Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid NovelR50613 Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 10)
Rate this Novel
Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 10)
Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid
دبئ کے فیمس برج خلیفہ میں موجود کنسرٹ ہال میں صارب رحمٰن کی آواز برج کے برابر بلندیوں کو چھو رہی تھی اک مطمئن نظر اپنے اردگرد ڈالے اس نے اپنی آواز کا جادو جگانا شروع کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مجھکو ارادے دے۔۔۔
قسمیں دے وعدے دے۔۔۔
میری دعاؤں کے اشاروں کو سہارے دے۔۔۔
دل کو ٹھکانے دے نئے بہانے دے۔۔۔۔۔
خوابوں کی بارشوں کو موسم کے پیمانے دے۔۔۔۔
پرسوز آواز نے سامعین پہ جادو طاری کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔
صارب از بیک ،صارب از بیک کی پرجوش آوازیں اسکی آنکھیں نم کر گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
اپنے کرم کی کر ادائیں۔۔۔۔۔۔
کردے ادھر بھی تو نگاہیں۔۔۔۔۔
سن رہا ہے نا تو میں رو رہا ہوں میں
سن رہا ہے نا تو کیوں رو رہا ہوں میں
یارب یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحاب کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
نہیں صارب رحمان میں اتنی جلدی ہار نہیں مانوں گی۔۔۔۔
وقت بھی ٹہرا ہے۔۔۔۔۔
کیسے کیوں یہ ہوا۔۔۔۔۔۔
کاش توں ایسے آئے جیسے کوئی دعا۔۔۔۔۔
توں روح کی راحت ہے۔۔۔۔۔
توں میری عبادت ہے۔۔۔۔۔۔۔
گانے کے آخری بول پہ اس نے سر خم کیا تھا ناجانے کس چیز کی سرشاری تھی جو اسکے چہرے کو مزید روشن کررہی تھی ۔۔۔۔۔
میرے آخری وار کا انتظار کرنا صارب ۔۔۔
وہ ہر طرح کی سازشوں سے انجان پھر سے دھن بنانے لگا تھا جبکہ بلیک ہوڈی سے خود کو کور کرتی وہ اس بھیڑ سے بمشکل نکل رہی کس کس پہ غصہ نکالتے کسی کو جھنجوڑ کے ہٹاتی تو کسی کو دھکا دے کے اپنا راستہ بناتی نکلی تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔
صارب نے اک بے چین نگاہ مجمع پہ ڈالی پتا نہیں کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے ابھی وہی بلیک ہڈ والا شخص دیکھا تھا۔۔۔۔۔







طاقتیں تمھاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے تجربہ ہمارا ہے
اک کامیاب شو کے بعد وہ دوبارہ سے اپنے ہوٹل آچکا تھا۔۔۔۔
آنکھوں کی چلمن پہ دوبارہ سے ریحاب کی تصویر بنی تھی وہ گھبرا کے اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔۔
اے میرے رب مجھے لاحاصل کی چاہ میں مت ڈال میں کسی سراب کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہتا۔۔۔۔
درد کی اک لہر اسکے بائیں بازو سے اٹھی تھی اور پورے جسم میں پھیلی تھی۔۔۔۔۔۔
دروازہ ناک ہوا تھا روم سروس سر ویٹر کی آواز پہ بمشکل وہ ہیلپ بول سکا تھا۔۔۔۔
ویٹر نے اندر آتے اسے گرتے دیکھا فوراً ایمرجنسی کال کی تھی وہ انجائنا کے مائنر اٹیک کا شکار ہوا تھا اس ایج میں یہ چیز ڈاکٹرز کی سمجھ سے بھی باہر تھی ۔۔۔۔۔۔
جبکہ علی پہلے ہی ریحاب کو وارن کرچکا تھا وہ بھی ہاسپٹل پہنچی تھی مگر صارب کے بے ہوشی کے عالم میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑی مشکل سے اس نے ڈاکٹرز کو اسکا کیس ہینڈل کرنے کیلئے راضی کیا تھا جبکہ اسکی حرکت پہ وہاں موجود ہر بندہ پریشان تھا کیونکہ جو ریزن ریحاب نے انہیں بتائی پہلے تو کوئی یقین نہیں کررہا تھا مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
صارب کے مکمل ٹیسٹ کے بعد اس بات کی تصدیق ہوچکی تھی کہ اسکے جسم میں موجود موتی کے دانے جتنی چپ اسکی بلڈ کلاٹنگ کی وجہ بن رہی تھی اور جسم۔میں بھی اس کی وجہ سے زہر پھیلنے کا خدشہ تھا۔۔۔۔۔۔
ریحاب انہیں جھوٹی سچی سٹوری سنا کے اپنے جال میں پھنسا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اک مائنر سرجری کے بعد اس چٹ کو صارب کے بازو سے ریمو کردیا گیا تھا جو ریحاب نے اپنے اک دوست کی مدد سے صارب کے بازو میں انجیکٹ کی تھی تاکہ وہ اسے لوکیٹ کر سکے ۔۔۔۔۔۔۔
مگر اک منتھ سے زیادہ پہ وہ اسکیلئے جان لیوا بھی بن سکتی تھی تبھی کئی بار کی کوششوں سے بھی ریحاب اسکے جسم سے وہ نکال نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔۔،









ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﻭﮞ ﯾﺎ ﺑﮯﺗﺮﺗﯿﺐ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭﮞ!
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻢ ﮨﯽ ﮨﻮ
مولوی صاحب نے ایجاب حجاب کی رسم ادا کی تھی جو ان دونوں نے قبول کیا تھا دونوں طرف کے گواہان حیدر ہی ڈھونڈ کے لایا تھا ۔۔۔
مٹھائی تقسیم کی گئی تھی جبکہ مشعل اپنی منزل پالینے کے بعد مسرور سی بیٹھی مسکرا رہی تھی ۔۔۔
بلاآخر جو چاہا وہ پا لیا تھا وہ زہر جیسی قسمت نہیں رکھتی اس نے اپنی تقدیر بدل ڈالی اس شخص نے اسے تما خامیوں سمیت قبول کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لوگوں کو روانہ کرنے کے بعد وہ اپنے روم میں آیا تھا جہاں مشعل مسلسل مسکرائے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔
بس ہوگئی ضد پوری اب جاؤ گھر نروٹھے پن سے کہتا اس سے ہٹ کے فاصلے پہ بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت خوش ہوں حیدر مجھے لگ رہا ہے کہ دونوں جہاں کی خوشیاں میرے قدموں میں آگئی ہیں ۔۔۔۔
اسکی ناراضگی محسوس کرنے کے باوجود وہ شرارتی انداز میں اسکے قدموں میں بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کررہی ہو اب اٹھو بے وقوف لڑکی اسے وہاں سے اٹھا یا تھا ۔۔۔۔۔
مگر وہ بھی اسی کے انداز میں بیٹھی رہی تھی مسٹر حیدر کیا آپ اس چلبلی سی مشعل سے شادی کریں گے۔۔۔
شرارت سے کہتی اسکے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھا جس انداز میں اس نے پرپوز کیا تھا۔۔۔۔۔۔
اسکا انداز سمجھتے وہ بولا تھا۔۔۔
ہاں کہنا نہیں تھا اس وقت ورنہ تم۔آج میری جان کو نا آتی۔۔۔۔۔
اوہ تو آپ۔اتنے تنگ آگئے ہیں مجھ سے اوکے میں اب آپکو شکل بھی نہیں دکھاؤنگی اپنا بھاری لباس سنبھالتی وہ کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔۔
کہاں جارہی ہو اب۔۔۔۔۔
اپنے گھر۔۔۔
اسی حلیے میں حیدر کو جیسے اسکی کم عقلی کا یقین نہ ہو۔۔۔۔
ہاں تو کیا شادی ہی تو کی ہے۔۔۔۔۔
شرارتی انداز میں اسے اک آنکھ مارتے آگے بڑھی تھی جبھی حیدر نے اٹھ کے اسے واپس کھینچا تھا۔۔۔۔
بےوقوف ہوگئی ہو کیا خود بھی مروگی اور مجھے بھی مرواؤ گی دانت پسیتے اسے ڈپٹا تھا۔۔۔۔
جب سے آئی ہوں ڈانٹے جارہے ہیں اتنا بھی لحاظ نہں کہ ابھی چند منٹوں کی دلہن ہوں۔۔۔۔۔
آنکھوں کے کٹورے پانی سے بھرے تھے۔۔۔۔۔
حیدر کی تو جیسے جان پہ بن آئی تھی اچھا سوری ادھر آؤ اپنے بازو کے حلقے میں لیے وہ اسے اپنے سامنے بیڈ پہ بٹھاتے بولا تھا۔۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی آنکھوں سے برسات ابھی بھی جاری تھی اگر یہ ژالہ باری بند نہ ہوئی تو میں پھر اپنے انداز میں چپ کرواؤں گا پھر نہ کہنا کہ چند منٹوں کی دلہن کا لحاظ نہیں کیا ۔۔۔
اسکے انداز میں کہا تھا جبھی وہ کھلکھلا کے ہنسی تھی۔۔۔۔
خوش ہو اسکے مخملی ہاتھ مضبوط مردانہ ہاتھوں میں پھنسائے بولا تھا۔۔۔۔۔
بہت بہت زیادہ حیدر آپ سوچ بھی نہیں سکتے اس نے اک نظر اسکے انار چہرے پہ ڈالی اور پورے حق سے اسکے ماتھے پہ۔پیار کی مہر ثبت کی تھی۔۔۔۔۔۔
مشعل اسکے بے ساختہ انداز پہ مزید گلنار ہوئی تھی۔۔۔۔
اب تم ایسے کروگی تو کون کافر کفرانے نعمت کرے گا یار اسے اپنے پہلو میں گراتے بولا تھا جبکہ مشعل کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سینے پہ سر ٹکاتے سکون سے آنکھیں موند لی تھیں جبکہ حیدر اسے بالوں سے کھیلتا کسی اور جہان ہی پہنچا ہوا تھا اک خوف تھا بہت کچھ کھو دینے کا ۔۔۔۔
وہ جو بازی کا مہرہ تھا اب خود بری طرح سے اس میں انولو ہوچکا تھا وہ جانتا تھا کہ مشعل کے ساتھ اسکا سفر کچھ دنوں کا ہے مگر کیا وہ اتنی آسانی سے اس سے دستبردار ہوسکے گا۔۔۔
نہیں اک خوف سی کیفیت میں وہ اسے مزید خود سے قریب کرگیا تھا جیسے ابھی کوئی مشعل کو اس سے چھین لے گا۔۔۔۔۔
صرف اک شخص کی ہار کی خاطر وہ دونوں کتنے دلوں سے کھیل۔گئے تھے۔۔۔۔
اس نے جو ریحاب کے ساتھ مل کے صارب کو اسکے رشتوں سے الگ کرنے کا جال پھنسایا تھا وہ اب خود اس میں پھنس چکا تھا وہ چاہتے ہوئے بھی ریحاب کو اس نکاح کا نہیں بتا پایا وہ جانتا تھا کہ سب اتنی جلدی ہونے پہ وہ یقیناً ناراض ہوگی مگر وہ سنبھال لے گا۔۔۔۔۔۔
نجانے تقدیر نے صارب کی قسمت میں اور کتنے وار لکھے تھے ۔۔۔۔۔۔
جو نجانے قصوروار تھا بھی کے اپنے ان دیکھے گناہوں کی سزا کاٹ رہا۔تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔






– میں ہر وقت اُس کے انتظار میں
اور وہ مجھ سے اُکتایا ہوا شخص۔۔۔۔۔
منت باوجود کوشش کے بستر سے اٹھ نہیں پا رہی تھی بخار کی حدت سے وہ تپ رہی تھی ارحم تو ایسے ہی ماں کو ٹالنے کو بول گیا تھا کہ منت بیمار ہے مگر وہ تو واقعی ہوش سے سے خردبرد پڑی تھی۔۔۔۔۔۔
تائی سائیں نوراں کو لے کے گاؤں میں کسی کام سے گئی تھیں جاتے ہوئے وہ دوسری لڑکی کو اسکا خیال کرنے کا کہتی چلی گئیں اور جو ٹی۔وی سامنے بیٹھی منت کی بابت بھول چکی تھی۔۔۔۔۔۔
ارحم کا دل آج ڈیرے پہ نہیں لگ رہا تھا اور ویسے بھی وہ کل کے واقع کے بعد اپنے دوستوں سے خائف ہوچکا تھاجو سارا الزام اس پہ ڈالتے بری ہوچکے تھے۔۔۔۔۔
خلاف معمول وہ جلدی گھر آگیا تھا گھر میں پھیلا غیر معمولی سناٹا اسے بھی حیران کرگیا تھا۔۔۔۔
امآں سائیں اس نے وہی کھڑے ہوکے اماں کو پکارا مگر وہ شاید گھر پہ نہیں تھیں ٹی۔وی لاؤنچ میں قدم رکھا وہاں تیرہ چودہ سال کی نوکرانی ٹی۔وی سامنے چلتا چھوڑ خود صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے سوئی ہوئی تھی تبھی ارحم باقی لوگوں کی بابت پوچھنے کو اسے اٹھانے کو جھکا تھا جبکہ وہ ارحم کو اپنے نزدیک پا کے ڈر کے مارےبے اختیار چیخی تھی بھلا اسکی کرتوت کون نہیں جانتا تھا ارحم کو اس بے وقوف لڑکی چیخنے پہ غصہ آیا تھا ہاتھ اسکے منہ پہ رکھا اور اسی لمحے بخار سے دہکتی منت جو پانی پینے کیلئے اٹھی تھی اور چیخ سن ادھر آنکلی تھی سامنے ارحم کو نوکرانی کے ہاتھ پہ منہ رکھے دیکھ دنگ سی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اپنے سن وجود کوسنبھالتی اس کے سر پہ آپہنچی تھی۔۔۔۔
ڈوب مرو تم چوہدری ارحم تم میں کوئی غیرت کوئی شرم ہے باہر منہ مارنے کو لڑکیاں کم پڑگئیں جو اب تم گھر میں منہ مارنے لگے ہو ارے گھر کی نوکرانی کو تو کم از کم اپنی ہوس کا شکار نا کرو ۔۔۔۔
چیخ کے کہتے اس نے لڑکی کو ارحم۔سے کھینچا تھا تف ہے تم پہ ارحم ۔۔۔۔۔۔
اک ملامتی نگاہ اس پہ ڈالی تھی۔۔۔۔۔
اندر داخل ہوتی مائی نوراں اور اماں نے اندر کا منظر دیکھا۔۔۔۔۔
کیا ہورہا ہے یہ اور منت اپنے مجازی خدا سے ایسے مخاطب ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپکے مجازی خدا گھر کی ملازمہ کے ساتھ زبردستی کرتے پائے جاتے تو آپ کیا کرتیں تائی سائیں۔۔۔۔۔۔۔
تبھی ارحم۔کا ہاتھ اٹھا تھا اور اسکے چہرے پہ اپنے نشان چھوڑ گیا تھا ۔۔۔۔
بس بہت ہوگئی تمہاری بکواس بغیر تصدیق تم مجھ پہ اتنا بڑا الزام۔کیسے لگا سکتی ہو منت۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا غلط کرتے دیکھا ہے تم نے مجھے سختی سے اسے گھورا تائی سائیں بھی ہمیشہ نرم انداز میں بات کرتی منت کو دیکھ کے حیراں تھیں۔۔۔۔۔
اور منت اپنے شل ہوتے حواس پہ قابو نہیں پاسکی تھی اور لڑکھڑا کے نیچے گری تھی۔۔۔۔۔۔
ارحم بے ہوش پڑی منت کو دیکھ ششدر رہ گیا تھا من اسے اپنے بازو میں اٹھائے حواس باختہ تھا ۔۔۔۔
پیر بخش گاڑی نکالو وہ اسے اٹھائے بھاگتا ہوا باہر کی جانب لپکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
تائی سائیں بھی اسکے پیچھے دوڑی تھیں ابھی جہاں اتنے سناٹے تھے اک دم منت کو لے کے کھلبلی مچ گئی تھی۔۔۔۔۔
مائی نے سامنے کھڑی ملازمہ سے حقیقت جاننی چاہی تو ادھوری بات ان کو بھی کچھ کلئیر نہیں کر سکی تھی۔۔۔
بعض دفعہ آنکھوں دیکھا غلط بھی تو ہوسکتا مگر یہ تو ازل سے دنیا کا اصول رہا ہے کہ وہ تصویر کے اک رخ کو دیکھتی ہے جو سب سے زیادہ رنگین ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔







یہ جو مسکان ہے بِےساختہ لبوں پہ میرے
متَاعِ جاں ، تیرے خیال کی بدولت ہے۔۔۔۔۔۔
باوجود اس سے لاکھ بے تکلفی کے حیدر نےکبھی اپنے اور اسکے درمیان موجود حدود کراس نہیں کی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
کلاس میں سر حیدر کے داخل ہوتے ہی خاموشی چھا گئی تھی کلاس میں اک نئے چہرے کا اضافہ ہوا تھا مائرہ کسی اور کالج سے مائیگر یٹ ہوکے وہاں آئی تھی اور اک ہفتے میں اتنا تو سب جان چکے تھے کہ وہ حد سے زیادہ بولڈ اور منہ پھٹ تھی ۔۔۔۔
ایکسکیوزمی سر آئی ہیو آ کیسچین فار یو مے آئی آسک۔۔۔
حیدر کے چہرے پہ فوکس کیے وہ اس سے مخاطب تھی جبکہ مشعل۔نے بے چینی سے پہلو بدلہ وہ اسکی بولڈینس سے خار کھاتی تھی۔۔۔
پیار کے بارے آپکا کیا خیال ہے۔۔۔۔۔
پوری کلاس میں اک دم سنآٹا چھا گیا تھا کیونکہ سر حیدر کی سخت مزاج طبیعت سے سب ہی آگاہ تھے۔۔۔۔
واٹ پہلے تو اسے اسکی بات پہ جھٹکا لگا تھا مگر پھر اپنی سچویشن پہ قابو پاتے خود کو اسکے جواب۔کیلئے تیار کیا۔۔۔۔
دیکھیں بچے پہلی بات کے یہ آپ کے سیبجکٹ سے ارریلونٹ کیسچن ہے اور دوسری بات۔۔۔
دوسری بات یہ کہ مس مائرہ نیکسٹ ٹائم اگر آپ نے ایسا کوئی سٹوپڈ سوال کیا تو میں پرنسپل میم کو آپکی شکایت لگا دونگی آئی سمجھ آپکو ۔۔۔۔۔۔
حیدر کی بات اچکتے مشعل نے غصے سے مائرہ کو گھورا تھا۔۔۔۔۔
تمہیں کس بات کی مرچی لگ رہی ہے مشعل جبکہ۔۔۔
سٹاپ دس نان سینس گرجدار آواز پہ مشعل بھی اپنی جگہ دہل کے رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ۔دونوں مجھے آفس میں آکے ملیں ان دونوں کو پوائنٹ آؤٹ کرتا وہ وہاں سے روانہ ہوا تھا جبکہ مشعل۔نے کھا جانے والی نظروں سے مائرہ کو گھورا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تھا یہ سب آپ دونوں جنگلی بلیوں کی طرح اک دوسرے سے۔لڑ رہی تھیں یہ کالج ہے آپ لوگ یہاں پڑھنے آتے ہیں آئیندہ ایسا کوئی ٹاپک کلاس میں زیر بحث نا آئے سمجھ گئیں آپ دونوں کو باری باری گھورتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
ناؤ گیٹ آؤٹ آف ہیئر ۔۔۔
مائرہ پیر پٹختی وہاں سے روانہ ہوئی تھی جبکہ مشعل کی سوئی جنگلی بلیوں پہ اٹک گئی تھی۔۔۔۔۔۔
یہ جنگلی بلی کاٹتی بھی ہے سر اک آنکھ دباتے فلائنگ کس پاس کرتی وہ بھی مائرہ کےپیچھے گئی تھی جبکہ حیدر ناچاہتے ہوے بھی اسکی ادا پہ مسکرا دیا تھا پاگل۔۔۔۔۔۔۔
کیا کررہے ہیں رات کو وہ مسیج ٹائپ کرتی اس سے مخاطب تھی۔۔۔۔۔۔
تمہیں مس۔۔۔۔
دولفظی جواب اسکے دل کے مدھرتار چھیڑ گیا تھا۔۔۔۔
آجاؤں ۔۔۔۔
کہتے شرارتی ایموجی بھی ساتھ سینڈ کی تھی۔۔۔۔
ہاں یار طبیعت اپ سیٹ ہے شاید کل کالج نا آسکوں۔۔۔۔۔۔
اوکے۔۔۔
بغیر کوئی دوسری بات کیے موبائل رکھ دیا تھا جبکہ وہ اسکے اوکے پہ۔حیران ہوا تھا شاید صبح کی بات پہ ناراض ہے خودساختہ سوچوں میّں الجھتا وہ بھی سوچکا تھا۔۔۔۔
مسلسل ہوتی بیل نے اسے گہری نیند سے جگایا تھا اسوقت کون ہوسکتا تھا بھلا ابھی گھڑی نے سات ہی بجایا تھا۔۔۔
کلسمندی سے اٹھتا دروازہ کھولا سامنے موجود شخصیت کو دیکھ ساری کثافت جیسے دور جا سوئی ہو۔۔۔۔۔
ہیلو اسکے سامنے چٹکی بجاتی مشعل اسے واپس ہوش کی دنیا میں لائی تھی۔۔۔۔۔
اتنی صبح کیسے دروازہ بند کیے اس سے ٹیک لگائے پوچھا تھا۔۔۔۔
کیوں میں صبح کیوں نہیں آسکتی یہ میرا بھی تو گھر ہے
سوالیہ نگاہیں اس پہ ٹکاتی بولی تھی وہ تو ٹھیک ہے مگر۔۔۔۔۔
کیا اگر مگر اور یہ بخار کہاں گیا بھلا اسکے پاس آکے پنجوں کے بل کھڑے ہوکے اسکا ماتھا چھونے کی کوشش کی تھی جو کہ بلکل نارمل تھا۔۔۔۔۔۔
انکے آنے سے جو آتی ہے چہرے پہ بہار
وہ سمجھتے ہیں بیمار کا حال اچھا ہے۔۔۔
دونوں بازوں اسکے شانوں پہ ٹکائے تھے۔۔۔۔۔
اوف ڈرامے باز آدمی ناشتہ ہی کروا دو اسکے آنکھوں کے پیام سے گھبرا کے وہ اس سے دور ہٹی تھی۔۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد حیدر نے واضع اسکی تبدیلی نوٹ کی تھی کے وہ اس سے دور بھاگتی تھی شاید پاکیزہ جزبوں کے ساتھ رشتے کا تقدس کبھی حاوی نا آجائے اس چیز کا ڈر تھا۔۔۔۔۔
بیوی کے ہوتے میں کھانا بناؤ اٹس ناٹ فئیر کچن مین رکھی کرسی پہ بیٹھتے اسے دیکھتے بولا تھا۔۔۔
سچ حیدر جو بناؤں کھا لوگے نا ۔۔۔۔۔۔۔
زندگی بھر ہی تو کھانا ہے چلو ابھی سے سٹارٹ کرتے اسکی بات پہ مشعل کے چہرے پہ سرخی۔چھائی تھی جبکہ اپنی کہی بات پہ غور کرتے حیدر کے اندر گہرے سناٹے چھا گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
اندر کی بے چینی سے گھبراتے وہ اک دم۔سے کھڑا ہوا تھا ۔۔
کیا ہوا مشعل نے اسے حیرت سے دیکھا ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں مشی تم ناشتہ بناؤ تب تک میں تھوڑا ریسٹ کرلوں اسے ٹالتا وہ بیڈروم میں آگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اپنا موبائل اٹھا کے وہ اک نمبر ڈائل۔کرنے لگا تھا پہلی بیل پہ کال۔اٹھا لی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
مم مجھ سے نہیں ہوگا ریحاب پلیز وہ بہت معصوم۔ہے
میں اسے نہیں چھوڑ سکتا بے بسی اسکے لہجے میں رچی تھی ۔۔۔
اپنی ڈیلنگ سے تم مکر رہے ہو علی پہلے ہی تم شادی کرکے میری پلاننگ خراب کرچکے ہو اس غلطی کو تم گلے کا طوق نہیں بنا سکتے سمجھ رہے ہو نا تم۔۔۔۔۔۔
حیدر کی آنکھوں میں بے اختیار نمی آئی تھی انتقام میں کھیلا جانے والا کھیل کب اسکیلئے زندگی موت کی کہانی بن گئی وہ خود بھی انجان تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری بہن بھی تو معصوم۔ہی تھی نا علی اس نے کیا کیا۔۔۔۔ بے گھر کردیا تھا نا تو پھر تم کیسے صارب رحمٰن کی بہن پہ ترس کھا سکتے ہو اس کی گلوگیر لہجے نے حیدر کے حواس سلب کرلیے تھے جبکہ دوسری طرف سے کب کی۔کال بند ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
ناشتہ تیار ہے مسٹر ہیسبینڈ مشعل کی پرجوش آواز پہ وہ متوجہ ہوا تھا۔۔۔
اور خبردار جو اک بھی نقص نکالا ورنہ پوری زندگی خود ہی بناتے رہیے گا انگلی۔اٹھا کے وارن کرتی اپنی بات پہ خود ہی کھلکھلا اٹھی تھی جبکہ حیدر گم صم اسے دیکھے گیا تھا۔۔۔۔
اوف اک۔تو حیدر آپ تھوڑی دیر بعد ہی کھڑے کھڑے سوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
نوالہ بنا کے اسکی طرف بڑھایا تھا اس نے نوالے کے بجائے اسکے دونوں ہاتھ اپنے گرفت میں لیے تھے خود ہی کھلا دو کھوئے کھوئے انداز میں وہ مخاطب تھا۔۔۔۔
توبہ ہے حیدر کیا بچوں والی۔فرمائش اوکے جی لیں۔۔۔
اور وہ۔اپنے ہاتھوں سے اسے نوالے بنا۔کے کھلاتی رہی ساتھ میں حیدر بھی اسکو کھلا رہا تھا۔۔۔۔
کیا خیال ہے کوئی مووی دیکھیں ایسے آپکا موڈ بھی فریش ہوجائے گا اسکے گالوں پہ ہاتھ رکھے اپنی جانب متوجہ کیا تھا نہیں مشعل۔میں بہت تھک گیا ہوں آرام۔کرنا۔چاہتا ہوں۔۔۔۔
میرا سر دبا دو اسکی گود میں سر رکھے وہ کہیں سے بھی اسے اک میچورڈ پرسن نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ مشعل اسکی حرکت پہ مسکرا کے رہ گئی تھی ۔۔
اپنے نرم۔نرم ہاتھوں سے اسکا سر دبانا شروع کیا تھا ۔۔۔۔۔
مشعل اور وہ بدحواس انداز میں بھاگ رہے تھے اور اچانک سے وہ سامنے گہری کھائی مں جاگری تھی جبکہ وہ۔اسے آوازیں دیے جارہا تھا مگر وہ کہیں نہیں تھی۔۔۔۔
نہیں مشی مشعل ۔۔۔۔۔
اک جھٹکے سے وہ اٹھ بیٹھا تھا۔۔۔
کیا ہوا حیدر اسکی حالت پہ پریشان ہوئ ۔۔۔۔
ت تم مش مشی تم وعدہ کرو تم۔مجھے چھوڑ کے کبھی نہیں جاؤگی ۔۔۔۔۔
حیدر کا انداز اسے پریشان کیے جارہا تھا میں آپکے ساتھ ہوں ہمیشہ کیا ہوگیا ہے حیدر اسکے کندھے پہ اپنا سر ٹکائے بولی تھی۔۔۔
جب حیدر نے مکمل طور پہ اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔
اور دیوانہ وار اسے چومتے اپنے پیار کی شدت سے آگاہ کیاتھا وہ چھوئی موئی کی طرح مزید سمٹے جارہی۔تھی۔۔۔۔۔۔۔
آئی ۔لو۔یو مشعل حیدر ۔۔۔۔۔۔
آئی لو یو سو مچ اپنے نام۔کے ساتھ اسکا نام۔جوڑے پہلی بار مشعل کو اپنے مکمل۔ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔۔
آؤ، اتنا قریب ہو جاؤ کہ _
سانسیس بھی یاد ہو جائیں۔۔۔۔۔
حیدر نے اپنے ڈر اور مشعل نے اسکے پیار کی شدتوں میں گم انکے درمیان ختم۔ہوتے فاصلوں کو محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔
مکمل سپردگی کا احساس ان دونوں میں سرشاری بھر گیا تھا۔۔۔۔۔۔
مشعل کی جب آنکھ کھلی خود کو اسکے مضبوط بازو کے گھیرے میں پایا اک لمحے اسکا دماغ سٹک ہوا تھا مگر ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا ۔۔۔۔۔
اپنے رشتے کی مضبوطی سے وہ آگاہ تھی سامنے گھڑی پہ نظر پڑتے وہ گڑبڑائی تھی کیونکہ کالج سے چھٹی کا ٹائم نزدیک تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر اٹھیں مجھے جانا ہے خود کو اسکے حصار سے نکالنے کی کوشش میں وہ بولی تھی۔۔۔۔۔
نہیں آج تم۔کہیں نہیں جارہی یہی رکو گی میرے پاس اپنی گرفت مزید سخت کرتے وہ۔بولا۔تھا۔۔۔۔
پاگل ہوگئے ہیں آپ جان سے مار دیں گے بابا مجھے۔۔۔۔۔۔
کہا ہے نا مشعل کال کرکے گھر کوئی بھی بہانہ کردو ۔۔۔
جبکہ مشعل اسکا ضدی انداز دیکھ حیران ہوئی تھی کیونکہ آج سے پہلے اس نے کوئی ایسی ڈیمانڈ نہیں کی تھی۔۔۔۔
اپنے سیل سے گھر کال ملائی تھی۔۔۔۔۔
کہاں رہ گئی مش ہم کب سے تمہارا کھانے پہ انتظار کررہے زہرہ کی آواز پہ حیدر نے بھی سر اٹھا کے اسے دیکھا تھا۔۔۔
وہ آپی ۔۔۔اپنی دوست کی بیماری اور ہاسٹل میں آج رات اسکے ساتھ ٹہرنے کا بہانہ کرکے اس نے زریں بیگم سے بھی اجازت لے لی۔تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
کال بند کرکے اک خفگی بھری نگاہ اس پہ ڈالی جبکہ وہ اسکی چھوٹی سی ناک کو دباتے شرارت سے اسے گد گدا گیا تھا اف حیدر اسکی شرارتوں کو انجوائے کرتے وہ پنے نصیب پہ نازاں ہوئی تھی
