Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 24)
Rate this Novel
Aks (Episode 24)
Aks by Khanzadi
خیریت سے شادی کا دن گزرا اور شمع قاسم کے ساتھ رخصت ہو کر گھر آ گئی۔
اگلے دن سب ولیمے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔دلہا دلہن گھر سے ہال کے لیے نکل چکے تھے لیکن مہک ابھی تک پارلر میں تھی۔
دائم پارلر کے باہر کھڑا اسے کال پے کال کر رہا تھا لیکن مہک کال نہی اٹھا رہی تھی۔
آخر کار پارلر کا دروازہ کھلا اور مہک صاحبہ باہر تشریف لائی۔
دائم بہت غصے میں تھا لیکن اسے دیکھتے ہی اس کا سارا غصہ غائب ہو گیا۔
مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
“کیسی لگ رہی ہوں؟”
آپ نے کچھ بتایا ہی نہیں۔۔۔
ہمممم۔۔۔اچھا سوال ہے لیکن میرے پاس اس سوال کا جو جواب ہے وہ آپ کو پسند نہیں آئے گا مسز۔
“کیا مطلب۔۔۔؟”
آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میں اچھی نہی لگ رہی؟
مہک نے فوراً بیک ویو مرر میں خود کو دیکھا اور اچھی طرح جائزہ لیا کہ کہی کچھ غلط تو نہیں ہے۔
“نہی نہی بہت اچھی لگ رہی ہو بلکہ بیوی والی فیلنگز آ رہی ہیں آج تم سے”۔۔۔میرا یہ مطلب تھا۔
سوچ رہا ہوں کہ آج ہی رخصتی کروا لوں،کیا خیال ہے؟
بات کروں چاچو سے؟
لگے ہاتھ ہمارا بھی کام تمام ہو۔
استغفرُللہ۔۔۔اللہ نا کرے۔۔۔اتنی بھی کیا جلدی ہے آپ کو شادی کی؟
میرا ابھی رخصتی کروانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ابھی تو مجھے پڑھنا ہے۔
اس میں استغفرُللہ والی کیا بات تھی؟
ایک نہ ایک دن تو رخصتی ہونی ہے تو آج کیوں نہیں؟
اور تمہارے ارادے سے کیا فرق پڑتا ہے؟
نکاح کا ارادہ تو نہیں تھا ناں تمہارا لیکن پھر بھی ہو گیا ناں۔۔۔بلکل اسی طرح رخصتی بھی ہو جائے گی۔
تم سے مشورہ کس نے مانگنا ہے بھلا۔۔۔اور جہاں تک بات ہے پڑھائی کی وہ تو شادی کے بعد بھی ہوتی رہے گی۔
کتنا اچھا لگے گا میں کل صبح صبح تمہیں کالج چھوڑنے جاؤں گا۔۔۔تم اپنے مہندی والے خوبصورت ہاتھوں میں کتابیں اٹھائے مسکراتی ہوئی میرا انتظار کرو گی۔
خواب سے جاگ جائیں آپ۔۔۔مہک نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔
ایسا کبھی نہیں ہو گا۔۔۔دن میں خواب دیکھنا بند کر دیں آپ۔
جلدی چلائیں گاڑی اگر ہمیں دیر ہو گئی تو سب کیا سوچیں گے۔۔۔عجیب سا لگے گا۔
سب کیا سوچیں گے یہ تو مجھے نہیں پتہ لیکن خاور کا چہرہ دیکھنے والا ہو گا۔
دائم کی بات پر مہک مسکرائی۔۔۔صرف خاور کا نہیں آپ کی امی کا بھی۔
اچھا جی۔۔۔دائم بھنویں اچکاتے ہوئے بولا تو مہک نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔
میں بس مذاق کر رہی تھی آپ کو برا لگا تو سوری۔۔۔آئیندہ نہی کہتی کچھ۔
نہی۔۔۔برا تو نہی لگا لیکن تھوڑی حیرانگی ضرور ہوئی کہ آخر کار تم نے سچ بولنے کی ہمت تو کی۔
ٹھیک ہو جائیں گی امی۔۔۔بس سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی۔
شاید انہوں نے کسی اور کو سوچا ہوا تھا میرے لیے۔
اچھا جی۔۔۔تو آپ ان کی خواہش پوری کر دیں۔۔۔پوچھ لیں ان سے کس کو سوچا تھا انہوں نے آپ کے لیے۔
Exactly…
میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔۔۔کرتا ہوں بات آج ان سے کھل کر تا کہ ان کو مجھ سے کوئی شکایت نا رہے۔
اس کے دو فائدے ہو گے،ایک تو وہ خوش ہو جائیں گی اور دوسرا تمہیں بھی قبول لیں گی۔۔۔اور کیا چاہیے؟
وہ خوش اور ہم بھی خوش۔۔۔
ایسی خوشی آپ کو ہی مبارک ہو۔۔۔آپ کو جو اچھا لگتا ہے کریں لیکن مجھے نہ بتائیں۔
مہک غصے سے ایک ایک لفظ کھینچتے ہوئے بولی۔
چہرہ دوسری طرف موڑ لیا اور آنکھ سے بہتے آنسو پونچھے۔
دائم نے فوراً اس کا ہاتھ تھاما اور ہونٹوں سے لگا لیا۔۔۔”میری زندگی میں تمہارے علاوہ کسی اور کی کنجائش نہی ہے”۔
ناں تم سے پہلے کوئی تھی اور ناں اب کوئی ہو گی۔۔۔جس کا ہاتھ تھاما ہے زندگی بھی اسی کے ساتھ گزاروں گا۔
بس چھوٹا سا مذاق کر رہا تھا۔۔۔تم سیریس ہو گئی۔۔۔دوبارہ مجھے تمہارے چہرے پر یہ آنسو نظر نا آئیں۔
بس مسکراہٹ ہونی چاہیے اس چہرے پر۔۔۔سمجھی؟
مہک نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
Good Girls…
لیں جی پہنچ گئے ہم۔۔۔باہر ویٹ کرو میں گاڑی پارک کر کے آتا ہوں۔
جی۔۔۔مہک گاڑی سے باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے سے چاچو کی فیملی کو آتے دیکھا۔
مسکراتی ہوئی ان کی طرف بڑھی اور سب کو سلام کیا۔
خاور نے چونک کر مہک کو دیکھا اور ادھر اُدھر نظر دوڑائی۔۔۔اکیلی آئی ہو؟
نہی۔۔۔دائم کے ساتھ آئی ہوں،وہ گاڑی پارک کر کے آ رہے ہیں۔۔۔مہک نے نا چاہتے ہوئے بھی خاور کے سوال کا جواب دیا۔
آپ لوگ چلیں اندر میں ان کے ساتھ آتی ہوں۔
ٹھیک ہے بیٹا آ جاؤ دھیان سے۔۔۔خدیجہ بیگم شوہر کے ساتھ آگے بڑھ گئیں لیکن خاور وہی کھڑا رہا۔
کتنے اچھے لگ رہے تھے ہم چاروں ایک ساتھ۔۔۔بلکل پرفیکٹ فیملی۔
اچھی خوش فہمی ہے لیکن ایسا کہنے کا کوئی فایدہ نہیں ہے۔۔۔میری فیملی دائم کے ساتھ مکمل ہوتی ہے اور میری زندگی میں ان کی جگہ کوئی اور لے ہی نہی سکتا۔
خوش فہمیوں میں جینا چھوڑ دو اور جتنی جلدی ہو سکے حقیقت کو تسلیم کر لو۔۔۔یہی بہتر ہو گا تمہارے لیے۔
خوش فہمیاں پال کر تم صرف اور صرف اپنے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہو۔
اس میں کسی دوسرے کا کوئی نقصان نہیں ہو گا بلکہ تم خود اپنی مشکلات بڑھا کر اپنی زندگی خود پر تنگ کر رہے ہو۔
یہ حالات تمہارے اپنے پیدا کردہ ہیں۔۔۔تو اب ان حالات کو قبول کرنے میں مشکل کیوں پیش آ رہی ہے تمہیں؟
مجھے دائم کے ساتھ خوش دیکھ کر حسد کا شکار کیوں ہو رہے ہو تم؟
یا پھر میں یہ سمجھوں کہ تم ایک گھٹیا مرد ہو۔۔۔ایک ایسا مرد جو لباس کی طرح عورت بدلتا ہے اور جس کی نظر میں عورت کی اہمیت کسی بازاری چیز جیسی ہے،جب جس کو چاہا خرید کر اپنا بنا لیا اور جب اس سے دل بھر گیا تو دوسری خریدنے نکل پڑے۔
Shut up…
میں کچھ بول نہی رہا چپ چاپ سن رہا ہوں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تمہارے منہ میں جو آئے گا بولتی چلی جاؤ گی۔
مہک تم کوئی بازاری چیز نہی۔۔۔میری پہلی اور آخری محبت ہو٫میں نے زندگی میں اگر کسی سے محبت کی ہے تو وہ تم ہو صرف اور صرف تم۔
اچھا۔۔۔واقعی تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میں تمہاری پہلی اور آخری محبت ہوں؟
اگر تمہیں ایسا لگتا ہے تو غلط لگتا ہے کیونکہ۔۔۔”مرد جس عورت سے سچی محبت کرتا ہو اسے کسی اور کے لیے نہیں چھوڑتا”
اپنے دل و دماغ سے یہ محبت نام کا وہم نکال کر پھینک دو اور مان لو کہ تم ایک خود غرض انسان ہو٫جو کسی بھی وقت اپنے فائدے کے لیے کسی کو بھی دھوکا دے سکتا ہے۔
Everything is Alright?
دائم کی آواز پر مہک پلٹی اور مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلاتی ہوئی اس کا ہاتھ تھامے ہال کی طرف بڑھ گئی۔
دائم نے پلٹ کر خاور کی طرف دیکھا اور افسردگی میں سر ہلایا۔
خاور نے ادھر اُدھر دیکھا اور چپ چاپ اندر چل دیا۔
کیا ہوا خاور کچھ کہہ رہا تھا تم سے؟
جی۔۔۔حسبِ عادت لیکن آپ اس کی وجہ سے اپنا موڈ خراب نا کریں پلیز۔
ٹھیک ہے۔۔۔دائم نے مسکراتے ہوئے مہک کو دیکھا اور دونوں سب سے ملتے ہوئے اسٹیج کی طرف بڑھ گئے۔
________________________
شایان سوچ بھی نہیں سکتا کہ ادینہ اس کے پیچھے یہاں تک آ سکتی ہے۔
ہمیں امام صاحب سے بات کرنی ہو گی۔۔۔اب وقت آ گیا ہے ان سے اجازت لینے کا۔
اس سے پہلے کہ وہ مہک کو کوئی نقصان پہنچائے۔۔۔نہیں نہیں ہم اسے ایسا کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔
وہ یہاں آ تو گئی ہے لیکن ہم اسے مہک کے آس پاس بھی نہی بھٹکنے دیں گے۔
ہم مہک کے لیے ہی اس سے دور ہیں لیکن ہم اس سے اتنے بھی بے خبر نہیں ہیں کہ اس کی طرف اٹھنے والی غلط نگاہ کو نہ دیکھ سکیں۔
معاف کیجئے گا راجا صاحب لیکن ہم آپ کو مہک تک پہنچنے نہیں دے سکتے۔
ہم جانتے ہیں ہم آپ کے ساتھ اور ہیزل کے ساتھ غلط کر رہے ہیں لیکن ہم بہت مجبور ہیں۔
اگر ہم وہاں رہتے تو یقیناً خدا تک نا پہنچ پاتے۔۔۔خدا کو پہنچاننے کے لیے ہم اس گناہ بھری دنیا سے دور رہنا پڑ رہا ہے لیکن ہم آپ کے بیٹے ہیں یہ بات ہمیں اچھی طرح یاد ہے۔
بہت مشکل ہوئی ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں لیکن اگر ہم وہاں رہتے یا آپ سے اجازت مانگتے تو آپ انکار کر دیتے۔
آپ نہی جانتے آپ سب کتنے بڑے خسارے میں ہیں اس وقت۔۔۔جس آگ اور پانی کی آپ عبادت کرتے ہیں کبھی سوچا ان کو بنانے والا کون ہو سکتا ہے؟
نہی سوچا آپ نے آج تک اور ناں ہی ہماری سوچ کبھی اس طرف گئی لیکن ایک عام سی لڑکی کی محبت میں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا۔
ہم نے محسوس کیا ہے اور نشانیاں دیکھی ہیں کہ واقعی ان سب کو بنانے والا کوئی ہے،ہم اس کو بغیر دیکھے اس کی قدرت پر یقین رکھ چکے ہیں۔۔۔اور یقین جانیے یہ یقین بہت خوبصورت ہے۔
ایسے لگتا ہے جیسے دکھائی نہ دے کر بھی وہ ہر طرف موجود ہے۔۔۔ہماری سانسوں سے بھی زیادہ ہمارے نزدیک اور ہر سجدے میں ہمارے روبرو۔
ہم نہیں جانتے ہم آپ کا سامنا کیسے کریں گے اور آپ کو کیسے سمجھائیں گے لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اگر آپ کا فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تب بھی ہم سچ کے راستے کو نہیں چھوڑیں گے۔
اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
______________________________
ایک ہفتے بعد۔۔۔
مہک کالج سے واپس آئی ہی تھی کہ مدیحہ کی کال آ گئی۔
شام کی پلاننگ ہے پھر میری طرف آنے کی یا نہیں؟
مدیحہ اسے اپنے گھر بلا رہی تھی لیکن مہک مسلسل انکار کر رہی تھی۔
بس ٹھیک ہے پھر۔۔۔نہ آؤ نہیں آنا تو٫اپنی بار تم ایسی شکلیں بناتی ہو۔
تمہاری مجبوری ہوتی ہے اور میں تو گھر میں فری ہوتی ہوں ناں۔۔۔مدیحہ تپ گئی۔
وہ بات نہیں ہے مدیحہ۔۔۔بھابھی گھر نہیں ہے اور امی کی طبیعت تھوڑی خراب ہے ان کو اکیلا چھوڑ کر نہی جا سکتی فی الحال۔
ایسا کرو تم میری طرف آ جاو۔۔۔کیا خیال ہے؟
اچھا۔۔۔مطلب ہر بار کی طرح مجھے ہی ہار ماننی پڑے گی۔۔۔مدیحہ نے ہار مان لی۔
جی جی۔۔۔آپ کو ہی ہار ماننی پڑے گی بہن کیونکہ تم میری اکلوتی دوست ہو اور بہن بھی آئی سمجھ؟
آ گئی سمجھ۔۔۔مکھن لگانا تو کوئی تم سے سیکھے،آتی ہوں پانچ بجے تک۔
Thank you
اللہ حافظ۔۔۔مہک نے مسکراتے ہوئے کال کاٹ دی اور چینج کرنے چلی گئی۔
اپنے کمرے میں بیٹھی بھائی کی شادی کا البم دیکھ رہی تھی کہ اچانک دروازے میں کھڑی مدیحہ پر نظر پڑی۔
میڈم اب آ گئی ہو تو اندر بھی جاؤ یا پھر تمہیں اندر بلانے کے لیے ایپلیکیشن دینا پڑے گی؟
مدیحہ یک ٹک مہک کو دیکھتی آگے بڑھی۔
مہک نے گھڑی پر نظر ڈالی تو چار بج رہے تھے۔اچھا۔۔۔مجھے پانچ بجے کا بول کر ایک گھنٹہ پہلے آ گئی۔
اچھا سرپرائز تھا۔۔۔آو بیٹھو اب،ایسے کیوں دیکھ رہی ہو مجھے جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔
وہی چہرہ جو تم روز دیکھتی ہو۔۔۔اسے پلکیں جھپکائیں بغیر اپنی طرف دیکھتے دیکھ کر مہک مسکراتے ہوئے بولی۔
مدیحہ اس کے پاس آ کر رک گئی۔۔۔
کیا ہوا مدیحہ سب ٹھیک ہے ناں؟
مہک اب پریشان ہو رہی تھی۔
مدیحہ نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔۔۔مہک کو کچھ عجیب سا احساس ہوا اسے مدیحہ کچھ بدلی بدلی سی لگی۔
سائیڈ سے نکلنے ہی والی تھی کہ مدیحہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھ کر مہک نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور ایک لمحے میں سب سمجھ گئی۔
چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔مہک نے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا لیکن اس کی گرفت مظبوط تھی۔
چھوڑو میرا ہاتھ مجھے جلن ہو رہی ہے۔۔۔مہک تڑپ رہی تھی لیکن اس نے مہک کا ہاتھ نہی چھوڑا۔
پھر اچانک اس نے مہک کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اور اس کی گردن دبوچنے ہی والی تھی کہ اچانک کوئی ہوا سی تیزی میں آیا اور اسے گردن سے دبوچتے ہوئے دیوار کی طرف اچھالا۔
جاری ہے۔۔۔
