Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 22)
Rate this Novel
Aks (Episode 22)
Aks by Khanzadi
دائم گھر آیا اور سیدھا خدیجہ چچی کے پورشن میں پہنچا۔
اسلام و علیکم چچی جان کیسی ہیں آپ؟
وعلیکم اسلام۔۔۔میں ٹھیک ہو دائم تم کیسے ہو؟
انہوں نے خوشدلی سے جواب دیا۔
اسلام و علیکم دائم بھائی۔۔۔شمع نے بھی دائم کو سلام کیا۔
وعلیکم اسلام بچے،کیسے ہو آپ؟
میں بلکل ٹھیک بھائی آپ بتائیں۔
الحمدللہ میں بھی ٹھیک ہوں بچے۔
آؤ بیٹھو دائم۔۔۔ساری باتیں دروازے میں کھڑے کھڑے ہی کر لو گے کیا؟
شکریہ چچی جان لیکن میں زرا جلدی میں ہوں۔آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی اگر آپ فری ہے تو آپ کے کمرے میں چل کر بات کریں؟
کیا ہوا سب خیریت تو ہے؟
خدیجہ بیگم پریشان ہو گئیں۔
زیادہ نہیں بس تھوڑی سی پریشانی والی بات ہے آپ دو منٹ میری بات سن لیں۔
شام تک مہمان آنا شروع ہو جائیں اور پھر مجھے موقع نہی ملے گا آپ سے بات کرنے کا کیونکہ آپ بہت مصروف ہو جائیں گی۔
وہ سب تو ٹھیک ہے دائم لیکن۔۔۔اچھا چلو اندر چل کر بات کرتے ہیں۔
کیا ہوا دائم؟
خدیجہ بیگم نے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے سرگوشی کی۔
ایسی کونسی بات تھی جو تم شمع کے سامنے نہیں کر سکتے تھے؟
چچی جان بات ہی کچھ ایسی تھی میں اپنی بہن کو پریشان نہی کرنا چاہتا اور ناں ہی میرا ارادہ آپ کو پریشان کرنے کا ہے۔
دراصل بات ہی کچھ ایسی تھی کہ مجھے ابھی آنا پڑا۔
اچھا۔۔۔بتاو کیا بات ہے پہیلیاں کیوں بجھا رہے ہو؟
چچی جان آپ خاور کو سمجھائیں۔۔۔آپ جانتی ہیں وہ اس وقت کہاں ہے؟
کیا کر دیا خاور نے اب؟
وہ کچھ دیر پہلے گھر سے یونیورسٹی کے لیے نکلا تھا۔
جھوٹ بولا ہے اس نے چچی جان۔۔۔وہ یونیورسٹی نہی گیا بلکہ مہک کے گھر تھا۔
مہک کے ساتھ بہت بدتمیزی کی ہے اس نے۔۔۔میں اچانک وہاں سے گزر رہا تھا تو میری نظر اس کی بائیک پے پڑ گئی۔
مہک سے کہہ رہا تھا کہ تائی امی نے طلاق کے پیپرز بنوا لیے ہیں جیسے ہی دائم بھائی تمہیں طلاق دیں گے میں فوراً تم سے نکاح کر لوں گا۔
اور صرف مہک سے ہی نہی مجھ سے بھی یہی کہہ رہا تھا،اس کی بدتمیزیاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں۔
غصے میں چار،پانچ تھپڑ لگا دیے میں نے اسے۔۔۔مجھ سے برداشت ہی نہیں ہوئی اس کی بات۔
آپ ہی بتائیں کیا میں نے کچھ غلط کیا ہے؟
نہی تم نے بلکل ٹھیک کیا ہے دائم۔۔۔اس کا یہی علاج ہے۔میں تو کہتی ہوں مار مار کر چمڑی ادھیڑ دو اس کی۔
گھر میں بھی سب کے ساتھ اس کا رویہ بہت خراب ہے۔بہن کی شادی ہے لیکن مجال ہے جو اس نے ایک بھی کام میں میرا ہاتھ بٹایا ہو۔
یہاں تک کہ اپنے کپڑے بھی خود لینے نہی جا رہا۔۔۔تھک گئی ہوں بول بول کر کہ جا کر اپنی شاپنگ کر لو لیکن پتہ نہیں اس لڑکے کا دھیان کدھر ہے۔
شادی سے فارغ ہو لیں ہم پھر کچھ سوچتے ہیں اس کے بارے میں۔
میں تو سوچ رہی تھی اسے لندن بھیج دوں۔۔۔میرا ایک کزن ہے وہاں،وہاں رہ کر سکون سے پڑھائی کرے اور چار٫پانچ سال بعد واپس آ جائے۔
جب یہ واپس آئے تو فوراً اس کی شادی کر دوں،مجھے تو بس یہی حل نظر آ رہا ہے۔
نہی نہی چچی جان میرا وہ مطلب نہیں تھا،آپ اسے اتنی دور نا بھیجیں۔
لگتا ہے چچی جان میری بات کا غصہ کر گئی ہیں۔۔۔دائم نے دل میں سوچا اور بے بس سا دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے سوچ میں پڑ گیا۔
نہی نہی میں سہی کہہ رہی ہو نا یہ یہاں ہو گا نا کسی کو تنگ کرے گا،سب سکون سے رہیں گے یہاں۔
چچی جان ٹھنڈے دماغ سے سوچیں آپ،میں نے یہ تو نہیں کہا کہ آپ اسے یہاں سے کہی اور بھیج دیں۔
میں نے صرف سمجھانے کو کہا ہے۔۔۔کہی ایسا نا ہو کل کو یہ بات بڑھ جائے اور ہم لوگوں کو کوئی غلط نتیجہ دیکھنے کو ملے۔
آپ جانتی ہیں مجھے اچھی طرح میں بلاوجہ کسی سے بحث تک نہی کرتا ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات ہے۔
چلتا ہوں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔امید ہے آپ میری بات پر غور کریں گی۔
دائم کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
کیا ہوا ماما سب خیریت ہے ناں؟
دائم بھائی کیا بات کرنے آئے تھے؟
خاور نے تو نہی کچھ کر دیا۔
جیسے ہی دائم وہاں سے نکلا خدیجہ بیگم دوبارہ ٹی وی لاونج میں آ گئیں اور ان کے آتے ہی شمع سوال پر سوال کرتی چلی گئی۔
سانس تو لے لو تم۔۔۔ایک ساتھ کتنے سوال پوچھو گی؟
پانی کا گلاس لاؤ میرے لیے۔۔۔دماغ خراب ہوا پڑا ہے۔
شمع جلدی سے ماں کے لیے پانی کا گلاس لے آئی اور ان کی طرف بڑھایا۔
ایسا بھی کیا ہو گیا ماما جو آپ اتنا ہائپر ہو رہی ہیں؟
ہائپر نہ ہوؤں تو اور کیا کروں میں؟
اس لڑکے نے ذلیل کروا کر رکھ دیا ہے ہر طرف،تھپڑ کھا کر آیا دائم سے۔
تھپڑ لیکن کیوں ماما؟
خاور تو یونیورسٹی گیا ہے تو پھر دائم بھائی سے کب ملا؟
یونیورسٹی نہیں گیا یہی آوارہ گردیاں کرتا پھر رہا ہے۔۔۔مہک کے پاس گیا ہوا تھا معافیاں مانگنے۔
منع کیا تھا میں نے اسے کہ وہاں نا جائے لیکن اس نے میری ایک نہیں سنی۔
وہاں جا کر مہک کو کہہ رہا تھا کہ تائی امی طلاق کروانے والی تمہیں اور جیسے ہی طلاق ہو گی میں تم سے شادی کر لوں گا۔
دائم گھر آ رہا تھا تو اس کی بائیک وہاں کھڑی دیکھ لی اور اچانک وہاں پہنچا تو ساری باتیں سن لی اس نے۔
غصے میں آ کر چار،پانچ تھپڑ لگا دیے اسے۔۔۔معافی مانگنے کی بجائے الٹا دائم سے بھی الجھ رہا تھا۔
وہ تو کسی کی غلط بات برداشت ہی نہیں کرتا۔۔۔کیا عزت رہ گئی اس کی وہاں٫زرا لحاظ نہیں رہ گیا اس لڑکے کو کسی کا۔
اتنی بھی عقل نہیں ہے کہ بہن کا سسرال ہے اب وہاں،منہ اٹھا کر نکل گیا اور لعنتیں لے کر وہاں سے آ گیا۔
بہت غلط بات ہے ماما۔۔۔اگر اس کے حالات ایسے ہی رہے تو میری اس گھر میں زندگی بہت مشکل ہو جائے گی۔
مہک صرف میری کزن نہیں نند بھی ہے اور اگر یہ روز روز وہاں ایسی بحث کرنے آتا رہا تو میرا جینا محال ہو جائے۔
آپ سمجھائیں اسے ورنہ میں بابا سے بات کرتی ہوں،وہ اسے بہت اچھی طرح سمجھائیں گے دوسرے طریقے سے۔
بابا کی خاموشی کی ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے یہ لیکن ابھی اسے ان کے غصے کا اندازہ نہیں ہے۔
تم نہ کرنا بات بلکہ میں خود ان سے بات کروں گی شادی کے بعد۔۔۔اس کا کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا پڑے گا ورنہ ہماری رہی سہی عزت بھی مٹی میں ملا دے گا یہ۔
کال ملاؤ زرا اس کو۔۔۔اس کی خبر لیتی ہوں ابھی۔
جی ماما۔۔۔شمع نے فوراً خاور کا نمبر ڈائل کیا۔
نہی اٹھا رہا ماما۔۔۔شمع نے بے زاری سے فون صوفے پر رکھ دیا۔
ملاتی رہو کال اٹھائے گا۔۔۔ورنہ آج اس کی مجھ سے خیر نہی۔
اچھا ماما۔۔۔شمع نے دوبارہ اس کا نمبر ڈائل کیا اور مسلسل کال کرتی رہی آخر کار خاور نے کال پک کر لی۔
کیا مصیبت ہے؟
بار بار کال کری جا رہی ہیں اور کوئی کام نہیں ہے آپ کو گھر میں؟
اگر میں کال پک نہیں کر رہا اس کا مطلب ہے میں بات نہیں کرنا چاہتا،چھوٹی سی بات سمجھ نہیں آتی آپ کو؟
Shut up!
جو منہ میں آتا ہے بولتے جا رہے ہو٫مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہیں کال کرنے کا ماما کو بات کرنی تھی اس لیے بار بار نمبر ڈائل کر رہی تھی۔
یہ کرو بات ان سے۔۔۔شمع نے ماں کی طرف فون بڑھایا اور ان کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر کچن میں رکھنے چلی گئی۔
ہاں جی بیٹا جی کہاں تشریف فرما ہیں آپ اس وقت؟
ماں کے سوال پر خاور نے موبائل کان سے ہٹا کر ٹائم دیکھا اور دوبارہ کان سے لگایا۔۔۔ٹائم دیکھ لیتی آپ تو آپ کو مجھ سے یہ سوال پوچھنا ناں پڑتا۔
ظاہری سی بات ہے یونیورسٹی ہوں اور کہاں ہونا ہے؟
اچھا یونیورسٹی ہیں جناب۔۔۔جونسی یونیورسٹی آپ گئے تھے ناں وہاں کے پرنسپل آپ کی شکایت گھر پر درج کروا کر جا چکے ہیں۔
چپ چاپ گھر پہنچو اسی وقت۔۔۔
اچھا۔۔۔تو آپ سب کا چمچہ گھر پہنچ کر سب بتا چکا ہے،میں نہیں آ رہا فی الحال گھر۔۔۔جب موڈ ہو گا آ جاؤں گا۔
فوراً گھر پہنچو خاور۔۔۔جو تماشہ تم نے لگایا ہے بہت ہے اس سے پہلے کہ میں تمہارے پیچھے تمہارے باپ کو بھیجو اسی وقت گھر آ جاؤ ورنہ انجام کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔
یار ماما کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟
میرا دل نہیں کر رہا ابھی گھر آنے کو۔۔۔زبردستی نا کریں۔
دل کر رہا ہے یا نہی گھر آ جاو۔۔۔اتنی گرمی میں باہر رہ کر کس بات کی سزا دے رہے ہو خود کو؟
نکاح ہو گیا ہے اس کا جس کے پیچھے خوار ہو رہے ہو،اب تمہارے چیخنے،چلانے یا زبردستی حق جتانے سے کچھ نہی ہو سکتا۔
میرے زخموں پر نمک مت چھڑکیں ماما پلیز۔
یہ زخم تمہارے اپنے ہی لگائے ہوئے ہیں بیٹا،ہمیں کس بات کی سزا دے رہے ہو؟
گھر پہنچو جلدی۔۔۔ورنہ میں نے آج خود کو کچھ کر لینا ہے خاور۔
خاور نے گہری سانس لی اور بے بسی میں سر ہلایا۔۔۔اچھا اچھا دو منٹ میں آ رہا ہوں ماما۔
خدیجہ بیگم نے کال کاٹ دی اور سر تھامے بیٹھ گئیں۔
پانچ منٹ بعد خاور ان کے سامنے بیٹھا تھا۔
کیا حرکت تھی یہ؟
میرے منع کرنے کے باوجود تم مہک سے ملنے چلے گئے،ایسی امید نہیں تھی مجھے تم سے۔
تمہاری بہن کا سسرال ہے وہاں کم ازکم اتنا تو لحاظ کر لیتے۔
کیوں اپنی بہن کی زندگی مشکل بنانا چاہتے ہو؟
مجھے تو یہ سمجھ نہی آ رہا کہ اب تمہیں مہک سے کیا چاہیے،نکاح ہو چکا ہے اس کا اور تمہارا بھی۔
وہ کسی اور کی امانت ہے اور تم کسی اور کے شوہر بن چکے ہو٫اپنی زمہ داری کا کوئی احساس ہے تمہیں یا نہیں؟
ایک زمہ داری تو تم سے سنبھالی نہیں جا رہی دوسری کیسے سنبھالو گے؟
پھر بھی اگر تمہیں زیادہ ہی شوق ہو رہا ہے دوسرے نکاح کا تو میں کرتی ہوں کسی رشتہ کروانے والی ماسی سے بات۔
ڈھونڈتی ہے وہ تمہارے لیے مہک جیسی کوئی،تمہارا شوق پورا ہو خود بھی سکون سے رہو اور ہمیں بھی سکون سے رہنے دو۔
ماما مجھے مہک جیسی نہی۔۔۔مہک ہی چاہیے اور ہر صورت چاہیے۔
اب میری بھی ضد ہے۔۔۔دیکھتا ہوں کیسے طلاق نہیں دیتے دائم بھائی اسے۔
اگر پیار سے مان گئے تو ٹھیک ہے ورنہ دوسرا طریقہ ہے میرے پاس،مہک اس گھر میں میری بیوی بن کر آئے گی بس۔
میں طے کر چکا ہوں۔۔۔اور کچھ کہنا ہے آپ لوگوں نے؟
شمع نے غصے سے کافی کا کپ میز پر رکھا۔۔۔اور شازیہ کا کیا؟
وہ تمہارے نام پر بیٹھی ہے۔۔۔کسی رشتے کا تقدس ہے تمہاری نظر میں یا نہیں؟
وہ میرے نام پر بیٹھی ہے تو بیٹھی رہے۔۔۔اسے میرا نام چاہیے تھا وہ میں اسے دے چکا ہوں٫اس سے زیادہ کی توقع نہ رکھے وہ مجھ سے۔
ویسے بھی وہ مر رہی تھی میرے لیے میں نہیں۔۔۔اس کا اپنا فیصلہ تھا برباد ہونے کا۔
اس کے جھوٹے آنسوؤں اور دھمکیوں نے میری زندگی برباد کر کے رکھ دی۔۔۔کسی کے آنسوؤں کی میت پر بننے والے آشیانے اکثر برباد ہو جاتے ہیں۔
اسی کی وجہ سے ہوا ہے یہ سب کچھ تو اب وہ سزا کی برابر حقدار ہے،میں اکیلا کیوں جلوں اس آگ میں؟
شرم کرو خاور۔۔۔وہ اکیلی نہی تم بھی برابر کے شریک ہو اس گناہ ہو،اس نے زبردستی تم سے نکاح نہیں پڑھایا تھا بلکہ تم نے خود اپنی مرضی سے یہ نکاح کیا تھا۔
سب کے سامنے تماشہ بنا دیا بیچاری مہک کا اور ابھی اور بنانا چاہتے ہو لیکن ایک بات میری کان کھول کر سن لو تم اب وہ گھر میرا بھی گھر ہے۔
کسی نے اگر آنکھ اٹھا کر میرے گھر کی عزت کی طرف دیکھا تو میں وہ آنکھیں نوچ ڈالوں گی۔۔۔یاد رکھنا اس بات کو۔
ماما میں پارلر جا رہی ہوں نیچے پھوپھو اور مصباح وغیرہ میرا انتظار کر رہی ہیں۔۔۔شمع غصے سے بولتی ہوئی اپنا بیگ کندھے پر لٹکائے شال اوڑھتی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
میری بہن ہو کر دوسروں کا ساتھ دے رہی ہے۔۔۔دیکھا ماما آپ نے؟
دیکھ رہی ہوں میں اچھی طرح اور سن بھی رہی ہوں٫بلکل ٹھیک کہہ کر گئی ہے وہ۔
تمہیں جو کرنا ہے کرو۔۔۔جی بھر کر دکھ دو ہمیں،جب ہمارے سمجھانے کا کوئی فایدہ ہی نہیں تو ہم کیوں اپنا سر کھپائیں تمہارے ساتھ۔
کرو اپنی مرضیاں۔۔۔جیو اپنی زندگی اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو۔
وہ دونوں ہاتھ جوڑتی ہوئی غصے سے اپنے کمرے میں چلی گئیں اور خاور سر تھامے وہی صوفے پر لیٹ گیا۔
____________________________
ڈر کے مارے مہک زمین پر بیٹھ گئی اور اپنے اردگرد گھومنے والی چیز کو دیکھنے کی کوشش کرتی رہی لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ آخر یہ چیز ہے کیا۔
چند منٹ یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔
مہک نے تیزی میں کمرے سے دوڑ لگائی اور ماں کے پاس پہنچ کر انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔
یا اللہ خیر۔۔۔اب یہ کیا ہو سکتا ہے؟
کہی وہ جن تو نہیں تھا۔۔۔کیا نام تھا اس کا؟
شایان۔۔۔نہی امی یہ وہ نہیں تھا٫اس نے وعدہ کیا تھا کہ جب تک انہیں اجازت نہیں ملے گی وہ میرے پاس نہیں آئے گا۔
اجازت۔۔۔کیسی اجازت؟
کچھ نہیں چھوڑیں امی۔۔۔لمبی بات ہے پھر کبھی بتاؤں گی آپ کو٫آپ میرے ساتھ چلیں گی میرے کمرے میں تھوڑی دیر کے لیے؟
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔
چلو جی۔۔۔آو چلتے ہیں،ایک تو تمہارا یہ ڈر پتہ نہی کب جائے گا بلکل بچی ہو ابھی بھی۔
مدیحہ آ جائے گی کل تک امی پھر آپ میری فکر چھوڑ دینا۔۔۔مہک مسکراتی ہوئی ان کے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بولی۔
جیسی تم ویسی تمہاری دوست وہ بھی آ کر یہی کرے گی۔۔۔میں تو کہتی ہوں اسے گھر نہ بلاو۔
کہی ایسا نا ہو اس کے پیچھے بھی کوئی جن لگ جائے اور ہمیں لینے کے دینے پڑ جائیں۔
آپ فکر ناں کریں امی اگر اس کے پیچھے جن لگ بھی گیا ناں تو وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے خود یہاں سے بھاگ جائے گا۔
وہ خود کسی چڑیل سے کم تھوڑی ہے۔
دیکھو تو سہی چیزیں کیسے پھیلائی ہوئی ہیں۔۔۔اچھی طرح سمیٹ لو سب کچھ شام کو تمہاری خالہ اور ممانی وغیرہ سب آ جائیں گی تمہارے کمرے کی حالت دیکھ کر کیا سوچیں گی مہک؟
پتہ نہیں تم سیانی کب ہو گی۔۔۔اتنی بڑی ہو گئی ہو لیکن عقل کی تمہیں آج بھی کمی ہے۔
خیر سے اور چار پانچ سال تمہاری رخصتی ہے،کیا کرو گی سسرال جا کر؟
تمہاری تائی تو پہلے ہی تمہارے خلاف ہیں اگر وہاں جا کر بھی یہی سب کچھ کرو گی تو پتہ نہی کیسا سلوک کریں گی وہ تمہارے ساتھ۔
وہ بولتی جا رہی تھیں لیکن جب مہک کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو پلٹی۔۔۔
سامنے کا منظر دیکھ کر ان کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی۔
جاری ہے۔۔۔
