366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 31)

Aks by Khanzadi

آ جائیے۔۔۔

شایان کی آواز سن کر دروازے کے باہر کھڑی ہیزل کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

تیزی سے دروازہ کھولا اور شایان کی طرف دیکھا۔

اسے دیکھ کر شایان مسکرا دیا اور اس کی طرف بازو پھیلائے۔

وہ بھاگتی ہوئی آئی اور بھائی کے کندھے پے سر رکھ کر رونا شروع ہو گئی۔

کوئی ایسا کرتا ہے اپنی بہن کے ساتھ؟

کیسے بھائی ہیں آپ۔۔۔آپ نے ایک بار نہیں سوچا ہمارا اور بابا کا کیا بنے گا۔

آپ جانتے بھی تھے کہ ہم اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات،خوشی،غمی صرف آپ کے ساتھ بانٹتے ہیں ۔۔۔پھر بھی آپ ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔

شایان نے اسے خود سے الگ کیا اور اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔۔۔”ہماری جان بستی ہیں آپ میں ہیزل۔”

ہمیں معاف کر دیجئے۔۔۔جانتے ہیں ہماری غلطی معافی کے قابل نہی ہے لیکن ہماری مجبوری کو بھی سمجھیں۔

“کبھی کبھی کچھ پانے کے لیے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے”

“کبھی کبھی کچھ پانے کے لیے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے لیکن یاد رکھیں اس کھونے کا مطلب خواہشات ہو رشتے نہیں۔” کیا آپ کے لیے ایک لڑکی اپنے رشتوں سے زیادہ اہم ہے؟

نہی۔۔۔صرف ایک لڑکی کے لیے نہی ہیزل،ہم اس سے بھی دور رہے ہیں۔۔۔ہمارا وہاں رہنے کا مقصد تو کچھ اور تھا۔

ہم نے بہت کچھ کھو کر بھی بہت کچھ پا لیا ہے٫ہم نے دنیا کو اور اس کی حقیقت کو پہچان لیا ہے اور سب سے بڑھ کر ہم نے ہمارے دنیا میں آنے کے مقصد کو جان لیا ہے۔

ہم نے وہ سب جان لیا جو یہاں رہ کر کبھی نہیں جان سکے۔۔۔اگر ہم رشتوں کی آڑ میں کمزور پڑ جاتے تو کبھی بھی اتنا بڑا فیصلہ نہ کر پاتے۔

اگر آپ کو وہاں کچھ ہو جاتا تو؟

کتنے پریشان تھے ہم آپ کے لیے آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔اور آپ نے وہاں جانے کا راستہ کیوں بند کیا تھا ہمارے لیے؟

ادینہ کو اجازت تھی آپ سے ملنے کی لیکن ہمارے لیے یہ راستہ بند تھا،کیوں؟

کسی نے اجازت نہیں دی ادینہ کو وہاں آنے کی۔۔۔وہ خود وہاں پہنچی ہیں اور جہاں تک بات ہے آپ کے وہاں آنے تو ہم نہی چاہتے تھے کہ آپ کو ہماری وجہ سے کوئی تکلیف پہنچے۔

اگر آپ وہاں آتی تو یقیناً بابا بھی وہاں پہنچ سکتے تھے اور ان کے وہاں آنے پر جو طوفان آ سکتا تھا اس کا آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے۔اسی ڈر سے ہم نے یہ سب کیا تھا۔

آ جاتا طوفان جو آنا تھا۔۔۔حالت دیکھی ہے آپ نے اپنی؟

بال کتنے بڑھے ہوئے ہیں اور یہ لباس۔۔۔یہ کیسا لباس پہن رکھا ہے آپ نے؟

بلکل انسانوں جیسا حلیہ بنا رکھا ہے آپ نے اور کتنے کمزور لگ رہے ہیں،ٹھیک سے کچھ کھانے بھی نہی ملا ہو گا وہاں۔

کیسی محبت ہے آپ کی جس کو آپ کی زرا فکر نہیں تھی۔۔۔ایک بار مل لینے دیں ہمیں مہک سے۔۔۔اچھی طرح خبر لیں گے اس کی۔

زرا خیال نہیں رکھا اس نے ہمارے بھائی کا۔۔۔کیا وہ نہیں جانتی آپ شہزادے ہیں؟

مہک کے نام پر شایان سوچ میں پڑ گیا۔

جواب دیں ہماری بات کا۔۔۔آپ نے اسے بتایا نہیں کہ آپ اتنی بڑی سلطنت کے اکلوتے شہزادے ہیں؟

بتایا تھا ہم نے شروع میں ایک بار۔۔۔دوبارہ موقع ہی نہی ملا بتانے کا،آپ فکر نہی کریں ہم بلکل ٹھیک ہیں۔

بس ہماری مصروفیات ہی کچھ اس طرح کی تھیں کہ اپنے لیے وقت ہی نہیں نکال سکے۔

اب ہم یہاں آ گئے ہیں ناں۔۔۔آپ ہمارا خیال رکھیں گی تو ہم پھر سے پہلے جیسے ہو جائیں گے۔

لیکن آپ تھے کہاں اور مہک کہاں ہے اس وقت،اگر آپ اس سے بھی دور تھے تو کہاں تھے؟

کہی نہی۔۔۔بس ہم اس دنیا میں تھے لیکن مہک سے دور،آپ کچھ جانتی ہیں مہک کے بارے میں؟

ہیزل نے سوالیہ نظروں سے شایان کو دیکھا اور کندھے اچکا دیے۔۔۔ہم کیسے جان سکتے ہیں اس کے بارے میں؟

اس کی دنیا سے آ رہے ہیں آپ اور اس کے بارے میں ہم سے سوال کر رہے ہیں،یہ بات کچھ ٹھیک نہی لگی ہمیں۔

ہمارا مطلب آپ کی ادینہ سے اس بارے میں کوئی بات ہوئی ہو۔۔۔یا پھر ادینہ کو کسی سے مہک کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھا یا سنا ہو؟

ہیزل نے غور سے شایان کو سر تا پاؤں دیکھا۔۔۔اسے اپنے بھائی کی دماغی حالت پر شک سا محسوس ہوا۔

آپ آرام کریں تھوڑا۔۔۔ہمیں لگتا ہے آپ بہت دن سے ٹھیک سے سو نہی پائے اسی لیے ایسے الٹے سیدھے سوال کر رہے ہیں ہم سے۔

ہیزل ہم بلکل ٹھیک ہیں۔۔۔ہم تھکے ہوئے نہی بلکہ مہک کے لیے پریشان ہیں۔

ہم یہاں اپنی مرضی سے نہی آئے بلکہ ہمیں لایا گیا ہے۔۔۔راجا صاحب نے ہمیں بتایا کہ مہک نے ادینہ سے مدد مانگی تھی ہمیں ان کی دنیا سے دور لیجانے کے لیے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ مہک کی مرضی سے ہوا ہے لیکن ہمیں مہک پر پورا یقین ہے وہ ایسا نہیں کر سکتی۔

ہمیں لگتا ہے اس کہانی کا کوئی دوسرا رخ بھی ہے جس سے ہم انجان ہیں۔

ہم کئی بار کوشش کر چکے ہیں لیکن ہم مہک سے نہی مل پا رہے۔۔۔سمجھ سے باہر ہے مہک ایسا کیوں کرے گی؟

جبکہ ہم نے خود اسے کچھ دن پہلے اپنے جانے کا بتایا تھا اور ہمارے بتانے پر وہ ہمیں بلکل خوش نہی لگ رہی تھی۔

اس نے ہم سے سوال کیا تھا کہ کیا ہم ہمیشہ کے لیے جا رہے ہیں؟

درد تھا اس سوال میں۔۔۔وہ احساس جھوٹا نہیں ہو سکتا،ہم نے بہت گہرائی میں اس کی تکلیف کو محسوس کیا تھا۔

پھر ایسا کیا ہوا جو مہک کو ادینہ سے مدد مانگنی پڑی؟

بس یہ بات ہمیں پریشان کیے ہوئے ہیں۔۔۔بتائیے ہمیں اگر آپ اس بارے میں کچھ بھی جانتی ہیں۔

نہیں۔۔۔ہم اس بارے میں کچھ نہی جانتے،ہیزل نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔

ہو سکتا ہے یہی سچ ہو۔۔۔ہو سکتا ہے مہک نے واقعی ادینہ سے مدد لی ہو۔

آپ اس پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں کہ آپ کو اپنے خونی رشتوں پر یقین نہیں رہا۔۔۔ہمیں یہ جان کر بہت دکھ ہوا۔

آپ کو مہک پر تو یقین ہے لیکن اپنے باپ اور بچپن کی دوست پر نہی۔

ہیزل۔۔۔ایسا نہی ہے،آپ ہمیں غلط مت سمجھیں۔

ہمارا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ہم تو مہک کے لیے فکر مند ہیں،ہمیں لگتا ہے وہ کسی مشکل میں ہے۔

ہو سکتا ہے ایسا صرف آپ کو لگ رہا ہو اور حقیقت کچھ اور ہو۔۔۔ہو سکتا ہے وہ بلکل ٹھیک ہو اور آپ خوامخواہ اس کے لیے پریشان ہو رہے ہو۔

ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا ہی ہو۔۔۔سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ ہم کچھ سمجھ ہی نہیں پا رہے اور ہماری اس سے بات بھی نہی ہو رہی۔

ہم اس تک پہنچ ہی نہی پا رہے۔۔۔بس ایک بار ہم اس سے مل لیں،اسے دیکھ لیں تو پھر ہم کبھی اس کے سامنے نہی جائیں گے۔

اگر اس کی خوشی ہم سے دور رہنے میں ہے تو اس کے ساتھ زبردستی نہی کریں گے۔

آپ جانتی ہیں ناں ہمیں ہیزل۔۔۔آپ کو یقین ہے نا اپنے بھائی پر؟

اگر ہم نے اسے زبردستی حاصل کرنا ہوتا تو کب کے کر چکے ہوتے لیکن ہم نے ایسا نہی کیا۔

دائم بہت اچھا انسان ہے اور اسی کے بھروسے ہم مہک کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اپنی دنیا میں آنے ہی والے کہ یہ سب ہو گیا۔

ہم نے آگاہ کیا تھا اسے ہمارے جانے کے بارے میں پھر وہ ہمارے خلاف ایسی سازش کیوں کرے گی؟

ہمیں آپ پر یقین ہے بھائی لیکن اگر مہک نے ایسا نہی کیا تو پھر وہ ہے کہاں؟

آپ اس تک پہنچ کیوں نہی پا رہے؟

یہی بات تو ہم آپ کو سمجھانا چاہ رہے تھے ہیزل۔۔۔شکر ہے آپ سمجھ گئیں۔

ہم نا تو ماضی کو دیکھ پا رہے ہیں اور نا ہی حال کو۔۔۔ہماری سمجھ سے باہر ہے،آخر ہمارا جادو کام کیوں نہیں کر رہا؟

یہ تو پریشانی والی بات ہے بھائی۔۔۔لیکن آپ فکر نہی کریں ہم پتہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔

کوئی تو وجہ ہو گی۔۔۔فی الحال آپ اپنا حلیہ درست کریں،ہم آپ کے لیے کھانا بھجواتے ہیں۔

شایان نے دائم کی دی ہوئی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو پریشان ہو گیا۔

کیا ہوا؟

یہ کیا باندھ رکھا ہے آپ نے کلائی پر؟

ہیزل نے غور سے گھڑی کو دیکھا۔

کچھ نہی۔۔۔ایک دوست نے تخفہ دیا تھا۔آپ نہی سمجھیں گی۔آپ کھانا بھجوائیں بہت بھوک لگی ہے ہمیں،ہم تب کپڑے بدل لیتے ہیں۔

ٹھیک ہے ہم بھجواتے ہیں۔۔۔ہیزل مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

شایان لکڑی سے بنی بھاری بھرکم کھڑکی کی طرف بڑھا اور پردے پیچھے سرکاتے ہوئے کھڑکی کھول دی۔

اس کے چہرے پر سورج کی روشنی پڑی۔۔۔اس نے پھر سے گھڑی کی طرف دیکھا اور گہری سانس لیتے ہوئے دونوں ہاتھ کھڑکی کی دیوار پر رکھے اور گردن جھکاتے ہوئے نیچے دیکھا۔

ہم بہت دیر تک سوتے رہے اور ہماری فجر کی نماز رہ گئی،اب تو ظہر کا وقت ہے۔

اس سے پہلے کہ دوبارہ کمرے میں کوئی داخل ہو ہمیں نماز پڑھ لینی چاہیے۔

___________________________________

دائم آفس چلا تو گیا لیکن وہاں بھی سب کے ساتھ بیٹھا پریشان ہی تھا۔

میرا خیال ہے ہمیں پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ درج کروانی چاہیے۔۔۔قاسم نے اپنی رائے پیش کی۔

اس سے کیا ہو گا؟

دائم نے فوراً سوال کیا۔

اور کر بھی کیا سکتے ہیں ہم دائم؟

ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے،کچھ نا کچھ تو کرنا پڑے گا۔

ہم ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر ہی بیٹھ سکتے ہیں قاسم۔۔۔اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

جب ہم جانتے ہیں مہک کہاں ہے تو پھر رپورٹ درج کروانے کا کیا مقصد؟

ایک ایسی دنیا جہاں کا ہمیں کچھ اتا پتا ہی نہیں ہے اور جس کے خلاف ایف٫آئی،آر کروانی ہے نا ہی اس کی کوئی شناخت ہے تو پھر کیسی رپورٹ درج کرواؤں گے تم یار؟

یہ بات تو تم جانتے ہو اور ہم جانتے ہیں دائم۔۔۔لیکن دنیا والوں کو کیا جواب دیں گے ہم؟

رشتہ دار پوچھیں گے تو کیا جواب دیں گے ہم؟

ہمارے پاس کوئی تو جواب ہونا چاہیے۔۔۔ہم کہہ دیں گے اغوا کا کیس ہے٫کوئی زبردستی گھر میں داخل ہوا اور مہک کو اغوا کر کے لے گیا۔

دائم کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔۔۔اسے قاسم کی دماغی حالت پر شک محسوس ہوا۔ہوش میں تو ہو تم؟

یہ کس طرح کے مشورے دے رہے ہو مجھے،کچھ اندازہ بھی ہے کیا بول رہے ہو؟

جب ہم پولیس کو جھوٹا بیان دیں گے تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا کچھ آئیڈیا ہے تمہیں؟

دو دن میں یہ کیس بند کر کے ہمارے منہ پر مار دیا جائے گا کہ آپ کی لڑکی خود کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے اغوا نہی ہوئی۔

کیسی باتیں کر رہے ہو دائم؟

بیوی ہے تمہاری وہ،تم اس کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟

قاسم حیرت زدہ سا دائم کو دیکھتا ہی رہ گیا۔

دائم سہی کہہ رہا ہے بیٹا۔۔۔خاور کے بابا دائم کے حق میں بول پڑے،ابھی تمہیں دائم کے منہ سے یہ الفاظ برے لگ رہے ہیں تو سوچوں پولیس کے شرمناک سوال کیسے برداشت کرو گے؟

اسی فیصد کیسز میں یہی حقیقت ہوتی ہے،پولیس والے روز اس طرح کی ہزاروں ایف٫آئی،آر بناتے ہیں جس میں زیادہ تر لڑکیاں اپنی مرضی سے غائب ہوتی ہیں،اسی لیے ان کا لہجہ زرا سخت ہوتا ہے۔

بات کو سمجھنے کی کوشش کرو بیٹا۔

چاچو جان آپ کی بات سہی ہے لیکن مہک کو غائب ہوئے چوبیس گھنٹے ہو چکے ہیں،اگر ہم چپ چاپ بیٹھے رہے تو دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گے؟

سچ کیا ہے یہ ہم جانتے ہیں۔۔۔کوئی ہماری بات پر یقین نہیں کرے گا۔

دنیا والوں کی فکر نا کرو بیٹا۔۔۔دائم کے بابا بھی بول پڑے۔

اس وقت ہماری بچی مشکل میں ہے اور کہاں ہے کہاں نہی ہم کچھ بھی نہیں جانتے اور یہ بات صرف گھر تک ہے،جب تک کوئی گھر والا اس خبر کو باہر نہیں نکالے گا تب تک ہم کسی کو جواب دہ نہیں ہیں۔

لیکن تایا ابو آخر کب تک؟

کب تک ہم بات کو چھپا سکیں گے اور کس کس کو منع کریں گی اس بات کو پھیلانے سے،ایسی باتیں نہی چھپتی۔

تمہاری بات ٹھیک ہے بیٹا لیکن جب تک ہو سکے گا ہم چھپائیں گے،تم اس وقت پریشان ہو اور جذباتی ہو رہے ہو۔

اپنے جذبات کو قابو میں رکھو۔۔۔اگر مہک تمہاری بہن ہے تو ہماری بھی بیٹی ہے،جتنی فکر تمہیں ہو رہی ہے اس کی اتنی ہی ہمیں بھی ہے۔

ایک دوسرے سے بخث کرنے سے بہتر ہے ہم لوگ دعا کریں،اس وقت ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہے ناں کہ ایک دوسرے کی مخالفت کرنی ہے۔

اور میرا تو ڈبل رشتہ ہے مہک کے ساتھ۔۔۔میری بیٹی بھی ہے اور بہو بھی،مجھ سے زیادہ کوئی فکر مند ہو سکتا ہے اس کے لیے؟

میرے بیٹے کی طرف دیکھو زرا۔۔۔بیوی کی فکر میں ایک رات میں حلیہ بگاڑ لیا ہے اس نے اپنا،کیا تم دائم سے زیادہ فکر مند ہو؟

صبر کرو اور ہمت سے کام لو یار۔۔۔جلد بازی کا کام شیطان کا کام ہوتا ہے۔

کھانا منگوا رہا ہوں چپ چاپ کھاؤ سب۔۔۔رات سے کسی نے ٹھیک سے کچھ کھایا پیا ہی نہی۔

اگر ہم مرد لوگ ہی ہمت ہار جائیں گے تو ہمارے گھر والوں کو کون سنبھالے گا؟

قاسم نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں تایا ابو۔۔۔جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہو گا،بے فکر رہیں آپ۔

بس امی کی وجہ سے پریشان ہوں۔۔۔بابا سے ابھی بات ہوئی ہے میری،امی کسی صورت چپ نہیں ہو رہی۔۔۔ان کی بس ایک ہی ضد ہے میری بیٹی کو میرے سامنے لاؤ۔

کمرے کا دروازہ نوک ہوا۔۔۔سب دروازے کی طرف متوجہ ہو گئے۔

Yes,Come in

دائم بے زار سا بولا۔

اسلام و علیکم۔۔۔خاور کھانے کا ٹفن اٹھائے کمرے میں داخل ہوا اور ٹفن میز پر رکھ دیا۔ماما نے کھانا بھجوایا ہے آپ لوگوں کے لیے۔

کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا اور سب کی طرف دیکھا۔۔۔شاید کوئی میٹنگ چل رہی تھی یہاں،میں نے ڈسٹرب تو نہی کر دیا؟

نہی ایسی کوئی بات نہی ہے۔۔۔جواب تایا جی کی طرف سے آیا۔

شروع کرو سب۔۔۔ان کا انداز آرڈر دینے والا تھا۔

سب نے چپ چاپ کھانا کھایا اور کمرے سے باہر نکل گئے سوائے دائم اور خاور کے۔

کوئی کام ہے مجھ سے؟

دائم لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھا ہی تھا کہ خاور پر نظر پڑی۔

خاور نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔وہ اندر ہی کسی بات پر انتہائی شرمندہ تھا۔

وہ دائم بیڈ کے نیچے سے نکال کر تائی جان کے حوالے کر چکا تھا اور اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ دائم کو کوئی جواب دیتا اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی۔۔۔موبائل کان سے لگاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

___________________

مہک کی آنکھ کھلی تو اس کی نظر کونے میں پڑے پانی کے گھڑے پر پڑی۔۔۔با مشکل خود کو سنبھالتی ہوئی وہاں تک پہنچی اور کٹورے میں پانی ڈال کر پیا۔

گہری سانس لیتے ہوئے دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور گھٹنوں پر سر گرائے رونے لگی۔

گھر پر سب بہت پریشان ہو گے۔۔۔امی نے تو رو رو کر اپنا برا حال کر لیا ہو گا۔

کاش میں کل اپنے کمرے میں جاتی ہی ناں۔۔۔نیچے ہی بیٹھی رہتی ان کے پاس۔

بابا،بھائی اور دائم مجھے ہر جگہ ڈھونڈ رہے ہو گے۔۔۔پریشانی سے برا حال ہو گا سب کا۔

خاور آیا تھا شاید کمرے میں۔۔۔وہ مجھے بچانے کی کوشش تو کر رہا تھا لیکن پتہ نہی وہ خود ٹھیک ہو گا یا نہی؟

اس نے گھر والوں کو سب بتا دیا ہو گا۔۔۔وہ سب تو یہی سمجھ رہے ہو گے کہ میں شایان کے ساتھ ہوں۔

شایان کہاں ہے؟

کیا وہ مجھ سے اتنا بے خبر ہو چکا ہے کہ اسے میری کوئی آہ سنائی ہی نہی دے رہی۔۔۔وہ تو کہتا تھا سایے کی طرح میرے ساتھ رہے گا تو پھر آج اسے میری تکلیف محسوس کیوں نہی ہو رہی؟

ویسے بھی وہ مجھے چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔شاید وہ جان بوجھ کر مجھ سے بے خبر رہنا چاہتا ہے۔

لگتا ہے اپنی دنیا میں آتے ہی اس کی میرے لیے محبت ختم ہو گئی۔۔۔سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں،کسی کو کسی کی تکلیف نہی ہوتی سب فلمی ڈائیلاگز ہوتے ہیں۔

“شایان اگر آپ کو واقعی میری فکر ہوتی تو میں اس حال میں نا ہوتی۔۔۔یہ کیسی محبت ہے آپ کی٫آپ نے تو کہا تھا آپ سایے کی طرح میرے ساتھ ہیں تو آج آپ مجھے اپنے اردگرد نظر کیوں نہیں آ رہے؟”

_______________________

شایان محل میں راجا صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اچانک اسے اپنے کانوں میں مہک کی آواز سنائی دی۔۔

“شایان اگر آپ کو واقعی میری فکر ہوتی تو میں اس حال میں نا ہوتی۔۔۔یہ کیسی محبت ہے آپ کی٫آپ نے تو کہا تھا آپ سایے کی طرح میرے ساتھ ہیں تو آج آپ مجھے اپنے اردگرد نظر کیوں نہیں آ رہے؟”

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *