Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 16)
Rate this Novel
Aks (Episode 16)
Aks by Khanzadi
مہک دائم کے پیچھے پیچھے دوڑتی ہوئی اوپر آئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس چیخ نکل گئی۔
مصباح کچن میں فرش پر بیٹھی اپنے بازو پر چھری سے وار کر رہی تھی۔
اس نے سر اوپر اٹھا کر دائم کی طرف دیکھا اور خوفناک انداز میں مسکرا دی۔
اس کی آنکھوں میں جیسے خون اترا ہوا تھا۔۔۔بکھرے بال ڈوپٹہ دور گرا ہوا تھا اور پاؤں میں جوتا بھی نہی تھا۔
مصباح یہ کیا کر رہی ہو چھوڑو اسے۔۔۔دائم اس کی طرف بڑھا ہی تھا کہ مصباح چلائی۔
خبردار۔۔۔اگر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ہم ابھی اس کی جان لے لیں گے۔
بول تو مصباح رہی تھی مگر آواز شایان کی تھی۔۔۔یقیناً وہ مصباح کے وجود پر قبضہ کر چکا تھا۔
دائم کی امی نیچے تھی اماں جان کے پاس لیکن مصباح کے چیخنے کی آواز سن کر جلدی سے اوپر آ گئی اور بیٹی کی حالت دیکھ کر چیخ اٹھی۔
یہ کیا ہو گیا میری بیٹی کو۔۔۔مصباح تم یہ کیا کر رہی؟
وہ تیزی سے آگے بڑھی لیکن کسی ان دیکھی طاقت نے انہیں ہوا میں اچھالتے ہوئے کچن سے باہر پھینکا۔
امی۔۔۔دائم بھاگتا ہوا ماں کی طرف گیا اور انہیں سہارا دیتے ہوئے بٹھایا۔
وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھیں۔۔۔سوالیہ نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھا اور پھر سے کچن کی طرف بھاگی۔
بیٹی کی تکلیف میں اپنی تکلیف کو نظر انداز کرتی ہوئی بھاگتی چلی گئی لیکن دائم نے انہیں مصباح تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔
رک جائیں امی۔۔۔یہ مصباح نہی ہے۔
یہ تم کیا کہہ رہے ہو دائم؟
پاگل تو نہی ہو گئے؟
یہ تمہاری بہن مصباح ہی ہے نظر نہی آ رہا کیا تمہیں؟
نظر آ رہا ہے مجھے امی۔۔۔آپ سمجھنے کی کوشش کریں یہ مصباح تو ہے لیکن اس وقت کسی اور کا قبضہ ہے اس پر۔
مہک دروازے سے ٹیک لگائے سمہی سی کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔دائم نے التجایہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
مہک نے سر اثبات میں ہلایا اور مصباح کی طرف بڑھی۔۔۔اسے چھوڑ دیں آپ٫اس بیچاری کا کوئی قصور نہیں ہے اس میں۔
یہ بے گناہ ہے۔۔۔آپ جو بھی سزا دینا چاہتے ہیں مجھے دیں لیکن اسے چھوڑ دیں۔
ٹھیک ہے ہم چھوڑ دیتے ہیں انہیں لیکن آپ کو ہم سے ایک وعدہ کرنا ہو گا مہک۔۔۔جیسے ہی مہک مصباح کے قریب بیٹھی شایان اس کے جسم سے الگ ہو گیا۔
اس کے الگ ہوتے ہی مصباح بے ہوش ہو کر فرش پر گر گئی۔
آج کے بعد اگر اس نے آپ کے قریب آنے کی کوشش کی تو انجام اس سے بھی زیادہ بھیانک ہو گا۔۔۔شایان نے غصے سے دائم کی طرف اشارہ کیا۔
مہک نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔نہی آپ ایسا کچھ نہی کریں گے،جیسے آپ چاہیں گے ویسا ہی ہو گا۔
یہ آج کے بعد میرے آس پاس بھی نظر نہی آئیں گے آپ کو۔۔۔میرا وعدہ ہے آپ سے۔
آپ جیسا کہیں گے ویسا ہی کروں گی آپ بس مصباح کو چھوڑ دیں میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں۔
ٹھیک ہے ہم مان لیتے ہیں آپ کی بات لیکن اگر آپ نے وعدہ خلافی کی تو اگلی بار ہم آپ کو اپنی بات کہنے تک کا موقع نہیں دیں گے۔
کس سے باتیں کر رہی ہے یہ دائم؟
تائی جان حیرت زدہ سی مہک کو دیکھتی ہوئی بولی۔
کسی سے نہیں امی۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا آپ فکر نہیں کریں۔
مہک نے دائم کی طرف دیکھ کر سر اثبات میں ہلایا کہ سب ٹھیک ہے۔
دائم تیزی سے آگے بڑھا اور مصباح کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آ گئی اور ہوش میں آتے ہی اپنی حالت دیکھ کر رونا شروع ہو گئی۔
بھائی یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ؟
میں اپنے آپ کو مار رہی تھی لیکن میں ایسا نہی کرنا چاہتی تھی۔۔۔ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی زبردستی مجھ سے یہ سب کروا رہا تھا۔
مصباح بہت زیادہ ڈر چکی تھی۔
کچھ نہی ہوا بچے۔۔۔سب ٹھیک ہے اب ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آؤ میرے ساتھ۔۔۔دائم اسے زبردستی ٹی وی لاونج میں لے آیا اور اسے صوفے پر بٹھاتے ہوئے اس کے لیے پانی کا گلاس لے کر آیا۔
پانی پیو سب ٹھیک ہے۔۔۔میں فرسٹ ایڈ باکس لاتا ہوں۔
دوبارہ کچن میں آیا اور مہک کی طرف دیکھتے ہوئے بے بس سا آگے بڑھا اور کیبن سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر باہر چلا گیا۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے میری بیٹی کے ساتھ؟
دائم تم کچھ بولو گے یا نہی؟
یہ سب کچھ اس کی وجہ سے ہو رہا ہے ناں؟
انہوں نے مہک کی طرف اشارہ کیا۔
دائم نے نظریں جھکا لی اور چپ چاپ مصباح کے بازو پر پٹی کرنے میں مصروف رہا۔
کیا کیا تھا تم نے میری بیٹی کے ساتھ؟
وہ غصے سے مہک کی طرف بڑھی اور اسے دونوں کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑا۔
یہ سب تم کر رہی ہو ناں؟
تمہاری وجہ سے ہی ہو رہا ہے یہ سب کچھ تم کس سے باتیں کر رہی تھی کون تھا وہ اور میری بیٹی کو مارنے کی کوشش کیوں کی اس نے؟
امی بس کر دیں خدا کے لیے آ کر مصباح کو دیکھیں چھوڑ دیں مہک کی جان۔
میں اس کی جان نہیں چھوڑوں گی۔۔۔اس وجہ سے ہم اس مشکل میں پڑے ہیں۔
یہ وہی جن تھا نہ جو اس کے پیچھے پڑا ہے؟ اب اس کی وجہ سے میری بیٹی کی جان کا دشمن بن گیا ہے.
میں اسے جان سے مار دوں گی۔۔۔وہ مہک کا گلا دبانے ہی والی تھی کہ کسی نے انہیں زور سے پیچھے کی طرف دھکیلا۔
وہ پھر سے سے زمین پر گر گئی۔۔۔
امی ضد نہ کریں۔۔۔میں جو کہہ رہا ہوں وہی کریں۔
شایان ابھی تک یہی تھا مہک نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا اور تیزی سے تائی جان کی طرف بڑھی تائی امی آپ ٹھیک تو ہیں؟
ان کو سہارا دینا چاہا لیکن انھوں نے مہک کے ہاتھ جھٹک دیے آئے اور خود ہی اٹھ کر مصباح کے پاس بیٹھ گئی۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے ہمارے گھر میں دائم کون ہے جو نظر نہیں آ رہا اور ہم سب پر حملے پہ حملہ کر رہا ہے؟
امی بعد میں آپ کو سب کچھ بتاوں گا لیکن فی الحال آپ کچھ نہ بولیں۔۔۔مہک کو تو بالکل کچھ نہ کہیں دور رہیں اس سے۔
دائم اس وقت خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی بھی طرح شایان کو ہمیشہ کے لیے یہاں سے کہی دور بھیج دے۔
لیکن اس بار شایان نے اس پر بہت گہری چال چلی تھی وہ سمجھ چکا تھا کہ اگر مہک اور دائم ساتھ ہو تو وہ ان دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
اسی لیے شایان نے مصباح پر حملہ کیا تا کہ دائم کے دل میں اپنا خوف پیدا کر سکے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکا تھا۔
بھائی بہت زیادہ خون ںہہ رہا ہے میرے ساتھ کیوں ہو رہا ہے یہ سب کچھ۔۔۔مصباح خوفزدہ سی اپنے بازو کو دیکھتے ہوئے بولی۔
کچھ نہی ہوا بچے سب ٹھیک ہے میں پٹی کر رہا ہوں ناں ٹھیک ہو جائے گا۔
دیکھتے ہی دیکھتے سب اوپر جمع ہو گئے۔۔۔سب کے چہروں پر خوف واضح نظر آ رہا تھا اور سب مہک کو ہی دیکھ رہے تھے۔
مہک بیچاری ڈری سہمی کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔
شمع مہک کی طرف بڑھی اور اس کا ہاتھ تھام لیا آؤ نیچے چلو میرے ساتھ۔
دور رہو اس سے۔۔۔دائم زور سے چلایا۔
شمع نے فوراً ڈر کر اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔۔۔کیا ہو گیا میں نے کر دیا دائم بھائی جو آپ ایسے چلا رہے ہیں؟
بحث نہی۔۔۔بس جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔قاسم کو کال کرو وہ مہک کو گھر لے جائے۔
جی۔۔۔کرتی ہوں۔۔۔شمع نیچے آئی اور قاسم کا نمبر ڈائل کیا۔
قاسم نے کال پک کی تو شمع نے اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔
خدیجہ چچی کے فون کی بھی رنگ ٹون بجی۔۔۔خاور کال کر رہا تھا۔
کیا ہوا ماما سب خیریت ہے ناں؟
کون چیخ رہا ہے؟
نیچے آ کر بتاتی ہوں۔۔۔انہوں نے بس اتنا جواب دے کر کال کاٹ دی۔
بس یہی کچھ دیکھنا باقی رہ گیا ہماری زندگی میں۔۔۔آج میری بچی کی یہ حالت کر دی اس منحوس لڑکی نے کل کو پتہ نہی تمہارے ساتھ کیا کچھ کرے گی۔
دائم کی ماں مہک کو برا بھلا بولتی رہی۔۔۔دائم انہیں مسلسل چپ رہنے کا اشارہ کرتا رہا لیکن وہ اس کی کوئی بات نہیں سن رہی تھیں۔
آئے ہائے اسے کیا ہو گیا۔۔۔؟دادی جان بھی اوپر آ گئی اور مصباح کی حالت دیکھ کر حیرت زدہ سی آگے بڑھی۔
آ جائیں آپ بھی دیکھ لیں یہ سب کچھ آپ ہی کی مہربانی ہے۔۔۔آپ کی اس لاڈلی پوتی کے پیچھے جو جن پڑا ہے ناں اسی نے کیا ہے یہ سب کچھ میری بیٹی کے ساتھ۔
اب وہ گن گن کر ہم سے بدلے لے گا سارے۔۔۔بھلا اس میں میری بیٹی کا کیا قصور ہے؟ اس نے تو نہیں کہا تھا اپنے بھائی سے کہ مہک سے نکاح کر لے
بتا رہی ہوں میں آپ کو جتنی جلدی ہو سکے اس رشتے کو ختم کروا دیں ورنہ اگر میرے بچوں کو کچھ ہوگیا تو میں کسی کو نہی چھوڑوں گی۔
خود کو ختم کر لوں گی اور آپ سب کو بھی۔
بس کر دو تم بیٹھ جاو چپ کر کے۔۔۔ہر وقت اپنے ہی رونے ڈالے ہوتے ہیں تم نے۔
کیا ہوا ہے دائم تم بتاؤ مجھے؟
کچھ نہیں اماں جان بس میں مہک کو ساتھ گھر لے کر آیا تو اس وجہ سے۔۔۔باقی آپ کو کو بعد میں بتاتا ہوں۔
بعد میں کیا بتانا ہے ابھی بتاؤ ناں۔۔۔بتاو اپنی دادی کو کہ اس جن نے دو دفعہ تمہاری ماں کو اٹھا اٹھا کر پھینکا کیونکہ میں اس کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔
دیکھنا اب اس کی وجہ سے ہم سب کی جان جائے گی۔۔۔اس کو کوئی کچھ نہ کہنا نا ورنہ وہ جن اٹھا اٹھا کے مارے گا سب کو۔۔۔دائم کی ماں تپ چکی تھی۔
انکا مہک پر تو بس نہیں چل رہا تھا لیکن وہ بول کر اپنا سارا غصہ نکال رہی تھیں۔
دادو نے مہک کی طرف دیکھا اور آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا وہ دادو کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی دادو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔
چپ کر جاؤ میری بچی۔۔۔مجھے پتا ہے تمہارا کوئی قصور نہیں ہے لیکن کچھ لوگوں کی سوچ ہی گھٹیا ہے وہ اپنی سوچ کے مطابق ہی بولتے ہیں تم فکر نہیں کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
شایان نے مہک کو دادو کے حصار میں دیکھا دیکھا تو مسکرا دیا۔
کچھ ہی دیر میں قاسم بھی وہاں آ گیا یا اس کو دیکھتے ہیں مہک تیزی سے اس کے گلے لگ کر رونا شروع ہو گئی۔
لے جاؤ اپنی بہن کو یہاں سے اور خبردار جو اس نے دوبارہ اس گھر میں قدم رکھا میری بیٹی کی حالت دیکھ رہے ہو ہو یہ سب اسی کی وجہ سے ہوا ہے۔
کہہ دو اپنی ماں سے یا تو اپنی بیٹی کا علاج کروائے یا پھر اسے ہمیشہ کے لیے وہاں رکھے۔
اس کو بچانے کی خاطر میں اپنے بچوں سے ہاتھ نہیں دھو سکتی۔
تائی امی کیا ہو گیا ہے آپ کو۔۔۔آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں اس میں مہک کا کیا قصور ہے؟
یہ بے قصور ہے اور خود نہیں جانتی اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے آپ سارا الزام اس کے سر پر کیسے ڈال سکتی ہیں؟
اور آپ کیا یہ بار بار احسان جتلا رہی ہیں ہم پر؟
میری بہن مجھ پر بوجھ نہیں ہے میں اسے ساری زندگی اپنے گھر پر بٹھا کر بھی کھلا سکتا ہوں۔
آپ فکر نہیں کریں لے کر جا رہا ہوں اسے یہاں سے۔
سمجھنے کی کوشش کرو قاسم۔۔۔یہ موقع ٹھیک نہیں ہے ان سب باتوں کے لئے چھوڑ دو امی کی باتوں کو اور مہک کو دھیان سے گھر لے جاؤ۔
بس کر دو دائم۔۔۔یار تمہارے ہوتے ہوئے تمہاری بیوی کو یہاں پر باتیں سنائی جا رہی ہیں اور تم چپ چاپ وہاں بیٹھے سن رہے ہو۔
کیا کسی نے تمہاری منت کی تھی نکاح کرنے کے لیے تم نے اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا ناں تو اب کیا ہوا؟
“نکاح کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بس نکاح کر لیا اور حق جتا لیا٫بیوی کی عزت کی حفاظت بھی شوہر کے ذمہ ہوتی ہے”
تم کیسی عزت کروا رہے ہو اپنی بیوی کی؟
تمہارے سامنے تائی امی اتنا کچھ کہہ رہی ہیں اور تم چپ چاپ سن رہے ہو۔
الٹا مجھے کہہ رہے ہو کہ سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔یہ موقع صحیح نہیں ہے۔
ایک بار نہیں یہ دوسری بار ہو چکا ہے ابھی نکاح ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں جو تائی امی ہمیں بار بار یہ احساس دلا رہی ہیں کہ انہوں نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔
کان کھول کر میری ایک بات سن لو دائم۔۔۔میری بہن مجھ پر بوجھ نہیں ہے اگر حالات ایسے ہی رہے تو مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے۔
نکاح ہوا سو ہوا لیکن اس طرح کے حالات میں میں اپنی بہن کو رخصت نہیں کر سکتا۔
تم اپنے گھر کے معاملات سنبھالو۔۔۔جب اپنے گھر والوں کو راضی کر لو تو آ کر مجھ سے ملنا اور اگر نہ کر سکو تو بھی ہمیں بتا دینا عدالت کے دروازے کھلے ہیں۔
چلو بیٹا یہاں سے۔۔۔قاسم بہن کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے وہاں سے لے گیا۔
آپ نے دیکھا اماں جان قاسم کیسے بدتمیزی کر کے گیا ہے میرے ساتھ؟
دیکھیں تو سہی کیسے پر نکل آئے ہیں سب کے۔۔۔چھوٹے بڑے کا کوئی لحاظ نہیں رہ گیا کسی کو۔
وہ بچے جو میرے سامنے نظر تک نہیں اٹھاتے تھے آج میرے سامنے زبان چلانے لگے ہیں۔
تو تم نے کون سی کسر چھوڑی ہے ہر بات کا الزام اس کی بہن پر لگاؤ گی تو وہ کیا چپ چاپ سنتا رہے گا؟
جب سے نکاح ہوا ہے تم نے ایک ہی بات کی رٹ لگائی ہوئی ہے کہ میں یہ رشتہ ختم کروا دوں گی۔
یہ کوئی طریقہ تھا تمہارا بات کرنے کا؟
تمہیں کون سا بڑے چھوٹے کا لحاظ رہ گیا ہے تم نے بھی تو لحاظ نہیں کیا اس کے سامنے کہہ دیا کہ مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے۔
تم ہوتی کون ہو یہ رشتہ منظور نہ کرنے والی؟
اماں جان جان آپ ہی چپ کر جائیں کم از کم آپ ہی میرا مان رکھ لیں۔۔۔دائم نے دادی جان کے سے التجا کی۔
ہاں ہاں ٹھیک ہے تمہارے منہ کو ہی چپ کر جاتی ہوں ہر بار ورنہ تمہاری ماں کا منہ توڑنے کو دل کرتا ہے میرا۔
اور تم کیا چپ چاپ کھڑی ہو یہاں؟
یہ جو تماشا دیکھ رہی ہو سب تمہارے بیٹے کے ہی کرتوت ہیں۔
دادی جان کی نظر خدیجہ بیگم پر پڑی تو ان کی کلاس لے لی۔
یہ سب کچھ تمہارے بیٹے کا ہی کیا دھرا ہے اگر تم نے اس کی اچھی تربیت کی ہوتی تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
خود تو ٹانگ توڑا کر بیٹھا ہے کمرے میں سکون سے اور ہماری زندگی اجیرن کر دی ہے اس نے نے۔۔۔کیسے کیسے طعنے سننے پڑ رہے ہیں میری بچی کو۔
تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے اس کا۔۔۔جاؤ جا کر بیٹھے اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ بیٹھو اور بتاؤ اس کو کیا کچھ چل رہا ہے گھر میں اس کی حرکت کی وجہ سے۔
شازیہ کی ماں نے شازیہ کی طرف دیکھا اور شرم سے سر جھکا لیا یا اماں جان غلطی صرف خاور کی تھوڑی ہے یہ بھی برابر کی شریک ہے اس میں۔
انہوں نے فورا سے بیٹی کو اس معاملے میں گھسیٹا۔
شازیہ نے چونک کر ماں کی طرف ایسے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہی ہو آپ میری ماں ہیں یا دشمن جو میرے ہی خلاف بول رہی ہیں۔
ہاں تو اس کا بھی قصور ہے یہ کون سی کم ہے یہ بھی پوری میسنی ہے اگر پہلے سب کچھ بتایا ہوتا تو کم از کم مہک کے ساتھ تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔
ان دونوں نے مل کر میری بچی کی زندگی عذاب بنا دی ہے اب یہ عورت پوری زندگی سے طعنے ہی مارتی رہے گی۔
اماں جان بس کر دیں۔۔۔دائم نے دادی کی طرف دیکھتے ہوئے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی۔
میں تو جا رہی ہوں بھئی نیچے۔۔۔میرا تو بولنا ہی فضول ہے سمجھ تو کسی کو آنی نہیں میری بات کی۔وہ بڑبڑاتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
شازیہ کی ماں بھی ایک حقارت بھری نظر بیٹی پر ڈالتی ہوئی ماں کے پیچھے پیچھے نیچے چلی گئی۔
ان کے جاتے ہی شازیہ،نازیہ اور فوزیہ تینوں بہنیں نیچے آ گئی خدیجہ چاچی نے بھی چپ چاپ یہاں سے کھسکنے میں عافیت سمجھی۔
ٹھیک ہو نان ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے؟
دائم نے مصباح کی پٹی کی اور فرسٹ ایڈ باکس بند کرتے ہوئے بولا۔
نہیں بھائی میں ٹھیک ہوں ہو بس بازو میں بہت درد ہے آپ مجھے پین کلر دے دیں میں تھوڑا آرام کرنا چاہتی ہوں۔
ٹھیک ہے ہے دائم کچن کی طرف بڑھا اور اس کے لئے پانی کا گلاس لے کر آیا اسے میڈیسن دی اور اپنے کمرے میں جانے کو بولا۔
میں ٹھیک ہوں امی۔۔۔مصباح ماں کو تسلی دیتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
دائم بے بس سا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بیٹھ گیا۔
اس طرح چہرہ چھپانے سے کچھ نہیں ہو گا ابھی بھی وقت ہے سوچ لو کوئی فیصلہ کر لو ورنہ کہی ہم ساری زندگی پچھتاتے نہ رہ جائیں۔
نکاح ہوتے ہی یہ سب کچھ ہو رہا ہے ہمارے ساتھ تو شادی کے بعد پتا نہیں کیا کچھ ہوگا خدا کے لئے لیے ماں کی بات مان لو دائم چھوڑ دو اس لڑکی کو۔
تمہیں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
امی آپ کو کیا ضرورت تھی قاسم کو وہ سب کچھ بولنے کی؟
آپ بولنے سے پہلے دیکھ تو لیا کریں کہ سامنے کون ہے۔۔۔رشتہ بدل چکا ہے اب وہ صرف میرا کزن نہیں ہے میری بیوی کا بھائی بھی ہے۔
نکاح کوئی مذاق نہیں ہے جو ختم کر دوں۔۔۔کوئی نہ کوئی حل نکال لوں گا میں اس سے پیچھا چھڑانے کا لیکن مہک کو چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دائم غصے سے بولتا ہوا ہوا نیچے چلا گیا۔
قاسم گھر آیا اور ماں کو ساری بات بتائی۔
بیٹا آپ کو ضرورت ہی کیا تھی دائم کے ساتھ جانے کی؟
بھائی مجھے کیا پتا تھا آپ کو اور بابا کو پتہ ہو۔۔۔مجھے پک اینڈ ڈراپ دینے کی ذمہ داری آپ لوگوں کی ہے ان کی نہیں۔
آپ میں سے کسی نے ان سے کہا تھا تبھی تو وہ مجھے لینے آئے تھے۔
شاید بابا نے کہا ہوگا کہ چلو چھوڑو جو ہونا تھا سو ہو گیا آئندہ دھیان رکھنا۔۔۔بابا سے بھی بات کرتا ہوں میں۔
تم فکر نہیں کرو تمہارا بھائی ابھی زندہ ہے
ہم پر بوجھ نہیں ہو تم۔۔۔اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی روحانی حل ڈھونڈنا پڑے گا ہمیں۔ ساری زندگی اپنی بہن کو طعنے سنتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا میں۔
آج واپس آ کر کر بابا سے بات کرتا ہوں اس طرح ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر نہی بیٹھ سکتے ہم۔۔۔شام کو ملتے ہیں جلتا ہوں میں خدا حافظ۔
قاسم کے جاتے ہیں مہک ماں کے گلے لگ کر رونا شروع ہو گئی امی میں کیا کروں اس میں میرا کیا قصور ہے؟
آج پھر تائی امی نے بہت باتیں سنائی ہیں وہ بھی سب کے سامنے۔
میں نے دائم سے کہا تھا کہ میں ان کے ساتھ نہیں جا سکتی لیکن انہوں نے میری ایک نہی سنی اور مجھے باہر آنے کو کہا۔
میں نے سمجھایا تھا ان کو کہ وہ یہی پر ہے سب کچھ دیکھ رہا ہے کچھ غلط ہو جائے گا لیکن انہوں نے میری بات کو نظر انداز کیا۔
تو کیا تمہیں نظر آتا ہے وہ؟
جی امی میں مجھے نظر آتا ہے وہ۔۔۔میں اسے دیکھ سکتی ہوں ابھی بھی یہی ہے اوپر ریلنگ پر کھڑا مجھے دیکھ رہا ہے۔
کیا۔۔۔؟
انہوں نے ڈر کر اوپر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا مہک کی بات پر وہ خوفزدہ ہو چکی تھی۔
جی امی وہاں اوپر ہے وہ لیکن آپ فکر نہیں کریں آپ کو کچھ نہیں کہے گا۔
وہ بس میرے ساتھ کسی کو نہیں دیکھنا چاہتا بے پہلے اسے خاور سے مسئلہ تھا اور دائم سے۔
مجھے خود سمجھ نہیں آرہا میں کیسے باہر نکلوں گی اس آزمائش سے۔
وہ دکھنے میں کیسا ہے؟
کیا مطلب دکھنے میں کیسا ہے۔۔۔امی وہ کوئی احسن خان تھوڑی ہے جو میں آپ کو بتا دوں کہ دکھنے میں کیسا ہے۔
نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا میں کہنا نا چاہ رہی تھی کہ دیکھنے میں خوفناک ہے؟
نہیں امی وہ خوفناک نہیں ہے بلکہ بہت خوبصورت ہے۔۔۔انسانوں کی طرح ہی ہے لیکن انسانوں سے بہت الگ اس کے آنکھیں نیلی ہیں رنگ دودھ کی طرح سفید۔
اس کی آنکھیں کسی گہری جھیل کی طرح ہیں۔۔۔ایسے لگتا ہے جیسے میں ان آنکھوں میں ڈوب جاؤں گی۔
مہک شایان کے چہرے پے نظریں جمائے اس کی تعریف کرتی جا رہی تھی۔۔۔شایان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
خدا کا خوف کرو مہک۔۔۔شرم کرو ماں کے سامنے کیسی باتیں کر رہی ہو۔
ماں کی آواز پر مہک ہوش میں آئی اور اس کا تسلسل ٹوٹ گیا اس نے شایان کے چہرے سے نظریں اٹھائی اور ماں کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔
آپ سے پوچھ رہی تھی کہ خوفناک تو نہیں ہے تو میں وہی بتا رہی تھی آپ کو کہ وہ بالکل خوفناک نہیں ہے اگر آپ کہیں تو میں اس سے کہوں آپ کے سامنے آنے کو؟
میں چلتی ہوں اپنے کمرے میں بہت تھک گئی ہوں آپ کھانا گرم کر دیں میرے لیے۔
مہک اپنا بیگ اٹھاتی ہوئی کر سیڑھیوں کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ اس کی امی نے روک دیا۔
رک جاؤ! کہاں جا رہی ہو تم؟
وہ اوپر ہے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دے گا۔
وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا امی وہ میرا انتظار کر رہا ہے اگر میں ابھی اوپر نہ گئی تو ہو سکتا ہے آپ کو ضرور نقصان پہنچائے گا۔
جانے دیں مجھے اور بے فکر رہیں۔
مہک ان کو حیران کرتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
اپنے کمرے میں آئی اور بے بس سی صوفے پر بیٹھ گئی۔
شایان اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا کیا واقعی ہم آپ کو اتنے اچھے لگتے ہیں؟
میں نے کب کہا کہ آپ مجھے اچھے لگتے ہیں ہیں میں نے تو وہ کہا جو سچ ہے آپ خوبصورت ہیں اور یہ حقیقت ہے بس امی کو سمجھا رہی تھی۔
آپ خوبصورت تو ہیں لیکن آپ کے کام بالکل بھی خوبصورت نہیں ہیں۔۔۔آپ کب تک میری وجہ سے یہ سب کچھ کرتے رہیں گے؟
دوسروں کو نقصان پہنچا کر کیا سکون ملتا ہے آپ کو؟
ہمیں سکون نہیں ملتا مہک۔۔۔بلکہ دوسروں کو نقصان پہنچا کر ہم خود سکون کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں ہم یہ کرنا نہیں چاہتے لیکن ہم یہ کر رہے ہیں صرف آپ کی خاطر۔
“ہم سے نہیں ہوتا برداشت کہ کوئی آپ کی طرف دیکھے بھی۔۔۔ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے”
اب دائم آپ کے نزدیک آنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔۔۔کہا تھا نہ ہم نے آپ سے کہ اس بار اس کے آپ کے نزدیک آنے سے پہلے ہم اس پر ایسی چال چلیں گے کہ وہ دوبارہ آپ کے نزدیک آنے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہو جائے گا۔
دیکھ لیں پھر آپ۔۔۔ہم نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا ہے۔
ایسے سکون ملے گا بھی نہیں آپ کو۔۔۔اس طرح تو آپ کی پوری زندگی سکون کی تلاش میں نکل جائے گی۔
آپ دوسروں کو سکون سے رہنے دیں گے تو خود سکون سے رہیں گے۔
مجھے نماز پڑھنی ہے دیر ہو رہی ہے آپ کچھ دیر بعد آجائیے گا۔
“نماز” وہ کیا ہوتا ہے؟
ابھی میں پڑھوں گی ناں تو دیکھ لینا آپ لیکن اس کے بعد مجھے ذمہ دار مت ٹھہرائیے گا کیونکہ جب میں نماز پڑھنا شروع کروں گی تو آپ مجھ سے دور ہو جائیں گے۔
جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو ہم “اللہ” کی پناہ میں ہوتے ہیں کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
ہم آپ کا بھی کچھ بگاڑنا بھی نہیں چاہتے۔۔۔ آپ کیوں ہمیں خود سے دور کرنا چاہتی ہیں؟ ہمیں بھی سکھائیں نماز ہم بھی پڑھنا چاہتے ہیں تاکہ ہم آپ کے قریب رہ سکیں۔
نماز پڑھنے کے لئے اللہ کو جاننا ضروری ہے اور آپ تو اللہ کے نام سے واقف تک نہیں ہے نماز کیسے پڑھیں گے؟
ہم پڑھ لیں گے آپ کے لئے ہم اللہ کو بھی جان لیں گے آپ سمجائیں ہم سمجھیں گے۔
کیا واقعی آپ سمجھنا چاہتے ہیں؟
اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں تو اپنے لئے سمجھیں میرے لئے نہیں کیونکہ وہ ہم سب کا خدا ہے صرف میرا نہیں۔۔۔آپ کا بھی خدا ہے۔
“اس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے اور یہ ساری دنیا بھی اسی کی بنائی ہوئی ہے۔۔۔ہماری زندگی بھی اسی کے دم سے ہے اور موت کے بعد بھی ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے۔”
نماز پڑھنے سے پہلے آپ کو خدا کی “واحدانیت” پر یقین رکھنا ہو گا۔
“ہمیں پیدا کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے ہماری جان اسی کے قبضے میں ہے اور صرف وہی عبادت کے لائق ہے وہ اکیلا ہے اور اکیلا ہی اس ساری کائنات کا مالک ہے۔۔۔ہم سب اس دنیا میں اسی کی عبادت کے لیے آئے ہیں ہماری زندگی زندگی اللہ کی امانت ہے ہمارا اپنی زندگی پر کوئی حق نہیں ہے۔”
شایان بہت سکون سے سے مہک کی ساری باتیں سن رہا تھا ایک ایک لفظ کے ساتھ اپنے وجود میں سکون اترتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
بولتی رہیں ہمیں اچھا لگ رہا ہے آپ کا ایک ایک لفظ ہمارے لیے سکون بخشش ہے۔
مہک چپ ہوئی ہی تھی کہ شایان نے اسے مزید بولنے کو کہا۔
میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی کہ اللہ کی شان مکمل طریقے سے آپ کو سمجھا سکوں۔۔۔یہ کام تو ایک عالم ہی کر سکتے ہیں
آپ مسجد کیوں نہیں چلے جاتے۔
آپ
آپ مسجد جائیں اور امام صاحب سے کہیں وہ آپ کو کلمہ پڑھائیں۔
جب وہ آپ کو کلمہ پڑھائیں گے تو آپ کو سب سمجھ آ جائے گا۔وہ آپ کو بہت تفصیل کے ساتھ سب کچھ سمجھا دیں گے۔
میں تو ایک عام سی بندی ہوں میں کہاں سمجھا پاؤں گی آپ کو۔
مسجد کیسے جائیں گے ہم؟
ہمارے ساتھ کسی کو جانا پڑے گا ہم نہی جانتے وہاں کا راستہ آپ کیوں نہیں چلتی ہمارے ساتھ؟
میں نہیں جا سکتی۔۔۔مسجد میں صرف صرف مرد لوگ جاتے ہیں ہم عورتوں کو گھر پر نماز پڑھنے کا حکم ہے۔
لیکن ہم نہیں جانتے وہاں پر کیسے جائیں گے گے اور وہ جگہ ہے کہاں۔۔۔ہم کسی کو جانتے ہی نہیں یہاں آپ کے سوا۔
“اللہ” کو جاننا ہے تو وہاں تک پہنچنے کا راستہ تو آپ کو خود ہی تلاش کرنا پڑے گا۔
اچھا۔۔۔اگر ایسی بات ہے کہ آپ نہیں جا سکتی تو کیا ہوا۔۔۔کوئی اور تو ہے جو جا سکتا ہے ہمارے ساتھ وہاں۔
شایان کچھ سوچتے ہوئے مسکرا دیا۔
مہک نے ناسمجھی میں کندھے اچکائے اور اگلے ہی پل شایان کی بات کا مطلب سمجھ گئی اور فوراً سر نفی میں ہلایا۔
لیکن شایان نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔جی بلکل ٹھیک سمجھی ہیں آپ۔
جاری ہے۔۔۔
