366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 09)

Aks by Khanzadi

اس کی اتنی ہمت۔۔۔اس نے ہماری محبت پر نظر ڈالی اور اسے ہم سے چھیننے کی کوشش کر رہا ہے۔

تمہیں تو ہم چھوڑیں گے نہی۔۔۔ہاتھ کے اشارے سے شیشے کے ٹکرے ہوا میں اٹھائے اور واپس اپنی جگہ پر لگا دیے۔

شیشہ پھر سے اپنی پرانی حالت میں واپس آ گیا۔

ہم بس مہک کی وجہ سے خاموش تھے اور مزید کوئی ردعمل ظاہر نہی کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس بات کا ناجائز فائدہ اٹھاو۔

ایسی موت ماریں گے آخری سانس تک ہمارا خوف تمہاری ان آنکھوں میں دکھائی دے گا۔

شایان شیشے میں خاور کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

اس نے جیسے ہی خاور کے چہرے پر ہاتھ رکھا خاور کو اپنے چہرے پر جلن کا احساس ہوا۔

اس نے موبائل کا کیمرہ آن کیا اور اپنا چہرہ دیکھا تو حیرت زدہ سا دیکھتا رہ گیا۔

اس کے دائیں گال پر کسی کی انگلیوں کے واضح نشان تھے اور وہ نشان کسی زخم کی طرح لگ رہے تھے۔

اسی وقت دائم کمرے میں داخل ہوا اور سامنے کا منظر دیکھ کر حیرت زدہ سا خاور کی طرف بڑھا۔

یہ کیا ہوا تمہارے چہرے کو۔۔۔یہ زخم کیسے ہیں؟

پتہ نہی۔۔۔خاور نے ناچاہتے ہوئے بھی جواب دے دیا اور موبائل پر مصروف ہو گیا۔

میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے خاور۔۔۔بتاو مجھے یہ نشان کیسے بنے؟

یہ انگلیوں کے نشان کیسے ہیں؟

کیا تم نے اپنے ساتھ کچھ۔۔۔

خاور کے بھنویں اچکاتے ہوئے دیکھنے پر دائم نے بات اُدھوری چھوڑ دی۔

آپ کو شکل سے پاگل لگتا ہوں کیا میں؟

میں اپنے ساتھ ایسا کچھ کیوں کروں گا؟

مجھے کیا پتہ یہ نشان کیسے بنے۔۔۔میں تو سو رہا تھا تو اچانک مجھے چہرے پر جلن محسوس ہوئی۔

شیشے تک تو جا نہی سکتا تھا تو کیمرے میں دیکھ رہا تھا۔۔۔ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ آپ آ گئے۔

اگر آپ صبح والی بخث پر بات کرنے آئے ہیں تو خوشی خوشی واپس چلے جائیں کیونکہ میرا اس بارے میں بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

میں تم سے کوئی بخث کرنے نہی آیا بلکہ تمہیں سمجھانے آیا تھا لیکن اس سے پہلے ایک ضروری کام کر لوں کیونکہ اس وقت تمہیں سمجھانے سے زیادہ یہ کام ضروری ہے۔

دائم نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کرتے ہوئے آیت الکرسی پڑھ کر پھونکا تو وہ نشان اسی وقت ختم ہو گئے۔

_________________________

شایان کے شیشے میں سارا منظر دھندلا گیا۔۔۔یہ کیسے ہو ممکن ہے؟

ہمیں کچھ دکھائی کیوں نہی دے رہا؟

وہ بے چین سا ہر طرح سے کوشش کر کے دیکھ چکا تھا لیکن اسے کچھ دکھائی نہی دے رہا تھا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

ایسا کونسا جادو ہے اس لڑکے کے پاس جو اس نے ہماری طاقت کو مات دے دی؟

ہمیں پتہ لگانا ہو گا۔۔۔ورنہ ہم مہک کو کھو دیں گے۔

نہی۔۔۔ایسا نہی ہو گا٫ہم ایسا ہونے ہی نہی دیں گے۔

بعد میں دیکھتے ہیں تمہیں۔۔۔تم جو کوئی بھی ہو٫تم دونوں میں سے کوئی ایک بھی نہی بچے گا ہمارے ہاتھ سے۔

غصے میں آگ بگولہ ہوتے کمرے سے باہر نکل گیا۔

______________________

اب دیکھو زرا کیمرے میں۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔؟

خاور بے زاری سے کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔

اپنا چہرہ دیکھو زرا کیمرے میں اب۔۔۔دائم نے اپنی بات دہرائی۔

عجیب زبردستی ہے۔۔۔خاور نے بڑبڑاتے ہوئے کیمرہ آن کیا تو حیران رہ گیا۔

ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے دائم کی طرف دیکھا اور موبائل سائیڈ پر رکھ دیا۔شاید میرے ہی ہاتھ کے نشان تھے سوتے ہوئے ہاتھ گال کے نیچے رکھ دیا ہو گا میں نے۔

جان بوجھ کر انجان بننے کی کوشش مت کرو خاور۔۔۔یہ تمہارے ہاتھ کے نشان بلکل نہی تھے۔

حقیقت کچھ اور ہے اگر تم سمجھنا چاہو تو میں کچھ سمجھاؤں؟

مجھے کچھ سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔جانتا ہوں سب کچھ،مہک بتا چکی ہے مجھے جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے اور جو کچھ میرے ساتھ ابھی ہوا۔

اچھا۔۔۔تو پھر کیا سوچا تم نے؟

خاور کے اتنے تسلی بخش جواب پر دائم نے گہری سانس لیتے ہوئے اس سے سوال کیا۔

سوچنا کیا ہے؟

وہ بات کرے گی آج چچی جان سے۔۔۔وہ کوئی حل نکالیں گی۔

اچھا۔۔۔تم دونوں کی جان خطرے میں ہے اور تم ابھی بھی اس انتظار میں ہو کہ کوئی دوسرا اس کا حل نکالے گا؟

ظاہری سی بات ہے اس حالت میں میں تو کچھ کر نہی سکتا۔۔۔جو کرنا ہے چاچو اور چچی جان ہی کریں گی ناں۔

اگر تم میری بات سننا چاہو تو اس کا حل بتاؤں میں؟

مجھے کیوں بتا رہے ہیں؟

یہ حل آپ چاچو کو ہی بتا دیں۔

انہیں تو میں بتا ہی دوں گا لیکن پہلے تمہیں رضا مندی جاننا ضروری ہے۔

چاچو میری کسی بات سے انکار نہی کرتے اور نہ ہی کریں گے۔۔۔تم بتاؤ تمہارا جواب ہاں میں ہو گا یا ناں میں؟

آپ بتائیں اگر ممکن ہوا تو میرا جواب ہاں میں ہو گا اور اگر ناممکن ہوا تو ناں سمجھ لیجئے گا آپ۔

دائم نے سر اثبات میں ہلایا اور مسکرا دیا۔

میں عشا کی نماز پڑھ کر آ رہا ہوں ابھی مسجد میں۔۔۔قاری صاحب سے اس بارے میں بات کی تھی۔

وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کا حل صرف یہ ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے تم دونوں کا نکاح کر دیا جائے۔

کوئی برا سایہ ہے مہک پر اور تم دونوں کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔اس سے پہلے کہ کچھ برا ہو ہمیں یہ قدم اٹھانا پڑے گا۔

تم بتاؤ تمہارا کیا خیال ہے؟

خاور حیرت زدہ سا دائم کو دیکھتا رہ گیا۔

ایسے کیا دیکھ رہے ہو جواب دو مجھے۔۔۔تا کہ میں ابو اور چاچو کو لے کر جاؤں مہک کے گھر۔

تمہاری ہاں کے بعد ہی بات آگے بڑھا سکوں گا میں۔۔۔اگر سوچنے کے لیے وقت چاہیے تو کے سکتے ہو کوئی زبردستی نہیں ہے۔

مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔آپ باقی سب سے بات کر لیں۔

دائم اٹھ کر جانے ہی لگا تھا کہ خاور کے جواب واپس بیٹھ گیا۔

شکر ہے تم میری کسی امید پر تو پورا اترے۔۔۔مجھے امید تھی کہ تم انکار نہی کرو گے۔

میں ابھی بات کرتا ہوں ابو اور چاچو سے۔۔۔وہ دادو سے بات کر لیں پھر ہم سب جاتے ہیں ادھر نکاح کی تاریخ طے کرنے۔

دائم کی بات سن کر خاور کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔۔۔سچ میں آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں؟

ظاہری سی بات ہے۔۔۔مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے بھلا؟

میں تم دونوں کا بھلا چاہتا ہوں۔۔۔تمہاری خوشی مہک میں ہے اور مہک بھی راضی ہے اس رشتے سے تو مجھے اور کیا چاہیے؟

چلتا ہوں۔۔۔بات کروں سب سے۔

Sorry…

دائم دروازے کے پاس پہنچا ہی تھا کہ خاور کی آواز پر رک گیا اور پلٹ کر مسکرا دیا۔

It’s ok…

ملتے ہیں بعد میں خوشخبری کے ساتھ۔۔۔دائم کمرے سے باہر نکل گیا۔

خاور بے یقینی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا۔۔۔یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا میں نے سوچا نہی تھا۔

سہی کہتی ہے مہک۔۔۔میں نے کچھ زیادہ ہی غلط فہمیاں پال رکھی ہیں دل میں دائم بھائی کے لیے۔

وہ ہمارے لیے سب سے بات کرنا چاہ رہے ہیں اور میں ان کو ہی غلط سمجھ رہا تھا۔

مہک کو کال کرتا ہوں۔۔۔ فوراً مہک کا نمبر ڈائل کیا لیکن وہ کال پک ہی نہی کر رہی تھی۔

مسکراتے ہوئے نظریں چھت پر جمائے آنکھیں بند کرتے ہوئے لیٹ گیا۔

______________________

سب اچانک گھر آئے تو مہک پریشان سی کچن میں ماں کے پاس آئی۔

امی کیا ہوا سب خیریت ہے ناں؟

تایا ابو اور باقی سب اچانک کیوں آئے ہیں؟

دائم کی امی اسی وقت کچن میں داخل ہوئی۔۔۔پہلے اس کا کوئی علاج کروا لو پھر شادی کا بھی سوچ لینا۔

اس طرح تو بچے کی زندگی برباد کرنے والا حساب ہے۔

یہ کوئی طریقہ تو نہی ہے کہ نکاح ہی آخری حل ہے۔۔۔دماغ خراب ہو گیا ہے شاید دائم کا بھی۔

کیسا علاج تائی امی؟

مجھے کیا ہوا ہے جو آپ ایسی باتیں کر رہی ہیں؟

شاباش۔۔۔مطلب تمہیں پتہ ہی نہیں تمہیں کیا ہوا ہے،تمہیں نہی پتہ لیکن ہم سب کو تو پتہ چل گیا ہے ناں۔

تمہارے اوپر کسی جن کا سایہ ہے۔۔۔پتہ نہی کیا کرتی رہتی ہو جو وہ جن تمہارے پیچھے پڑ گیا ہے۔

اتنی بے عزتی پر مہک نے بھیگی آنکھوں سے ماں کی طرف دیکھا اور کچن سے باہر نکل کر اپنے کمرے میں آ گئی۔

اس میں رونے والی کیا بات تھی بھلا؟

میں نے کچھ غلط تو نہیں کہہ دیا۔۔۔وہی کہا جو سچ ہے۔

اگر تم نے بیٹی پر دھیان دیا ہوتا تو آج یہ دن ناں دیکھنا پڑتا ہمیں۔۔۔بہتر یہی ہے کہ پہلے اس کا علاج مکمل کرو۔

خاور خود ابھی بچہ ہے وہ کہاں لے لے کر پھرتا رہے گا اسے اور ابھی اتنی بڑی زمہ داری سنبھالنے کے قابل نہیں ہے وہ۔

دائم پتہ نہی کیا کر رہا ہے کہ نکاح سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔وہ جن ہے کوئی انسان نہی جو اتنی آسانی سے نکاح ہونے دے گا۔

ہو سکتا ہے وہ یہ نکاح ہونے ہی نہ دے یا پھر خاور کو مزید نقصان پہنچائے۔

خاور کی زندگی تو ہر صورت خطرے میں ہے۔میرے خیال سے تو یہ رشتہ ہی ختم کر دینا چاہیے۔

کیسی بات کر رہی ہیں بھابھی آپ؟

میری بیٹی کوئی مزاق تھوڑی ہے۔۔۔رشتہ ختم کرنا کوئی حل تو نہیں ہے۔

آپ بڑی ہے آپ کو اس وقت ہمارا ساتھ دینا چاہیے لیکن آپ الٹا ہم سے تعلق ختم کرنے کی بات کر رہی ہیں۔

مہک کی امی بیٹی کے حق میں بول پڑی۔

میں کوئی دشمن تھوڑی ہوں مہک کی۔۔۔خاور کا بھی سوچنا ہے مجھے۔

بڑی ہوں سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے مجھے۔۔۔جب نظر آ رہا ہے کہ اس رشتے میں نقصان ہی نقصان ہے تو جان بوجھ کر آگ میں کودنے کا کیا فائدہ؟

بھابھی سہی کہہ رہی ہیں۔۔۔ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے۔

خاور کی ماں بھی وہاں آ گئی اور جیٹھانی کی ہاں میں ہاں ملائی۔

ٹھیک ہے جیسے آپ سب کی مرضی۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

آپ سب کا جو بھی فیصلہ ہو گا ہمیں منظور ہو گا لیکن۔۔۔ایک بات بہت اچھی طرح سمجھا دی آپ نے کہ اپنی اولاد کی تکلیف بس اپنے ماں باپ کو ہی ہوتی ہے۔

باقی سب اپنا نفع و نقصان دیکھ کر ساتھ چلتے ہیں۔۔۔آ جائیں چائے بن گئی۔

مہک کی امی ان دونوں کو حیران کرتی ہوئی ڈرائنگ روم میں چلی گئیں۔

چھوڑو اس کی باتوں کو زیادہ مت سوچو۔۔۔تم اپنے بیٹے کے بارے میں سوچو۔

اکلوتا بیٹا ہے تمہارا اسے آگ میں کودنے تو نہی دے سکتی ناں؟

میں تمہارے ساتھ ہوں چلو اور جا کر بات کرو ابھی وقت ہے۔

دائم کی امی دیورانی کو ساتھ لیے ڈرائنگ روم میں چلی آئی۔

اتنا سب کچھ ہو گیا اور کسی نے ہمیں بتانا ضروری ہی نہی سمجھا۔۔۔مہک کے بابا غصہ میں تھے اور بیٹی کے لیے فکر مند بھی۔

مجھے لگا بچی ہے شاید کوئی وہم ہو گا۔۔۔مجھے اندازہ نہی تھا کہ بات اتنی بڑھ چکی ہے۔

چلو جو ہونا تھا ہو گیا اب آگے کا سوچو۔۔۔دادی جان نے بات آگے بڑھائی۔

ٹھیک ہے پھر اس جمعے نکاح کر دیتے ہیں دونوں کا لیکن اس سے پہلے کسی دوسرے گھر کا انتظام کرنا پڑے گا۔

جان خطرے میں ہے میری بیٹی کی۔۔۔یہ چھوٹی بات تو نہی ہے۔

میں سوچ رہی تھی کہ پہلے مہک کا علاج ہو جائے پھر کوئی فیصلہ کریں ہم۔۔۔

کیا مطلب ہے تمہارا؟

میری بچی کو کوئی بیماری ہے کیا جو تم علاج کی بات کر رہی ہو؟

خدیجہ بیگم کی بات پر دادی جان تپ گئیں۔

اماں جان میرا وہ مطلب نہی تھا۔۔۔میں تو یہ کہہ رہی تھی کہ۔۔۔

بس۔۔۔چپ!

خبردار جو کسی نے اس معاملے میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی۔۔۔جو میں کہوں گی وہی ہو گا۔

چائے پیو اور چلتی بنو۔۔۔ابھی میں زندہ ہوں فیصلہ کرنے والی۔

ان کے بولنے کی دیر تھی بس مجال ہے جو اس کے بعد وہ کچھ بولی ہو۔

جمعے کو نکاح کا خاور اور مہک کا۔۔۔یہ بات دوبارہ نہی دہراؤں گی میں اور نہ ہی کسی کی بخث سنوں گی۔

بس بات جتم۔۔۔چائے پیو سب اور جاو اپنے اپنے گھر کو۔

دائم نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا اور دادو کی دیکھ کر مسکرا دیا بدلے میں وہ بھی مسکرا دی۔

گھر پہنچ کر دائم نے مہک کو کال ملائی۔۔۔مسلسل بیل جا رہی تھی لیکن وہ کال نہی اٹھا رہی تھی۔

رو رو کر مہک کا سر بھاری ہو رہا تھا رنگ ٹون ی آواز پر آٹھ کر بیٹھ گئی۔

ابھی موبائل کان سے لگایا ہی تھا کہ موبائل بھڑک اٹھا۔

مہک نے ڈرتے ہوئے موبائل فرش پر پھینک دیا۔

کون ہو تم؟

کچھ دیر ڈرتی رہی لیکن پھر اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور زور سے چلائی۔

میں نے پوچھا کون ہو تم؟

کیوں کر رہے ہو یہ سب کچھ؟

سامنے کیوں نہی آتے؟

سامنے آؤ ابھی کے ابھی۔۔۔میں نے کہا سامنے آؤ جو کوئی بھی ہو۔

اگر آج تم سامنے نہی آئے تو میں خود کو ختم کر لوں گی۔۔۔شیشے کی طرف بڑھی اور زور سے چلائی۔

روتی روتی شیشے کے سامنے فرش پر بیٹھ گئی۔۔۔کیوں کر رہے ہو تم ایسا؟

سامنے آؤ بتاؤ مجھے کیا چاہتے ہو مجھ سے،کیوں میری زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہو؟

پلیز سامنے آو۔۔۔

سر گھنٹوں پے گرائے روئے جا رہی تھی۔

اچانک شیشے میں سے ایک سفید روشنی نمودار ہوئی۔

مہک نے آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے شیشے کی طرف دیکھنے کی کوشش کی لیکن روشنی بہت تیز تھی کچھ نہ دیکھ سکی۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ روشنی ختم ہو گئی مہک اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور شیشے کی طرف بڑھی۔

کچھ دیر غور غور سے شیشے کو دیکھتی رہی۔۔۔آخر کیا راز دفن ہے اس شیشے میں؟

یہ روشنی کیسی تھی؟

کون ہو تم؟

میری بات کا جواب دو۔۔۔سامنے آو۔

کچھ دیر شیشے کو دیکھتی رہی پھر بیزار سی پلٹی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *