Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid NovelR50613 Tum Bin Jiya Jaye Kese (Last Episode)
Rate this Novel
Tum Bin Jiya Jaye Kese (Last Episode)
Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid
میرے بغیر غلط پڑھے جاؤ گے!!!
تم سے میرا رشتہ زیر و زبر کا ہے!!!
ریحاب نے وہی جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا جو صارب اسے زبردستی پہنا کے آیا تھا اسکے مطابق وہ اس جوڑے میں وہ اسے سہی سے دیکھ ہی نہیں پایا رابی نے اسے کنجوسی قرار دیا اور احتجاج کو بولا مگر وہ تو بس اسے راضی رکھنے کو خود کو اسکے رنگ میں ڈھال رہی تھی رابی کے کہنے پہ زبردستی بال کھلے رکھے کیونکہ اسکے مطابق آج کا تھیم یہی ہے سو اسے بھی سبکے مطابق دکھنا ہے صارب کا ریکشن دیکھ وہ ڈری ہوئی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس اہم موقعے پہ اسکا موڈ خراب ہو جو اسکے ساتھ تو شازوناز ہی ٹھیک ہوتا تھا اور اسکی امیدوں کے عین مطابق جلد ہی اسکا بلاوا آگیا تھا کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکے موڈ کا اندازہ لگانا چاہا جو سمجھنا مشکل تھا نامحسوس انداز میں اس نے اپنے بالوں کو سمیٹا مگر صارب سے اسکی حرکت پوشیدہ نہیں رہی جب منع کیا تھا تب نہیں سنا اب میرے سامنے اس ڈھونگ کی ضرورت نہیں تیزی سے اسکے ہاتھ جھٹکے تھے وہ مجرموں کی طرح سرجھکا گئی اور بال اک بار پھر بکھر گئے اک اچٹتی نگاہ اسکے سراپے پہ ڈالی اور ہمیشہ کی طرح اسکا دل اسکے سراپے میں اٹکا تھا ٹیبل سے گجرے اٹھائے اسکے پاس آیا ہاتھ اٹھائے پہنانا شروع کیے وہ تو جیسے بے ہوش ہونے کو تھی صارب اور اتنی عنایت اسے اپنی طرف دیکھتا پا مسکرا دیا اتنا ہٹلر بھی نہیں جتنا تم نے سمجھ رکھا ہے اسکے ہاتھوں پہ لب رکھے گویا ان گجروں کا خراج پیش کیا ریحاب کا بلش ہوتا چہرہ دیکھ وہ مزید اسے اپنے قریب کرگیا ہم۔کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی کیا ہی اچھا ہوجو آپ ہمیں آج کے دن ہوش میں رہنے دیں دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ لیے اسکے گلابی گالوں پہ بائٹ کی اور اپنی شدتوں کا نشان چھوڑ دیا وہ پیچھے ہٹی اور اس بار صارب نے کوئی تحکم دیے بغیر اسے چھوڑ دیا وہ اتنی جلدی جان خلاصی پہ حیران ہوتی اسکے کپڑے نکالنے لگی تبھی رابی نے اندر آتے اسکی باہر ہوتی ڈیمانڈ کا بتایا “بھائی میری بیوی کو تو تم لوگ کام کروا کروا گھولتے جارہے تھوڑا بہت ہمارے لیے بھی رکھ چھوڑو شرارت سے کہتے رابی کو آنکھ ماری ریحاب جسکو اپنے دن بدن بڑھتے ویٹ سے ٹینشن ہورہی تھی صاف لگ رہا تھا کہ وہ گھولنے پہ مزاق ہی کررہا اسے تو کچھ نہیں کہہ سکی البتہ رابی کو ضرور گھوری سے نوازا وہ سریس ہونے کی ایکٹنگ کرتی باہر کو روانہ ہوگئی آئینے میں خود کو دیکھا صارب کا ابھی کا دیا نشان واضع تھا بالوں کو آگے کرتے چھپانے کی کوشش کی مگر نہیں اسے صارب پہ غصہ آیا لازم تھا کہ وہ اسکی محبتوں کا اشتہار بن کے پھرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔






رسم کے دوران مشعل نے اسے پکارا ریحاب بھابی آپ بھی آجائیں سات سہاگنہیں مل کے یہ رسم کرتیں وہ تو سرشاری کی کیفیت میں گم۔ہوئی تھی صارب یہ منظر دیکھ کے مسکرایا تھا بیشک اسکی بہن نے اسکی باتوں کی لاج رکھ لی تھی منت اپنے جسم کو بےڈول انداز میں دیکھ پریشان ہورہی تھی آتے ہوے ارحم کی طرف سے ڈاکٹر سے بھی زیادہ انسٹریکشنز ملی تھیں زیادہ بھیڑ میں نہیں جانا کسی سے ٹکرانا نہیں بلا بلا اک لمحے اس نے صاف کہہ دیا ارحم اگر اتنا آپ کو ڈر میں جاتی ہی نہیں “آہاں اس سے بڑھ کے اور کیا بات ہوگی پتا ہے من جب تم پیاری لگ رہی میرا دل ویسے ہی نہیں کرتا تمہیں باہر لے جانے کو” منت اسکا اتنا پوزیسیو انداز دیکھ پرہشان ہی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور اب عورتوں کا ہجوم دیکھ وہ واقعی پریشان ہوگئی تھی ریحاب نے اسکی سچویشن دیکھ اسے اک سائیڈ پہ بٹھاتی خود بھی اسے کمپنی دینے بیٹھ گئی اسے اچھا لگ رہا تھا منت سے اسکے آنے والے مہمان کے بارے میں باتیں کرنا ۔۔۔
فنکشن کا اختتام بخیرو عافیت ہوچکا تھا سب اپنی اپنی تھکن اتارنے کمروں میں گھس گئے جبکہ ینگ پارٹی ویسے ہی لان میں محفل جمائے بیٹھی تھی زہرہ کو مہندی لگانے والی لڑکی جب جانے لگی زریں نے ریحاب کو اسکے سامنے پکڑ کے بیٹھا دیا اس نے تو اپنی شادی پہ بامشکل زویا کے کہنے پہ اک ادھ بیل بنوائی جبکہ زریں کی فرمائش سن وہ پریشان ہو اٹھی چاروناچار بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔
چلو بچوں ایک گیم ہوجائے ٹرتھ اینڈ ڈئیر رابی سبکی ہیڈ بنے لگی تھی زہرہ بھی انہی کے درمیان بیٹھی انجوائے کررہی تھی صارب عین موقع پہ آیا تھا نظر مہندی لگواتی گم صم بیٹھی ریحاب پہ پڑی اپنے نام کی پکار اور انکی بات پہ فوراً معزرت کی مگر اسکو زبردستی ٹیم میں شامل کردیا گیا تھا موبائل کو مائیک کے انداز میں پکڑے وہ شروع تھی سونگ اور پوئٹری سب چلے گا یار اس نے حاضرین کو تسلی دی مشعل نے کہیں سے بوتل برآمد کی اور سب دائرہ بنائے بیٹھے تھے پہلے تین بندوں کو اس بات کی ریلکسیشن ہے کے وہ صرف اپنے پارٹنر کو پوئٹری ڈیڈکیٹ کریں گے اک اور احسان ۔۔
پہلی بار ہی حیدر کی آئی تھی اس نے اتنی جلدی جان خلاصی پر شکرادا کیا
ہوا میں سکہ اچھالا نہیں کبھی ہم نے
تمہاری بات کو ٹالا نہیں کبھی ہم نے۔۔۔۔۔
حیدر نے عظیم شاعر بنتے مشعل کی طرف دیکھتے شروع ہوا تھا مشعل نےاسے آنکھیں دکھائیں ابھی آج ہی تو وہ اسے ڈیزائنر ڈریس دلانے سے انکار کر چکا تھا۔۔۔۔۔
سب نے تالیاں بجا کے اس کی ہمت بندھائی تھی۔۔۔۔۔
دوسری ٹرن پہ بوتل منیب جو انکا کزن تھا اس پہ ٹہری۔۔۔
تو میرے پاس آدھا بھی نہیں ہے۔۔۔۔
میں تیرے پاس سارا آ گیا تھا
منیب (پھوپو کا بیٹا) نے دوسری طرف سے حساب برابر کیا تھا یقیناً اسکا شعر اپنی خالہ زاد کزن کیلئے تھا جو اسکی فیانسی تھی۔۔۔۔
اب رابی کی باری تھی اسکا تو کوئی پارٹنر ہی نہیں تھا پھر بھی اس نے اپنی ہانکی۔۔۔۔۔
جب پکاروں گا لوٹ آئے گا۔۔
ہائے مجھ کو میرا یقین مار گیا
رابی نے ہوا میں تیر چلایا سب نے اسے گھورا تھا کیا کیا بھائی شعر ہے یہ بھائی میرے پاس تو ایسے ہی ہیں میں کوئی اردو فلاسفر تھوڑی ہوں خود خود ہی ایکسپلنیشن دی تھی۔۔۔۔۔
اب گیم کا سیکنڈ راؤنڈ شروع ہوچکا تھا جیسے ہی ٹرن ریحاب پہ رکی اس نے سہمے بچے کی طرح رابی کو دیکھا اسے کم ازکم اس سے کوئی اچھی امیدیں نہیں تھیں۔۔۔۔۔
چلو بھئی جلدی جلدی ٹرتھ یا ڈئیر سیلکٹ کریں اک نظر صارب پہ ڈالی اس نے بھی ایسے شانے اچکائے آپکا مسئلہ آپ جانو ۔۔۔۔۔۔
ٹرتھ کیونکہ اسکو انکے ڈئیر کا کوئی اندازہ نہیں تھا ۔۔۔۔
آہاں اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے شرارتی نظروں سے اسے دیکضتی رابی بولی جبھی مشعل نے کہا ریحاب سے سوال وہ کرے گی اب کے علی اور صارب کے اردگرد بھی خطرے کی گھنٹی بجی تھی کیا وہ ان دونوں کی ذاتی عناد سے ناواقف تھوڑی تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ یہ بتائیں آپکو صارب بھائی سے محبت کب ہوئی ریحاب کا دل اسکے سوال پہ اتنا زور سے دھڑکا جیسے ابھی پسلیاں توڑے باہر آجائے گا ۔۔۔
باقی سب اب دلچسپی سے اسے دیکھنے لگے اس بات کا اقرار تو وہ آج تک اس سے نہیں کرپائی تھی۔۔۔۔۔
جلدی کریں ورنہ ٹائم اپ ہونے پہ ڈئیر پڑ جائے گا وہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا رابی نے اسے ڈرایا ۔۔۔۔۔۔
جب پہلی بار دیکھا تھا مدھم آواز میں اقرار ہوا تھا اب شکر تھا کہ کسی نے پہلی بار کا نہیں پوچھا یقیناً ٹی۔وی شو میں ہی دیکھا ہوگا اور صارب اس سے پہلی ملاقات یاد کرکے مسکرا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشعل پہ بھی ٹرتھ پڑا تھا علی بھائی کی کوئی سپیشلٹی بتاؤ اسکی کزن جو علی کی گریس فل پرسنیلٹی سے متاثر نظر آرہی تھی اسکے سوال پہ مشعل نے بنا کسی توقف جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
انکی سپیشلٹی یہی کافی ہے میرے لیے ہی ٹریلی لوز می۔۔۔۔
آنکھوں میں اسکی محبت کے دہپ جل اٹھے تھے صارپ نے ڈئیر سیلکٹ کیا اور اسکا ڈئیر ریحاب کے گلے میں اٹکا تھا ۔۔۔
آپ۔ریحاب بھابی کو اٹھائے انکیلئے گانا گائیں گے وہ جانتا تھا اسکیلئے سب گانا سلیکٹ کریں گے مگر یہ کنڈیشن مگر ریحاب کو ژچ کرنے کو یہ بھی کافی تھا۔۔۔۔۔
اسے اک ہاتھ سے قریب کیے وہ گھماتے گانا شروع کرچکا تھا اور ایسے ہی اپنے بازو میں اٹھایا وہ بے بسی سے اپنے ہاتھ دیکھنے لگی نہیں تو ضرور بھاگنے کی کوشش کرتی ۔۔۔
تیری بانہوں میں ملی ایسی راحت سی مجھے
ہوگئی جان جہاں تیری عادت سی مجھے
دیکھوں میں جب تجھکو تو تب میرا دن یہ ڈھلے
دیوانہ کررہا رہا تیرا روپ سنہرا
مسلسل ڈھل رہا ہے مجھکو اب یہ صحرا
بتا اب جائیں تو جائیں کہاں
اور سب کے سامنے ہی وہ اسکی پیشانی پہ لب رکھ گیا تھا بےخودی کا یہ احساس صارب کو خود بھی نہیں ہوا تھا ریحاب تو اسکی اتنی ڈھٹائی پہ لال ٹماٹر بن گئی تھی سب کی ہوٹنگ جاری تھی صارب کو تو جیسے کسی چیز کا فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔
سب اسکو ونس مور ونس مور بول رہے تھے جبکہ وہ لال ہوتا چہرہ لیے وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔۔۔
اوہو واہ بھائی صارب فلمی سین کریٹ کردیا اپنے کزن کی بات پہ وہ بھی ہوش میں آیا تھا واقعی وہ کچھ زیادہ ہی کرگیا تھا رابی نے محفل کے ختم ہونے کا اندیہ دیا تو وہ بھی اسکے پیچھے روم میں آیا تھا۔۔۔۔۔
جہاں وہ ابھی تک بیڈ پہ بیٹھی اپنی سانس ہموار کررہی تھی صارب کو اسکا بلش کرتا چہرہ مزید شرارتوں پہ اکسا رہا تھا اس پہ دونوں ہاتھوں پہ۔لگی مہندی وہ مکمل اس کے بس میں آچکی تھی ۔۔۔
ہنمم تو ریحاب علوی کو صارب رحمن سے پہلی نظر میں پیار ہوگیا تھا اور وہ پچھتائی اس لمحے کو جب اسکی زبان نے اقرار کیا تھا مگر اب زبان سے نکلی بات واپس نہیں آسکتی تھی اسکے بال لہراتے آنکھوں کے کونے میں چبھ رہے تھے جبھی صارب نے اسکی مشکل آسان کرتے اسکے بالوں کے کو ربن کیا اورا سکی گود میں سر رکھے بغور اسکی لزرتی پلکوں کو دیکھا ۔۔۔
یہ حادثات نہ سمجھیں ابھی کہ پست ہوں میں
شکست کھا کے بھی ناقابل شکست ہوں میں ۔۔۔
اک ترنم۔میں شعر پڑھا تھا جانتی ہو ریحاب لوگ میرے الفاظ کیوں پسند کرتے ہیں
میں لفظوں میں پیار لکھتا ہوں، تمھارا عکس بھرتا ہوں، احساس پروتا ہوں ۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں اپنے لیے ابھرتی نرمی دیکھ اسکے پلکوں کے گوشے بھیگے تھے صارب نے اسے اپنی طرف
جھکاتے آنکھوں کی نمی کو سمیٹا ۔۔۔
جانتی ہو جب تمہارے مرنے کی جھوٹی خبر سنی تو اپنی ہستی سمیت ہل گیا تھا تب مجھے ادراک ہوا وہ لڑتی جھگڑتی ریحاب تو میرے دل کو تسخیر کرچکی ہے میں صارب رحمٰن جو دنیا کو اپنے قدموں کی دھول سمجھتا تھا اک لڑکی کے کھونے کےڈر سے ہار گیا مجھے میرے دل نے بری طرح ہرا دیا مجھے بھی یہ دنیا اس لڑکی کے بنا خالی لگ رہی تھی لیکن سیلمان نے جب بتایا کہ تم۔علی پاس ملائیشیاء ہو میں کتنا تمہہارے لیے بھٹکا میں جانتا تھا کچھ ہوجائے ریحاب علوی میرا کوئی شو مس نہیں کرسکتی اور میں نے بارہا اسے اپنے ارگرد محسوس کیا تھا مگر اس بات سے انجان تھا کہ وہ پیار کرنے والی لڑکی مجھ سے بدگمان ہوچکی ہے وہ میرے ہر کنسرٹ میں شریک ہوتی پر میری محبت میں نہیں نفرت میں اس چیز نے مجھے توڑ دیا ریحاب اور مشعل کے ساتھ جو ہوا میرا دل کرتا تھا میں تمہارا مرڈر کردوں مگر میں میری محبت میری نفرت پہ غالب آگئی اور تمہارا بدلہ ہوا روپ ۔۔۔
شاہد علوی کی اس خاندان کیلئے نفرت اور سندس علوی کے بارے جان کے میں بھی سوچ میں پڑ گیا کہ تمہیں اس رشتے کی زنجیر سے آزاد کردوں مگر چاہ کے بھی میں ایسا نہیں کرپایا اور میں نے تمہیں آزمانے کا فیصلہ کیا تمہاری برداشت کا امتحان لینے لگا مگر تم نے ہر جگہ صارب رحمٰن کو ہرا دیا تم نےاس دل کے ساتھ ساتھ صارب رحمن کی ہستی پہ بھی قبضہ کرلیا ۔۔۔۔
ریحاب کی آنکھیں اسکی محبت پہ پھر سے نم۔ ہوئی تھیں اک آنسو صارب کے چہرے پہ گرا تو وہ اٹھ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
اک تو تم روتی بہت ہو ریحاب جب دیکھو ندی چھلکنے کوتیار صارب نے کہتے ساتھ اک لطیف سی شرارت کرڈالی وہ رونا بھول کے اسے گھورنے لگ گئی۔۔۔۔
ویسے لڑکی تمہیں شرم نہیں ّآئی اپنے شوہر کے ساتھ کنگ فو کرتے کم ازکم بندہ شوہر کا لحاظ رکھ لیتا ہے صارب کا شکوہ سن وہ ہنسی پڑی صارب اسکی ہنسی کی چھنکار پہ فدا ہوا تھا “بابا کو شوق تھا کہ میں سیلمان بھیا اور علی کے ساتھ کراٹے کلب جایا کروں اور تبھی کی ٹرینگ کام آگئی مگر میں تمہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتی تھی صارب ہمیں وہ ٹریکر انجکٹ کرنے بعد اسکے سائیڈ ا
فیکٹس پتا چلے ہر بار یہی کوشش تھی کہ اسے ریموو کرسکیں مگر برا ہو قسمت کا ہر بار دغا کرجاتی ۔۔۔
اپنے جرم۔کا اعتراف کرتے وہ سرجھکا گئی صارب اسے بازو کے گھیرے میں لیتا چوم گیا “رئیلی سوری فار ایچ اینڈا یوری تھنگ دیٹ ائی ہوڈن” صارب نے اسکے لبوں پہ انگلی رکھتے مزید کچھ بولنے سے منع کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحاب اس نفرت اور محبت کی جنگ میں سوائے خسارے کے ہمیں کچھ ہاتھ نہیں آیا مگر مجھے اس بات پہ یقین ہے کہ ہماری آنے والی زندگی کو تم کسی غلط د
فہمی کی نظر نہیں کروگی کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اک بار مجھے ضرور بتانا تم۔ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی صارب کا یقین دلاتا انداز اسے سرشار کر گیا تھا بیشک اس نے نفرتوں کے سمندر سے خود کو راہراست پہ۔لایا تھا ۔۔
کچھ یاد آتے ریحاب پھر سے صارب کی جانب متوجہ ہوئی اور وہ کیا تھا جو مجھے بھیا کے ہرفنکشن پہ بلک میل کیا صارب اسکا انداز دیکھ ڈرنے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔۔۔۔
وہ یار ڈر تھا کہ تم اتنی پیاری لگ رہی ہو کہیں کوئی اور چرا کے نا لے جائے تمہیں ریحاب کو اسکی بات پہ زرا یقین نہیں آیا تھا ۔۔۔
اور وہ کنسرٹ پہ لے جا کے اس لمبی چڑیل کیلئے گانا ریحاب کو پھر اپنے درد یاد آئے۔ ۔۔۔۔
اگر تمہیں یاد ہو تو میری لائف پارٹنر تم۔تھی وہ تو میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ آگ یہاں لگی دھواں کہاں سے اٹھتا اسکی شرارت سمجھ ریحاب نے منہ دوسری طرف کرلیا صارب نے اسے اپنے مکمل حصار میں لیتے اپنی حدتوں سے آگاہ کرنا لازمی سمجھا وہ بے بس انداز میں اپنے ہاتھ دیکھنے لگی صارب چھوڑیں مجھے ہاتھ دھونے ہیں ۔۔
آہاں پھر یہ جنگلی بلی میرے ہاتھ کہاں آنی ہے ۔۔۔
ٹھیک ہے پھر یہ ساری میں آپکے لگادوں اسکی طرف سے کھلی دھمکی تھی مگر صارب نے بنا پرواہ کیے اسے اپنی محبتوں کہ بارش میں بھگو دیا آج اسکے انداز میں کوئی جنون نہیں بلکہ محبت ہی محبت تھی جو ریحاب کو کسی کانچ کی گڑیا کی مانند سنبھال رہا تھا۔۔۔۔۔






اگلے دن کی صبح بہت روشن تھی جہاں مشعل علی کو معاف کیے اپنی زندگی سہل بنا چکی تھی وہیں اس نے سبکے سامنے ریحاب کو بھی معاف کردیا تھا سیلمان اور زویا نے انہیں اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ جلد ہی شاہد علوی اپنے کروفر سے باہر آکے انہیں معاف کردیں گے کیونکہ وہ بظاہر کسی پہ شو نہیں کرتے تھے مگر اندر ہی اندر علی اور ریحاب کو لے کے بے چین رہتے تھے۔۔۔۔
رحمان صاحب نے زویا کو اپنی بیٹی ہونے کا مان دیا تو وہ بھی سب بھلائے اپنے باپ کی شفقت کے سائے میں آگئی تھی صارب ،زہرہ،مشعل اور رابی بھی زویا کو بہن جیسی عزت دینے کو تیار تھے رابی کو ریحاب سے گلہ تھا کیا ہوجا تا اگر اسکے تین بھائی ہوتے کم از کم تیں بہنیں اک جگہ ہوجاتیں اچھے وقت میں منہ دعا نکالنی تھی دو بولا تھا نا اب دو بہنیں ہی کافی ہیں اللّٰہ کے ساتھ جگاڑ بازی کی کوشش نہ کرو ریحاب کی بات پہ سب ہنسے تھے ۔۔۔۔۔
زہرہ کو رمیز لالہ کے پہلو میں دیکھ منت کی خوشی نہیں سمارہی تھی ارحم ہر پل بابا جی کے شکر گزار تھے جنکی راہنمائی میں وہ بروقت سنبھل گیا تھا اور من کو وہ عزت اور محبت دیے جیت گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جو کام وہ نفرت اور زور زبردستی سے کرنا چاہتا تھا خود کو بدل کے وہ اسکے سامنے سرخرو ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحاب زینب کی مشکور تھی جس نے اسے بدگمانی کے سفر سے نکال سیدھے راہ پہ چلایا تھا اسے یقین تھا کہ وہ جلد ہی صارب کو بھی اس راہ سے ہٹا دے گی جہاں پہ دلوں پہ مہر ثبت ہوتے جنت سے بےدخل ہونے کا امکان تھا۔۔۔۔۔
آج بھی سندس علوی تنہا گوشے میں ٹہریں حسرت بھری نگاہوں سے اس مکمل فیملی کو دیکھ رہی تھی جہاں سب زہرہ اور رمیز کے ساتھ کھڑے تھے سیلمان زویا ،علی مشعل ،ریحاب اور صارب زریں اور رحمان بیگم سب اک ساتھ تھے وہ اپنی ناجائز خواہشات کے پیچھے اپنی اولاد اور گھر کو چھوڑ کے خالی ہاتھ رہ گئی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
زہرہ کی رخصتی کے بعد سے کونے میں چھپ چھپ کے روتی وہ مسلسل کسی کی نظروں کے حصار میں تھی ۔۔۔
خود پہ کنٹرول کرتی وہ باقی لوگوں کی طرف بڑھی جب وہ جان بوجھ کےا س سے ٹکرایا تھا ۔۔۔۔۔
رابی توازن برقرار نہ رکھتے ہائی ہیل وجہ سے گرنے کوتھی جبھی ڈاکٹر شاہزیب نے اسے تھاما تھا وہ آنکھیں بند کیے کلمہ پڑھنے۔لگی اسے یقین تھا کہ اس حادثے بعد اسکی اک ادھ ہڈی تو ٹوٹی ہی ٹوٹی مگر یہ کیا نہ وہ زمین کے اوپر تھی نہ نیچے پھر کہاں تھی ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں سامنے موجود شخصیت کو دیکھ وہ چونکی آسے محسوس ہوا وہ شخص اسے اٹھائے ہوئے ۔۔۔
ہاؤ ڈیر یو چھوڑو مجھے رابی چیخی تھی اس پہ جبکہ وہ اسے شاؤٹ ہوتا دیکھ ماتھے پہ ناگواری سے بل۔لایا تھا۔۔۔۔
اگر چھوڑ دیا تو انجام کی زمدار آپ خود ہونگی وہ یقیناً باراتیوں میں ہی شامل تھا اپنی طرف کے سب لوگوں کو وہ جانتی تھی۔۔۔۔۔
چھوڑو مجھے لوفر کہیں لڑکی دیکھی نہیں اور فلرٹ بازی شروع زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا گر جاتی مر تو نا جاتی رابی کو اسکی براؤن گہری آنکھیں دیکھ خواہ مخواہ غصہ چڑھا ۔۔۔
اوکے ایز یو وش بنا اسے کچھ سمجھنے کا موقع دیے نیچے گرا دیا تھا رابی حیرت سے اس شخص کو دیکھنے لگی جو اسے واقعی گرائے بے نیازی سے آنکھوں پہ گاگلز لگائے آگے کو بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
تم اک بار مجھے پھر ملو دیکھنا تمہارا حشر کیا کرتی میں اور جلد ہی قسمت ان دونوں کو ہمیشہ کیلئے ملوانے والی تھی۔۔۔۔۔۔
***The End***
