366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 25)

Aks by Khanzadi

مدیحہ دیوار کے ساتھ ٹکرانے سے پہلے ہی ہوا میں اچھلتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی۔جب اس نے سر اوپر اٹھایا تو اپنی اصل حالت میں واپس آ چکی تھی۔

سامنے کوئی اور نہیں ادینہ بیٹھی تھی۔۔۔اس کے لمبے کالے بال بغیر ہوا کے بھی لہرا رہے تھی۔

اس کی سرخ آنکھیں اور چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ دیکھ کر مہک سہم کر اپنے سامنے ڈھال بن کر کھڑے وجود کے پیچھے چھپ گئی۔

ہم جانتے تھے آپ ضرور آئیں گے۔۔۔ادینہ چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے بولتی ہوئی شایان کی طرف بڑھی۔

“شایان”۔۔۔

مہک کی آواز پر شایان اس کی طرف پلٹا۔

دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اتنی دیر تک دیکھتے رہے کہ دونوں کی آنکھیں نمی سے دھندلا گئیں۔

شایان نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا اور آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے مہک کی طرف پلٹا اور ہاتھ آگے بڑھانے کا اشارہ کیا۔

مہک نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔

شایان نے اس کا ہاتھ ٹھیک کر دیا لیکن مہک اپنے ہاتھ کی بجائے اسے دیکھ رہی تھی۔

شایان کا بدلہ ہوا حلیہ دیکھ کر وہ اپنے آنسو نا روک سکی۔

کوئی کسی کے لیے خود کو اتنا کیسے بدل سکتا ہے،یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے بعد بھی وہ ایک نہیں ہو سکتے پھر بھی؟

کیا محبت انسان کو اس قدر غلام بنا دیتی ہے؟

مہک دل ہی دل میں شایان سے سوال کر رہی تھی۔

شایان نے اس کی طرف دیکھا اور سر اثبات میں ہلایا۔۔۔یعنی وہ مہک کے بولے بغیر ہی سارے سوال سن چکا تھا۔

یہ منظر دیکھ کر ادینہ تالی بجاتے ہوئے آگے بڑھی۔۔۔واہ کیا محبت ہے،آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں ہو رہی ہیں۔

شایان نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور مہک کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا۔

کیا ہم جان سکتےہیں آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟

ادینہ نے حیرت زدہ انداز میں شایان کو دیکھا۔۔۔کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں۔

یہ سوال تو ہمیں آپ سے کرنا چاہیے تھا شایان۔۔۔آخر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟

ہم یہاں کیوں آئی ہیں اس کا جواب آپ خود ہیں لیکن آپ یہاں کیوں آئے ہیں اس جواب کا وجود ہم جڑ سے مٹا دیں گے۔

آپ جس ارادے سے یہاں آئی ہیں ہم آپ کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔۔۔بہتر ہے جیسے آئی ہیں ویسے ہی چپ چاپ یہاں سے چلی جائیں۔

کیا مطلب ہے آپ کا شایان؟

آپ ہم پر شک کر رہے ہیں،اپنی بچپن کی دوست پر۔۔۔بھول گئے ہمارا رشتہ؟

اتنے دن بعد مل رہے ہیں گلے تو لگائیے ہمیں۔۔۔وہ آگے بڑھی اور بے باقی سے شایان کے گلے لگ گئی۔

ادینہ دور ہٹئیے ہم سے۔۔۔شایان نے اسے دور دھکیلنے کی کوشش کی لیکن ادینہ کے بازوؤں کی گرفت بہت مضبوط تھی۔

ادینہ نے شایان کے پیچھے چھپ کر کھڑی مہک کی طرف دیکھا اور اس کی طرف طنزیہ مسکراہٹ اچھالی۔

مہک تھوڑا پیچھے ہٹی اور نظریں جھکائے کھڑی ہو گئی۔

ہم نے کہا دور ہٹئیے ہم سے آپ نے سنا نہی ادینہ؟

شایان نے اسے پھر سے خود سے الگ کرنا چاہا تو ادینہ پیچھے ہٹ گئی اور شایان کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے اس کے گال پر جھکی۔

کیا حالت بنا لی ہے آپ نے اپنی۔۔۔آپ ایسے تو نہیں تھے۔

شایان نے مہک کی طرف دیکھا اور ادینہ کے ہاتھوں سے اپنا چہرہ آزاد کرتے ہوئے اسے دور دھکیلا۔۔۔حد ہوتی ہے کوئی بے شرمی کی لیکن آپ ساری حدیں پار کر چکی ہیں۔

ایک بوسہ ہی تو لیا ہے ہم نے شایان۔۔۔اس پر اتنا غصہ؟

دوست ہیں ہم آپ کی وہ بھی بچپن کی۔۔۔اتنا حق تو بنتا ہے ناں ہمارا؟

اپنی حد میں رہئیے ادینہ۔۔۔آپ دوست ہیں ہمسفر نہیں جو اتنا حق جما رہی ہیں ہم پر۔

شایان اس پر غصے بھری نظر ڈالتے ہوئے مہک کی طرف بڑھا۔۔۔جو کچھ آپ نے دیکھا ایسا کچھ نہی ہے مہک۔

یہ جان بوجھ کر ایسے کر رہی ہے تا کہ ہمارے درمیان فساد پیدا کر سکے۔

کس کے سامنے صفائیاں پیش کر رہے ہیں آپ شایان؟

یہ کونسی آپ کی ہفسر ہیں،یہ تو خود کسی اور کی ہیں اور ہم کوئی فساد نہی پھیلا رہے بلکہ اس کو حقیقت سے آگاہ کر رہے ہیں۔

چپ۔۔۔بلکل چپ!

اب آپ ایک لفظ بھی نہیں بولیں گی۔۔۔آپ کو کوئی حق نہی ہمارے اور مہک کے درمیان بات کرنے کا۔

اوہ۔۔۔مہک نام ہے ان کا اور کس نے کہہ دیا آپ سے کہ ہمیں حق نہی ہے؟

ہم یہاں اس کے لیے نہیں بلکہ آپ کے لیے آئے ہیں اور آپ کو ساتھ لیے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے۔

اور اگر ہم یہ کہیں کہ ہم آپ کے ساتھ جانا ہی نہیں چاہتے تو؟

شایان غصے میں اس کی طرف بڑھا۔

کیوں نہیں جانا چاہتے آپ ہمارے ساتھ شایان؟

آخر کیوں؟

اس لڑکی نے کے لیے۔۔۔ادینہ نے غصے سے مہک کی طرف اشارہ کیا۔

انگلی نیچے۔۔۔ہم ایسی توہین ہرگز برداشت نہیں کریں گے،ہم بھول جائیں گے کہ ہمارے سامنے ہماری بچپن کی دوست کھڑی ہیں۔

اپنے حواس قابو میں رکھیں اور یاد رکھیں آپ کے سامنے اس وقت کون کھڑی ہیں۔

آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ مہک کی طرف انگلی اٹھا کر دیکھیں۔

شایان کی بات پر ادینہ حیرت زدہ سی اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔

ہوش و حواس تو آپ کے گم ہیں شایان۔۔۔ایک معمولی سی لڑکی کے لیے آپ اپنا سب کچھ بھول بیٹھے ہیں۔

آپ اس لڑکی کا موازنہ ہم سے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایک بات شاید آپ بھول رہے ہیں کہ ہم ایک شہزادی ہیں اور یہ لڑکی ایک معمولی سی انسان۔

آپ کو نہیں لگتا آپ اپنی پہچان کھونے کے ساتھ ساتھ خود سے جڑے رشتوں کی پہچان بھی کھو چکے ہیں؟

آپ محبت میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ آپ کو اپنے رشتوں کی محبت دکھائی ہی نہیں دے رہی۔

آخر ایسا کیا ہے اس لڑکی میں؟

ادینہ زور سے چلائی۔

اپنی آواز میں نرمی رکھیئے ادینہ۔۔۔یہ آپ کا محل نہیں ہے جہاں آپ جیسے چاہے چلا سکتی ہیں اور آپ نے معمولی کس کو کہا؟

“یہ کوئی معمولی لڑکی نہیں ہے”۔۔۔شایان بھی اسی کے انداز میں چلایا۔

“جو ہماری پہچان ہے وہی اس کی پہچان ہے۔۔۔ہم شہزادے ہیں اور یہ ہماری شہزادی ہیں۔”

اگر کسی نے ہمارے درمیان آنے کی کوشش کی تو ہم جلا کر بھسم کر دیں گے۔

اگر آپ مہک سے عزت سے پیش نہ آئی تو ہم سمجھے گے کہ آپ کی نظر میں ہماری کوئی عزت نہی ہے۔

آپ کے لیے تو ہماری جان بھی حاضر ہے شایان لیکن اس لڑکی کا احترام کرنا ہماری توہین ہے۔

اس کے لیے احترام ہمارے خون میں شامل ہی نہیں ہے۔۔۔ہمیں ورثے میں انسانوں سے نفرت ملی ہے۔

یہ انسان ہمارے دوست ہو ہی نہیں سکتے۔۔۔یہ لوگ اپنے مطلب کے لیے ہمیں اپنے قابو میں کرتے ہیں اور پھر ساری عمر کے لیے ہمیں اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔

اور اگر کبھی ہم ان سے اعلان جنگ کر بھی دیں تو یہ انسان ہمیں جلا کر ہماری راکھ ایسی جگہ پھینکتے ہیں جہاں پرندہ بھی پر نا مارے۔

آپ کیسے بھول سکتے ہیں ہماری انسان سے جنگ؟

اس لڑکی کی معصوم صورت نے آپ کو پاگل بنا رکھا لیکن اس کی معصوم صورت کے پیچھے چھپی بھیانک صورت کو آپ دیکھ ہی نہی پا رہے۔

ادینہ آپ ہمیں مت سکھائیں۔۔۔ہم اچھی طرح جانتے ہیں مہک کی اصلیت،یہ جیسی ہیں آپ کے سامنے ویسی ہی دکھائی دے رہی ہیں۔

ہمیں مت سمجھائیں۔۔۔ہم سے بہتر انہیں کوئی جان ہی نہی سکتا۔

مہک نے چونک کر شایان کی طرف دیکھا اور سر جھکائے آنسو بہانے لگی۔۔۔شایان کو مجھ پر کتنا یقین ہے یہ میرے لیے اپنی دوست سے لڑ رہے ہیں۔

جب اسے میرے اور دائم کے رشتے کی حقیقت پتہ چلے گی تو اس کا یقین ٹوٹ جائے گا۔

کتنا مان ہے اسے اپنی محبت پر لیکن جب اسے دائم کے مجھے ہاتھ لگانے کا پتہ چلے گا تو سارا مان ٹوٹ جائے گا۔

شایان مہک کی طرف پلٹا اور مسکرا دیا۔

مہک نے چونک کر گہری سانس لی اور نظریں جھکا لی۔

شایان اس کی ساری بات سن چکا تھا اور اس کی آنکھوں میں چمکتے آنسو اور ہونٹوں پر بے بس مسکراہٹ دیکھ کر مہک کے دل کی دھڑکن بڑھی۔

جس بات سے وہ ڈر رہی تھی وہی ہوا۔۔۔شایان کا اس پر جو مان تھا وہ ٹوٹ چکا تھا اور شاید دل کے کسی کونے میں محبت خاموش ہو رہی تھی۔

چلئیے ہمارے ساتھ۔۔۔ادینہ آگے بڑھی اور شایان کا ہاتھ تھام لیا۔

ہم آپ کو یہاں سے لے کر ہی جائیں گے،آپ ہم سب کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔

شایان نے اس کے ہاتھ میں موجود اپنا ہاتھ دیکھا اور ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

ایک بار کہی گئی بات سمجھ نہیں آتی آپ کو؟

کتنی بار کہہ چکے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ نہی جا سکتے،آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ہماری بات؟

ادینہ نے چونک کر اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا اور ہتھیلی بند کرتے ہوئے شایان کی طرف بڑھی۔

تو پھر ٹھیک ہے شایان۔۔۔اگر آپ کی یہی ضد تو ہماری ضد بھی سن لیں،ہم آپ کو یہاں سے واپس اپنے محل لیجا کر ہی چھوڑیں گے پھر چاہے اس کے لیے ہمیں اس لڑکی کی جان ہی کیوں نا لینی پڑے۔

اگر آپ دشمن کے لیے ہمارے سامنے ڈٹ گئے ہیں تو ہم بھی آپ سے اعلان جنگ کرتے ہیں۔

جو کر سکتے ہیں کر لیں اگر بچا سکتے ہیں تو بچا لیں اسے ہم سے۔

ایک بات اور۔۔۔ادینہ وہاں سے جانے ہی والی تھی کہ رک کر پلٹی۔

آپ کو لگتا ہے یہ لڑکی آپ سے سچی محبت کرتی ہے؟

اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو اپنے دل سے یہ وہم نکال دیجیۓ۔۔۔یہ آپ کو دھوکہ دے رہی ہے،آپ کی غیر موجودگی میں کسی اور کے کندھے پے سر رکھ کر آنسو بہاتے ہوئے دیکھا ہے ہم نے اسے۔

آپ کس گمان میں ہیں؟

اس لڑکی کے خود کو خوار کرنا چھوڑ دیں۔۔۔یہ آپ کی محبت کے قابل نہیں ہے۔

دیکھئیے خود کو اچھی طرح۔۔۔آپ اس لڑکی کا ہاتھ تک نہی تھام سکتے اسے ہمسفر بنانا تو دور کی بات ہے۔

دوست ہونے کے ناطے سمجھانا ہمارا فرض تھا باقی جیسے آپ کو بہتر لگے۔۔۔ابھی تو ہم جا رہے ہیں یہاں سے لیکن اس کا یہ مطلب نہی کہ ہم نے ہار مان لی۔

ہم واپس آئیں گے اور آپ کو واپس لیجانے کے لیے ہم سے جو ہوا ہم کریں،یہ ہمارا وعدہ ہے آپ سے شایان۔

ایک حقارت بھری نظر مہک پر ڈالتی ہوئی پلک جھپکنے کی دیر میں نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

جیسے ہی ادینہ وہاں سے گئی شایان مہک کی طرف پلٹا۔۔۔آپ فکر نہی کریں ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔

یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی چاہے ہم یہاں ہو یا نا ہو کوئی اور ہے آپ کی حفاظت کرنے والا۔۔۔ہمارے یہاں آنے کا مقصد ادینہ کو آگاہ کرنا تھا کہ ہماری نظر ہے ان پر۔

چلتے ہیں خدا خافظ۔۔۔چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ پھیلائے بے بس سا وہاں سے جانے ہی لگا تھا کہ مہک نے اسے آواز دی۔

“شایان”۔۔۔رک جائیں!

مہک کی آواز پر شایان نے گہری سانس لی اور پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔

“تھوڑی دیر بعد چلے جائیے گا”۔۔۔اتنے دن بعد دیکھا ہے آپ کو،اتنی جلدی کیوں ہے آپ کو؟

شایان نے حیرانگی سے مہک کو دیکھا اور مسکرا دیا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ مہک کو کوئی جواب دیتا مدیحہ کمرے میں داخل ہوئی۔

کہاں گم ہو یارررر۔۔۔کب سے کال کر رہی ہوں اور تمہارے نخرے ہی ختم نہی ہو رہے۔

مہک جلدی سے شایان کے سامنے کھڑی ہو گئی تاکہ مدیحہ کی اس پر نظر نا پڑے۔

کیا۔۔۔اب ایسے بت بن کر کیوں کھڑی ہو٫جواب کیوں نہی دے رہی میری بات کا؟

مدیحہ نے اس کے سامنے چٹکی بھائی تو مہک نے چونک کر پیچھے دیکھا لیکن شایان وہاں نہیں تھا۔

مہک نے سکھ کا سانس لیا اور مدیحہ کے گلے لگ کر رونا شروع ہو گئی۔

کیا ہوا مہک سب ٹھیک تو ہے ناں؟

مدیحہ اسے روتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہو گئی۔

کچھ ٹھیک نہیں ہے مدیحہ۔۔۔سب کچھ ختم ہو گیا،میں جیت کر بھی ہار گئی آج۔

ہوا کیا ہے ادھر آرام سے بیٹھو اور تسلی سے بتاؤ مجھے۔۔۔مدیحہ نے اس بیڈ پر بٹھایا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گئی۔

مہک اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی اور بہت دیر تک آنسو بہاتی رہی۔۔۔جب رو رو کر تھک گئی تو ساری بات مدیحہ کو کو بتا دی۔

تو کیا اب وہ تمہارے اور دائم بھائی کے درمیان نہی آئے گا؟

شاید۔۔۔اس کے رویے سے تو یہی لگ رہا تھا کہ وہ خاموش ہو گیا ہے لیکن اس کا بدلہ ہوا حلیہ دیکھ کر میرا دل بہت ڈر چکا ہے مدیحہ۔

اس نے میرے لیے خود کو بدلہ ہے اور میں نے اس کے ساتھ کیا کر دیا۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ مجھ سے بے انتہا محبت کرتا ہے میں دائم کے اپنی طرف بڑھتے قدم نہی روک سکی۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ ہم ایک دوسرے کے قریب ہوتے جا رہے ہیں،دائم ہر بار مجھے ہمارے رشتے کی حقیقت سمجھا جاتا ہے اور میں کچھ بھی نہیں کر پاتی۔

اور تم کچھ کرنے کی سوچنا بھی ناں مہک۔۔۔پاگل ہو گئی ہو تم شوہر ہے وہ تمہارا،اس کا حق ہے تم پر اور تم اس جن کو اس پر فوقیت دے رہی ہو۔

کوئی ایسی بے وقوفانہ حرکت نا کرنا کہ تمہاری آنے والی زندگی کے لیے مشکلات پیدا ہو۔

اگر اس نے ایک دو بار تمہارا ہاتھ پکڑ بھی لیا ہے تو کیا ہو گیا؟

نارمل سی بات ہے۔۔۔اس میں کچھ غلط نہیں ہے اور ناں ہی تم کچھ غلط کر رہی ہو اگر شایان نے دیکھ بھی لیا ہو تو اسے شرم کرنی چاہیے۔

بے شرم جن کہی کا۔۔۔زرا تمیز نہیں ہے اسے،پتہ نہی کہاں سے آ گیا ہے منہ اٹھا کر۔

جن نہی ہے وہ شہزادہ ہے۔۔۔مہک نے فوراً اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔

کہی سے منہ اٹھا کر نہی آیا بلکہ اپنے محل سے آیا ہے یہاں۔۔۔اپنی آسائیش بھری زندگی چھوڑ کر میرے لیے۔

تمہارے لیے نہیں آیا وہ مہک۔۔۔اس کی قسمت میں ہدایت لکھی تھی اس لیے آیا ہے یہاں،تم تو بس وسیلہ بنی ہو اس کے یہاں آنے لیکن اس کے پیچھے چھپی تدبیر کچھ اور ہے۔

وہ یہاں آیا نہی بلکہ اللہ کی محبت اسے یہاں تک لے آئی ہے۔۔۔اگر وہ یہاں صرف تمہارے لیے آیا ہوتا تو سب کچھ جان کر خاموش نا رہتا بلکہ شایان کو یا تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہی کیا۔

وہ اس لیے کیونکہ اس وقت وہ اللہ کو جاننے میں مصروف ہے اور جب کوئی خدا کے راستے پر چل پڑتا ہے ناں تو اسے کوئی بھی دنیاوی خواہش متاثر نہی کر سکتی۔

تمہاری ساری باتیں ٹھیک ہے مدیحہ لیکن وہ مجھے دیکھ کر رویا کیوں؟

کیوں اس کی آنکھوں میں میرے لیے بے بسی تھی،مجھے ایسا کیوں لگا جیسے وہ اپنی محبت کو کہی دور دھکیل چکا ہے۔

پاگل بے وقوف لڑکی۔۔۔مدیحہ نے اس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ لگایا۔

ہوش میں آؤ تم۔۔۔اللہ کی محبت سے بڑھ کر کوئی محبت ہے کیا؟

وہ اس لیے رویا ہو گا کہ وہ حقیقت جان چکا ہے کہ چاہے وہ لاکھ کوشش کر لے تمہیں حاصل نہیں کر سکتا۔

ہو سکتا ہے اس نے اللہ کی مرضی کے سامنے ہار مان لی ہو۔

تو پھر وہ اس لڑکی کے کس کرنے پر مجھے اپنی محبت کے سچا ہونے کی صفائیاں کیوں دے رہا تھا؟

مہک کے ایک اور سوال پر مدیحہ نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔اب یہ بھی مجھے ہی سمجھانا پڑے گا۔

بے وقوف لڑکی وہ تمہیں اس لیے سمجھا رہا تھا تا کہ تمہیں اسے غلط نا سمجھو۔

مجھے تمہاری سمجھ نہیں آتی مہک پہلے تم اس سے جان چھڑانے کے لیے روتی تھی اور اب جب اس نے اپنے قدم پیچھے ہٹا لیے ہیں تب بھی تم رو رہی ہو،صاف صاف بتاؤ آخر تم چاہتی کیا ہو؟

کہی تمہیں اس سے محبت تو نہی ہو گئی؟

مدیحہ کے سوال پر مہک چونک گئی اور فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔نہی محبت نہیں ہے یہ بس مجھے اس کا بدلہ ہوا رویہ بہت عجیب لگا۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ کوئی اور ہی شایان ہے۔۔۔جس کو میں جانتی تھی وہ نہی لگا آج مجھے۔

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے میرے لیے لیکن آج اس نے مجھ پر اپنا حق نہی جتایا جیسے پہلے جتایا کرتا تھا۔

اسے دائم کا میرے آس پاس بھٹکنا بھی برداشت نہی تھا اور آج بہت کچھ جانتے ہوئے بھی مجھ سے کوئی سوال نہی کیا اس نے اور نہ ہی غصہ کیا۔

یہ تو اچھی بات ہے ناں مہک۔۔۔اگر اسے ہدایت مل ہی گئی تو تم کیوں اسے پرانے روپ میں دیکھنا چاہتی ہو۔

تم کیا چاہتی ہو کہ وہ دائم کو نقصان پہنچائے؟

نہی۔۔۔مہک نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔

تو پھر کیا مسئلہ ہے تمہیں یار؟

وہ ابھی نقصان نہیں پہنچا رہا مدیحہ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیشہ نہی پہنچائے گا۔

مطلب؟

مطلب یہ کہ اس نے امام صاحب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھ سے جڑے کسی بھی رشتے کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

اسی شرط پر تو وہ اب تک اس کی تبلیغ کر رہے ہیں۔۔۔مجھے اس کی خاموشی سے ڈر لگ رہا ہے مدیحہ۔

کہی ایسا نا ہو اس کی یہ خاموشی٫برداشت اور صبر کسی بڑے طوفان کا اشارہ ہو۔

اللہ نا کرے کہ ایسا کچھ ہو۔۔۔مہک تم زیادہ نہ سوچو اس بارے میں،اللہ پر بھروسہ رکھو انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

کچھ کھلانے پلانے کا ارادہ ہے تمہارا یا نہی؟

کب سے آ کر بیٹھی ہوں مجال ہے جو تم پانی کا ایک گلاس بھی دیا ہو۔

اوہ۔۔۔میرے ذہن میں نہی رہا ابھی لاتی ہوں۔مہک شرمندہ سی کمرے سے باہر نکل گئی اور جاتے دیکھ مدیحہ نے افسوس میں سر ہلایا پتہ نہی کیا کرے گی یہ لڑکی زندگی میں۔

______________________________

دائم اپنے آفس میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر ایک میلز دیکھ رہا تھا کہ کمرے کا دروازہ نوک ہوا۔

Yes Come in…

مصروف سے انداز میں بولا۔

Hello Bro!

خاور ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا اور دائم کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔

کیوں آئے ہو یہاں؟

اسے دیکھ کر دائم نے بھنویں اچکاتے ہوئے سوال کیا۔

کیوں آئے ہو۔۔۔مطلب اب چھوٹے بھائی کو بڑے بھائی سے ملنے کے لیے کسی وجہ کی ضروت پڑے گی؟

دائم نے غصے سے لیپ ٹاپ بند کیے اور دونوں بازو سینے پر فولڈ کرتے ہوئے حیرت زدہ انداز میں خاور کو دیکھا۔

آخر کب تک ایسا چلے گا بھائی؟

ایک گھر میں رہتے ہیں ہم لوگ۔۔۔کب تک ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے ہم؟

جو ہوا اسے بھول جاتے ہیں۔۔۔ایک لڑکی کے لیے ہم اپنا رشتہ کیوں خراب کریں؟

بیوی ہے وہ میری۔۔۔دائم نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی اور خاور کو انگلی دکھاتے ہوئے غصے سے بولا۔

خاور نے غصے میں نچلہ ہونٹ دانتوں تلے دبایا لیکن پھر فوراً اپنے غصہ کنٹرول کیا۔جی جی میں نے کب کہا وہ آپ کی بیوی نہی ہے٫میرا وہ مطلب نہی تھا۔

تمہارا جو بھی مطلب تھا فی الحال یہاں سے چلے جاؤ یہی تمہارے حق میں بہتر ہو گا خاور۔

دائم نے اسے باہر جانے کا راستہ دکھایا۔

I am Sorry

لیکن میں یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک آپ مجھے پرانی باتوں کے لیے معاف نہی کر دیتے۔

مجھ سے برداشت نہیں ہوتا آپ کا ایسا رویہ۔۔۔مجھے میرے پرانے والے دائم بھائی واپس چاہیے۔

کیا گارنٹی ہے کہ آئیندہ تم ایسی کوئی حرکت نہی کرو گے؟

دائم کے سوال پر خاور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔آپ خود دیکھیں گے میں بہت بدل چکا ہوں۔

جیسے آپ چاہتے تھے ناں اب بلکل ویسا ہی ہو گا۔۔۔میں یونیورسٹی سے واپس آ کر یہاں آیا کروں گا آپ کے ساتھ بزنس سیکھوں گا اور اس کے واپسی پر آپ کے ساتھ جم جاوں اور جم سے سیدھا گھر۔

Really?

Are you Sure?

جی۔۔۔خاور نے مختصر جواب دیا اور دائم کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

چلو دیکھتے ہیں تم کب تک اپنے وعدے پر قائم رہتے ہو۔۔۔دائم نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور خاور کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *