو تم؟

سامنے آؤ اس طرح ڈرا کیوں رہی ہو مجھے؟

دیکھو اگر تم میری ریگنگ کر رہی ہو تو یہ بہت غلط بات ہے۔میں پرنسپل آفس میں تمہاری شکایت کروں گی۔

سامنے آؤ کون ہو تم؟

بہت دیر تک بولتی رہی لیکن جب کوئی جواب نہی ملا تو خوف سے ایک نظر چاروں طرف دیکھا اور اپنا بیگ اٹھا کر دروازے کی طرف دوڑ لگا۔

اس سے پہلے کہ وہ دروازے تک پہنچتی دروازہ خودبخود بند ہو گیا اور کسی نے اس کا بازو تھام کر اسے پیچھے کی طرف کھینچا۔

اب تو واقعی خوف کے مارے اس کی چیخ نکل گئی اس نے زور سے آنکھیں بند کیں لیکن یہ کیا۔۔۔وہ تو کلاس میں تھی اور سر شایان لیکچر دینے میں مصروف تھے۔

اس کے چیخنے پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔سر شایان کتاب ڈائس پر رکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھے سب خیریت ہے؟

اس طرح کلاس میں کیوں چیخ رہی ہیں آپ؟

مہک ہکا بکا سی پوری کلاس کو دیکھتی رہ گئی۔میں تو لائبریری میں تھی۔۔۔یہاں کیسے آ گئی پھر؟

وہ منہ میں بڑائی اور اس کے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ بینچ پر گر گئی۔

اس کے بے ہوش ہونے پر پوری کلاس میں بھگڈر سی مچ گئی۔مدیحہ اور کچھ لڑکیاں آگے آئی اور اسے سہارا دیا۔

سر شایان نے ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے چلے گئے اور اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر مہک کی طرف دیکھا۔

ان کے دیکھتے ہی مہک کو ہوش آ گیا۔

تم ٹھیک ہو مہک۔۔۔کیا ہو گیا تھا تمہیں یار؟

مدیحہ اس کے گال تھپتپاتی ہوئی اسے کلاس سے باہر لے گئی۔

جب مہک کی طبیعت تھوڑی سنبھلی تو اس نے ساری بات مدیحہ کو بتا دی۔

مدیحہ حیرت زدہ سی اسے دیکھتی رہ گئی۔ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟

تم کلاس سے باہر گئی ہی نہی مہک۔۔۔جیسا تم بتا رہی ہو ایسا تو کچھ بھی نہی ہوا بلکہ تم خاموشی سے لیکچر سن رہی تھی اور اچانک سے تم نے چیخ ماری۔

کسی بات پر پریشان ہو کیا؟

شاید تم نے کسی پریشانی کو ذہن پے سوار کر لیا ہے اور کوئی بات نہی ہے۔

نہی مدیحہ۔۔۔میں بلکل ٹھیک ہوں اور سچ کہہ رہی ہوں سر نے مجھے کلاس سے باہر نکالا تھا میری بات کا یقین کرو۔

مجھے کوئی ٹینشن نہی ہے اور نہ ہی میں نے کسی بات کو ذہن پر سوار کیا ہے یہ سب حقیقت بتا رہی ہوں میں تمہیں۔

یہ سب اس نئے گھر کی وجہ سے ہو رہا ہے اور یہ سر شایان۔۔۔بہت عجیب ہیں یہ٫تم نے دیکھا ان کی آنکھیں کتنی عجیب ہیں اور وہ کس طرح مجھے دیکھ رہے تھے۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی مجھے کچا چبا جائیں گے اور میرا خون پی لیں گے۔

چلو جی۔۔۔نیا قصہ شروع٫بہن ایک بار اچھی طرح سوچ لو کہ آخر تمہیں مسئلہ کس سے ہے اپنے نئے گھر سے یا نئے سر سے۔۔۔کمال کرتی ہو یار۔

فضول ٹائم ضائع کر رہی ہو اپنا بھی اور میرا بھی۔۔۔چلو کلاس میں۔

مدیحہ اسے زبردستی کلاس میں لے گئی۔اس کے بعد ایسا کچھ نہی ہوا۔

گھر آئی تو ماں کو ساری بات بتائی۔۔۔وہ سچ میں بہت زیادہ پریشان ہو گئی۔

پتہ نہیں یہ سب کیا ہو رہا ہے میری بیٹی کے ساتھ۔۔۔وہ سچ میں آنسو بہانا شروع ہو گئی لیکن پھر ایک زور دار تھپڑ مہک کے کندھے پر لگایا۔

یہ ساری منحوسیت ان ڈراؤنی فلموں کی ہے جو تم پوری رات دیکھتی رہتی ہو۔نماز کی کوئی فکر ہے یا نہی؟

یہی اگر تم رات بھر بیٹھ کر قرآن پڑھتی تو یہ سب کچھ تو نہ ہوتا۔۔۔اب اگر سچ کوئی شیطان پیچھے پڑ گیا تو کیا کرو گی؟

امی آپ سمجھا رہی ہیں یا ڈرا رہی ہیں؟

غلطی ہو گئی مجھ سے آئیندہ نہی دیکھوں گی ایسی فلمیں۔۔۔لیکن اگر واقعی یہ ان ڈراؤنی فلموں کی وجہ سے ہو رہا ہے تو ورنہ نہی۔

ایک بات بتائیں زرا مجھے۔۔۔یہ فلمیں تو میں کب سے دیکھ رہی ہوں پہلے تو ایسا کچھ نہی ہوا تو اب کیوں ہو رہا ہے؟

آپ مانیں یا نا مانیں۔۔۔یہ گھر سہی نہی ہے امی٫اس گھر میں کچھ ہے پتہ نہی آپ میری بات کیوں نہی سمجھ رہی۔

میرے کانوں میں آوازیں سنائی دیتی ہیں کسی کے رونے کی اور میرا نام پکارنے کی۔

امی کوئی لڑکا ہے جو میرا نام پکارتا ہے۔ایسے لگتا ہے جیسے وہ مجھے جانتا ہے اور ہر وقت مجھے دیکھتا رہتا ہے۔

لاحول ولاقوۃ۔۔۔اٹھ یہاں سے کمبخت،کسی کے سامنے نہ کہہ دینا۔۔۔دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا اور کچھ نہی۔

جا کر کپڑے چینج کرو اور وضو کر کے نماز پڑھو۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔خوامخواہ پریشان کر رہی ہو۔

نہی امی میں نہی جاؤں گی اس کمرے میں۔۔۔مجھے اس شیشے سے بہت ڈر لگتا ہے۔

ایسے لگتا ہے جیسے دوسری طرف ایک الگ دنیا ہے اور وہاں سے سب مجھے دیکھ سکتے ہیں۔

تم ایسے نہی مانو گی۔۔۔ان کا چپل کی طرف ہاتھ بڑھا ہی تھا کہ مہک نے اپنا بیگ اٹھا کر دوڑ لگا دی۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *