366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 28)

Aks by Khanzadi

ایک کالا سایہ مہک کی گردن دبوچے کھڑا تھا اور مہک بے بس سی اپنی جان بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی لیکن اس کے سامنے ہار چکی تھی۔

خاور کے ہاتھ سے فائل وہی دروازے میں گر گئی اور ہوا سی تیزی میں مہک کی طرف بھاگا لیکن اس کے مہک تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اتنی ہی تیزی سے اڑتے ہوئے دیوار سے ٹکرایا اور فرش پے جا گرا۔

کون ہو تم؟

چھوڑ دو مہک کو۔۔۔آخر تمہاری دشمنی کیا ہے اس سے؟

کیوں اس کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہو؟

خاور خود کو سنبھالتے ہوئے پھر سے مہک کی طرف بڑھا اور زور سے چلایا لیکن اس کے چلانے کا اس سایے پر کچھ اثر نہی پڑا۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ سایہ مہک کے اردگرد پھیل گیا اسے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لیا اور ہوا میں دھویں کی طرح غائب ہو گیا۔

خاور اردگرد دیکھتا رہا لیکن اسے مہک کہی نظر نہی آئی۔

مہک۔۔۔کہاں ہو تم؟

جتنی زور سے چلا سکتا تھا چلایا۔۔۔مہک اس کالے سایے کے ساتھ یہاں سے غائب ہو چکی تھی۔

چچی جان۔۔۔خاور چلاتے ہوئے نیچے آیا اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔

اے میرے خدا۔۔۔یہ سب کیا ہو گیا،وہ تیزی میں بھاگتی ہوئی مہک کے کمرے میں آئیں اور ہوش و حواس سے بیگانی ہو کر وہی گر گئیں۔

چچی جان۔۔۔آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟

سنبھالیں خود کو۔۔۔خاور ان کے گال تھپکتا رہا لیکن وہ بے ہوش میں نہیں آئی۔

کیا کروں میں۔۔۔کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔

خاور کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جیسے مفلوج ہو چکی تھی۔

آپی۔۔۔اوپر آئیں جلدی۔۔۔اس نے شمع کو آوازیں دینا شروع کر دی۔

شمع بھی فوراً اوپر آ گئی۔۔۔سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔

چچی جان کو کیا ہوا خاور اور تم یہاں کیا کر رہے ہو؟

پتھر بن کر کیوں کھڑے ہو؟

کسی کو کال کرو جلدی۔۔۔ان کو ہاسپٹل لیجانا پڑے گا۔

خاور نے جلدی سے اپنا موبائل نکالا اور ایمبولینس سروس کال کر کے ایمبولینس منگوائی اور قاسم کا نمبر ڈائل کیا۔

شمع سے نظریں بچاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا اور پاؤں کی مدد سے وہ فائل بیڈ کے نیچے سرکا دی۔

ایمبولینس پہنچنے سے پہلے ہی قاسم وہاں پہنچ چکا تھا تینوں ان کو لے کر ہاسپٹل پہنچے۔

دائم کو کال کرو۔۔۔وہ آفس میں نہیں تھا ورنہ اسے ساتھ لے آتا،اسے انفارم کر دو۔

جی بھائی۔۔۔خاور نے فوراً دائم کا نمبر ڈائل کیا۔

دائم کسی میٹنگ میں تھا اور اس کا موبائل سائیلنٹ موڈ پر تھا۔

خاور بہت دیر تک کال کرتا رہا لیکن دائم نے کال نہی اٹھائی۔۔۔آخر کار ایک گھنٹے بعد دائم کی کال آ گئی۔

خاور کی بات سننے کے بعد اسے اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔

بے بس سا کرسی پر گر گیا اور ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مہک کو نقصان نہیں پہنچائے گا،تو پھر یہ سب کیا ہے؟

سمجھ میں نہیں آ رہا اس سے کیسے مقابلہ کروں۔۔۔پاگل کر کے دیا ہے اس شایان نے۔

امام صاحب سے بات کرنا پڑے گی۔۔۔دائم وہاں سے فوراً نکلا اور امام صاحب کے پاس پہنچا۔

ان کی بات سن کر دائم حیران رہ گیا۔۔۔انہوں نے بتایا کہ کچھ دیر پہلے شایان یہاں سے چلا گیا وہ بھی بغیر بتائے۔

امام صاحب وہ ایسے اچانک کیسے جا سکتا ہے؟

اس نے کچھ تو بتایا ہو گا آپ کو۔۔۔کسی بات پر شک ہوا ہو آپ کو اس پر یا کچھ اور؟

نہی بیٹا ایسا کچھ نہی ہوا وہ بلکل ٹھیک تھا۔

میں تو خود حیران ہوں کہ آخر وہ اچانک چلا کہاں گیا کیونکہ وہ ہمیشہ میرے ہجرے میں ہی رہتا تھا کبھی کہی جاتا ہی نہیں تھا۔

ہاں ایک بار گیا تھا لیکن میری اجازت سے۔

آپ نے اسے اجازت کیوں دی؟

آپ تو سب جانتے تھے وہ کس حد تک جا سکتا ہے٫میں آپ کی زمہ داری پر اسے آپ کے حوالے کر کے گیا تھا امام صاحب۔

دائم کا پریشانی سے برا حال ہو رہا تھا۔

وہ کہہ رہا مہک بیٹی کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔میں نے تو اس لیے اجازت دی تھی اسے جانے کی اور جہاں تک مجھے پتہ ہے میرا نہیں خیال کہ وہ بیٹی کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ہو سکتا ہے کوئی اور ہو جو بیٹی کو لے گیا اور اسی وقت شایان بھی یہاں سے چلا گیا اور ہم اس اتفاق کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہو۔

وہ لڑکا بھلے ہی انسان نہی تھا لیکن تھا کسی اچھے خاندان سے۔۔۔اس کے ایک ایک انداز سے اس کی تربیت جھلکتی تھی۔

میری بہت عزت کرتا تھا۔۔۔آج تک کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا اس نے مجھے اور نا ہی کبھی اونچی آواز میں بات کی۔

میرے ایک ایک لفظ کو جیسے اپنے دل و دماغ میں چھاپ لیتا تھا۔۔۔مجھے نہی لگتا وہ ہمیں دھوکا دے گا۔

شاید تمہیں بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔

اتنا بڑا اتفاق کیسے ہو سکتا ہے امام صاحب؟ہو سکتا ہے وہ ہمیں دھوکا دے رہا تھا اور ہمیں پتہ ہی نہ چلا ہو۔

اتفاق تو نہیں ہو سکتا۔۔۔یہ اس کی سوچی سمجھی سازش تھی اور ہم نے اس پر یقین کر لیا۔

آپ نے مجھے بتایا ہی نہیں کہ وہ کہی گیا تھا۔۔۔شاید میں اس کی طرف سے کچھ زیادہ ہی بے خبر ہو گیا تھا اور بے دھیانی آپ سے ملاقات ہی نہی کر سکا۔

آپ بتائیں اب میں کیا کروں؟

بیٹا سب سے پہلے تو تم ہمت سے کام لو،خود کو سنبھالو گے تبھی کچھ کر سکو گے۔

ایسا کرو گھر جاؤ اور اچھی طرح گھر کو دیکھو ہو سکتا ہے تمہاری بیوی گھر پر ہی اور تمہارے کزن نے جو دیکھا وہ سب نظر کا دھوکا ہو۔

کافی حد تک میں آپ کی بات سے متفق ہوں امام صاحب لیکن شایان کا اچانک یہاں سے جانا اور مہک کا اس طرح غائب ہونا یہ نظر کا دھوکا نہیں ہو سکتا۔

تمہاری بات بھی ٹھیک ہے بیٹا لیکن ایک بار دیکھنے میں کیا حرج ہے؟

ایک بار اچھی طرح گھر کو دیکھ لو پھر دیکھتے ہیں آگے کیا کرنا ہے۔

ٹھیک ہے۔۔۔میں جاتا ہوں،خدا حافظ۔

دائم وہاں سے مہک کے گھر پہنچا اور دیوار پھلانگ کر اندر پہنچا۔۔۔پورے گھر میں دیکھ لیا لیکن مہک کہی نظر نا آئی۔

آخر کار تھک کر اس شیشے کو سامنے کھڑا ہو گیا اور ایک زور دار مکا شیشے پر مارا لیکن شیشے پر کچھ اثر نا پڑا جبکہ دائم کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا۔

اسے ایسے محسوس ہوا جیسے اس کا ہاتھ پتھر سے ٹکرایا ہو۔

واش روم میں گیا ہاتھ کو اچھی طرح دھویا اور نیچے چلا گیا۔

کتنی ہی دیر اسٹیرنگ وہیل پر سر گرائے گہری سوچ میں ڈوبا رہا۔

کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔۔۔یہ کیسی آزمائش ہے؟

ایسا لگ رہا ہے جیسے زندگی میرے ساتھ کوئی مزاق کر رہی ہے۔۔۔ایک جیتا جاگتا انسان کیسے غائب ہو سکتا ہے؟

چاچو کو کیا جواب دوں گا میں اور سب کو کیسے سنبھالوں گا میں؟

یہ کوئی چھوٹی بات نہی ہے اور مہک کو کہاں ڈھونڈوں گا میں؟

وہ اس دنیا میں کہی گم ہوتی تو میں کچھ بھی کر کے کسی بھی طرح اس تک پہنچ جاتا لیکن یہی تو مسئلہ ہے اس وہ اس دنیا میں نہی بلکہ جنات کی دنیا میں موجود جہاں میں چاہ کر بھی نہیں جا سکتا۔

کہاں ڈھونڈوں میں اسے۔۔۔کہاں؟

کیوں کیا تم نے ایسا شایان۔۔۔آخر کیوں؟

مجھے لگا تھا تم بدل گئے ہو لیکن نہیں تم جہاں کے خون تھے وہی جا ملے۔۔۔اس دور میں تو انسان بھروسے کے قابل نہیں ہیں اور میں نے ایک جن پر بھروسہ کر لیا۔

“انسان ہو یا جن۔۔۔فطرت کبھی نہیں بدلتی”۔

بہت بڑی غلطی کر میں نے تم پر بھروسہ کر کے۔۔۔مجھے تمہارا یقین کرنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

ایک منٹ۔۔۔کچھ یاد آنے پر اس نے تیزی میں سر اوپر اٹھایا اور بھنویں سکوڑی۔

خاور وہاں کیا کر رہا تھا؟

اس کا کیا کام تھا مہک کے کمرے میں۔۔۔کہی یہ اس کی من گھڑت کہانی تو نہیں؟

شاید اس نے مہک کو کہی چھپا دیا ہو یا کہی لے گیا یا پھر کچھ اور۔۔۔نہی نہی،میں کچھ زیادہ ہی نیگیٹو سوچ رہا ہے۔

اس وقت میرا دماغ بلکل کام نہیں کر رہا۔۔۔ہاسپٹل جاتا ہوں پہلے خاور کی تو خبر لوں۔

گاڑی اسٹارٹ کی اور اسی کشمکش میں ہاسپٹل پہنچا۔۔۔خاور کاریڈور میں ٹہل رہا تھا دائم کو آتے دیکھ کر تیزی میں اس کی طرف بڑھا۔

دائم کے گلے لگ کر رونا شروع ہو گیا۔۔۔دائم بھائی مہک کو بچا لیں،آپ ہی کچھ کر سکتے ہیں۔

سنبھالو خود کو۔۔۔دائم نے اسے خود سے الگ کیا اور اس کے کندھے کو تھپتھپایا۔

کچھ نہیں ہو گا مہک کو۔۔۔تم کس بات پر رو رہے ہو؟

“شاید تم بھول رہے وہ میری بیوی ہے”۔۔۔مجھے بلکل اچھا نہیں لگ رہا کہ تم اس کے لیے آنسو بہاو۔

دائم دو ٹوک انداز میں بولتے ہوئے قاسم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔کیسی طبیعت ہے اب چچی جان کی؟

ہممم۔۔۔بہتر ہیں پہلے سے ہوش تو آ گیا ہے لیکن بار بار مہک کا ہی پوچھ رہی ہیں،کچھ پتہ چلا؟

دائم نے کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔نہی کچھ پتہ نہیں چلا۔

چاچو کو بتایا؟

دائم کے سوال پر قاسم نے سر نفی میں ہلایا۔

بتانا تو پڑے گا۔۔۔میں ان کو کال کر کے آتا ہوں۔

دائم اپنا موبائل کان سے لگاتے ہوئے وہاں سے تھوڑی دور کھڑا ہو گیا اور مہک کے بابا کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔

وہ بھی پریشان ہو گئے۔۔۔ایک طرف بیوی ہاسپٹل میں اور دوسری طرف بیٹی کے غائب ہونے کی خبر ان پر کسی قیامت سے کم نہی تھی۔

دائم ان کو تسلی دینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کال کاٹ کر خاور کی طرف بڑھا۔

وہ دیوار سے ٹیک لگائے کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔دائم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو فوراً اس کی طرف متوجہ ہوا۔

جی دائم بھائی۔۔۔کچھ خبر ملی مہک کی؟

نہی۔۔۔دائم نے گہری سانس لیتے ہوئے سر نفی میں ہلایا اور اس کے کندھے سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔

خاور نے سر جھکا لیا اور مسکراتے ہوئے دائم کی طرف دیکھا۔۔۔وہ صرف آپ کی بیوی نہیں ہے۔

میتا بھی کچھ رشتہ ہے اس سے۔۔۔کزن ہونے کی حیثیت سے مجھے اس کی تکلیف کا احساس ہے۔

یہ ضروری نہی کہ ہر بار آپ ہمارے درمیان کا بس ایک ہی رشتہ یاد رکھیں۔۔۔پھر بھی آپ کو برا لگا۔

I am sorr

آئیندہ دھیان رکھوں گا۔

میں نے جو کچھ کیا مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہر بار مجھے غلط ہی سمجھا جائے۔

میں نے اپنی آنکھوں سے مہک کو تکلیف میں دیکھا ہے اور اس کی اذیت کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔

وہ خود کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی تھی لیکن مقابل زیادہ طاقتور تھا۔۔۔یہاں تک کہ میں بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکا۔

پلک جھپکنے کی دیر میں وہ میری نظروں کے سامنے سے غائب ہو گئی۔۔۔شاید اسی لیے میں خود کو سنبھال نہی پا رہا۔

میرے دل میں کہی نا کہی بہت افسوس ہے کہ میں اس کے سامنے ہو کر اس کے لیے کچھ کر ہی نہی سکا۔

کاش میں اسے بچا سکتا۔۔۔کاش،خیر آپ رکیں یہاں میں گھر جا رہا ہوں کچھ دیر بعد واپس آ جاؤں گا۔

آپ کو کچھ چاہیے تو بتا دیں۔

خاور دائم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا اور دائم اس کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

دائم نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے فرش کو دیکھا اور گہری سانس لیتے ہوئے خاور کی طرف پلٹا۔۔۔تم مہک کے کمرے میں کیا کر رہے تھے؟

دائم کے سوال پر خاور سوچ میں پڑ گیا اور نظریں چرا لی۔

کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے خاور۔۔۔تم مہک کے کمرے میں کیا کر رہے تھے؟

دائم نے اپنی بات دوبارہ دہرائی تو خاور مسکرا دیا۔۔۔بس ایسے ہی وہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا چچی جان سے مل لوں اور ان سے ملا تو سوچا مہک سے بھی ملاقات کر لوں۔

آپ تو ایسے سوال کر رہے ہیں جیسے اس کا زمہ دار میں ہی ہوں۔

آپ کے خیال میں مہک کو میں نے غائب کروایا ہے؟

میں نے ایسا تو نہیں کہا کہ مہک کو تم نے غائب کروایا ہے،شوہر ہونے کی حیثیت سے بس پوچھ رہا ہوں۔۔۔خیر تم گھر جا رہے تھے جاو۔

ہممم۔۔۔جا رہا ہوں خدا حافظ۔

خدا حافظ۔۔۔خاور بے بس سا کندھے اچکاتے ہوئے وہاں سے چل دیا۔

______________________

کیا بنا خاور؟

اتنی دیر سے کیوں آئے ہو اور میری کال کیوں نہی اٹینڈ کی٫کب سے کال کر رہی ہوں لیکن مجال ہے جو تم نے ایک بار بھی کال پک کرنے کی زحمت کی ہو۔

کہاں مصروف تھے؟

خاور ابھی گیٹ سے اندر داخل ہوا ہی تھا کہ دائم کی امی راستے میں مل گئیں۔۔۔یقیناً وہ بہت دیر سے نیچے بیٹھی خاور کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی۔

خاور نے بے یقینی سے انہیں دیکھا اور آنکھیں سکوڑی۔۔۔آپ کو واقعی نہیں پتہ کیا ہوا ہے؟

کیا مطلب ہے تمہارا؟

تم فائل دینے گئے تھے ناں مہک کو تو پھر اس سوال کا مقصد؟

چچی جان ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں،آپ کو کسی نے بتائی نہی یہ بات ابھی تک؟

نہی۔۔۔مجھے تو کسی نے نہیں بتایا،تو اس نے طلاق کے پیپرز دیکھ لیے؟

خدا کے لیے تائی امی۔۔۔کبھی اپنی خودغرضی کی دنیا سے باہر بھی آ جایا کریں،چچی جان پیپرز دیکھنے کی وجہ سے مہک کے غائب ہونے کی وجہ سے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں۔

اب یہ کیا ڈرامہ ہے خاور؟

ڈرامہ نہیں حقیقت ہے تائی جان۔۔۔وہ جن مہک کو لے کر غائب ہو گیا ہے وہ بھی میری آنکھوں کے سامنے۔

میں فائل دینے ہی گیا تھا مہک کے کمرے میں لیکن جیسے ہی میں وہاں پہنچا وہ مہک کی گردن دبوچے ہوئے تھا اور مہک کو خود کی بچانے کی کوشش میں ہاتھ پاؤں مار رہی تھی اور پھر وہ ہوا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔مہک میری آنکھوں کے سامنے غائب ہو گئی۔

چلو یہ تو اچھا ہو گیا۔۔۔اس جن نے تو میرا کام اور بھی آسان کر دیا۔اچھا ہوا جان چھوٹی اس لڑکی سے۔

وہ فائل کہاں ہے ویسے اب؟

خاور نے کندھے اچکاتے ہوئے سر افسوس میں ہلایا۔۔۔چچی جان بے ہوش ہو گئیں تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا میں نے وہ فائل مہک کے بیڈ کے نیچے چھپا دی۔

چلو اچھا کیا۔۔۔آج نہیں تو کل خود ہی ان کی نظر پڑ جائے گی۔

تائی امی ایک بات پوچھوں آپ سے؟

وہ جانے کے لیے پلٹی ہی تھیں کہ خاور کے سوال پر رک گئیں اور اس کی طرف بڑھی۔۔۔ہاں پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو۔

مہک سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہیں آپ؟

پتہ نہیں۔۔۔بس اتنا جان لو کہ میری مرضی جانے بغیر اسے زبردستی میرے بیٹے کے سر پر مسلط کر دیا گیا تھا،یہ اسی کا بدلہ ہے۔

ان کا جواب سن کر خاور نے گہری سانس لی۔۔۔ویسے دیکھا جا تو جو کچھ ہوا اس میں مہک کی تو کوئی غلطی نہی تھی اور ناں ہی اس میں ایسی کوئی برائی ہے جو آپ اس سے اس حد تک نفرت کریں۔

ہمارے خاندان کی بیٹی ہے وہ،آپ کی آنکھوں کے سامنے پلی بڑھی ہے پھر بھی آپ صرف اپنی انا کے لیے اس پر اتنا بڑا ظلم کر رہی ہیں۔

اگر اس کی جگہ مصباح آپی ہوتی تو کیا آپ تب بھی ایسا ہی کرتی؟

اپنی زبان کو لگام دو خاور۔۔۔تم نے جتنا کرنا تھا کر لیا،اب اس بارے میں ہم کوئی بات نہیں کریں گے۔۔۔آج سے تم اپنے راستے اور میں اپنے راستے۔

اب وہ جن مہک کو لے گیا اور تمہارا کام نہیں ہوا تو تمہارے دل میں مہک کے لیے ہمدردی جاگ گئی۔۔۔واہ۔

اپنی اچھائی کا لیکچر مجھے مت سناو۔۔۔جاو اماں جان کو پوتی کی گمشدگی کی خبر سناؤ۔۔۔طنزیہ مسکراہٹ اچھالتی ہوئی اپنے پورشن کی طرف بڑھ گئیں اور خاور دادی کے کمرے میں چلا گیا۔

سوائے بڑی بہو کے باقی پورے گھر پر یہ خبر کسی قیامت کی طرح ثابت ہوئی۔۔۔دادی جان نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا اور باقی سب ان کے پاس بیٹھے ان کو تسلیاں دینے میں مصروف تھے۔

جوان بچی ہے۔۔۔لوگوں کو کیا جواب دیں گے ہم اور میرے دائم کا کیا بنے گا،وہ کہاں کہاں ڈھونڈے کا اسے۔۔۔یا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا۔

دادی جان رو رو کر ہاتھ اٹھا کر اللہ سے مدد مانگ رہی تھیں۔

_______________________

مہک کی آنکھ کھلی۔۔۔کمرے میں ہر طرف اندھیرا تھا،چھت کے درمیان میں ایک روشن دان بنا تھا اس میں سے ہلکی ہلکی چاند کی روشنی زمین پر پڑ رہی تھی۔

اس نے اپنے زخمی وجود کے ساتھ اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی کیونکہ اس کے ہاتھ پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور وہ زنجیریں اس کمرے کی دیواروں میں قید تھیں۔

بہت دیر تک ان زنجیروں سے الجھتی رہی لیکن کچھ حاصل نا ہوا پھر اچانک اس کی نظر سامنے دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے وجود پر پڑی۔

وہ چیخنا چاہتی تھی لیکن اس کی آواز جیسے گلے میں ہی اٹک گئی۔

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *