Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 08)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

کوئی لمحہ ہو رہائ کا

کوئی دنیا تیرے سوا بھی ہو ۔۔۔۔۔

زندگی بے معنی اور بے مقصد ہوکے رہ گئی تھی۔۔۔۔

ارحم۔مصطفٰی کا دل کرتا تو آجاتا نہیں تو دو دو تین دن بھی گھر سے گم رہتا ۔۔۔۔

منت نے اسکے آنے جانے کی کوئی ٹائمنگ نوٹ نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں بیٹھی نماز ادا کررہی تھی جب باہر سے اٹھتے شور نے اسکی توجہ کھینچی تھی۔۔۔۔

چھوٹی سائیں نوراں کی روتی آواز پہ اس نے جلدی سے نماز مکمل کی کیا ہوا مائی کس چیز کا شور ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ جو چھوٹے سائیں کا ملکوں کے ساتھ جھگڑا ہوگیا ہے وہ جی ۔۔۔۔

نوراں نے ہاتھ مروڑتے اس سے نظریں چرائی تھیں۔۔۔۔

کیا ہوا مائی مجھے پوری بات بتائیں کیوں جھگڑا ہوا ہے منت نے اسکا ٹالنے والا انداز بخوبی دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ جی چھوٹے سائیں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کے انکی کوئی لڑکی اٹھائی ہے تبھی۔۔۔۔۔

اور منت کا دل بے اختیار کسی نے مٹھی میں لیا تھا۔۔۔۔۔

کیا دنیا میں یہی اک آخری شخص تھا میرے لیے میرے مالک بے ساختہ شکوہ اسکے دل سے نکلا تھا۔۔۔۔۔

تبھی دھڑام سے دروازہ کھلا تھا اور ارحم۔مصطفٰی پھٹی آستینیں اور گربیان لیے کمرے میں داخل ہوا تھا اور پیچھے سے تایا سائیں اور روتی بلکتی تائی سائیں بھی ساتھ تھی۔۔۔۔۔

یہی دن دیکھنے کیلئے پیدا کرتے ہیں لوگ اولاد منتیں مانگتی پھر رہی تھی اس بیٹے کیلئے جسے پیدا ہوتے ہی مرجانا چاہیے تھے ۔۔۔۔

غصے میں کہتے تایا سائیں نے اسے اک اور تھپڑ مارا تھا جبکہ وہ ڈھیٹ بنا منت کو گھورنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

کیوں دیکھ رہی ہو مجھے دفع ہو جاؤ یہاں سے اگے بڑھ کے منت کو روم سے نکالنے لگا تھا جب چوہدری مصطفی نے آگے بڑھ کے اسے روکا تھا یہ کہیں نہیں جائے گی اسے بھی اپنے شوہر کے کرتوت پتا ہوں۔۔۔۔۔

اسکا بازو چھڑواتے ارحم کو جھٹکا تھا جب کے وہ مزید سیخ پا ہوا تھا بابا سائیں اسے روم سے نکالیں ورنہ میں اسکی۔جان لے لوں گا اک بار پھر پھبرتا اسکی طرف آیا تھا۔۔۔۔۔۔

نوراں تم منت بیبی کو میرے کمرے میں لے جاؤ تائی نے بڑھ کے اسے اپنے حصار میں لیا تھا جبکہ اس سارے قصے سے انجان وہ۔اپنا قصور ڈھونڈنے لگی تھی۔۔۔۔ ۔ ۔۔

تایا اور ارحم۔کی۔آوازیں پورے گھر میں گونج رہی تھیں۔۔۔۔۔

اور کچھ دیر بعد ہر طرف گہری خاموشی چھا گئی تھی اس نے ڈرتے ہوے باہر قدم۔نکالا تایا جان شاید مردان خانے واپس چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔

جبکہ تائی ارحم کو سمجھانے بجھانے میں لگی تھیں۔۔۔

منت کو مناسب نہیں لگا ان ماں بیٹے کے درمیان جانا وہ نوراں کے ساتھ دوپہر کےکھانے کا جائزہ لینے لگی تھی جبھی تائی ماں نے اسے کمرے میں بلوا بھیجا تھا۔۔۔۔۔

جی تائی سائیں آپ نے بلوایا ۔۔۔

ہاں بیٹھو تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔

منت میں دیکھ رہی ہوں کہ تم دونوں میں کچھ بھی میاں بیوی والا نہیں ارحم کیا کررہا کیا نہیں تمہیں زرا بھی اس چیز کی پرواہ نہیں ہے۔۔۔۔۔

دیکھو بیٹا تم چاہو تو اسے سدھار سکتی ہو وہ دل کا برا نہیں ہے جزباتی تو بچپن سے تھا مگر بری صحبت میں پڑ کے اب مزید بگڑ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔

ہمارا خیال تھا کہ شادی کے بعد وہ سدھر جائے گا مگر۔ ۔ ۔۔

واہ کیا اعلٰی سوچ پائی ہے اپنی بگڑی اولاد کو سدھارنے کیلئے تجربے کرنے کیلئے ملی بھی آپکو منت تھی تائی سائیں مگر وہ بے زبان صرف سوچ سکتی تھی بولنے کا اختیار دیا کس نے تھا۔۔۔۔۔۔

اپنے اندر اٹھتے سوالوں کے طوفان کو دباتے اس نے کہا بھی تو صرف اتنا۔۔۔۔۔

جی تائی سائیں آئیندہ سے کوشش کرونگی۔۔۔

کوشش نہیں منت تمہیں ہر حال میں ارحم کو سنبھالنا ہوگا۔۔۔۔

اور یہ کیا تائی تائی کی رٹ لگائی پھرتی ہو آئیندہ سے تم بھی مجھے ارحم کی طرح امں سائیں بولا کرو تحکم بھری آواز وہ صرف اثبات میں سر ہلا کے رہ گئی تھی۔۔۔۔۔

جاؤ اب اپنے کمرے میں کچھ کہے تو تھوڑا غصہ برداشت کر لینا سر کا سائیں ہے پتر وہ ہم عورتوں کو ہی تو سہنا پڑتا ہے۔۔۔

اور اب سے سونی کلائیاں بھی نظر نہ آئیں اک اور حکم صادر ہوا تھا وہ سر ہلاتی باہر آگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

کمرے میں داخل ہوئی ارحم کو بے ترتیب انداز میں لیٹے دیکھ اسکا دل اک دم اچاٹ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔

کراسنگ ڈور پار کرتی وہ چھت پہ آگئی تھی۔۔۔۔۔۔

گھٹنوں میں سر دیے تائی ماں کی باتوں پہ غور کرنے لگی تھی۔۔۔۔

کیا یہ دنیا کا عجیب نظام نہیں ہے کہ اپنا بیٹا چاہے کتنی اوباش فطرت کا ہی کیوں نہ ہو جان بوجھ کے کسی دوسرے کی بیٹی کی زندگی سے کھیلنا۔۔۔۔۔۔

اپنے انوکھے لاڈلے کو کھیلنے کیلئے جیتی جاگتی گڑیا لا دینا۔۔۔۔۔

اگر میں نے ارحم۔کی طرف پیش قدمی نہیں کی تو اس نے کونسا آگے بڑھ کے میرا ہاتھ تھاما۔۔۔۔۔۔

میں کیسے ایسے شخص کو سدھار سکتی ہوں جو اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے بھی دوسری عورتوں کی طرف راغب ہو۔۔۔۔۔۔۔

میں کوئی ایکسپریمنٹل چیز ہوں جو تائی ماں کو لگتا میرے آنے سے انکا بیٹا ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔

قصور سارا انکا بھی تو نہیں بابا سائیں نے جان بوجھ کے مجھے اس جہنم میں پھینکا ۔۔۔۔

میرے مالک تو ہی کوئی راہ روشن کردے خاموش بہتے آنسوؤں سے اسکی ہچکی بندھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

نجانے رات کا کونسا پہر تھا جب اردگرد پھیلے سناٹے سے وہ سہمتی واپس کمرے میں آئی تھی ارحم۔ابھی بھی اسی حالت میں پڑا تھا۔۔۔۔۔۔

سرخی مائل سر سفید رنگت پہ گھنی موچھیں اسکی خوبصورتی میں جچ سی رہی تھیں اگر یہ اچھا انسان ہوتا تو شاید کوئی بھی لڑکی اسکی ہمراہی پہ فخر محسوس کرتی پر کیا وہ لڑکی منت خیام ہوسکتی تھی۔۔۔۔۔

اک میٹھے سے درد نے اسکے اندر انگڑائی لی تھی۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

‏حرف در حرف ، مرے دل میں اُترتا آیا

مجھ سے پہلے مرے اِلہام نے دیکھا اُس کو

آنسو تھے کہ بے اختیار چلے آرہے تھے تبھی موبائل کی بجتی بپ نے اسے متوجہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

سوری مس مشعل فار ہارش بے ہیو کن آئی کال یو بیک۔۔۔۔

مشعل نے دیدے پھاڑے باربار اسکا مسیج پڑھا اور خود ہی۔کال ملا لی تھی۔۔۔۔۔۔

سوری سر مجھے وقت کا خیال رکھنا چاہیے تھا مگر میں کادی ٹینس ہوگئی تھی تو سمجھ نہیں آیا کیا کروں ۔۔۔۔

انجانے میں اپنی بے اختیاری اسکے سامنے بیان کرگئی تھی۔۔۔۔

اٹس اوکے آئیندہ سے دھیان رکھیے گا۔۔۔۔۔

کچھ دیر مزید ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے کال بند کردی تھی۔۔۔۔۔

مشعل کی نیند تو گم گئی تھی نجانے کونسے خیالات میں ڈوبی رات کے پہر گزار گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

صبح اٹھتے ہی اس نے سر حیدر کو مورنگ گریٹنگز بھیجی تھیں اور یہ اسکا معمول بن گیا تھا حیدر کِبھی اسے رسپونس دے دیتا اور کبھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

ایسے ہی کالج اوپن ہوگئے اور مشعل حیدر کے قریب ہوتی گئی اسکی شخصیت کا سحر ہی ایسا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دومہینے کیسے پر لگا کے اڑ گئے پتا ہی نہیں چلا تھا۔۔۔۔۔۔

آج کالج کیوں نہیں آئے آپ لاڈ سے کہتے مشعل نے اپنی خفگی اس پہ ظاہر کی تھی۔۔۔۔۔۔۔

مس کیا مجھے حیدر نے اک جزب کے عالم۔میں اس سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔

جی بہت زیادہ حیدر ۔۔۔

کب بے تکلفی میں وہ آپ جناب اور سر کے تکلفات سے آزاد ہوئے تھے انہیں پتا ہی نہیں چلا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ہننم فلو ہے اور طبیعت بھی ناساز تھی تھوڑی۔۔۔۔۔۔

حیدر کی آواز سے لگ بھی رہا تھا کہ وہ بیمار ہے ۔۔۔۔۔۔

میں آجاؤں آپکے پاس تفکر بھرا انداز مشعل کی تڑپ کو ظاہر کررہا تھا۔۔۔۔۔۔

نہیں مناسب نہیں لگتا تمہیں پتا میں گھر اکیلا ہوتا تو حیدر نے اسے صاف انکار کیا تھا وہ رشتوں میں حدود قیود رکھنے کا عادی انسان تھا۔۔۔۔۔۔۔

پھر تو مجھے ضرور آنا چاہیئے آپکی کئیر کرنے کیلئے بھی تو کسی کا آپکے پاس ہونا ضروری ہے مشعل نے دوٹوک انداز اپنایا تھا ۔۔۔۔۔۔

مگر مشعل اس نے جیسے اسکی فکر کے آگے ہتھیار ڈالے تھے ۔۔۔۔۔

اگر مگر کچھ نہیں میں گھر سے نکلنے لگی ہوں آپ مجھے ایڈرس بھیجیں۔۔۔۔۔۔۔۔

زریں بیگم۔کو دوست کے گھر کمبائن سٹڈی کا بولتے سیکنڈز میں فیصلہ کرتی وہ گھر کی دہلیز پار کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤

یہاں پر ہم۔آپکو آگاہ کرتے چلیں علوی گروپ آف انڈسٹیز کی اکلوتی بیٹی ریحاب علوی کی کار ایکسیڈینٹ میں جانبحق ہوگئ ہیں۔۔۔

تفصیلات کے مطابق اک شدید روڈ ایکسڈینٹ میں یہ واقع پیش آیا نظرین۔۔۔۔۔۔۔۔

نیوز کاسٹر کی آواز صارب کی سماعتوں پہ زہر بن کے اتری تھی نہ نہیں ریحاب ایسے نہیں ہو سکتا اسکی آنکھوں کے آگے پل پل چیلنج کرتی ریحاب گھومی تھی۔۔۔۔۔۔۔

او مسٹر آنکھیں ادھار رکھ کے آئے ہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔

صارب نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں ان جملوں کی بازگشت نے ادے کانوں پہ۔ہاتھ رکھنے پہ مجبور کیا تھا۔۔۔

جن لوگوں کے پاس آنکھیں نہ ہوں ان سے سیمپتھی کی جاسکتی ہے قیمتیں وصول نہیں۔۔۔۔۔۔

کانوں پہ ہاتھ رکھنے کے باوجود اک بازگشت گونجی تھی۔۔۔

ڈیم فول وچ۔۔۔۔

اپنی آواز اسے کسی گہرائی سے محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔

میرا نام ہے ریحاب ملک ۔۔۔۔۔۔۔

،بھیا اپنے دوست سے کہیں یہ ہاؤس نمبر تھرٹیں ہے۔۔۔۔۔

ششش۔۔۔۔سانپ کی پھنکار

فاروقی نے ریحاب میڈم کی تصویریں ایڈٹ کی ہیں۔۔

جونئیر ایڈیٹر کی بازگشت۔۔۔

ریحاب گھر چھوڑ کے چلی گئی صارب ہم نے اس کا یقین توڑا ہے۔۔۔

سیلمان کی آواز۔۔۔۔۔۔۔

لیٹر ایشو کا تم۔نے بولا تھا صارب ۔۔۔

زیدی کی آواز اسے لگا تھا تمام آوازیں مل کے اسکا گلا گھونٹ رہی ہیں ۔۔۔

نہیں مرنا چاہیئے تھا اسے وہ معصوم۔تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیٹر ایشو کروانے کے بعد صارب نے انتظار کیا تھا …..

اسے یقین تھا کہ وہ جنگلی بلی اپنے نوکیلے پنجے اس پہ۔ضرور گاڑے گی۔انجانے میں صارب اسکا انتظار کرنے لگا تھا…..

مگر ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی اسکی طرف سے خاموشی پا کے وہ خود سیلمان علوی کی طرف پڑا تھا مگر وہاں جا کے سیلمان کی نادم شکل دیکھ اسے افسوس ہواتھا۔۔۔۔۔

یہ سچ ہے سیلمان کے وہ۔آڈیشن دینے آئی تھی تم جانتے ہو اپنی بہن کو اسے چیلنج دینے کا کتنا شوق ہے سمجھو وہ وہاں بھی کسی کو چیلنج ہی دینے آئی تھی۔۔۔۔

اور سیلمان وہ۔لیٹر میں نے ایشو کروایا تھا مگر ہم۔نے وہاں سے ریحاب کی۔کوئی تصویریں نہیں بھیجیں اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے وہ سیلمان کو یقین دلانے لگا تھا جبکہ سیلمان علوی کے دل۔پہ اک اور بوجھ بڑھا تھا۔۔۔۔

ت تم تمہیں یقین نہیں آرہا۔نا اک منٹ زیدی کو کال کرتے اس نے لاؤڈ سپیکر آن کیا تھا ۔۔۔۔۔۔

اور زیدی نے بھی اس دن کا پورا واقع بلکل۔صارب کی طرح بیان کیا تھا۔۔۔۔۔۔

زیدی کیا اس لیٹر ساتھ کسی قسم کی کوئی تصاویر تھیں۔۔

نہیں صارب وہ لیٹر تم نے ہی تو ایشو کروایا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

صارب اسے ڈھونڈ لاؤ وہ وہ تو بہت معصوم ہے پلیز صارب سیلمان بر ساختہ اسکے گلے لگا تھا جبکہ صارب کی آنکھوں کے گوشے بھی نم ہوئے تھے۔۔۔

وہ بوجھل قدموں سے وہاں سے روانہ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ہر طرح سے ان تصاویروں کی کانچ پڑتال۔کروائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سر ریحاب میڈم کی وہ۔تصویریں فاروقی نے۔ایڈٹ کروائی تھیں اور پھر اس نے فاروقی کو مرنے والی موت دی تھی ۔۔۔۔

کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا کہ صارب محظ چند منٹ ملی لڑکی کیلئے اتنا پوزیسو ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اور آج اک مہینے بعد تو گویا اسکی سماعتیں گویائی سے ہی محروم ہوگئی تھیں …..

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

اور ادھر ریحاب بھی بھونچکی رہ گئی تھی یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔۔۔۔۔

لو بھگتو اب علی نے اسے تاسف سے دیکھا تھا تبھی اسکا سیل بج اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔

سیلمان کی روتی آواز اسے بری طرح ڈسٹرب کررہی تھی سپیکر آن کیے اس نے ریحاب کو گھورا تھا جو بے فکری سے چیونگم چبانے لگی تھی۔۔۔۔

ابھی جو کچھ دیر پہلے اپنی موت کی خبر سن کے شاکڈ تھی اب اتنا ہی انجوائے کررہی تھی ۔۔۔۔۔

سیلمان کی بات سنتے علی کے چہرے پہ تفکر پھیلا تھا جبکہ وہ ایسے انجان بیٹھی تھی جیسے اسے اپنی موت کی خبر سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔۔

تبھی اس نے علی کے ہاتھ سے موبائل لے کہا تھا۔۔۔۔۔۔

مسٹر سیلمان علوی ریحاب مر تو اسی دن گئی تھی جب آپ باپ بیٹے نے مل کے اسکے گلے میں بے اعتباری کا طوق ڈالا تھا اب دنیا کے دکھاوے کو اپ اسکے جنازے پڑھیں یا تیج رکھیں فرق نہیں پڑتا کوئی۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ دوسری جانب سیلمان پہ اسکی آواز شاک بن کے لگی تھی ۔۔

ہی ہیلو علی ریحاب ہیلو اسکی پکار میں بے یقینی تھی جبکہ اس نے کال کے ساتھ موبائل بھی بند کردیا تھا۔۔۔۔

کیا حرکت تھی یہ تمہیں فوراً تردیدی خبر شائع کرنی ہوگی ریحاب۔۔۔۔

ڈونٹ ڈو سچ آ سٹوپڈ تھینگز ریحاب علی نے غصے میں اسے لتاڑا تھا۔۔۔۔۔۔

فوکس آن یور ٹارگٹ علی مجھے اس شخص کے سکون کے پل

بہت بے سکون کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نفرت کی اس آگ میں تم۔خود بھی جل رہی ہو ریحاب اور اسے بھی جلا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔

آج اگر میں زندہ ہوکے بھی مردہ کہلوانے لگی ہوں تو کس شخص کی وجہ سے صرف صارب رحمٰن کی وجہ سے اس نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا میرا مان میرا بھروسہ میرا گھر علی۔۔۔۔۔

روتے ہوئے وہ اسکے کندھے پہ سر ٹکا گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

🤡
🤡
🤡
🤡

ریحاب زندہ ہے بابا یہ یہ کوئی اور ہے ہمیں مغالطہ ہوا ہے۔۔۔۔۔

وہ علی کے ساتھ ہے علی پاس ملائشیاء میں سیلمان نے شاہد علوی اور مسز علوی کو زندگی کی نوید دی تھی۔۔۔۔۔

علی نے ہم سے اتنی بڑی بات کیوں چھپائی وہ۔جانتا بھی ہے کہ ہم۔کیسے دن رات اسکیلئے تڑپ رہے ہیں پھر بھی۔۔۔۔

شاہد علوی کی آواز میں واضع کپکاہٹ تھی۔۔۔۔

مم مجھے بات کرنی ہے اس سے نمبر ملاؤ علی کا

شاہد علوی نے موبائل اسے پکڑوایا تھا۔۔۔۔۔

بابا نمبر بند کرچکے ہیں وہ لوگ ہمارے لیے اتنا کافی ہے کہ ہماری ریحاب صییح سلامت ہے اور سیف ہے سلمان کی آواز میں بشاشت بھری ہوئی تھی۔۔۔۔۔

آپ فوراً اس خبر کے افواہ ہونے کی تردید کریں۔۔۔۔۔۔

جبکہ دوسری جانب صارب رحمٰن شدید نروس بریک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے ہاسپٹل میں ایڈمیٹ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ حیدر کے فلیٹ پہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

حیدر کو سامنے دیکھ وہ خود پہ کنٹرول کرتی اسکی معیت میں آگے بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔۔

بڑھی شیو اور نڈھال چہرہ دیکھ مشعل کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

کیا حالت بنا لی ہے اپنی پہلے بتا دیا ہوتا میں آجاتی آپکے پاس۔۔۔۔۔

اب آگئی ہو نا ٹھیک ہوجاؤنگا پیار جتاتی نظروں سے آنکھوں کے رستے اسے دل۔میں اتارا تھا۔۔۔

جبکہ مشعل اسکی بات سنکے بری جھنیپ گئی تھی۔۔۔

ان دونوں کے درمیان کبھی پیارومحبت کا اقرار نہیں ہوا تھا مگر حیدر کی آنکھوں میں اپنے لیے ابھرتے ہوئے جزبات سے نہ وہ ناواقف تھی نہ ہی حیدر اک خاموش سا ربط تھا جو ان دونوں کے درمیان قائم ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ کھایا بھی یا بس مریض بن کے بستر پہ لیٹے ہیں گھر کا جائزہ لیتی وہ اس سے مخاطب تھی ۔۔۔۔۔۔۔

کہاں یار نوڈلز پہ گزارہ چل رہا ہے۔۔۔۔

جبکہ مشعل نے اسکی بات سنکے اسے اک تیز گھوری سے نوازا تھا۔۔۔۔

کیا۔ہے لڑکی کیوں ہٹلر بنی ہوئی آنکھوں سے تیر چلائے جارہی ہو۔۔۔۔۔

اٹس ناٹ فئیر حیدر آپکو اپنی زرا بھی پرواہ نہیں کوئی بیماری میں بھی نوڈلز کھاتا ہے۔۔۔

کچن کے ریک پہ دونوں ہاتھ رکھتے وہ جمپ کرتی شیلف پہ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔

بٹ کیا ہے کہ کھانا بنانا مجھے بھی نہیں آتا پر مجھے بھی بھوک لگ رہی ہے آپ۔باہر سے کھانا آرڈر کرلو تب تک میں گھر کی حالت درست کرتی ہوں حکم چلاتی وہ اسے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اس اپنے حصار میں لیے وہاں سے اترنے میں مدد تھی اور اپنے بیڈروم میں روم لایا تھا۔۔۔۔۔

گو اینڈ گیٹ ریڈی اسے پیچھے دھکیلتی وہ اسکے کپڑے نکالنے لگی تھی۔۔۔۔۔

اور حیدر نے اسکی بات پہ من وعن عمل کیا تھا۔۔۔۔۔

کپڑے نکال دیے ہیں آپ فریش ہولیں تب تک کھانا بھی آجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جلدی۔جلدی اسکی بکھری چیزیں سمیٹتے وہ زبان بھی اتنی تیز چلا رہی تھی۔۔۔۔۔

جو حکم سرکار کا اسکے آگے سر خم کرتے بولا تھا جبکہ اسکے اس انداز پہ وہ کھلکھلا کے ہنس پڑی تھی۔۔۔۔۔

اسکے دونوں گالوں میں پڑتے ڈمپل اور ہنسی کی کھنک نے حیدر پہ جیسے کوئی سحر سا طاری کردیا تھا وہ بے خودی میں خود کو اسکے قریب ہونے سے نہیں رک پایا تھا۔۔۔

پھر سے مسکراؤ مشی طلسمی ماحول میں کھوتے اس نے مشی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کے اپنے قریب کیا تھا جبکہ وہ اسکے بے خود انداز پہ حیران سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

پلیز مشی مسکراؤ حیدر کا انداز ایسا تھا کہ اگر وہ نہ مسکرائی تو گویا وہ اگلی سانس ہی نہیں لے سکے گا ۔۔۔

مشعل اسکی ادا پہ مبہم سا مسکرائی تھی اسکا ڈمپل حیدر کو مزید بےخود کیا اس نے مسمرائرز ہوتے اپنے پرحدت لب اسکے ڈمپل پہ رکھے تھے جبکہ مشی بھی ان لمحوں کی حصار میں آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

یہ خاموشی جو گفتگو کے بیچ ٹھہری ہے

یہی اک بات ساری گفتگو میں گہری ہے

اس نے اپنا سر حیدر کے سینے پہ ٹکایا تھا جبھی ڈور بیل کی آواز پہ وہ دونوں چونکے تھے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *