366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 03)

Aks by Khanzadi

تم اندر جاو میں ڈاکٹر کو لے کر آیا۔۔۔قاسم نے دائم کو گھر کے باہر چھوڑا اور خود ڈاکٹر کو لینے کلینک چلا گیا۔

مسلسل بیل دینے پر آخر کار دروازہ کھل ہی گیا۔

اسلام و علیکم چچی جان۔۔۔کہاں ہے مہک؟

دائم پریشان سا گھر میں داخل ہوا۔

وعلیکم اسلام۔۔۔وہ اپنے کمرے میں ہے دائم آؤ میرے ساتھ۔

پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے میری بچی کو آنکھیں ہی نہی کھول رہی۔وہ پریشان سی سیڑھیوں کی طرف بڑھتی چلی گئی اور دائم ان کے پیچھے پیچھے مہک کے کمرے میں داخل ہوا۔

وہ بیڈ پر بے ہوش پڑی تھی اور اس کا چہرہ واقعی نیلا پڑ چکا تھا۔

دائم تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور ہاتھ بڑھا کر مہک کے گال تھپکے۔۔۔مہک اٹھو،ہوش میں آو۔

بس اس کے مہک کو ہاتھ لگانے کی دیر تھی کہ اچانک سے مہک کا چہرہ اپنی اصل حالت میں واپس آ گیا۔

یہ سب دیکھ کر دائم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔

جتنا حیران وہ تھا اتنی ہی حیران مہک کی ماں بھی تھیں مگر بیٹی کو ہوش میں آتے دیکھ کر ان کا دھیان بھٹک گیا۔

ان کا دھیان تو بھٹک چکا تھا مگر دائم حیرت زدہ سا مہک کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی اور مخلوق ہو۔

وہ سر تھامتی ہوئی اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔میرا سر امی،پتہ نہی مجھے کیا ہو رہا ہے۔

تم ٹھیک تو ہو ناں بیٹا۔۔۔میں پانی لے کر آتی ہوں تمہارے لیے۔

وہ کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ دائم ابھی تک مہک کو گھور رہا تھا۔

اسلام و علیکم دائم بھائی۔۔۔آپ کب آئے؟

مہک کی نظر اس پر پڑی تو جلدی سے ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے سلام کیا۔

وعلیکم اسلام۔۔۔ٹھیک ہو اب؟

جی۔۔۔ٹھیک ہوں بس سر بہت بھاری ہو رہا ہے۔

کیا ہوا تھا تمہیں؟

دائم کے سوال پر مہک نے ایک گہری سانس لی اور ایک نظر پورے کمرے میں دیکھا۔میں آپ کو بتا تو دوں بھائی لیکن آپ میرا یقین نہی کریں گے امی کی طرح۔۔۔ان کو میری کسی بات پر یقین ہی نہی ہے۔

Don’t worry

مجھے بتاو کیا بات ہے؟

کسی چیز نے کاٹا تھا تمہیں یا پھر کوئی اور بات ہے؟

کسی چیز نے نہی کاٹا مجھے بھائی بلکہ۔۔۔ماں کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر مہک چپ ہو گئی۔

ان کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیا اور ایک ہی سانس میں پی گئی۔

یہ اب بلکل ٹھیک ہے چچی جان آپ فکر نہ کریں۔مجھے ایک کپ چائے مل سکتی ہے؟

ہاں کیوں نہیں بیٹا بلکہ مجھے خود تمہیں پوچھنا چاہیے تھا۔بس زرا اس کی پریشانی میں دھیان ہی نہی رہا۔ابھی لاتی ہوں۔

ایک نظر مہک کو دیکھتی ہوئی مطمئن سی کمرے سے باہر نکل گئی۔

اب بتاو۔۔۔ان کے جاتے ہی دائم نے دوبارہ بات شروع کی۔اس نے جان بوجھ کر چچی کو چائے کا بولا تا کہ مہک اپنی بات مکمل کر سکے۔

دائم بھائی دراصل بات یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ اس گھر میں کچھ ہے۔۔۔مجھے عجیب وغریب آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

ایسے لگتا ہے جیسے کوئی میرا نام پکارتا ہے اور عورتوں کے رونے کی آوازیں اور سب سے خطرناک یہ شیشہ ہے۔

پہلے تو مجھے لگتا تھا کہ یہ سب میرا وہم ہے لیکن آج تو حد ہی ہو گئی۔۔۔میں فون یوز کرتی کرتی کمرے میں آئی میرا دھیان فون پر تھا۔

مجھے پتہ ہی نہی چلا میں کب شیشے کے سامنے آ گئی اور جیسے ہی میری نظر شیشے پے پڑی میں نے دیکھا کہ۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتی دروازہ نوک ہوا اور قاسم ڈاکٹر کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔

مہک کو ٹھیک دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔ٹھیک ہے میرا بچہ؟

جی بھائی میں بلکل ٹھیک ہوں اب۔۔۔مہک نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور ایک نظر دائم کی طرف دیکھتے ہوئے سر جھکا لیا۔

ڈاکٹر نے چیک اپ کیا تو سب کچھ نارمل تھا۔کوئی پریشانی والی بات نہی ہے یہ بلکل ٹھیک ہیں۔

شکریہ ڈاکٹر صاحب۔۔۔آئیے میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔

ہممم شکریہ۔۔۔ڈاکٹر صاحب نے اپنا بیگ اٹھایا اور قاسم کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئے۔

ان دونوں کے کمرے سے جاتے ہی مہک نے اپنی بات دوبارہ شروع کی۔بھائی مجھے لگتا ہے اس گھر میں کوئی تو ہے۔

میں سوتے ہوئے ڈر جاتی ہوں اور آپ یقین نہیں کریں گے جو میں نے آج دیکھا۔۔۔میں شیشے کے سامنے کھڑی تھی اور شیشے میں میرا چہرہ مجھے ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

میں اتنا ڈر چکی تھی کہ میرے ہاتھ سے فون گر چکا تھا مگر شیشے میں میرا فون میرے ہاتھ میں ہی تھا۔

ایسے کیسے ہو سکتا ہے بھلا؟

میں نے امی کو بتانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن ان کو لگتا ہے کہ یہ سب میرا وہم ہے اور کچھ نہیں۔

ان کو لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ہارر موویز کی وجہ سے ہو رہا ہے جو میں اکثر رات کو دیکھتی ہوں۔

ہاں یہ ہو بھی سکتا ہے مہک۔۔۔کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ ہم کسی بات یا واقع کو ذہن پر سوار کر لیتے ہیں۔

ہو سکتا ہے چچی جان کی بات درست ہو۔۔۔ہو سکتا ہے یہ سب صرف تمہارا وہم ہو۔

دیکھا۔۔۔میں اسی لئیے نہی بتا رہی تھی کیونکہ کسی کو میری بات پر یقین ہی نہیں ہے۔

آپ نے بھی وہم کا نام دے دیا۔۔۔آپ ایک بار اس شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر تو دیکھیں۔

آپ کو ایسا محسوس ہو گا جیسے اس کے اندر ایک دنیا بس رہی ہے۔۔۔جیسے دوسری طرف کوئی بہت توجہ سے آپ کو دیکھ رہا ہو۔

اس کے علاوہ ایک اور بات۔۔۔یاد آنے پر تیزی سے بیڈ سے اچھل کر نیچے اتری اور دائم کے پاس آئی٫بات صرف یہاں ختم نہی ہوتی۔

کالج میں وہ نئے سر۔۔۔سر شایان۔۔۔میں کیسے سمجھاؤں آپ کو٫انہوں نے مجھے کلاس سے باہر نکالا اور میں لائبریری گئی وہاں مجھے ایک لڑکی کی آواز سنائی دی مگر مجھے وہ کہی نظر نہی ائی۔

حیرت تو اس بات کی ہے کہ پوری کلاس کے مطابق میں کلاس سے باہر گئ ہی نہی بلکہ کلاس میں ہی تھی۔

مطلب سر شایان کا مجھے کلاس سے باہر نکالنا اور میرا لائبریری جانا،اس لڑکی کی آواز سنائی دینا اور میرا ڈرنا سب کچھ ایک وہم تھا۔

چلیں ایک منٹ کے لیے مان بھی لوں کہ وہ وہم تھا لیکن جو کچھ اس شیشے میں دیکھا اور میرا بے ہوش ہونا یہ سب بھی وہم لگ رہا ہے آپ کو؟

مہک کی باتیں سن کر دائم اچھا خاصہ پریشان ہو چکا تھا۔۔۔ہمممم ایک منٹ کے لیے میں ان سب باتوں کو وہم سمجھ تو لوں لیکن جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ وہم نہی ہو سکتا۔

جب تم بے ہوش تھی تو میں نے دیکھا کہ تمہارے چہرے کا رنگ نیلا تھا لیکن اچانک سے میری آنکھوں کے سامنے تمہارا چہرہ ٹھیک ہوا اس بات پر میں خود بھی بہت حیران ہوں۔

شکر ہے۔۔۔شکر ہے بھائی آپ کو یقین تو آیا کسی بات پر۔۔۔مہک گہری سانس لیتے ہوئے تھکی ہاری سی بیڈ پر بیٹھ گئی۔

کیا ہے اس شیشے میں دیکھوں تو سہی زرا۔۔۔دائم شیشے کے سامنے کھڑا ہوا اور کچھ دیر دیکھتا ہی رہا اور پھر پلٹ کر مہک کی طرف دیکھا۔

کیا خیال ہے اگر اس شیشے کو یہاں سے کہی اور شفٹ کر دیا جائے۔۔۔پھر تمہارا ڈر ختم ہو جائے گا؟

پتہ نہی بھائی۔۔۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ جو میرے ساتھ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ شیشہ ہی ہے۔

آپ اسے اتار ہی دیں یہاں سے پلیز۔

ہممم۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔دائم نے شفٹ کے بازو فولڈ کیے اور شیشے کو اتارنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی جگہ سے زرا سا بھی نہی ہلا۔

یہ تو اتر ہی نہی رہا مہک۔۔۔بہت مضبوطی سے فکس کیا گیا ہے دیوار میں٫اب کیا کریں؟

کچھ بھی کریں بھائی لیکن اسے یہاں سے اتاریں ورنہ مجھے کچھ ہو جائے گا میں سہی کہہ رہی ہوں آپ سے۔

ایک اور حل ہے میرے پاس مہک۔۔۔تم کسی اور کمرے میں شفٹ ہو جاؤ کیا خیال ہے؟

اور کمرہ کہا سے لاؤں بھائی۔۔۔؟

نیچے تین کمرے ہیں جن میں ایک ماما بابا کا ہے، دوسرا گیسٹ روم اور تیسرا ڈرائنگ روم۔۔۔اوپر والے دو کمروں پر قاسم بھائی نے قبضہ کر لیا ہے اور باقی بچا یہ۔۔۔اب میں اس کو چھوڑ کر کہاں جاؤں؟

بہت زیادتی کی ہے آپ سب نے میرے ساتھ۔۔۔میرا کمرہ اس خاور کے بچے کو دے دیا۔۔۔زہر لگتا ہے مجھے وہ۔

کون۔۔۔کمرہ یا خاور؟

دائم شرٹ کے بازو ٹھیک کرتے ہوئے بولا اور کرسی کھینچتے ہوئے مہک کے سامنے بیٹھ گیا۔

خاور۔۔۔وہ زہر لگتا ہے مجھے اور آپ کو پتہ ہے گھر میں کیا باتیں چل رہی ہیں اجکل؟

قاسم بھائی اور شمع آپی کے رشتے کی بات چل رہی ہے۔

اور تمہارے اور خاور کے رشتے کی بھی۔۔۔دائم نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔

دادو نے اچھی خاصی بحث چھیڑی ہوئی ہے گھر میں کہ میری پوتی کو اس گھر میں واپس لایا جائے۔

اوہہہہ۔۔۔تو میری سب سے بڑی دشمن دادو بنی ہوئی ہیں۔۔۔مجھے ان سے یہ امید بلکل نہی تھی۔

اس کی بات پر دائم مسکرا دیا۔۔۔اس میں کچھ غلط تو نہی ہے۔اچھی بات ہے خاندان میں جو رنجشیں ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔

دائم کی بات پر مہک نے تالی بجائی۔۔۔واہ کیا کہنے ہیں آپ کے مطلب خاندان کی رنجشیں مٹانے کے ہم لڑکیاں ہی رہ گئی ہیں بس۔

آپ کیوں نہی کر لیتے شمع آپی سے شادی؟

اے پاگل۔۔۔مہک کی بات پر دائم اپنی ہنسی نا روک سکا۔

کیوں اپنے بھائی کے ہاتھوں قتل کروانا چاہتی ہو میرا۔۔۔بہن سمجھتا ہوں میں اسے۔

ہاں تو میں بھی خاور کو اپنا بھائی ہی سمجھتی ہوں تو مجھے کیوں قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں آپ لوگ؟

کون بنا رہا ہے تمہیں قربانی کا بکرا؟

مہک کی امی کمرے میں داخل ہوئی اور چائے کی ٹرے دائم کے سامنے رکھ دی۔

شکریہ چچی جان۔۔۔دائم چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے بولا۔

وہ مہک کے پاس بیٹھ گئیں۔۔۔چپ کیوں ہو گئی اب،بتاو کیا ہوا ہے؟

میں بتاتا ہوں چچی جان۔۔۔یہ کہہ رہی ہے کہ اسے خاور سے شادی نہی کرنی۔

میں اسے سمجھا رہا تھا کہ بڑوں کی بات ماننے میں ہی عافیت ہے بیٹا۔

ہاں سہی تو کہہ رہا ہے دائم اور ویسے بھی اسے اپنا کمرہ واپس چاہیے تو یہی ایک حل بچا ہے ہمارے پاس۔۔۔مہک کی امی بھی دائم کے ساتھ شروع ہو گئی۔

مہک رونا شروع ہو گئی۔۔۔اچھا نہی کر رہے آپ لوگ میرے ساتھ۔

دائم اپنی ہنسی مزید کنٹرول نہ کر سکا اور چائے کا کپ واپس ٹرے میں رکھتے ہوئے ہنس دیا۔پاگل ہے یہ لڑکی چچی جان۔

ہم بس مزاق کر رہے تھے۔۔۔تمہارے بھائی کے ہوتے ہوئے کسی کی اتنی ہمت نہی ہے جو تمہاری مرضی کے خلاف تمہاری شادی طے کر دے۔

سنبھال لوں میں سب کو فکر نہی کرو جب تک تم نہی چاہو گی بات آگے نہی بڑھے گی۔

پکا وعدہ؟

ہاں پکا وعدہ۔۔۔دائم اس کی ناک دباتے ہوئے بولا اور چائے پینے میں مصروف ہو گیا۔

تم لوگوں کو کوئی نہی سمجھا سکتا۔۔۔ایک سے بڑھ کر ایک کو تم لوگ۔۔۔مہک کی امی دائم کا کا کندھا تھپکتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

دادو کو کیسے سمجھائیں گے آپ؟

مہک کو وعدے پر تسلی نہ ہوئی تو ایک اور سوال کر ڈالا۔

میں سنبھال لوں گا تم فکر نہی کرو اور اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔

آپ کے لیے کہنا آسان ہے بھائی۔۔۔مجھ سے پوچھیں میری کیا حالت ہے٫آپ نے دادو کا نام لے کر مجھے پریشان کر دیا ہے۔

آپ کو بھی پتہ ہے دادو کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔۔۔ایک بار وہ جو سوچ لیں کر کے ہی چھوڑتی ہیں۔

غلط۔۔۔میری کوئی بھی بات نہی ٹالتی وہ٫قاسم اور شمع کے رشتے کی بات بھی میں نے ہی کی ہے ان سے ورنہ تو وہ اپنی بہن کی پوتی کا رشتہ ڈھونڈ کر بیٹھی تھیں تمہارے مجنوں بھائی کے لیے۔

یہ لیلی مجنوں کی جوڑی میری وجہ سے ہی مکمل ہونے والی ہے۔

اچھا۔۔۔گھر میں سب کو پتہ تھا اس بارے میں بس میں ہی بے وقوف تھی؟

ہاں وہ تو تم ہو اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

اچھا جی۔۔۔تو پھر میری بھی دعا ہے کہ آپ کو بھی میرے جیسی بے وقوف لڑکی ملے۔

دائم چائے کا کپ رکھتے ہوئے مسکرا دیا۔اچھی دعا نہ دینا بھائی کو٫میری بیوی بہت ذہین ہو گی دیکھ لینا اور تم سب کی ملاقات صرف نکاح والے دن ہو گی اس سے۔

سب سے چھپا کر رکھوں گا اور پھر دیکھنا نکاح والے دن تم سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

بس بس۔۔۔بس کریں٫مہک کی ہنسی چھوٹ گئی۔اب تک تو ملی نہی کوئی آپ کو۔۔۔بڑے آئے چھپا کر رکھوں گا۔

نا کسی نے کالج میں منہ لگایا آپ کو اور نا ہی یونیورسٹی میں۔۔۔کھڑوس کہی کے۔

ہاں تو میں وہاں پڑھائی کرنے جاتا تھا رشتہ ڈھونڈنے نہی۔۔۔کم عقل کہی کی۔

بس بس رہنے دیں اب صفائیاں پیش نا کریں۔۔۔وہ دونوں باتیں کرنے مصروف تھے کہ شیشہ گرنے کی آواز پر دونوں تیزی سے پلٹے۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *