Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 30)
Rate this Novel
Aks (Episode 30)
Aks by Khanzadi
مہک زنجیروں میں جکڑی کسی اندھیری کھائی میں گری ہوئی تھی۔
مہک۔۔۔اٹھو۔
مہک۔۔۔تم میری آواز سن رہی ہو ناں،میں نے کہا اٹھو جلدی۔
دائم چلا رہا تھا لیکن مہک ایسے بے سدھ پڑی تھی جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔
اچانک سے دائم کو کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔۔۔کوئی چلتا ہوا مہک کے پاس آ کر رکا لیکن دائم اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔
اچانک سے سارا منظر دھندلا گیا اور دائم کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا پھیل گیا۔
اس کی آنکھ کھلی تو وہ صوفے پر لیٹا ہوا تھا۔بے چین سا اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔
یہ سب کیا تھا؟
اب اس خواب کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟
اس کا مطلب۔۔۔یعنی میرا وہم غلط نہیں ہے۔مہک واقعی مشکل میں ہے۔
کیا کروں میں،کیسے پہنچوں اس تک۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
اب بس ایک ہی راستہ ہے میرے پاس۔۔۔اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا میں۔
اٹھ کر وضو کیا اور جائے نماز بچھائے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے بیٹھ گیا۔
“یا اللہ تیرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے”،بے شک آپ ہی میری مدد کر سکتے ہیں۔میری بیوی کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا۔۔۔میری امانت کی حفاظت فرما اے رب۔
نا جانے کتنے ہی گھنٹے جائے نماز پر بیٹھا دعائیں مانگتا رہا یہاں تک کہ فجر کی اذان کی آواز کانوں میں سنا دی۔
جائے نماز کو تہہ لگا کر الماری میں رکھا اور مسجد کی طرف چل دیا۔
نماز ادا کی اور امام صاحب کے پاس بیٹھ گیا۔
صبر کرو بیٹا۔۔۔اللہ پر چھوڑ دو اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے ہمارے پاس۔
دائم نے بے بسی میں سر ہلایا۔۔۔آپ نے استخارہ کیا؟
ہاں بیٹا میں نے استخارہ کیا ہے لیکن کوئی اچھی خبر نہیں ہے تمہارے لیے۔۔۔تمہیں ہمت سے کام لینا پڑے گا۔
تمہاری بیوی مصیبت میں ہے اور اس وقت اسے تمہاری دعاؤں کی ضرورت ہے۔۔۔جہاں تک ہو سکے دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھو۔
بس تسلی دے سکتا ہوں میں تمہیں۔۔۔باقی جو کچھ میرے بس میں تھا کر چکا ہوں۔
اس سے آگے جو مالک کی رضا۔۔۔
اس کا مطلب میرا خواب بلکل سہی تھا۔۔۔دائم دونوں ہاتھ آنکھ پر رکھتے ہوئے بولا اور گہری سانس لی۔
ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی امام صاحب۔۔۔اگر اسے یہی سب کچھ کرنا تھا تو پھر اس نے یہ مسجد آنے کا ڈرامہ کیوں کیا؟
پھر اس کے یہاں آنے کا کیا مقصد تھا؟
نہی بیٹا۔۔۔اس کا مسجد آنا کوئی ڈرامہ تھا۔وہ واقعی ہی دین کی تعلیمات حاصل کرنا چاہتا تھا وہ بھی سچے دل سے اور اس نے ایسا کیا بھی لیکن اچانک اسے کیا ہوا یہ تو میری سمجھ سے بھی باہر ہے۔
مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ اس سازش کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے،میرا دل کہتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔
بحر حال جو بھی ہے۔۔۔وہ زیادہ دن اسے قید نہیں رکھ سکے گا،رب کے کلام میں بڑی طاقت ہے۔
تم اللہ سے دعا کرتے رہو اور جتنا ہو سکے صدقہ و خیرات کرو۔۔۔بے شک صدقہ بلا کو ٹالتا ہے۔
وہ جس طرح بچی کو لے کر گیا اسی طرح واپس چھوڑ کر جائے گا۔
ہمممم۔۔۔دائم نے سر اثبات میں ہلایا اور خدا حافظ کہتے ہوئے گھر کے لیے چل دیا۔
مہک کے کمرے میں داخل ہوا تو اس کے بابا شیشے کے سامنے کھڑے بے بس سے شیشے کو دیکھ رہے تھے۔
دائم آگے بڑھا اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
وہ دائم کی طرف پلٹے اور اسے گلے سے لگا لیا۔
اپنے آپ کو سنبھالیں چاچو۔۔۔مہک کو کچھ نہیں ہو گا میرا وعدہ ہے آپ سے،میں اسے واپس لاؤں گا۔
دائم انہیں تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے دائم سے الگ ہو گئے۔
پتہ نہیں کیوں دائم لیکن مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں نے اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے۔
دل کو جتنی بھی تسلیاں دے دوں یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔
کوئی راہ نظر ہی نہیں آ رہی۔۔۔دوپہر سے شام۔۔۔شام سے رات اور رات سے صبح ہو چکی ہے لیکن میری بیٹی کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔۔۔میں قصور وار ہوں اپنی بیٹی کا،جس وقت مجھے اس بارے میں پتہ چلا تھا میرا کام تھا کہ سب سے پہلے میں دوسرے گھر کا انتظام کروں لیکن میں اپنی مصروفیات میں ایسا الجھا ہوا تھا کہ اس طرف دھیان ہی نہیں دیا۔
کاش میں نے تھوڑا سا دھیان دیا ہوتا تو آج میری بیٹی میرے پاس ہوتی۔
خود کو قصور وار مت سمجھیں چاچو جان۔۔۔سارا قصور میرا ہے،مجھ سے ایک بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔
میں نے اس جن کا بھروسہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔۔اس کی باتوں سے لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ مجھے دھوکہ دے گا۔
اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مہک کو یا گھر کے کسی اور فرد کو تکلیف نہیں پہنچائے گا لیکن وہ اپنے وعدے سے بڑی آسانی سے مکر گیا۔
میں کچھ زیادہ ہی لاپرواہ ہو گیا تھا اس کی طرف سے،مجھے لگا اپنے اصولوں کی طرح اپنے وعدے کا بھی پکا ہو گا لیکن وعدہ خلافی کرنے میں تو وہ انسانوں سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گیا۔
میں اس کو مسجد کے کر گیا۔۔۔امام صاحب سے کلمہ پڑھوایا،انہوں نے اسے نماز سکھائی اور ترجمہ و تفسیر کے ساتھ قرآن پڑھایا۔
ان سب کے باوجود بھی وہ اپنا یہاں آنے کا مقصد نہیں بھولا۔۔۔جس مقصد کے لیے یہاں آیا تھا اپنا مقصد حاصل کر کے چپ چاپ یہاں سے فرار ہو گیا۔
اس کے لیے دین،ایمان کچھ بھی نہیں تھا شاید۔۔۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ کبھی بھی ایسی گھٹیا حرکت نا کرتا۔
امام صاحب کو تو ابھی بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔کچھ ایسا یقین بنایا ہے اس نے اپنے استاد کی نظروں میں۔
ایک منٹ کے لیے میں ایسا سوچ بھی لوں کہ یہ سب اس نے نہیں کیا تو پھر کیا کس نے اور وہ اچانک سے کہاں گیا؟
ان دو سوالوں نے مجھے الجھا کر رکھ دیا ہے۔
آج کل تو انسان بھروسے کے لائق نہیں ہے بیٹا اور تم ایک جن پر بھروسہ کر بیٹھے۔۔۔خیر گھر جاؤ فریش ہو کر آفس پہنچنے کی تیاری کرو۔
اللہ نے چاہے تو سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللہ۔۔۔اگر یہاں بیٹھے رہو گے تو پریشانی مزید بڑھے گی تمہاری۔
لیکن چاچو جان۔۔۔
لیکن ویکن کچھ نہیں بیٹا۔۔۔اماں جان بہت پریشان ہیں تمہارے لیے،انہوں نے مجھے بھیجا ہے تمہیں سمجھانے کے لیے۔
وہ بتا رہی تھیں کہ تم پوری رات یہی رہے ہو؟
جی چاچو جان۔۔۔میں کل سے یہی پر ہوں اور جا بھی کہاں سکتا ہوں؟
آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن میرے دل کو سکون ہی نہیں مل رہا۔
مل جائے گا سکون۔۔۔فی الحال جو کہا ہے وہ کرو بیٹا،اماں جان سے مل کر جانا۔۔۔آفس میں ملتے ہیں۔
وہ دائم کا کندھا تھپکتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
دائم بھی پلٹ کر ایک نظر شیشے کو دیکھتے ہوئے گہری سانس لیتے ہوئے بے بس سا کمرے سے نکل گیا۔
______________________
رات کا اندھیرا جا چکا تھا۔۔۔ہر طرف سورج کی روشنی پھیل چکی تھی۔
مہک کی آنکھوں میں روشنی چبھی تو آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا اور پھر آہستہ آہستہ آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے روشن دان سے اندر داخل ہوتی روشنی کو دیکھ کر چونک گئی۔
تیزی سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن درد کی شدت سے اٹھ ہی نا سکی۔
پانی۔۔۔کوئی ہے؟
مجھے پانی پینا ہے۔۔۔کوئی ہے یہاں؟
ہم ہیں ناں یہاں آپ کے پاس۔۔۔اچانک سے وہ مہک کے قریب آ کر بیٹھ گیا اور اس کی طرف پانی کا کٹورا بڑھایا۔
مہک ڈر کر اٹھ کر بیٹھ گئی اور سر نفی میں ہلایا۔
مجھے نہی پینا۔۔۔مجھے بس اپنے گھر جانا ہے۔
جتنا کہا ہے اتنا کرو چپ چاپ یہ پانی پیو۔۔۔اور گھر جانے کا تو سوچنا بھی مت۔
تمہارا جینا مرنا جو بھی ہو،بس اب یہی تمہارا گھر ہے۔
تمہیں یہی زندہ رہنا اور مرنا بھی یہی ہے۔
مہک نے اس کے ہاتھ سے پانی کا کٹورا لیا اور دور پھینک دیا سارا پانی مٹی میں جذب ہو گیا۔
اس نے غصے سے مہک کی طرف دیکھا۔۔۔اس کی آنکھوں میں سرخ روشنی جگمگائی لیکن اگلے ہی پل وہ روشنی غائب ہوئی اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
مہک ڈر کر دیوار سے جا لگی اور گہری سانس لیتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھا کہ شاید یہاں سے فرار کی کوئی راہ نظر آ جائے۔
“کون ہو تم؟”
زور سے چلائی۔
کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا جو تم نے مجھے قید کر کے رکھا ہے؟
آخر تمہاری دشمنی کیا ہے مجھ سے؟
مہک اس سے جتنا دور ہوئی وہ اتنا ہی اس کے نزدیک ہوا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا دیا۔
دھیان سے،آئیندہ ایسی غلطی کرنے سے پہلے سوچ لینا۔۔۔ہم شایان نہیں ہیں جو تمہارے نخرے اٹھائیں گے،ہمارا نام ایونن ہے۔
ایونن۔۔۔؟
مہک نے اس کا نام دہرایا اور ایک نظر اسے سر تا پاؤں دیکھا۔
لیکن میں تمہیں نہیں جانتی۔۔۔مجھ سے کس بات کا بدلہ لے رہے ہو؟
مہک کے سوال پر وہ قہقہ لگاتے ہوئے کھڑا ہو گیا اور پھر تیزی سے نیچے بیٹھ گیا۔۔۔ہماری دشمنی تم سے نہیں بلکہ شایان سے ہے۔
شایان سے۔۔۔لیکن کیوں؟
اس کیوں کا جواب تم خود ہو لڑکی۔۔۔خود سے کیوں نہیں پوچھتی اس سوال کا جواب۔
میں کچھ نہیں جانتی تم کس بارے میں بات کر رہے ہو۔۔۔کبھی کہتے ہو شایان سے دشمنی ہے اور کبھی کہتے ہو مجھ سے٫آخر تم چاہتے کیا ہو؟
ہم ادینہ کے بھائی ہیں۔۔۔!
شایان نے ہماری بہن کو دھوکا دیا ہے۔۔۔صرف اور صرف تمہاری وجہ سے۔
ادینہ۔۔۔مہک سوچ میں پڑ گئی اور پھر گھبراتے ہوئے ایونن کی طرف دیکھا۔
کیا دھوکا دیا ہے شایان نے اسے؟
ابھی بھی ہمیں تمہیں سمجھانا پڑے گا کہ شایان نے کیا کیا ہے ہماری بہن کے ساتھ؟
چلو ہم تمہیں سمجھاتے ہیں۔۔۔وہ مہک کو گھورتے ہوئے جنونی انداذ میں بولا۔
شایان اور ادینہ بچپن سے دوست ہیں لیکن اب ادینہ اس سے پیار کرنے لگی تھی،سب کچھ اچھا چل رہا تھا۔
وہ شایان سے اپنے دل کی بات کہنے ہی والی تھی کہ درمیان میں آ گئی تم۔
وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تمہاری دنیا میں بس گیا۔۔۔اس نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ ادینہ کا کیا ہو گا۔
نہی سوچا اس نے۔۔۔لیکن اب اسے سوچنا پڑے گا۔
ایسی چال چلی ہے کہ چاہ کر بھی واپس نہی جا سکے گا کیونکہ جس کے لیے اسے جانا تھا وہ تو ہمارے پاس ہے۔
لیکن اس سب میں میرا کیا قصور ہے؟
میں نے تو نہی کہا تھا شایان سے کہ مجھ سے محبت کرے اور ادینہ کو چھوڑ کر میرے پاس آ جائے۔
ہم جانتے ہیں کہ تم نے نہیں کہا تھا اسے لیکن وجہ تو تم ہی ہو ناں۔۔۔ہم نے شایان سے وہ وجہ ہی چھین لی۔
تمہاری وجہ سے ہماری بہن مر رہی ہے اور تمہیں لگتا ہے ہم تمہیں ایسے ہی چھوڑ دیں گے۔
اب وہ ادینہ کو چھوڑ کر کہی نہی جائے گا۔۔۔ہمیشہ ہماری قید میں رہے گا۔
تم نے شایان کے ساتھ کیا کیا ہے؟
وہ ٹھیک تو ہیں ناں؟
بتاؤ مجھے۔۔۔دیکھو تم ابھی سچ نہیں جانتے،جلد بازی میں کوئی ایسا فیصلہ مت کرنا جس کے لیے تمہیں بعد میں پچھتانا پڑے۔
شششش۔۔۔ایک دم چپ!
ایونن نے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے مہک کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
تمہاری شایان کے لیے یہ تڑپ ہم سے برداشت نہی ہو رہی۔۔۔بلکل چپ ہو جاؤ۔
کچھ نہیں کیا ہم نے اس کے ساتھ٫وہ بلکل ٹھیک ہے اپنے محل میں آرام کر رہا ہے۔
آرام کر رہا ہے؟
مہک نے اس کی بات دہرائی۔
نہی ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔میں تکلیف میں مبتلا ہوں اور وہ آرام کریں یہ ممکن ہی نہیں ہے۔
تم نے ضرور ان کے ساتھ کچھ کیا ہے۔۔۔بتاو مجھے کہاں ہیں شایان؟
ہم نے کہا نا چپ ہو جاو۔۔۔اگر اب تم نے شایان کی ہمدردی میں ایک بھی لفظ اور بولا تو ہم تمہاری جان لے لیں گے۔
تمہیں میری جان لینی ہے لے لو لیکن میری ایک بات یاد رکھنا۔۔۔شایان تمہیں نہیں چھوڑے گا۔
تم مجھے جتنی تکلیف دینا چاہتے ہو دو۔۔۔جس حد تک گر سکتے ہو گر جاؤ لیکن اپنے بچنے کے لیے کوئی مقام بھی ڈھونڈ کر رکھو کیونکہ جب شایان آئے گا تمہیں سر چھپانے کے لیے ٹھکانہ نہی ملے گا۔
وہ غصے میں مہک کی طرف بڑھا اور پوری قوت سے اس کے چہرے پر تھپڑوں کی برسات کرتا چلا گیا۔۔۔وہ تب تک نہیں رکا جب تک مہک ہوش و حواس سے بیگانی نہی ہو گئی۔
اسے بے سدھ زمین پر گرتے دیکھ کر ایونن کا غصہ تھوڑا کم ہوا۔۔۔ایسی ہی اچھی لگتی ہو خاموش،ہمیں خاموشی پسند ہے صرف خاموشی۔
___________________________
شایان کی آنکھ کھلی۔۔۔وہ اپنے محل میں اپنے بستر پر موجود تھا۔
اچانک سے چونک کر بیٹھ گیا۔۔۔اچھی طرح کمرے کا جائزہ لیا۔۔۔ہم محل میں ہیں۔
ہم یہاں کب آئے؟
ہم تو مہک۔۔۔مہک کے نام پر بستر سے نیچے اتر کر کھڑا ہو گیا۔
ہم تو مہک کو بچانے آئے تھے۔۔۔کون تھا وہ جو انہیں تکلیف پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا،ہمیں اسے دیکھ ہی نہیں پائے اور اس کے بعد ہمیں کچھ یاد کیوں نہیں آ رہا۔
تیزی میں شیشے کی طرف بڑھا اور شیشے پر ہاتھ رکھا کر آنکھیں بند کی لیکن اسے کچھ دکھائی ہی نہی دیا۔
سب کچھ اتنا دھندلا ہے کہ ہم کچھ دیکھ ہی نہی پا رہے،کچھ تو غلط ہوا ہے ہمارے ساتھ۔
مہک ضرور کسی مصیبت میں ہے۔۔۔ہم کیسے پہنچیں اس تک۔۔۔کیسے؟
اپنے بھاری ہوتے سر کو تھامتے ہوئے واپس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔یہ ہمارا سر اتنا کیوں چکرا رہا ہے۔
کسی نے ہمیں برابر کی ٹکر دی ہے،ایسا کون ہو سکتا ہے جس نے ہمیں مات دے دی؟
لکڑی کا بھاری بھرکم دروازہ کھلنے کی آواز پر شایان دروازے کی طرف متوجہ ہوا۔
راجا صاحب سپاہیوں کی لمبی قطار کے ساتھ شایان کے کمرے میں داخل ہوئے۔
انہیں آتے دیکھ کر شایان تیزی سے کھڑا ہوا اور ان کی طرف بڑھ کر دایاں ہاتھ کمر کے پیچھے رکھ کر سر کو تھوڑا جھکایا۔
راجہ صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے سپاہیوں کو کمرے سے باہر جانے کا اشارہ دیا اور شایان کی طرف بڑھے۔۔۔اس کی ضرورت نہیں شایان کیونکہ آپ ہماری عزت پہلے ہی تار تار کر چکے ہیں۔
اگر آپ کو واقعی ہماری شان و شوکت کا خیال ہوتا تو آپ کبھی بھی ایسا قدم نہی اٹھاتے۔
ہمیں معاف کر دیجئے راجا صاحب۔۔۔ہم مجبور تھے۔
ایسی کیا مجبوری تھی آپ کی شایان جو آپ نے اپنے باپ کی بجائے انسانوں پر بھروسہ کرنا ضروری سمجھا؟
ہم کیا آپ کے دشمن تھے؟
ایک انسان کے لیے آپ نے ہمیں نیچا دکھایا٫آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہم کس کرب سے گزرے ہیں۔
اور کیا فایدہ ہوا آپ کو انسانوں پر بھروسہ کرنے کا؟
اس لڑکی نے خود آپ کو ہمارے حوالے کیا ہے۔
کیا۔۔۔۔؟
شایان حیرت زدہ سا انہیں دیکھتا ہی رہ گیا۔
یہ نہی ہو سکتا۔۔۔مہک ایسا نہیں کر سکتی۔
وہ انسان ہے اور انسان کچھ بھی کر سکتے ہیں شایان۔۔۔اس لڑکی نے آپ کو دھوکا دیا ہے اور آپ کی واپسی کے سارے راستے خود بند کیے ہیں۔
یہ نہی ہو سکتا۔۔۔شایان نے سر نفی میں ہلایا۔
ایسا ہوا ہے شایان۔۔۔اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں ہے تو خود دیکھ لیجیۓ۔
وہ شیشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور سامنے کا منظر دیکھ کر شایان حیران رہ گیا۔
میں تو خود شایان سے جان چھڑانا چاہتی ہوں،تم میری مدد کرو۔
سامنے مہک اور ادینہ کھڑی تھیں۔۔۔
ٹھیک ہے ہم تمہاری مدد کریں لیکن جیسا ہم کہیں گے تمہیں ویسا ہی کرنا پڑے گا۔
ادینہ مہک کی گردن دبوچے کھڑی تھی لیکن جیسے ہی شایان وہاں پہنچا اس کا وجود کالے دھویں میں بدل گیا۔
شایان مہک کو بچانا چاہ رہا تھا لیکن کسی نے اس پر اچانک حملہ کیا اور اس کے بعد شایان کی آنکھ محل میں کھلی۔۔۔شایان کو آہستہ آہستہ سب یاد آ رہا تھا۔
وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے؟
ہم نے اس سے سچی محبت کی ہے اور اس نے ہمیں دھوکا دیا۔
یہی حقیقت ہے شایان۔۔۔راجا صاحب اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔
شایان نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔ہم کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتے ہیں۔
ہاں ٹھیک ہے جیسے آپ کو اچھا لگا۔۔۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے،آپ وقت لیں جتنا لینا ہے لیکن جتنی جلدی ہو سکے اس حقیقت کو تسلیم کر لیں یہی آپ کے لیے بہتر ہے اور ہمارے لیے بھی۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے،مہک ہمیں دھوکا کیسے دے سکتی ہے؟
ہم نے اسے بتایا تھا ہم کچھ دن تک اس سے دور چلے جائیں گے اس کے بعد بھی۔۔۔نہی ہمارا دل نہیں مان رہا۔
کچھ تو ہے جو ہم سمجھ نہیں پا رہے۔۔۔ہمیں ایک آخری بار مہک سے ملنا ہے،وہ ہمیں ایسے اپنی زندگی سے نہی نکال سکتی۔
اٹھ کر پھر سے شیشے کی طرف بڑھا لیکن کچھ حاصل نہیں ہو سکا۔۔۔دروازہ کھٹکنے کی آواز پر دروازے کی طرف متوجہ ہوا۔
جاری ہے۔۔۔۔
