366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 10)

Aks by Khanzadi

مہک حیرت زدہ سی دیکھتی ہی رہ گئی اس کا وجود تو جیسے پتھر کا بن چکا تھا۔

آنکھیں پھاڑے خوف زدہ سی ایک ہی جگہ پر کھڑی رہ گئی۔

شایان مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔۔۔مہک کے گال پر ہاتھ رکھنے ہی لگا تھا کہ اس نے ڈر کر آنکھیں بند کر لی۔

وہ مہک کے اردگرد ایسے چکر لگا رہا تھا جیسے وہ کوئی انوکھی چیز ہو۔

جتنی حیران مہک تھی اسے سامنے دیکھ کر اتنا ہی حیران وہ تھا پہلی بار مہک کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر۔

مہک نے خوف سے آنکھیں بند کی اور پھر سے کھولی کہ شاید یہ کوئی خواب ہو لیکن یہ خواب نہی حقیقت تھا۔

آج اس کی تلاش مکمل ہو چکی تھی۔وہ ان دیکھا وجود جسے وہ صرف محسوس کر سکتی تھی آج حقیقت میں اس کے سامنے موجود تھا۔

کچھ دیر مہک کے اردگرد گھومنے کے بعد شایان گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا اور بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھتا رہا۔

مہک بہت زیادہ ڈر چکی تھی اسے کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔دماغ تو جیسے ماؤف ہو چکا تھا۔

“کون ہیں آپ؟”

اس نے گہری سانس لی اور دبی دبی سی آواز میں سامنے بیٹھے وجود سے سوال کیا۔

مہک کی آواز سنتے ہی شایان نے آنکھیں بند کی اور مسکراتے ہوئے اس لمحے کو محسوس کیا۔

کون ہیں آپ اور ایسے کیوں بیٹھے ہیں؟

مہک کے مزید سوالات پر اس نے آنکھیں کھول دی اور اپنا مختصر سا تعارف پیش کیا۔

“ہم شایان ہیں”

“شایان”۔۔۔۔؟۔۔۔اس نام پر مہک پہلے تو سوچ میں پڑ گئی لیکن پھر حیرانگی سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔

آپ سر شایان ہیں؟

نہی آپ سر شایان نہی ہو سکتے۔۔۔وہ تو کوئی اور تھے۔

وہ صرف ایک پرچھائی تھی مہک۔۔۔اصل شایان اس وقت آپ کے سامنے ہیں۔

اس کے منہ سے اپنا نام سن کر مہک کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔آپ میرا نام کیسے جانتے ہیں؟

ہمارے منہ سے صرف اپنا نام سن کر آپ اتنی حیران ہو رہی ہیں تو ہمارے جزبات جان کر آپ کا کیا حال ہو گا۔

جب سے آپ کو دیکھا ہے ہمیں ایسے لگتا ہے جیسے ہم بس آپ ہی کو جانتے ہیں باقی سب تو جیسے اجنبی سے لگنے لگے ہیں ہمیں۔

ایسے لگتا ہے جیسے ہماری خوشی اور دکھ کی وجہ سب آپ سے جڑ چکی ہو۔

جب سے آپ کو دیکھا ہے ہمیں کچھ اور نظر ہی نہیں آتا۔۔۔ہمارا دل چاہتا ہے کہ بس آپ ہماری نظروں کے سامنے رہیں اور ہم آپ کو دیکھتے رہیں۔

بہت انتظار تھا ہمیں اس دن کا جب آپ ہمارے سامنے ہو گی اور ہم جی بھر کر آپ کو دیکھ سکیں گے۔

آج ہمارا انتظار ختم ہوا۔۔۔ہم اتنا خوش ہیں کہ آپ کو بتا نہیں سکتے،ہم الفاظ میں بیان ہی نہی کر سکتے ہماری خوشی۔

لیکن میں تو آپ کو جانتی تک نہیں۔۔۔ایسے کیسے میرے بارے میں اتنا سب کچھ بول سکتے ہیں آپ؟

آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں میں وہ نہیں ہوں۔۔۔میں تو ایک عام سی لڑکی ہوں.

شاید آپ مجھے کوئی اور سمجھ رہے ہیں۔

نہی۔۔۔شایان نے فوراً سر نفی میں سر ہلایا۔

ہم کسی اور کے بات نہیں کر رہے مہک۔۔۔ہم آپ ہی کی بات کر رہے ہیں۔

کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہی سکتے ہم۔۔۔ہمارے دل و دماغ پر تو بس آپ چھائی ہوئی ہے۔

جانتی تھی میں سر شایان کوئی عام انسان نہیں تھے۔۔۔مجھے شروع دن سے شک تھا۔

میرے ساتھ اتنا کچھ ہوا اور میں نے سب کو بتانے کی بہت کوشش کی لیکن کسی نے میری بات پر یقین ہی نہیں کیا۔

خاور کے ساتھ یہ سب کچھ آپ نے ہی کیا ہے ناں؟

آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب کچھ میں آپ کو نہیں جانتی نہ ہی ہم کبھی ملے ہیں آخر کیا ہے اس شیشے کے پیچھے؟

آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب؟

اس شیشے کے پیچھے ایک دنیا ہے مہک۔۔۔آپ کی اور ہماری دنیا۔

یہ دنیا ہمارا انتظار کر رہی ہے۔۔۔آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہو گا ہمیشہ کے لیے۔

“چلیں گی ناں؟”

شایان کی مدھم سی خوبصورت آواز اور اس کی نیلی آنکھیں۔۔۔مہک تو جیسے اس کی آنکھوں میں کھو چکی تھی۔

اس کی آواز کے حصار میں قید سب کچھ سنتی جا رہی تھی۔

“ہماری محبت کا مان رکھیں گی ناں آپ؟”

“ہماری سانسیں آپ سے جڑ چکی ہیں اگر آپ ہمیں نا ملی تو مر جائیں گے”

آپ چپ کیوں ہیں جواب دیں ہماری بات کا۔۔۔ہم کچھ پوچھ رہے ہیں آپ سے مہک۔

اگر آپ نے انکار کیا تو اس کا انجام اچھا نہی ہو گا۔۔۔ہم کسی دوسرے کو یہ حق نہی دیں گے کہ وہ آپ کو ہم سے چھیننے کی کوشش کرے۔

آپ ہماری ہیں اور بس ہماری ہی رہیں گی۔۔۔ہمارے درمیان آنے والی ہر رکاوٹ کو مٹا دیں گے ہم پھر چاہے وہ رکاوٹ خاور ہو یا پھر دائم۔

خاور اور دائم کے نام پر مہک حوش میں آئی۔۔۔آپ ایسا کچھ نہی کریں گے۔

کون کس کی تقدیر میں لکھا یہ فیصلے تو اللہ کے ہیں٫ہم انسان اس قابل نہیں ہیں کہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کو جھٹلا سکے۔

مہک کا جواب سن کر شایان اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ہم نے کہا ناں ہم یہ حق کسی کو نہی دیں گے تو پھر تقدیر لکھنے والے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مہک۔

شایان کی بات پر مہک کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔آپ کو پتہ بھی ہیں آپ کیا بات کر رہے ہیں؟

“اللہ سے بڑھ کر کسی کا حق نہی ہے ہماری زندگی پر۔۔۔اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے اور اسی نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کون کس کا ہے”

آپ کیا کہہ رہی ہیں ہمیں نہی پتہ مہک۔۔۔ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہی یہاں سے جائیں گے۔

لیکن میں آپ کے ساتھ نہی جاؤں گی۔۔۔میں نہیں جا سکتی۔

یہاں میرا گھر ہے اور ماں باپ۔۔۔بھائی باقی سب میں آپ کے ساتھ کیوں جاوں؟

آپ یہ سب کچھ بند کر دیں۔۔۔سب پریشان ہو چکے ہیں آپ کی وجہ سے۔

آپ کی وجہ سے میرا نکاح جلدی ہو رہا ہے اور کتنا کچھ سننا پڑا کچھ اندازہ ہے آپ کو؟

دیکھ لیتے ہیں ہم آپ کیسے نہی جاتی ہمارے ساتھ۔۔۔شایان غصے میں آگے بڑھا اور مہک کا بازو تھام لیا۔

اس کے ہاتھ لگاتے ہی مہک کو ایسے لگا جیسے کسی نے جلتی ہوئے انگارے اس کے بازو کے اردگرد لپیٹ دیے ہو۔

اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر گر گئی۔۔۔شایان کے چہرے کا تو جیسے رنگ ہی اڑ گیا۔

اس نے فوراً مہک کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔ہمیں معاف کر دیں مہک۔

ہم آپ کو تکلیف نہی پہنچانا چاہتے تھے۔۔۔ہم سے غلطی ہو گئی۔

آپ ٹھیک تو ہیں؟

وہ بول رہا تھا اور مہک گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے خوفزدہ سی اسے دیکھ رہی تھی۔

ہم سب ٹھیک کر دیں گے آپ فکر نہی کریں۔

شایان نے اپنے ہاتھ سے مہک کے جھلستے بازو پر سفید روشنی ڈالی تو مہک کا بازو ٹھیک ہو گیا۔

وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی ڈر کر فرش پر ہی بیٹھ گئی۔۔۔دور رہیں آپ مجھ سے۔

کون ہیں آپ؟

کسی انسان کے ہاتھ لگانے پر تو ایسا نہی ہوتا۔۔۔آپ کیا ہیں؟

مہک۔۔۔دروازہ کھولو بیٹا۔

اس سے پہلے کہ شایان کوئی جواب دیتا مہک کے کانوں میں ماں کی آواز سنائی دی اور تیزی میں دروازے کی دوڑی لیکن اس کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی شایان دروازے تک پہنچ چکا تھا۔

اگر آپ نے کسی کو کچھ بتایا تو ہم سے برا کوئی نہی ہو گا۔۔۔آپ اپنی ماں سے یہ کہیں گی کہ کوئی برا خواب دیکھنے کی وجہ سے ڈری ہیں آپ ناں کے ہمارے چھونے کی وجہ سے۔

سمجھ گئی یا نہی؟

جی۔۔۔مہک نے ڈرتے ڈرتے سر سے اثبات میں ہلایا اور دروازہ کھول دیا۔

کیا ہوا تم نے چیخ کیوں ماری تھی؟

اس کی امی فکر مند سی کمرے میں داخل ہوئی۔

کچھ نہی امی۔۔۔بس ڈر گئی تھی۔

برا خواب دیکھ لیا تھا۔۔۔مہک نے گردن گھما کر ادھر اُدھر دیکھا تو شایان کہی نہی تھا۔

چلو میرے ساتھ باہر بیٹھو سب کے ساتھ۔۔۔وہ اسے کھینچتی ہوئی نیچے لے آئی۔

مہک کا دھیان اوپر ہی لگا تھا۔۔۔وہ بار پلٹ کر سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔

آؤ بیٹھو ہمارے ساتھ۔۔۔وہ اسے ٹی وی لاونج میں لے آئی اور صوفے پر بیٹھنے کا بولتی ہوئی کچن میں چلی گئی۔

جیسے ہی وہ وہاں سے گئی مہک تیزی سے ان کے پیچھے کچن میں آ گئی۔

اپنی تائی کی باتوں کو دل پر مت لینا بیٹا۔۔۔پتہ تو ہے تمہیں ان کو بولنے کی عادت ہے۔

میری بیٹی کو کوئی بیماری تھوڑی ہے جو ہم پہلے علاج کروائیں۔

بھابھی بھی ناں۔۔۔بولنے سے پہلے کبھی بھی نہی سوچتی کہ کیا کہہ رہی ہیں اور دوسرے کے دل پر کیا گزرے گی۔

جی امی۔۔۔مہک نے مختصر سا جواب دیا اور پریشان سی ادھر اُدھر دیکھتی رہی کہ کہی شایان آس پاس ہی نہ ہو۔

تمہارا دھیان کہاں ہے مہک؟

میں کب سے بول رہی ہوں اور تم ادھر اُدھر دیکھ رہی ہو٫سب خیریت تو ہے؟

کوئی پریشانی ہے کیا؟

مہک فوراً ماں کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔ایک لمحے کے لیے سوچا کہ ان کو سب بتا دے لیکن پھر شایان کی دھمکی یاد آئی۔

نہی امی۔۔۔کوئی پریشانی نہی ہے سب خیریت ہے۔

اچانک سے نکاح کی خبر سن کر تھوڑی حیران ہوں لیکن کوئی بات نہیں جیسے آپ سب کی خوشی۔

مجھے کوئی اعتراض نہی۔۔۔آپ سب کو جو بہتر لگے آپ وہی کریں۔

مہک کے تسلی بخش جواب پر وہ مسکرا دی۔۔۔خوشی کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ تم دونوں کی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے بیٹا۔

دائم بہت اچھا بچہ ہے۔۔۔ہر اچھے برے وقت میں ہمیشہ ہمارا ساتھ دیتا ہے۔

وہ گیا تھا سارا معاملہ قاری صاحب کے پاس لے کر تو انہوں نے ہی نکاح کا مشورہ دیا۔

کیا۔۔۔؟

دائم بھائی نے نکاح جلدی کرنے کو بولا ہے امی؟

ہاں۔۔۔اسی نے مشورہ دیا ہے قاری صاحب کے کہنے پر اور مجھے بھی یہی ٹھیک لگتا ہے۔

یہ برے سایے اگر پوری طرح کسی پر قابو پا لیں تو پھر آخری سانس تک پیچھا نہی چھوڑتے۔

شکر ہے اللہ کا دائم نے سہی وقت پر قاری صاحب سے بات کر لی ورنہ پتہ نہی کیا ہو جاتا۔

ہو تو ابھی بھی بہت کچھ سکتا ہے امی۔۔۔اب میں کیا بتاؤں آپ کو کہ جس سایے سے آپ سب میرا پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اس وقت میرے سر پر موت کی طرح منڈلا رہا ہے۔

مہک دل ہی دل میں سوچتی رہ گئی اور کسی گہری سوچ میں گم ہو گئی۔۔۔اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

وہ چلاتی ہوئی پلٹی تو پیچھے قاسم کھڑا تھا۔۔۔کیا ہو گیا اتنی بھی ڈراؤنی شکل نہی تمہارے بھائی کی جو اس طرح چلا رہی ہو۔

نہی بھائی۔۔۔وہ آپ اچانک سے آئی تو میں ڈر گئی۔

امی لائیں کھانا مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔مہک کھانے کی ٹرے اٹھائے بات کو پلٹتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی۔

ٹی وی لاونج میں بیٹھ کر کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔

قاسم بھی ماں کے ساتھ وہی آ گیا اور حیرت زدہ سا بہن کو دیکھتا رہا۔

کیا ہوا بچے سب خیریت ہے ناں؟

کچھ چھپا رہی ہو ہم سے۔۔۔اگر کچھ ہے تو ہمیں بتا دو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔

کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ خوامخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔

میں بالکل ٹھیک ہوں اور آپ سب کے سامنے ہو مجھے کیا ہونا ہے بھلا؟

اس نکاح سے تو خوش ہو ناں تم کہی تمہارے ساتھ کوئی زیادتی تو نہیں کر رہے ہم؟

بھائی کے سوال پر مہک نے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور مسکرا دی نہیں بھائی۔۔۔جیسے آپ سب کی خوشی۔

مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے آپ لوگ میرے لئے جو بھی فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہے۔

مجھے یہی امید تھی اپنی بیٹی سے۔۔۔مہک کے ابو اچانک وہاں آئے اور مہک کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہوئے بولے۔

بدلے میں مہک مسکرا دی۔

کھانا کھانے کے بعد چائے پی اور کچھ دیر وہی بیٹھی رہی۔۔۔ٹی وی پر خبریں دیکھتی رہی۔

ڈر کے مارے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے لیکن کسی پر بھی اپنا ڈر واضح نہی ہونے دے رہی تھی۔

دل ہی نہی چاہ رہا تھا کہ یہاں سے اٹھ کر جائے لیکن آخر ایسا کب تک ہو سکتا تھا۔

جانا تو اسی کمرے میں ہی تھا۔

جیسے جیسے سب اپنی کمروں میں گئے وہ بھی ٹی وی بند کرتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی اور ڈرتے ڈرتے ایک ایک قدم اٹھاتی ہوئی کمرے میں پہنچی۔

دروازہ بند کرکے پلٹی ہی تھی کہ شایان اس کی نظروں کے سامنے تھا۔

__________________

خاور کو نکاح کی ڈیٹ فکس ہونے کی خبر ملی تو اس کی خوشی کی تو جیسے انتہا ہی نہی رہی۔

بہت دیر سے مہک کو کال ملا رہا تھا لیکن اس کا نمبر بند جا رہا تھا۔

اپنی خوشی میں مصروف تھا کہ شازیہ بنا نوک کیے دروازہ کھولتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی ۔

انکار کر دو اس نکاح سے۔۔۔تم ایسا نہیں کر سکتے ہو خاور۔

وہ آنسو بہاتی ہوئی خاور کے پاؤں پر سر رکھ کے آنسو بہاتی ہوئی بولی۔

خاور چونک گیا اور ڈر کر اپنے پاؤں سمیٹ لیے کیا کر رہی ہو تم پاگل تو نہیں ہو گئی؟

شازیہ تم ہوش میں تو ہو؟

خاور کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا۔

تم یہ سب کیا کر رہی ہو ہو تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟

میں کیوں کروں اس نکاح سے انکار؟

مہک سے محبت کرتا ہوں میں۔۔۔

لیکن وہ تو نہیں کرتی ناں تم سے محبت۔۔۔ تو پھر تم اس سے نکاح کیوں کر رہے ہو؟

میں کرتی ہوں تم سے محبت۔۔۔اسے چھوڑ دو دو اور مجھ سے نکاح کر لو ساری زندگی تمہاری غلامی میں گزار دوں گی لیکن تمہارے ساتھ کسی اور کو نہی دیکھ سکتی۔

ہاتھ جوڑ رہی ہوں تمہارے سامنے۔۔۔انکار کر دو اس نکاح سے ورنہ میں مر جاؤں گی۔

خاور کو لگا جیسے اس کا سر چکرا گیا ہو۔۔۔ ہاتھ بڑھاتے ہوئے ماتھے پر آئے بال پیچھے کیے یے اورحیرت زدہ سا شازیہ کو دیکھتا رہ گیا۔

یہ تم کیا کہہ رہی ہو دماغ ٹھکانے پر تو ہے تمہارا؟

کیسی بے ہودہ باتیں کر رہی ہو پھوپھو کو بلاؤں؟

محبت کا اظہار کرنا کوئی بیہودگی نہی ہوتی خاور۔۔۔جس کو بلانا ہے بلا سکتے ہو لیکن آج میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔

تمہیں میری محبت کو قبول کرنا ہی پڑے گا میں تمہیں کسی اور کا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تم صرف میرے ہو صرف میرے۔

تمہارا دماغ خراب ہوگیا شازیہ۔۔۔مذاق کر رہی ہوں کیا میرے ساتھ؟

اگر یہ مذاق ہے تو بہت ہی گھٹیا مذاق ہے۔

چلی جاؤ یہاں سے اس سے پہلے کہ میں کسی کو آواز دوں۔

تمہیں یہ سب مذاق لگ رہا ہے خاور؟

میرے جذبات میرے آنسو۔۔۔یہ تڑپ سب کچھ مذاق ہے تمہارے لیے؟

سچ کہتے ہیں لوگ جس کو پانے کے لیے ہم مر رہے ہوتے ہیں اس کو ہماری محبت ایک مذاق لگتی ہے۔

اگر تمہیں میری محبت مذاق لگتی ہے تو ٹھیک ہے مذاق ہی سہی۔۔۔تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھ لو لیکن میں یہ نکاح نہیں ہونے دوں گی۔

تم کرو نکاح کی تیاریاں اور موت کی۔۔۔ادھر تم نکاح کے پیپر پر سائن کرو گے اور اُدھر میں زہر کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کروں گی۔

مذاق لگتا ہے نہ تمہیں۔۔۔میں تمہیں یہ مذاق حقیقت میں بدل کر دکھاؤں گی۔

بے دردی سے گال پے بہتے آنسو پونچھتی ہوئی کمرے سے باہر بھاگ گئی اور خاور کو حیرت کے سمندر میں دھکیل گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *