Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 01)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

تو مئیسر ہو ایک لمحے کو

عمر ساری بہار ہو جائے..

اپنی ڈائری کو بند کرتے وہ سونے کیلئے کھڑی ہوئی تھی لیکن سونے سے پہلے ڈائری لکھنا اسکی ہابی میں شامل تھا۔۔۔۔

بیڈ کے سامنے کی دیوار پہ نظر پڑی جہاں ایک بہت بڑے سائز کا پوسٹر لگا تھا جو ہاف وال کور کرچکا تھا جو اسکے فیورٹ سنگر اور ایکٹر کا تھا۔۔۔

اک پسندیدہ نگاہ اس پہ ڈالنے کے بعد وہ آنکھیں بند کیے سونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

کب تک دور دور رہو گے ہم سے

اک دن ملنا پڑے گا ضرور ہم سے

ہم چھین لیں گے تم سے یہ ادائے بے نیازی

تم مانگتے پھرو گے اپنا غرور ہم سے

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

تم ہو تم ہو تمہی ہو

صنم میرے ہمراز

اک کورس میں منچلوں کا ٹولہ سنگر اور میوزک کے ساتھ گائے جا رہا تھا۔۔۔

یہ منظر تھا دبئ کے اک مشہور کنسرٹ ہال کا جہاں دنیا جہاں سے آئے سنگرز اور فنکار اپنے اپنے ہنر کا بھرپور مظاہرہ کررہے تھے انہی میں اک صارب رحمان بھی تھا جو کہ اس وقت سٹیج پہ موجود لاکھوں دلوں کی دھڑکن بنے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی آواز کا جادو بھی جگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

صرف لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی اسکے بہت بڑی تعداد میں مداح تھے ۔۔۔۔۔۔۔

اسے ہر طرح اپنی بے حساب خوبصورتی اور اپنی آواز کے چارم کا اندازہ تھا ۔۔

ونس مور ونس مور کے شور پہ سٹیج مینجنٹ نے بھی اسے دوبارہ گانے کی فرمائش کی تھی اسکی آنکھوں میں موجود سوال کو بھانپتے ہوئے انہوں نے جلدی سے سر اثبات میں ہلایا تھا ۔۔۔۔

جبکہ صارب رحمان پھر سے اپنی آواز کا جادو جگانا شروع ہوچکا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

عبدالرحمٰن صاحب نے اپنے اکلوتے سپوت کو ٹی۔وی میں اچھل کود کرتے دیکھ سو بار لاحولہ پڑھ تھی ساتھ میں لاؤنچ میں موجود حاضرین پہ بھی نگاہ کی۔۔۔

کیا ہورہا ہے یہ کتنی بار کہا ہے کہ یہ خرافات اس گھر میں نہیں چلیں گی اسکے باوجود تم لوگ کسی کی نہیں سن رہے زریں بیگم پہ غصے بھری نگاہ ڈالی ساتھ میں بیٹیوں کو بھی آنکھیں دکھائیں جو مزے سے بھائی کے لائیو شو کو انجوائے کررہی تھیں مگر اب ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

بابا وہ چھوٹی مشعل نے صفائی دینے کی کوشش کی جسے بڑی زہرہ نے کھینچ کے اپنے سامنے کیا تھا اور اس کے منہ پہ ہاتھ رکھا جبکہ وہ پھر بھی آنکھوں سے جنگ کے میدان میں گھسنا چاہ رہی تھی۔۔۔۔

رابی نے جلدی سے ٹی۔وی کا سوئچ نکالا مبادہ پچھلی دو ٹی ۔وی کی طرح یہ بھی گھر سے باہر نا پڑی ہو اور پھر سے اپنی جمع پونجی سے ٹی ۔وی افورڈ نہیں کرسکتیں تھیں کیونکہ عبدالرحمٰن صاحب توڑ سکتے تھے لیکن لے دینے پہ کھرا جواب تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

س سوری بابا زہرہ نے جلدی سے باپ سے خوشمدانہ انداز اپنایا تھا مبادہ بات پھر سے بات نا طول پکڑ جائے جب بھی صارب کا شو ہوتا گھر میں کوئی بدمزگی ضرور پیدا ہوتی وجہ اپنے باپ کے خلاف جاکے انڈسٹری میں کام کرنا تھا۔۔۔

جیسے ہی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل ہوئی رحمٰن صاحب جو اک انجنیئر بیٹے کا باپ بننے کی خوشی میں سراونچاکرکے رشتہ داروں میں جاتے تھے اور اپنے بزنس کو بیٹے کے بل۔بوتے پہ مزید پروان چڑھتا دیکھنا چاہ رہے تھے لے کے سارے خواب مٹی میں مل گئے جب صارب نے باپ کا بزنس جوائن کرنے کے بجائےاپنی البم ریلیز کرنے کا اعلان کیا ۔۔۔۔

رحمٰن صاحب کو لگ رہا تھا دو دن کا شوق پورا کرتے وہ واپس لوٹ آئے گا مگر دو سال میں ہی اسکا شوبز کرئیر عروج پہ پہنچ چکا تھا گویا جس چیز کو صارب چھوتا وہ سونا بن جاتی انڈسٹری میں اسکی مانگ سے ہر کوئی واقف تھا جہاں کچھ لوگ اس نئے ٹیلنٹ کو دیکھ کر رشک کرتے وہی کچھ لوگ اسے حسد کی نگاہ سے بھی دیکھتے مگر ہر اک چیز سے لاپرواہ وہ اس رنگین دنیا میں کھو چکا تھا۔۔۔۔۔

کالی گھنور آنکھیں کشادہ ماتھا ہر وقت ترتیب سے سیٹ کیے ہوئے جل لگے بال جدید کٹنگ کے ساتھ اسے ہر اک میں نمایاں کرتے گندمی رنگت پہ فرینچ کٹنگ بئیر گویا اپنی بے تحاشا خوبصورتی کا اندازہ اسء خود بھی بہت تھا زریں بیگم اور رحمٰن صاحب کی چاروں اولادوں کو خدا نے حسن بے مثال سے نوازا تھا مگر اس سب کا تدراق مشعل اور صارب کو ہی تھا جو اپنے بھائی کے نقش قدم پہ چلنے کیلئے گویا تیار پھر رہی تھی۔۔۔۔

بہنیں ہفتوں اسکی شکل دیکھنے کو ترس جاتی تھیں مگر مجال ہے جو اسے کبھی گھر کا خیال آیا ہو۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

یار صارب رحمٰن کی رات کی پرفارمنس اف کیا کمال کا گائیک ہے یار ۔۔۔۔

حنا کی آواز ریحاب کے کانوں میں پڑی تو جیلسی کی لہر نے اسکے جسم میں سرائیت کی اسے اور لڑکیوں سے اسکا زکر بلکل پسند نہیں آرہا تھا۔۔۔

اور یار اس کا ڈریسنگ سینس اف حنا اک بار پھر صارب نامہ شروع ہوچکی تھی ۔۔۔۔

جبکہ ریحاب نے اپنی چیزیں سمیٹیں اور وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔

جو رشتہ اسکا صارب کے ساتھ تھا وہی باقی سب کا بھی تھا اسے تو شاید معلوم بھی نہیں ہوگا کے اس دنیا میں بھی کو ریحاب ہے ۔۔۔اک ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے اس نے اپنے موبائل والپپر پہ اسکی تصویر کو دیکھا۔۔۔۔

کاش میرے بس میں ہوتا صارب رحمٰن میں تمہیں بتا سکتی کے ریحا کس حد تک تمہاری پوچا کرتی ہے اک اداس سی نگاہ اس پہ ڈالی اور موبائل کو بیگ میں ڈال دیا تھا۔۔۔۔

آج اسکا دل خواہ مخوا ہی اداس ہورہا تھا ۔۔۔۔

باقی کی کلاس بنک کرنے کا سوچتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

اک بےنام اداسی نے اسے اپنے حصار میں لے رکھا تھا شاید بےنامی کا احساس تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

منت بیٹا تو پھر کیا سوچا آپ نے ارحم مصطفیٰ کے بارے

میں رمیز لالہ نے ہلکے سے اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

لالہ آپ اپنے دل سے فیصلہ کریں کیا وہ شخص آپکی منت کے قابل ہے آنسو بھری آواز میں حددرجہ بیزاری تھی۔۔۔

منت میری مجبوری سمجھو بیٹا میں نے بابا سائیں سے وعدہ کیا ہے اگر وہ تمہیں آگے پڑھنے کی اجازت دے دیں تو تم انکی مرضی سے جہاں وہ چاہیں گے شادی کروگی ۔۔۔۔

اس سے بہتر ہے لالہ آپ میرے لیے کوئی سٹینڈ ہی نہ لیں اس شخص کے ساتھ بھی تو میں نے جہنم میں ہی زندگی گزارنی ہے دوٹوک انداز اپناتے ہوئی بولی تھی۔۔۔

آپکو بابا سائیں کی بات ماننے میں کیا حرج ہے ارحم بہت اچھا لڑکا ہے سب سے بڑھ کے اسے تمہارے آگے پڑھنے سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔

رمیز لالہ نے اسے قائل کرنے والے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔

انکی سب سے بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنی اکلوتی بہن کو پڑھتے دیکھیں جو کہ خود اک پروفیسر کے طور پہ کام کررہے تھے مگر ہمیشہ اپنے خاندانی روایات کی پاسداری کی تھی ۔۔۔

انکے ہاں میٹرک کے بعد لڑکیوں کو گھر بٹھا دیا جاتا تھا مگر منت کے معاملے انہوں نے خاندان کے اصول توڑے تھے انٹر میں کامیابی کے بعد اب وہ اسکا میڈیکل میں ایڈمیشن کروانا چاہ رہے تھے مگر بابا سائیں کی کڑی شرط انکے پاؤں کی بیڑیاں بن چکی تھیں جبکہ منت بھی اس چیز سے انکاری تھی۔۔۔۔

ارحم مصطفٰی انکے اکلوتے تایا کا بیٹا تھا مگر غلط کمپنی میں پڑنے کی وجہ سے وہ کب سے تعلیم کو خیرباد کہہ چکا تھا جبکہ منت کو ہمیشہ اس سے چڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

بابا سائیں اپنے اکلوتے بھائی کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے کے خواہاں تھے اکلوتے ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کرڑوں کی جائیداد کا اکیلا وارث تھا بابا سائیں ہر طرح سے اپنا مفاد دیکھ رہے تھے سوائے اپنی اولاد کے ۔۔۔۔

رمیز لالہ بھی بابا سائیں کے خوغرضانہ فیصلے سے اچھی طرح آگاہ تھے مگر وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے ۔۔۔۔۔

چاہے منت پڑھے یا نا پڑھے تب بھی اسکی قسمت کا فیصلہ وہی ہونا تھا جو بابا سائیں چاہتے تھے جبکہ رمیز لالہ انکے فیصلے کی آڑ میں منت کا بھلا بھی سوچ رہے تھے۔۔۔۔

ہر پہلو اسکے سامنے کھول کے رکھا تھا اور فیصلہ منت پہ چھوڑتے وہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے آپکا فیصلہ منظور ہے لالہ مگر میری بھی اک شرط ہے میری پڑھائی کے دوران خاندان میں ہوتی سب سرگرمیاں مجھ سے دور رکھی جائیں گی اور نہ ہی مجھ پہ رخصتی کا کوئی پریشر ڈالا جائے گا جب تک میں نہ چاہوں ۔۔۔

گلوگیر لہجے میں کہتے اپنی شرط بیان کی۔۔۔

رمیز لالہ نے آگے بڑھ کے اسکا سر چوما میرے بچے میں آپکے ساتھ ہوں اس معاملے کوئی بھی آپ سے زبردستی نہیں کرسکتا پراعتماد لہجہ منت کو اپنے قابل فخر بھائی کو دیکھ کے رشک ہوا تھا ۔۔۔۔۔

بابا سائیں کو اسکی رضامندی سے آگاہ کرنے کے بعد وہ شہر کیلئے روانہ ہوگئے تھے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ٹھاہ کی آواز کی آواز نے جنگل کے سکوت کو توڑا تھا ۔۔۔

اسکا پالتو کتا بھاگتا ہوا زخمی خرگوش کو اٹھانے کو لپکا تھا۔۔۔

واہ میرے شیرو کا کوئی نشانہ کبھی خطا ہوہی نہیں سکتا عامر چوہدری نے اسکے شانے پہ حؤصلہ افزائی کرتے ہوئے اک تھپکی دی تھی جبکہ وہ مغرورانہ انداز میں مسکرا دیا تھا گویا تعریف اسکا حق تھی۔۔۔۔

کیا خیال ہے کبھی بڑے شکار کو دبوچا جائے تو ذیشان نے بھی اپنے خیال کا اظہار کیا۔۔۔۔

میری جان ویٹ کر عنقریب بہت بڑا شکار ہاتھ لگنے والا ہے

ارحم نے چہرے پہ بھرپور فاتحانہ مسکراہٹ سجا رکھی تھی جبکہ ان دونوں نے نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا۔۔۔

مطلب کیسے زیشان نے سوالیں انداز میں اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔

اپنا شہری بابو آجکل انکے گھر کی چڑیا اپنے پنجرے میں قید کرنے کا سوچ رہے ہیں بابا سائیں کمینگی سے کہتے اس نے زیشان کو آنکھ ماری جبکہ ان دونوں کے ہونٹ او کی صورت میں سکڑے تھے۔۔۔۔

واہ شیرو تم۔نے تو بڑی اونچی جگہ ہاتھ مارا ہے بلکہ پورا گاؤں ہی اپنے قبضے میں کرنے کا سوچا ہے عامر کے خیالات نے اسکی زہنی رو کوتھپکی دی تھی ۔ ۔۔۔

یہی سمجھ لے تیرا بھائی کیا کرنے والا ہے بہت جلد دیکھو گے تم لوگ ۔۔۔۔

لہجے کا کٹھور پن اسکے اک اک عضو سے ظاہر ہورہا تھا۔۔۔۔۔

منت کے بابا خیام ارحدی اگر بھتیجے کی جائیداد کی لالچ میں بیٹی کو قربان کررہے تھے دوسری جانب بھی نیتوں نے اک جیسا جال بچھا رکھا تھا۔۔۔۔

جبکہ ان سب میں اگر کوئی مظلوم تھا تو وہ منت خیام جو اپنی جائز خواہش کیلئے بھی اپنا آپ قربان کرنے کو تیار ہوگئی تھی ۔۔۔۔

مستقبل کے اندیشے اس کے ڈراؤنے خواب بننے لگے تھے مگر اسکے پاس کوئی اور راہ نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بھائی ہمارا یہ ٹی۔وی بڑی مشک سے بچ گیا ہے ورنہ بابا نے تو ب۔۔۔۔

مشعل کا شکایتی پیریڈ لمبا ہوتے دیکھ رابی نے اس سے موبائل چھینا تھا ۔۔۔

بھائی میرا میڈیکل کا ٹیسٹ کلئیر ہوگیا ہے اب آپ بتاؤ کہاں ایڈمیشن لوں انتہائی ایکسائٹیڈ ہوتے ہوے اس نے اپنی کہانی سنائی جبکہ مشعل نے اپنی بات ادھوری رہ جانے پہ اسے گھورا مگر وہ ڈھیٹ بنی اپنی سناتی رہی۔۔۔۔

میں اک دو دن تک آجاؤں گا پھر مل کے کوئی اچھا کالج سلیکٹ کرتے ہیں اسکے لہجے میں بہنوں کیلئے ہمیشہ پیار ہی پیار بھرا ہوتا تھا اپنی طرح اپنی بہنوں کے لائق فائق ہونے سے وہ بھی آگاہ تھا۔۔۔۔۔۔۔

پر بابا چاہتے ہیں میں امپروو کرکے دوبارہ میت ساتھ ٹیسٹ دوں تاکہ میں بھی آپکی طرح انجینئرنگ پڑھوں رابی نے منہ بناتے ہوے رحمٰن صاحب کی خواہش اسے بتائی تھی ۔۔۔

جو تم پڑھنا۔چاہتی ہو وہی کرو میں بابا سے بات کرلوں گا اسے تسلی دیتے ہوے ادھر ادھر کا حال پوچھ کے فون بند کردیا تھا۔۔۔۔

جبکہ اسکا دماغ الجھ چکا تھا وہ میڈکل پڑھنا چاہتا تھا بابا نے اپنی ضد منوائی اور اس نے بھی درمیانی راہ نکال لی تھی مگر اب رابی کے ساتھ وہی کہانی بابا کیوں اپنے بچوں کو انکی مرضی کا جینے نہیں دیتے اک باغی سوچ اسکے دماغ میں ابھری تھی۔۔۔۔۔۔

ابھی دوبئ میں اسکا اک دن کا مزید اسٹے تھا انکیلئے شاپنگ کرنے کا سوچتے وہ وہاں سے کھڑا ہوگیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *