366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 11)

Aks by Khanzadi

اتنی دیر کیوں لگائی آپ نے آنے میں؟

جانتی تھی ناں ہم انتظار کر رہے ہیں کمرے میں؟

رکیں زرا!

آپ نے ہمت کیسے کی ہماری اجازت کے بغیر کمرے سے باہر جانے کی؟

شایان سوال پر سوال کرتا چلا گیا۔

مہک نے ڈر کر آنکھیں بند کر لی اور رونا شروع ہو گئی۔

اس میں رونے والی کیا بات ہے؟

شایان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو فوراً پیچھے ہٹا۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ہمیں معاف کر دیں۔

ہم نے کچھ زیادہ ہی بول دیا۔۔۔آئیندہ دھیان رکھیں گے ہم لیکن آپ بھی وعدہ کریں کہ آئیندہ ہماری اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گی۔

مہک نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولی اور شایان کی طرف دیکھا۔

ایک بات تو سچ ہے یہ جو کوئی بھی ہے مجھے نقصان نہی پہنچا سکتا۔۔۔دل ہی دل میں سوچنے لگی۔

شایان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔مہک کے تھوڑا قریب آیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“سہی سمجھی ہیں آپ۔۔۔ہم آپ کو کبھی نقصان نہی پہنچائیں گے”

مہک کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

میں تو کچھ بولی ہی نہی۔۔۔پھر آپ نے کیسے سن لیا؟

مہک کے سوال پر شایان مسکراتے ہوئے پیچھے ہٹا۔۔۔آپ کیا سوچ رہی ہیں اور کیا نہی اس کے لیے ہمیں سننے کی نہی بس دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ہم آپ کی آنکھوں سے سب پڑھ لیتے ہیں۔

اب یہ مت پوچھیے گا کہ آنکھیں کیسے پڑھتے ہیں۔۔۔یہ ایک راز ہے جو فقط سچی محبت کرنے والے پر ہی کھلتا ہے۔

آئیں بیٹھیں۔۔۔بایاں بازو کمر پر فولڈ کرتے ہوئے سر کو تھوڑا جھکاتے ہوئے دائیں ہاتھ سے مہک کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

اتنی بڑی سلطنت کا اکلوتا شہزادہ ایک عام سی لڑکی کے لیے سر جھکائے کھڑا تھا۔

مہک کو یہ سب کسی خواب کی طرح لگا تھا ایسا منظر تو فلموں میں دیکھا تھا اس نے لیکن اس کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو گا اس کے وہم و گمان میں بھی نہی تھا۔

ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی اور صوفے پر بیٹھ گئی۔

شایان اس کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا۔

اسے زمین پر بیٹھتے دیکھ کر مہک فوراً کھڑی ہو گئی۔

آپ نیچے مت بیٹھیں۔۔۔مجھے اچھا نہی لگ رہا اس طرح۔

آپ ادھر بیٹھ جائیں میں کہی اور بیٹھ جاتی ہوں۔

ششش۔۔۔شایان نے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ دیا۔

مہک چپ چاپ دوبارہ بیٹھ گئی۔۔۔وہ اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے کنفیوزڈ سی نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔

یہ کس مصیب۔۔۔بس اتنا ہی سوچنے لگی تھی کہ چپ ہو گئی کیونکہ شایان با آسانی سب سن سکتا تھا۔

تو پھر کیا سوچا آپ نے؟

کس بارے میں میں مہک نے فورا جواب دیا۔

ہمارے ساتھ جانے کے بارے میں۔۔۔آپ نے بتایا نہیں آپ نے ہماری محبت کو قبول کیا ہے یا نہیں؟

قبول کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہی ہوتا۔۔۔میں آپ کو نہیں جانتی آپ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں کیا کرتے ہیں مجھے کچھ نہیں پتا،ایسے کیسے میں آپ کی محبت کا جواب دے دوں؟

اچھا تو آپ ہمارے بارے میں جاننا چاہتی ہیں۔

ٹھیک ہے ہم خود بتا دیتے ہیں۔۔۔اس شیشے کے اس پار ایک سلطنت ہے ہمارے باپ اس سلطنت کے راجا ہیں اور ماں رانی۔

ایک بہن ہیں شہزادی ہیزل اور ہم اس سلطنت کے اکلوتے شہزادے۔۔۔شایان ہیں۔

بہت ہے یا کچھ اور بھی جاننا چاہتی ہیں؟

شہزادے ہیں ہم بھوکا نہیں رکھیں گے آپ کو۔۔۔دنیا بھر کی خوشیاں آپ کے قدموں میں بچھا دیں گے۔

ایک بار۔۔۔صرف ایک بار آپ ہم پر بھروسہ کرکے تو دیکھیں۔

ہمیں ایک موقع تو دیں۔۔۔ہم وعدہ کرتے ہیں جیسا آپ چاہیں گی ویسا ہی ہوگا۔

ہم آپ کو آپ کے گھر والوں سے دور نہیں کر رہے آپ جب چاہیں ان سے ملنے یہاں آ سکتی ہیں۔

ہمیں بس آپ کی خوشی چاہیے جیسے آپ خوش ہیں ویسے ہی ہم خوش رہیں گے۔

آپ اپنے گھر والوں کو ہمارے بارے میں سب کچھ بتا دیں اور ان کو بتائیں کہ آپ ہمارے ساتھ جانا چاہتی ہیں ناں کہ اس خاور سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔

ایسا ہم ہونے بھی نہیں دیں گے۔۔۔اگر پیار سے ہماری بات مان لیں گے تو سب اچھا ہوگا ورنہ ہم دوسرا طریقہ آزمائیں گے اور دوسرے طریقے میں آپ کا بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

ہم آپ کو یا آپ سے جڑے کسی بھی رشتے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔۔۔ہمیں بس آپ سے مطلب ہے آپ ہماری ہو جائیں بس ہمیں اور کسی کی پرواہ نہی۔

لیکن اگر آپ نے ذرا سی بھی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تو ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا ہم یہاں پر لاشیں بچھا دیں گے۔

سمجھ رہی ہیں نہ آپ۔۔۔؟

اس نے مہک کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کچھ یاد آنے پر اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

یہ۔۔۔اس طرح سے آپ مجھے اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں؟

یہ کیسی محبت ہے آپ کی جس میں آپ میرا ہاتھ تک نہی تھام سکتے۔۔۔زندگی بھر ساتھ کیسے نبھائیں گے؟

مہک کے سوالات پر شایان نے نظریں جھکا لی اور کچھ دیر خاموش رہا۔۔۔کچھ سوچنے کے بعد بعد سر اٹھائے مہک کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔

“ہمیں آپ کو ہاتھ لگانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔۔۔ہم تو بس آپ کو دیکھتے ہوئے ساری زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔”

کیا ہوا اگر ہم آگ سے بنے ہیں اور آپ ایک انسان ہیں؟

ہمارے ہاتھ لگاتے ہی آپ کا وجود پگھلنے لگتا ہے اس کا یہ مطلب تو نہی کہ ہماری محبت جھوٹی ہے اور ہم اتنی چھوٹی سی بات پر اپنے قدم پیچھے ہٹا لیں۔

“ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ آپ ساری زندگی ہماری نظروں کے سامنے رہیں۔۔۔ہماری آخری سانس تک ہم بس آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔”

میں آپ کے جذبات کی بہت قدر کرتی ہوں۔۔۔ آپ بہت اچھے شہزادے ہیں اور قابل تعریف ہیں۔

مجھے آپ کی محبت بھی قبول ہے۔۔۔آپ کی محبت جھوٹی نہیں ہے آپ کا ایک ایک لفظ سچ ہے لیکن پھر بھی ہم ایک نہیں ہو سکتے۔

اس دنیا کے کچھ دستور ہی کچھ رواج ہیں۔۔۔ہمیں سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا جو ہم نہیں کر سکتے۔

میں ایک عام سی انسان ہوں اور آپ آگ سے بنے ایک جن۔۔۔یا پھر جو بھی ہیں مجھے نہیں پتا آپ کیا ہیں۔

ٹھیک ہے ہو گئی آپ کو مجھ سے محبت۔۔۔مجھے نہیں پتا آپ کو مجھ میں ایسا کیا نظر آیا جو اپنا دل ہار بیٹھے ہیں۔

میں تو ایک عام سی لڑکی ہو۔۔۔میں کیسے سب کچھ چھوڑ کر آپ کے ساتھ جا سکتی ہوں؟

یہ ناممکن ہے اور اس بات کو آپ بھی بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

“ایسا ضروری تو نہیں کہ جو چیز ہمیں اچھی لگے وہ ہمیں مل جائے۔۔۔ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جن پر ہمیں زندگی بھر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔”

میں آپ کے جذبات سمجھ سکتی ہوں لیکن آپ مجھے سمجھنے کی بھی کوشش کریں۔ ہماری زندگی الگ ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔

زندگی صرف ایک دوسرے کو دیکھنے کا نام نہیں ہے زندگی کا کچھ اور بھی مقصد ہے۔

میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی کہ میں آپ کی برابری کروں۔۔۔آپ شہزادے ہیں تو آپ کے مقابل بھی شہزادی ہونی چاہیے۔

شاید آپ نے کبھی دھیان ہی نہ دیا ہو سکتا ہے کوئی شہزادی آپ کی قسمت میں لکھ دی ہو اور وہ آپ کا انتظار کر رہی ہو۔

شہزادوں کے لئے تو شہزادیاں ہوتی ہیں۔۔۔کیا آپ نے آج تک کبھی سنا کہ کسی شہزادے کے ساتھ کسی عام سے لڑکی کا نام جڑا ہو؟

نہیں سنا ناں۔۔۔میں نے تو آج تک نہیں سنا۔ شہزادے ہمیشہ شہزادیوں کے ساتھ ہی اچھے لگتے ہیں۔

آپ ڈھونڈنے کی کوشش کریں آپ کی شہزادی آپ کی دنیا میں ہی ہے لیکن میں کسی اور کی امانت ہوں۔

جس طرح آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں بالکل اسی طرح اس کی محبت بھی جنونی ہے۔

میرے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے وہ۔۔۔میں اس کو مرتا ہوا نہیں چھوڑ سکتی وہ میرے بغیر مر جائے گا۔

بول دیا آپ نے جو بولنا تھا یا کچھ کہنا باقی ہے؟

شایان غصے سے بولا۔

اگر دوبارہ آپ نے اس کا نام لیا تو ہم واقعی اس کی جان لے لیں گے۔۔۔ایک بار تو بچ گیا وہ ہمارے ہاتھ سے لیکن اس بار نہی بچے گا۔

آئیندہ سوچ سمجھ کر اس کا نام لیجئے گا۔

آپ سمجھ نہیں رہے۔۔۔میں آپ سے یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ۔۔۔

بس۔۔۔!

اس سے پہلے کہ مہک مزید بولتی شایان نے ہاتھ کے اشارے سے چپ رہنے کو بولا اور کھڑا ہو گیا۔

ہم نے جو کہنا تھا کہہ دیا اس سے آگے ہم نہ کچھ کہیں گے اور نہ ہی کچھ سنیں گے۔

ٹھیک ہے آپ نے پہلے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ کسی عام سی لڑکی کا نام کسی شہزادے کے ساتھ جڑتے ہی ہوئے لیکن اب آپ سنیں گی بھی اور دیکھیں گی بھی۔

ایک عام سی لڑکی بھی شہزادی بن جاتی ہے ہے جب ایک شہزادہ اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔

خود کو ایک عام سی لڑکی کہنا بند کر دی اب آپ ہماری شہزادی ہیں سنا آپ نے؟

چلیں ٹھیک ہے میں نے مان لیا۔۔۔یہ رہا میرا ہاتھ دکھائیں تھام کر۔۔۔

مہک نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔

شایان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔کچھ دیر مہک کے ہاتھ کو دیکھتا رہا لیکن پھر اچانک سے اس نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور غائب ہو گیا۔

مہک نے ڈر کر ادھر اُدھر دیکھا۔۔۔خوف کے مارے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

یہ کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں میں۔۔۔کبھی بھی سامنے آ جاتا ہے اور کبھی بھی غائب ہو جاتا ہے

یا اللہ مجھے اس آفت سے بچا لیں۔

وہ فوراً وضو کرنے چلی گئی اور عشاء کی نماز پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔

______________________

عجیب مصیبت میں ڈال دیا ہے اس لڑکی نے۔۔۔خاور بہت دیر تک سوچتا رہا اور آخر کار شازیہ کا نمبر ڈائل کیا۔

اس نے پہلی بیل پر ہی خاور کال پک کر لی۔

میرے کمرے میں آؤ ابھی۔۔۔

بس اتنا بول کر خاور نے کال کاٹ دی۔

ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ شازیہ دروازہ نوک کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔

اس کی رونی صورت دیکھ کر خاور نے بیزاری سے کندھے اچکائے اور اسے صوفے پر بیٹھنے کو کہا آئیے بیٹھ جائیں۔

یار کیا ہے یہ سب کچھ؟

عجیب ٹینشن میں ڈال دیا ہے تم نے مجھے۔۔۔کیوں کر رہی ہو ایسا؟

تمہیں سب پتہ ہے کہ مہک سے میرا رشتہ میری مرضی سے ہی طے ہوا ہے تو پھر اس حرکت کا فایدہ؟

تم مجھے ٹارچر کر رہی ہو یہ سب کچھ ٹھیک تو نہیں ہے ناں۔

خود سوچو۔۔۔مثال کے طور پر اگر میں تم سے نکاح کر لیتا ہوں۔

تم ایک ایسے انسان کے ساتھ کیسے زندگی گزار سکو گی جس کے دل میں کوئی اور ہو؟

عقل سے کام لو بچی تو نہیں ہو۔۔۔اور تمہیں اب یاد آیا تھا کہ تمہیں مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کر دینا چاہیے اتنے سال سے سو رہی تھی کیا؟

اگر محبت تھی تو بتا دیتی اب اس طرح ٹارچر کرنے کا کیا فائدہ؟

سب سے پہلے تو تم یہ آنسو بہانا بند کرو۔۔۔اس طرح رونے سے کچھ نہیں ہونا اگر رونے سے سب کچھ مل جاتا ناں تو آج دنیا میں کوئی بھی انسان نامکمل نا ہوتا۔

سب کو ہر وہ چیز مل جاتی جو وہ چاہتا ہو۔

شازیہ مزید رونا شروع ہو گئی۔۔۔روؤں ناں تو اور کیا کروں میں؟

میرے پاس رونے کے سوا اور کوئی حل بھی تو نہیں ہے۔۔۔مجھے کیا پتا تھا کہ تمہارا رشتہ اتنی جلدی ہو جائے گا۔

میں تو اس انتظار میں تھی کہ ہماری ایجوکیشن کمپلیٹ ہو اور گھر میں شادی کی بات چلے تو میں کوئی بات کروں۔

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم مہک کو پسند کرتے ہو کیونکہ اس کے رویے سے کبھی ایسا لگا ہی نہی کہ تھا کہ وہ تم سے شادی کے لیے مان جائے گی۔

تم مجھے یہ کہہ رہے ہو کہ تم ایسے انسان کے ساتھکیسے زندگی گزارو گی جس کی زندگی میں کوئی اور ہو۔۔۔تو تم ایسی لڑکی کے ساتھ کیسے زندگی گزار سکتے ہو جو تم سے محبت ہی نہی کرتی؟

اسے تمہاری محبت کی کوئی قدر نہیں ہے وہ ہر وقت انا میں رہتی ہے۔

آج تک میں نے اسے کبھی بھی تم سے پیار سے بات کرتے نہیں دیکھا۔۔۔وہ تمہاری عزت تک نہی کرتی۔

تم ایسی لڑکی کے ساتھ ساری زندگی کیسے گزار سکتے ہو؟

ایک منٹ۔۔۔تم سے کس نے کہہ دیا کہ وہ میری عزت نہیں کرتی؟

ہاں یہ سچ ہے کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ میری عزت نہیں کرتی۔

بس کرو رہنے دو سب جانتے ہیں وہ تمھاری کتنی عزت کرتی ہے۔

خیر۔۔۔ٹھیک ہے تمہیں جو کرنا ہے کرو مجھے جو کرنا ہو گا میں وہ کروں گی میری فکر مت کرو تم اپنے نکاح کی تیاری کرو اور میں زہر پینے کی۔

مطلب تم مجھے دھمکی دے رہی ہو شازیہ؟

اسے دھمکی مت سمجھنا۔۔۔میں کر کے دکھاؤں گی۔

میں شازیہ ہوں مہک نہی۔۔۔محبت کرتی ہوں تم سے اور اس محبت کا ثبوت دوں گی۔

اچھا مطلب تم مر جاو گی۔۔۔زہر کھا لو گی میرے لیے؟

ہاں میں ایسا ہی کروں گی۔۔۔تم کر کے تو دیکھو نکاح نامے پر سائن۔۔۔اسی دن اس گھر سے ایک جنازہ اٹھے گا اور وہ جنازہ ہو گا میری محبت کا جس کا بوجھ میں ساری زندگی کے لیے تمہارے کندھوں پر چھوڑ جاؤں گی۔

آنسو بہاتی ہوئی غصے میں کمرے سے باہر نکل گئی۔

عجیب لڑکی ہے یہ یہ کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں میں میں خبر غصے میں چلایا اور سر تھامتے ہوئے پلیٹ گیا

______________________

نکاح کا دن بھی آ گیا مہک اور اس کی ساری فیملی دادی کے گھر پر ہی موجود تھی ان کے علاوہ خاندان کے چند افراد اور گھر کے لوگ تھے۔

مہک دادی کے کمرے میں بیٹھی تھی کہ اس کی امی میں آنسو بہاتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور اور بیٹی کے سر پر گھونگھٹ اوڑھ دیا۔

بیٹی کو گلے لگایا اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔اپنے بابا اور بھائی کی عزت کا مان رکھ لینا اور اس نکاح کو قبول کر لینا۔۔۔انکار مت کرنا میری بیٹی۔

ماں کے الفاظ پر مہک کے ہاتھ پاؤں کانپنا شروع ہو گئے وہ پہلے ہی بہت خوفزدہ تھی یہ سوچ سوچ کر کہ کہی شایان نا آ جائے اور اوپر سے ماں کے الفاظ۔

دادی کی اجازت پر نکاح خواں کمرے میں داخل ہوا اور نکاح پڑھانا شروع کیا۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *