Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 02)
Rate this Novel
Aks (Episode 02)
Aks by Khanzadi
مہک ڈرتی ڈرتی کمرے میں داخل ہوئی اور ایک نظر شیشے کو دیکھتی ہوئی الماری کی طرف بڑھ گئی۔
بیگ کرسی پر رکھا اور کپڑے چینج کرنے چلی گئی۔
وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔نماز پڑھنے کے بعد جائے نماز کو تہہ لگاتی ہوئی الماری کی طرف بڑھی ہی تھی کہ اچانک اس کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔
ڈرتے ڈرتے جائے نماز وہی کرسی پر رکھ کر پلٹی تو دروازے میں خاور کھڑا تھا۔۔۔اس کا چچا زاد بھائی جو اس سے تین سال بڑا ہے۔
غصے سے اس کی طرف بڑھی۔۔۔دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟
پتہ بھی ہے کتنا ڈر گئی تھی میں۔۔۔یہ کوئی طریقہ ہے تمہارا کمرے میں آنے کا۔
اففف۔۔۔کوئی تمیز لحاظ نہی تمہیں مہک۔۔۔گھر آئے مہمان کو سلام کرتے ہیں اتنا بھی نہی پتہ تمہیں؟
میرا کوئی ارادہ نہیں تھا تمہیں ڈرانے کا۔۔۔تم نماز پڑھ رہی تھی تو یہی رک گیا میں۔
ویسے بہت پیاری لگ رہی تھی نماز پڑھتے ہوئے۔۔۔کتنی اچھی لگو گی شادی کے بعد میرے کمرے میں میرے سامنے نماز پڑھتی ہوئی۔
Hayeeeee So sweet
ہو گئی تمہاری بکواس شروع ہر بار کی طرح۔۔۔فضول بولنے کی عادت پڑ گئی ہے تمہیں۔شرم نہی آتی ایسی گھٹیا باتیں کرتے ہوئے؟
جیسا تم سوچ رہے ہو ناں ایسا ہو ہی نہی سکتا٫میں تم سے شادی نہی کروں گی چاہے جو مرضی ہو جائے۔۔۔تمہارا یہ خواب ہمیشہ خواب ہی رہے گا۔
شرم نہی آتی شادی کی بات کرتے ہوئے؟
چھوٹی ہوں تم سے کم ازکم اس بات کا ہی لحاظ کر لیا کرو،بے شرم۔
اچھا۔۔۔میں بے شرم اور دائم بھائی میں تو شرم کوٹ کوٹ کر بھری ہے ناں جو تم ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی ہو۔
اس وقت تمہیں یہ یاد نہی آتا کہ وہ تم سے کتنے بڑے ہیں،ان کے ساتھ تو بڑی مسکراہٹیں اچھال رہی ہوتی ہو۔
تب کہاں جاتی ہے تمہاری شرم؟
اتنا نیک خیال ہے میرا اور تم اسے بے شرمی کا نام دے رہی ہو۔۔۔دائم بھائی کے لیے تو نہی سوچتی تم ایسا۔
شرم کرو خاور۔۔۔دائم بھائی میرے لیے ویسے ہی جیسے قاسم بھائی ہیں۔
ان کے بارے میں ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی میں۔۔۔شرم آنی چاہیے تمہیں۔
عجیب انسان ہو تم۔۔۔مجھے تمہاری سمجھ نہی آتی۔میں نے تو سنا تھا بھائی بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں۔سگے نہ سہی کزن بھائی تو ہو کم از کم اس رشتے کا ہی لحاظ کر لیا کرو۔
Shut up!
خبردار جو دوبارہ مجھے بھائی بولا۔۔۔زبان کھینچ لوں گا تمہاری۔
بھائی نہی ہوں میں تمہارا۔۔۔ہونے والا شوہر ہوں۔
اپنا یہ بھائی والا پیار نہ اپنے قاسم بھائی اور دائم بھائی تک ہی محدود رکھو،آئی سمجھ؟
تمہیں جو کہنا ہے کہتے رہو مجھے پرواہ نہیں ہے میں تو تمہیں اپنا بھائی سمجھتی ہوں اور ہمیشہ سمجھتی رہوں گی۔
مہک غصے سے اپنے بیگ سے موبائل نکالنے کے لیے آگے بڑھ گئی۔
خاور غصے سے اس کی طرف بڑھا اور اسے بالوں سے دبوچنے ہی والا تھا کہ کسی نے بہت زور سے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے کرسی کے پاس گر گیا۔
شور کی آواز پر مہک تیزی سے واپس پلٹی اور خاور کو نیچے گرے دیکھ کر افسوس میں سر ہلایا۔بہت ہی گرے ہوئے ہو تم۔
دھیان سے نہی چل سکتے۔۔۔عجیب بچوں والی حرکتیں کر رہے ہو٫بھلا کوئی کمرے میں بھی گرتا ہے حد ہے ویسے۔
وہ بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ خاور حیرت زدہ سا پورے کمرے کو گھور رہا تھا۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔کسی نے مجھے دھکا دیا لیکن یہاں تو کوئی بھی نہی ہے۔
خوف سے چاروں طرف دیکھتے ہوئے تیزی سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
چچی آپ نے بتایا نہی پھر کہاں لگوانی ہے کیبل کی تار اور والے پورشن میں یا نیچے والے میں؟
ایک نظر ٹی وی لاونج کے صوفے پر بیٹھی موبائل میں مصروف مہک کو دیکھتے ہوئے کچن میں جاتے ہوئے بولا۔
چھوڑو تم تار کو پہلے یہ چائے پیو۔۔۔سردی بہت ہو گئی ہے تمہارے چاچو کو بھی پتہ نہی کیا فکر ہو رہی تھی کیبل کی۔
خبریں دیکھے بغیر ان کی رات جو نہی گزرتی۔۔۔آو تم پہلے چائے پیو۔
انہوں نے چائے کی ٹرے مہک کے سامنے پڑی ٹرے پر رکھی اور چائے کا کپ خاور کی طرف بڑھایا۔
اس نے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ تھاما اور صوفے پر بیٹھ کر چائے پینے میں مصروف ہو گیا۔
چھوڑ دو اس فون کی جان مہک۔۔۔تھوڑی تمیز کر لو کہ گھر میں کوئی آیا ہے۔
ماں کی آواز پر مہک نے فون لاک کر کے صوفے پر رکھ دیا۔۔۔کیا ہو گیا ہے امی یہ کوئی مہمان تھوڑی ہے۔
اس کا تو آنا جانا لگا ہی رہتا ہے اور اب تو ویسے بھی ہم ان کے گھر کے بلکل پاس آ گئے ہیں تو اس کے چکر لگتے رہیں گے۔
مہک کے اتنے کڑوے جواب پر اس کی امی نے اسے غصے سے دیکھا اور خاور کی طرف دیکھ کر شرمندگی سے نظریں جھکا لی۔
خاور مسکرا دیا اور جلدی سے چائے ختم کرتے ہوئے خالی کپ ٹرے میں رکھ دیا۔۔۔میں بلا کر لاتا ہوں کیںل والے کو چچی جان۔
اچھا ٹھیک ہے بیٹا جاو۔۔۔وہ مسکراتی ہوئی بولی۔ان کی نظر مہک ہے پڑی جو دونوں سے خاور کو جاو جان چھوڑو کا اشارہ کر رہی تھی۔
خاور کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی ان کا ہاتھ جوتے پر گیا اور جوتا سیدھا مہک کے ہاتھ پر لگا۔
افففف امی کیا ہو گیا ہے آپ کو؟
وہ اپنا ہاتھ دباتی ہوئی چلائی۔۔۔آپ کے جوتے کا نشانہ ہر بار مجھ پر ہی کیوں ہوتا ہے؟
ایسا بھی کیا غلط کر دیا میں نے۔۔۔سہی تو کہا تھا کہ اس کا روز کا کام ہے آنے جانے والا۔
اب بندہ سچ بھی نہ بولے؟
زبان کو لگام دو مہک۔۔۔تمہیں زرا تمیز نہی رہی کس سے کیسے بات کرنی ہے۔وہ بیچارہ میرا منہ دیکھتا رہ گیا۔
تمہیں تکلیف کیا ہے اس سے؟
پتہ بھی کے کتنی عزت کرتا ہے وہ ہم سب کی اور تم اس کے لیے ہمیشہ زہر اگلتی رہتی ہو٫بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہی۔
مجھے سب پتہ ہے امی وہ اتنی عزت کیوں کرتا ہے آپ کی اور کیوں بابا اور بھائی کے پیچھے پیچھے لٹو کی طرح گھومتا ہے۔
آپ اس کی زیادہ سائیڈ نا لیا کریں ورنہ آپ کا اور میرا جھگڑا ہو جانا ہے کسی دن۔۔۔خدیجہ چچی کا بیٹا ہے وہ بھول گئی ہیں آپ؟
وہی چچی جو ہمیں گھر سے نکلوا کر ہمارے پورشن پر قبضہ جمائے بیٹھی ہیں۔انہی کی بدولت ہم دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
آپ کیوں بھول جاتی ہیں یہ سب کچھ؟
یاد ہے یاد ہے مجھے سب کچھ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہی ہے کہ تم چچی کا غصہ اس کے بچوں پر نکالو۔
قاسم کو شمع پسند ہے اور ہم لوگ کچھ دن تک جا رہے ہیں تمہاری چچی کی طرف ان دونوں کے رشتے کی بات کرنے۔
اس لیے تمہیں سمجھا رہی ہوں کہ تم ایسی کوئی فضول حرکت مت کرنا جس کی وجہ ان کے رشتے کی بات بگڑ جائے۔
اس کے علاوہ تمہارے چاچو نے تمہارا رشتہ مانگا ہے خاور کے لیے۔۔۔پچھلے ایک سال سے ہمارے پیچھے پڑے ہیں وہ تو تم زرا تمیز سے بات کیا کرو اس سے۔
واہ امی واہ۔۔۔کیا کہنے ہیں آپ کے لیکن ایک بات میں آپ کو صاف صاف بتا دوں میں اس سے شادی نہی کروں گی۔
آپ لوگوں کو قاسم بھائی کا رشتہ شمع آپی سے کرنا ہیں تو کر دیں لیکن میرے رشتے والی بات پر مٹی ڈال دیں۔
مجھے نفرت ہے خدیجہ چچی سے اور ان کی آل و اولاد سے بھی۔۔۔میرے پورشن پر کیسے قبضہ جمایا انہوں نے ان کے بیٹے نے میرے کمرے پر۔
میں بھولی نہی ہوں ساری باتیں۔۔۔کبھی معاف نہی کروں گی ان کو۔
نہ کرنا معاف بے وقوف لڑکی لیکن اس کے زمہ دار وہ نہی تمہارے بابا ہیں انہوں نے بھائی کی محبت میں کیا ہے یہ سب کچھ اور ویسے بھی اس میں کچھ غلط تو نہی ہے۔
تمہارے چاچو جڑواں بھائی ہیں تمہارے بابا کے اور وہ بہت پیار کرتے ہیں اپنے بھائی سے تو اپنا پورشن ان کو دے بھی دیا تو کیا ہو گیا؟
تمہاری پھوپھو بیوہ ہیں ان کا اور ان کے بچوں کا بھی حق بنتا ہے اس گھر میں تو کیا ہو گیا اگر ایک پورشن ان کو دے دیا ہم سب نے۔
گزارا ہو تھا سب کا لیکن اب بچے بڑے ہو رہے ہیں سارے تو سب کو اپنے اپنے الگ کمرے چاہیے جیسے تمہیں چاہیے تھا تو کسی ایک کو تو قربانی دینا کرنی تھی۔
اب تمہاری پھوپھو کے بھی بچے ہیں تو ان کو بھی الگ کمرے چاہیے تھے اگر ہم ان کا خیال نہی رکھیں گے تو کون رکھے گا؟
ہمارے علاوہ اور کوئی گھر ہے ان کا کیا؟
تین بیٹیاں اور ایک بیٹے کو لے کہاں جاتی وہ؟
اگر اپنا پورشن خالی کر کے تمہاری خدیجہ چچی کو دے ان کا پورشن تمہاری پھوپھو کو دے دیا تو کیا غلط ہے اس میں؟
وہ اس گھر کی بیٹی ہیں اور پورا حق ہے اس کا بھی اس گھر میں اگر ہم ان سے یہ چھت چھین لیں تو کہاں جائے گی وہ؟
مہک ماں کے پاس آئی کے اور ان سے لپٹ کر معصوم سی شکل بنا لی۔۔۔یہ ہر بار پھوپھو جانی کا نام لے کر آپ لاجواب کر دیتی ہیں آپ مجھے۔
اچھا چھوڑیں ناں بھوک لگی ہے مجھے کھانے میں کیا ہے؟
کھانے میں قیمہ کریلے بنے ہیں اور ساتھ میں گاجر کا حلوہ۔۔۔لگاتی ہوں کھانا تم ہاتھ دھو لو اور اب زیادہ مکھن نا لگاؤ مجھے۔
وہ اس کے ماتھے پے پیار کرتی ہوئی کچن کی طرف بڑھی لیکن پھر رک کر پلٹی۔۔۔ویسے میں تو تمہارے فائدے کے لیے ہی کہہ رہی تھی سوچ لو تمہارا کمرہ تمہیں واپس مل سکتا ہے۔
معنی خیز انداز میں بول کر مسکراتی ہوئی کچن میں چلی گئی۔
پہلے تو مہک سوچ میں پڑ گئی لیکن پھر سمجھ آنے پر غصے سے پاؤں پٹختی ہوئی کچن میں آ گئی۔
مجھے میرا کمرہ واپس لینے کے لیے بھی اس سے شادی نہی کرنی امی۔۔۔آپ اپنی یہ ڈیل مجھ سے دور رکھیں۔
مجھے کوئی شوق نہی ہے ایسی آفر کا۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہو گا فکر نا کرو۔۔۔کوئی زبردستی نہی ہے لیکن کم ازکم بات تو تمیز سے کرو اس کے ساتھ تم سے بڑا ہے۔
جی جی امی میں کوشش کروں گی۔۔۔خوشی خوشی ان کے ہاتھ سے کھانے کی ٹرے اٹھائے کچن سے باہر نکل گئی۔
کچھ دیر میں خاور واپس آیا اور گھر میں کیبل،انٹرنیٹ کا کنیکشن بحال کرنے کے بعد اپنے گھر واپس چلا گیا۔
مہک خوشی خوشی واٹس ایپ استعمال کرتی ہوئی کمرے میں آئی اور شیشے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
اچانک سے اس کی نظر شیشے پر پڑی تو خوف سے اس کی چیخ نکل گئی۔۔۔شیشے میں اس کا وجود بلکل حرکت نہی کر رہا تھا بلکہ اس کی نظریں صرف فون پر جمی تھی لیکن حقیقت میں اس کے ہاتھ سے فون گر چکا تھا۔
ایک زور دار چیخ اس کے حلق سے نکلی اور وہی زمین بوس ہو گئی۔
_____________________________________
Hey Bro How are u?
دائم اپنے آفس میں کسی میٹنگ میں مصروف تھا کہ خاور بنا نوک کیے کمرے میں داخل ہوا۔
Hello everyone…
سب کو ہاتھ ہلاتے ہوئے صوفے پر ٹانگ پے ٹانگ جمائے بیٹھ گیا۔
کمرے میں اندھیرا تھا کیونکہ دائم پروجیکٹر پر سب کو کچھ سمجھا رہا تھا لیکن خاور کی اس طرح دخل اندازی پر سخت بدمزہ ہوا اور لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے لائٹ جلا دی۔
Excuse me… There’s an emergency,we will discuss this Topic on another day Thanks to all for coming
آپ لوگ جا سکتے ہیں۔۔۔چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔
سب لوگ خاور کو گھورتے ہوئے افسوس میں سر ہلاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
ان سب کے کمرے سے جاتے ہی دائم نے ٹیبل پے پڑا مارکر اٹھایا اور غصے سے خاور کی طرف اچھالا۔
مارکر سیدھا اس کے گال پے لگا۔۔۔کیا ہوا بھائی؟
کیا ہوا بھائی۔۔دائم نے اس کی بات دہرائی۔
Really?
تمہاری زندگی میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز ہے یا نہی؟
اتنی ضروری میٹنگ چل رہی تھی اور تم دندناتے ہوئے نوک کیے بغیر کمرے میں آ گئے،کیا بدتمیزی تھی یہ؟
Sorry Bro…
مجھے نہی پتہ تھا کہ یہاں کوئی ضروری میٹنگ چل رہی ہے اگر پتہ ہوتا تو میں ویٹ کر لیتا۔۔۔خاور نے لاپرواہی سے جواب دیا اور جیب سے چینگم نکال کر منہ میں رکھی اور ریپر فرش پر پھینکنے ہی والا تھا کہ دائم پر نظر پڑی۔
وہ غصے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔مجبورا اٹھا اور ڈسٹبن میں پھینکتے ہوئے واپس صوفے پر بیٹھ گیا۔
بچے ہو تم؟
ہر بات تمہیں سمجھانی پڑتی ہے۔۔۔میری ایسی کئی میٹینگز برباد کر چکے ہو تم٫آخر مسئلہ کیا ہے تمہارا؟
مسئلہ کوئی نہی ہے بھائی۔۔۔دراصل مجھے ایسے ہی آنے کی عادت ہے لیکن آج تک بابا،چاچو،تایا ابو،ساحل بھائی یا قاسم بھائی کسی نے مجھے نہی روکا سوائے آپ کے۔
عادت سی بن گئی ہے میری اب۔۔۔اپنا ہی آفس اور بزنس ہے تو زرا گھر والی فیلنگ آتی ہے۔
لیکن اب آپ کو اپنی یہ عادت بدلنی ہو گی مسٹر خاور۔۔۔کیونکہ اب اس آفس میں دائم شاہ بھی موجود ہے جسے ڈسپلن اور رولز کی خلاف ورزی کرنے والے سے سخت نفرت ہے پھر چاہے خلاف ورزی کرنے والا کوئی ایمپلائے ہو یا آنر۔۔۔سزا کے حقدار دونوں ہیں۔
آئیندہ زرا سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا کیونکہ پیار سے بہت سمجھا چکا ہوں میں تمہیں۔۔۔آئی سمجھ؟
But I am rules Breaker…
مجھے عادت نہی ہے رولز فالو کرنے کی بھائی لیکن۔۔۔میں کوشش کروں گا خود کو بدلنے کی۔خاور نے بنا کوئی لحاظ رکھے ڈھٹائی سے جواب دیا۔
دائم نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا اور ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا۔
ہممم وعلیکم اسلام۔۔۔اسد اوپر آئیں اور سر خاور کو ساتھ لے کر جائیں اور انہیں کسٹمر ڈیلنگ سکھائیں۔
جی سر۔۔۔دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی۔
تھوڑی ہی دیر میں دروازہ نوک ہوا اور اسد کمرے میں داخل ہوا آئیے سر۔
میں تو گھر جا رہا تھا دائم بھائی۔۔۔آپ تو سیریس ہو گئے کیا ہو گیا ہے آپ کو؟
کچھ نہی تمہیں بدلنے کی ایک چھوٹی سی کوشش،آخر کل کو یہ بزنس تمہیں بھی تو سنبھالنا ہے تو آج سے ٹریننگ شروع۔
دائم نے اطمینان سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
کل سے یونیورسٹی سے واپسی پر سیدھا یہاں آؤ اور تین چار گھنٹے یہاں گزارو۔
لیکن میں یونیورسٹی سے واپس آ کر کھانا کھا کر سو جاتا ہوں اور اس کے بعد جم جاتا ہوں۔۔۔آٹھ نو بج جاتے ہیں واپسی پر اور کبھی کبھی زیادہ دیر بھی ہو جاتی ہے فرینڈز کے ساتھ آوٹنگ ہو جاتی ہے کبھی کبھار۔۔۔خاور نے تسلی سے سارے بہانے ایک ہی سانس میں سنا دیے۔
دائم چلتا ہوا خاور کے پاس آیا اور مسکراتے ہوئے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔ساری زندگی یہی روٹین تو نہی رکھنی ناں۔۔۔کل سے لنچ کر کے سیدھا یہاں آو۔
اسد آپ کی بہت اچھی ٹریننگ کریں گے۔۔۔ہے ناں اسد؟
جی سر بلکل۔۔۔اسد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
اور جہاں تک بات جم کی ہے تو میں بھی یہاں سے واپسی پر ہی جم جاتا ہوں۔
کل سے تم بھی میرے ساتھ چلنا۔۔۔تمہارا ایڈمیشن ہو جائے گا کل لیکن اگر تم کل تین بجے تک یہاں نہ پہنچے تو میں گھر سے لینے آؤں گا تمہیں اور اگر تم نے کوئی ڈرامے بازی کی میرے ساتھ تو ڈبل جم لگواوں گا۔
جاو اور سیکھو کیسے گاڑی سیل کرنی ہے۔
اس کام کے لیے بہت سارے ملازم ہیں یہاں دائم بھائی۔۔۔یہ میرا کام نہی ہے۔
دائم اپنی کرسی کی طرف بڑھنے ہی والا تھا کہ خاور کے جواب پر اس کے قدم رک گئے اور غصے سے اس کی طرف پلٹا۔
جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔مجھے مت سمجھاو تمہارا کیا کام ہے اور کیا نہی۔لے جائیں اسے۔
چلئیے سر۔۔۔اسد نے بہت اطمینان سے اسے چلنے کو کہا تو خاور ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اس کے پیچھے چل دیا۔
فون کی آواز پر دائم میز کی طرف بڑھا اور کرسی پر بیٹھتے ہوئے کال اٹینڈ کی۔قاسم کی کال تھی۔
What?
تم گھر پہنچو یار میں سب سنبھال لوں گا یہاں۔۔۔دائم نے پریشانی سے کال کاٹ دی اور مہک کا نمبر ڈائل کیا۔
مہک کی امی نے فون اٹھایا۔
چچی جان آپ فکر نہی کریں قاسم پہنچ رہا ہے پانچ منٹ میں۔
میری بچی گری پڑی ہے دائم اس کا چہرہ نیلا ہوا پڑا ہے میں کیسے سنبھالوں گی اسے تم بھی آ جاؤ جلدی سے میرے بچے۔
کیا۔۔۔۔چہرہ نیلا پڑ گیا ہے؟
کسی چیز نے تو نہی کاٹ لیا کوئی سانپ وغیرہ؟
آپ فکر نہی کریں میں ابھی آ رہا ہوں۔
کال کاٹتے ہوئے گاڑی کی چابیاں اٹھائے دوڑ لگا دی۔
پارکنگ میں قاسم مل گیا۔۔ شکر ہے تم یہی مل گئے یار مجھے گھر کا نہی پتہ تھا جلدی چلو چچی کہہ رہی ہیں کہ مہک کا چہرہ نیلا ہو رہا ہے۔
بیٹھو جلدی۔۔۔قاسم نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور دائم کے بیٹھتے ہی گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
خدانخواستہ کسی زہریلی چیز نے نہ کاٹ لیا ہو،جلدی گاڑی چلاو یار۔۔۔سوچ سوچ کر ہی دماغ بند ہو رہا ہے میرا۔
ہاں ہاں چلا رہا ہوں یار۔۔۔ایک تو پریشانی میں دماغ بھی کام کرنا بند ہو جاتا ہے۔مجھے کال آئی ہے امی کی اور میں نے تمہیں بتایا ہے باقی کسی کو بھی خبر نہی ہے اس بارے میں۔
مجھے بابا کو تو بتا دینا چاہیے تھا اس بارے میں کم ازکم۔
گھر پہنچتے ہیں دیکھتے ہیں کیا سیچوایشن ہے پھر بتا دیں گے سب کو لیکن ابھی ہمارا خود کو ریلیکس رکھتے ہوئے گھر پہنچنا زیادہ ضروری ہے۔
جاری ہے۔۔
