366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 06)

Aks by Khanzadi

اوووو۔۔۔لگتا ہے مہک شرما گئی۔۔۔میں دیکھتی ہوں اسے،آ جاؤ گرلز۔

Let’s go…

مصباح سب کو ساتھ لیے مہک کے کمرے میں آ گئی۔

مہک کمرے کا دروازہ بند کرنے ہی والی تھی کہ سب کمرے میں آ گئی۔

تم اوپر کیوں آ گئی؟

کیا ہوا شرما گئی؟

نازیہ،فوزیہ،شمع اور مصباح سب اسے تنگ کر رہی تھیں۔

مہک کا بس نہی چل رہا تھا ورنہ ان سب کا سر پھاڑ دیتی۔۔۔بے بس سی مسکرا دی لیکن دل ہی دل میں کڑہتی رہی۔

بس بس اب تم سب زیادہ تنگ نا کرو میری ہونے والی بھابھی کو۔۔۔شمع نے فوراً پارٹی بدل لی۔

مہک نے برا سا منہ بنایا اور شیشے کی طرف بڑھ گئی کیسی لگی گھر کی سیٹنگز؟

اچھی ہے لیکن تھوڑا پرانا گھر نہی ہے یہ؟

مصباح نخریلے انداز میں بولی۔

نہی تو بلکل ٹھیک ہے۔۔۔جواب شمع کی طرف سے آیا۔

اووووو۔۔۔۔ابھی سے اتنی سائیڈ اپنے سسرال کی۔

نازیہ نے بھی شمع کو چھیڑنے کا موقع نہ چھوڑا۔

نہیں بالکل بھی نہیں میں اپنے سسرال کی نہیں اپنی بھابھی کی سائیڈ لے رہی ہو تم لوگ غلط سمجھ رہی ہو۔

شمع نے فوراً اپنے حق میں صفائی پیش کی۔

اچھی ہے گھر کی سیٹنگ لیکن یہ کمرہ تھوڑا سا عجیب ہے مہک۔۔۔پتا نہیں کیوں جیسے ہی ہم تمہارے کمرے میں داخل ہوئے کچھ عجیب سا فیل ہوا۔

صرف کمر ہی نہیں یہاں بہت کچھ عجیب ہے۔۔۔مہک منہ ہی منہ میں بڑائی لیکن بولی کچھ نہی۔

کچھ عجیب سا محسوس ہوا ہے ہاں صحیح کہہ رہی ہو تم فوزیا نے بھی مصباح کی ہاں میں ہاں ملائی۔

اور یہ شیشہ۔۔۔مصباح شیشے کی طرف بڑھی اور حیرت زدہ شیشے کو دیکھنے لگی یہ بہت خوبصورت ہے لیکن کچھ عجیب سا ہے،یہ کب لگوایا تم لوگوں نے؟

صرف خوبصورت ہی نہی بہت خوفزدہ بھی ہے یہ مصباح آپی۔۔۔اس شیشے سے دور ہی رہیں تو بہتر ہو گا آپ کے لیے۔

کیوں ایسا کیا ہے اس شیشے میں جو میں اس سے دور رہوں؟

مہک کی بات پر پر مصباح حیرت زدہ سے مہک کی طرف پلٹی۔

مہک ایک گہری سانس لیتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔میں آپ لوگوں کو بتا دوں لیکن آپ لوگ میرا یقین نہیں کریں گی۔

نہیں تم بتاؤ کیا بات ہے ہم تمہارا یقین کریں گی۔۔۔نازیہ کی بات پر سب مہک کے گرد گھیرا بنا کر بیٹھ گئیں۔

ٹھیک ہے میں بتاتی ہوں لیکن آپ لوگ ڈرئیے گا مت۔یہ شیشہ کوئی عام شیشہ نہیں ہے مجھے لگتا ہے اس شیشے کے دوسری طرف کوئی ہے۔

کیا مطلب اس شیشے کے اس طرف کوئی ہے؟

اس شیشے کی اس طرف دیوار ہے اور تو کچھ نہی ہے۔۔۔شازیہ طنزیہ انداز میں بولی۔

چپ رہو تم سننے تو دو۔۔۔فوزیہ کے ڈانٹنے پر چپ ہو کر بیٹھ گئی۔

ایسا لگتا ہے جیسے کوئی دوسری طرف مجھے دیکھتا ہے اور مجھے آواز دیتا ہے۔

کوئی میرا نام پکارتا ہے۔۔۔بچوں کے رونے کی آوازیں اور عجیب و غریب شور ہوتا ہے جیسے دوسری طرف کوئی مجھے مدد کے لئے پکارتا ہو۔

اور تو اور ہمارے کالج میں ایک نئے سر آئے جن کا نام شایان تھا ان کے آتے ہی میرے ساتھ کچھ عجیب و غریب ہوا۔

جیسا کہ انہوں نے مجھے کلاس سے باہر نکالا لیکن مدیحہ جو میری دوست ہے اس نے بتایا کہ میں تو کلاس سے باہر گئی ہی نہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ سر نے مجھے کلاس سے باہر نکالا تھا۔اس کے بعد میں م لائبریری میں بیٹھ گئی اور وہاں پر مجھے ایک لڑکی کی آواز سنائی دی لیکن وہ لڑکی مجھے کہی نظر نہیں آئی۔

مجھے نہیں پتا اچانک سے میں کلاس میں کیسے واپس آ گئی۔۔۔میں زور سے چیخی تھی اور اس کے بعد میں بے ہوش ہو گئی تھی مجھے کچھ یاد نہیں لیکن سب کا کہنا ہے کہ میں کلاس سے باہر گئی ہی نہی۔

بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی سر شایان اس دن کے بعد کالج میں کہیں نظر نہیں آئے اور پھر وہ گجرے۔۔۔

گجر والی بات پر مہک خاموش ہوگئی۔۔۔خیر چھوڑیں میں کتنے دنوں سے سوچ رہی تھی کہ کسی سے یہ ساری باتیں شیئر کروں لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس سے شیئر کروں۔

امی بھی میری کسی بات پر یقین نہیں کر رہی۔۔۔

دائم بھائی کو بتا چکی ہوں میں سب کچھ۔

اس دن جب میں بیہوش ہوئی تھی تو انہوں نے میری حالت دیکھی تھی وہ خود بہت پریشان تھے یہ سب کیا ہو رہا ہے لیکن اس دن کے بعد سے ایسا کچھ ہوا ہی نہیں جو میں ان کو بتاتی۔

اب تو معمول بن چکا ہے سچ کہوں تو مجھے عادت ہو چکی ہے کوئی میرا نام بھی پکارتا ہے کسی کے رونے کی آوازیں بھی آتی ہیں۔

کبھی کوئی بچہ رو رہا ہوتا ہے تو کبھی عورت رو رہی ہوتی ہے اور کبھی کسی آدمی کی آواز آتی ہے۔

اچھا۔۔۔لیکن دائم بھائی نے تو کسی سے اس بات کا ذکر نہیں کیا۔۔۔مصباح حیرت زدہ سی بولی۔

ہاں کیونکہ کوئی خاص وجہ نہیں ملی تو وہ کسی سے کیا ذکر کر سکتے تھے لیکن یہ سچ ہے آپ لوگوں کو میری باتیں مذاق تو نہیں لگ رہی؟

نہیں نہیں ہمیں تمہاری باتیں مذاق کیوں لگیں گی بھلا۔۔۔جواب نازیہ کی طرف سے آیا تم کہہ رہی ہوں تو سچ ہی ہو گا۔

ہو سکتا ہے کوئی بھوت تمہارے پیچھے پڑ گیا ہو۔۔۔ ویسے بھی یہ گھر دیکھنے میں بہت خوفناک سا لگتا ہے خاص طور پر تمہارا کمرہ۔۔۔شازیہ نے اپنے کندھے پر آئے بال پیچھے جھٹکے اور بڑے طنزیہ انداز میں بولی۔

مہک کو ایسے لگا جیسے شازیہ نے اس کی باتوں کا مزاق اڑا رہی ہے لیکن پھر بھی مسکرا دی۔

پتا نہیں کیا ہے میں نہیں جانتی لیکن کچھ تو ہے میں بہت خوفزدہ ہوں جب سے اس گھر میں آئی ہوں۔

تم ڈرو مت یار۔۔۔اگر تم کہو تو ہم لوگ ممانی سے بات کریں؟

نازیہ پریشان سی بولی۔

چلیں بھی نیچے۔۔۔اب کیا سب لوگ یہی بیٹھے رہیں گے جانا نہیں کیا؟

نیچے چلیں سب کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔۔۔مجھے اس بھوتیا کہانی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

شازیہ عجیب انداز میں بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

فکر نہیں کرو ایسا کچھ نہیں ہوتا تمہارا وہم ہو گا مہک کیونکہ اگر کوئی خطرناک چیز ہوتی تو اب تک تمہیں نقصان پہنچا چکی ہوتی۔

اگر اب تک تمہیں کوئی نقصان پہنچا تو ڈرنے والی کوئی بات نہیں اس میں۔۔۔مصباح مہک کا کندھا تھپکتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

نازیہ اور فوزیہ بھی کندھے اچکاتے ہوئے چلی گئی لیکن شمع وہی رک گئی۔زیادہ وہم نا کرو کچھ نہیں ہوتا۔

تم جتنا ڈرو گی یہ چیز تمہیں مزید ڈرآئے گی ہو سکتا ہے تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو کیونکہ ایسی چیزوں کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے جب ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ شفٹ ہوتے ہیں تو ہم لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہو سکتا اس وجہ سے تمہیں اس طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

ضروری نہیں کہ وہ کوئی جن بھوت ہو٫ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آوازیں کسی گھر سے آتی ہو۔

جی شمع آپی ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو۔۔۔مہک بے بس سی مسکرا دی اور کر بھی کیا سکتی تھی۔

ان سب میں سے کسی نے بھی اس کی بات کو سیریس نہیں لیا تھا۔

آ جاؤ اب نیچے کیا یہی بیٹھی رہوں گی؟

جی آپی آپ چلیں میں آ رہی ہوں۔۔۔

ٹھیک ہے جلدی آ جانا۔۔۔شمع بھی کمرے سے باہر نکل گئی۔

مہک دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ بند کرتی ہوئی واپس بیڈ پر بیٹھ کر رونا شروع ہو گئی۔

مجھے نہیں کرنی یہ شادی میں کیسے سمجھاؤں سب کو۔۔۔وہ بیٹھی ہو رہی تھی جبکہ نیچے خاور کی خوشی کے مارے مسکراہٹ ہی نہیں رک رہی تھی۔

شمع دوبارہ مہک کے کمرے میں واپس آئی اور کمرے کا دروازہ بند دیکھ کر حیران ہوئی۔

دروازہ نوک کیا تو مہک نے جلدی سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے دروازہ کھولا۔

آ جاؤ نیچے میں نے تمہیں نیچے آنے کو بولا تھا اور تم دروازہ بند کئے بیٹھی ہو۔

سب لوگ بلا رہے ہیں تمہیں۔۔۔

جی۔۔۔مہک نے دوپٹہ اچھی طرح ٹھیک کیا اس کے ساتھ نیچے آ گئی گئی۔

شمع نے اسے خاور کے ساتھ بٹھایا اور سب نے دونوں کے اس نئے رشتے کے لیے دعا کی۔

آہستہ آہستہ سب اپنے گھر کو روانہ ہو گئے۔ان سب کے گھر سے نکلتے ہی مہک اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کر کے آنسو بہانہ شروع ہو گئی۔

کچھ دیر بعد اس کی امی کچن کا کام برتن سمیٹ کر اس کے کمرے میں آئی لیکن مہک نے دروازہ بند کر رکھا تھا۔

انہوں نے تین چار دفعہ دروازے نوک کیا لیکن مہک نے دروازہ نہیں کھولا۔

مہک بس کر دو بیٹا اور کتنی ضد کرو گی؟

آخر کار تھک ہار کر وہ بول پڑیں۔

ان کی آواز سن کر مہک اٹھی اور دروازہ کھول دیا۔

وہ دروازہ بند کرتی ہوئی اسے ساتھ لئے بیڈ تک آئی اور اسے گلے سے لگا لیا۔

اس میں رونے والی کیا بات ہے بیٹا ہر لڑکی کی شادی ہوتی ہے۔

امی آپ نے کہا تھا کہ جیسا میں چاہوں گی ویسا ہی ہوگا تو پھر یہ سب کیا تھا؟

جب میں آپ سے کہہ چکی تھی کہ مجھے خاور سے شادی نہیں کرنی تو پھر مجھے اس کے ساتھ بٹھایا ہی کیوں آپ لوگوں نے؟

بیٹا یہ تو بڑوں کا فیصلہ ہے تمہاری دادو بھی یہی چاہتی ہیں سب لوگ راضی ہیں اس رشتے کے لیے اور سب سے بڑھ کر خاور نے خود اپنی ماں سے اس رشتے کی بات کی ہے۔

وہ تمہیں پسند کرتا ہے بہت خوش رکھے گا تمہیں۔ پتہ نہیں تم نے اس کے بارے میں کیا بد گمانیاں پیدا کر لی ہیں دل میں۔

مجھے وہ پسند ہی نہیں ہے امی آپ لوگ کچھ بھی کہہ لیں میں اسے شادی نہیں کروں گی۔۔۔مہک بس روۓ جا رہی تھی چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

کیوں نہیں کرو گی اس سے شادی مجھے کوئی ایک خاص وجہ بتا دو تا کہ میں تمھارے بابا سے کہہ دو۔ کیا برائی ہے اس میں مجھے اس کی کوئی ایک برائی بتا دو؟

برائی کچھ نہیں ہے اس میں لیکن مجھے یہ شادی نہیں کرنی امی۔۔۔مجھے وہ پسند ہی نہیں ہے۔

یہ تو کوئی وجہ نہ ہوئی انکار کی مہک۔۔۔ اگر وہ تمہیں پسند نہیں ہے تو آہستہ آہستہ پسند آجائے گا۔ جب تم دونوں کے درمیان ایک رشتہ جڑ جائے گا تو تمہاری پسند بھی خود بخود بدل جائے گی۔

ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو اور مجھے بھی پریشان کر رہی ہو اگر تمہارے بابا تمہیں روتے ہوئے دیکھ لیں تو ان کے دل پر کیا گزرے کی؟

بڑے مان سے انہوں نے اپنے بھائی سے وعدہ کیا ہے۔

امی بڑوں کے وعدوں میں ہمیشہ ہم بیٹیاں ہی کیوں پیستی ہیں؟

آپ لوگوں کو خاور کی پسند کا تو خیال ہے لیکن مجھے کیا پسند ہے اس کا خیال کسی کو نہیں ہے۔

خاور کو اظہار کا حق ہے کیونکہ وہ بیٹا ہے اور مجھے انکار کا حق نہی ہے کیونکہ میں بیٹی ہوں۔

کیا تمہیں کوئی اور پسند ہے؟

مہک کے سوال پر وہ حیرت زدہ سے تیزی سے پیچھے ہٹی۔

نہی۔۔۔مجھے کوئی اور بھی پسند نہیں ہے میں نے ایسا کب کہا کہ مجھے کوئی اور پسند ہے؟

میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔

تو بیٹا جی شادی کرنے کو کون کہہ رہا ہے آپ سے؟

ابھی تو صرف منگنی کرنی ہے شادی میں تو بہت وقت ہے ابھی تم دونوں پڑھ رہے ہو۔

منگنی کا مطلب ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھو۔۔۔تم اسے سمجھنے کی کوشش کرو اور وہ تمہیں سمجھنے کی کوشش کرے۔

پھر بھی اگر تم لوگوں کا دل نہیں مانا تو ہم بڑے کوئی فیصلہ کرلیں گے لیکن اس طرح بڑوں کی باتوں کا مان نہیں توڑا کرتے۔

اماں جان بہت خوش ہیں اس رشتے سے تم نے دیکھا نہیں کتنی خوش لگ رہی تھی وہ۔۔۔ان کا تو بس نہیں چل رہا ورنہ آج ہی تمہیں بیاہ کر لے جائیں اس گھر میں۔

خود کو سنبھالو بیٹا ایسے بلاوجہ رویا نہیں کرتے۔ ایک نا ایک دن تو شادی ہونی ہے نہ کسی سے تو خاور سے کیوں نہیں؟

اچھا بھلہ ہے اس میں کوئی برائی نہیں ہے تو پھر تو انکار کی کوئی گنجائش ہی نہی بچتی۔

یہ تو کوئی وجہ نہ ہوئی کہ بس مجھے شادی نہیں کرنی۔۔۔ابھی بہت وقت پڑا ہے شادی میں ایک دوسرے کو سمجھو۔

وہ پسند کرتا ہے تمہیں اور اس بات پر تمہیں خود پر فخر محسوس ہونا چاہیے کہ اس نے تمہیں چنا حالانکہ گھر میں اور بھی لڑکیاں تھی۔

شازیہ بھی اس کی ہم عمر تھی فوزیہ بھی اس کو پسند آ سکتی تھی لیکن اس نے تمہیں پسند کیا کوئی تو خاص وجہ ہو گی ناں تم میں۔

تمہیں تو اپنے آپ پر فخر محسوس ہونا چاہیے کہ اس نے سب کو چھوڑ کر تمہیں پسند کیا رونے کی بجائے خدا کا شکر ادا کرو۔

اتنا اچھا رشتہ آیا ہے ایسے روتی رہو گی تو ناشکری کہلاؤ گی۔۔۔”اللہ کا شکر ادا کرنے والی بنو”۔

چلو اٹھ کر نماز پڑھو عشاء کی۔۔۔۔میں بھی نماز پڑھنے جا رہی ہوں۔

نماز پڑھ کر اپنے اچھے مستقبل کے لئے دعا کرو اور سو جاؤ صبح کالج بھی جانا ہے۔اس کے ماتھے پر پیار کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔

پتا نہیں ایسی کون سی خاص وجہ تھی جو خاور کو میرے اندر ہی نظر آئی۔۔۔باقی سب تو جیسے اس کو نظر ہی نہیں آتی۔

ہاتھ دھو کر میرے ہی پیچھے پڑ گیا۔۔۔کچھ بھی ہو لیکن میں اس شادی سے انکار ہی کروں گی دیکھ لینا تم۔

آنسو پونچھتی ہوئی اٹھی اور نماز پڑھنے کے لیے چلی گئی۔

شیشے کے اس پار شایان نے غصے سے مٹھی بند کی۔۔۔ہم یہ شادی نہیں ہونے دیں گے آپ بے فکر رہیں

آپ صرف ہماری ہی ہیں اور ہماری ہی رہیں گی۔

کسی اور کا حق نہیں بننے دیں گے ہم آپ پر پر بس دیکھتی جائیں۔

ہم اس لڑکے کو زندہ ہی نہیں چھوڑیں گے جو آپ پر زبردستی حق جتانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسے بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی اس زبردستی کہ۔۔۔بس آپ دیکھتی جائیں ہم کیا کرتے ہیں اس کے ساتھ۔۔۔۔

خاور گھر جانے کی بجائے اپنے دوستوں سے ملنے چلا گیا اور انہیں اپنا رشتہ پکا ہونے کی خوشخبری سنائی۔

بدلے میں انہوں نے اس سے ٹریٹ مانگی تو انکو ساتھ لیے ایک ریسٹورینٹ میں چلا گیا۔کھانا کھانے کے بعد واپس گھر کے لیے نکلا۔

رات کافی ہوچکی تھی اچانک سے اس کی بائیک کے سامنے کوئی سایہ لہرایا۔

اس نے بائیک کو بریک لگائی اور سڑک کنارے روک کر ادھر ادھر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔

عجیب بات ہے میری بائیک کے سامنے سے کوئی گزرا تھا لیکن یہاں پر تو کوئی بھی نہیں ہے۔

چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے واپس بائک پر بیٹھ گیا جیسے ہی اس نے بائیک اسٹارٹ کی اچانک سے بائیک کی اسپیڈ تیز ہوئی اور بائیک ہوا میں اڑتی ہوئی سڑک پر آ گری۔

خاور کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔وہ وہی زمین بوس ہو گیا اس کے سر پر گہری چوٹ آ چکی تھی۔

پاس سے گزرنے والی ایک گاڑی رکی اور اسے ہاسپٹل پہنچایا یا کیا ورنہ شاید وہی دم توڑ دیتا۔

اسے ہاسپٹل تو پہنچادیا گیا لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ گھر والوں سے رابطہ کیسے کیا جائے کیونکہ خاور کے فون پر پاس ورڈ لگا ھوا تھا۔

اچانک سے اس کے دوست کی کال آ گئی۔۔۔بھائی کہاں ہو یار تم ابھی تک گھر نہی پہنچے کیا؟

دوسری طرف کار والا لڑکا تھا۔۔۔آپ کے دوست کا ایکسیڈنٹ ہو چکا ہے جلدی سے ہی ہاسپٹل آ جائیں آپ۔

اس گاڑی والے لڑکے نے خاور کے دوست کو ایڈریس سمجھایا تو نے اس نے فورا خاور کے گھر کال ملائی۔

خاور آئی سی یو میں بے ہوش پڑا تھا اور یہ خبر گھر والوں پر کسی قیامت کی طرح گری۔

سب لوگ ہاسپٹل آگئے۔۔۔رات سے صبح ہو گئی لیکن خاور کو ہوش نہیں آیا۔

مہک کالج جانے کے لیے نیچے آئی تو ماں کو روتے دیکھ کر فوراً ان کے پاس آئی کیا ہوا امی، آپ صبح صبح رو کیوں رہی ہیں سب خیریت تو ہے؟

وہ ٹی وی لاونج کے صوفے پر بیٹھی بس روئے جارہی تھیں اٹھ کر کچن کی طرف چل دی۔تم سو جاؤ تھوڑی دیر اور تمہیں کوئی ہوش ہے یا نہیں؟ یہاں کوئی جیے یا مرے تمہیں کسی کی پرواہ نہیں

جی بھر کر رو لو تم۔۔۔

امی ہوا کیا ہے مجھے کچھ بتائیں گی تو مجھے پتا چلے گا ناں۔۔۔اس طرح پہیلیاں کیوں بجھائے جا رہی ہیں۔

بتائیں مجھے کیا ہوا ہے مجھے فکر ہو رہی ہے۔

کل رات خاور کا ایکسیڈنٹ ہوا ہوا ہے۔۔۔ آئی سی یو میں ہے کل رات سے بے ہوش ہے۔

کیا۔۔۔امی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

وہ تو کل رات سب کے ساتھ گھر چلا گیا تھا ناں۔۔۔

گھر نہیں گیا تھا وہ یہاں سے اپنے دوستوں کے ساتھ چلا گیا تھا۔

اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور ایک لڑکے نے اسے ہاسپٹل پہنچایا ہے اس کی حالت بہت خراب ہے۔

پتا نہیں کس چیز کے ساتھ ٹکرایا ہے کیا ہوا ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا ڈاکٹرز کو۔

وہ تو بھلا ہو اس لڑکے کا جس نے اسے ہاسپٹل پہنچا دیا ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا سنسان راستہ تھا۔

اسے بھی کیا ضرورت تھی ایسے راستے پر جانے کی۔۔۔بائیک بھی بہت تیز چلاتا ہے۔

تم تو کچھ بولو ہی ناں۔۔۔مہک کے جواب پر انہوں نے اسے غصے سے گھورا۔

تم جا کر بین کر لو تھوڑا سا اور کل سے بچے کے پیچھے پڑی ہوئی ہو کہ نہی کرنی یہ شادی۔۔۔یہ نتیجے ہوتے ہیں بلاوجہ رونے کے۔

ناشکری کے ایسے نتیجے نکلتے ہیں۔۔۔بیٹھ جاؤ اب آرام سے گھر پہ کوئی نہیں ہے جو تہیں تمہیں کالج چھوڑنے جائے گا۔

امی میں کب کہہ رہی ہوں کہ مجھے کالج جانا ہے۔۔۔میں بھی پریشان ہوں خاور کے لئے۔

کزن ہے وہ میرا تکلیف ہو رہی ہے مجھے بھی اس کے لیے۔ہمیں بھی ہاسپٹل چلنا چاہیے۔

بس بس بس زیادہ ہمدردی نہ دکھاؤ پتہ ہے مجھے تمہیں اس کی کتنی فکر ہے٫جھوٹی ہمدردی نہ دکھاؤ۔

بیٹھو باہر جا کر۔۔۔ناشتہ لا رہی ہوں تمہارے لیے۔

مجھے ابھی نہی کرنا ناشتہ امی۔۔۔مہک دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *