366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 21)

Aks by Khanzadi

خاور لڑکھڑاتے ہوئے بہ مشکل گرنے سے بچا۔خود کو سنبھالتے ہوئے کھڑا ہوا تو سامنے دائم کھڑا تھا۔

وہ ابھی سنبھلا ہی تھا کہ دائم پھر سے اس پر جھپٹا۔۔۔تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مہک سے ایسی بات کرنے کی؟

کس نے کہہ دیا تم سے کہ میں اسے طلاق دوں گا؟

دائم اس کے چہرے پر تھپڑوں کی برسات کرتا چلا گیا آخر کار خاور نے اسے زور سے پیچھے دھکیلا اور غصے سے چلایا۔

بس۔۔۔بہت ہاتھ اٹھا لیا آپ نے اب اور نہی۔

آپ کی غنڈی گردی اور برداشت نہیں کروں گا میں۔

اچھا کیا کر لو گے؟

دائم پھر سے غصے سے اس کی طرف بڑھا لیکن مہک راستے میں آ گئی رک جائیں پلیز۔

تم میری بیوی کو طلاق کے مشورے دے رہے ہو اور اس سے نکاح کے خواہشمند ہو٫ایسے حالات میں تمہیں پھولوں کے ہار تو نہی پہناؤں گا میں۔

غنڈی گردی۔۔۔غنڈہ گردی تم نے ابھی دیکھی کہاں ہے میری٫اب تک میں صرف شرافت سے کام لے رہا تھا۔

آئیندہ اگر اس کے آس پاس بھی نظر آئے تو مجھ سے برا کوئی نہی ہو گا۔

تم آؤ گے تو اپنے پاؤں پر لیکن دوبارہ زندگی بھر اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو پاؤ گے۔

Remember that…Get lost.

نہی جاؤں گا میں یہاں سے۔۔۔آپ کو جو کرنا ہے آپ کر لیں۔

نکاح پڑھوا لیا تو سارے حق آپ کو مل گئے؟

یہ غلط فہمی ہے آپ کی۔۔۔ہمارے درمیان ابھی بھی ایک رشتہ موجود ہے۔

یہ میرے چاچو کا گھر ہے اور اس اعتبار سے کوئی بھی مجھے اس گھر میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا۔

اور آپ کس بات پر اتنا ہواؤں میں اڑ رہے ہیں؟

جس بیوی کی بات آپ کر رہے ہیں ناں بہت جلد یہ آپ کی بیوی نہیں رہے گی۔

تائی امی ساری پلاننگ کر چکی ہیں۔

Just wait and watch.

آپ کی آنکھوں کے سامنے اس سے نکاح کروں گا اور اس گھر سے رخصت کر کے لے جاؤں گا۔

مہک اس سے کہو میری نظروں سے دور ہو جائے ورنہ آج میرے ہاتھ سے ضائع ہو جائے گا یہ۔

دماغ خراب ہو گیا اس کا۔۔۔اسے ناں اپنی عزت کا خیال ہے اور ناں دوسرے کی عزت کا۔

بلکل بے حیا ہو گئے ہو تم خاور۔۔۔ایسے گھٹیا پن کی امید بلکل نہیں تھی مجھے تم سے۔

میں کیا ٹشو پیپر ہوں جو آپ کے ہاتھ سے ضائع ہو جاؤں گا؟

اپنی اکڑ اپنے پاس سنبھال کر رکھیں۔۔۔بڑے آئے مجھے عزت پر لیکچر دینے والے۔

میری عزت پر آپ نے قبضہ کیا ہے اور آپ سے یہ حق میں چھین کر رہوں گا۔

Get out…

دائم نے اسے باہر جانے کا راستہ دکھایا۔

بس کر دو تم دونوں۔۔۔یہ کیا جنگ کا میدان بنا رکھا ہے گھر کو؟

مہک کی امی کمرے میں داخل ہوئیں۔

دو دن بعد گھر میں شادی شروع ہونے والی ہے اور تم لوگ جنگلی جانوروں کی طرح لڑ رہے ہو۔

بہن کی شادی کی ہے تمہاری اور تمہارے دوست کی۔۔۔ایسے منہ بنا کر پھرو گے شادی میں؟

چچی جان نے دونوں کی کلاس لگائی۔

میں چلتا ہوں چچی جان گھر پر بہت کام ہیں مجھے۔۔۔خاور ایک غصے بھری نظر دائم پر ڈالتے ہوئے بولا۔

بیٹھ جاؤ چپ چاپ یہاں۔۔۔مہک جاؤ اس کے لیے جوس کے کر آو۔

جی امی۔۔۔مہک نے ایک نظر دائم کو دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو؟

ہمارے گھر کے بچوں کی تربیت ایسی تو نہی ہوئی کہ بھائی بھائی آپس میں جنگلیوں کی طرح جھگڑیں۔

بات ہی کچھ ایسی تھی چچی جان۔۔۔یہ مہک سے کہہ رہا تھا امی طلاق کے پیپرز تیار کروا رہی ہیں اور جیسے ہی طلاق ہو گی یہ اس سے نکاح کر لے گا۔

میری بیوی کو طلاق کے مشورے دے رہا تھا۔۔۔کوئی بھی غیرت مند مرد ایسی بات برداشت نہیں کر سکتا۔

آپ اچھی طرح واقف ہیں میری طبیعت سے۔۔۔ہاتھ اُٹھانا تو دور کی بات ہے میں بلاوجہ کسی سے اونچی آواز میں بات تک نہی کرتا۔

دن بدن اس کی بدمعاشیاں بڑھتی ہی جا رہی ہے۔اس کی زبان کو لگام ڈالنے کا طریقہ آتا ہے مجھے بہت اچھی طرح۔

میرے پیار کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن ابھی یہ میرے غصے سے واقف ہی نہیں ہے۔

اسے زرا افسوس نہی ہے کہ اس نے کیا کیا ہے۔سب سے معافی مانگنے کی بجائے الٹا اکڑ رہا ہے۔

آپ سوچ بھی نہیں سکتی چاچو اس کی وجہ سے کتنے پریشان ہیں۔

سب کے سامنے ماں باپ کی نظریں شرمندگی سے جھکا دی اس نے اور معافی تک نہی مانگی۔

جب مجھے معافی مانگنی ہو گی مانگ لوں گا آپ کو کیا مسئلہ ہے؟

آپ اپنے کام سے کام رکھیں یہی بہتر ہو گا آپ کے لیے۔۔۔خاور غصے میں بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔

رک جاؤ خاور۔۔۔۔مہک کی امی اس کے پیچھے جانے ہی والی تھیں کہ دائم نے انہیں روک دیا۔

رہنے دیں چچی جان۔۔۔جانے دیں اسے٫یہ عزت کے لائک ہی نہیں ہے۔

اس کی فکر نا کریں آپ۔۔۔گھر جا کر چچی جان سے بات کرتا ہوں میں۔

ٹھیک ہے۔۔۔کوشش کرو پیار سے مسئلہ حل ہو جائے۔میں نہی چاہتی شادی والے گھر میں کوئی ہنگامہ کھڑا ہو۔

بچوں کے سو ارمان ہیں اگر اسی طرح چلتا رہا تو گھر کا ماحول بہت خراب ہو جائے گا۔

آپ فکر نہیں کریں چچی جان میں گھر کا ماحول خراب نہی ہونے دوں گا۔

آپ بے فکر ہو کر شادی کی تیاریاں کریں۔

مہک کمرے میں داخل ہوئی اور جوس والی ٹرے دائم کی طرف بڑھائی۔

دل نہی کر رہا۔۔۔

پی لو بیٹا گرمی ہے بہت۔۔۔کیا ضرورت تھی اتنا ہائپر ہونے کی۔

بیٹھو آرام سے کھانا کھا کر جانا۔۔۔میں کھانا لاتی ہوں۔

وہ پریشان سی کمرے سے باہر نکل گئیں۔

پی لیں ناں پلیز۔۔۔مہک نے جوس کا گلاس دائم کی طرف بڑھایا تو اس نے مسکراتے ہوئے گلاس تھام لیا۔

آپ اچانک یہاں کیسے آئے؟

مہک کے سوال پر دائم نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔کیا مطلب میں اچانک یہاں نہیں آ سکتا کیا؟

نہی میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔

میرا مطلب تھا آپ کو کیسے پتہ چلا کہ خاور یہاں آیا ہے۔

ضروری فائل لینے آیا تھا گھر سے یہاں سے گزرا رہا تھا کہ اس کی بائیک پر نظر پڑی۔۔۔بس پھر ایک بھی سینکڈ ضائع کیے بغیر آ گیا اوپر۔

“تم ٹھیک ہو؟”

دائم جوس والا گلاس میز پر رکھتے ہوئے مہک کی طرف بڑھا اور اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولا۔

جی۔۔۔مہک اس کے ہاتھوں کی مظبوط گرفت میں اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے گہری سانس لیتے ہوئے بولی۔

امی بلا رہی ہیں شاید مجھے۔۔۔اس نے اپنے ہاتھ کھنچنے چاہے لیکن دائم کی گرفت مظبوط تھی۔

ڈرنے کی وجہ؟

آخر کب تک ہم ایک دوسرے سے دور بھاگتے رہیں گے مہک؟

دائم نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیے۔

آپ اچھی طرح جانتے ہیں میرے ڈر کی وجہ۔۔۔مہک کا اشارہ شایان کی طرف تھا۔

یہ ڈر اب اپنے ذہن سے نکال دو۔۔۔

میں آتی ہوں۔۔۔مہک دائم کی بات کو نظر انداز کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

ایک تو اس شایان نے زندگی خراب کر رکھی ہے۔۔۔پتہ نہی مہک کے دل سے اس کا ڈر کب جائے گا۔

دائم بھی بے بس سا کمرے سے باہر نکل گیا۔

تم نیچے کیوں آ گئی؟

اوپر بیٹھ جاتی کچھ دیر دائم کے پاس۔۔۔مہک کو کچن میں داخل ہوتے دیکھ کر اس کی امی حیرت زدہ سی بولی۔

مجھے مناسب نہی لگا امی۔۔۔آپ تو جانتی ہیں سب۔

میں چلتا ہوں چچی جان خدا حافظ۔

دائم کی آواز پر دونوں کچن کے دروازے کی طرف پلٹی۔

ارے اتنی جلدی کہاں چلے؟

کھانا لگا رہی ہوں میں کھا کر چلے جانا آرام سے۔۔۔اتنی بھی کیا جلدی؟

نہی چچی جان پھر سہی۔۔۔دراصل میں ضروری کام سے گھر جا رہا تھا۔

جلدی میں ہوں انشا اللہ جلدی ملاقات ہو گی۔خدا حافظ۔

اچھا خدا حافظ۔۔۔خیریت سے جاؤ بیٹا اور خدیجہ سے آرام سے بات کرنا کہی وہ ناں جھگڑ پڑے تم سے۔

پتہ ہے ناں کتنی سائیڈ لیتی ہے وہ بیٹے کی٫اسی کے لاڈ پیار کا نتیجہ ہے جو آج یہ لڑکا اپنی من مانیاں کر رہا ہے۔

جی چچی جان میں دھیان رکھوں گا۔۔۔چلتا ہوں٫دعاوں میں یاد رکھئیے گا۔

دائم ایک نظر مہک پر ڈالتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔

خدیجہ چچی سے بات کرنے کا کیا فایدہ امی؟

انہیں تو ہمیشہ دوسرے ہی غلط لگتے ہیں۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو میرا اس گھر میں جانا نا ممکن ہے۔

مجھے تو یہ بھی نہی پتہ میں اس گھر میں دلہن بن کر جاؤں گی بھی یا نہیں۔۔۔کیا پتہ اس گھر میں جانے سے پہلے ہی مجھ پر طلاق کا دھبہ لگ جائے۔

اللہ نا کرے مہک۔۔۔کیوں ایسی فضول باتیں کر رہی ہو؟

دماغ تو ٹھیک ہے؟

تو اور کیا کہوں امی؟

آپ نے دائم کی بات نہی سنی کیا؟

خاور کہہ رہا تھا کہ تائی امی طلاق کے پیپرز تیار کروا رہی ہیں۔

بھابھی جو کر رہی ہیں کرتی رہیں مہک۔۔۔تمہیں بس اپنے شوہر پر یقین ہونا چاہیے۔

دائم کو اچھی طرح جانتی ہو تم وہ ناں تو خود غلط فیصلہ کرتا ہے اور ناں ہی غلط فیصلہ کرنے والے کا ساتھ دیتا ہے۔

جانتی ہوں امی لیکن اگر وہ میرا ساتھ نہی بھی چھوڑتے تب بھی میری زندگی میں سکون نہی آ سکتا۔

میری زندگی پر ایک ایسا “عکس” منڈلا رہا ہے جس کی میں ہو نہی ہو سکتی اور کسی اور کی وہ مجھے ہونے نہیں دے گا۔

کہنے کو وہ یہاں نہیں ہے لیکن میں اسے محسوس کر سکتی ہوں۔۔۔مجھے ایسے لگتا ہے وہ ہر وقت میرے ساتھ ہے۔

اس کے قدموں کی آہٹ میرے کانوں میں سنائی دیتی ہے اور اس کی خوشبو میرے چاروں طرف پھیلی ہے۔

میں اس سے جتنا پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتی ہوں وہ اتنا ہی میرے سامنے آ جاتا ہے۔

میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے یہ سب امی؟

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں آ گئی ہوں۔

ہر وقت ایک خوف سر پر منڈلایا رہتا کہ کہی وہ کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔

میری زندگی میں اب کچھ بھی نارمل نہیں ہو سکتا۔۔۔رشتے بدل گئے احساس بدل گئے اور میں بھی۔

مایوسی گناہ ہے بیٹا۔۔۔اللہ پر بھروسہ رکھو انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

فی الحال تم اپنے بھائی کی شادی کی تیاریاں کرو۔۔۔ایک ہی بھائی ہے تمہارا اور تم اس کی ایک ہی بہن کو۔

اپنے بھائی کے سارے ارمان پورے کرو۔۔۔اگر ایسے روتی رہو گی تو اس کی خوشیاں پھیکی پڑ جائیں گی۔

ایسا نہیں ہو گا امی۔۔۔میں اپنے بھائی کی ہر خوشی پوری کروں گی۔

میں آتی ہوں اپنی شاپنگ دیکھ کر کہی کوئی چیز رہ تو نہی گئی۔

آنسو پونچھ کر مسکراتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی اور شاپنگ بیگ سے میکسی نکال خود سے لگاتی ہوئی شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی اور خود کو دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔

میکسی واپس رکھتے ہوئے جویلری باکس سے بندیا اٹھائی اور ماتھے پر لگائی۔

اچانک اس کی نظر اپنے پیچھے کھڑے کسی کالے سایے پر پڑی تو چونک کر پیچھے پلٹی لیکن وہاں کوئی نہی تھا۔

اس کے ہاتھ سے بندیا نیچے گر گئی۔۔۔مہک جیسے ہی بندیا اٹھانے کے لیے نیچے جھکی اچانک سے وہی سایہ تیز رفتار میں اس کے اردگرد گھومنے لگا۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *