366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 32)

Aks by Khanzadi

شایان چونک گیا۔۔۔اس نے زور سے آنکھیں بند کی اور سر تھامے کھڑا ہو گیا۔

سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔راجا صاحب نے اس کے واپس آنے کی خوشی میں سب کو دعوت دی تھی۔

“یہ آواز تو”۔۔۔شایان بس اتنا ہی بول پایا۔

سامنے کرسی پر ٹانگ پے ٹانگ جمائے بیٹھے ایونن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔لگتا ہے شہزادے کی طبیعت ناساز ہے۔

کافی طویل سفر تھا ان کا۔۔۔اب یہاں کی ہوا اتنی آسانی سے تھوڑی راس آئے گی۔

ایونن کا لہجہ طنزیہ تھا۔

شایان نے حیرت زدہ انداز میں اسے دیکھا اور معزرت کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔

اسے ایونن کے بات کرنے کا انداز بہت عجیب لگا۔اپنے کمرے میں داخل ہوا اور اچھی طرح دروازہ بند کرتے ہوئے شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔

ایک بار پھر کوشش کی مگر ناکام رہا۔

آخر ہمارے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے؟

ہمیں مہک کی آواز سنائی دے رہی لیکن ہمیں وہ دکھائی کیوں نہیں دے رہی۔۔۔وہ ضرور کسی مشکل میں ہے اور ہمیں پکار رہی ہے۔

ہم اس تک پہنچ کیوں نہیں پا رہے؟

ہمارے سوالوں کا جواب صرف ادینہ ہی دے سکتی ہے،راجا صاحب کے مطابق وہ ہمیں واپس لائی ہے۔اس کا مطلب ہمیں مہک تک بھی وہی پہنچا سکتی ہے۔

ہمیں اس سے ملنا پڑے گا۔۔۔فوراً محل سے باہر نکلا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ادینہ کے محل کے لیے نکل پڑا۔

وہ جب ادینہ کے محل میں پہنچا تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔۔۔ایونن اس سے پہلے ہی محل پہنچ چکا تھا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

آپ ہم سے پہلے یہاں کیسے پہنچ سکتے ہیں ایونن؟

شایان کے سوال پر ایونن مسکرا دیا اور شایان کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔۔ایسے۔

اس کا مطلب آپ جادو کے استعمال سے یہاں پہنچے ہیں؟

شایان کے ایک اور سوال پر ایونن نے کندھے اچکا دیے۔۔۔شایان آپ سوال پر سوال تو ایسے کر رہے ہیں جیسے آپ اس بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں ہیں،آپ ٹھیک تو ہیں؟

ہم بکل ٹھیک ہیں ایونن اور ہم حیران اس لیے ہیں کیونکہ ہمارا جادو کام نہیں کر رہا۔۔۔ہم اپنی کسی بھی طاقت کا استعمال نہی کر پا رہے۔

شایان نے فوراً جواب دیا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

ایونن نے جان بوجھ کر انجان بننے کی اداکاری کی جبکہ اس سازش کے پیچھے اسی کا ہاتھ تھا۔

وہ اپنے جادو کے زریعے شایان کی ساری طاقتیں مفلوج کر چکا تھا۔

ہم خود بھی نہیں جانتے ایسا کیوں ہو رہا ہے ہمارے ساتھ۔۔۔جب سے ہم واپس لوٹے ہیں تب سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔

ویسے آپ اب تک تھے کہاں شایان؟

ہمارا مطلب ہے راجا صاحب سب کو بتا چکے ہیں کہ آپ تلوار بازی کا کوئی ہنر سیکھنے کسی دوسری ریاست گئے ہوئے تھے لیکن پھر بھی ہم تصدیق کرنا چاہ رہے ہیں۔

ہمیں بھی سیکھنا وہ ہنر جو آپ سیکھ کر آئے ہیں تو ہو جائے ایک چھوٹا سا مقابلہ؟

اس سے پہلے کہ شایان اس کی بات کا جواب دیتا ایونن اس کی طرف تلوار اچھال چکا تھا۔

شایان نے بڑی مہارت سے وہ تلوار تھامی اور کندھے اچکا دیے۔۔۔ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی۔

دونوں بہت دیر تک تلوار بازی کرتے رہے اور آخر کار ایونن گر گیا اور اس کے ہاتھ سے اس کی تلوار بھی۔

شایان کی تلوار کی نوک اس کی گردن پر تھی۔۔۔ایونن نے ہار ماننے کے انداز میں دونوں ہاتھ اوپر اٹھا دیے۔

شایان نے اس کی گردن سے تلوار پیچھے ہٹائی اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔

ایونن نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور کھڑا ہو گیا۔اچھی طرح اپنے کپڑے جھاڑے اور شایان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے آج تک آپ کو کوئی گرا نہی سکا شایان۔۔۔ہر بار آپ ہمیں مات دے جاتے ہیں۔

ہمیں کوئی گرا بھی نہی سکتا۔۔۔شایان نے اسی وقت جواب دیا اور تلوار گھاس میں دھنسا دی۔۔۔ہم ادینہ سے ملنے آئے تھے اگر آپ کی اجازت ہو تو ہم جائیں؟

جی جی۔۔۔کیوں نہی۔۔۔اجازت ہے،جائیے مل لیجئیے۔

ایونن نے فورا اجازت دی بھلا اسے کہا اعتراض ہو سکتا تھا۔وہ یہ سب کچھ ادینہ کے لیے ہی تو کر رہا تھا۔

شایان کو محل کے اندرونی حصے کی جانب جاتے دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔لیکن اس بار ہمارے ہاتھوں آپ کی مات طے ہے شایان،مانیں یا نا مانیں اس بار گرنے کی باری آپ کی ہے ہماری نہی۔

گھاس میں دھنسی تلوار باہر کھینچی اور ہاتھ اس پر لگی مٹی صاف کرتے ہوئے تلوار دوبارہ میان میں رکھتے ہوئے مسکرا دیا۔

ہم زرا آپ کی ہار سے تو ملاقات کر لیں،دیکھیں تو سہی زندہ بھی ہے یا مر گئی۔۔۔قہقہ لگاتے ہوئے وہاں سے غائب ہو گیا۔

شایان ادینہ کے کمرے کے باہر پہنچا اور دروازے پر دستک دی۔

اندر سے ایک داسی باہر آئی اور ادینہ سے اجازت لینے دوبارہ اندر گئی۔

چند لمحوں بعد دروازہ کھلا لیکن سامنے داسی نہی بلکہ ادینہ خود کھڑی تھی۔۔۔شایان آپ یہاں؟

ہمیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہو رہا۔۔۔تیزی سے آگے بڑھی اور شایان کے گلے لگنے ہی والی تھی کہ شایان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔

ادینہ شرمندہ سی رک گئی اور پھر مسکرا دی۔۔۔آئیے اندر بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

شایان سر اثبات میں ہلاتے ہوئے اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا۔

ادینہ نے داسی کو کمرے سے باہر جانے کا اشارہ دیا تو وہ فوراً کمرے سے باہر نکل گئی۔

آئیے بیٹھئیے ناں۔۔۔آپ ایسے اجنبیوں کی طرح کیوں کھڑے ہیں شایان؟

اگر غلطی سے ادھر کا راستہ بھول ہی گئے ہیں تو دو گھڑی بیٹھ جائیں،ہماری آنکھیں ترس گئی تھیں آپ کو دیکھنے کے لیے۔

شایان نے بے زاری سے گردن موڑتے ہوئے کمرے میں نظر دوڑائی اور ادینہ کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔آپ یہ سب باتیں بند کریں گی؟

ہم یہاں ضروری کام سے آئے ہیں اور آپ اپنا قصہ کھولے بیٹھ گئی ہیں۔

کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے شایان،آپ ایسے کیوں بات کر رہے ہیں ہم سے اور آپ واپس کب آئے؟

شایان نے حیرانگی سے ادینہ کو دیکھا۔۔۔واقعی آپ نہیں جانتی ہم کب اور کیسے یہاں آئے ہیں؟

ادینہ نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ہم نہی جانتے آپ کب واپس آئے ہیں اور کیسے آئے ہیں سے کیا مطلب ہے آپ کا شایان؟

اس بات کا کیا مطلب ہے ادینہ؟

ہمیں زبردستی یہاں لانے والی ہماری موجودگی سے انجان کیسے ہو سکتی ہے؟

آپ واقعی انجان ہیں یا ہمیں پاگل بنانے کی کوشش کر رہی ہیں؟

شایان آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں ہم کچھ نہیں جانتے۔۔۔میں آپ کو زبردستی واپس کیسے لا سکتی ہوں؟

ہم آئے تھے ایک بار آپ کو واپس لیجانے لیکن آپ نے میری تزلیل کر کے وہاں سے نکال دیا۔

ہم اتنے گرے ہوئے نہیں ہیں شایان۔۔۔ہماری انا سے اچھی طرح واقف ہیں آپ،جب کوئی ہمیں ایک بار اپنی چوکھٹ سے نکال دے ہم دوبارہ وہاں قدم نہیں رکھتے۔

آپ نے ہمارے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے لیا؟

ہم تو پل پل مر رہے تھے اور آپ کی واپسی کی امید لگائے بیٹھے تھے اور آپ نے آتے ہی ہم پر الزام تراشی شروع کر دی۔

ادینہ ہم آخری بار پوچھ رہے ہیں مہک کہاں ہے؟

شایان کے سوال پر ادینہ دھنگ رہ گئی۔۔۔یہ کیسا سوال ہے شایان،مہک کہاں ہے یہ ہم کیسے جان سکتے ہیں؟

کیا مہک نے آپ سے مدد نہیں مانگی تھی ہمیں اس کی دنیا سے دور لیجانے کے لیے؟

شایان کے سوال پر ادینہ مسکرا دی۔۔۔بھلا وہ ہم سے مدد کیوں مانگے گی اور وہ بھی آپ کو اس سے دور لیجانے کے لیے؟

شایان آپ ہوش میں تو ہیں؟

یہ کس طرح کے سوال کر رہے ہیں آپ ہم سے؟

آپ تو خود اس لیے ایک مظبوط ڈھال تھے۔۔۔وہ کیوں آپ کو خود سے دور بھیجنے کی سازش کرے گی؟

آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔

ہمیں کوئی غلط فہمی نہی ہوئی ادینہ۔۔۔راجا صاحب نے ہمیں خود دکھایا ہے آپ کو مہک سے بات کرتے ہوئے،ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے سب کچھ۔

سنی سنائی بات پر یقین نہیں کیا ہم نے بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا حال بیان کر رہے ہیں آپ کے سامنے۔

راجا صاحب نے آپ کو کیا دکھایا ہے اور کیا نہی ہم اس بارے میں کچھ نہیں جانتے شایان۔۔۔کبھی کبھار آنکھوں دیکھا نظر کا دھوکا بھی ہو سکتا ہے۔

ہو سکتا ہے کسی کو ہمارا روپ دھار کر مہک کے پاس بھیجا گیا ہو اور آپ نے جو دیکھا وہی حقیقت ہو۔

کوئی ایسا کیوں کرے گا ادینہ؟

آپ کے سوا کسی کو وہاں کا راستہ نہیں پتہ تھا تو پھر کوئ وہاں کیسے پہنچ سکتا ہے اور سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ہم مہک سے مل ہی نہیں پا رہے۔

ہمارا جادو کام نہیں کر رہا۔۔۔ہم بہت بے بس ہو چکے ہیں،ہمیں کسی بھی حال میں مہک کو دیکھنا ہے۔

آپ کیوں کر رہی ہیں ایسا؟

ہم نے آپ کی تزلیل کی ہے ناں۔۔۔جو سزا دینا چاہتی ہیں ہمیں دیں لیکن مہک کو چھوڑ دیں۔

ہم آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں۔۔۔شایان نے ادینہ کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے اور اس کے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

وہ بے قصور ہے۔۔۔اسے جانے دیں،آپ جو کہیں گی ہم مانیں گے لیکن مہک کو ہمارے حوالے کر دیں ادینہ۔

ادینہ نے چونک کر شایان کی طرف دیکھا اور سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔اس کے دونوں ہاتھ تھامتی ہوئی اس کے برابر بیٹھ گئی۔

ادینہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔شایان ہمیں آپ کی قسم ہم کچھ نہیں جانتے اس بارے میں،مہک سے ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے ہم تو وہاں آپ کے لیے گئے تھے۔

اس دن کے بعد ہم نے دوبارہ ہمت ہی نہی کی وہاں جانے کی۔۔۔ہم نہی جانتے آپ کو ہمارے بارے میں کیا بتایا گیا ہے۔

ہمارا یقین کیجئیے۔۔۔ہم نے مہک کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور ناں ہی اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔

“یہ محبت بھی ناں۔۔۔انسان کو کتنا مجبور کر دیتی ہے،عام انسان اور کسی سلطنت کے شہزادے کا فرق بھی نہی دیکھتی۔۔۔چاہے تو کسی عام سے انسان کو شہزادہ بنا دیتی اور نا چاہے تو شہزادے کو بھی فرش پے لا پھینکتی ہے۔”

خود کو سنبھالیں۔۔۔ہم آپ کو اس طرح بکھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔

ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں چاہے کچھ بھی ہو ہم آپ کو مہک تک ضرور پہنچائیں گے۔

ہم مل کر کوئی نا کوئی حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شایان بے بس سا اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ہم ہر کوشش کر چکے ہیں لیکن کوئی راستہ مل ہی نہی رہا۔

ہمارے کانوں میں مہک کی آوازیں گونج رہی ہیں وہ کسی مشکل میں ہے لیکن ہم بے بس ہیں،اس کے لیے کچھ کر ہی نہی پا رہے۔

شایان نے ہاتھ پر بندھی گھڑے پے نظر ڈالی اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ہمیں ضروری کام سے جانا ہے،آپ کو مہک کے بارے میں کچھ بھی پتہ چلے ہمیں پیغام پہنچا دیجئے گا۔

ادینہ نے سر اثبات میں ہلایا اور اسے جاتے ہوئے دیکھ کر گہری سانس لیتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئی۔

__________________________

مہک دیوار سے ٹیک لگائے نظریں روشن دان پر جمائے کسی امید کے انتظار میں بیٹھی تھی یہاں سے نکلنے کا راستہ تو نظر نہیں آیا لیکن ایونن کو دوبارہ سامنے دیکھ کر اسے زیادہ حیرت نہی ہوئی۔

ایونن نے اس کے سامنے کھانے کی پلیٹ رکھی۔۔۔کھا لیجئیے بہت بھوک لگی ہو گی۔

مہک نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔مجھے تمہاری لائی ہوئی کوئی چیز نہی کھانی۔

لے جاؤ اپنا کھانا یہاں سے۔۔۔میں مرتی ہوں تو مر جاؤں،مجھے مرنا منظور ہے لیکن تمہاری غلامی نہیں کر سکتی۔

غلامی تو تمہیں کرنی ہی پڑے گی تم چاہو یا نا چاہو۔۔۔ایونن ہنستے ہوئے آگے بڑھا اور زبردستی مہک کو کھانا کھلانے کی کوشش کی۔

کھا لوں گی میں خود ہی۔۔۔دور رہو تم مجھ سے جنگلی بھیڑیا۔

اوہ۔۔۔سوچ لو مرضی ہے تمہاری،بڑی بڑی شہزادیاں ہماری ایک جھلک کو ترستی ہیں۔ تم خوش قسمت ہو جو ہم تمہیں اپنے ہاتھ سے کھلا رہے ہیں اور تم ہو کہ نخرے کر رہی ہو۔

پتہ نہیں کون سی شہزادیاں ہیں وہ۔۔۔شاید نظر کمزور ہو گی ان کی جو تم جیسے جنگلی کی ایک جھلک کو ترستی ہیں۔

چپ چاپ کھانا کھاو۔۔۔زیادہ اڑو مت،ہم ایک لمحے میں زمین پر گرا دیں گے کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔

ہماری نرمی کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ۔

اور کتنا گراؤ گے مجھے؟

تم گرا ہی سکتے ہو کیوں کہ تم خود بہت گرے ہوئے ہو۔۔۔پتہ نہی کس منہ سے خود کو شہزادہ کہتے ہو،شہزادہ بننے کی اوقات نہیں ہے تمہاری۔

اے لڑکی۔۔۔زبان سنبھال کر،ہم اپنی توہین برداشت نہی کریں گے،ہمیں ہاتھ اٹھانے پر مجبور مت کرو۔

ابھی تمہارے پرانے زخم تازہ ہیں،ان کو بھر جانے دو پھر ہم تمہیں درد سے اچھی طرح واقف کروائیں گے اور تب تم سے پوچھیں گے ہم شہزادے کہلانے کے قابل ہیں یا نہیں۔

ابھی چپ چاپ کھانا کھاو تھوڑی طاقت ملے تمہیں تا کہ ہمارا اگلا وار برداشت کر سکو۔

مہک نے افسوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھا اور طنزیہ مسکرا دی۔۔۔تمہیں کیا لگتا ہے تمہارے ظلم کی شام نہی ہو گی؟

تم نے ایک بیٹی کو اس کے ماں،باپ،بھائی اور شوہر سے چھینا ہے۔۔۔تمہیں ان سب کی آہ لگے گی۔

میں زندہ بچووں یا نہیں لیکن تمہیں میرے ایک ایک آنسو سے لے کر درد کی ایک ایک آہ کا حساب دینا پڑے گا،قدرت کی لاٹھی اپنا اثر دکھائے گی۔

تم نیست و نابود ہو جاو گے ہمیشہ کے لیے۔

ہمیں نیست و نابود کرنے والا آج تک کوئی پیدا نہیں ہو سکا،ہم نے جو کیا بالکل ٹھیک کیا۔

ہمارے غصے کو ہوا مت دو۔۔۔ہو سکتا ہے ہم کبھی تم پر رحم کھا لیں،ایک بار شایان اور ادینہ کا بیاہ ہو جائے تو شاید ہم تمہیں واپس چھوڑ آئیں۔

لیکن ہم نے کہا ناں شاید۔۔۔کیونکہ اگر تم اس طرح زبان درازی کرتی رہی تو ہمارے لیے تم پر رحم کھانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

فی الحال اپنی نظریں ہمارے چہرے سے ہٹاؤ اور کھانے پر جماو۔۔۔ہم واپس آئیں تو پلیٹ خالی ہو۔

مہک نے کھانے کی پلیٹ کو دیکھا۔۔۔مجھے نہی کھانا،بولنے ہی والی تھی ایونن وہاں سے جا چکا تھا۔

چپ چاپ پلیٹ اٹھائی اور آنسو بہاتے ہوئے کھانا شروع ہو گئی۔۔۔کچھ بھی ہو تھی تو انسان آخر کتنی دیر بھوکی رہ سکتی تھی۔

______________________

بارش شروع ہو چکی ہو چکی تھی اور شایان بغیر کسی مقصد کے گھوڑے کو دوڑاتا چلا جا رہا تھا۔

بہت دیر تک بارش میں بھیگنے کے بعد آخر کار ایک پہاڑ پر رک گیا اور گھوڑے سے نیچے اتر کر بے بس سا بیٹھ گیا۔

بارش رک چکی تھی اور ہوا اتنی تیز تھی کہ چند لمحوں میں شایان کے کپڑے خشک ہو گئے۔

پاس ہی ایک ندی بہہ رہی تھی۔۔۔اگے بڑھا اور وضو کرنے کے صاف جگہ کی تلاش کی،بارش کی وجہ سے پہاڑ دھل کر صاف ہو چکے تھے۔

وہی رک کر عصر کی نماز ادا کی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔

بہت دیر تک بہتے آنسوؤں کے ساتھ مہک کی سلامتی کی دعائیں مانگتا رہا۔

تھک ہار کر اٹھ کر کھڑا ہوا تو اس کی نظر پتھروں کے درمیان بنے ایک سوراخ پر پڑی۔

حیرت زدہ سا آگے بڑھا۔۔۔نیچے گہرا کھائی نما کمرہ تھا جس میں بس اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔

وہ جیسے ہی اس سوراخ کے پاس پہنچا مہک نے چونک کر روشن دان کی طرف دیکھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *