366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 17)

Aks by Khanzadi

امی یہ کیسا شور ہے گھر میں سب خیریت تو ہے ناں؟

دائم بھائی چلا رہے تھے ناں؟

مصباح کو کیا ہوا؟

تائی امی کس سے بخث کر رہی ہے؟

خدیجہ بیگم جیسے ہی نیچے آئی فوراً خاور کے کمرے میں آئی اور ان کے کمرے میں داخل ہوتے ہی خاور سوال پر سوال کرتا چلا گیا۔

وہ غصے سے خاور کی طرف بڑھی اور اس کے پاؤں والی سائیڈ پر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔اتنے بھولے نہ بنو تم۔

یہ سب کچھ تمہارا ہی کیا دھرا ہے۔۔۔تم دونوں بچوں نے مل کر ماں باپ کو سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔

جنگ چھڑ چکی ہے گھر میں۔۔۔تمہاری تائی صاحبہ مہک کی دشمن بن گئی ہیں اور اماں جان نے لگے ہاتھ مجھے بھی کھری کھری سنا دی۔

کہہ رہی تھیں اگر میں نے اپنے بیٹے کی اچھی تربیت کی ہوتی تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

یہ تو پرانی بات ہے امی کچھ نیا بتائیں۔

ماں کی بات سن کر خاور نے بیزاری سے جواب دیا۔

پرانی بات؟

تمہارے لیے پرانی بات ہو سکتی ہے لیکن مجھے ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ اس طرح کے القابات سے نوازا جائے گا۔

ایک بار سوچ تو لیتے ایسی حرکت کرنے سے پہلے۔۔۔تمہیں تو بس عشق و محبت کی پڑی تھی۔

ماں باپ کی عزت کا زرا خیال نہی کیا۔۔۔ساری زندگی کے لیے میرے منہ پر تمانچہ مار دیا تم نے۔

بس کر دیں امی۔۔۔میرے زخموں پر نمک نا چھڑکیں میں پہلے ہی پریشان ہوں۔

بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے مجھ سے۔۔۔آپ لوگوں نے بھی سوچے سمجھے بغیر مہک کا نکاح دائم بھائی سے کروا دیا۔

تم پریشان نہی ہو بیٹے۔۔۔پریشان تو تم نے ہمیں کیا ہوا ہے۔

تمہیں ابھی بھی اپنی غلطی کا احساس نہی ہے بلکہ اس بات کا پچھتاوا ہے کہ مہک کا نکاح دائم سے کیوں ہوا۔

تمہیں یہ احساس نہی ہے کہ تم نے کسی کی بیٹی کو ساری زندگی طعنے کھانے کے لیے چھوڑ دیا بلکہ تمہیں یہ دکھ ہے کہ کسی اور نے اس کا ہاتھ کیوں تھام لیا۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی آخر کہاں کمی رہ گئی مجھ سے تمہاری تربیت کرنے میں۔

پتہ نہیں میرے کس گناہ کی سزا ملی ہے مجھے جو تمہارے جیسی اولاد میرے پلے پڑی ہے۔

دل تو کرتا ہے ایک لگاؤں تمہیں۔۔۔انہوں نے خاور کو تھپڑ لگانے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کمرے کا دروازہ کھلا اور اماں جان کمرے میں داخل ہوئیں۔

شرم نہی آتی جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے؟

ہاتھ نا اٹھاؤں تو اور کیا کروں اماں جان؟

آپ ہی تو کہہ رہی تھیں کہ میں نے اس کی تربیت اچھی نہی کی تو اب اس کو دانٹوں بھی ناں؟

اٹھ کمبخت یہاں سے۔۔۔بڑی آئی توں ڈانٹنے والی۔

اب کیا فایدہ تمہاری ڈانٹ کا؟

پہلے ڈانٹا ہوتا تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا ہمیں۔۔۔جاو کچھ کھانے کے لیے کے کر آؤ میرے بچے کے لیے۔

دیکھو تو سہی چند دنوں میں کیسے نڈھال ہوا پڑا ہے۔

جی اماں جان۔۔۔لاتی ہوں۔

وہ ایک غصے بھری نظر بیٹے پر ڈالتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔

دادو جان۔۔۔

خبردار!

بلکل چپ!۔۔۔خبردار جو مجھے دادو جان بولا۔

زبان کھینچ لوں گی تمہاری۔۔۔دادو جان کے کچھ لگتے۔

یہ کیا گل کھلایا ہے تم نے؟

دوسروں کی زندگی کی کوئی اہمیت ہے تمہاری نظر میں یا نہیں؟

تمہیں اندازہ بھی ہے تمہاری اس حرکت کی وجہ سے ہم سب کو کیا کچھ دیکھنا پر رہا ہے۔

کیا قصور تھا میری معصوم بچی کا؟

جب رشتہ تمہاری مرضی سے طے ہوا تھا تو نکاح کرتے وقت کیا موت پڑ گئی تھی؟

دادو جان یہ سب شازیہ کی وجہ سے ہوا ہے میں اس کی باتوں میں آ گیا تھا۔۔۔خاور نے سارا الزام شازیہ پر ڈال دیا۔

واہ بیٹے کیا کہنے ہیں تمہارے۔۔۔دادی جان نے تالی بجاتے ہوئے داد دی۔

سارا الزام اپنی بیوی پر ڈال دیا کیا کہنے ہیں تمہارے۔۔۔شرم تو نہی آتی تمہیں اس طرح کی حرکتیں کرتے ہوئے۔

اس میں شرم والی کیا بات ہے دادو؟

میں آپ کو وہی بتا رہا ہوں جو سچ ہے۔۔۔شازیہ نے مجھے دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے مہک سے نکاح کیا تو وہ خودکشی کر لے گی۔

آپ ہی بتائیں میں کیا کرتا؟

میں ڈر گیا تھا مجھے لگا کہی واقعی وہ ایسا کچھ کر نہ لے۔۔۔ساری زندگی کے لیے اس کی موت کا الزام میرے سر پر مسلط ہو جاتا۔

میں نے اسے بہت سمجھایا تھا لیکن اس نے میری ایک نہی سنی اور مجبوراً مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

مجبوراً؟

واقعی۔۔۔؟

تم نے یہ فیصلہ مجبوراً کیا تھا؟

نہی۔۔۔بلکل غلط،”مرد کوئی بھی فیصلہ مجبوراً نہی بلکہ اپنا نفع و نقصان دیکھ کر کرتا ہے۔”

اب سیدھی طرح بتا دو مجھے تمہارا کیا مقصد تھا شازیہ سے نکاح کرنے کا؟

اگر تم نے سچ نہ بولا تو میں اس چھڑی کے ساتھ تمہاری ٹانگیں توڑ دوں کی یہ بات یاد رکھنا۔

خاور نے بھنویں اچکاتے ہوئے ان کی طرف دیکھا اماں جان ویسے حد ہے آپ کس طرح کی باتیں کر رہی ہیں،میرا کیا مقصد ہو سکتا ہے بھلا؟

بس میں اس کی باتوں میں آ گیا تھا اس نے نے محبت کا اظہار ہی اس انداز میں کیا کہ کہ مجھے لگا کسی کو چاہنے سے بہتر ہے کسی کی چاہت بن جاوں۔

بس اسی لیے اور اس نے دھمکیاں کم دی تھی۔۔۔دماغ خراب کر کے رکھ دیا تھا اس لڑکی نے میرا۔

اچھا۔۔۔دھمکیاں ہی دی تھیں اس نے کچھ کیا تو نہی تھا جو تم نے خود سے سارے فیصلے کر لیے۔

اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے کسی کو تو اعتماد میں لے لیتے ہمیں نہ سہی کم از کم اپنی ماں سے ہی بات کر لیتے۔

چلو ماں سے ہی نہ سہی مجھ سے شئیر کر لیتے۔ہم لوگ کوئی نہ کوئی حل نکال لیتے لیکن اس طرح ہماری عزت کا جنازہ نکالنے کی کیا ضرورت تھی؟

چلیں چھوڑ بھی دیں اماں جان۔۔۔کیا لینا ہے اس بات سے آپ لوگوں نے؟

میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں بہت بڑی غلطی کر دی ہے میں نے۔۔۔کسی نے مجھ سے تو آکر نہیں پوچھا کہ میں اس نکاح سے خوش ہوں بھی یا نہیں؟

سب کو مہک کی فکر پڑی ہے کہ اس کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔۔۔میں نے بھی یہ رشتہ کوئی شوق سے نہیں کیا۔

ڈر گیا تھا شازیہ کی باتوں سے مجھے لگا وہ سچ میں کچھ کر بیٹھے گی۔

بیٹا غلطی تو تم نے کی ہے وہ بھی بہت بڑی اور اب تم خوش ہو یا نہ ہو رشتہ تو تمہیں نبھانا پڑے گا۔

کسی نے نہیں کہا تھا تم سے کہ اتنا بڑا فیصلہ کرو یہ نکاح تمہاری اپنی مرضی سے ہوا ہے۔

اب ہم لوگوں سے ہمدردی کی امید مت رکھنا۔۔۔شکر مناؤ کہ تمہاری ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے اسی لئے تمہارے ساتھ رعایت برتی ہے میں نے ورنہ اس حرکت کے بعد تم اس گھر میں تو نظر نہیں آتے۔

تمہاری تائی نے زندگی عذاب بنائی ہوئی ہے مہک کی بار بار اس کو طعنے دیتی ہے کہ یہ رشتہ ختم کروا کے چھوڑے گی۔

آج تو حد ہی کر دی قاسم سے کہہ دیا کہ لے جاؤ اپنی بہن کو اور جب تک اس کا علاج نہ ہو رخصتی کرنے کا سوچنا بھی مت۔

قاسم نے بھی پھر کھرا جواب دے دیا آخر کب تک وہ سنتا رہتا۔۔۔دائم سے کہہ گیا ہے کہ اگر اپنی ماں کو منا سکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ عدالت کے دروازے کھلے ہیں۔

کیا۔۔۔آپ سچ کہہ رہی ہیں اماں جان؟

اس کا مطلب دائم بھائی مہک کو چھوڑ دیں گے۔

کمبخت کہی کہ وہ منہ اچھا نہ ہو تو بات ہی اچھی کر لیا کرو دادو نے چھڑی اٹھائی اور اس کے بازو پر ماری۔

کیا ہو گیا اماں جان۔۔۔میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا اس میں مارنے والی کونسی بات ہے؟

دائم مہک کو چھوڑے گا ایسی بات سوچنا بھی مت۔۔۔وہ اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے تمہاری طرح دھوکے باز نہیں ہے۔

اور تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تم اپنا خیال رکھو اور جلدی سے اپنی ٹانگوں پہ کھڑے ہو ورنہ کہی ایسا نہ ہو میں سارے گھر کا غصہ آ کر تم پر ہی نکالوں اور دو چار پٹیاں تمہیں اور کروانی پڑ جائیں۔

خدا کا خوف کریں دادو جان میری دشمن کیوں بن رہی ہیں آپ؟

میں بھی آپ کا پوتا ہوں۔۔۔آپ کو دائم بھائی کی تو فکر ہے لیکن میری نہی۔

یہ دائم بھائی دن بدن میرے لئے درد سر بنتے جا رہے ہیں۔

کیا کہا تم نے ذرا دوبارہ کہنا!

کچھ نہیں کہا اماں جان۔۔۔تنگ آگیا ہوں یار میں اس کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر مجھے باہر جانا ہے۔

دم گھٹ رہا ہے اب میرا یہاں پر میرے لیے کچھ کریں آپ۔۔۔کسی کو میرا خیال نہی ہے ہر کسی کو اپنی پڑی ہے۔

کرتی ہوں تمہارے لئے کچھ لیکن میری ایک بات کا کھول کر سن لو اب اگر تم نے شازیہ کے ساتھ کوئی ڈرامہ کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔

تماشا لگایا ہوا تم نے گھر میں۔۔۔وہ تمہارے کمرے میں آئی تو تم نے اسے کمرے سے باہر نکال دیا۔

آئندہ ایسا کچھ نہ سنوں میں۔۔۔تم چاہے اس کی باتوں میں آئے ہو یا نہ آئے ہو اب وہ تمہاری بیوی ہے۔

اس کا تم پر اور تمہارے کمرے پر پورا حق ہے۔خبردار! آئندہ اسے کمرے سے باہر نکالا تو مجھ سے برا کوئی نہی ہو گا۔

اچھا ٹھیک ہے اماں جان نہیں نکالتا اسے کمرے سے فکر نہ کریں لیکن خدا کا واسطہ ہے یہ یہ ٹاپک ختم کریں پلیز۔

تنگ آگیا ہوں میں ایک ہی بات بار بار سن کر۔۔۔امی آتی ہیں تو وہ بھی یہی بات کرتی ہیں آپ آئی ہیں تو آپ بھی یہ بات کر رہی ہیں۔

یار کوئی نئی بات بھی کر لو آپ لوگ۔۔۔نکاح نکاح نکاح یہ کر دیا وہ کر دیا۔

آپ لوگوں نے تو رٹ ہی لگا لی ہے۔

رٹ نہ لگائیں تو اور کیا کریں تمہیں پتا بھی کیا ہوا ہے؟

اس جن نے تمہاری تائی کو اٹھا اٹھا کر پھینکا ہے اور مصباح کے ساتھ اس نے جو کیا ہے وہ تو تم سوچ بھی نہیں سکتے۔

وہ خود اپنے بازو پر چھریاں مار رہی تھی

اتنا برا حال ہوا پڑا ہے اس کا۔

پتا نہیں یہ کمبخت جن ہے کون میرے سامنے آجائے ایک دفعہ یہی چھڑی مار مار کر منہ توڑ دوں میں اس کا پیچھے ہی پڑ گیا ہے ہمارے۔

آپ کی چھڑی اس کے سامنے کچھ نہی ہے اماں جان۔۔۔۔یہ کوئی کام نہیں کرے گی۔

اس نے مجھے اٹھا کر پھینک دیا تو تائی جان کیا چیز ہے۔

خاور ہنستے ہوئے بولا تو دادو کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔کمبخت پورے گھر میں جنگ چھڑ چکی ہے اور تم ہنس رہے ہو۔

میں سوچ رہی ہوں میں کہاں تھی جب تمہاری تائی کو اس نے اٹھا اٹھا کر پھینکا ہو گا کاش میں وہاں ہوتی اس وقت کیا نظارہ تھا۔

آہستہ بولیں دادو جان اگر تائی جی نے سن لیا ناں تو آپ دونوں میں جنگ چھڑ جائے گی۔

خدیجہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی اور دونوں کو ہنستے دیکھ کر حیرت زدہ سی آگے بڑھی۔

کمال ہے اماں جان آپ اس کو ڈانٹنے آئی تھی شاید اور اس کو ڈانٹنے کی بجائے الٹا ہنس رہی ہیں آپ۔

انہوں نے دودھ کا گلاس خاور کی طرف بڑھایا اور ٹرے میش پر رکھتی ہوئی اس کے پاس بیٹھ گئی۔

تم مجھے نہ سکھاؤ بڑی آئی ڈانٹنے والی۔۔۔جا رہی ہوں میں نماز کا ٹائم ہو رہا ہے۔

وہ خاور کو دیکھ کر آنکھ دباتی ہوئی بیوی کمرے سے باہر نکل گئیں۔

ان کے باہر جاتے ہیں شازیہ یہ وہاں آئی لیکن سامنے نے ممانی کو دیکھ کر دروازے میں ہی رک گئی۔

آجاؤ میڈم بیٹھو۔۔۔وہ حیرت سے شازیہ کو دیکھتی ہوئی طنزیہ انداز میں بولی۔

خاور نے اسے دیکھ کر چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔

نہیں ممانی جان میں بس ایسے ہی یہاں سے گزر رہی تھی۔

ہاں ہاں دیکھ لیا ہے میں نے جو تم گزر رہی تھی آجاؤ اندر آ گئی ہو تو۔۔۔جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔

اتنے ڈرامے کیوں کر رہی ہو؟

جو کچھ کرنا تھا وہ تو تم لوگوں نے کر دیا اب ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟

اب کوئی نیا تماشا لگانا چاہتی ہو؟

خاور نے منع کیا تھا کمرے میں آنے سے اور تم پھر سے یہاں کھڑی ہو۔

مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم دونوں مل کر ہم سب کو بیوقوف بنا رہے ہو۔

سب کے سامنے یہ ظاہر کرتے ہو کہ ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہے لیکن سب کی غیر موجودگی میں تم لوگ نارمل بی ہیو کرتے ہو۔

املی ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔خاور نے ان کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔

چپ کرو تم!

ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔شرم تو نہیں آتی ماں سے زبان لڑاتے ہوئے اور تم۔۔۔کیا مل گیا تمہیں یہ سب کر کے؟

ہم سب کی نظریں شرم سے جھکا دی ہیں بھابھی کے سامنے۔۔۔دیکھا تھا اپنی امی کو کیسے نظر جھکائے کھڑی تھی بھابھی کے سامنے۔

جاؤ یہاں سے اور دوبارہ اپنی شکل مت دکھانا مجھے۔۔۔

ممانی کا رویہ بدلتے دیکھ کر شازیہ چونک گئی اور بھیگتی آنکھوں کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔

کیا ہو گیا امی آپ کو؟

ایسا بی ہیو کیوں کر رہی ہیں جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔

تمہارے لئے کہنا آسان ہے جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہم سے پوچھو ہم کن تکلیفوں سے گزر رہے ہیں۔

اتنی آسانی سے معاف کر سکتے ہم تم لوگوں کو جب تم نے اس کو منع کیا تھا کہ تمہارے کمرے میں نہیں آنا تو یہ یہاں کیا لینے آئی تھی؟

تم نے بلایا تھا اسے؟

نہیں امی میں نے نہیں بلایا تھا لیکن اوپر سے شور کی آواز آ رہی تھی تو میں آپ کو کال کر رہا تھا۔

آپ نے کال پک ہی نہی کی تو میں نے اسے بھی کال کر رہا تھا۔

تو یہ بات فون پر بھی بول سکتی تھی یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟

جا رہی ہو پورا دن تمہارے ساتھ بحث نہی کر سکتی۔۔۔وہ غصے میں کمرے سے باہر نکل گئی اور خاور حیرت زدہ سا انہیں جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا۔

______________

آپ خود بلائیں گی انہیں یا ہم لے کر آئیں؟

آپ ان کے ساتھ کیسے جا سکتے ہیں؟

مہک حیرت زدہ سی بولی۔

آپ تو ان کو پسند نہیں کرتے۔۔۔وہ یہاں آئیں گے اور مجھے ان سے بات کر کے سب کچھ سمجھانا پڑے گا ۔

آپ برداشت کر لیں گے؟

کہی ایسا نا ہو آپ غصے میں آ جائیں اور ان کے ساتھ کچھ۔۔۔

کچھ نہی کریں گے ہم ان کے ساتھ۔۔۔شایان نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔

اتنی فکر نا کریں آپ ان کی۔۔۔ہم ایک بار جو کہہ دیتے ہیں وہی کرتے ہیں۔

ہم انسان تھوڑی ہیں جو اپنی بات سے پلٹ جائے۔۔۔اس کا اشارہ خاور کی طرف تھا۔

مہک نے اس کا اشارہ سمجھتے ہوئے نظریں جھکا لی۔

ہم ان کو پسند نہیں کرتے لیکن آپ کی خاطر ہم ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہیں۔

آپ بلائیں۔۔۔

ٹھیک ہے میں بلاتی ہوں ان کو۔۔۔ مہک نے دائم کا نمبر ڈائل کیا۔

کچھ دیر مسلسل کال کرنے کے بعد آخر کار دائم نے اس کی کال اٹھا لی ۔

جلدی گھر آئیں ایک ایمرجنسی ہے۔۔۔مہک جلدی سے بولی۔

کیا ہوا سب خیریت تو ہے مہک؟

اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟

نہی سب خیریت ہے بس آپ جلدی سے آ جائیں۔

میں کیسے آ سکتا ہوں یار؟

تم جانتی ہو سب کچھ ابھی کچھ دیر پہلے جو کچھ ہوا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے ہمیں احتیاط کرنی ہو گی۔

نہیں اب ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔۔آپ آ جائیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ شایان آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔

مجھ سے لیکن کیوں؟

اسے مجھ سے کیا کام ہے؟

آپ جب آئیں گے تب بھی بتاؤں گی بس آپ آ جائیں۔

اچھا میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں آفس آیا تھا تھا نکلتا ہوں پانچ منٹ میں۔

ٹھیک ہے میں انتظار کر رہی ہوں خدا حافظ۔

پندرہ منٹ بعد دائم مہک کے سامنے کھڑا تھا تھا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

مہک نے اسے پیچھے دیکھنے کا اشارہ دیا تو دائم نے پلٹ کر پیچھے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *