Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid NovelR50613 Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 05)
Rate this Novel
Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 05)
Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid
ریحاب لڑکھڑاتے قدموں سے سٹوڈیو سے نکلی تھی جو وہ چاہتی تھی وہی تو ہوا تھا صارب کو غصہ دلانا چاہتی تھی وہ تو اسکی آنکھوں میں تحریر تھا مگر کچھ اور بھی تھا ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔
کیا تھاوہ چیلنج کرتی نگاہیں ۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ میں ویسی لڑکی نہیں ہوں پھر اس نے کیوں عجیب وغریب ڈیمانڈ رکھی تھی ۔۔۔
وہ جو اسکو کچھ نئے چیلنج دینے گئی تھی بری طرح اپنی ذات کی مجرم بن گئی تھی۔۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے وہ کسی کو بنا کچھ کہے اپنے روم میں بند ہوگئی تھی ۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ صارب اسے کبھی بھی سلیکٹ نہیں کرے گا تب وہ اسکے سامنے کھڑی ہوگی اپنے سلیکٹ نہ جانے کی وجہ پوچھے گی ۔۔۔۔۔۔
کہ وہ اس سے ڈر گیا ہے۔۔۔۔۔۔
مگر یہاں تو کھیل شروع ہونے سے پہلے ختم ہو چلا تھا۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔
شام کو اک اور ہنگامہ اسکا منتظر تھا۔۔۔۔۔۔۔
شاہد علوی کی بیٹی اب ایٹم سونگ پرفارم کرے گی کہاں ہے وہ بے حیا ،بے غیرت جو خاندان کی عزت نیلام کرنے چلی ہے ۔۔۔
شاہد علوی کی آواز نے لاؤنچ میں بڑھتے اس کے قدم سست کردیے تھے ۔۔۔ ۔
اوہ تو وہاں جو کیا کم تھا کیا جو گھر بھی بتا دیا بڑی مشکل سے شکست پائی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کی تھی اس نے اس بات کو وہی دفن کیا مگر اک نیا تماشہ اسکا منتظر تھا۔۔۔۔۔۔
آپ کو غلط فہمی ہورہی ہے علوی صاحب ورنہ ریحا کچھ بھی کرنے سے پہلے مجھ سے ضرور ڈسکس کرتی ہے تو۔۔۔
باسس یہ سب آپکی تربیعت کا نتیجہ ہے جو آج وہ ہمارے سروں پہ ناچنے لگی ہے ایسی ناخلف اولاد کو میں گولی مار دوں تو اچھا ہے ۔۔۔۔۔
شاہد علوی کا غصہ عروج پہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جو بویا تھا اسکے کاٹنے کا وقت آ گیا تھا مگر اتنی جلدی ریحاب کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا ۔۔۔۔۔
نفرت اور غصے کی اک شدید لہر سی اسکے جسم میں خون بن کے دوڑی تھی۔۔۔۔۔۔
بابا میں نے ایسا کچھ نہیں کیا وہ تو جسٹ فار فن دوستوں ساتھ۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی کیا صفائی پیش کرے ۔۔۔۔۔۔
جسٹ فار فن واؤ ریحاب ملک نے جسٹ فار فن لوگوں کے سامنے خود کو ایکسپوز کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
غصے سے وہ اسکی جانب لپکے تھے۔۔۔۔
جبکہ ریحاب نے انجان نظروں سے انہیں دیکھا بھلا اس نے خود کو کب کسی کے سامنے ایکسپوز کیا تھا۔۔۔۔۔
ہمارے بے جا لاڈ اور نرمی کا تم نے فائدہ اٹھایا ہے ریحاب
ملک شاہد نے اپنے الفاظ کے ساتھ ایک پارسل بھی اسکے منہ پہ مارا تھا جو اس سے ٹکرا کے بعد زمیں بوس ہوا تھا۔۔۔۔
سٹیج پر ڈانس کے مختلف پوز دیتی وہ یقیناً ریحاب تھی۔۔۔
نہیں وہ بھلا کب وائٹ ڈریس میں ہر طرح سے اک ماہر رقاصہ کے جیسے سٹیپ۔۔۔۔۔۔۔
ریحاب نے آنکھیں پھاڑے غور سے ان تصویروں کو دیکھا۔۔۔
نہ نہیں بابا یہ میں نہیں ہوں اسے لگا شاید ان تصویروں کی وجہ سے اسکا باپ اس سے بدگمان ہورہا ہے وہ بھاگ کے اپنی صفائی دینے گئی تھی مگر دوسرے ہی لمحے شاہد علوی کا ہاتھ اسکے روئی جیسے سفید عارضوں پہ لالی چھوڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
جب کے وہاں موجود مسسز علوی اور اندر داخل۔ہوتے سیلمان علوی کی سانس تھم سی گئی تھی۔۔۔۔
ریحاب نے بے یقینی سے باپ۔کو دیکھا تھا جس نے بغیر تصدیق ہی اتنی بے۔اعتباری دکھائی تھی۔۔۔۔۔
بابا سیلمان کی آواز نے لاؤنچ میں چھائی پراسرار خاموشی کو توڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اگلے لمحے ریحاب کے پاس پہنچا جو ابھی تک سہمے ہوئے بچے کی طرح ٹکر ٹکر باپ کو دیکھے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
آؤ تم بھی دیکھ لو اپنی لاڈلی کے کارنامے ٹیبل سے پڑا اک کانٹریکٹ پیپر اٹھا کے سیلمان کے آگے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انٹرویو دینے گئی تھیں آپکی لاڈلی بہن اور اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرکے آئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
،اور مبارک ہو سلیکٹ بھی ہوگئی ہیں زیدی پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے ایز آ ایٹم گرل پرفارمنس دیں گی علوی خاندان کی ہونہار بیٹی ۔۔۔۔۔۔
ریحاب علوی ۔۔۔۔۔
اک اک لفظ پہ زور دیتے بابا نے سیلمان کے آگے شاید غیر دانستہ طور پہ تھپڑ مارنے کی صفائی دی تھی جبکہ سیلمان کے قدم بھی باپ کی اس بات پہ تھوڑا لڑکھڑائے تھے۔۔۔۔۔۔
اک نظر ان پیپرز پہ ڈالنے کے بعد ریحاب کے بے جان ہاتھوں میں پکڑی تصویروں پہ ڈالی گویا پوری چھت اپنے حجم۔سمیت اس پہ آگری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ریحاب کا رہا سہا اعتماد سیلمان کی خود پہ جمی بے یقین نظروں نے ختم۔کردیا تھا ۔۔۔
وہ بنا مزید اپنی صفائی میں اک لفظ بولے شکست خوردہ سی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ یہ حرکت سوائے صارب کے کسی کے نہیں ہوسکتی مگر کیوں ،کس لیے اس چیز کا جواب اس سے بڑھ کے بھلا کس کے پاس ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کدھر جارہی ہو تم جیسی ناپاک اولاد کی اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے جو باپ اور بھائی کی عزت بازاروں اور چوراہوں میں رولتی پھرے۔۔۔۔۔
سانپ کا سر زہر اگلنے سے پہلے ہی کچل دیا جائے تو اچھا ہے۔۔۔۔۔۔
اپنے ماڈرن باپ کے منہ سے ایسے الفاظ سن کے اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔۔۔
کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کا باپ بھائی اور ماں کس حد تک ماڈرن تھے جو ہائی سوسائٹی میں موو کرنے کیلئے ہر حد سے گزرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
پھر اس پہ اس حد تک زک رگزائی کیوں اسکے معا
ملے اتنی سطحی سوچ کس لیے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی بنا جرم کے۔۔۔۔
مگر اپنوں کی بے اعتباری اسے پورے وجود سے منہدم کر رہی تھی اور پھر اس نے اندر بڑھتے قدم باہر کو بڑھا دئیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی اپنوں کی بے اعتباری کے ساتھ وہ کہاں جائے گی مگر علوی ہاؤس سے اسنے اپنا ناطہ توڑ لیا تھا بنا پیچھے مڑے بنا کسی کو دیکھے وہ گھر چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اسکا جرم اتنا بڑا نہیں تھا جتنی بڑی سزا اسے سنائی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔










چھوٹی سائیں ۔۔۔ باہر گاڑی میں ارحم بابا آپکا انتظار کررہے ہیں ۔۔۔۔۔
صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے وہ نڈھال سی بیٹھی تھی جب نوکرانی نے آکے اسے ارحم کا بتایا۔۔۔۔
کیوں کہاں جانا ہے ۔۔۔۔
شاید ولیمے والی بات اسکے زہن سے محو ہوگئی تھی ۔۔۔
وہ جی بڑی سائیں نے کہا ہے شام کیلئے ولیمے کے کپڑے لینے ہیں نوراں نے اک بار پھر وضاحت کی جبکہ وہ پہلے بھی اسے بتا کے گئی تھی ۔۔۔
ہننم آرہی ہوں میں۔۔
اپنے حلیے پہ سرسری نظر ڈالتے وہ اسکے ساتھ جانے کو کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر تائی ماں ارحم۔کے ساتھ ٹہری باتوں میں مشغول تھیں جب انکی نظر نئی نویلی دلہن پہ پڑی تھی۔۔۔۔۔
یہ کیا بہورانی بغیر سولہ سنگھار کیے اپنے شوہر کے ساتھ جاؤ گی تو لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔۔۔
تائی کو اسکا سوگوار انداز بلکل پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔
جبکہ وہ چپ ان کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
میری بہو کو ساری ضرورت کی شاپنگ کروا دینا ارحم سائیں اپنے ہاتھوں سے سونے کے موٹے موٹے کنگن اتار کے اسے پہنائے مگر اسکے نازک سے مخروطی ہاتھ اتنے بڑے کنگن سہل نہیں کرپائے آہ۔۔۔۔
تمہارے ہاتھ تو اتنے چھوٹے چلو کوئی نہیں ارحم بابا بھابی جی کو نئے کنگن پہنا دیجئے گا اسکی کزن نے مفت مشورے سے ارحم۔کو نوازا جبکہ وہ ایسے ہی بے پرواہ سی ٹہری رہی جیسے اس کی نہیں کسی اور کی بات ہو رہی ہو۔۔۔۔۔۔
اے لڑکی بھاگ کے جا اندر سے چادر لے کے آ ۔۔۔۔۔
تائی نے اک اور حکم۔دیا جبکہ منت اپنے سامنے اتنی بڑی چادر دیکھ گھبرا گئی اس نے تو کبھی چادر لی نہی تھی۔۔۔
چلیں ارحم نے اسکا ہاتھ پکڑا وہ جیسے گہری نیند سے جاگی تھی۔۔۔۔۔
سر اثبات میں ہلاتے اسکے ساتھ ہو لی تھی۔۔۔۔۔۔
ڈرائیور نے آگے بڑھ کے اسکیلئے فرنٹ ڈور کھولا جبکہ دوسری طرف ارحم نے ڈرئیونگ سیٹ سنبھال لی تھی ۔۔۔
خاموسی سے اک ربوٹ کی مانند وہ سارے حکم۔بجا لا رہی تھی۔۔۔۔
منت نے اپنی نگاہ باہر دوڑتے بھاگتے مناظر پہ جما دی ارحم نے اس کا لاتعلق انداز دیکھا مگر بنا کچھ کہے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی تھی ۔۔۔۔۔۔
منت کی خاموشی ارحم کو بہت چبھ رہی تھی مگر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اس بولتی مینا کو اوپس کسطرح بولنے پہ اکسائے۔۔۔
گاڑی کی سپیڈ سلو کرتے اس سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
تم نے رمیز لالہ سے میری شکایت کرکے اچھا نہیں کیا من۔۔۔۔۔
اسکی بات پہ منت نے حیرت سے اسے دیکھا بھلا اس نے رمیز لالہ کو کب کوئی بات کی تھی۔۔۔۔۔
تم ایڈمیشن کیلئے خود منع کروگی کہ تم۔مزید نہیں پڑھنا چاہتی۔۔۔۔
ارحم۔کی بات سن کے اس کا دل دھک سا رہ گیا بھلا وہ کیسے اپنے خوابوں کی کرچیاں کردے۔۔۔
جب وہ مزید ہوا۔۔۔۔
تمہیں اس خاندان کے اصول اچھے سے پتا ہیں شہر جاکے پڑھ لکھ کے لڑکیوں کے دماغ خراب ہوجاتے ہیں وہ پرکھوں کی پگڑیاں مٹی میں روندنے میں اک منٹ نہیں لگاتیں۔۔۔
کسی بڑے ناصح کی طرح وہ منت سے مخاطب تھا جبکہ اسکا دماغ تو اسی بات پہ اٹک گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے رمیز لالہ کو منع کردے۔۔۔۔۔
میں تم سے مخاطب ہوں پاگل نہیں ہوں جو ہواؤں سے باتیں کروں تیکھے چتونوں سے اسے گھورتے اک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی جبکہ وہ اپنا بچاؤ بھی نہیں کرسکی اور سر گاڑی کے ڈیش بورڈ سے ٹکرایا تھا زخم سے اک ٹیس سی اٹھی تھی جبھی ارحم نے دوبارہ اسے کھینچ کے اسکی پوزیشن میں بٹھایا اسکی گرفت میں کسی قسم کی کوئی نرمی بھی نہ تھی۔۔۔۔
اِک تــــری بات، کِہ جِــــس بات کی تَــــردید مُحَال
اِک مِــرا خُواب، کِہ جِــس خُواب کی تَعـــبیر نہیں
جج جی میں منع کردونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے حق سے اتنی آسانی سے دستبردار ہونا منت نے سیکھا تو نہیں تھا مگر شاید اسے بھی اپنے لیے وقت درکار تھا یا شاید اپنی ناکامی کا بوجھ وہ اسکے سامنے نہیں لانا چاہ۔رہی۔تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ بہت اچھی جارہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ آسان ہدف ثابت ہوئی ہو
فضول بحث ومباحثے میں پڑنے والی لڑکیاں ویسے ہی مجھے ظاہر لگتی ہیں گھنی موچھوں تلے خوبصورت بھرے بھرے سے ہونٹ شطرانہ انداز میں مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ منت کا دل چاہا کہ وہ چیخ چیخ کے اس سے کہے نہیں وہ یہ نہیں چاہتی وہ اپنا خواب پورا کرنا چاہتی ہے وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔
مگر صرف اپنے اندر کی جنگ سے نبزد آزما تھی اسکی کیا مجال تھی جو ارحم مصطفٰی کے آگے کچھ بولے۔۔۔۔
کیا پتہ ساری تمنائیں دھواں ہو گئی ہوں
کچھ نکلتا ہی نہیں دل سے ، سوائے ہائے
اک بڑے مال کے سامنے گاڑی روکتے اسے بھی اپنے ساتھ نکلنے کا اشارہ کیا تھا منت کو اپنی اتنی بڑی چادر سے الجھن ہونے لگی ڈرتے ڈرتے اس نے نیچے قدم۔رکھا تھا۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ اسکی حالت سے بے نیاز دو قدم آگے چل۔رہا تھا۔۔۔
وہ بے حال ہوتی کبھی چادر کا کوئی کونہ پکڑتی کبھی کوئی پلو۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک اپنی چادر کا اک کونہ اسکے پاؤں کے نیچے آیا اور دھڑام سے زمین بوس ہوئی اردگرد کے لوگ اس کی طرف متوجہ ہونے لگے تھے۔۔۔۔۔
اور وہ بنا اسکی طرف دیکھے اپنی دنیا میں مگن آگے بڑھ چکا تھا جب اسے احساس ہوا کے شاید منت اسکے پیچھے نہیں ہے ۔۔۔۔
پیچھے مڑ کے دیکھا تو واقعی نہیں تھی الٹے قدموں واپس بھاگا تھا جب اک لڑکے کو ازراہ ہمدردی منت کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھ ٹھٹکا تھا۔۔۔۔۔
لمبے ڈگ بھرتا وہ اسکے سر پہ پہنچا تھا اور اک جھٹکے سے اسکے بڑھے ہاتھ کو پیچھے کیا جبکہ وہ بیچارہ اپنے اوپر اچانک آنے والی آفت پہ ہڑ بڑا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ڈونٹ ٹچ ہر ۔۔۔۔۔۔۔۔
انگلی کے ساتھ انکھوں میں میں بھی واضح تنبہیہ تھی۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ منت اس آکورڈ سچویشن سے نکلنے کی خود ہی کوشش کرنے لگی تھی جبھی ارحم نے کڑے تیوروں سے اس گھور کے اسکے بازو سے پکڑ کے کھڑا کیا۔۔۔۔۔۔۔
کیا مصیبت آن پڑی تھی جو پبلک پلیس میں زمین پہ سجدے کرتی پھر رہی۔ہو اپنے اندر اٹھتے شدید اشتعال پہ غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کے باوجود بھی اسکی آواز اونچی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ چہ چا۔چادر سہمی ہوئی چڑیا کی طرح چہ چہ کی۔۔۔۔ جبکہ ارحم کو اسکا انداز مزید بھڑکا رہا تھا۔۔ ۔۔
وہ چادر میرے پاؤں سے اٹک گئی تھی۔۔۔۔۔۔
گلے میں اٹکے آنسو کی نمی اپنے اندر کو اتارتے مشکل سے بولی۔۔۔۔
آنکھوں میں آنسوؤں نے دھند کی چادر اوڑھی تھی ناچاہتے ہوئے بھی آواز بھی پلکوں کے ساتھ بھیگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
ارحم اک دم سے اسکے رونے پہ نرم پڑا تھا ۔۔۔
تو کس نے کہا تھا کپڑوں کا تھان ساتھ لیے پھرو گھورتے ہوئے اسکی چادر کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا اور وہ اپنا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی۔۔۔
ارحم۔نے چادر کو دو تہوں میں فولڈ کیا اور آگے بڑھ کے اسکے دونوں شانوں پہ چادر پھیلائی تھی اسطرح کے اسکا آدھاوجود اس چادر میں چھپ گیا تھا دونوں بازوں کے گرد لپیٹ کے اس نے چادر کا سائز کم کردیا تھا اور اسے بھی اب آسانی رہی تھی سنبھالنے میں۔۔۔۔
چلو ۔۔۔
اک بازو اسکے گرد پھیلایا تھا۔۔۔۔۔
اور وہ مکمل اسکے حصار میں چھپ سی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
اسے لیے وہ مال میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
خوشبو کی ترتیب ہَوا کے رقص میں ہے…
میری نمو میرے ہی جیسے شخص میں ہے






وفا کی ، چاہتوں کی
مشعلیں کیسے بجھاتے ہیں ؟
نشاں ، کیسے مٹاتے ہیں ؟
بھلانا ہو جنہیں، ان کو !
بھلا کیسے بھلاتے ہیں؟………
ریحاب کب تک یوں خود کو اندھیروں کی نظر رکھو گی کمرے میں داخل ہوتی زویا نے لائٹس آن کی تھیں۔۔۔
پلیز زوئی مجھے ان روشنیوں سے مت روشناس کرواؤ جہاں آپکو جگ ہسائی کے علاوہ کچھ نہ ملے اندھیرے کہیں بہتر ہیں ان اجالوں سے جہاں کوئی کسی کو نہیں پہچانتا بھرائی ہوئی آواز زویا کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔۔
بس ہوگیا فلسفہ پورا دیکھو میں تمہارے لیے کیا لائی ہوں اسپیشل مما سے بنوایا ہے اسے بازو سے گھسیٹتے زویا نے بغیر کسی بات پہ توجہ دیے کہا تھا۔۔۔۔
چاروناچار وہ اٹھ کے اسکے برابر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
ایک ہی ہفتے میں وہ صدیوں کی بیمار نظر آرہی تھی شوخ وشغل سی ریحاب تو کہیں کھو سی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکومینٹس لائی تم میرے اک سوالیہ نگاہ زویا پہ ڈالی۔۔۔۔۔
ہاں یار بڑی مشکل سے لائی ہوں ممانی کی نگاہ سے۔۔۔۔۔ سندس علوی کے ہاتھ کی بریانی نے اسے بری طرح گھر کو یاد کروا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاکرہ اک ڈش بھر کے میرے روم فریج میں رکھ کے آؤ بریانی کے معاملے نو کمپرومائز بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ندیدے پن سے کھاتے شاکرہ کو آرڈر جاری کیا تھا ۔۔۔۔۔
موٹی ہوجاؤگی پھر بھینس کیلئے ہمیں اسکا جوڑ کہاں سے ملے گا علی نے اسکی ربن کیے بالوں کو چھیڑا تھا۔۔۔۔۔
علی تم سے تو اچھی ہی لگوں گی لم ڈھینگ۔۔۔۔
اسکے لمبے قد کو ہیمیشہ تنقید کا نشانہ بناتی تھی۔۔۔۔۔۔
نو شاکرہ جیسے ریحا کہہ رہی اس کے کیلئے ڈش بھر کے فریج میں رکھو باقی کسی کیلئے کچھ بچے نا بچے میری گڑیا کیلئے سٹور کردو۔۔۔۔۔
بابا آپ۔بھول رہے ہیں خوراک سٹور صحرا کا بادشاہ کرتا اور۔۔۔۔۔
علی کے منہ پہ پڑنے والے کشن نے اسکی بولتی بند کروا دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہے میرا جڑواں بھائی قسم اٹھاوا لو مما ہاسپٹل میں کسی کے ساتھ چینج ہوگیا ہے خون سفید ہے اسکا ریحاب کے معاملے ۔۔۔۔
دہائی دیتے وہ بی ماؤں کے انداز میں سینہ پیٹتی اسے طعنے کوسے دینے لگی جبکہ شاکرہ سمیت سب اسکی ادا پہ ہنس پڑے تھے ۔۔۔۔
اسکے دم سے ہی تو علوی ہاؤس میں رونقیں تھیں پاپا کی مینا ۔۔۔
جب شاہد علوی کو اس پہ زیادہ پیار آتا تو اسے مینا کہہ کے بلاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اس مینا کی آواز انہوں نے اپنی ہاتھوں سے گھونٹ دی تھی ۔۔۔۔۔۔
اک ہچکی سی لگ گئی تھی اسے ریحا کیا ہوا دھیان سے کھاتی مرچی تیز ہے کیا مما نے تو تمہارے ٹیسٹ کے مطابق بنائی تھی زویا پریشان سی اسکی پیٹھ سہلاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔۔
ہاں زویا مرچی بہت تیز ہے تم نے پھوپو کو بتایا نہیں انکی ریحاب کا ٹیسٹ اب بدل گیا ہے اعلٰی ذوق کے کھانے اسے پسند نہیں رہے اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ اعلٰی ہاؤس سے اٹھ کے اک نچلے درجے کے ہاسٹل میں آگئی ہے زویا جہاں دو وقت کا پھیکا بدزائقہ۔کھانا اسے راس آگیا ہے ۔۔۔۔۔
آنکھوں میں اترتی نمی کو اس نے جلدی سے صاف کیا تھا جبکہ زویا نے اسکی حالت زار پہ افسوس کیا تھا واقعی ریحاب بدل گئی تھی ۔۔۔۔۔
گھر سے نکلتے زویا نے اسے اپنے پاس روکنے کی بہت کوشش کی تھی مگر وہ نہیں رکی تو اسکی ضد پہ انہوں نے زویا کی مد میں اسکی اک دوست کی معرفت ہاسٹل میں روم لیا تھا جہاں اک ہفتے سے وہ رہائش پزیر تھی۔۔۔۔۔۔
انہی چند جوڑوں میں گزارہ کررہی تھی جو زویا نے اسے لا کے دیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہد علوی اور سیلمان اسی شام بزنس ٹور پہ اسلام آباد کو روانہ ہوگئے تھے انہیں لگ رہا تھا کہ ان کی طرح ریحاب کا جزباتی پن ختم ہوجائے گا مگر جب وہ اک ہفتے بعد لوٹے تو اک خبر انکی منتظر تھی کہ ریحاب انکے جانے کے بعد گھر ہی واپس نہیں آئی وہ بھاگ کے سندس کے پاس گئے مگر زویا اور انہوں نے لاعلمی کا اظہار کردیا جبکہ وہ دونوں ہی جانتی تھیں کہ وہ اسوقت کہاں ہے زویا نے منہ کھولنا چاہا تو سندس علوی نے آنکھوں سے تنبہی کرکے اسے روک دیا تھا جبکہ زویا ماں کا یہ رویہ سمجھ نہیں سکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہد علوی جن کو لگ رہا تھا کہ وہ اسے چند گھنٹوں کی سزا سے سدھار لیں گے تاکہ وہ آئندہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے وہ جو منتظر تھے کہ بیٹی کب باپ کے پاؤں پڑ کے معافی تلافی کرتی ہے ریحاب انکے سارے عزائم سے لاعلم گھر کی دہلیز پار کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چند خواب ،
وہ اک دل ،
وہ کچھ حسیں جذبے..
زمانے بھر سے جدا تھیں
ضرورتیں میری !
کہانی کچھ نئے موڑ لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی لیکن ریحاب نے غم کی اس شام سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا اندھیرے دریچے میں اک لکیر روشنی کی نظر آئی تھی وہ جانتی تھی اس در سے وہ کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹائی جائے گی ۔۔۔۔۔
بے اعتباری کی اس آگ میں تم بھی جلو گے صارب رحمٰن ریحاب علوی کو اتنے سستے میں مت لینا ۔۔۔۔۔۔
تنفر بھری سوچ میں صارب رحمٰن کیلئے زہر ہی زہر بھرا تھا۔
