366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 07)

Aks by Khanzadi

اللہ جی یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔ایسا تو میں نے کبھی نہی سوچا تھا۔

میں اس رشتے سے خوش نہی تھی وہ الگ بات ہے لیکن میں نے کبھی بھی خاور کا برا نہی چاہا۔

میں نہی چاہتی کہ اسے کچھ ہو۔۔۔اللہ جی اسے ٹھیک کر دیں۔

مہک گھنٹوں پے سر گرائے آنسو بہاتی ہوئی خاور کی زندگی کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی کہ اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

اس نے ڈر کر تیزی سے سر اوپر اٹھایا تو سامنے اس کی امی تھیں۔۔۔اوہ۔۔۔آپ ہیں۔

آپ نے مجھے ڈرا ہی دیا تھا امی۔۔۔بھلا مجھے آواز دے دیتی آپ۔

کبھی کبھی تم بہت عجیب باتیں کرتی ہو مہک۔۔۔مجھے تمہاری سمجھ نہی آتی۔

گھر میں میرے اور تمہارے علاوہ اور کوئی ہے؟

میرے علاوہ اور کس نے آنا ہے یہاں؟

ناشتہ کر لو جلدی سے پھر مجھے ہاسپٹل جانا ہے سب کے لیے ناشتہ لے کر۔۔۔قاسم کو بلایا ہے۔

امی جو کچھ میں دیکھ اور سن سکتی ہوں ناں وہ آپ میں سے کوئی بھی ناں تو دیکھ سکتا ہے اور ناں ہی سن سکتا مگر افسوس۔۔۔آپ میری کسی بات پر یقین ہی نہی کرتی۔

اس گھر میں سب کچھ نارمل نہی ہے۔۔۔بہت کچھ عجیب ہو رہا ہے میرے ساتھ کبھی کالج میں تو کبھی اس کمرے میں۔

ہر کسی کو میری باتیں مذاق ہی لگتی ہیں۔۔۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو وہ دن دور نہی جب آپ لوگ خود مجھے پاگل خانے چھوڑ کر آئیں گے۔

اس لیے نہی کہ میں پاگل ہو جاؤں گی بلکہ اس لیے کہ میں آپ سب کو سمجھاتے سمجھاتے تھک جاؤں گی اور میرے لیے اس گھر میں رہنے سے بہتر جگہ پاگل خانہ ہو گی۔

استغفرُللہ۔۔۔کیا بول رہی ہو،دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟

یہ کس طرح کی باتیں کر رہی ہو مہک؟

پہلے کیا کم پریشان ہوں میں جو اب تم ایسی باتیں کر کے رہی سہی کسر پوری کر رہی ہو۔

ہاں تو اور کیا کہوں میں امی؟

آپ میری کسی بات پر یقین ہی نہی کریں گی تو یہی کہوں گی ناں میں۔۔۔کتنی بار کہہ چکی ہوں کہ اس گھر میں کوئی ہے مگر آپ اس بارے میں بات ہی نہی کرنا چاہتی۔

مجھے تو لگتا ہے خاور کا ایکسیڈنٹ بھی اسی نے کیا ہے۔

آپ کو وہ گجروں اور گول گپوں والا واقع تو یاد ہی ہو گا۔۔۔ان دونوں کا تعلق خاور سے ہی ہے اور جیسے ہی ہمارا رشتہ پکا ہوا خاور کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔

امی مجھے تو لگتا ہے کوئی جن بھوت مجھ پر عاشق ہو گیا اور وہی کر رہا ہے یہ سب کچھ۔۔۔آپ بابا سے بات کریں۔

اگر ہم اس گھر میں مزید رہے تو پتہ نہی اور کیا کچھ دیکھنے کو ملتا رہے گا۔

مہک کی باتوں پر اس کی امی سوچ میں پڑ گئیں وہ واقعی خوف زدہ ہو چکی تھیں۔کہہ تو تم سہی رہی مہک لیکن ہو سکتا ہے ہمارا وہم ہو۔

افففف۔۔۔امی آپ کو ابھی بھی لگتا ہے کہ یہ میرا وہم ہے؟

رکیں ایک بات اور بتاتی ہوں آپ کو۔۔۔اس دن جب خاور کمرے میں آیا تو اسے لگا یہ گجرے میں نے توڑے ہیں۔

وہ دکھی سا کمرے سے باہر نکل گیا لیکن جیسے ہی میں نے اس کے پیچھے جانا چاہا میرے قدم میرا ساتھ ہی نہی دے رہے تھے۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے پاؤں پتھر بن گئے ہو اور جیسے ہی خاور گیٹ سے باہر نکلا گیٹ بند ہونے کی آواز پر میرے پاؤں ٹھیک ہو گئے۔

امی اور کتنے ثبوت چاہیئے آپ کو؟

میں سہی کہہ رہی ہوں آپ کو کچھ کر لیں ورنہ بہت برا ہو سکتا ہے ہمارے ساتھ۔۔۔میرا اس کمرے میں اٹھنا بیٹھنا محال ہو چکا ہے۔

ہر روز ایک نیا واقعہ۔۔۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

باقاعدہ میرا نام پکارا جاتا ہے وہ بھی کسی مردانہ آواز میں۔۔۔آپ خود سوچیں کوئی میرا نام کیوں لے گا؟

ہم یہاں پر کسی کو جانتے بھی نہی اور ناں ہی آس پاس کوئی ایسا گھر ہے جہاں سے اتنی صاف آواز سنائی دیتی ہو۔

اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی مہک کے موبائل کی رنگ ٹون بجی۔

بھائی کی کال ہے امی۔۔۔اس نے موبائل ماں کی طرف بڑھایا۔

وعلیکم اسلام۔۔۔اچھا،شکر ہے اللہ کا۔۔۔خدا حافظ۔

انہوں نے کال کاٹ دی اور موبائل مہک کی طرف بڑھایا۔

شکر ہے اللہ کا خاور کا ہوش آ گیا ہے اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

شکر ہے کوئی اندرونی چوٹ نہی آئی۔۔۔بس ٹانگوں اور بازو پر چوٹ آئی ہے۔

کچھ مہینوں تک چل نہی سکے گا لیکن اللہ کے حکم سے کچھ مہینوں تک مکمل صحت یاب ہو جائے گا۔

الحمدللہ۔۔۔مہک نے بھی تہہ دل سے اللہ کا شکر ادا کیا۔

میں شکرانے کے نوافل ادا کر لوں۔۔۔وہ خوشی خوشی کمرے سے باہر نکل گئی اور مہک کی بات پھر سے ادھوری رہ گئی۔

میری بات پھر درمیان میں رہ گئی خیر کوئی بات نہیں خاور اب ٹھیک ہے یہی کافی ہے۔

ناشتہ کر لوں ٹھنڈا ہو رہا ہے۔

_____________________________________

شیشے کے اس پار شایان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔جیسا ہم نے سوچا تھا بلکل ویسی ہی ہیں آپ۔

خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھدار بھی ہیں۔

بس اسی طرح سمجھنے کی کوشش کرتی رہی تھی تو بہت جلد ہم تک پہنچ جائیں گی۔

ہمیں یقین ہے آپ کی یہ سمجھنے کی صلاحیت آپ کو ہم سے ملا دے گی۔

بس اسی طرح کڑی سے کڑی ملاتی جائیں یہ پہیلی حل ہوتی جائے گی لیکن۔۔۔آپ کسی اور کے لیے آنسو بہائیں یہ ہم برداشت نہیں کر سکتے تو اس کے لیے آپ سزا کی حقدار بنتی ہیں۔

واہ۔۔۔کمال ہے۔۔۔شہزادی ہیزل تالی بجاتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔

شایان اس کی دخل اندازی پر جی بھر کر بدمزہ ہوا۔

ایک طرف آپ اس کو حاصل کرنے کے لیے کسی دوسرے کو جان سے مارنا چاہ رہے تھے اور دوسری اسے ہی تکلیف دینے کا سوچ رہے ہیں۔

داد دینی پڑے گی آپ کی سوچ کی۔۔۔آپ کی محبت بہت الگ ہے بلکہ آج تک کسی نے ایسی محبت کسی سے نہی کی ہو گی جیسی آپ کر رہے ہیں۔

یہ کیسی محبت ہے جس میں عاشق محبوب کو تکلیف دینے کا سوچ رہا ہے؟

ہم نے تو سنا تھا “محبت ایک دوسرے کے دکھ درد سمیٹنے کا نام ہے” تو پھر یہ دکھ دینے والا سبق محبت کی کس کتاب سے سیکھا کے آپ نے؟

زرا ہمیں بھی تو پتہ چلے کہ آخر کس کتاب سے سبق حاصل کر رہے ہیں آپ۔

کسی کتاب سے نہی سیکھ رہے ہم بلکہ یہ ہمیں سیکھا رہی ہیں۔۔۔اور آپ سے کس نے کہہ دیا کہ ہم اسے درد دے سکتے ہیں؟

جس کی ایک جھلک پر ہم دیوانے ہو چکے ہیں اس کو تکلیف پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہم۔

سزا کی حقدار تو یہ ہیں لیکن ان کے لیے ہماری سزا پھولوں کی کسی سیج سے کم نہی ہو گی۔

دیکھتی جائیں آپ۔۔۔

شایان نے ہاتھ کے اشارے سے کمرے میں پڑے گلاب کے پھول شیشے کے اس پار بھیجے اور مہک پر نچھاور کر دیے۔

مہک آنکھیں بند کیے اس خوشبو کو محسوس کر رہی تھی لیکن اسے پھول دکھائی نہی دے رہے تھے۔

دیکھا آپ نے وہ کیسے ہمارا بھیجا ہوا تخفہ قبول کر رہی ہیں،غور سے دیکھیں ان کی آنکھیں ہمیں دیکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

وہ ان پھولوں میں ہماری خوشبو محسوس کر رہی ہیں۔

شہزادی ہیزل مہک کو دیکھتی ہوئی مسکرا دی۔۔۔وہ محسوس تو کر رہی ہیں آپ کو لیکن اس کے ساتھ ساتھ ڈر بھی رہی ہیں۔

دیکھنے کی ضرورت آپ کو ہے شہزادے۔۔۔اتنی زیادہ خوش فہمیاں مت پالیں کہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہ بچے آپ کے پاس۔

ان کی آنکھوں میں آپ کی تلاش کے ساتھ ساتھ آپ کی موجودگی کا خوف بھی ہے۔

کیا آپ اس خوف کو محسوس نہی کر رہے؟

کیوں ایک ایسے راستے پر چل نکلے ہیں جس کی کوئی منزل ہی نہیں ہے؟

کیوں خود کو برباد کرنے کا ارادہ کر لیا ہے آپ نے؟

معصوم ہے وہ۔۔۔ترس کھائیں اس پر اور وہ جہاں کی ہے اسے وہی رہنے دیں۔

کیا لگتا ہے آپ کو اس سرحد کو پار کرنا آسان ہو گا اس کے لیے؟

نہی بلکل بھی نہی۔۔۔وہ ایک انسان ہے ہماری دنیا اور اس کی دنیا الگ ہے۔

وہ بہت نازک ہے جبکہ آپ کسی چٹان کی طرح مظبوط۔۔۔آپ اس کو ہاتھ تک نہی لگا سکتے۔

آپ کے ہاتھ لگتے ہی وہ جل کر راکھ ہو سکتی ہے۔۔۔آپ کیسے اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں؟

وہ لڑکا اس سے بہت محبت کرتا ہے اور بہت خوش رکھے گا اسے۔۔۔آپ اس بیچارے کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟

صرف اس لیے کہ وہ مہک سے محبت کرتا اور مہک نہی کرتی۔۔۔؟

اس لحاظ سے تو آپ بھی سزا کے حقدار ہیں کیونکہ آپ یہ تو جانتے ہیں کہ آپ کو اس سے محبت ہے لیکن اسے آپ سے محبت ہے یا نہی اس بات سے لاعلم ہیں آپ۔

تو آپ کیسے کسی دوسرے کو سزا دے سکتے ہیں؟

اور اب آپ سے مہک کا اس کے لیے آنسو بہانا بھی برداشت نہی ہو رہا۔۔۔وہ اسے پسند نہیں کرتی لیکن اسے تکلیف میں بھی نہی دیکھ سکتی۔

کچھ فیصلے تقدیر پر چھوڑ دینے چاہیے۔۔۔زبردستی ناں تو کسی کو کسی کی زندگی سے نکالا جا سکتا ہے اور ناں ہی کسی کو اپنا بنایا جا سکتا ہے۔

ہم جانتے ہیں ہم غلط کر رہے ہیں۔۔۔بہت اچھی طرح جانتے ہیں لیکن ہم مہک کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکتے۔

پھر چاہے وہ کسی کی وجہ سے ہو یا پھر کسی کے لیے ہو۔۔۔ہم جانتے ہیں ہم بہت خود غرض ہو چکے ہیں لیکن ہم محبت میں مجبور ہو چکے ہیں۔

آپ اس قید سے باہر کیوں نہی نکل جاتے؟

قید۔۔۔؟

ہاں قید۔۔۔قید ہی یہ محبت جہاں محبوب کے سوا کچھ بھی اچھا نہی لگتا لیکن ایک بات اور بھی ہے جو آپ نہی سمجھیں گی۔

“محبت ایک ایسی قید ہے جس میں آزادی بلکل سامنے کھڑی ہوتی ہے لیکن محبت کا قیدی اس آزادی کو چھوڑ کر اسی قید میں رہنا پسند کرتا٫اس کے لیے یہ قید آسان ہوتی ہے لیکن اس قید سے آزادی کا مطلب ہوتا ہے موت”

کاش آپ سمجھ جائیں۔۔۔کہ جو آپ چاہتے ہیں وہ نہی ہو سکتا،سمجھا ہی سکتے ہیں ہم باقی جو آپ کو ٹھیک لگے۔

اپنے ساتھ ساتھ دو زندگیاں اور برباد کر رہے ہیں آپ ایک تو مہک کی اور دوسری اس بے چارے لڑکے کی جسے اس گناہ کی سزا مل رہی ہے جو اس نے کیا ہی نہی۔

ایک پل کے لیے سوچیں اگر اسے کچھ ہو جاتا تو اس کے خاندان کا کیا بنتا؟

اس کی ماں تو جیتے جی مر جاتی۔۔۔جیسی ہماری مر رہی ہیں ہمارے چھوٹے بھائی کی موت پر،ان کی حالت نظر نہی آتی آپ کو؟

کسی کے آنسوؤں اور آہوں کی میت پر آپ اپنی خوشیوں کا محل نہی سجا سکتے۔۔۔خود کو سنبھالیں اور اپنی پہچان بنائیں۔

جو حالات چل رہے ہیں اس لحاظ سے تو لگتا ہے کہ بہت جلد آپ اپنی پہچان بھی بھول جائیں گے۔۔۔ہمیں بتانا پڑے گا آپ کو کہ آپ کون ہیں اور آپ کی کیا زمہ داریاں ہیں۔

ماں کا سوچیں۔۔۔ایک بیٹا تو وہ کھو چکی ہیں لیکن اگر دوسرے بیٹے پر کوئی آنچ آئی تو کہی ایسا نا ہو کہ ان کی مدھم چلتی ہوئی سانس کی یہ کمزور سی ڈور بھی ٹوٹ جائے۔

امید ہے آپ سمجھ گئے ہو گے ہماری بات۔۔۔چلتے ہیں ماں کے پاس جا رہے ہیں ہم۔۔۔ہیزل شایان کا کندھا تھپکتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

مہک ناشتے والے برتن اٹھائے تیزی میں کمرے سے باہر نکل گئی۔

اسے گھبرا کر بھاگتے ہوئے دیکھ کر شایان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

_______________________

ایک ہفتے بعد خاور کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کردیا گیا تو مہک اپنے بابا کے ساتھ کالج واپسی پر ان کے گھر چلی گئی۔

وہ اسے دادو کے پاس چھوڑ کر چلے گئے کہ شام تک یہیں رہو۔

دادو میں خاور سے مل کر آتی ہوں۔۔۔مہک پریشان سی خاور کے کمرے میں گئی اور ڈرتے ڈرتے دروازہ نوک کیا۔

اسے ڈر تھا کہ کہی خاور اسے سنا ہی نہ دے کہ تم یہاں کیا لینے آئی ہو؟

تمہیں تو خوش ہونا چاہیے میری حالت پر۔

آ جائیں۔۔۔

خاور کی آواز جاز پر دروازہ کھولتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اسے آتے دیکھ کر خاور حیرت زدہ سا موبائل سائیڈ پر رکھتے ہوئے بیٹھ گیا۔

خوشی سے اس کا چہرہ کھل اٹھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا یہ تم ہی ہو ناں؟

اسلام و علیکم۔۔۔مہک مسکراتی ہوئی آگے بڑھی اس کے دل میں جو ڈر تھا خاور کی مسکراہٹ دیکھ کر دور ہو گیا۔

کیسی طبیعت ہے اب؟

مشکل سے ابھی سنبھلے ہی تھے کہ۔۔۔

اس بے وفا نے حال پوچھ کر پھر سے بے حال کر دیا۔

خاور کی شاعری پر مہک مسکرا دی اور کرسی کھینچتے ہوئے بیڈ کے پاس لے آئی۔

آرام سے نہی چلا سکتے تم بائیک؟

عجیب حرکتیں ہیں تمہاری۔۔۔پتہ نہیں کس کی دعاؤں نے بچا لیا ورنہ تمہارا ارادہ تو پورا تھا مرنے کا۔

ہاں تو سہی ہے ناں اچھا ہے مر جاتا تو تمہاری بھی جان چھوٹ جاتی۔۔۔

اللہ نہ کرے۔۔۔مہک نے فوراً اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔

فضول باتیں مت کیا کرو میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا کہ تمہیں کچھ ہو۔۔۔ہاں یہ سچ ہے کہ تم مجھے زہر لگتے ہو لیکن جیسے بھی ہو زندہ اور سلامت رہو۔

مطلب تم چاہتی ہو کہ میں زہر بھی پیتا رہوں اور زندہ بھی رہوں؟

لگتا ہے ہاسپٹل میں رہ کر تمہاری ٹانگوں کے ساتھ ساتھ تمہارے دماغ نے بھی کام کرنا بند کر دیا ہے۔ کچھ زیادہ ہی شاعری نہیں آ رہی تمہیں آج؟

یہ تو آپ کے محبت کی کرم نوازی ہے جناب۔۔۔اس ناچیز کی اتنی اوقات کہاں،یہ ہونٹ تو خود بخود بولتے چلے جاتے ہیں آپ کی تعریف میں۔

مہک مسکرا دی اور اسے مسکراتے دیکھ خاور بھی مسکرا دیا اسی وقت شازیہ کمرے میں داخل ہوئی اور دونوں کو مسکراتے دیکھنا جلتی بھنتی مہک کی طرف بڑھی اور اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھما دیا۔

یہ لو تمہاری چائے پی لو۔۔۔

غصے میں چائے کا کپ مہکے ہاتھ میں پکڑایا اور ایک غصے بھری نظر خاور پر ڈالتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

خاور نے کندھے اچکا دیے۔۔۔

مہک بھی حیرت زدہ سی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔ نا سلام کیا نا حال پوچھا،اتنے غصے میں کیوں ہے یہ؟

پھوپھو سے ڈانٹ تو نہی پڑ گئی؟

پتہ نہیں میں خود حیران ہوں اس کی حرکت پر۔۔۔آج سے پہلے تو ایسا نہی کیا اس نے۔

ہاں میں خود حیران ہوں۔۔۔اس دن گھر پر بھی اس کا رویہ میرے ساتھ ایسا ہی تھا۔

کیوں۔۔۔تم دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا ہے کیا؟

نہی۔۔۔مہک نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔

تو پھر۔۔۔؟

پتہ نہی۔۔۔میں باقی سب سے مل لوں۔

مہک آدھی چائے پی کر کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتی ہوئی جانے کے لیے کھڑی ہو گئی۔

اس میں چائے کا کیا قصور ہے؟

خاور چائے کے کپ پر نظر ڈالتے ہوئے بولا۔

بس دل نہی کر رہا پینے کو۔۔۔پہلے کھانا کھاؤں گی پھر اور بنوا لوں گی شام تک یہی ہوں میں۔

ارے۔۔۔زے نصیب۔۔۔تو پھر یہ چائے میں پی لیتا ہوں بڑی طلب ہو رہی تھی مجھے چائے کی۔

خاور نے کپ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا ہی تھا کہ کپ ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں بکھر گیا اور ساری چائے اس کے کپڑوں پر گر گئی۔

مہک حیرت زدہ سی منہ پر ہاتھ رکھے یہ منظر دیکھتی رہ گئی۔۔۔جتنی حیران وہ تھی اتنا ہی حیران خاور بھی تھا۔

یہ کپ کیسے ٹوٹ گیا مہک۔۔۔؟

مجھے کیا پتہ۔۔۔مہک تیزی سے آگے بڑھی اور کپ کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیے لیکن پھر اچانک اس نے کانچ کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور خاور کے ہاتھ میں دبا دیا۔۔۔کانچ خاور کی ہتھیلی میں دھنس گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *