366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 19)

Aks by Khanzadi

شایان دائم کے پاس رکے بغیر مہک کی طرف بڑھا۔۔۔”کیسے لگ رہے ہیں ہم؟”

مہک نے گہری سانس لیتے ہوئے دائم کی طرف دیکھا اور نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔

اچھے لگ رہے ہیں ہمیشہ کی طرح۔۔۔اس کی آواز میں گھبراہٹ واضح تھی۔

شایان واقعی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔سفید شلوار قمیض میں اس کا چہرہ اور ہاتھ پاوں دودھ کی طرح چمک رہے تھے۔

مہک یہ نہی طے کر پا رہی تھی کہ اس کا رنگ زیادہ سفید ہے یا سوٹ کا۔

مہک کو یک ٹک اپنی طرف دیکھتے دیکھ کر شایان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

وہ اپنا چہرہ مہک کے چہرے کے قریب لایا۔۔۔”دیکھ لیں جی بھر کر۔”

دائم کو شایان کے سامنے اپنا آپ بہت پھیکا سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔وہ دور کھڑا اسے مہک کے قریب جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

وہ اس کی بیوی کے قریب کھڑا تھا اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہی کر سکا۔۔۔دائم اس وقت خود کو دنیا کا سب سے بے بس انسان محسوس کر رہا تھا۔

شایان جان بوجھ کر اسے جلانے کے لیے ایسی حرکتیں کر رہا تھا۔۔۔اس نے پلٹ کر دائم کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔

“آپ نہی بتائیں گے ہم کیسے لگ رہے ہیں؟”

سامنے شیشہ لگا ہے اس میں جا کر دیکھ لیں۔۔۔دائم نے بے رخی سے جواب دیا۔

اوہ۔۔۔لگتا ہے کوئی ہم سے جل رہا ہے۔۔۔کسی سے ہماری خوبصورتی برداشت نہیں ہو رہی۔ شایان دائیں آنکھ دباتے ہوئے شیشے کی طرف بڑھ گیا۔

شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے مہک کی طرف پلٹا اور اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ دیا۔

مہک نے سر نفی میں ہلایا اور دائم کی طرف دیکھا۔

اس کی نظر دائم کے چہرے پر پڑی تو اسے اپنی روح کانپتی ہوئی محسوس ہوئی۔

دائم بے بس سا دونوں ہاتھ سینے پر فولڈ کیے بے بسی کی تصویر بنے ک

کھڑے تھا۔

مہک نے اس کی طرف دیکھا تو دائم نے اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔

ہم نے کچھ کہا ہے آپ سے مہک۔۔۔”یہاں آئیں۔”

شایان نے مہک کو دائم کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو سخت لہجے میں بولا۔

مہک نہ چاہتے ہوئے بھی آگے بڑھی اور شایان کے پاس کھڑی ہو گئی۔۔۔جی؟

یہ ہم سے بند نہیں ہو رہا آپ کر دیں۔

وہ مہک سے قمیض کے بٹن بند کرنے کے لیے کہہ رہا تھا۔

دائم نے چونک کر مہک کی طرف دیکھا۔۔۔اس کی برداشت بس یہی تک تھی۔

غصے سے آگے بڑھا اور شایان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے قمیض کے بٹن بند کیے۔

امید ہے اب آپ سیکھ گئے ہو گے۔۔۔اگلی بار یہ کام خود کر لیجئے گا۔

چلیں اب یا کچھ اور باقی ہے آپ کا؟

جی کچھ باقی ہے۔۔۔یہ جو آپ نے ہاتھ میں پہنا ہے ہمیں دیں۔

شایان کا اشارہ دائم کے ہاتھ میں بندھی گھڑی کی طرف تھا۔

دائم نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔یہ بہت مہنگی ہے پیسوں سے آتی ہے٫پیسے کمائیں اور اپنی خرید لیں۔

ایک ایک لفظ پر غصے سے کھینچتے ہوئے بولا۔

ویسے بھی آپ تو شہزادے ہیں آپ کے لئے تو تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔۔۔لائیں پیسے اور خرید لیں۔

ہم آپ سے جتنا کہیں اتنا کیا کریں،کہانیاں مت سنایا کریں۔۔۔اتاریں اسے اور ہمیں دیں۔

دائم نے مزید بخث کرنے سے اجتناب کیا گھڑی اتاری اور غصے سے شایان کے ہاتھ پر رکھ دی۔

دائم کو جلن کا احساس ہوا اور اس نے فوراً اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

شایان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اس نے جان بوجھ کر اپنا ہاتھ دائم کے ہاتھ سے ٹکرایا تھا۔

مسکراتے ہوئے گھڑی پہنی اور دائم کے ہاتھ کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں سے سفید روشنی نمودار ہوئی اور دائم کا ہاتھ ٹھیک ہو گیا۔

ماں کی آواز سن کر مہک نیچے چلی گئی۔

دائم حیرت زدہ سا اپنے ہاتھ کو دیکھتا رہ گیا۔

“ہم آگ ہیں۔۔۔آگ سے کھیلنے کی کوشش کریں گے تو ہاتھ تو جلیں گے۔”۔۔۔شایان فخریہ انداز میں بولا۔

“آپ آگ ہیں تو میں پانی ہوں اور آگ چاہے جتنی مرضی خطرناک ہو آخر ایک دن پانی اس کا وجود ختم کر دیتا ہے”

دائم نے فوراً جواب دیا۔

آپ کے پاس ہماری ہر بات کا جواب ہے لیکن پھر بھی آپ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

آج نہی تو کل آپ نے ہار تو ماننی ہی تو پھر یہ ضد کیسی؟

یہ ضد نہیں جنگ ہے۔۔۔آپ جو کر سکتے ہیں کریں٫خود کو جتنا گرا سکتے ہیں گرا لیں ایک بات تو طے ہے۔

جیت ایک دن سچ کی ہو گی۔۔۔”سچ یہ ہے کہ مہک میری بیوی ہے اور ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔”

“ہمارا رشتہ اللہ نے بنایا ہے” اور کوئی بھی شیطانی طاقت ہمارے رشتے کو ختم نہی کر سکتی۔

جہاں تک ہو سکے گا میں اپنے رشتوں کی حفاظت کروں گا۔۔۔آپ میں ہمت ہے تو مجھ سے جڑے رشتوں کی بجائے مجھ سے مقابلہ کریں۔

مقابلہ تو ہمارا آپ سے ہی ہے لیکن ہمارا طریقہ زرا الگ ہے “اگر ہمیں کوئی پیڑ کاٹنا ہو تو ہم سیدھا پیڑ کو نہی اس کی بلکہ جڑو کو کاٹتے ہیں۔۔۔سمجھے؟”

اب چلیں گے بھی یا پھر یہی کھڑے بخث کرتے رہیں گے؟

ڈ

دائم غصے سے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔

اکڑ بہت ہے اس میں۔۔۔اس کی اکڑ توڑنی پڑے گی۔۔۔شایان غصے سے آگے بڑھا رک جائیں!

نا چاہتے ہوئے بھی دائم رک گیا اور بے زاری سے کندھے اچکاتے ہوئے شایان کی طرف بڑھا۔

“اب کیا ہوا؟”

“آگے ہم چلیں گے آپ ہمارے پیچھے آئیں”۔۔۔ایک شہزادے کی شان و شوکت کا اندازہ ہی نہیں ہے آپ کو لیکن فکر نہی کریں ہم سب کچھ سکھا دیں گے۔

دائم کا دل کیا کہ ابھی اس کا سر دبوچ کر دیوار میں مار کر اس کی ساری شہزادہ گری نکال دے لیکن حالات سے مجبور دانت پیستے ہوئے بنا کچھ بولے اس کے پیچھے چلتا گیا۔

خدا حافظ چچی جان۔۔۔دائم گیٹ سے باہر نکل گیا اور گاڑی کے پاس رک گیا۔

شایان نے اسے رکتے ہوئے دیکھا تو اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔”کیا ہوا؟”

آپ رک کیوں گئے؟

ظاہری سی بات ہے گاڑی میں بیٹھ کر جائیں گے پیدل تو نہیں جا سکتے۔۔۔دائم نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تو شایان سر ہلاتے ہوئے گاڑی میں میں بیٹھ گیا۔

دائم نے غصے سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی،ایک نظر شایان کو دیکھا اور گہری سانس لیتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کردی۔

باہر نکلیں۔۔۔اسے ہم چلائیں گے۔

کیا؟

دائم نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔یہ آپ کے محل کا کوئی گھوڑا نہیں ہے جسے آپ چلا لیں گے یہ گاڑی ہے۔

ہم جانتے ہیں یہ گھوڑا نہیں گاڑی ہے اور آگ سے چلتی ہے،ہمیں نہ سکھائیں آپ سے جتنا کہا گیا ہے اتنا کیا کریں۔

آگ سے نہی پٹرول سے چلتی ہے یہ۔۔۔آپ کے خیال سے ہر چیز میں آگ بھری ہے۔

دائم نے اسٹیرنگ ویل پر سر رکھا اور کچھ دیر بعد سر اوپر اٹھایا۔

“آپ مجھے ایک بار ہی بتا دیں دراصل آپ ہیں کون؟”

انسان تو آپ ہیں نہیں جو ان ساری چیزوں کا آپ کو پتا ہے ہو،کہی آپ کوئی جادوگر تو نہیں؟

ہم سب کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

صحیح سمجھے ہیں آپ ہم جادوگر ہی ہیں کیونکہ ہم سب کچھ جانتے ہیں اگر اس لحاظ سے ہم آپ کو جادوگر لگ رہے ہیں تو جادوگر ہی سہی۔

آپ کو جو سمجھنا ہے آپ سمجھتے رہیے لیکن سے جو کہا گیا ہے وہ کریں۔

No way… Impossible

میں اپنی اتنی مہنگی گاڑی آپ کے حوالے نہیں کر سکتا۔

ایسا رسک نہیں لے سکتا میں معزرت۔۔۔اس گاڑی کو سڑک پر چلانا ہے ہوا میں نہیں اڑانا جو آپ سب جانتے ہیں۔

میں چلا لوں گا۔۔۔ویسے بھی یہ ایک شہزادے کی شان کے خلاف ہے،میں ہوں ناں آپ آرام سے بیٹھیں شہزادے صاحب۔

دائم ایک ایک لفظ غصے سے چباتے ہوئے بولا۔

ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی۔۔۔شایان نے مزید بخث نہ کی۔

وہ لوگ مسجد پہنچے لیکن جیسے ہی شایان مسجد کی سیڑھیوں پر پاؤں رکھنے لگا اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

دیوار کا سہارا لیتے ہوئے خود کو سنبھالتے ہوئے زمین پر بیٹھ گیا۔

_________________________

راجہ صاحب غصے میں شایان کے کمرے میں داخل ہوئے،انہوں پورے کمرے میں ڈھونڈ لیا لیکن انہیں شایان کہی نظر نہیں آیا۔

ہیزل بھی دوڑتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی بابا جان انہیں کچھ نہ کہیئے گا۔

میں ان کو پھر سے سمجھاؤں گی مجھے یقین ہے اس بار وہ میری بات مان لیں گے۔

آپ انہیں ایک موقع دیکھ کر دیکھیں۔

ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں وہ آپ کا بھروسہ نہیں توڑیں گے۔

اگر انہوں نے آپ کی بات ماننی ہوتی تو کب کی مان چکے ہوتے ہیزل۔۔۔آپ اپنے بھائی کے حق میں صفائیاں پیش بند کر دیں۔

ہمیں یقین نہیں ہو رہا کہ انہوں نے ایک انسان کے لیے ہم سے جھوٹ بولا۔۔۔پتہ نہیں کتنے وقت سے وہ ہمیں دھوکا دیتے آرہے تھے۔

ہمیں لگا شاید کوئی شہزادی ہو گی ان کی زندگی میں۔

کسی شہزادی پر دل آ گیا ہو گا ،جوان اولاد ہے لیکن ہمیں یہ نہیں پتہ تھا کہ ان کا دل ایک شہزادی پر نہیں بلکہ انسان لڑکی پر آیا ہے۔

کیا ان کو معلوم نہیں تھا کہ ہمارا انسانوں کے ساتھ میل ممکن نہیں ہے؟

انسان ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں یہ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟

انسانوں سے ہمیں محبت کبھی نہیں مل سکتی۔۔۔وہ ہمارے دشمن ہیں اور ہم ان کے۔

آپ ہمیں بتائیں کس راستے سے گئے ہیں وہ انسانوں کی دنیا میں؟

بابا جان آپ چھوڑ دیں ناں اس بات کو۔۔۔آپ ساری باتیں بالکل ٹھیک ہیں لیکن وہ آپ کے اکلوتے بیٹے ہیں ہیں،آپ غصے میں آ کر انہیں کوئی ایسی سزا مت دیجئے گا کہ ہم ساری عمر پچھتاتے رہ جائیں۔

ہمارے پاس اب آپ دونوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔۔۔ہم آپ دونوں کو نہیں کھونا چاہتے۔ پہلے ہمارے چھوٹے بھائی اور پھر ہماری ماں۔۔۔ہم دو لوگوں کو کھو کر بہت اکیلے رہ گئے ہیں۔

اب ہمارے پاس آپ دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔

ہیزل نے روتے ہوئے باپ کے کندھے پر سر رکھ دیا تو راجہ صاحب کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا پڑا۔ انہوں نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا۔

ہمیں احساس ہے آپ کا ہم جانتے ہیں آپ کا ہم دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے لیکن شایان کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہمارا بھی آپ دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔

رانی صاحبہ ہمارے ساتھ ہوتی تھیں تو ہم خود کو دنیا کا سب سے طاقتور راجہ سمجھتے تھے۔

ہم نے پہلے اپنا شہزادہ کھویا اور پھر اپنی رانی۔۔۔اب ہمارے پاس بس ایک شہزادہ اور شہزادی ہی بچے ہیں ہم آپ دونوں کو کھونا نہیں چاہتے۔

آپ نہیں جانتی انسان کتنے خطرناک ہیں۔۔۔یہ عشق و محبت کچھ نہیں ہوتا٫سب وقتی جذبات ہوتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں ہیں اگر ہم نے آج کوئی سخت قدم نہ اٹھایا یا تو ہم اپنے شہزادے کو کھو دیں گے۔

جب سے رانی صاحبہ بستر پر پڑی تھیں شایان نے ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا شروع کیا تو ہم دنیا کے سامنے فخر سے سر اٹھا کے جیتے تھے۔

ہماری طاقت ہیں وہ لیکن آج ہمیں ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم بے جان ہو رہے ہیں۔

ہماری طاقت ہمارا غرور ہم سے جدا ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ہم انہیں خود سے دور جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔

وہ جہاں کہیں بھی ہیں ہمیں انہیں واپس لانا ہو گا۔

ہم اپنا خاندان مزید ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔بتائیں ہمیں میں وہ کس راستے سے گئے ہیں وہاں؟

آج تک ہم میں سے اگر کوئی انسانوں کی دنیا میں گیا ہے تو واپس نہیں آیا ہمیں نہیں پتا شایان وہاں پر کیسے محفوظ ہیں،لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہو سکے گا۔

سمجھ رہی ہیں ناں آپ،اپنے بھائی کی زندگی چاہتی ہیں یا نہیں؟

جی بابا جان ہم اپنے بھائی کی زندگی چاہتی ہیں آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن آپ وعدہ کریں کہ آپ انہیں ایسی کوئی سزا نہیں دیں گے جس سے انہیں تکلیف پہنچے۔

اس وقت وہ ہماری کوئی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں آپ اس لڑکی کو یہاں لے آئیں تاکہ وہ بار بار وہاں نہ جائیں کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

ہیزل ہم کیسے سمجھائیں آپ کو ہم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔اگر ہمارے اسے یہاں لے بھی آتے ہیں تو انسان جادوئی طریقے سے ہم تک پہنچ جائیں گے اور بہت نقصان ہو گا۔

چلیں ٹھیک ہے ہم آپ کی بات پر غور کریں گے،ہم اس لڑکی کو یہاں لے آئیں گے لیکن شاید آپ نہیں جانتی اس لڑکی کے یہاں آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

شایان اسے زبردستی ہمیشہ اپنے ساتھ بند کر نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ ایک انسان ہے اور شایان کے ہاتھ لگاتے ہی جل کر راکھ ہو سکتی ہے۔

ان کا میل تو ممکن ہی نہیں ہے لیکن ہم شایان کی خوشی کے لئے یہ کرنے کو تیار ہیں ہیں ہم ایسا ہی کریں گے۔

راجہ صاحب کچھ سوچتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔

معاف کرنا مہک۔۔۔ہمیں اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے ایسا کہنا پڑا۔

اس وقت ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔ہیزل شیشے کی طرف دیکھتی ہوئی بولی اور تیزی میں کمرے سے باہر نکل گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *