Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid NovelR50613 Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 06,07)
Rate this Novel
Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 06,07)
Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid
انہیں مال میں گھومتے اک گھنٹے سے اوپر ہوچکا تھا مگر ابھی تک ارحم مصطفٰی کو اسکی پسند کا ڈریس ملا تھا بےجان گڑیا کی طرح وہ اسکے ساتھ گھوم رہی تھی جبکہ وہ ولیمے کے ڈریس کے علاوہ اور بہت کچھ اسکیلئے خرید چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اور کچھ لینا ہے کٹھور لہجہ برقرار تھا اگر کچھ لینا بھی ہوتا تو بھی اسکا غصہ دیکھ کر انکار کردیتی۔۔۔۔۔۔۔
لیڈیز گارمنٹس کی شاپ میں اسے لیے انٹر ہوا رسیپشن پہ ٹہری لڑکی نے مسکرا کے ان دونوں کو ویلکم کیا تھا وہ تنقیدی نگاہ سے ہر چیز کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔۔
منت سامنے موجود ڈمی کا برہنہ لباس دیکھے شرم سے پانی پانی ہورہی تھی ان کے علاوہ بھی کافی خواتین شاپ میں موجود تھیں ۔۔۔
ریسپشن پہ کھڑی لڑکی منت کو کسی چیز میں دلچسپی نہ لیتا دیکھ ارحم کی طرف بڑھی۔۔۔۔
یس مے آئی ہیلپ یو سر اک پروفیشنل مسکراہٹ کے ساتھ وہ مخاطب تھی۔۔۔۔
جبکہ ارحم نے اپنے ساتھ موجود منت کو دیکھا جو زمین پہ نظریں ایسے جمائے تھی جو یقیناً آج کے آج ہی اس مال سے تیل کے خزانے نکال کے جائے گی۔۔۔۔۔۔
من تھوڑا غرائے لہجے میں اسکے کان کے قریب بولا وہ اچھل کے سیدھی ہوئی تھی جبکہ اسکی حرکت ارحم۔کی تیوری پہ مزید بل دے گئی تھی۔۔۔۔۔۔
جانم ہم شاپنگ کیلئے آئے ہیں کچھ دیر کیلئے آپ اپنا رابطہ زمینی مخلوق سے منطقع کرکے اس جانب توجہ دیں گی بھرپور سمائل سامنے کھڑی رسیپشنسٹ کی طرف اچھالتے وہ منت سے مخاطب ہوا تھا ۔۔۔۔۔
منت کنفیوژ سی ٹہری تھی بھلا اس نے اپنی پرسنل شاپنگ کب کی تھی ہمیشہ اماں سائیں ہی کچھ نہ کچھ لے آتی تھیں۔۔۔۔۔
اس خاموش ڈمی بنی منت کو دیکھ اسکا پارہ مزید بلند ہونے لگا تھا۔۔
وہ خود ہی آگے بڑھ کے ڈیلنگ کرنے لگا تھا جبکہ اسکا اتنا کھلا ڈلا انداز منت کو مزید خود میں سمٹنے پہ مجبور کررہا تھا ۔۔۔۔
وہاں سے فارغ ہوکے اک اور شاپ میں گھسا تھا ۔۔۔۔
جیسے اسے خواتین کی شاپنگ کا بڑا تجربہ رہا ہو اس نے رمیز لالہ کو ہمیشہ شاپنگ کے نام سے بھاگتے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
مگر وہ تو مزے سے اسے اک شاپ سے دوسری شاپ لیے گھوم رہا تھا۔۔۔
دو گھنٹے کی خواری کے بعد آخر اسے اک ڈریس پسند آگئ تھی۔۔۔۔۔
اب منت کیلئے اک اور مشکل کھڑی تھی جب اسے ٹرائی کرنے کو کہا تھا بمشکل مجبوری اپنے وزن سے زیادہ ڈریس لیے وہ چینج روم میں گئی تھی جبکہ ارحم وہیں اسکا انتظار کرنے لگا تھا۔۔۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ چادر کو اپنے گرد اچھے سے لپیٹے اسکے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔
میم ایسے کس طرح فٹنگ کا اندازہ ہوگا آپ یہ چادر ہٹا دیں ۔۔۔
ڈیزائینر لڑکے نے چرب زبانی سے کہا جیسے ارحم سے زیادہ اسے جلدی ہو اسے ڈریس میں دیکھنے کی ۔۔۔۔
جبکہ وہیں ارحم نے اسکی بات سن کے مٹھیاں غصے سے بھینچی تھیں جاؤ جینج کرکے آؤ واپس سے تحکم بھرا لہجہ ۔۔۔
مگر سر اس لڑکے کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی اور ارحم۔کے ہاتھوں میں گربیان سے پکڑے اسے اپنے سامنے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم اپنا کام کرو تمہیں کہا کس نے کے تم میری من کی طرف دیکھو بھی آنکھیں نوچ لونگا تمہاری غراتے ہوئے اسکی ناک پہ پنچ مارا تھا وہ۔لڑکھڑا کے پیچھے گرا شاپ اونر بھاگ کے اسکے پاس آیا تھا۔۔ ۔
سوری سر اگر اس نے آپ سے کوئی مس بہیو کیا ہے تو میں معزرت کرتا ہوں سر میم اک نظر حیران سی منت پہ ڈال کے وہ پھر سے ارحم۔سے مخاطب ہوا تھا جبکہ اصل ماجرے سے وہ خود بھی انجان تھا۔ ۔ ۔۔۔۔۔
ڈیبٹ کارڈ اسکے سامنے کیا مالک اسکی بات سمجھ کے جلدی سے پیمنٹ اوکے کرنے لگا تھا جبکہ منت اپنی شامت سے بچنے کو جلدی سے چینج کرنے کو بھاگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
زمین پہ پڑا لڑکا ابھی بھی کراہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
اپنا آرڈر لیتے وہ گھر کو روانہ ہوئے تھے وہ جو پہلے آگ چبائے پھرتا تھا اب تو جیسے رواں رواں شعلے برسا رہا تھا منت نے بھولے سے بھی اسکی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔
یااللّٰہ کیسے رہ پاؤنگی میں اس وحشی کے ساتھ اپنی آنکھوں میں آئے آنسو چادر سے صاف کرتے چور نگاہوں سے اسے دیکھا جو نجانے کن سوچوں میں گم گاڑی بھگائے جارہا تھا۔۔۔۔۔۔
کس بات کا سوگ منایا جارہا ہے مرا نہیں ہوں میں نہ ہی اتنی جلدی جان چھوٹنے والی تمہاری مجھ سے منت بیبی ۔۔۔۔۔۔۔
وہی آگ برساتا لہجہ اس نے جلدی سے اپنے آنسو روکے تھے مبادہ وہ اسے بھی نہ ادھیڑ کے رکھ دے پورا دن تو اس کی ڈانٹ کھاتے ہی گزرا تھا۔۔۔۔۔
گھر پہنچنے تک وہ خود کو نارمل کرچکا تھا مجال ہے جو کہیں رک کے اس سے پانی کا ہی پوچھا ہو وہ شخص ہر طرح سے ہی بے رحم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی پہنچتے ہی انکی خاطر تواضع شروع ہوچکی تھی کھانا سامنے دیکھ وہ بھی کچھ دیر اپنی ٹینشنیں بھلا بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد تائی ماں نے اسے اسکے کمرے میں ریسٹ کرنے کو بھیج دیا تھا جبکہ ارحم مردان خانے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
رات کی تھکن اور دن کی۔مشقت نے اسے بری طرح نڈھال کردیا تھا نرم گرم بستر میسر آتے ہی وہ سوگئی تھی۔۔۔۔۔۔








امجد وہ سانحہ تو اسے یاد بھی نہیں
جو ہم نے عمر بھر کی نشانی بنا لیا
ابے یار فزکس کے نیؤ سر کیا دھاسو پرسانیلٹی ہے بلکل کوئی فلمی ہیرو جیسا ۔۔۔۔
ارم کے تبصرے پہ سب لڑکیوں میں تجسس جاگا تھا۔۔۔
چلو اس کالج میں بھی کوئی اچھی صورت دیکھنے کو ملے گی مجھے چھوڑ کے مشعل نے نازکی سے کہتے اپنے شولڈر کٹ بالوں کو خم دیا جبکہ بغل میں بیٹھی لڑکیاں اسکی اس ادا پہ جل بھن گئی تھیں بے شک وہ بے حدوحساب خوبصورت تھی اور اسے اس چیز کا بھرپور تدراک بھی تھا۔۔۔۔۔۔
تمہاری یہاں دال نہیں گلنے والی مشی بندہ تھوڑا مغرور اور ٹائپ کا لگتا ہے ارم کا تبصرہ سنکے اس نے اپنی خوبصورت آنکھوں کو سیکڑا تھا جیسے ارم کے دماغ خراب ہونے کا خدشہ ہو ۔۔۔۔
بھلا مشعل رحمٰن بھی اگنور کیے جانے والی چیز ہے ہر فن مولا ہر ٹیچر کی فیورٹ ایکسٹرا ذہین فطین سٹوڈنٹ۔۔۔۔
لٹس سی مشعل وہاں پہ موجود رمشہ نے اسے چیلنجنگ انداز میں کہا تھا۔۔۔۔۔۔
اوہو تو کیا ٹریلر دیکھنا چاہو گے تم لوگ چیلنج ایکسپٹ کرتا انداز ۔۔۔۔۔
اوکے ڈن تو چلو تقریباً چھ لڑکیوں کا وہ گروپ اسکے ساتھ اس جانب بڑھا تھا جہاں ارم نے اس نئے ٹیچر کے ہونے کا امکان بتایا تھا اور انکے اندازے کے عین مطابق وہ پرنسپل آفس سے نکلتا کوریڈور سے گزرا تھا جب اچانک تیزی سے سامنے آتے مشعل سے ٹکرایا تھا اپنے دھیان میں آتے حیدر نے اس لڑکی کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
اوئی ماں میرا سر کس پتھر سے ٹکرا گیا شربتی نینوں کے کٹورے آنسو سے بھرے آنے والے کو کوسنے لگی جبکہ حیدر شرمندہ شرمندہ دوزانو بیٹھا اس سے خیریت دریافت کرنے لگا تھا آر یو اوکے گرل ۔۔۔۔۔
اسکی آواز کے جادو نے تو گویا مشعل پہ سحر طاری کیا تھا۔۔۔
اگر آپ یوں کھلے سانڈھ کی طرح گھومیں گے تو بھلا کوئی ٹھیک رہ سکتا ہے۔۔۔
اوئی ماں میرا سر چکرا رہا مجھے لگتا میں بےہوش ہوجاؤنگی ڈرامے بازی کی حد تو آج مشعل پہ ختم تھی آخر کو صارب رحمٰن کی بہن تھی ۔۔۔۔
جبکہ حیدر ششرر بیٹھا اس عجیب وغریب سچویشن سے نمٹنے کی سوچنے لگا تھا جبھی پرنسپل آفس سے نکلتی میڈم نے ان دونوں کو دیکھا واٹ ہیپنڈ مشعل از دئیر ایوری تھنگ اوکے مسٹر حیدر اک نظر مشعل پہ ڈال کے وہ حیدر سے مخاطب ہوئی تھیں جبکہ مشعل اپنے پلان میں میڈم۔کی انٹری دیکھ مدد طلب نظروں سے پلرز کے سامنے چھپی سہلیوں کو دیکھا مگر یہ کیا وہ سب وہاں سے نودو گیارہ ہوچکی تھیں۔۔۔۔۔۔
مشعل کو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے وہ میم اسے سمجھ نہیں آرہی تھی تبھی حیدر نے اسکی مشکل آسان کرتے ہوئے مختصراً اپنے اور اسکے درمیان ہونے والے مس ہیپ کا بتایا اوہ آر یو اوکے مشعل بیٹا میڈم کی تمام تر ہمدردی اپنے کالج کی ٹاپر کے ساتھ تھی ۔۔۔
جی میم اب بہتر ہوں میں چلتی ہوں جلدی سے کہتی وہ وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی تھی جس ڈرامے کو انہوں نے لمبا کھینچنا تھا وہ بری طرح فلاپ ہوچکا تھا ۔۔۔








پھر یوں ہوا کہ دل سے اُتر گیا وہ شخص……!!!!!!
پھر یوں ہوا جان سے پیارا نہیں رہا…….!!!!
صارب کی پرسکون زندگی میں پہلا پتھر تب پڑا جب وہ ملائشیاء میں اک ایونٹ کی آرگنائزیشن کی طرف سے لائیو پرفارمنس کیلئے گیا ہوا تھا۔۔۔
اسکی عادت تھی کہ سونگ شروع کرنے سے پہلے نیم گرم اک گلاس پانی پیتا تاکہ گانے کے دوران آواز میں کسی قسم کی کوئی لرزش پیدا نہ ہو اسکے مداح پوری طرح سے پرجوش انداز میں اسکے نام کے نعرے لگا رہے تھے ۔۔۔
اک مغرور نگاہ اپنے مداحوں پہ ڈالتے اس نے گانا شروع کیا تھا۔۔۔۔۔
باتوں کو تیری ہم بھلا نا سکے
ہوکے جدا ہم نا جدا ہوسکے
اک جزب کے عالم میں کہتے اس نے آنکھوں کو میچا تھا سامنے ہی وہ پری چہرہ پوری آب وتاب سے آٹہرا تھا اپنی حالت پہ قابو پاتے وہ پھر سے شروع ہوا تھا۔ ۔ ۔۔
دل میں ہے زندہ ہے ہر گھڑی تو کہیں
ہوکے جداہم نا جدا ہوسکے۔۔۔۔
اسے لگا شاید اسکی آواز اسکا ساتھ نہیں دے رہی مگر اسکو اپنا وہم گردانتے اس نے گانا جاری رکھا تھا ۔۔۔۔
کتنی چاہت ہے دل میں توں جانے نا
کیسے سمجھائیں دل کو دل مانے نا۔۔۔۔
پوری قوت سے اپنی آواز نکالی تھی مگر اسکے بعد وہ کوئی لے اور طرز نہ پکڑ سکا تھا۔۔۔۔
اپنی حالت پہ پسینہ پسینہ ہوتے اک اور کوشش کرنی چاہی تھی مگر تب تک وہاں موجود ہر شخص اسکی آواز کی لرزش سے آگاہ ہوچکا تھا۔۔۔۔
سس سوری فینز مے آئی ہیو ادر ٹرائی مگر تبھی اسکی آواز کو آڈینس سی آتی لوزر لوزر کی آوازوں نے دبا دیا تھا اور وہ دم بخود اپنے کرئیر کے عروج پہ اپنی اتنی بڑی غلطی کو سرزد ہوتے دیکھ گھبرا گیا تھا ۔۔۔
سپانسرز بھی اپنی لاکھوں کی کمائی کو ڈوبتا دیکھ اسے ملامتی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
اور اسے کوراپ کرتے دوسرے سنگر کو اسکی جگہ پہ کھڑا کردیا گیا تھا اور اس سے معزرت کرتے ہوئے سائیڈ پہ ہوجانے کو کہا گیا تھا اور صارب وہ تو اپنی پوری ہستی سے ہل گیا تھا۔۔۔۔۔
کیسے ہوا یہ سب کیسے کیوں بچوں کی طرح روتے وہ خود سے سوال کیے جارہا تھا جبکہ اسکے کمرے میں لگائے گئے خفیہ کیمرے سے دیکھتے انسان کو اسکی یہ حالت دیکھ بہت سکون ملا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تو ابتداء ہے صارب رحمٰن تمہاری پوری ہستی کو نہ ہلا دیا تو کہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب داستان ہے یہ
کہاں شروع کہاں ختم
یہ منزلیں ہیں کون سی
نہ وہ سمجھ سکے نہ ہم ………..!!!








منت کو تیار کرنے کیلئے بیوٹیشن کو گھر بلایا گیا تھا اک بھرپور نیند کے بعد وہ کافی حد تک خود کو ہلکا پھلکا محسوس کررہی تھی۔۔۔۔۔
بیوٹیشن کی اسکے صبیح چہرے پہ کی گئی محنت رنگ لائی تھی بیوٹیشن خود بھی اپنی کمال مہارت پہ حیران تھی کہ کیسے اس نے خدا کی خوبصورت تخلیق کو پلک نوک سنوار کے مزید جلا بخشی تھی۔۔۔۔۔
تائی ماں بھی اسے دیکھ کے ٹھٹکی تھیں بیشک خدا نے انکے بیٹے کا نصیب بہت پیارا بنایا تھا۔۔۔۔۔
بیوٹیشن کی فرمائش پہ ارحم کو بلایا گیا تھا جو اسے دکھتے دم بخود ہوا تھا مگر جلد ہی اپنی حالت پہ قابو پاتے اپنی ذات کے دائرے میں سمٹا تھا۔۔۔۔۔
اتنے لشکار مار دلہن تیار کرکے آپ نے کونسے انعام وصول کرنے ہیں بیوٹیشن پہ نگاہ ڈالتے اسے سخت سنائی جبکہ وہ بیچاری جو اتنی پیاری دلہن بنانے پہ ارحم مصطفی سے تگڑی رقم وصول کرنے کے چکروں میں تھی ساری خوشی پہ اس نے پانی پھیرا تھا۔۔۔۔
جلدی وہ اپنا سامان سمیٹتی وہاں سے روانہ ہوئی تھی جبکہ ارحم اسے حجاب کرنے کا حکم دے کے وہاں سے چلتا بنا سب خواتین اسکی عجیب وغریب فرمائش پہ حیران تھی بھلا جس دلہن کو دیکھنے اتنے لوگ آئیں گے وہی منہ چھپا ئے بیٹھی ہوگی تو لوگ کیا کہیں گے پر اسکے حکم سے سرکوبی تائی ماں کے بس میں بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔
اسلیئے اسکی کزن نے آگے بڑھ کے سٹائلش انداز میں منت کا حجاب کردیا تھا فینسی دوپٹہ ماتھے کو چھپائے ہوے تھے جبکہ مخملی حجاب سے اسکی آنکھوں کے سوا گردن تک کا حصہّ چھپ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منت اس سائیکو انسان کے بارے مزید نہیں سوچنا چاہتی تھی کیونکہ اسکا ٹریلر وہ مال۔میں دیکھ چکی تھی۔۔۔۔۔
اک مطمئن نگاہ اسکے حلیے پہ ڈالتا وہ اسکا ہاتھ پکڑے سٹیج کی طرف بڑھ گیا وہاں موجود ہر شخص جو ارحم مصطفی کی دلہن دیکھنے کو بیٹھا تھا کھانا کھا کے چلتا بنا تھا کیونکہ اور تو کچھ خاص اب بچا نہیں تھا اس محفل میں منت کے گھر والوں نے رسم کے طور پہ اسے ساتھ لے جانا چاہا تو ارحم نے صاف انکار کردیا کہ وہ ایسی کسی رسم کونہیں مانتا۔۔۔۔۔
مزید جب اسکا دل۔چاہے گا وہ اسے لے ائے گا بغیر کسی کی سنے اپنی سناتا وہ وہاں سے چلتا بنا تھا۔۔۔۔۔۔
جبکہ منت بھی اپنا سا دل۔لے کے رہ گئی اسکا بھی دل تھا کہ وہ اس قید سے رہائی پا کے چند پل سکون کے گزار آئے اپنی ماں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
مگر امیدیں لگائیں بھی تو کس سے وہ اپنے آنسو چھپاتی کمرے میں ہی چلی گئی تھی……۔۔۔۔
اپنی زندگی کے سودوسوزیاں کا حساب لیتے اک مشکل راہ لگ رہی تھی ایسے شخص کے ساتھ رہنا جو کپڑوں کے ساتھ شاید مزاج بھی بدلتا تھا۔۔۔۔۔۔
شکار پہ چلو گی جنگل میں ارحم کی آواز پہ جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے تھے مبادہ پھر سے نا نئی کھپت ڈال لے ۔۔۔۔۔
نہ نہیں مجھے ڈر لگتا گھنے درختوں سے ممناتی آواز وہ مشکل سے سن پایا تھا۔۔۔۔
آہ پھر تو مزہ آئے گا چلو پھر چلتے ہیں اس بازو پکڑ کے کھڑا کیا تھا جبکہ اس نے خوفزدہ نظروں سے ارحم کو دیکھا ۔۔۔۔
ڈریس تو وہ پہلے تبدیل کرچکی تھ اسکے آنے تک سادہ سا حلیہ اپنائے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
اسکا بازو پکڑے تقریباً گھسیٹنے والے انداز میں اپنے ساتھ لیے اپنے اصطبل پہنچا گھوڑوں کی اسمیل نے اسے بے ساختہ ناک پہ ہاتھ رکھنے پہ مجبور کیا گویا وہ انجانے میں ارحم۔کو اپنی اک اور کمزوری ہاتھ پکڑا گئی تھی۔۔۔۔
اپنا پسندیدہ آسٹریلین گھوڑا پکڑے وہ اسکے ہمرا باہر نکلا تھا منت بھی بھاگتے قدمو سے اسکے ساتھ تھی بھلا رات کے اس پہر اپنی نئی نویلی دلہن کو لے کر کوئی نارمل۔انسان ایسا کرسکتا تھا۔۔۔۔۔
کافی دیر چلنے کے بعد قدم آگے بڑھنے سے انکاری تھے۔۔۔۔
اسے لگا اب کے وہ وہیں کہیں گر جائے گی سمجھ نہیں آئی کے اسے کیسے مخاطب کرے۔۔۔
سا سنیں ۔۔۔۔۔
ارحم۔نے اسے مڑ کے دیکھا جیسے پوچھا ہو مجھ سے کچھ کہا ۔۔۔۔
جی میں تھک گئی میرے سے نہیں چلا جارہا۔۔۔۔۔
رونی شکل بنائے اپنا مدعا بیان کیا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے تو پھر گھوڑے پہ بیٹھ جاؤ میں تو کم ازکم نہیں اٹھا کے چل سکتا ۔۔۔۔۔
گھوڑے پہ بیٹھنے کے تصور سے ہی خوف کی اک جھر جھری لی تھی اس نے ۔۔۔
ہم یہی بیٹھ کے سستا لیں تھوڑا سا ۔۔۔۔۔۔۔
کیوں یہ آپکا بیڑروم ہے جہاں میں تمہارے چونچلے سہوں گا۔۔۔۔
آہہنہ پہلے کونسے چونچلے اٹھائے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
بس سوچ سکتی تھی کہنے کی ہمت کہاں۔۔۔۔۔۔
اک جست میں گھوڑے کی پیٹھ پہ سوار ہوا تھا جبکہ منت نے اس وحشت سے دیکھا۔۔۔۔۔۔
تھک تو میں بھی گیا ہوں چلو تمہاری مرضی تم اگر نہیں بیٹھنا چاہتی تو ایسے پیدل چلو کیونکہ کہیں رکنے کا رسک میں نہیں لے سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور منت مزید دو تین قدم۔چل کے ہی ہار گئی تھی جبھی ارحم نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا جسے تھامنے کے سوا اسکے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے آگے سوار کرتے اس نے گھوڑے کو دوڑا دیا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ پورا جنگل گھمانے کے بعد اسے واپس گھر لے آیا تھا
منت کو اسکا پاگل پن سمجھ نہیں آرہا تھا اسکی بے معنی حرکتیں۔۔۔۔
کبھی مال میں لڑکے کو پیٹنا ،پارلر والی کی شامت اور اب رات کے دو بجے سنسان ویران جنگل کا سفر انہیں لایعنی سوچوں میں اسے بیڈ کراؤن سے سرٹکائے نیند آگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







ٹوٹنے کا مطلب ہمیشہ ختم ہونا نہیں ہوتا
کبھی کبھی ٹوٹنا زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔۔
سوئے ہوئے صارب کو لگا تھا کہ اس کے جسم کوئی سوئی چبھی تھی اور اسکے ساتھ ہی وہ اپنے حواسوں سے ہی بیگانہ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح جب اسکی آنکھ کھولی رات اپنے پورے جزئیات سمیت سامنے آٹھری تھی یقیناً اس کے پانی میں ہی کچھ ایسا ملایا گیا تھا جس سے اسکے گلے میں خراش پیدا ہوئی اور آواز ساتھ چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واش بیسن پہ منہ دھوتے اپنے بازو میں چبھن کا احساس ہوا تھا جہاں اک کٹ لگا تھا یہ کیسے کب اک خوفزدہ سی نظر ڈالی شعور کی کسی کونے میں رات کا آخری پہر آیا مگر شاید میرا وہم ہے اسے یاد تھا کے اس نے روم میں آکے گلاس توڑا تھا شاید تبھی کانچ کا کوئی ٹکڑا اسے لگا تھا
سامنے شیشے پہ۔نگاہ ڈالتے ہی شدید خوف کی لہر اسکے جسم میں دوڑی تھی۔۔۔۔۔۔
THE AXE FORGETS BUT
THE TREE REMEMBER
اور ساتھ ایک آنکھ بند کرکے ایموجی بنائی گئی تھی جیسے کسی نے اسکی حالت سے بھرپور حظ اٹھایا ہو۔۔۔
خون سے۔لکھے یہ الفاظ اس نے اک بار پھر اپنی کلائی میں لگے کٹ کو دیکھا تھا مطلب کیسے کوئی اسکے روم تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔
سیکیورٹی وہ بہت جلد پینک ہوجاتا تھا بھاگ کے ہوٹل۔سیکیورٹی کو بلا لایا تھا مگر کوئی بھی اس بات کو ماننے سے انکاری تھا کہ ایسا کچھ ہوسکتا ہے کیونکہ انکی سیکیورٹی فل پروف تھی ۔۔۔۔
تو کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں پاگل ہو گیا ہوں میں۔۔۔۔۔
فرانزک ٹیم کو بلا کے بلڈ ٹیسٹ سمبل لیے گئے اور ساتھ میں شک کی بنا پہ ہوٹل میں مقیم بہت سے اور لوگوِں کے ٹیسٹ بھی کلیکٹ کیے گئے تھے۔۔ ۔۔ ۔۔
کیونکہ معاملہ ہوٹل۔منیجمنٹ کی ریپوٹیشن کا تھا اسلیئے چند گھنںٹوں بعد ہی رزلٹ اسکے سامنے تھا ۔۔۔۔۔
اور ادھر واقعے پہ بنائی گئی رپورٹ بھی جب اسکے سامنے لائی گئی تو اسے لگا اسکا وجود ہوا میں ہی کہیں تحلیل ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
Episode 07
سر حیدر نے کلاس کے دوران ہی مشعل سے اسکا حال پوچھ کے گویا مشعل رحمٰن کو آسمان کی بلندیوں پہ پہنچا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اپنا چیلنج جیت جانے پہ اس نے اک استہرائیہ نظر اپنے گروپ پہ ڈالی جو واقعی اس سے امپریس ہوگئی تھیں۔۔۔
اور پھر اکثر ہونے لگا کہ سر حیدر مشعل کے زمے اپنے سیبجکٹ ٹو ریلٹڈ چھوٹے چھوٹے کام لگانے لگے تھے پوری کلاس میں شاید انکو نام ہی مشعل کا یاد رہا تھا۔۔۔
مشعل اتنے ہینڈسم بندے سے اتنی سی توجہ پا کے ہی بہت خوش ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
مشعل رحمٰن آپکے پاس فلیش ڈرائیو ہوگی مجھے کچھ امپورٹنٹ نوٹس سَٹوڈنٹ کو دینے ہیں اک ویک کی چھٹیاں آرہی ہیں تو آپ کاپی کروا کے سٹوڈنٹ میں ڈسٹربیوٹ کر دیجئے گا ہوسکتا ہے کل سے میں زاتی مصروفیت کی بنا پہ نا آسکوں پوری کلاس نے گویا سکون کا سانس لیا تھا ۔۔۔۔۔
سر حیدر واقعی بہت ٹف ٹیچر ثابت ہوئے تھے انکی چھٹی کا سن کے پوری کلاس کو گو ناگو سکون ملا تھا سوائے مشعل کے مگر وہ پوری کلاس کے سامنے اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی سر کو ڈرئیو پن دینے کے بعد بوجھل دل سے باقی کے لیکچر گزارے تھے چھٹی ٹائم اداس نظروں سے انہیں دیکھا اور ڈرایؤ لے کے واپس آگئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک بار چیک کرلیجئے گا کسی قسم کی کوئی مسٹیک نہ نوٹس میں چہرے پہ پرشفقت مسکراہٹ سجائے وہ اس سے مخاطب تھا ۔۔۔
جی سر مختصر جواب دیتی وہ آفس سے موو کرگئی تھی
جبکہ حیدر نے بغور اسکا نروٹھا انداز دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
گھر آکے مسلسل سر حیدر اسکے دماغ پہ سوار تھے اف مشعل پاگل ہوگئی وہ ٹیچر ہیں تمہارے نو نو۔۔۔۔
اپنی بے قراری پہ وہ خود ہی شرمندہ تھی مگر جن راہوں کا اسکا کمسن دماغ راہی بن بیٹھا تھا وہاں سوائے جزباتیات کے اور کچھ نہ تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے رابی کا لیپ ٹاپ اٹھایا اور اسکے دیے گئے نوٹس چیک کرنے لگی۔۔۔
فائلز اوپن کرتے اک الگ فولڈر نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا شاید سر حیدر جلدی میں کوئی اور فولڈر بھی اس میں ڈال گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
نہیں مشعل۔یہ اچھی بات نہیں کسی کی پرسنل فائل کھولنا مگر دماغ میں پلتا فتور اسے بار بار اس چیز پہ مجبور کررہا تھا ۔۔۔۔
کونسا سر کو پتا چلنا ہوسکتا ان کے کوئی ڈاکومینٹس ہوں اس نے دل ودماغ کی لڑائی دماغ کو ڈانٹ ڈپٹ کرکے اسکا پرسنل فولڈر اوپن کر ہی لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں اک نئی دنیا کا باسی شخص اس کا منتظر تھا دنیا کے کونے کونے میں سر حیدر کی تصویریں موجود تھیں اسکا سمارٹ انداز دیکھ مشعل کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔
اووف یہ مجھے کیا ہورہا سر ہی تو ہیں روز تو کالج دیکھتی ہوں چور نگاہوں سے پھر سے اسے دیکھا کہیں وہ اسکی چوری پکڑ ہی نہ لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک تصویر پہ اسکی نظریں جم سی گئیں تھیں انتہائی ماڈرن اور خوبصورت سی لڑکی اسکے پہلو میں ٹہری مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
حلیے سے وہ مغربی لڑکی ہی لگ رہی تھی مشعل نے غصے سے اسے دیکھا اور تصویر ڈیلیٹ کردی ۔۔۔۔
تصویر ڈیلیٹ کرنے سے کیا تم اسے سر حیدر کی لائف سے نکال دو گی مشعل اک پرمژدگی سی چھا گئی تھی غصے سے لیپ ٹاپ بند کیا ۔۔۔۔۔
کیا ہے میری چیزوں پہ اپنا غصہ کیوں نکال رہی ہو بدتمیز لڑکی آئندہ ہاتھ لگایا نا منہ توڑ دونگی۔۔۔۔
رابی سے اپنے فیورٹ کورین لیپ ٹاپ کی توہیں برداشت نہیں ہوئی جو صارب نے اسپیشل اسکی فرمائش پہ لا کے دیا تھا۔۔۔۔۔
مشعل نے بھی غصے سے نتھنے پھیلائے اسے دیکھا تھا پتا نہیں اسے کس بات پہ اتنا غصہ آرہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں کے سامنے باربار وہ گوری میم اور سر حیدر کا چہرہ آرہا تھا منہ پہ تکیہ رکھے اس نے اپنے بے ساختہ امڈ آنے والے آنسوؤں کو روکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔








رات کے نجانے کونسا پہر تھا جب ارحم۔اسے اٹھا رہا تھا پہلے اسے کچھ سمجھ نہیں آئی مگر اسکی سرخ آنکھیں اور آواز کی لڑکھڑاہٹ نے منت کو الرٹ کیا آج پھر وہ ڈرنک کر کے آیا تھا۔۔۔۔۔
اٹھو اور گھر کے کسی کونے میں پڑ کے سوجاؤ مگر میرا بستر چھوڑو۔۔۔
وہ اک دم سے بستر چھوڑ کے اٹھی تھی اور وہ بستر پہ پڑتے مدہوش ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔
اک ترحم بھری نگاہ اسکی حالت پہ ڈالتی اسکے جوتے اتارنے لگی تھی ۔۔۔۔
کمفرٹ اٹھا کے اس پہ ڈالا اور خود صوفے پہ جاکے سوگئی کچی نیند نے اسے کچھ زیادہ سوچنے کی مہلت نہیں دی اور وہ پھر سے سوگئی۔۔۔۔۔۔
دروازے پہ ہونے والی دستک نے اسے بیدار کیا تھا جبکہ ارحم۔ابھی تک بے سدہ پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
دروازے پہ موجود نوراں نے ان دونوں کو ناشتے کی ٹیبل پہ بلایا کہ بڑے سائیں ان دونوں کا انتظار کررہے ہیں۔۔۔۔۔
اسے آنے کا کہہ کے خو فریش ہونے چل دی تھی ۔۔۔
اور ارحم۔ابھی ویسے پڑا تھا اسے اٹھانا اک مشکل مرحلہ لگ رہا تھا سنیں تایا سائیں نیچے بلارہے ہیں اسکے پاؤں کے پاس کھڑی بلائے جارہی تھی جبکہ وہ ٹس سے مس نہ تھا ۔۔۔۔
ہمت کرتے آگے بڑھی تھی جبھی آہستہ سے اسکا بازو ہلانے کو ہاتھ بڑھایا اگلے ہی لمحے وہ پورے وجود سے اسکے اوپر تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ناگہانی آفت پہ خود کو سنبھال بھی نہیں سکی تھی۔۔
اسطرح سے پاؤں کے پاس کھڑے ہو کے اٹھانے سے گویا تم ارحم۔مصطفی کی توہیں کررہی تھی اسکے گرد اپنی گرفت سخت کرتے ارحم۔نے اسے اپنے جاگتے ہونے کی وضاحت کی تھی۔۔۔۔
وہ۔مم مجھے سمجھ نہیں آئی تو منت کا سانس اسکی اتنی سخت گرفت میں اٹکنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔
آہاں تو اب کس نے الہام دیا کہ اسطرح آکے سوئے شیر کو جگاؤ اسکے بھیگے بالوں میں اپنا منہ چھپاتے وہ بولا تھا جبھی اسے بولنے کو لب کھولتے دیکھ اسکے ہونٹ پہ انگلی رکھ کے اسکے لفظوں کا گلا گھونٹا تھا۔۔۔۔۔۔
بہت فضول بولنے والی لڑکیاں مجھے پسند نہیں من نہ ہی آگے سے زبان چلانے والی۔۔۔۔۔
سو ڈیسائڈ ہوا کے ہر صبح تم مجھے ایسے ہی جگاؤ گی اسکے پہلے سے زخمی ہونٹ پہ دوبارہ وہی عمل دہرایا تھا تھا اور خون کی نکلتی بوند کو اپنی انگلی کی پوروں پہ لے کے منت کے سامنے کیا۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ منت درد کی شدت سے کپکا کہ رہ گئی کوئی اتنا ظالم کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔
ابھی تو پہلا زخم بھرا نہیں تھا بجائے اس پہ مرحم رکھنے کے وہ دوبارہ اسکے زخم ادھیڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے اپنے سے الگ کرتے وہ فریش ہونے چل پڑا تھا جبکہ منت نے اک سسکی لی تھی کیا تھا یہ شخص۔۔۔۔۔۔۔۔
رمیز لالہ کا اسکیلئے فون آیا تھا کہ ایڈمیشن ڈیٹ گزرنے لگی ہے اس نے اب تک کوئی کالج کیوں سلیکٹ نہیں کیا۔۔۔
مجھے نہیں پڑھنا ہے بھیا اپنی تر آواز پہ قابو پایا تھا۔۔۔۔
کیوں ارحم نے منع کیا ہے ۔۔۔۔
کیا فرق پڑتا ہے کوئی منع کرے یا نا کرے مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں یکسوئی سے پڑھائی نہیں کر پاؤنگی شاید اب تو کسی کو بھی میرا آگے پڑھنا پسند نہ آئے خالی خولی نظروں کو چھت پہ ٹکائے بولی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی جلدی تم کیسے گیواپ کرسکتی ہو منت رمیز لالہ نے اپنی آخری کوشش کرنی چاہی تھی۔۔۔۔
میں نے خود کو حالات کی منجدھار میں چھوڑ دیا ہے لالہ آپ پریشان نہ ہوں اپنی بات مکمل کرتے اس نے کال بند کردی تھی جبکہ دوسری جانب رمیز لالہ اپنی چھوٹی سی منت کو اتنی بڑی باتیں کرتے دیکھ افسردہ ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔








سامنے پڑی رپورٹ کے مطابق مرر پہ لگا خون صارب کا اپنا تھا اور سائکٹرسٹ کے مطابق اس نے اپنی ناکامی کو اپنے سر پہ سوار کیا تھا جسکی وجہ سے اس نے اپنے جسم میں ڈرگز انجکٹ کی تھیں اور اسی حالت میں اس نے اپنے جسم پہ کٹ لگا کے خود کو زخمی کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور صارب کولگا پہلے تو وہ مینٹلی ڈس آرڈر کا شکار نہیں تھا مگر پے در پے ہونے والے واقعات اسے ضرور زہنی طور پہ مفلوج کردیں گے۔۔۔۔۔۔
خود کو مزید فرسٹریشن سے بچانے کیلئے وہ ہوٹل سے باہر نکل گیاتھا۔۔۔۔۔۔
بے وجہ سڑکوں پے گھومتے کتنی دیر وہ بھٹکتا رہا تھا
اچانک سامنے سے آتا شخص اس سے ٹکرایا تھا اور اسکے سامنے چاقو لہراتے ہوئے اسکے پیٹ میں گھونپ دیا تھا۔۔۔۔
جبکہ اک دلدوز چیخ اس کے منہ سے نکلی تھی تبھی اس شخص نے میجسٹک چاقو کو اسکے سامنے کیا تھا اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھے خون کے نادیدہ قطرے وہ اپنے ہاتھوں پہ محسوس کرنا چاہتا تھا پر یہ کیا کچھ بھی نہیں ہوا تھا اسے ۔۔۔۔
اسکا مطلب وہ مصنوعی چاقو اس نے الجھ کے سامنے دیکھا مگر وہ نقاب پوش شخص کہیں گم۔گیا تھا دیوانہ وار اس نے بھاگ کے بلیک ہڈی والے شخص کو ڈھونڈا تھا مگر کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔
کیا چلتے پھرتے میں الیوژن کا شکار ہونے لگا ہوں مجھے واقعی کسی سائیکٹرسٹ سے کنسلٹ کرنا چاہیئے۔۔۔۔۔
اپنی بے بسی پہ کڑھتے وہ واپس ہوٹل کی طرف مڑا تھا۔۔۔۔
اس رات وہ سو نہیں سکا تھا کوئی تھا جو مسلسل اسے اپنی نگاہ میں رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔۔
اسکی ہر موومنٹ پہ نظر رکھی جارہی تھی اور خود اور اپنے بازو میں موجود چپ سے وہ باآسانی اسکی ہر حرکت پہ نظر رکھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ پاکستان واپس آگیا تھا۔۔۔۔
اپنے کنسلٹنٹ سے مل کے اپنی حالت بتائی تو اسکا مشورہ یہی تھا کہ اسے کچھ دن کام سے بریک لے لینا چاہیئے ۔۔۔۔۔
اور اسوقت کی سچویشن میں اسے بھی یہی سوٹیبل لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحاب ایسا مت کرو اس بیچارے کے ساتھ علی نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
تم محض شک کی بنیاد پہ کیسے۔۔۔۔
علی تم مجھے اتنا بتا دو کہ تم میرا ساتھ دوگے یا نہیں ۔۔۔
علی صرف اسے دیکھ کے رہ گیا تھا۔۔۔۔۔
ریحاب تم۔میرے لیے سب سے امپورٹنٹ ہو مگر۔۔۔۔۔۔
یس اور نو ۔۔۔۔
بیچارگی سے اسے دیکھتا وہ سر اثبات میں ہلا گیا تھا۔۔۔۔۔
اپنے اپارٹمنٹ میں وہ بے سکون انداز میں سویا تھا جب کھڑکی پہ ہونے والی پراسرار دستک نے اسکی حسیں بیدار کی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
مگر وہ بنا کوئی تاثر دیے لیٹا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
صارب کی طرف سے کوئی حرکت نا پا کے آنے والے کو شاید اسکے سونے کا یقین ہوگیا تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک ہڈی میں ملبوس شخص اسکے سرہانے بیٹھ کے اسکے بال سلہانے لگا صارب کو یہ حرکت سمجھ نہیں آرہی تھی مگر جب اسکی آنکھیں واقعی بند ہونے لگیں تو اسے لگا کہ اسکے سر میں کوئی چیز سرسراہٹ کرنے کے ساتھ اسے مدہوش کررہی اس سے پہلے کے وہ مکمل اپنے حواس کھو دیتا اس نے اک جھٹکے سے اپنے اوپر جھکے شخص کو دونوں ہاتھ کمر میں ڈالے اپنے اوپر گراتے سائیڈ پہ ہوا تھا۔۔۔
اور وہ اس اچانک حملے کو تیار نہیں تھا تبھی منہ کے بل بستر پہ گرا تھا ۔۔۔
صارب نے اسکے دونوں ہاتھ اسکی پشت پہ کیے تھے اور اسکے منہ سے بلیک ماسک ہٹانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
جبھی اسکے پیٹ پہ رسید ہونے والی لات نے اس شخص پہ اسکی گرفت کمزور کردی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور اسکی گرفت ڈھیلی پاتے اک زور دار مکا اسکے سر پہ مارا تھا صارب نے اپنے بچاؤں کیلئے اسی کا سہارا لینا چاہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اس دھکم پیل میں وہ اتنا اندازہ لگا چکا تھا کے اسکا مقابلہ اک نسوانی جسم سے ہے اپنے حواسوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کی مگر وہ نیچے گرا تھا اسکے پیٹ میں اک اور زوردار لات پڑی تھی اور اسکی رہی سہی ہمت بھی ختم ہوگئی تھی۔۔۔۔
دھندلی پڑتی آنکھوں سے اس نے بلیک ہڈی کو کھڑکی سے چھلاوے کی طرح چھلانگ لگاتے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کیا ہوگا ریحاب ۔۔۔۔۔
علی کی پریشان آواز کمرے میں گونجی تھی۔۔۔۔
جبکہ ریحاب کی دل کی دھڑکن تیز تھی۔۔۔۔
میرا مقصد اسے مارنا نہیں ہے علی میں صرف اسے ٹارچر کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ریحاب کی بے بس آواز کمرے میں گونجی تھی۔۔۔۔۔
ہمیں یہ کام فوراً کرنا ہے ریحا ورنہ وہ مربھی سکتا ہے علی کی آواز پہ اسکا دل لرزہ تھا بھلا وہ اس شخص کو اپنی وجہ سے مرتے کیسے دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔۔







ھم تُجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ھیں
جس طرح لوگ ، سکوں ڈھونڈتے ھیں
اگلے دن مشعل نے پوری کلاس کو سر حیدر کے نوٹس دے دیے تھے۔۔۔۔۔
کچھ سوچتے وہ ایڈمن آفس چل پڑی تھی۔۔۔۔۔
مجھے سر حیدر کا سیل فون نمبر چاہیئے آئی مین مجھے ان سے سٹڈی کو لے کچھ ہیلپ۔لینی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کلرک کو مشکوک انداز میں اپنی طرف دیکھتے پا کے وہ گڑبڑائی تھی۔۔۔
پر ہم۔ود آؤٹ پرمیشن آپکو ایسے نمبر نہیں دے سکتے انکی بات پہ وہ جزبز ہوکے رہ گئی تھی ۔۔۔۔
آپ انکو کال کرکے پوچھ لیں مشعل رحمٰن انکا نمبر مانگ رہی ہیں وہ منع نہیں کریں گے نجانے کونسا جزبہ تھا جو اسے اتنا پریقین کرگیا تھا۔۔۔۔۔
کلرک نے اک نگاہ اسکے کنفیڈینٹ چہرے پہ ڈالی اور ٹیچر ڈائری سے اسکا نمبر لکھ کے دے دیا ۔۔۔۔۔
اس کا نمبر ہاتھوں میں لیے وہ اتنی خوش تھی گویا ہفت قلیم کی دولت اسے مل گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔
اب اسے چھٹی ہونے کا انتظار تھا تاکہ وی گھر جاکے اس سے رابطہ کرسکے۔۔۔۔۔۔۔
سرہانے بجتا سیل اسے بری طرح غصہ دلا گیا تھا نیا نمبر دیکھ اس نے کال ریجکٹ کی اور پھر سے آنکھ موند لی جبکہ مشعل کو تو گویا لگ گئی تھی کہ کیسے اسکی کال۔کٹ ہوگئی اس نے دوبارہ کال شروع کی تھی۔۔۔۔۔
حیدر نے کال کرنے والے ڈھیٹ انسان کو کھری کھری سنانے کو کال اٹینڈ کی جبکہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں ہیلو کیا تھا ۔۔۔
مشعل اسکی آواز سنکے تھوڑی دیر کو جم سی گئی تھی ۔۔۔
خاموشی حیدر کو مزید زچ کررہی۔تھی تبھی مشعل نے جلدی سے ہیلو بولا تھا۔۔۔۔
رات کے اس پہر نسوانی آواز سن کے حیدر حیران ہوا تھا بھلا اس ٹائم اسے کون فون کرسکتا تھا۔۔۔۔۔۔
ہیلو سر حیدر بات کررہے ہیں۔۔۔۔
جی بول رہا ہوں آپ کون ۔۔۔
حیدر سر کے تخاطب پہ چونکا تھا ۔۔۔۔
سر میں مشعل آئی میں مشعل رحمٰن پہچانا آپ نے مجھے۔۔
جبکہ حیدر اب پوری آنکھیں کھولے اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔
آپکو میرا نمبر کس نے دیا حیرت اور غصے میں ڈوبی آواز مشعل کو لگا آج اسکی خیر نہیں پتا نہیں کیا سوچ رہے ہونگے وہ اسکے بارے۔۔۔۔۔
ایکچوئلی سر میں نے سٹاف سے سنا تھا کہ آپکی طبیعت ٹھیک نہیں تو سوچا آپ کی عیادت پوچھ لوں۔۔۔۔۔
مشعل نے بودا سا بہانہ پیش کیا اور وہ خود ہی پچھتائی تھی اگر اس نے پوچھ لیا کے پوری کلاس میں اک آپکو ہی میری طبیعت کی کیوں پڑی تو پھر۔۔۔۔۔
یہ کونسا طریقہ ہے رات کے 12 بجے کسی کو نیند سے اٹھا کے اس سے طبیعت پوچھنے کا مس مشعل۔۔۔۔۔۔
پہلے کی نسبت غصہ کم۔تھا مگر پھر بھی مشعل کو اپنی انسلٹ فیل ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
سوری سر جلدی سے کہتے اس نے کال بند کی تھی۔۔۔۔
اک۔دم اسکے اردگرد گہرا سناٹا پھیلا تھا۔۔۔۔۔
