Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 33)
Rate this Novel
Aks (Episode 33)
Aks by Khanzadi
شاید اوپر کوئی ہے۔۔۔مہک نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن آگے نا جا سکی۔اس روشن دان کی انچائی زمین سے کافی اوپر تھی اس لیے وہ ٹھیک سے دیکھ ہی نہیں سکی کہ اوپر کون ہے۔
دیوار کے نزدیک اسے زنجیروں سے باندھا گیا تھا اور روشن دان کمرے کے بلکل درمیان میں تھا۔
اسے لگا شاید ایونن ہے،یہ سوچ کر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی لیکن پھر اسے کچھ محسوس ہوا۔۔۔خوشبو،وہ اس خوشبو کو اچھی طرح پہچان سکتی تھی۔
“شایان۔۔۔مجھے بچانے آ گیا”۔۔۔خوشی سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“شایان میں یہاں ہوں”۔۔۔زور سے چلانے والی ہی تھی کہ اس کی آواز گلے میں ہی اٹک گئی اور ایونن اس کے سامنے کھڑا تھا۔
وہ دیوار کے ساتھ چھپ کر کھڑا شایان کو ہی دیکھ رہا تھا۔
شایان اس کمرے کے اندر جانے کا راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اچانک اس کے گھوڑے نے زور زور سے بولنا شروع کر دیا اور مخالف سمت میں دوڑنا شروع کر دیا۔
شایان کا دھیان اس کی طرف چلا گیا اور وہ تیزی سے اس کے پیچھے دوڑا۔
وہ ایونن تھا جو گھوڑے کو دوڑا رہا تھا لیکن شایان اسے دیکھ ہی نہیں پایا۔
آخر کار گھوڑا بہت دور جا کر رک گیا۔۔۔شایان بھاگتے ہوئے اس کے پاس آیا اور اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
ایسے لگ رہا ہے جیسے یہ کسی سے ڈر کر بھاگ رہا تھا۔۔۔شایان نے پیار سے اس کی گردن کو سہلایا تو وہ پرسکون ہوا۔
اس جگہ کو ہم پھر کبھی دیکھیں گے ابھی ہمیں محل جانا پڑے گا۔۔۔شایان نے ایک نظر پیچھے دیکھا اور گھوڑے پر سوار ہو کر محل پہنچ گیا۔
_________________
جیسے ہی شایان محل پہنچا ایونن دوبارہ مہک کے پاس پہنچ گیا اور غصے سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔شایان یہاں کیسے پہنچا؟
کیسے بلایا تم نے اسے یہاں؟
مہک نے کوئی جواب نہیں دیا وہ بس روئے جا رہی تھی۔
ہم نے کچھ پوچھا ہے تم سے مہک۔۔۔جواب دو ہمیں،شایان یہاں کیسے پہنچ گیا؟
ایونن غصے سے چلایا۔
مہک ڈر کر دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی اور سر نفی میں ہلایا۔۔۔مجھے کچھ نہی پتہ۔
کیسے نہی پتہ تمہیں۔۔۔اسے اس جگہ کے بارے میں کیسے پتہ چلا،کچھ تو ہے جو تم مجھ سے چھپا رہی ہو٫بتاو ایسا کونسا راز ہے تمہارے پاس جو شایان اتنی جلدی تم تک پہنچ گیا؟
مہک نے سر اوپر اٹھایا اور کھا جانے والی نظروں سے ایونن کو دیکھا۔۔۔میرے پاس ایسا کیا راز ہو سکتا ہے بھلا؟
میں خود اس وقت تمہارے رحم و کرم پر ہوں اور تم مجھ سے ہی سوال کر رہے ہو۔۔۔اگر میرے پاس کوئی ایسا خفیہ راستہ ہوتا تو میں اس وقت تمہاری قید میں نہ ہوتی۔
تو پھر شایان یہاں کیسے پہنچ گیا؟
ایونن پھر سے چلایا۔۔۔اس کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا،وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ آخر شایان یہاں پہنچ کیسے گیا۔
وہ یہاں کیسے پہنچا یہ ایک راز ہے مسٹر ایونن۔۔۔ایک ایسا راز تو تم جیسا کم ظرف انسان سمجھ ہی نہیں سکتا۔
جاننا چاہتے ہو وہ راز؟
سن سکتے ہو،ہے ہمت سننے کی؟
اس راز کو ” محبت ” کہتے ہیں۔۔۔اس کا یہاں سچی محبت کا ثبوت ہے۔تم جتنی بھی کوشش کر لو تم اسے زیادہ دیر تک مجھ سے دور نہی رکھ پاؤ گے۔
یہ تو ایک چھوٹی سی جھلک تھی۔۔۔دیکھنا عنقریب وہ تمہارے سامنے کھڑا ہو گا۔
تمہاری نظروں کے سامنے مجھے یہاں سے لے کر جائے گا اور تم کچھ بھی نہی کر سکو گے۔۔۔کچھ بھی نہی۔
جتنی بے بس اور لاچار آج میں ہوں اتنے ہی بے بس تم ہو گے اس وقت،شاید تم مجھ پر رحم کھا بھی لو لیکن وہ تم پر رحم نہیں کرے گا۔
میرے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لے گا تم سے۔۔۔اور وہ وقت بہت جلد آئے گا۔
محبت کی تڑپ تم کیا سمجھو گے۔۔۔”محبت میں الہام ہوتے ہیں،اگر ایک تکلیف میں ہو تو دوسرے کے دل پر قیامت گزرتی ہے۔” ایسی ہوتی ہے محبت۔
میری تڑپ اسے یہاں تک لائی ہے۔۔۔اگر اس وقت تم اسے یہاں سے دور بھیجنے میں کامیاب ہو گئے ہو تو یہ مت سمجھنا کہ تم جیت گئے۔
وہ واپس آئے گا اور مجھے یہاں سے لے کر جائے گا۔۔۔میرا وعدہ ہے تم سے۔
بس۔۔۔بہت بول لیا تم نے لڑکی۔۔۔خبردار!
خبردار جو ایک بھی لفظ اور بولا۔۔۔ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں وہ یہاں کیسے آیا۔
ایونن دیوار کی طرف پلٹا اور دایاں ہاتھ سرکولر موشن میں گھمایا۔۔۔اس کے ہاتھ سے سفید رنگ کی ایک روشنی نکلی اور دیوار پر شایان دکھائی دیا۔
شایان کے یہاں آنے سے لے کر نماز پڑھنے تک کا سارا منظر ایونن بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔
یہ شایان کرنا کیا چاہتا ہے آخر،یہ کس طرح کا جادو ہے؟
وہ مہک کی طرف پلٹا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
مہک نے افسوس میں سر ہلایا اور اس کی طرف دیکھا۔۔۔یہ کسی طرح کا جادو نہی بلکہ نماز ہے۔
نماز۔۔۔یہ کیا ہوتا ہے؟
پہلی بار سنا ہے ہم نے یہ لفظ۔۔۔زرا ٹھیک سے سمجھاؤ ہمیں۔
مہک نے ایک گہری سانس لی اور پھر سے ایونن کی طرف دیکھا۔۔۔تمہیں نماز کا نہی پتہ؟
کیسے پتہ ہو گا کافر جو ہو۔۔۔طنزیہ مسکرائی۔
نماز،کافر۔۔۔یہ سب کیا ہوتا ہے ہم نہیں جانتے،ہم نے جتنا پوچھا ہے اتنا بتاؤ ہمیں۔۔۔کہانیاں سنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
تمہاری نظر میں تمہیں پیدا کرنے والا کون ہے؟
مہک کے سوال پر ایونن نے اسے سر تا پاؤں اچھی طرح دیکھا۔۔۔کیوں تم نہی جانتی؟
ظاہری سی بات ہے ہم آگ سے بنے ہیں تو ہمیں پیدا کرنے والی تو آگے ہی ہوئی ناں۔۔۔اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے؟
وہ مہک کی طرف بڑھا اور اس کے سامنے بیٹھ کر اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور ہتھیلی پر آگ جل گئی۔۔۔یہ ہے ہمیں پیدا کرنے والا۔
نہیں۔۔۔یہ نہی۔۔۔تمہیں پیدا کرنے والا کوئی اور ہے مسٹر ایونن۔۔۔اور تمہیں تو کیا اس پوری دنیا کو یہاں تک کہ اس آگ کو بھی پیدا کرنے والا بس “اللہ” ہے۔
یہ سب کچھ اسی کا بنایا ہوا ہے۔۔۔انسان،حیوان،پرندے اور تم آگ سے بنے ہو یعنی تم شیطان ہو۔۔۔دوسرے لفظوں میں تمہیں جن بھی کہا جا سکتا ہے لیکن تم اس قابل ہی نہی۔
تمہارے لیے شیطان کا لفظ ہی بہتر رہے گا۔۔۔جو جس دنیا میں پیدا ہوا اس کے آباؤ اجداد جس مذہب کو مانتے ہیں ان کی اولاد بھی اسی مذہب کو مانتی ہے۔
الحمدللہ میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئی ہوں اور میرا ایمان ہے کہ اللہ ہے۔۔۔شایان کے مجھ سے ملنے کی ایک وجہ نماز بھی ہے۔نماز اللہ کی عبادت کرنے کو کہتے ہیں۔جب میں نماز پڑھتی تھی تو شایان کو بہت تجسس ہوتا تھا کہ میں یہ کیا کر رہی ہوں۔
پھر انہوں نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا اور اللہ کو مان لیا۔۔۔اسی لیے وہ میری دنیا میں تھے۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر آپ کافر گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ کافر ہی مریں۔۔۔بلکل بھی نہی،اگر آپ کو ہدایت مل جائے تو آپ کو پورا اختیار ہے کہ آپ ہدایت کے راستے پر چلیں۔
شایان نے ایسا ہی کیا۔۔۔اب جو شایان آپ دیکھ رہے ہیں یہ الگ شایان ہے،پرانا والا شایان اب نہی رہا کیونکہ اسے ہدایت مل چکی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب شایان ہماری طرح آگ کو اپنا دیوتا نہی مانے گا؟
نہی۔۔۔مہک نے فوراً سر نفی میں ہلایا اور مسکرا دی۔
ایونن آٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔یہ تو بہت اچھی خبر ہے ہمارے لیے،تمہارا جتنا بھی شکریہ ادا کریں کم ہیں۔
تم سوچ بھی نہیں سکتی تم نے ہماری مشکل کتنی آسان کر دی ہے۔۔۔یہ خبر اب شاہی محل میں طوفان کی طرح پھیل جائے گی۔
یا تو وہ آگ کی عبادت کرے گا یا پھر شاہی خاندان سے دربدر ہو گا۔۔۔دونوں صورتوں میں فایدہ ہمارا ہی ہو گا۔
اگر وہ محل سے دربدر ہو گا تو ہم اسے پناہ دیں گے اور بدلے میں اسے ادینہ سے بیاہ کا حکم دیں گے۔
نہی۔۔۔یہاں پر تم غلط ہو کیونکہ دونوں صورتوں میں ہی تمہارا نقصان ہے۔۔۔شایان آگ کی عبادت نہی کرے گا اور اگر اسے دربدر ہونا بھی پڑا تو تمہاری پناہ کبھی نہی لے گا کیونکہ تمہارے والد بھی اسے قبول نہیں کریں گے اور اگر کر بھی لیں تب بھی شایان ادینہ سے بیاہ تو نہی کرے گا۔
یہ غلط فہمی اپنے دل سے نکال دو یہی بہتر ہے تمہارے لیے۔۔۔شایان زبردستی کے فیصلے نہی کرتا اتنا تو مجھے یقین ہے۔
تمہیں تو ہم جان سے مار دیں گے آج۔۔۔ایونن غصے سے مہک کی طرف بڑھا۔
مہک نے آنکھیں بند کر لی۔
ایونن نے زور سے قہقہ لگایا۔۔۔نہی نہی اتنی جلدی نہیں،تمہاری جان ہم لیں گے لیکن تمہیں ہرانے کے بعد۔
ملتے ہیں سورج غروب ہونے کے بعد۔۔۔ابھی ہمیں راجا صاحب کو یہ خاص خبر سنانی ہے۔
آج ایک بار پھر سورج غروب ہو گا ایونن۔۔۔تمہیں ترس نہی آتا مجھ پر؟
ایک لڑکی ہوں میں اور سورج غروب ہونے کا مطلب سمجھتے ہو تم؟
ایک سورج کل غروب ہوا تھا جس کے ساتھ میری عزت بھی غروب ہو گئی تھی اور دوسرا سورج آج غروب ہو گا جس کے ساتھ میرے ماں باپ اور بھائی کا سر شرم سے جھک جائے گا۔
میں گناہگار نا ہوتے بھی گناہگار کہلاؤں گی۔۔۔میرے ماں باپ کو طنزیہ جملے سننے کو ملیں گے،ایک بیٹی کے گھر سے غائب ہونے کا مطلب جانتے ہو تم؟
تم خود بھی ایک بہن کے بھائی ہو اگر میری جگہ تمہاری بہن غائب ہوئی ہوتی تو اس وقت تم کیسا محسوس کرتے؟
مہک کے سوال سن کر ایونن نے سر جھکا لیا اور بغیر کچھ کہے وہاں سے غائب ہو گیا۔
مہک بے بس سی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔۔۔ایونن کا سر جھکتے ہوئے دیکھ کر اسے لگا تھا کہ شاید وہ اس پر ترس کھا لے گا مگر نہی۔۔۔شاید وہ پتھر کا بنا تھا۔
____________________
ادینہ کمرے میں اندھیرا کیے بیٹھی بہت دیر سے جادو کے زریعے مہک تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ابھی تک اسے کچھ حاصل نہیں ہوا۔
آخر کون کر سکتا ہے یہ سب کچھ؟
ہماری سمجھ میں تو یہ نہیں آ رہا کہ آخر راجا صاحب نے شایان سے ہمارے بارے میں جھوٹ کیوں بولا۔
ہم انہیں بتا چکے تھے کہ ہم دوبارہ وہاں نہی جائیں گے تو پھر ایسا کون ہے جو ہمارا روپ دھار کر ان کے پاس گیا؟
ہم نے آج تک یہ بات کسی کو بتائی ہی نہی۔۔۔ماں کو بھی نہی۔
ہیزل بھی تو جانتی ہے اس بارے میں کہی اس نے تو نہی۔۔۔لیکن وہ کیوں کرے گی ایسا اور اگر کرتی بھی ہے تو اسے ہمارے روپ لینے کی کیا ضرورت پڑتی،نہی ہیزل نہی کر سکتی۔
جب سے شایان یہاں سے گیا ہے ہم اسی الجھن میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کیسے حل کریں اس مسئلے کو۔
ہم نے شایان سے تو کہہ دیا ہے لیکن اب ہمیں خود بھی مہک تک پہنچنا ناممکن سا لگ رہا ہے۔
شاید ایونن ہماری مدد کر سکے۔۔۔ہاں اس سے بات کر کے دیکھتے ہیں۔
تیزی سے اٹھی اور ایونن کے کمرے میں پہنچی۔۔۔دروازہ تو کھلا تھا لیکن ایونن کمرے میں نہی تھا۔
ایک تو ضرورت کے وقت یہ ہمیشہ غائب ہوتے ہیں۔۔۔کمرے سے باہر جانے ہی والی تھی کہ شیشے طرف بڑھی کیوں نا ہم یہاں کوشش کر کے دیکھیں۔
دیکھتے ہیں۔۔۔بہت دیر تک کوشش کرتی رہی لیکن ناکام رہی۔۔۔تھک ہے ہم کوشش کر کے لیکن کچھ ہاتھ نہیں لگا۔
اس ایونن کی تو خبر لیں ہم زرا۔۔۔دیکھتے ہیں کہاں ہیں یہ۔
سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔نہیں یہ نہی ہو سکتا۔
آپ فکر نہی کریں راجا صاحب۔۔۔وہ لڑکی ہماری قید میں ہے اور شایان اس تک نہی پہنچ سکے گا،بس آپ ہم سے کیا ہوا وعدہ مت بھولیئے گا۔
ادینہ نے منہ پر ہاتھ رکھا اور حیرت زدہ سی شیشے سے دور ہٹی۔
ایونن آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اس کے پیچھے آپ کا ہاتھ ہے۔۔۔بہت بڑی غلطی کر دی آپ نے۔
آپ سوچ بھی نہیں سکتے اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے،اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتے ہیں آپ؟
سر تھامے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔ہمیں بات کرنی پڑے گی آپ سے ایونن،اس لڑکی کو بچانا ہو گا اس سے پہلے کہ شایان اس تک پہنچے ہمیں اسے اس کے گھر پہنچانا ہو گا۔
اگر شایان کو پتہ چل گیا کہ اس سازش کے پیچھے آپ کا ہاتھ ہے تو پتہ نہی وہ آپ کے ساتھ کیا کر بیٹھے گا۔
ادینہ اسی سوچ میں ہی گم تھی کہ ایونن اچانک وہاں آ گیا۔۔۔ادینہ کو سامنے دیکھ کر مسکرا دیا۔
ادینہ غصے سے اس کی طرف بڑھی۔۔۔پاگل تو نہیں ہو گئے آپ ایونن؟
آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟
ہم پوچھتے ہیں آخر ایسی کونسی مجبوری تھی جو آپ نے اس لڑکی کو اغوا کر لیا؟
ایونن کندھے اچکاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا اور دروازہ بند کرتے ہوئے ادینہ کی طرف پلٹا۔۔۔ششششش۔۔۔آہستہ بولیں،دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔
چلانے کی بجائے آپ کو تو ہماری راز دار بننا چاہیے۔۔۔آخر یہ سب کچھ ہم آپ کے لیے ہی تو کر رہے ہیں۔
ہمارے لیے۔۔۔؟
ایونن کے جواب پر ادینہ حیران رہ گئی۔
لیکن کیوں ایونن۔۔۔کیا ہم نے آپ سے کہا ایسا کرنے کو یا کبھی اس بارے میں کوئی شکایت کی ہو؟
اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا لیا آپ نے؟
ایک بار بھی انجام کے بارے میں نہیں سوچا آپ نے؟
آپ جانتے بھی ہیں اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے،زرا سا بھی اندازہ ہے آپ کو؟
شایان جان لے لے گا آپ کی۔۔۔کہہ دیں کہ یہ سب جھوٹ ہے،ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ آپ ہم سے اتنی بڑی بات چھپائیں گے۔
یہ جھوٹ نہی سچ ہے۔۔۔اور اگر ہمیں انجام کو ڈر ہوتا تو اس وقت وہ لڑکی ہماری قید میں نا ہوتی۔
اس لڑکی کی وجہ سے ہم آپ کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔ہمیں کسی بھی حال میں ہماری پرانے والی بہن واپس چاہیے تھی۔
ہم نے جو کیا بالکل ٹھیک کیا۔۔۔شایان نے جو آپ کے ساتھ کیا اس کی قیمت یہ لڑکی چکائے گی۔
وہ کیوں چکائے گی قیمت؟
ایونن اس سب میں اس کا قصور ہے بھلا؟
شایان کو اس سے محبت ہوئی تھی اسے نہی۔۔۔اور وہ شایان کے پیچھے یہاں نہیں آئی بلکہ شایان اس کے پیچھے وہاں گیا تھا۔
قصور جس کا بھی ہو وجہ تو یہ لڑکی ہی ہے ناں۔۔۔ہم اسے تب تک آزاد نہیں کریں گے جب تک شایان خوشی خوشی آپ کو اپنی زندگی میں شامل نہی کر لیتا۔
یہ غلط فہمی ہے آپ کی ایونن۔۔۔شایان زبردستی ایسا نہی کرے گا،بہت بڑی خوشی فہمی ہے آپ کو۔۔۔ہوش میں آ جائیے آپ۔
ہمیں اس لڑکی کے پاس لے کر جائیں ابھی اور اس وقت۔۔۔یہ ہمارا حکم ہے۔
لیکن آپ کیوں۔۔۔ایونن کا سوال ابھی درمیان میں ہی تھا کہ ادینہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا۔
بس۔۔۔ہم نے جتنا کہا ہے اتنا کریں آپ،ایک بھی لفظ اور نہیں بولیں گے آپ۔
ایونن نے گہری سانس لیتے ہوئے کندھے اچکائے اور ادینہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے سر کو تھوڑا جھکایا۔۔۔ٹھیک ہے جیسے آپ چاہیں،آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔
ادینہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور دونوں منظر سے غائب ہو گئے۔
جاری ہے۔۔۔
