366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 15)

Aks by Khanzadi

دائم سکون سے اپنے کمرے میں سو رہا تھا کہ اچانک سے کسی نے اس پر پانی الٹ دیا۔

ہڑبڑاتا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا۔

چہرے پے آئے پانی کو ہاتھ سے صاف کیا ماتھے پے بکھرے بال پیچھے کی طرف سمیٹتے ہوئے آنکھیں کھول کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔

یہ کیا کر دیا آپ نے امی؟

کس بات کا بدلہ لے رہی ہیں مجھ سے صبح صبح؟

اچھا بھلا سو رہا تھا اور آپ نے پانی پھینک کر جگا دیا۔

بھلا ایسے بھی کوئی اٹھاتا ہے اپنے بچوں کو؟

نافرمان بچوں کو ایسے ہی اٹھایا جاتا ہے۔۔۔وہ غصے سے چلائی اور پانی کا جگ میز پر رکھتی ہوئی پلٹی۔

میری زندگی میں آگ لگا کر سکون سے کیسے سو سکتے ہو تم؟

بتاؤ مجھے کیوں کیا تم ایسا۔۔۔کیا ضرورت تھی مہک سے نکاح کرنے کی؟

اگر خاور نے انکار کر دیا تھا تو کوئی اور لڑکا مل جاتا اسے۔۔۔تمہیں سب کی نظروں میں اچھا بننے کی کیا ضرورت تھی؟

ساحل بھی تو تھا اس کے دل میں تو نہی آئی ہمدردی اس کے لیے۔۔۔تم ہی کیوں؟

اففففف امی۔۔۔آپ نے یہ سب پوچھنے کے لیے جگایا ہے مجھے؟

میں کل سب کچھ بتا چکا ہوں آپ کو اور ساحل کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں آپ؟

مصباح کو پسند کرتا ہے۔۔۔کیسے کر لیتا مہک سے نکاح؟

اپنی بیٹی کی خوشیوں کی دشمن کیوں بننا چاہتی ہیں آپ؟

بھول کر بھی ایسی بات مصباح کے سامنے نا کر دیجئیے گا خدا کا واسطہ ہے۔

کیا حال بنا دیا میرا صبح صبح۔۔۔نہا کر لیٹا تھا میں تا کہ آفس کے لیے لیٹ نہ ہو جاؤں۔

آفس سے لیٹ تو تم ہو چکے ہو۔۔۔ٹائم دیکھو گیارہ بج رہے ہیں۔

اوہ شٹ۔۔۔دائم نے پریشانی سے گھڑی کی طرف دیکھا اور اٹھ کر کھڑکی سے پردے پیچھے ہٹائے۔

دھوپ کی کرنیں اس کے چہرے سے ٹکرائی تو مسکراتے ہوئے ماں کی طرف پلٹا۔

چھٹی کروا دی ہے آپ نے آج میری۔۔۔الارم لگانا بھی یاد نہی رہا رات کو۔

نکاح کی تیاریوں میں اتنا تھک چکا تھا خیر ایک چھٹی تو بنتی ہے۔

ماں کے پاس آیا اور ان کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے صوفے پے رکھی اپنی شرٹ اٹھا کر پہنی اور ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

امی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں؟

دیکھ رہی ہوں میں کیسے ایک رات میں تم بدل گئے ہو۔۔۔وقت کی پابندی کرنے والا میرا بیٹا نکاح سے اگلے دن چھٹی کر بیٹھا ہے۔

الارم لگانا بھی بھول گیا۔

امی آپ ہر بات کو نکاح سے کیوں جوڑ رہی ہیں٫بھلا میرے لیٹ ہونے کا نکاح کا کیا تعلق ہے؟

تھکا ہوا تھا تو آ کر سو گیا اور صبح نماز کے لیے اٹھا تھا نماز پڑھ کر لیٹ گیا پتہ ہی نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی۔

آپ نے بھی نہی جگایا حالانکہ پہلے کبھی اگر ایسا ہوتا کہ میں نماز پڑھنے کے بعد کمرے سے باہر نہی آتا تھا تو آپ مجھے جگانے آ جاتی تھیں لیکن آج آپ نہی آئی۔

ہاں میں نہی آئی کیونکہ مجھے اب ضرورت ہی محسوس نہی ہوئی۔

اب میرا بیٹا اپنے فیصلے اپنی مرضی سے جو کرنے لگ گیا ہے۔۔۔ماں کی تو ضرورت ہی نہیں رہی۔

کیوں ضرورت نہی رہی۔۔۔کیسی باتیں کر رہی ہیں امی آپ؟

“اولاد کو ماں باپ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔۔۔پھر چاہے بچپن ہو،جوانی ہو یا پھر بڑھاپہ ہی کیوں ناں ہو٫اولاد کو زندگی کے ہر موڑ پر ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے”

جھوٹ۔۔۔سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں تمہیں اگر میری ضرورت ہوتی یا پھر تمہاری زندگی میں ماں کی کوئی اہمیت ہوتی تو کبھی بھی ماں کی مرضی کے بغیر اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ نہ کرتے۔

بچے تو ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا ہوتے ہیں لیکن تم نے تو ابھی سے ماں کو بیگانہ کر دیا۔

میرے پاس کیا ہے؟

ایک ہی بیٹے ہو تم میرے۔۔۔مصباح تو اپنے گھر چلی جائے گی اس کے جانے کے بعد میری ساری امیدیں تم سے وابستہ ہیں لیکن تم نے تو ماں کو پرایا ہی کر دیا۔

میں نے آپ کو پرایا نہی کیا امی۔۔۔آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔

آپ کو تو فخر ہونے چاہیے اپنے بیٹے پر۔۔۔مہک ہمارے گھر کی عزت ہے اس کا تماشہ بنتے نہی دیکھ سکتا تھا میں۔

آپ اچھی طرح جانتی ہیں بچپن سے اس میرے ساتھ بہت زیادہ اٹیچمنٹ ہے جتنی اچھی طرح اسے میں سمجھ سکتا ہوں کوئی اور سمجھ ہی نہیں سکتا۔

میں نہیں جانتا تھا وہ میرے ساتھ اتنی اٹیجڈ کیوں ہے لیکن اس نکاح کے بعد مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ “اللہ نے جن لوگوں کو ایک دوسرے کے لئے بنایا ہوتا ہے وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہی ایک سکون سا محسوس کرتے ہیں۔۔۔ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔”

یہ بات بھی درست تھی کہ میں اس کو چھوٹی بہن سمجھتا تھا اور وہ بھی مجھے بڑا بھائی سمجھتی تھی لیکن حقیقت میں اس کا بھائی تو نہیں تھا ناں میں۔۔۔چاچو کی بیٹی ہے میری وہ اور میں اس کے تایا کا بیٹا۔

کب کون کس کی قسمت میں کب لکھ دیا جائے یہ فیصلہ تو اللہ کا ہے ناں امی۔۔۔تو ہم کون ہوتے ہیں اللہ کے بنائے ہوئے رشتوں پر اعتراض اٹھانے والے؟

اس نے میں غلط بھی کیا ہے یہ تو اچھی بات ہے ناں۔۔۔؟

آپ کی بہت عزت کرتی ہے وہ اور بابا کی بھی لاڈلی ہے۔

ایک منٹ کے لئے سوچیں اگر آپ کل کو آپ اپنی مرضی سے بہو لے آتی یا میں اپنی پسند سے کسی اور سے شادی کر لیتا تو اس کو قبول کرتی ناں آپ؟

ہو سکتا ہے وہ ہمارے حق میں بہتر نہ ہوتی پھر کیا کرتی آپ؟

یہ تو ہماری اپنی ہے ہماری آنکھوں کے سامنے پلی بڑی ہے سمجھنے کی کوشش کریں امی۔ آپ ایک ایسی ضد کر رہی ہیں جو ناممکن ہے۔ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا ہے اس طرح مجھے ڈانٹنے سے یا خود کو تکلیف دینے سے اس مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔

اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ آپ اس رشتے کو قبول کر لیں۔۔۔جانتا ہوں تھوڑا وقت لگے گا لیکن آپ کو یہ کرنا ہی پڑے گا۔

ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آرہی آخر آپ کو مہک سے مسئلہ ہی کیا ہے؟

آپ کے دیور کی بیٹی ہے کوئی غیر نہیں جو آپ ایسا سلوک کر رہی ہیں اس کے ساتھ اور آپ سے کس نے کہہ دیا کہ مہک کو زندگی میں شامل کرنے سے میں نے آپ کو پرایا کر دیا ہے؟

آپ میری ماں ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔۔۔ہم دونوں کوئی الگ نہیں کر سکتا مہک تو بالکل بھی نہیں۔

آپ کا اور میرا رشتہ کوئی دوستی کا رشتہ نہیں ہے جو ٹوٹ جائے گا آپ میری ماں ہیں میری جنت۔۔۔۔میں آپ کا بیٹا ہی اور آپ کا ہی رہوں گا۔

آپ جانتی ہیں مہک کیا کنڈیشن ہے اس وقت وہ خود بہت بڑی مشکل میں تھی اگر میں نکاح نہ کرتا تو شاید وہ سایہ۔۔۔جن یا جو کچھ بھی ہے ہمیشہ اس کے پیچھے پڑا رہتا۔

اسے مہک دور کرنے کے لیے مجھے اس کا ہاتھ تھامنا پڑا۔

پتہ نہیں کون سی مخلوق ہے وہ جس سے وہ اکیلی لڑ رہی ہے ایک منٹ کے لئے سوچیں اگر مہک کی جگہ مصباح ہوتی تو کیا اس کے لئے بھی ایسا ہی سوچتی آپ؟

اگر اس کے نکاح والے دن اس کا دلہا نکاح سے انکار کر دیتا تو کیا آپ ساری زندگی اس اذیت سے باہر نکل سکتی تھی؟

نہی ناں۔۔۔تو پھر مہک کے لیے آپ کا دل پتھر کیوں ہے؟

میرا دل اس کے لیے پتھر نہیں ہے دائم لیکن تم خود سوچو وہ جن یا سایہ جو بھی اس کے پیچھے لگا ہے کل کو اس نے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیا تو میں کیا کروں گی؟

میں بھی ایک بیٹی کی ماں ہوں اچھا برا سمجھتی ہوں لیکن تم میری اکلوتے بیٹے ہو۔ میں کیسے کسی بیمار لڑکی کے ساتھ اپنے بیٹے کی شادی کر دوں؟

وہ بیمار نہیں ہے امی۔۔۔اس پر سایہ ہے بیمار ہونے اور سایہ ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اسے کوئی بیماری نہیں ہے لیکن اگر ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے تو وہ ضرور بیمار ہو جاتی۔

تمہیں کیوں اس کی اتنی فکر رہتی ہے دائم؟ اور یہ اب سے نہیں ہے بلکہ شروع سے ہی ایسا ہے۔

جب دیکھو تم ادھر ہی گئے ہوئے تھے وہ اس گھر میں بھی ہوتی تھی تو تم اسی کے پاس ہوتے تھے کبھی اس کو پڑھا رہے ہوتے تھے تو کبھی کچھ کبھی اس کی ناراضگیاں دور کرنے کے لیے اس کی فرمائشیں پوری کر رہے ہوتے تھے۔

کبھی تمہاری چچی نے تمہارے لیے کچھ بنایا ہوتا تھا کھلانے کے بہانے تمہیں بلا لیتی تھی تو کبھی اس محترمہ کو اکیڈمی چھوڑنے والا کوئی نہی ہوتا تھا۔

دونوں ماں بیٹی نے مل کر میرا بیٹا مجھ سے چھین لیا کبھی معاف نہیں کروں گی میں ان کو۔

دائم نے بے بسی سے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے سوچنے کے انداز میں ماں کی طرف دیکھا امی کیا ہو گیا ہے آپ کو؟

یہ کس طرح کی باتیں کر رہی ہیں آپ چچی جان کا اس میں کیا قصور ہے؟

آپ خواہ مخواہ ان پر الزام ڈال رہی ہیں۔آپ جو سوچ رہی ہیں ویسا کچھ بھی نہیں ہے اگر واقعی ایسا کچھ ہوتا تو میں مہک کا نکاح خاور سے نہ ہونے دیتا۔

اگر میرے دل میں مہک کے لیے کچھ ہوتا تو میں خود ان دونوں کے رشتے کی بات دادو سے کیوں کرتا؟

بہت زیادہ غلط فہمیاں پال ہوئی ہیں آپ نے۔۔۔میں نے یہ نکاح کسی کی باتوں میں آ کر نہیں کیا بلکہ اپنی مرضی سے کیا ہے اور پلیز اس ٹاپک کو آج یہی ختم کر دیں۔

میں روز روز آپ کو ایک ہی بات نہیں سمجھا سکتا۔۔۔جب سے نکاح ہوا ہے آپ نے ایک ہی ضد لگائی ہوئی ہے چھوڑ دیں اس بات کو جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔

دوبارہ یہ ٹاپک مت چھیڑیئے گا۔۔۔ناشتہ بنا دیں میرا میں تیار ہو کر آ رہا ہوں،گھر بیٹھنے سے بہتر ہے کہ میں آفس چلا جاؤں کیونکہ اگر میں یہاں بیٹھا رہا تو شام تک آپ سے بحث ہی کرتا رہوں گا۔

الماری سے اپنے کپڑے نکالتا ہوا واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

دیکھو تو سہی کیسے زبان درازی کر رہا ہو ماں کے ساتھ مجھے تو لگتا ہے تم میرے بیٹے ہی نہیں ہو کوئی اور ہو۔۔۔وہ آنسو بہاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی

دروازہ بند ہونے کی آواز سن کر دائم فوراً واش روم سے باہر آیا صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا اور پریشانی سے سر تھام لیا کیا ہوگیا ہے امی کو۔

پتا نہیں کیا کچھ سوچ رہی ہیں چچی جان کے بارے میں۔۔۔بہت غلط فہمیاں پال رکھی ہیں ان کے بارے میں۔

پتہ نہیں یہ سب کچھ کیسے صحیح ہو گا سوچ سوچ کر میرا دماغ پھٹ رہا ہے۔

وہ اپنی ہی سوچ میں گم تھا کہ اچانک اس کی نظر کھڑکی کے پردے پر پڑی۔۔۔اسے پردے میں تھوڑی سی سرسراہٹ محسوس ہوئی۔

حیرت زدہ سا اٹھ کر پردے کی طرف بڑھا اور گردن گھما کر ادھر اُدھر دیکھا لیکن کمرے میں کوئی نہیں تھا۔

کھڑکی بند ہے تو پھر ہوا کہاں سے آئی یہ بات اسے پریشان کر رہی تھی۔

چند لمحوں میں ہی وہ سمجھ گیا کہ کمرے میں اس کے سوا کوئی اور بھی ہے۔

سامنے کیوں نہیں آتے؟

بزدلوں کی طرح چھپ کر کیا دیکھ رہے ہو؟

اگر ہمت ہے تو سامنے آ کر مقابلہ کرو میرا۔

دائم کی بات پر شایان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اچھا تو آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے سامنے آئیں؟

اس آواز پر پر دعائیں نے چاروں طرف دیکھا لیکن کمرے میں کوئی نہیں تھا لیکن اسے آواز اپنے کان کے بالکل قریب سے آئی۔

دائم نے آنکھیں بند کی اور قرآنی آیات کا ورد شروع کر دیا۔

شایان کو اس سے خوف محسوس ہونا شروع ہو گیا اور وہ طیش میں آ گیا۔

کیا پڑھ رہے ہو تم۔۔۔یہ پڑھنا بند کرو۔

سنا نہی تم نے ہم نے کیا کہا؟

ہم نے کہا اسے پڑھنا بند کر دو ورنہ ہم ہر چیز جلا کر راکھ کر دیں گے۔

وہ چیختا چلاتا رہا لیکن دائم نے ہار نہ مانی اور اونچی آواز میں دعائیں پڑھتا رہا یہاں تک کہ اسے شایان کی آواز سنائی دینا بند ہو گئی۔

اس نے پڑھتے پڑھتے آنکھیں کھولی اور الحمدللہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

_______________________

مہک کالج گیٹ پر آئی تو دائم گاڑی سے ٹیک لگائے اس کا انتظار کر رہا تھا۔

اسے دیکھتے ہی مہک نے سر نفی میں ہلایا اور کالج کے اندر واپس آ گئی۔

نہی نہی میں ان کے ساتھ نہی جا سکتی بلکل بھی نہی۔

اگر شایان نے دیکھ لیا تو بہت برا ہو گا۔۔۔وہ یہی ہے اور مجھے دیکھ سکتا ہے۔

دائم نے اسے پریشانی میں واپس جاتے دیکھا تو فورآ اس کا نمبر ڈائل کیا۔

موبائل پر دائم کا نمبر دیکھ کر مہک نے نا چاہتے ہوئے بھی اس کی کال پک کر لی۔

ہاں جی۔۔۔کیا مسئلہ ہے میڈم؟

میں آپ کے انتظار میں کھڑا ہوں اور تم مجھے دیکھ کر اندر واپس چلی گئی ہو۔

گھر جانے کا ارادہ ہے یا نہی؟

آپ کسی اور کو بھیج دیں پلیز۔۔۔میں آپ کے ساتھ نہی جا سکتی۔

مہک نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔

کیا مطلب میرے ساتھ نہی سکتی؟

ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہو مہک؟

پہلے کبھی میرے ساتھ گھر نہی گئی جو آج مجھے دیکھ کر واپس چلی گئی ہو۔

باہر آؤ جلدی میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔دائم نے کال کاٹ دی۔

مجبوراً مہک کو باہر آنا پڑا۔۔۔وہ ڈرتی ڈرتی چاروں طرف نظریں گھماتی ہوئی گاڑی تک آئی۔

بیٹھو۔۔۔دائم نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔

آپ سمجھ نہی رہے۔۔۔میں آپ کے ساتھ نہی جا سکتی۔

کیوں نہی جا سکتی میرے ساتھ۔۔۔آخر مسئلہ کیا ہے مہک؟

دائم نے غصے سے دروازہ بند کیا اور مہک کی طرف پلٹا۔

بچوں والی حرکتیں کیوں کر رہی ہو؟

وہ یہی ہے۔۔۔مہک رازدانہ انداز میں بولی۔

کون۔۔۔؟

دائم ناسمجھی سے بھنویں اچکاتے ہوئے بولا۔

شایان۔۔۔

مہک کے جواب پر دائم نے غصے سے اسے دیکھا اور دوبارہ دروازہ کھولا۔۔۔بیٹھو چپ چاپ۔

مہک نا چاہتے ہوئے بھی چپ چاپ بیٹھ گئی کیونکہ دائم کا غصہ دیکھ کر ڈر چکی تھی۔پورے راستے دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔دائم اسے سیدھا دادو کے پاس لے آیا۔

آپ مجھے یہاں کیوں لے آئے؟

گھر چھوڑ دیتے۔۔۔وہ مزید بولتی رہتی اگر دائم اسے نہ دیکھتا۔

چپ چاپ اس کے پیچھے چلتی گئی۔

وہ دونوں دادی کے کمرے کے پاس پہنچے ہی تھے کے کسی کے چیخنے کی آواز سنائی۔

دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور دائم نے اپنے پورشن کی طرف دوڑ لگا دی سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اوپر پہنچا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *