Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 23)
Rate this Novel
Aks (Episode 23)
Aks by Khanzadi
ایک سایہ مہک کی گردن دبوچے کھڑا تھا۔۔۔اس کا وجود دکھائی تو نہیں دے رہا تھا لیکن کالا دھواں سا مہک کے گرد لپٹا ہوا تھا۔
کون ہو تم چھوڑ دو میری بیٹی کو۔۔۔مہک کی امی تیزی سے آگے بڑھی لیکن اس سایے نے انہیں ہوا میں اچھالتے ہوئے دیوار کے ساتھ پٹخ دیا۔
مہک اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکی تھی۔
مہک کی امی خود کو سنبھالتی ہوئی پھر سے بیٹی کو بچانے کے لئے آگے بڑھی اور اس بار مہک لڑکھڑاتی ہوئی ان کے گلے لگ گئی۔
ماں صدقے جائے،آنکھیں کھولو مہک۔۔۔وہ اس کے گال تھپکتی ہوئی بیڈ تک لائی اور اسے بیڈ پر لٹا دیا۔
چند سیکنڈ ہی گزرے تھے کہ مہک نے آنکھیں کھول دیں اور اٹھ کر ماں کے گلے لگ گئی۔
امی مجھے بچا لیں۔۔۔کوئی مجھے مارنا چاہتا ہے۔
اٹھو یہاں سے نیچے چلو جلدی۔۔۔وہ مہک کو لے کر جلدی سے نیچے ٹی وی لاونج میں آ گئی اور قاسم کو کال کر دی۔
سب ٹھیک ہو جائے گا مہک ہم سب ہیں تمہارے ساتھ۔۔۔فکر نہیں کرو قاسم کو بلایا ہے گھر۔
ہو سکتا ہے یہ وہی ہو۔۔۔وہی جن جو تمہیں تنگ کر رہا تھا۔شاید پھر سے واپس آ گیا ہو۔
نہی امی۔۔۔وہ واپس تب آئے گا جب وہ یہاں سے کہی گیا ہو اور وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا۔
یہ کوئی اور چیز ہے بہت ہی خطرناک۔۔۔جیسے اس کا مقصد مجھے مارنا ہی ہو،یہ شایان نہی ہو سکتا۔
اگر اس نے میری جان لینی ہوتی تو اب تک میں آپ کے سامنے زندہ نا بیٹھی ہوتی۔
یہ کچھ اور ہے بہت ہی خوفناک۔۔۔بہت ڈر لگ رہا ہے امی۔
ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا۔۔۔ان چیزوں سے جتنا ڈرو یہ اتنا ہی زیادہ خوف پھیلاتی ہیں۔
اپنے آپ کو سنبھالو اور اسے خود پر حاوی نہ ہونے دو اگر اس نے تم پر قبضہ کر لیا تو جان چھڑانا بہت مشکل ہو جائے گا۔
مہمان آنے والے ہیں گھر میں اور یہ سب کچھ شروع ہو گیا ہے۔
بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے اس گھر میں آ کر۔۔۔اس سے پہلے کہ کوئی بڑا نقصان ہو ہمیں یہاں سے جانا پڑے گا۔
کیا ہو گیا سب خیریت؟
قاسم پریشان سا گھر میں داخل ہوا۔
کچھ خیریت نہیں ہے قاسم۔۔۔یہ گھر رہنے کے قابل ہی نہیں ہے۔مرتے مرتے بچی ہے آج یہ۔
ایسا کیا ہو گیا امی؟
دائم تو کہہ رہا تھا کہ اب سب ٹھیک ہے،وہ مہک کو یا کسی اور کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
یہ وہ نہیں ہے بھائی۔۔۔یہ کوئی اور ہے۔
کیا مطلب؟
مہک کے جواب پر قاسم حیرت زدہ سا بولا۔
مطلب یہ ہے کہ یہ پورا گھر آسیب زدہ ہے بیٹا۔۔۔یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔
مہمان آنے والے ہیں گھر میں اگر کسی کو کچھ ہو گیا یا پھر ان کے سامنے مہک پر کوئی اثر پڑا تو ہم سب کو کیا جواب دیں گے؟
کسی کو کچھ نہیں ہو گا امی۔۔۔ایک منٹ میں ابھی آیا۔
قاسم اپنے کمرے میں گیا اور تھوڑی دیر بعد ہاتھ میں ایک تعویذ اٹھائے واپس آیا۔
یہ پہن لو بیٹا۔۔۔اس نے تعویذ مہک کی طرف بڑھایا۔
یہ میں پہلے لایا تھا تمہارے لیے لیکن پھر سب ٹھیک ہو گیا تو مجھے لگا اس کی ضرورت نہیں رہی۔
اسے پہن لو کوئی بھی جن،آسیب اگر تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو تمہارا کچھ نہی بگاڑ سکے گا۔
جی بھائی۔۔۔مہک نے بھائی کے ہاتھ سے تعویز لے کر گلے میں پہن لیا۔
خیریت سے شادی گزر جائے پھر کوئی دوسرا گھر دیکھ لیتے ہیں امی۔۔۔آپ پریشان نہ ہو میں چلتا ہوں کسی کو بتا کر نہیں آیا۔
ٹھیک ہے بیٹا جاؤ خیریت سے۔۔۔وہ پریشان سی مہک کے پاس بیٹھ گئیں۔
__________________________
راجا صاحب اپنے محل میں اپنے تخت پر براجمان تھے ان کی آنکھوں اداسی تھی۔۔۔داخلی راستے پر نظریں جمائے گھنٹوں اپنے لخت جگر کی راہ دیکھتے رہتے لیکن انہیں شایان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔
اچانک داخلی دروازے سے ایک خوبصورت لڑکی شاہی لباس میں ملبوس لمبے کالے بال ہوا میں اڑتے ہوئے اور سر پر تاج سجائے محل میں داخل ہوئی۔
آداب راجا صاحب۔۔۔شہزادی عدینہ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔
آئیے تشریف رکھیئے شہزادی عدینہ۔۔۔ہم ہیزل کو بلاتے ہیں۔
نہی راجا صاحب ہم ہیزل سے نہیں آپ سے ملنے آئیں ہیں۔۔۔اس نے راجا صاحب کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔
جی کہئیے۔۔۔ہم سن رہے ہیں۔
ہم آپ سے “شایان” کے بارے میں بات کرنے آئے ہیں۔
“شایان کے بارے میں”۔۔۔کیا بات کرنا چاہتی ہیں آپ ان کے بارے میں عدینہ؟
اگر آپ ان سے ملنے کے لیے آئی ہیں تو معزرت۔۔۔وہ محل میں نہیں ہیں اس وقت۔
ہم جانتے ہیں راجا صاحب۔۔۔ہم بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ محل میں نہیں ہیں اور وہ اس کہاں ہیں ہم یہ بھی جانتے ہیں۔
کیا کہا آپ نے؟
آپ جانتی ہیں شایان کہاں ہیں؟
جی ہم جانتے ہیں وہ کہاں ہیں لیکن۔۔۔
لیکن کیا عدینہ؟
آپ جو کچھ جانتی ہیں ہمیں بتائیں،ہم کچھ بھی کر لیں گے لیکن ہمیں ہمارے شایان واپس چاہیے۔
وہ ایک لڑکی کے لیے انسانی دنیا گئے ہیں۔ہیزل ہمیں سب کچھ بتا چکی ہیں راجا صاحب۔
یہ بات تو ہمیں بھی معلوم ہے شہزادی عدینہ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ انسانی دنیا میں ہیں کہاں؟
ہم ہر طرح سے کوشش کر چکے ہیں ان تک پہنچنے کی لیکن ان کی کوئی خبر نہی مل سکی۔۔۔راجا صاحب بے بس سے بولے۔
لیکن ہم تقریباً ان تک پہنچ چکے ہیں راجا صاحب۔۔۔وہ جس لڑکی کے لیے وہاں گئے ہیں ہم ان تک پہنچ چکے ہیں جس کا مطلب ہے اب شایان تک پہنچنا بھی ممکن ہے۔
اگر آپ کے پاس وقت ہے تو ہم شایان کی آرام گاہ میں چلیں؟
چلئیے۔۔۔راجا صاحب فوراً اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور دونوں شایان کے کمرے میں پہنچے۔
ہیزل بھی وہاں آ گئی اور عدینہ سے گلے ملتی ہوئی شیشے کی طرف بڑھی۔
عدینہ نے شیشہ پر ہاتھ رکھا اور آنکھیں بند کرتے ہوئے ایک منتر پڑھا۔۔۔مہک ان کی آنکھوں کے سامنے تھی۔
یہ رہی وہ لڑکی جس پر شایان فدا ہو چکے ہیں۔
راجہ صاحب نے آنکھیں سکوڑتے ہوئے مہک کو دیکھا اور ان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔اس معمولی سی لڑکی کے لیے وہ ہمیں پریشان کر رہے ہیں۔
ناں ناں۔۔۔اس لڑکی کو معمولی سمجھنے کی غلطی مت کیجئیے گا راجا صاحب۔
یہ کوئی معمولی لڑکی نہیں ہے۔۔۔ہم لاکھ کوشش کر چکے ہیں اس تک پہنچنے کی اور ہم پہنچ بھی جاتے ہیں لیکن کوئی ان دیکھی طاقت ہمیں واپس ہماری دنیا میں دھکیل دیتی ہے۔
ایک بار۔۔۔بس ایک بار ہم اس پر حاوی ہونے میں کامیاب ہو گئے تو سمجھے ہم شایان تک پہنچ گئے۔
یہ لڑکی بہت چالاک اور طاقتور ہے ضرور اسی نے شایان کو کسی ایسی جگہ چھپایا جہاں ہم پہنچ ہی نا سکیں۔
ہم لاکھ کوشش کر لیں اس کی طاقت کے سامنے ہمارا جادو ناکام ہو جاتا ہے۔۔۔شایان اس کے قبضے میں ہیں۔
شایان تک پہنچتے پہنچتے ہر بار ہمارا منظر دھندلا جاتا ہے اور لاکھ کوشش کے باوجود ہمیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔
ہماری سمجھ میں تو یہ نہی آ رہا کہ آخر ایسی کونسی طاقت ہے جو ہماری طاقت کو مات دے رہی ہے۔
حالانکہ کسی انسان کو ہرانا ہمارے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا۔
کچھ بھی ہو ہم ہار نہیں مانیں گے۔۔۔بہت جلد یہ لڑکی آپ کے قدموں میں ہو گی راجا صاحب۔
راجا صاحب نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔اس لڑکی کو تو ہم بعد میں دیکھ لیں گے پہلے ہمیں اس بات کی تسلی ہو کہ شایان ٹھیک ہیں۔
ان کی طرف سے بے فکر رہیں آپ،وہ بلکل ٹھیک ہیں ہمارا یقین کریں۔
ہم آپ دونوں کے ساتھ ہیں اور ہم شایان کو واپس لا کر چھوڑیں گے چاہیں اس میں ہماری جان کیوں نہ چلی جائے۔۔۔یہ ہمارا وعدہ ہے آپ دونوں سے۔
لیکن آپ ایسا کیوں کرنا چاہتی ہیں شہزادی عدینہ؟
“دوستی”۔۔۔ہمارے دوست کی جان بچانے کے لیے ہم ایسا کریں گے راجا صاحب۔
شایان ہمیں بھول سکتے ہیں لیکن ہم انہیں ہماری بچپن کی دوستی کبھی نہی بھولنے دیں گے۔
یہ ان کی غلط فہمی ہے کہ وہ اس لڑکی کے لیے اپنے سب رشتوں سے اتنی آسانی سے تعلق توڑ دیں گے اور ہم خاموشی سے دیکھتے رہیں گے۔
ہمیں تھوڑا وقت دیجیئے بہت جلد ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو گے لیکن اکیلے نہیں شایان کے ساتھ۔
چلتے ہیں۔۔۔اجازت دیجئے۔
اجازت ہے۔۔۔راجا صاحب بے بس سے بولے اور ایک نظر شیشے پر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
ہیزل نے گہری سانس لی اور مہک کو دیکھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔
_______________________
دو دن بعد۔۔۔
مہندی کا فنکشن اپنے عروج پر تھا سب کے چہروں پر خوشی تھی سوائے دائم کی ماں کے اور خاور کے۔
یہ دونوں مہک اور دائم کو ساتھ دیکھ کر جلن کا شکار ہو رہے تھے لیکن دائم کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا وہ ہر جگہ ایک مظبوط سائبان کی طرح مہک کے ساتھ کھڑا تھا۔
اگر میری بہن کی شادی نا ہوتی تو میں ایک منٹ کے لیے یہاں نہ رکتا۔۔۔خاور نے اپنے ساتھ بیٹھی شازیہ پر نظر ڈالی اور بڑبڑایا۔
شازیہ نے مسکراتے ہوئے سر جھکا لیا۔کہی نا کہی اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے خاور کے ساتھ زبردستی کی ہے۔
ہر دن خاور اسے احساس شرمندگی میں مبتلا کر رہا تھا لیکن خاور یہ نہیں جانتا تھا اس کے ساتھ ساتھ وہ بھی بہت ساری اذیت سہہ رہی ہے۔
ماں سے الگ ذلیل ہوتی رہتی صبح و شام اور اوپر سے خاور کا رویہ اسے دن بدن اندر سے ختم کر رہا تھا۔
سب کے سامنے تو خوش رہنے کی کوشش کرتی لیکن جیسے ہی تھوڑی سی تنہائی میسر ہوتی اپنی قسمت پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی۔
“محبت کو پانے” اور “حاصل کرنے” کا فرق اسے اچھی طرح سمجھ آ چکا تھا۔
“محبت کو حاصل کرنا کامیابی نہیں بلکہ محبت کو پالینا اصل کامیابی ہے٫کسی کو حاصل کرنے سے بہتر ہوتا ہے کسی کا ہو جانا”
حاصل کرنے کی ضد نے اسے اپنی ہی نظروں میں گرا دیا تھا،وہ خاور کے ساتھ اس کی منکوحہ بن کر تو بیٹھی تھی لیکن اس کے دل میں اسے اپنا کوئی مقام دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
رسما نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا کر سب سے باتیں کر رہی تھی لیکن دل ہی دل میں احساسِ شرمندگی میں آنسو بہا رہی تھی۔
وہ آنسو جو دکھائی تو نہیں دیے لیکن اس کی روح کو چھلنی کر رہے تھے۔
______________________
سفید ہاتھ میں سیاہ تسبیح اور چہرے پر ہلکی سی ڈاڑھی۔۔۔مسجد کے ہجرے میں چٹائی پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے وجود کی آنکھوں میں تھوڑی سی جنبش ہوئی اور تسبیح کے دانے پھیرتا ہاتھ رکا۔
آنکھیں کھلی اور اس کی نظریں چھت پر ٹک گئیں اور اگلے ہی لمحے اس کے چہرے کے تیور بدلے۔۔۔تسبیح ہونٹوں سے لگاتے ہوئے جیب میں رکھی۔
ماتھے پر بل پڑے اور نیلی آنکھیں غصے کی شدت سے سرخ پڑ گئیں۔
جاری ہے۔۔۔۔
