366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 04)

Aks by Khanzadi

مہک اور دائم دونوں حیرت زدہ سے شیشے کی طرف بڑھے اور دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی کیونکہ شیشہ تو بلکل ٹھیک تھا۔

دائم بھائی دیکھا آپ نے؟

مہک حیرت زدہ سی چلائی۔

شیشہ ٹوٹنے کی آواز سنی تھی ناں آپ نے؟

ہاں مہک۔۔۔آواز تو میں نے سنی ہے لیکن یہ شیشہ تو بلکل ٹھیک ہے٫ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

بھائی میں سہی کہہ رہی ہوں آپ سے پلیز مجھے بچا لیں۔۔۔اس گھر میں واقعی کوئی ہے اور اس کا ثبوت آپ کے سامنے ہے۔

ہممم۔۔۔کرتا ہوں کچھ تمہارے لیے۔۔۔چاچو سے بات کرنی پڑے گی۔

اس گھر میں رہنا مناسب نہیں ہے کسی اور گھر کا انتظام کرتا ہوں میں۔۔۔تم ڈرو مت۔

اگر تم ڈرو گی تو یہ چیز تمہیں مزید ڈرائے گی۔اپنے ڈر سے جیتنا سیکھو۔

کیسے نہ ڈروں دائم بھائی آپ نے آواز سنی تھی ناں؟

سب کچھ آپ کے سامنے ہے اور آپ پھر بھی مجھے نہ ڈرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ڈر چکے ہیں اور یہ ڈر آپ کے چہرے پر واضح نظر آ رہا ہے۔

ڈر کے آگے جیت ہے والی کہانی مجھے نہ سنائیں۔

مہک کی اتنی لمبی تقریر سن کر دائم نے حیرت سے اسے دیکھا اور مسکرا دیا۔۔۔ہاں یہ بات سچ ہے کہ میں بھی ڈر چکا ہوں لیکن میں اپنا ڈر تم پر واضح کر کے تمہیں مزید ڈرانا نہی چاہتا۔

اسی لئیے سمجھا رہا تھا تاکہ تم بہادر بن سکو۔

بہادر تو میں بہت ہوں بھائی لیکن صرف انسانوں تک۔۔۔میرا ڈر جائز ہے کیونکہ یہ کوئی انسان نہی کوئی اور مخلوق ہے ایسی مخلوق جسے میں دیکھ بھی نہیں سکتی۔

تو تم ان سے ریکوسٹ کیوں نہی کرتی کہ وہ تمہارے سامنے آئیں۔۔۔دائم نے اس کی بات مزاق میں ڈال دی۔

مذاق سوجھ رہا ہے آپ کو؟

مہک رونے ہی والی تھی کہ اس کی امی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔میں کسٹرڈ لا رہی تھی اور میرے ہاتھ سے برتن گر گئے۔

تم دونوں دھیان سے باہر آنا اور آنکھیں کھول کر چلنا باہر کانچ بکھرا پڑا ہے۔

وہ دونوں کو حیران کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

دونوں حیرت زدہ سے کمرے سے باہر آئے اور فرش پر بکھرے کانچ کو دیکھ کر واپس اندر آئے اور دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔

افففف دائم بھائی آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔۔۔شیشہ ٹوٹنے اور برتن ٹوٹنے کی آواز میں فرق ہوتا ہے۔

میں نے نہیں تم نے مجھے ڈرایا ہے چڑیل کہی کی۔۔۔جیسے ہی شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی تم نے فوراً ادھر دیکھا تو میرا دھیان بھی ادھر لگ گیا۔

اس شیشے کو سر پر اتنا سوار کر لیا ہے تم نے کہ تمہیں اس کے علاوہ کچھ اور دکھائی ہی نہی دے رہا۔

ایک سیکنڈ کے لیے تو میں بھی ڈر گیا تھا وہ تو شکر ہے اللہ کا کہ چچی جان وقت پر آ گئی ورنہ میں پوری رات یہی بیٹھا رہتا۔

چلتا ہوں قاسم کو دیکھ لوں کہی مجھے یہی ناں چھوڑ جائے۔۔۔خدا حافظ۔

دائم مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا اور مہک بھی اس کے پیچھے پیچھے نیچے آ گئی۔

دھیان سے کہی شیشہ نہ لگ جائے پاؤں پر۔۔۔مہک کو نیچے آتے دیکھ کر اس کی امی فکرمند سی آگے بڑھی۔

چلیں۔۔۔قاسم ایک بہن کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا۔

جی چلیں۔۔۔دائم پلٹ کر مہک کو دیکھ کر مسکرا دیا اور خدا حافظ کہہ کر قاسم کے ساتھ گیٹ سے باہر نکل گیا۔

مہک کچن میں ماں کے پاس آ گئی۔امی آپ کو کچھ چاہیے تو نہی؟

میرا مطلب کس کام میں میری مدد تو نہی چاہیے؟

نہی چاہیے تمہاری مدد میڈم۔۔۔تم خود کو سنبھال لو یہی بہتر ہے ہم سب کے لیے۔

ان کی بات پر مہک مسکراتی ہوئی ان سے لپک گئی۔میری پیاری امی جان۔۔۔کتنا خیال رکھتی ہیں آپ میرا۔

رات کو پورا خاندان مہک کی خیریت دریافت کرنے آ پہنچا اور لاڈلی بن کر دادو کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔

بس تھوڑے سے چکر آ گئے تھے اماں۔۔۔آپ پریشان نہ ہو میں بلکل ٹھیک ہوں اب۔

ٹھیک تو تم ہو لیکن ہم سب کو تو پریشان کر دیا تم نے۔۔۔یہ دائم کی ماں کی آواز تھی۔

معذرت تائی امی۔۔۔لیکن میرے بس کی بات نہی تھی۔میرا یقین کریں مجھے واقعی چکر آ گیا تھا۔

ہاں ہاں تو میں نے کب کہا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو٫میں تو یہ کہہ رہی تھی کہ کچھ الٹا سیدھا کھا لیا ہو گا جس کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی ہو گی۔

پریشانی تو ہم سب کو پڑ گئی ناں۔۔۔

نہی تائی امی۔۔۔مہک کچھ بولنے ہی والی تھی کہ ماں کا اشارہ دیکھ کر چپ ہو گئی۔

جی بھابھی سہی کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔بہت سمجھایا ہے اسے کہ آئیندہ کینٹین سے کچھ نہ کھائے مگر یہ سنتی کہاں ہے۔۔۔انہوں نے بات ختم کی تو دائم کی امی چپ ہو کر بیٹھ گئیں۔

ویسے آج کل کے بچوں کو سمجھانا ممکن ہے ان کو کچھ سمجھ نہیں آتا جتنا مجھے سمجھا لیں کرنی نہیں تو انہوں نے اپنی مرضی ہوتی ہے۔

چاچی نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔

مہک نے بولا سنو بنا کر دادی کی طرف دیکھا تو انہوں نے بہو کو گھورا۔

بس کر دو تم لوگ تو میری بچی کے پیچھے ہی پڑ گئی ہو وہ جان بوجھ کر تھوڑی ناں بے ہوش ہوئی تھی اس کی طبیعت واقعی خراب تھی۔

اماں آپ تو ایسے ہی غصہ کر رہی ہیں میرا مطلب یہ نہی تھا کہ یہ جان بوجھ کر کر رہی ہے میرا مطلب یہ تھا کہ آج کل کے بچے باہر کی گندی چیزیں کھانے سے باز نہیں آتے اور بعد میں طبیعت خراب کر کے گھر والوں کے لئے مشکل پیدا کر دیتے ہیں۔

پھر بھی آپ کو برا لگا تو معذرت بیٹا۔۔۔چچی فوراً صفائی میں پیش کی۔

نہیں جی جان ایسی کوئی بات نہیں آپ کیوں معذرت کر رہی ہیں۔آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں میں نے ہی ایسا کچھ کھا لیا ہوگا جس کی وجہ سے میری طبیعت اچانک اتنی زیادہ خراب ہو گئی بلکہ مجھے آپ سب سے معافی مانگنی چاہیے کہ میری وجہ سے آپ سب کو اتنی مشکل اٹھانی پڑی۔

ارے اس میں مشکل والی کونسی بات ہے تمہاری طبیعت خراب ہوئی اس کا ایک فائدہ تو ہوا۔۔۔مجھے ممانی جان کے ہاتھ کی چائے تو ملی،کتنے دن سے سوچ رہا تھا آنے کو لیکن ٹائم ہی نہی مل رہا تھا۔

ساحل کی بات پر سب نے قہقہ لگایا جبکہ مہک نے منہ پھلاتے ہوئے اسے دیکھا۔

ایسے ہوتے ہیں بھائی؟

بہن کا خیال نہی ہے چائے پینے کی زیادہ خوشی ہے آپ کو۔

ہاں تو ہو ناں مجھے خوشی۔۔۔بہن کا کیا اتنی ساری ہیں ایک کم ہو بھی جاتی تو کیا تھا۔

زبان کھینچ لوں گی تمہاری۔۔۔

نانی کی آواز پر ساحل کی زبان کو بریک لگی۔

ہاں جیسے کے نازیہ آپی۔۔۔فوزیہ آپی۔۔۔شازیہ٫شمع آپی اور مصباح آپی۔۔۔سب آپ کی بہنیں ہیں۔

استغفر اللہ۔۔۔ساحل نے چائے کا کپ ٹرے میں رکھا اور مہک کو گھورا۔

بدلے میں مہک کھلکھلا کر ہنس دی۔

مصباح دائم کی چھوٹی بہن ہے اور ایک سال پہلے اس کی منگنی ساحل سے ہو چکی تھی۔

مہک کی بات پر سب ہنس دیے۔۔۔

ساحل نے سب کو گھورا جبکہ مصباح نے شرما کر نظریں جھکا لی اور وہاں سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔

کیا تم ایسے گھور رہے ہو میری بچی کو؟

صحیح تو کہا اس نے ابھی شادی نہیں ہوئی تم لوگوں کی تو تمہاری بہن لگتی ہے جب شادی ہو جائے گی نہ تو پھر اسے جتنا مرضی گھور لینا بہن کہنے پر۔

دادو نے بھی مہک کا ساتھ دیا۔

سب ہنس رہے تھے مسکرا رہے تھے اور باتیں کرنے میں مصروف تھے سوائے خاور کے۔۔۔وہ دائم کے ساتھ بیٹھا مہک کو ہی دیکھ رہا تھا۔

اسے مہک کا ساحل کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرنا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

اس ماحول سے وحشت ہو رہی تھی اس کو۔۔۔ غصے میں اپنے گلے میں پہنی چین کو انگلی پر لپیٹے کھینچ رہا تھا۔

چین اس کی گردن میں چب رہی تھی لیکن اسے تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔اس وقت اسے تکلیف اس بات کی ہو رہی تھی کہ مہک سب سے بات کر رہی تھی سوائے اس کے۔

وہ جب سے آیا تھا مہک نے اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔

کیسا گزرا تمہارا آج پہلا دن کوئی مشکل تو نہیں پیش آئی؟

اد نے سارا کام تمہیں اچھی طرح سمجھا دیا تھا ناں۔۔۔خاور کو مہک کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو دائم اپنا فون رکھتے ہوئے خاور کی طرف متوجہ ہوا۔

یہ چین کے ساتھ کیا کر رہے ہو تم لگ جائے گی گلے میں چھوڑ اس کو۔۔۔دائم نے اس کے ہاتھ سے چین الگ کی۔

خاور نے گہری سانس لی اور غصہ ضبط کرتے ہوئے مسکرادیا جی۔۔۔اچھا دن گزرا میرا آپ تو گھر آ گئے تھے اگر وہاں ہوتے تو دیکھ لیتے کیسا کام کر رہا تھا میں۔

ہاں وہ اچانک مجھے گھر آنا پڑا مہک کی طبیعت جو خراب ہو گئی تھی۔جیسے ہی گھر سے کال آئی ویسے ہی ہم دونوں گھر کے لیے نکل گئے اور جلدی میں مجھے کسی کو بتانا چاہتا ہی نہیں رہا۔

مجھے نیند آ رہی ہے میں گھر جا رہا ہوں ماما۔۔۔آپ لوگ آجائیے گا۔خدا حافظ بول کر غصے میں اٹھا اور گھر سے باہر نکل گیا۔

اسے کیا ہوگیا آاچھا بھلا تو بیٹھا تھا تھا وہ اور کو جاتے دیکھ کر پریشان ہو گئی۔

کچھ نہیں ہوا دادو جان سب ٹھیک ہے تھک گیا ہے اسے آرام کی ضرورت ہے ہے یونیورسٹی بھی جانا ہوگا اس نے صبح اسی لیے جلدی گھر چلا گیا۔

آج میں نے تھوڑی کلاس لی ہے اس کی اور آپ کے لاڈلے سے تھوڑا کام کروایا ہے آفس میں اس لئے تھوڑا موڈ خراب ہے اس کا۔

فکر نا کریں دو چار دن میں سہی ہو جائے گا۔کبھی کبھی بچوں کو سمجھانے کے لیے ہم بڑوں کو قدم اٹھانا پڑتے ہیں۔

اس کی عادت بن گئی ہے ہر بار جب بھی میں کسی میٹنگ میں ہوتا ہوں تو نوک کیے بغیر کمرے میں آ جاتا ہے اور میری میٹنگ خراب ہو جاتی ہے۔

اس وجہ آج میں نے اسے ڈانٹ دیا تھا۔اسی لئے میرے ساتھ ناراض ہے شاید۔۔۔لیکن آپ فکر نہ کریں سیٹ ہو جائے گا۔

کیا ضرورت تھی تمہیں ڈانٹنے کی؟

دائم کے جواب پر خدیجہ چچی غصے سے بولی۔

کیا مطلب چچی جان میں نے کسی غلط بات پر تو نہیں ڈانٹا اسے آخر کل کو یہ بزنس اسے بھی سنبھالنا ہے۔

کچھ چیزیں سمجھا رہا تھا جو بعد میں اس کے کام آنے والی ہیں۔

آپ کے لاڈ پیار نے اسے سر پہ چڑھا رکھا ہے اگر آپ ایسے ہی غلط باتوں پر اس کا ساتھ دیتی رہی تو کل کو یہ آپ کو بہت تنگ کرے گا۔

میں بڑا بھائی ہوں اس کا اس کے لئے کوئی غلط فیصلہ نہیں کروں گا۔اس کے بھلے کے لیے ہی کر رہا ہوں جو بھی کیا ہے۔

چاچو آپ کو کوئی اعتراض نہیں میرے اس فیصلے پر؟

چچی کے چہرے کے بدلتے تیور دیکھ کر دائم نے چاچو کو جان بوجھ کر اس بحث میں گھسیٹا۔

نہیں نہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں تم جو کر رہے ہو بالکل ٹھیک کر رہے ہو تم ہی اسے سدھار سکتے ہو یہ بہت بگڑ چکا ہے۔

میری طرف سے بے فکر رہو۔۔۔اس کو جیسے سدھارنا چاہتے ہو سدھارو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور بیگم آپ کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ دعائیں بڑا ہے اور بہتر جانتا ہے۔

تو میں نے ایسا کب کہا کہ یہ کچھ غلط کر رہا ہے؟ میں تو بس اتنا کہہ رہی تھی کہ اسے اس طرح ڈانٹنا نہیں چاہیے تھا۔ پیار سے سمجھا دے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔

ابھی بچہ ہے وہ اسے ان چیزوں کے سمجھ نہی ہے اور ابھی کون سا اس نے بزنس سنبھالنا ہے۔

ابھی تو پڑھ رہا ہے نہ تو اسے پڑھنے دیں ضروری تو نہیں کہ وہ شو روم میں ٹائم دے۔

یہ بزنس اس کے بغیر بھی اچھا چل رہا ہے ایسا تو نہیں کہ وہ نہیں آئے گا تو بزنس چلے گا ہی نہیں۔

جی جان آپ کی بات بلکل درست ہے پڑھائی تو وہ کر رہا ہے لیکن یونیورسٹی سے فارغ ہو کر فضول دوستوں کے ساتھ اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔

اسی لئے میں نے سوچا کہ کل سے وہ میرے پاس آجائے تھوڑی دیر کے لئے۔

یونیورسٹی سے واپس آنے کے بعد کھانا کھا کر تھوڑا سا آرام کرے اور میرے پاس آجائے واپسی پر میرے ساتھ جم چلا جایا کرے۔

آپ فکر نہ کریں زیادہ کام نہیں کرواتا اس سے اور نہ ہی وہاں کوئی ایسا بھاری بھرکم کام ہے جو آپ پریشان ہو رہی ہیں۔

صرف کسٹمر ڈیلنگ ہی تو سیکھنی ہے۔

اس کی ماں کہہ رہی ہے تو تم بات کو سمجھ لو نہ دائم۔۔۔میرے بچے سے زیادہ کام مت کروانا۔

دادی جان نے طنزیہ انداز میں کہا۔

دادی جان کی بات پر دائم مسکرا دیا فکر مت کریں آپ کے لاڈلے سے کوئی ایسا کام نہیں کرواؤں گا جو آپ اتنا پریشان ہو رہی ہیں۔

جانتا ہوں وہ گھر کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہے ہے لیکن میں اسے غلط سنگت میں نہیں رہنے دے سکتا۔

جو فیصلہ میں نے کیا ہے بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے آپ لوگ زیادہ پریشان نہ ہو۔

وہ سب سے لاڈلا اور چھوٹا کیسے ہوگیا دام بھائی؟ گھر میں سب سے لاڈلی اور چھوٹی تو میں ہی ہوں ہوں۔۔۔مہک نے فوراً جواب دیا

لیں جی۔۔۔بس اسی کی کمی رہ گئی تھی دائم مسکراتے ہوئے اپنے فون میں مصروف ہوگیا۔

چلیں بھئی پوری رات یہاں بیٹھنے کا ارادہ ہے کیا سب کا؟

گھر چلیں بچوں نے صبح یونیورسٹی اور کالج بھی جانا ہے۔

دائم کے بابا کی آواز پر سب جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے خداحافظ بول کر آہستہ آہستہ سب روانہ ہو گئے۔

سب کے جانے کے بعد مہک اپنے کمرے میں آئی اور عشاء کی نماز نماز پر پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔

شیشے کے اس پار کوئی بڑے غور سے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور وہ تیزی سے پلٹا۔

کیا کرتی ہیں آپ۔۔۔آپ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا۔

بدلے میں وہ لڑکی کھلکھلا کر ہنس دی۔بہت ہی ڈرپوک ہوتے جا رہے ہیں آپ اس لڑکی کے چکر میں۔۔۔لیکن ایک بات میں آپ کو صاف صاف بتا دو جو آپ چاہ رہے ہیں وہ ہو نہیں سکے گا۔

اس کی دنیا الگ ہے اور ہماری دنیا الگ۔۔۔ہم چاہ کر بھی آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکیں گے اسی لئے آپ کو سمجھا رہے ہیں کہ یہاں کھڑے ہو کر اپنا وقت ضائع کرنا چھوڑ دے۔

اگر آپ ہماری بہن نہ ہوتی تو ہم ابھی آپ کی جان لے لیتے شہزادی ہیزل۔۔۔غصے سے پلٹا اور بہن کو گھورتے ہوئے دوبارہ مہک کو دیکھنے میں مصروف ہو گیا۔

ہم شہزادے شایان ہیں کوئی عام انسان نہیں۔۔۔ایک بار جو سوچ لیں کر کے ہی چھوڑتے ہیں۔

ہمیں یہ لڑکی چاہیے اور ہر حال میں چاہیے۔۔۔اس کے لیے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے ہم کر کے رہیں گے۔

سوچ اچھی ہے آپ کی شہزادے شایان لیکن شاید کچھ بول رہے ہیں آپ۔۔۔۔اس دنیا اور اس دنیا کے درمیان جو سرحد ہے وہ آپ اپنی مرضی سے پار نہیں کرسکتے۔

جانتے ہیں ہم بہت اچھی طرح یاد ہیں ہمیں یہ سرحد بھی اور وہ شرط بھی کہ جب تک وہ نہی چاہیں گی ہم وہاں نہیں جا سکتے۔

ہم اس کے دماغ پر تو قابو پا سکتے ہیں لیکن اس پر نہیں۔۔۔ہم ہر کوشش کریں گے کہ وہ ہمیں پہچانیں۔ ہمیں محسوس کریں اور ہماری طرف قدم بڑھائے

ہم اس کے لیے پوری سلطنت تہس نہس کر دیں گے۔

ہمیں ہر قیمت پر یہ چاہیے بس۔

آپ نے کچھ زیادہ ہی سر پر سوار کر لیا ہے اس۔۔۔اتنی خوبصورت لڑکیاں ہیں یہاں پر ایک سے بڑھ کر ایک آپ جس پر بھی ہاتھ رکھیں اسے اپنا بنا سکتے ہیں ہیں کیوں ایک عام سی لڑکی کے لیے خود کو بے حال کر رکھا ہے؟

عام سی لڑکی نہیں ہے وہ نہیں ہے وہ عام۔۔۔بہت خاص ہیں ہمارے لیے۔۔۔۔اس سلطنت تو کیا پوری دنیا کی شہزادیوں سے بھی خاص ہیں وہ ہمارے لیے۔

ہم اتنی شہزادیوں سے مل چکے ہیں لیکن ہمیں اس کے جیسی لڑکی نہیں ملی۔۔۔۔غصے میں بولتے ہوئے پھر سے پلٹ گیا

شہزادے صاحب آپ کا دماغ خراب ہو چکا ہے آپ ایک ایسی ضد کر رہے ہیں جو نا ممکن ہے۔

اس کے دماغ پر قابو پانے کی ایک کوشش تو آپ کر چکے ہیں لیکن اس نے بھی آپ نا کام رہے ہیں اور ہم بھی مل چکے ہیں ان سے اچھی ہیں لیکن اس سرحد کو پار نہیں کر سکتی۔

ہم تو بس آپ کو سمجھا رہے ہیں باقی جیسے آپ کی مرضی آپ ہمیشہ سے اپنی مرضی کرتے آ رہے ہیں اور اب بھی اپنی ہی مرضی کریں گی۔

بہن ہونے کے ناطے سمجھانا ہمارا فرض تھا۔جنون اور دیوانگی سے باہر نکل آئیں تو راجہ صاحب نے آپ کو یاد کیا ہے ان کی بات سن لیجئے گا۔

ان سے کہہ دیجئے ابھی ہم بہت مصروف ہیں اور کی کوئی بات نہیں سن سکتے۔

کیا کہا آپ نے؟

آپ کس کے لئے کہہ رہے ہیں۔۔۔اس سلطنت کے راجہ راجہ اور اپنے باپ سے سے کیا ہو گیا ہے آپ کو،اپنے ہوش و حواس میں تو ہیں آپ؟

جو منہ میں آ رہا ہے بولتے جا رہے ہیں۔ہمارے اندر اتنی ہمت نہی ہے ہم کہ راجا صاحب کو جواب دے سکیں۔

آپ خود کہہ دیں جو کہنا چاہتے ہیں۔۔۔ہیزل غصے سے ایک نظر مہک کو دیکھتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

شایان مہم کو دیکھتے ہوئے پلٹا اور چٹکی بجائی۔ ان کے چٹکی بجاتے ہی ایک دربان اندر آیا

وہ غصے میں اس کی طرف بڑھا اور تلوار اٹھا کر اس کے بازو پر مار دی۔

وہ درد سے چلا اٹھا۔۔۔۔شہزادے ہم سے کوئی گستاخی ہو گئی ہے کیا جس کی ہمیں اتنی بڑی سزا مل رہی ہے۔ہماری غلطی تو بتائیں۔۔۔ وہ دربان بیچارہ سر جھکائے بول رہا تھا۔

شایان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اس نے شیشے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔اس طرف دیکھ کر چلائیں کہ بچائیں ہمیں۔

جیسے آپ کا حکم شہزادے۔۔۔پہلے تو پریشان ہو گیا لیکن پھر شیشے کی طرف دیکھ کر زور سے چلایا بچاؤ مجھے کوئی ہے مجھے بچاؤ۔

اس کے چیخنے کی آواز سن کر مہک سلام پھیر کر اس آواز کی طرف متوجہ ہوئی۔یہ آواز کہاں سے آئی؟

ڈر کر ادھر ادھر دیکھا اور دعا مانگنے میں مصروف ہوگئی۔

دعا مانگ کر جلدی سے کمبل میں منہ چھپائے سو گئی۔

اسے ڈرتے دیکھ کر شایان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اس دربان کے پاس آیا اور اس کے بازو پر ہاتھ رکھا۔

اس کے ہاتھ رکھتے ہی زخم ٹھیک ہو گیا۔

وہ دربان حیرت زدہ سا دیکھتا ہی رہ گیا۔شایان کے اشارے پر تیزی میں وہاں سے چلا گیا۔

شایان قہقہ لگاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *