366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 18)

Aks by Khanzadi

دائم شایان کی طرف پلٹا اور اسے سر تا پاؤں دیکھتے ہوئے مہک کی طرف پلٹا۔

مہک نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔

ہماری طرف دیکھیں۔۔۔ہم نے یہاں آپ کو مہک کو دیکھنے کے لیے نہی بلکہ اپنے لیے بلایا ہے۔

شایان کی آواز سن کر دائم اس کی طرف پلٹا اور دونوں بازو سینے پر فولڈ کرتے ہوئے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔”جی فرمائیں”؟

دائم کا رعب دار انداز دیکھ کر شایان نے آنکھیں سکوڑتے ہوئے اسے دیکھا اور مسکرا دیا۔

آپ کا یہ انداز ہمارے سامنے نہی چلے گا۔۔۔ہم ایک شہزادے ہیں اور یہ شان و شوکت بس ہمارا حق ہے۔

حق کی بات آپ نہ ہی کریں تو بہتر ہے شہزادے صاحب۔۔۔دائم نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔

“دوسروں کے حق پر قبضہ کرنے والے حق کی بات کرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے،کسی کے حق پر قبضہ کرنے والے شہزادے نہیں بزدل ہوتے ہیں۔”

یہ کس انداز میں بات کر رہے ہیں ہم سے؟

آپ سمجھائیں انہیں اور بتائیں انہیں کہ ان کے سامنے کون کھڑا ہے۔

شہزادہ ہو گا یہ اپنی دنیا میں۔۔۔یہاں اس کی بادشاہت نہیں چلے گی۔۔۔مہک کے کچھ کہنے سے پہلے ہی دائم بول پڑا۔

بادشاہت تو ہماری وہاں بھی چلتی ہے اور یہاں بھی چلے گی دائم صاحب۔۔۔کسی بھول میں نا رہنا آپ۔

“بادشاہت اور اکڑ صرف اپنی ریاست کی حدود میں اچھی لگتی ہے شایان صاحب”۔۔۔دائم بھی اسی کے انداز میں بولا۔

آپ ہمیں مت سمجھائیں۔۔۔ہم جہاں کھڑے ہو جائیں وہاں ہماری ہی بادشاہت چلتی ہے۔۔خود کو دیکھیں کتنے لاچار ہو چکے ہیں آپ۔

ہمارے بلانے پر کیسے دوڑے چلے آئے ہیں۔۔۔اسی کو بادشاہت کہتے ہیں۔

اس کو بادشاہت نہیں بزدلی کہتے ہیں عورت ذات کو نشانہ بنا کر اپنا خوف پیدا کرنے کو بادشاہت نہی کم ظرفی کہتے ہیں۔

اچھا۔۔۔آپ کے خیال سے کم ظرفی کا مظاہرہ ہم کر رہے ہیں،اپنے گریبان میں جھانک کر کیوں نہیں دیکھ لیتے آپ؟

حق پر قبضہ ہم نے نہیں آپ نے کیا ہے،”یہ لڑکی جو اس وقت آپ کے سامنے کھڑی ہے یہ ہماری محبت ہے”جسے آپ نے ہم سے چھیننے کی کوشش کی ہے۔

سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ نے ان سے شادی کر لی۔۔۔ابھی بھی آپ ہم پر کم ظرفی کا الزام لگا رہے ہیں؟

یہ ہمارا ظرف ہی ہے کہ آپ ابھی تک ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ کھڑے ہیں ورنہ ہم کب کی آپ کی سانسیں چھین چکے ہوتے۔ اچھے انسان ہیں اسی لئے چھوڑ دیا ورنہ جہاں سے ہم آئے ہیں وہاں پر اگر کوئی ہماری تلوار بھی ہم سے چھیننے کی جرات کرتا تو ہم اسی وقت اس کا سر تن سے جدا کر دیتے۔

آپ تو ہمارے جینے کی وجہ ہم سے چھیننے جا رہے تھے۔۔۔اور کتنا ظرف دکھائیں ہم آپ کو؟

چپ کیوں ہیں اب؟

دیں جواب۔۔۔بتائیں کس نے کس کا حق چھینا ہے؟

کیا ہم نے مہک کو کبھی کوئی نقصان پہنچایا تھا جو ان کی شادی کروانے کا ذمہ اٹھا لیا آپ نے اور اگر خاور نے انکار کر ہی دیا تھا تو آپ کو ان کا ہاتھ تھامنے کی کیا ضرورت تھی؟

ایک بار بھی آپ نے ہم سے بات کرنا ضروری نہیں سمجھا سارے فیصلے خود سے ہی کر لئے۔

بتائیں مہک کیا آج تک ہم نے آپ کے ساتھ کچھ غلط کیا یا آپ کی جان لینے کی کوشش کی؟

آپ کے گھر والوں کو کوئی تکلیف دی؟

بتائیں ان کو انہیں بھی تو پتہ چلے ہم نے ان کے حق پر قبضہ کیا ہے یا انہوں نے ہمارے حق پر۔

شایان نے دائم کو لاجواب کر دیا۔

اچھا۔۔۔اگر آپ کو اتنی ہی فکر تھی تو اس وقت یہاں موجود ہوتے جب خاور نے نکاح سے انکار کیا تھا تب کہاں تھے آپ شہزادے صاحب؟

اس وقت میں موجود تھا یہاں اور ہمیشہ رہوں گا۔۔۔آپ جس حد تک گر سکتے ہیں گر کر دکھائیں۔

اس وقت ہمارا یہاں آنا ممکن نہیں تھا۔۔۔جب تک ہم یہاں پہنچے بہت دیر ہو چکی تھی اور آپ یہاں ہمیشہ موجود نہی رہ سکتے دائم صاحب۔۔۔یہ جگہ ہماری ہے اور ہماری ہی رہے گی۔

شایان مہک کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے بولا اور غرور سے گردن اکڑائی۔

دونوں کے درمیان اچھی خاصی جنگ چھڑ چکی تھی۔

مہک نے التجایہ نظروں سے دائم کی طرف دیکھا اور سر نفی میں ہلایا۔

دائم نے دایاں ہاتھ بالوں میں پھیرا اور گہری سانس لیتے ہوئے آگے بڑھا۔

اس کی جنگ ایک انسان سے نہی تھی وہ اپنے کسی بھی قیمتی رشتے کو کھونا نہیں چاہتا تھا اس لیے مزید بخث کرنے سے گریز کیا۔

اس کا خون کھول رہا تھا شایان کو مہک کے اتنے نزدیک کھڑے دیکھ کر مگر اس وقت بہت بے بس تھا کچھ نا کر سکا۔

حالات چاہے جیسے بھی تھے اب مہک اس کی عزت تھی۔۔۔غصہ ظبط کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مٹھی بند کی اور شایان کی طرف دیکھا۔

“کیوں بلایا مجھے؟”

یہ مسجد جانا چاہتے ہیں۔۔۔مہک نے فوراً جواب دیا۔

مسجد؟

کیوں۔۔۔ان کو مسجد کا راستہ نہی پتہ کیا؟

ویسے بھی ان کو تو سب کچھ نظر آتا ہے ناں تو پھر مسجد تک جانے کے لیے میری ضرورت کیوں پڑ گئی؟

Because he wants to be a Muslim…

مہک نے پھر سے جواب دیا۔

What?

Is it None Muslim?

جی۔۔۔مہک نے مختصر جواب دیا۔

تمہارا مطلب ہے میں اسے مسجد لے کر جاؤں اور اسلام قبول کرواؤں؟

جی۔۔۔مہک نے سر اثبات میں ہلایا۔

Well … and what will happen to it?

دائم کے سوال پر مہک نے کندھے اچکائے۔

“بس بہت ہوا”۔۔۔مہک کچھ بولنے ہی والی تھی کہ شایان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا۔

آپ جو بول رہے ہیں ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں دائم۔۔۔شاید آپ بھول رہے ہیں آپ کے سامنے کون کھڑا ہے۔

آپ ہمارے ساتھ چل رہے ہیں یا نہی؟

چل سکتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ آپ یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔۔شایان نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دائم کو باہر جانے کا راستہ دکھایا۔

دائم نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا اور مہک کی طرف دیکھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا ٹھیک ہے۔

میں چلوں گا آپ کے ساتھ لیکن ایسے نہی۔۔۔اس حلیے میں آپ مسجد نہیں جا سکتے۔

یہ تلوار اور کپڑے یہ سب کچھ یہی چھوڑ کر جانا ہو گا۔

آئیں میرے ساتھ۔۔۔دائم اسے وہاں سے قاسم کے کمرے میں لے آیا اور اس کی الماری سے ایک سوٹ نکال کر شایان کی طرف بڑھایا۔

شایان نے ہینگر کو گھماتے ہوئے حیرانگی سے سوٹ کو دیکھا۔

نہا کر یہ کپڑے پہنیں اور باہر آئیں۔۔۔دائم نے اس کے لیے واش روم کا دروازہ کھولا۔

شایان ایک نظر اسے غور سے دیکھتے ہوئے اندر چلا گیا۔

کیا ہوا سب خیریت ہے دائم؟

ابھی شایان واش روم میں گیا ہی تھا کہ مہک کی امی چائے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔

جی چچی جان سب خیریت ہے۔۔۔آپ آئیں میرے ساتھ مہک کے کمرے میں چلتے ہیں۔

دائم انہیں زبردستی وہاں سے مہک کے کمرے میں لے آیا۔

مہک پریشان سی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی دونوں کو اندر آتے دیکھ حیرت زدہ سی اٹھی اور تیزی سے آگے بڑھی۔

بیٹھ جاؤ۔۔۔دائم نے اسے واپس بیٹھنے کو کہا تو فوراً واپس صوفے پر بیٹھ گئی لیکن اس کی نظریں شایان کو ہی ڈھونڈ رہی تھیں۔

میں تمہارے لیے چائے لے کر آئی تو مہک نے بتایا کہ تم قاسم کے کمرے میں ہو۔۔۔تمہیں یہاں نہی آنا چاہیے تھا دائم۔

آج جو کچھ ہوا قاسم نے مجھے سب کچھ بتا دیا کہی ایسا نا ہو وہ پھر سے کچھ کر دے کسی کے ساتھ۔

آپ فکر نہی کریں چچی جان۔۔۔آپ بس مجھ پر بھروسہ رکھیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔

میرے ہوتے ہوئے آپ کو کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بس آپ لوگ امی کی باتوں کو دل پے نا لیجیۓ گا۔۔۔کچھ دن تک ٹھیک ہو جائیں گی وہ۔

ان کی عادت بن چکی ہے بات بات پر سب سے لڑنے کی۔۔۔ہمیں ان کو تھوڑا وقت دینا پڑے گا۔

آپ لوگ جذبات میں آ کر کوئی فیصلہ مت کر لیجئے گا۔

قاسم غصے میں آ گیا تھا اور عدالت وغیرہ پتہ نہی کیا کچھ بول گیا۔۔۔خیر میں اسے سنبھال لوں گا۔

بچپن کا دوست ہے میرا میری بات کو ضرور سمجھے گا۔

شادی کر دیں اب اس کی۔۔۔گھر کا ماحول تھوڑا بدلے سب لوگ ڈسٹرب ہیں۔

زرا دھیان کہی اور لگے سب کا۔۔۔

ہاں سوچ رہی ہوں میں۔۔۔کرتے ہیں کچھ تم چائے پیو بیٹا ٹھنڈی ہو رہی ہے۔

جی۔۔۔دائم چائے پینے میں مصروف ہو گیا لیکن اس کا دھیان دروازے کی طرف ہی تھا۔وہ جان بوجھ کر انہیں باتوں میں مصروف کئے ہوئے تھا کہ کہیں اچانک سے شایان نہ آ جائے۔

چلو بیٹھو تم لوگ۔۔۔میں چلتی ہوں مجھے کام ہے زرا کچن میں۔۔وہ کمرے سے باہر چلی گئیں۔

میں یہاں نہی رک سکتا۔۔۔دائم چائے کا کپ تیزی سے ٹرے میں رکھتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا لیکن اس کے آگے بڑھنے سے پہلے ہی شایان کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔

___________________________

راجا صاحب ہیزل کے کمرے میں داخل ہوئے۔

آخر یہ ماجرا کیا ہے؟

ہیزل ان کو اچانک سامنے دیکھ کر تیزی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔

بابا جان۔۔۔آپ اچانک یہاں؟

خیریت؟

اتنے غصے میں کیوں ہیں آپ؟

ہمارا غصہ کرنا تو بنتا ہے شہزادی ہیزل۔۔۔جب ہمارے اکلوتے وارث کو ہماری عزت کی پرواہ نہی ہو گی تو ہمارا غصہ واجب ہے۔

کہاں ہیں وہ؟

ہمیں کیا پتہ بابا جان۔۔۔ہیزل نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا اور نظریں جھکا لی۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کو پتہ نا ہو؟

آپ کو سب پتہ ہوتا ہے ہیزل۔۔۔اپنے بھائی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش نا کریں۔

ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہے جو ہم سب سے زیادہ ضروری ہے ان کے لیے؟

ماں کے مرنے کے بعد سے غائب ہیں وہ اور آج دربار میں بھی نہی آئے۔

کیا انہیں معلوم نہیں تھا آج دربار میں سب ریاستوں کے بادشاہ تشریف لانے والے تھے؟

سب اپنے اپنے شہزادوں کے ساتھ وقت پر موجود تھے لیکن ہمارے بیٹے نے ہماری نظریں شرم سے جھکا دیں۔

کیا چل رہا ہے شایان کے دماغ میں؟

ہم سے جھوٹ بولنے کی کوشش ہرگز مت کیجئیے گا کیونکہ ہم یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کا ہر راز آپ کو بتاتے ہیں۔

سچ بتائیے۔۔۔ہمیں جھوٹ سے سخت نفرت ہے۔

جی بابا جان۔۔۔ہم بتاتے ہیں آپ کو،ہیزل نے ان کے سامنے سر جھکا دیا کیونکہ اب اس کے پاس سچ بولنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔

دراصل بات یہ ہے بابا جان۔۔۔شایان بھائی ایک لڑکی سے محبت کر بیٹھے ہیں اور وہ لڑکی کوئی شہزادی نہی بلکہ۔۔۔

بلکہ۔۔۔کیا ہیزل؟

ان کے لہجے میں تھوڑی سختی تھی ہیزل ڈر گئی۔

بابا جان “وہ ایک انسان ہے”۔۔۔ہیزل روانی میں بول گئی اور اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔

کیا کہا آپ نے ایک انسان سے محبت؟

جی۔۔۔ہیزل نے سر اثبات میں ہلایا۔

یہ سب کچھ اس جادو کی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔بھائی نے غصے میں کچھ منتر غلط پڑھے اور ان کا سامنا اس لڑکی سے ہو گیا۔

وہ اس تک پہنچنے کی خاطر دن رات ایک کر کے اس تک پہنچنے کا راستہ تلاش کرتے رہے اور آخر کار وہ اس تک پہنچ ہی گئے۔

ہم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے ہماری ایک نہیں سنی۔

بابا جان آپ انہیں معاف کر دیں۔۔۔ہم آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں۔

ہیزل باپ کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑتی ہوئی ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔

غداری۔۔۔وہ ہمارے ساتھ٫نہی شہزادی ہیزل اس گناہ کی سزا تو انہیں مل کر رہے گی۔

کہاں ہیں وہ اس وقت؟

ہیزل نے کوئی جواب نہیں دیا اور سر نفی میں ہلایا۔

ہم نے کچھ پوچھا ہے آپ سے!

راجا صاحب غصے سے چلائے تو ہیزل اٹھ کر کھڑی ہو گئ اور گال پے بہتے آنسو پونچھے۔

وہ اس لڑکی کے پاس گئے ہو گے شاید۔۔۔

شاید۔۔۔یا پھر یقیناً؟

ہمیں سچ سننا ہے۔

یقیناً۔۔۔وہ اسی کے پاس گئے ہیں بابا جان لیکن آپ انہیں کچھ مت کہیے گا۔

ہمارے پاس اب آپ دونوں کے علاوہ کچھ نہی بچا۔۔۔ہیزل ان کے پیچھے پیچھے دوڑتی ہوئی بولی لیکن راجا صاحب اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے شایان کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *