Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 26)
Rate this Novel
Aks (Episode 26)
Aks by Khanzadi
کیا حالت بنا لی ہے آپ نے اپنی۔۔۔آپ ایسے تو نہیں تھے۔
کس کے سامنے صفائیاں پیش کر رہے ہیں آپ شایان؟
یہ تو خود کسی اور کی ہے۔۔۔
ہم یہاں اس کے لیے نہیں بلکہ آپ کے لیے آئے ہیں اور آپ کو ساتھ لیے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے۔
کیوں نہیں جانا چاہتے آپ ہمارے ساتھ شایان،آخر کیوں؟
ہوش و حواس تو آپ کے گم ہیں شایان۔۔۔ایک معمولی سی لڑکی کے لیے آپ اپنا سب کچھ بھول بیٹھے ہیں۔
آپ محبت میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ آپ کو اپنے رشتوں کی محبت دکھائی ہی نہیں دے رہی۔
آخر ایسا کیا ہے اس لڑکی میں؟
آپ کے لیے تو ہماری جان بھی حاضر ہے شایان لیکن اس لڑکی کا احترام کرنا ہماری توہین ہے۔
اس لڑکی کی معصوم صورت نے آپ کو پاگل بنا رکھا ہے لیکن اس کی معصوم صورت کے پیچھے چھپی بھیانک صورت کو آپ دیکھ ہی نہی پا رہے۔
ہم آپ کو یہاں سے لے کر ہی جائیں گے،آپ ہم سب کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔
اگر آپ دشمن کے لیے ہمارے سامنے ڈٹ گئے ہیں تو ہم بھی آپ سے اعلان جنگ کرتے ہیں۔
آپ کو کیا لگتا ہے یہ لڑکی آپ سے سچی محبت کرتی ہے؟
اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو اپنے دل سے یہ وہم نکال دیجیۓ۔۔۔یہ آپ کو دھوکہ دے رہی ہے،آپ کی غیر موجودگی میں کسی اور کے کندھے پے سر رکھ کر آنسو بہاتے ہوئے دیکھا ہے ہم نے اسے۔
آپ کس گمان میں ہیں؟
اس لڑکی کے لیے خود کو خوار کرنا چھوڑ دیں۔۔۔یہ آپ کی محبت کے قابل نہیں ہے۔
دیکھئیے خود کو اچھی طرح۔۔۔آپ اس لڑکی کا ہاتھ تک نہی تھام سکتے اسے ہمسفر بنانا تو دور کی بات ہے۔
رات کے کسی پہر اچانک شایان کی آنکھ کھلی۔۔۔اٹھ کر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا۔
اپنے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے مسکرا دیا۔۔۔ادینہ کے الفاظ اب تک اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
بے بس سا مسکرا دیا۔۔۔سہی کہا آپ نے ادینہ ہم مہک کو ہاتھ نہی لگا سکتے٫کتنے مجبور اور بے بس ہیں ہم۔
جانتے ہیں وہ ہماری نہی ہو سکتی اور یہ بھی جان چکے ہیں کہ وہ کسی اور کی ہم سفر ہیں لیکن ہم بہت بے بس ہو چکے ہیں۔
ہم چاہ کر بھی اپنے لیے کچھ نہی کر سکتے۔۔۔وہ چاہے کسی کی بھی ہو لیکن ہم تو صرف اسی کے ہیں اور ہمیشہ اسی کے رہیں گے۔
جو کچھ ہوا اس میں مہک کا کوئی قصور نہیں ہے وہ تو خود دوسروں کے حکم کی تعمیل کر رہی ہے۔
وہ چاہے کسی کی بھی ہو اس کی آنکھوں میں آج ہم نے اپنے لیے محبت دیکھی ہے،قدرت کی اس ستم گری پر ہم بہت بے بس ہیں۔
وہ چاہ کر بھی ہماری نہی ہو سکتی اور ہم سچ جان کر بھی صرف اسی کے ہیں۔
دائم بہت خوش قسمت ہے کہ وہ ایک انسان ہے اور اس نے مہک کا ساتھ پا لیا۔۔۔کاش ہم بھی انسان ہوتے۔
اگر ایسا ممکن ہوتا تو آج مہک ہماری ہوتی۔۔۔ہم کیسے سمجھائیں آپ کو مہک،ہم بدلے نہیں ہیں بلکہ حقیقت کو تسلیم کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔
ہم نے اپنی محبت کو کہی دور نہی دھکیلا بلکہ ہمارے دل میں آپ کی محبت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں کہ ہم آپ کو بھول جائیں گے۔
ہم آپ سے دور ضرور ہیں لیکن بے خبر نہیں۔۔۔آپ کی ایک ایک سانس سے واقف ہیں ہم۔
آپ کی آنکھوں میں آج جو چمک تھی ناں اس چمک کو دیکھنے کے لیے ہم بہت ترسے ہیں۔
ہمیں ملنا ہے آپ سے بس ایک بار۔۔۔بس ایک بار ہم آپ کو پھر سے دیکھنا چاہتے ہیں،ہمیں آپ کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنی ہے۔۔۔اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے وہاں سے غائب ہو گیا۔
مہک سو رہی تھی کہ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔۔۔اسے عجیب سی بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔
دوپٹہ اوڑھتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتر کر کھڑی ہوئی لیکن جیسے ہی سامنے صوفے پر نظر پڑی گرنے کے انداز میں دوبارہ بیڈ بیٹھ گئی اور رونا شروع ہو گئی۔
اسے روتے ہوئے دیکھ کر شایان فوراً اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔۔کیا ہوا؟
آپ ہمیں دیکھ کر رونا کیوں شروع ہو جاتی ہیں مہک؟
خود بھی روتی ہیں اور ہماری آنکھیں بھی بھگو دیتی ہیں۔۔۔بہ مشکل مسکراتے ہوئے بولا۔
مہک نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔مجھے نہی پتہ۔
میں کیوں رو رہی ہوں مجھے خود بھی نہی پتہ۔
ہمیں یاد کر رہی تھی آپ؟
مہک نے سر اوپر اٹھایا اور سوالیہ نظروں سے شایان کو دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔
اچھا۔۔۔اگر یاد نہیں کر رہی تھی تو پھر ہمیں سامنے دیکھ کر رو کیوں رہی ہیں؟
سچ تو یہ ہے کہی نا کہی آپ کے دل میں ہماری محبت نے جنم لے لیا ہے۔۔۔آپ چاہے جتنا مرضی انکار کر لیں لیکن ہم جان چکے ہیں آپ کے دل میں ہمارے نام کا دیا جل رہا ہے۔
دیا جل تو رہا ہے شایان لیکن وہ دیا طوفانوں کی زد میں ہے۔۔۔جو کبھی بھی بجھ سکتا ہے۔
مہک کے جواب پر شایان اس کے سامنے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔۔مہک اگر آپ چاہیں ناں تو ہم اس دیے کو طوفان کی زد سے بچا کر کہی دور لے جا سکتے ہیں،ایسی جگہ جہاں ناں کسی طوفان کا ڈر ہو اور ناں کسی انسان کا۔
ایسی جگہ جہاں آپ ہمیں اپنا کہہ سکیں۔۔۔جہاں مجبوری کے نام پر محبت کو جھکنا نا پڑے۔
جہاں ہم تا عمر ساتھ رہ سکیں۔۔۔جہاں کوئی مجبوری ہمارے راستے کا کانٹا نا بنے۔
اگر آپ چاہیں تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے مہک۔
میں ایسا نہی کر سکتی۔۔۔مجھے نہی پتہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔میں بس یہ چاہتی ہوں کہ آپ جہاں کہی بھی رہیں ٹھیک رہیں اور آپ کہاں ہیں کہاں نہی مجھے پتہ ہو۔
آپ بتائے بغیر میری زندگی سے ایسے غائب ہوئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔
دائم نے بھی ٹھیک سے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔بس اتنا بتایا تھا کہ آپ اب کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
شاید انہیں اچھا نہیں لگا میرا آپ کے بارے میں بات کرنا۔
شایان نے گہری سانس لی اور پلٹ کر بیڈ سے ٹیک لگائے بے بس سا بیٹھ گیا۔۔۔کبھی کبھی ہمیں ایسے لگتا ہے جیسے دائم نے ہماری کمزوری کا بہت فائدہ اٹھایا ہے۔
ہم علم حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ جان کر اس نے ہمیں ایسی جگہ بھیجا جہاں سے ہماری واپسی ممکن ہی نا ہو۔
ہمارے سامنے ایسی شرائط رکھی گئی جن کا مقصد شاید ہمیں آپ سے دور رکھنا ہی ہو۔کہی ایسا تو نہیں کہ دائم نے ہماری چال ہم پر ہی چل دی ہو؟
مہک نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔۔۔مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتہ اور اسلام قبول کرنے کا فیصلہ تو آپ کا اپنا تھا۔
دائم کا اس میں کیا فائدہ؟
اس کا فائدہ اور اپنا نقصان معلوم ہے ہمیں مہک لیکن ایک بات تو ہم سمجھ چکے ہیں کہ ہم لاکھ کوشش کر لیں دائم کو آپ سے دور نہی کر سکتے۔
آپ کو ان کی قسمت میں لکھ دیا گیا اور ہمارے ہاتھ تو آج بھی خالی ہیں۔۔۔آپ ہماری قسمت میں تو دور کی بات ہے ہماری زندگی میں بھی ہمیں میسر نہیں ہو سکتی۔
قسمت کے اس کھیل میں ہم ہار گئے مہک۔۔۔ہم ہار گئے۔
ہم نے پڑھا ہے کہ جب ایک لڑکے اور لڑکی کا نکاح ہوتا ہے تو ان کے سر سے آفت اور بلائیں ٹل جاتی ہیں اور وہ اللہ کی رحمت کے حصار میں آ جاتے ہیں۔
شاید اسی لیے اللہ نے ہمیں آپ سے دور کر دیا اور اپنے قریب کر کے ہمیں اس رشتے کی حقیقت سمجھائی۔
پتہ ہے مہک ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہم اکثر سوچتے تھے کہ یہ کائنات اتنی ترتیب سے خود بخود کیسے قائم ہو سکتی ہے؟
ہم سوچتے رہتے اور کھوجنے کی کوشش کرتے رہتے کہ آخر کون ہے جو اس کا تخلیق کار ہے۔۔۔شاید ہمارا آپ سے ملنا ہمارے ان سب سوالوں کا جواب تھا۔
راستہ کوئی بھی ہو لیکن ہمیں ہمارے سوالوں کے جواب مل گئے اور آج ایک بات تو سمجھ میں آ چکی ہے کہ جب تک اللہ نا چاہے کچھ نہیں ہو سکتا۔
ہم نہیں جانتے کہ ہماری محبت کا انجام کیا ہو گا۔۔۔ہم نے جب سے دعا مانگنا سیکھا ہے اپنی دعاؤں میں بس آپ کو مانگا ہے۔
ہم اللہ کے “کن” کے انتظار میں ہیں لیکن جب پلٹ کر آپ کے ساتھ دائم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ہماری ساری دعائیں رد ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔
ایسے لگتا ہے جیسے ہم ہار چکے ہیں۔۔۔کیا آپ نے کبھی اپنی دعاؤں میں ہمارا ساتھ مانگا ہے؟
مہک نے چونک کر شایان کی طرف دیکھا اور سر جھکا لیا۔
میں نے ہمیشہ آپ کی سلامتی کی دعا مانگی ہے۔۔۔مہک نے مختصر جواب دیا۔
شایان بے بس سا مسکرا دیا اور دایاں ہاتھ بالوں میں پھیرتے ہوئے گہری سانس لیتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
جب آپ ہمارا ساتھ چاہتی ہی نہیں تو ہماری دعاؤں میں اثر کہاں سے آئے گا؟
ہم چلتے ہیں۔۔۔بس کچھ دن اور باقی ہیں پھر ہم محل چلے جائیں گے۔
ہمیشہ کے لیے؟
مہک کے سوال پر شایان اس کی طرف پلٹ کر مسکرا دیا۔۔۔اتنی بے زار ہیں آپ ہم سے؟
نہی میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔مہک اس کے پاس کھڑی ہو گئی۔
ہمارا ساتھ بھی نہیں چاہتی اور ہمیں خود سے دور بھی نہیں جانے دیتی٫آخر آپ چاہتی کیا ہیں ہم سے؟
ایک زندہ لاش بن چکے ہیں ہم آپ کے لیے اور آپ کے دل میں ابھی بھی ہمارے ساتھ جینے کی خواہش نہی جاگی۔
آپ چاہتی ہیں ہم آپ کی نظروں کے سامنے رہیں اور چپ چاپ آپ کو کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھتے رہیں؟
آخر کیوں مہک۔۔۔کیوں؟
شایان غصے میں آ گیا۔
کیوں آپ کو ہماری محبت نظر نہیں آتی؟
مجھے آپ سے محبت نہیں ہے شایان۔۔۔مہک بے بس سی چلائی۔
نہی ہے محبت مجھے آپ سے۔۔۔گھر والوں نے میرا نکاح دائم سے کروا دیا اس میں بھی میں غلط ہوں آپ کی نظر میں؟
جب آپ میرے لیے دوسروں کو نقصان پہنچا رہے تھے تو سب خاموش بیٹھے رہتے کیا؟
سب کو یہی لگا کہ اگر آپ دوسروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں تو مجھے بھی پہنچا سکتے ہیں اسی لیے میرے نکاح کا واحد حل ملا ان کو۔
ہم چاہ کر اپنے لیے کچھ نہی کر سکتے یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں لیکن پھر بھی اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میں غلط ہوں تو مار دیں مجھے۔
ایسے گھٹ گھٹ کر نہیں جی سکتی میں۔۔۔آپ کو مجھ سے محبت ہوئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟
میں نے تو نہی کہا تھا آپ سے کہ آپ مجھ سے محبت کریں اور کونسی کتاب میں لکھا ہے کہ سب کو محبت ملتی ہے؟
کچھ محبتیں ہمیشہ کے لیے ادھوری رہ جاتی ہیں۔
ہماری زندگی میں کچھ بھی ادھورا نہیں ہو سکتا مہک۔۔۔ہمیں عادت ہی نہی ہے ناں سننے کی۔
ہمیں جو چیز پسند آ گئی ہم اسے کبھی نہیں چھوڑتے کبھی بھی نہیں۔۔۔شایان اپنے پرانے روپ میں واپس آ چکا تھا۔
اگر آپ ہماری نا ہوئی تو ہم آپ کو کسی اور بھی نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ختم کر دیں گے آپ کو اور خود کو بھی۔
ہاں تو کریں ناں ختم۔۔۔روکا کس نے ہے؟
لیں کھڑی ہوں آپ کے سامنے مار دیں مجھے۔
مہک نے آنکھیں بند کی اور اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
شایان کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں غصے میں مہک کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس کی گردن تھام لی۔
_________________________
کیا کرتی ہیں آپ تائی امی۔۔۔کب سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں اور آپ اب آ رہی ہیں۔
خاور دائم کے پورشن کے باہر سیڑھیوں میں کھڑا ان کا انتظار کر رہا تھا۔
آ گئی ہوں صبر کرو زرا۔۔۔ہر کام میں جلد باز ہو تم۔
اتنا آسان نہیں ہوتا اس وقت سب سے چھپ کر باہر نکلنا۔۔۔تمہارے تایا ابو جاگ گئے تھے اسی لیے دیر ہو گئی۔
Whatever…
خیر چھوڑیں ان سب باتوں کو مجھے کیوں بلایا ہے یہ بتائیں آپ۔
یہ لو۔۔۔انہوں نے خاور کی طرف ایک فائل بڑھائی۔
کیا ہے اس میں اور آپ یہ مجھے کیوں دے رہی ہیں؟
کھول کر خود ہی دیکھ لو۔۔۔انہوں نے مختصر جواب دیا اور مسکرا دی۔
خاور نے فائل کھول کر دیکھی اور مسکرایا۔۔۔بہت تیز ہیں آپ تائی امی،چالاقیاں کرنی تو کوئی آپ سے سیکھے۔
کیا مطلب ہے تمہارا خاور؟
امممم۔۔۔کککچھ نہی تائی امی میں تو بس آپ کی تعریف کر رہا تھا۔
پیپرز تو آپ نے بنوا لیے ہیں لیکن دائم بھائی سے سائن کیسے کروائیں گی؟
میں کیوں کرواؤں گی اس سے سائن؟
یہ کام تمہاری زمہ داری ہے بیٹا۔۔۔تم جانو اور تمہارا کام جانے۔
Excuse me!
آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ میں شیر کے پنجرے میں جاؤں اور اس کی شیرنی کے پنجرے کی چابی اٹھا لاؤں وہ بھی اسے پتہ لگے بغیر؟
جی ہاں۔۔۔آخر اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔جتنی جلدی ہو سکے اپنا کام پورا کرو۔
Wait a mint…
آپ کو کیا مزاق لگ رہا ہے یہ سب کچھ؟
اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ سمجھ رہی ہیں۔۔۔دائم بھائی ابھی مجھ پر اتنا بھروسہ نہی کرتے کہ میرے کہنے پر پڑھے بغیر چپ چاپ سائن کر دیں گے۔
سائن تو آپ کو کروانے ہی پڑیں گے بیٹا کیونکہ میرے لیے یہ کام ناممکن ہے۔
بس تم ہی ہو جس پر میں بھروسہ کر سکتی ہوں،کسی بھی طرح دائم کا خود پر بھروسہ قائم کرو اور پھر کسی بہانے سے چند پیپرز سائن کروانے جاو۔
ان پیپرز میں یہ پیپرز چھپا دو بات ختم۔۔۔میں چلتی ہوں کوئی آ نا جائے۔
تائی امی لیکن۔۔۔خاور بولتا رہ گیا اور وہ جواب دیتا بغیر دروازہ بند کرتی ہوئی اندر چلی گئیں۔
عجیب زبردستی ہے۔۔۔خاور کندھے اچکاتے ہوئے بولا اور ایک نظر فائل پر ڈالتے ہوئے اپنے پورشن میں چلا گیا۔
جاری ہے۔۔۔۔
