366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 20)

Aks by Khanzadi

شایان کو نیچے بیٹھتے دیکھ کر کر دائم تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “آپ ٹھیک ہیں؟”

کیا ہوا ایسے نیچے کیوں بیٹھ گئے آپ؟

ہمیں نہیں پتہ ہمیں کچھ ہو رہا ہے ہم آگے نہیں جا سکیں گے۔

شایان نے آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا۔

کیا مطلب آپ آگے نہیں جا سکتے؟

میں کچھ سمجھا نہیں آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟

ہم نہیں جانتے ایسا کیوں ہو رہا ہے لیکن ہم آگے نہی بڑھ سکتے۔۔۔ہم نے جیسے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کی ہمیں کچھ ہو رہا ہے۔

عجیب سی ٹھیس اٹھ رہی ہے دماغ میں پتا نہیں کیا ہو رہا ہے۔

چلیں ٹھیک ہے آپ ادھر بیٹھے میں امام صاحب سے مل کر آتا ہوں انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کرتا ہوں۔

ٹھیک ہے۔۔۔شایان نے سر اثبات میں ہلا یا اور سر تھامے وہی بیٹھا رہا۔

دائم اندر گیا اور اجازت لیتے ہوئے امام صاحب کے حجرے میں داخل ہوا۔

شیشے سے لے کر شایان کے باہر بیٹھنے تک ساری کہانی ان کو سنا دی۔

دائم کی ساری بات سننے کے بعد مولانا صاحب مسکرا دیئے۔۔۔یہ تو ہونا ہی تھا یہاں شیطانی طاقتیں داخل نہیں ہو سکتی۔

آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے امام صاحب صاحب لیکن اگر میں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ کسی نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

وہ اپنی بات منوانے کے لئے لیے ہر حد پار کر سکتا ہے۔

فکر نہیں کرو بیٹا اس کی حدود اتنی وسیع نہیں کہ وہ اللہ کی حدود کو پار کر سکے۔

وہ مسلمان ہونا چاہتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اسے تم دونوں کی زندگی سے جانا پڑے گا۔

میں اسے تمہارے اور تمہاری بیوی کے درمیان رہنے کی اجازت بالکل نہیں دے سکتا۔

اسے اگر اسلام قبول کرنا ہے تو سچے دل سے کرنا ہو گا ورنہ وہ مسجد میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

ابھی اس کا مقصد اسلام قبول کرنا نہیں ہے بلکہ وہ ایسا اس بچی کے پاس رہنے کے لئے کرنا چاہتا ہے تاکہ جب تم لوگ اس کے اوپر کوئی عمل کرنا چاہو تو اس پر کوئی اثر نہ ہو۔

وہ جان چکا ہے کہ اس کی شیطانی طاقتیں اللہ کی طاقت کے سامنے کچھ نہیں ہیں۔

وہ حیران ہے اور دیکھنا چاہتا ہے کہ ایسی کون سی طاقت ہے جس نے اس کی طاقت کو شکست دی ہے۔

وہ اپنی ہار تسلیم نہیں کرنا چاہتا۔۔۔اسے تجسس ہو رہا ہے اس بارے میں جاننے کے لیے۔

اس کے دل میں کھوٹ ہے اسی لیے وہ اندر داخل نہیں ہوسکا اگر وہ واقعی سچے دل سے اللہ کے راستے پر چلنا چاہتا تو اللہ کے گھر کا دروازہ کبھی اس کے لیے بند نہ ہوتا۔

اس سے یچھا چھڑانے کا کوئی حل ہے آپ کے پاس امام صاحب؟

حل تو ہے بیٹا لیکن۔۔۔

لیکن کیا امام صاحب؟

لڑکی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔ایسی بدروحوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا یہ کب کیا کر دیں۔

یہ مسجد میں نہیں آ سکتا لیکن اسے کہی اور لے جانا پڑے گا۔۔۔جو یہ چاہتا ہے ویسا ہی ہو گا لیکن صرف اس کی نظر میں۔

درحقیقت ہم اسے اپنے جال میں پھنسا کر اسے وہی پھینکیں گے جہاں سے یہ آیا ہے۔

اگر اس نے ہماری باتیں سن لی تو وہ چوکنا ہو جائے گا مولانا صاحب۔۔۔ہمیں احتیاط برتنی چاہیے۔

فکر نہی کرو بیٹا۔۔۔اس وقت وہ ہماری کوئی بات نہی سن سکتا۔

اس وقت وہ خود مصیبت میں ہے اور جب تک وہ سنبھلے گا اس سے پہلے ہی ہم اپنا وار کر دیں گے۔

تم جاؤ اسے کہو کہ جب تک وہ کلمہ نہ پڑھ لے تب تک مسجد میں داخل نہی ہو سکتا

اسے اپنے ساتھ لے جاؤ اور میرے گھر کی بیٹھک میں بٹھاو۔

جی۔۔۔جیسے آپ کو بہتر لگے۔

دائم پریشان سا اٹھ کر باہر چلا گیا اور شایان کی طرف بڑھا۔

شایان دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا دائم کا انتظار کر رہا تھا۔

آئیے میرے ساتھ۔۔۔دائم نے اسے چلنے کو کہا تو شایان نے بھنویں اچکاتے ہوئے سوالیہ انداز میں دائم کی طرف دیکھا۔

ایک سیکنڈ کے لیے دائم کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی اسے لگا شاید شایان اس کی اور امام صاحب کی ساری باتیں سن چکا ہے۔

اب کہاں؟

شایان کے سوال پر اسے تھوڑی تسلی ہوئی۔

امام صاحب کے گھر۔۔۔وہ کہہ رہے ہیں جب تک آپ مسلمان نہی ہو جاتے تب تک مسجد میں قدم نہی رکھ سکتے۔

“واقعی۔۔۔؟”

ہمیں تو لگا تھا بہت آسانی ہو گی ہمارے لیے لیکن آپ کی دنیا میں تو بہت مشکلات ہیں اس دنیا کے مالک کی عبادت کے لیے۔

نہی۔۔۔بلکل غلط٫ہمارے اسلام میں بہت نرمی ہے لیکن انسانوں کے لئے،آپ جس دنیا سے آئے ہیں وہاں کے لحاظ سے آپ کو تھوڑی مشکلات تو برداشت کرنی پڑیں گی۔

ہم مہک کے لیے یہ بھی برداشت کر لیں گے۔۔۔شایان مسکراتے ہوئے دائم کے پیچھے چلتا گیا۔

دائم نے اس کے لیے بیٹھک کا دروازہ کھلوایا اور دونوں اندر آ کر بیٹھ گئے۔

اسلام و علیکم۔۔۔امام صاحب جیسے ہی اندر داخل ہوئے شایان کا چہرہ پسینے سے بھیگے گیا۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھنا چاہ رہا تھا لیکن اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔

امام صاحب آگے بڑھے اور شایان کی دائیں کلائی تھام لی۔

ان کے ہاتھ لگاتے ہی شایان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا اور اس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچنا چاہا لیکن ناکام رہا۔

چھوڑئیے ہمارا ہاتھ۔۔۔وہ مسلسل اپنا ہاتھ واپس کھینچنے کی کوشش کرتا رہا لیکن امام صاحب اس کی طرف توجہ دیے بغیر مسلسل قرآنی آیات پڑھتے رہے۔

شایان نے چونک کر دائم کی طرف دیکھا۔۔۔اگر یہ دھوکہ ہے تو بہت پچھتائیں گے آپ٫ان سے کہیے ہمارا ہاتھ چھوڑ دیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے شایان کسی خوفناک بلا میں تبدیل ہو گیا۔

اس کا بدلتا روپ دیکھ کر امام صاحب غصے سے چلائے۔۔۔خبردار!

اپنا دماغ ٹھنڈا رکھو۔۔۔کسی نے دھوکا نہیں تمہیں۔

جیسا تم چاہتے ہو ویسا ہی ہو گا لیکن تمہیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہو گا۔

دائم کا بدلہ ہوا روپ دیکھ دائم دھنگ رہ گیا۔وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شایان کا اصل روپ اتنا خوفناک ہو سکتا ہے۔

امام صاحب کا لہجہ تھوڑا نرم پڑا تو شایان اپنی پرانی حالت میں واپس آ گیا۔”ہمیں آپ کی ساری شرطیں منظور ہیں۔”

اسی میں تمہاری بھلائی ہے بیٹا۔۔۔

امام صاحب کی بات پر شایان نے بھنویں اچکاتے ہوئے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔

“آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں؟”

ہم منظور کر رہے ہیں اسی لیے ہمیں آپ کی شرطیں منظور ہیں ورنہ آپ چاہ کر بھی ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتے۔۔۔جو بھی ہیں آپ۔

بگاڑ تو میں تمہارا بہت کچھ سکتا ہوں بیٹا۔۔۔یقین نہی آ رہا تو ایک بار خود کو دیکھو۔

تم اس وقت میری قید میں ہو۔۔۔بتاو مجھے کیوں مسلمان ہونا چاہتے ہو تم؟

“یہ کیسا سوال ہے آپ کا؟”

ظاہر سی بات ہے ہم جاننا چاہتے ہیں اس دنیا کے بارے میں۔

“ہمیں وہ عبادت کرنی ہے٫اچھا لگتا ہے جب وہ عبادت کرتی ہے۔۔۔ہمارے دل کو بہت سکون ملتا ہے۔”

ہمیں بھی ویسے ہی عبادت کرنی ہے۔

تمہارا مطلب ہے نماز؟

جی۔۔۔وہی،شاید یہی نام بتایا تھا مہک نے ہمیں۔

صرف نماز پڑھنے کے لیے مسلمان ہونا چاہتے ہو؟

“بے شک دل کا سکون نماز میں ہے”٫لیکن۔۔۔تم اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہو تا کہ تم ساری زندگی ہماری بچی کے پاس رہ سکو۔

مقصد کچھ بھی ہو۔۔۔ہماری ارادہ سچا ہے،ہاں یہ سچ ہے کہ ہم مہک کے نزدیک رہنا چاہتے ہیں لیکن ہم اس کے خدا کے نزدیک بھی رہنا چاہتے ہیں۔

کہتے ہیں ناں جس سے محبت ہو جائے اس کی ہر چیز سے اور اس کی ہر عادت سے محبت ہو جاتی ہے٫بس ایسا ہی کچھ سمجھ لیں آپ۔

تو پھر ٹھیک ہے میری کچھ شرائط ہیں اگر ان پر عمل کرو گے تو میں تمہاری مدد کروں گا ورنہ نہی۔۔۔امام صاحب شایان کی کلائی چھوڑتے ہوئے پلٹ گئے۔

ہم نے کہا ناں ہمیں آپ کی ساری باتیں منظور ہیں تو پھر مدد نا کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

شایان ان کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔

امام صاحب نے دائم کی طرف دیکھا اور اسے وہاں سے جانے کا اشارہ دیا۔

دائم سر اثبات میں ہلاتے ہوئے بیٹھک سے باہر نکل کر گلی میں کھڑا ہو گیا۔

دائم کو باہر کیوں بھیجا آپ نے؟

شایان نے حیرت زدہ انداز میں سوال کیا۔

کچھ راز ایسے ہوتے ہیں جو دو لوگوں کے درمیان ہی اچھے لگتے ہیں،راز اگر کسی تیسرے کو معلوم ہو جائے تو پھر وہ راز کہاں رہتا ہے۔

آپ بتائیے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟

شایان کے سوال پر امام صاحب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

____________________

دو ماہ بعد۔۔۔

گھر میں قاسم اور شمع کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔مہک ماں کے ساتھ شاپنگ کر کے گھر واپس آئی تو حیران رہ گئی۔

خاور گیٹ کے باہر ان کا انتظار کر رہا تھا۔آخر کار وہ اپنے پاؤں پر کھڑا تھا۔

اسلام و علیکم چچی جان۔۔۔دونوں کو دیکھتے ہی فوراً بائیک سے نیچے اترا۔

وعلیکم اسلام خاور۔۔۔تم اچانک یہاں؟

مجھے کال کر دیتے آنے سے پہلے بیٹا۔۔۔ایسے دھوپ میں باہر کھڑے ہو۔

آ جاؤ اندر۔۔۔مہک کی امی نے فوراً دروازہ کھولا اور تینوں اندر داخل ہوئے۔

مہک فوراً اپنے کمرے میں چلی گئی۔

اسے جاتے دیکھ کر خاور نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

میں تمہارے لیے جوس لاتی ہوں۔۔۔

نہی رکھئیے چچی جان!

دراصل میں مہک سے ملنے آیا تھا میرا مطلب اس سے بات کرنے آیا تھا اگر آپ کی اجازت ہو تو میں۔۔۔؟

اپنی بات درمیان میں ہی چھوڑتے ہوئے سر جھکا لیا کہ کہی وہ انکار نہ کر دیں۔

خاور کے سوال پر پہلے تو وہ سوچ میں پڑ گئی لیکن پھر مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا ٹھیک ہے جاؤ مل لو اس سے۔

شکریہ چچی جان۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

مہک کے کمرے کے باہر رک گیا اور ڈرتے ڈرتے دروازہ کھٹکھٹایا۔

مہک نے دروازے کی طرف دیکھا اور پلٹ کر شاپنگ بیگز کے ساتھ مصروف ہو گئی۔

خاور کمرے میں داخل ہوا اور اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔کم ازکم سلام تو کر ہی سکتی تھی تم۔

اب اتنے بھی غیر نہیں ہیں ہم جو تم اس طرح سے مجھے نظر انداز کر رہی ہو۔

میں نے جو کیا اس پر شرمندہ ہوں۔۔۔اپنی غلطی کی معافی مانگنے آیا تھا۔

“معافی۔۔۔؟”

معافی کا تو سوچنا بھی نا خاور۔۔۔ابھی تو تم نے میرے ایک ایک آنسو کا بدلہ چکانا ہے۔

بھری محفل میں مجھ ذلیل و رسوا کرنے کی قیمت چکاو گے تم۔

میرے ماں باپ کی عزت دو ٹکے کی کر دی تھی تم نے۔۔۔ایک بار بھی نہیں سوچا کہ کیا کرنے جا رہے ہو؟

اپنے بازو پر چھریاں چلا کر خود کو تکلیف پہنچانا،کسی دوسرے کا میری زندگی پر حق جتانے پر تمہیں جو اذیت پہنچتی تھی وہ سب ایک ڈرامہ تھا؟

اس وقت کہاں گئی تھی تمہاری جنونی محبت؟

تم نے مجھے اس وقت دھوکہ دیا جس وقت میں تمہیں دل سے قبول کر چکی تھی،تمہیں لگتا ہے مجھے تمہیں معاف کرنا چاہیے؟

گزرا ہوا وقت واپس لا سکتے ہو؟

میرا ٹوٹا ہوا مان،بابا کی جھکی ہوئی التجائیں نظریں،بھائی کی بے بسی اور ماں کے آنسو۔۔۔دے سکتے ہو ان کا حساب؟

خاور چپ چاپ سر جھکائے لا جواب کھڑا رہا۔

میرا اور دائم کا رشتہ واپس لا سکتے ہو؟

تمہاری خود غرضی نے سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا۔

تمہاری معافی کا اچار ڈالوں میں؟

منہ اٹھا کر آ گئے معافی مانگنے۔۔۔تم نے یہاں آنے کا سوچا بھی کیسے٫بتاو مجھے؟

میرا تمہارے ساتھ کوئی رشتہ نہی ہے آئیندہ میرے کمرے کی دہلیز پار کرنے کی جرات مت کرنا۔

تمہارا تعلق باقی گھر والوں تک ہی محدود رہے تو بہتر ہے،آج کے بعد میرے آس پاس بھی بھٹکے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔

بڑے آئے معافی مانگنے والے۔۔۔ڈوب کر مر جاو۔

بس اتنی ہی سچی محبت تھی تمہاری کہ شازیہ کے ایک اظہار پر تمہارے جذبات میرے لیے ختم ہو گئے؟

“محبت میں دل کسی ایک کے لیے ہی دھڑکتا ہے اور اگر محبوب کے ہوتے ہوئے دل کسی اور کے لیے دھڑکنے لگے تو اسے محبت نہی سودا کہتے ہیں”

“محبت میں خود غرضی کا کوئی وجود نہیں ہوتا اور اگر ایک محبوب کے ہوتے ہوئے دل کسی اور کو محبوب چن لے تو اسے محبت نہیں بلکہ ذاتی تحسین کہتے ہیں”

تمہیں مجھ سے محبت کبھی تھی ہی نہی خاور۔۔۔تم بس مجھے حاصل کرنا چاہتے تھے۔

تم نے مجھے اپنی ضد بنا لیا تھا مجھے جو تمہیں ہر حال میں پوری کرنی تھی۔

جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے مہک۔۔۔”میں آج بھی تم سے محبت کرتا ہوں”۔

آخر کار خاور نے چپ توڑ دی۔

شازیہ کی باتوں میں آ گیا تھا میں۔۔۔وہ مجھے ٹارچر کر رہی تھی کہ اگر میں نے تم سے نکاح کیا تو خود کو ختم کر لے گی۔

میں ڈر گیا تھا۔۔۔تمہیں بہت کالز کی لیکن تمہارا نمبر مسلسل بند تھا۔

اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا کروں۔۔۔اس کی جان بچانے کے لیے مجھے انکار کرنا پڑا لیکن تمہاری قسم اس دن سے لے کر آج تک مجھے ایک پل کے لیے بھی سکون نصیب نہیں ہوا۔

ایک ایک پل مرا ہوں میں۔۔۔بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے۔۔۔بہت پچھتا رہا ہوں اور میں اپنی غلطی ٹھیک کرنا چاہتا ہوں اگر تم میرا ساتھ دو تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔

تائی امی طلاق کے پیپرز تیار کروا رہی ہیں اور بہت جلد دائم بھائی سے سائن کروا لیں گی۔

جیسے ہی دائم بھائی تمہیں طلاق دیں گے میں تم سے نکاح کر لوں گا۔

خاور ابھی بول ہی رہا تھا اچانک کسی نے اسے بازو سے کچھینچتے ہوئے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا اور اس کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔

جاری ہے۔۔۔

کون آیا کمرے میں جس نے خاور کو تھپڑ مارا؟

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *