Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid NovelR50613 Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 11,12)
Rate this Novel
Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 11,12)
Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid
خود کو ہاسپٹل کے بستر پہ دیکھ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا کہ اسکے ساتھ کیا واقع پیش آیا۔۔۔۔۔
کیسے ہیں مسٹر صارب آپ اک پروفیشنل مسکراہٹ لیے ڈاکٹر نے اسکی خیریت دریافت کی ۔۔۔۔۔
مچ بیٹر۔۔۔
مجھے کیا ہوا تھا سوالیہ نگاہوں سے ڈاکٹر کو دیکھا تھا۔۔۔
مسٹر صارب آپ نے جو ٹریکر اپنے بازو میں لگوایا تھا اس وجہ سے آپ انجائنا اٹیک کا شکار ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کے وہ چونکا تھا بھلا اس نے کب اپنے بازو میں کوئی ٹریکر لگوایا ۔۔۔
نہ نہیں ڈاکٹر آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ایسا۔۔۔۔
آپکی دوست ہمیں سب بتا چکی ہیں ایکسکیوزمی آئی۔ہیو۔ٹو گو ۔۔۔۔
اور وہ اپنے ذہن میں کلبلاتے سوال کو پوچھ ہی نہیں سکا بھلا اسکی کوئی فرینڈ اور وہ بھی لڑکی اسکے دماغ میں اتنے سوال تھے انکے جواب وہ۔لڑکی ہی دے سکتی تھے بے۔ساختہ اسکی نظر اپنے بازو پہ پڑی وہیں جگہ جہاں پہلے کٹ لگا تھا اب وہاں بینڈج کی گئی تھی اک دفع پھر وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ بعد وہ پھر سے پاکستان روانہ ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی ڈرائیور شاید مزہبی ٹائپ بندہ تھا تبھی اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہی تلاوت لگا دی تھی ۔۔۔۔۔۔
سفر کاٹنے کو اس نے بھی زرا کے زرا توجہ کی تھی مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس بات کو موضع بنایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ oخَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ عَلٰی سَمْعِھِمْ وَ عَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ o(البقرہ ۲:۶۔۷)
بے شک جن لوگوں نے انکار کیا (ان باتوں کو تسلیم کرنے سے ) ان کے لیے یکساں ہے خواہ تم انھیں خبردار کرو یا نہ کرو۔ بہر حال وہ ماننے ولے نہیں ہیں۔اللہ نے ان کے دلوں اوران کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
کون لوگ ہوں گے بھلا جن پہ اللّٰہ نے اتنی سختی کردی اس کے زہہن میں اک سوال آیا تھا مگر وہ اسکا جواب کس سے لیتا بھلا اور خود تو وہ کئی برس ہوے نماز قرآن تو کیا مسجد تک جانا چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات سنو اس نے ڈرائیور کو مخاطب کیا ، ڈرائیور یقیناً اسے جانتا تھا جج جی صاحب وہ ہکلاتے بولا تھا ۔۔۔۔۔۔
اسے لگ رہا تھا شاید اک سنگر کو اسطرح سے تلاوت پسند نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔
یہ کن لوگوں کی بات ہورہی ہے صارب کی بات پہ ڈرائیور حیران ہوا تھا بھلا یہاں کون بات کررہا تھا۔۔۔۔۔
جی صاحب میں کچھ سمجھا نہیں ڈرائیور کے تاثرات دیکھ صارب کو لگا شاید وہ اسے کوئی سائیکو سمجھ رہا ہے ۔۔۔۔
کچھ نہیں وہ چپ چاپ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا تھا کیا میں اتنی بہکی باتیں کرتا ہوں جو کسی کو سمجھ نہیں آتی زہن میں اک سوال پیدا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اپنے فلیٹ سامنے اترتے وہ پھر ڈرائیور سے مخاطب ہوا تھا کیا تم یہ کیسٹ مجھے دے سکتے ہو جو گاڑی میں چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ڈرائیور اسکی بات سن حیران ہوا تھا اس نے خاموشی سے وہ ڈرائیو اسکے حوالے کردی۔۔۔۔۔۔
بھلا یہ میں اسکا کیا کرونگا اسکی زہنی رو پھر بھٹکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ پھر اپنے کاموں میں لگ کے اس ڈرائیو اور گاڑی کا واقعہ بھول چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔








ارحم۔منت کو لے کے ہاسپٹل لے کے شہر پہنچا تھا کیونکہ ساتھ والا گاؤں ملکوں کی حدود میں تھا اور ابھی بات اتنی پرانی نہیں تھی کہ وہ اسے وہاں لے کے جاسکتا شہر کیلئے روانہ ہوتے اک احساس محرومی اس پہ سوار ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
شکر کریں آپ پیشنٹ کو ان ٹائم لے آئے ہیں ورنہ سچویشن کرٹیکل بھی ہوسکتی تھی۔۔۔۔۔
ارحم نے ڈری نظروں سے نڈھال پڑی منت کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔ اور وہ اتنی دیر بخار میں جھلستی رہی گھر کے کسی شخص کو اسکی پرواہ ہی نہیں اپنی ماں پہ گرجتے بولا تھا۔۔۔۔۔۔
لو جب اسکے میاں کو پرواہ نہیں ہم سے تو وہ پورا دن پردہ کیے رہتی تائی ماں ابھی تک اسکے الفاظ کی چبھن محسوس کررہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اور جو منت کہہ رہی وہ سچ تھا ارحم اک شکی نظر اس پہ ڈالتے وہ اسے حیران کرگئی تھیں۔۔۔۔۔
اپنی ماں کی بے اعتباری پہ وہ شاکڈ رہ گیا تھا۔۔۔
اماں سائیں آپ بھی مجھے اتنا گرا ہوا سمجھ رہی ہیں۔۔۔۔
ارے پتر آج تک یقین کونسا بخشا تم۔نے ہمیں ۔۔۔۔۔
اور پنی ماں کی گہری بات پہ سوچتے اس نے اپنا احتساب کیا تھا ۔۔۔۔
واقعی اس نے آج تک ایسا کونسا کام کیا تھا جو اسکے ماں باپ اسکا یقین کرتے اور منت وہ تو اسے جانتی ہی کہاں تھی جتنا سن چکی تھی جو دیکھا اسی پہ یقین کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔
لالہ رمیز بھی چچی سائیں کے ساتھ ہاسپٹل پہنچ چکے تھے انہیں دیکھتے ہی منت نے انکے ساتھ جانے کی ضد شروع کردی تھی ارحم کا دل تو گویا کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا من پلیز مجھے اپنی بات سمجھانے کا اک موقع دے دو وہ اسکے سامنے گڑگڑایا تھا مگر وہ تو جیسے پتھر کی مورت بن بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عورت بدکردار شوہر بھی برداشت کرلیتی ہے ارحم مگر آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کا حوصلہ شاید اب مجھ میں نہیں۔۔۔۔۔
اور اک اور تہمت ارحم نے خاموش نظر اس پہ ڈالی ۔۔۔۔
(کسی پر بے جا تہمت اور بہتان لگانا شرعاً انتہائی سخت گناہ اور حرام ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے)
اور ارحم کی انا نے بھی گوارا نہیں کیا کہ جو عورت اسے دھتکار رہی وہ اسکے پیچھے جائے۔۔۔۔
جبکہ رات خود ہی تو اسے اپنے گھر سے نکال دھتکار رہا تھا اگر آج وہ دھتکار گئی تو اسکیلئے کاری ضرب ثابت ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر والوں کی محبت پا کے وہ پھر سے جی اٹھی تھی۔۔۔
بابا سائیں نے بھی کچھ دن کیلئے اس معاملے سے خاموشی اختیار کرلی تھی ۔۔۔
رمیز لالہ نے اسکا ایڈمیشن لاہور کے پرائیوٹ میڈیکل کالج میں کروا دیا تھا اور حیرت انگیز طور پہ ارحم۔کی طرف سے کوئی ریکشن دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔۔
بعض دفعہ کی گہری خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔








اور اک بہتان کا شکار ریحاب ہوئی تھی جو اپنے ساتھ کئی لوگوں کی زندگی سے کھیل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر سیلمان اور شاہد علوی اسکی طرف سے اتنی بے اعتباری ظاہر نہ کرتے تو نفرت کا یہ درخت تناور نہ بنتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک پورا دن اور رات گزار کے مشعل واپس گھر آگئی تھی جبکہ حیدر کسی طرح بھی اسے آنے نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔
کیا ہوگیا ہے حیدر روز تو کالج میں دیکھ لیتے ہیں آپ اور آپ نے کہا تھا انتظار کریں گے پھر کس بات کی بے چینی کہاں تو مجھے آنے نہیں دیتے اب ایسا کیا ہے جو جانے نہیں دے رہے ۔۔۔۔
ہنممم کچھ نہیں اوکے ملتے ہیں پھر اسے گلے لگاتے گھر سے دور کچھ فاصلے پہ چھوڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر واپس آکے بھی اس پہ سرشاری برقرار رہی تھی۔۔۔۔۔
اور اسکی سرشاری کا خمار تب اترا جب اچانک ہی حیدر کالج سے غائب ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیوں میں اس چیز کی افواہ وہ سن چکی تھی کہ وہ کالج چھوڑ کے جاچکا ہے مگر وہ اسکے لوٹ آنے کے یقین میں رہی کئی اک بار اسکے فلیٹ پہ بھی گئی مگر وہ ہروقت ہی تالا لگا اسکا منہ چڑا رہا ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اسی ٹنیشن میں وہ بستر سے جالگی تھی اسکی گرتی حالت زریں بیگم کو تشویش میں مبتلا کرچکی تھی۔۔۔۔۔
وہ جو کھاتی فوراً الٹی کردیتی سب کی ڈانٹ ڈپٹ پہ وہ زریں بیگم کے ساتھ ہاسپٹل چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسپٹل ڈور سے انٹر ہوتے وہ اچانک کسی سے ٹکرائی تھی
اوہ رئیلی سوری اس لڑکی نے مشعل کے زردی مائل چہرے کو بغور دیکھا جبکہ مشعل اسکے چہرے خدوخال میں الجھی تھی ۔۔۔۔
چلو مشعل زریں کے کہنے پہ وہ چونکتی ان کی جانب متوجہ ہوئی تھی اور اس لڑکی کے پاس سے گزرتی وہ ڈاکٹر کے روم میں داخل ہوگئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
لیڈی ڈاکٹر نے بغور مشعل کو دیکھا کیا باہر بیٹھی خاتوآن آپکی ساس ہیں ۔۔۔۔۔
اسکی بات پہ سرنفی میں ہلایا تھا نہ نہیں کیوں کیا ہوا ڈاکٹر۔۔۔۔۔
آر یو میرڈ ڈاکٹر نے بغور اس خوبصورت نین نقش والی لڑکی کو شک سے دیکھا جو دیکھنے میں یقیناً کسی اچھی فیملی کی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
کچھ نہیں میں پہلے باہر بیٹھی خاتون سے بات کرلوں ڈاکٹر باہر کی جانب بڑھی تھی جبھی روم میں انٹر ہوتی اس لڑکی نے ڈاکٹر کو روکا تھا۔۔۔۔۔۔
آپ کیا لگتی ہیں اس لڑکی کی ڈاکٹر کو اسکی مداخلت بلکل پسند نہیں آئی تھی میں اسکی نند ہوں آپ بتائیں از شی ایکسپٹنگ۔۔۔۔۔۔
تجسس بھری آواز پہ ڈاکٹر نے سکون کا سانس لیا وہ جو کچھ اور سمجھ رہی تھیں مطمئن سی بیٹھ گئیں جی بٹ شی از ٹو ویک آپ لوگوں انکا خیال رکھنا ہوگا اسکی ہدایت غور سے سنتی لڑکی سر اثبات میں ہلائے جارہی تھی تبھی مشعل ان کے پاس آئی تھی۔۔۔۔۔
میڈیسن کی چٹ وہ مشعل کو پکڑاتی باہر جانے کا کہتی خود ڈاکٹر ساتھ باتوں میں لگ گئی تھی وہ باآسانی دونوں کو بیوقوف بنا چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہی پہ مشعل غلط فہمی کا شکار ہوگئی تھی اسے لگا ڈاکٹر ساتھ بیٹھی لڑکی اسی کی ساتھی ہے دونوں کو چالاکی سے ہینڈل کرتی ریحاب مشعل کی رپورٹس ڈاکٹر سے ہتھیا چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنے والے طوفان سے بے خبر وہ لوگ گھر واپس آچکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
شام میں صارب کے ساتھ گویا اک طوفان آیا تھا۔۔۔۔۔
مشی کہاں ہے گھر میں آتے ہی مشعل کا پوچھنا گھر والوں کیلئے یہ۔عام۔بات تھی مگر اسکا انداز سب کو کچھ انہونی کا احساس دلا رہا تھا۔۔۔
کیا ہوا بیٹا زریں بیگم نے آگے بڑھ کےاس سے معاملہ پوچھنا چاہا تھا۔۔۔۔۔
آپ چپ رہیں جیسی بدکردار ماں ویسی بدکردار بیٹی۔۔
زریں پہ تو گویا کسی نےکھولتا پانی گرایا تھا وہ اک دم نڈھال سی زمین پہ بیٹھ گئیں تھیں جبکہ زہرہ بھاگ کے اسکے پاس آئی تھی ہوش میں تو ہو صارب یا پھر طاقت کے نشے میں اتنا تک بھول گئے ہو کے کس سے مخاطب ہو۔۔۔۔۔۔
تم۔بھی جانتی ہو کہ میں کس سے مخاطب ہوں۔۔۔۔۔
اک ایسی عورت سے جس نے میری ماں کی گھر ہستی کو اجاڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم بھول سکتی ہو کہ یہ تمہاری سوتیلی ماں ہیں مگر میں نہیں جس نے ماں کے ساتھ ساتھ مجھ سے میرا باپ بھی چھین لیا ۔۔۔۔۔۔
صارب زہرہ کا ہاتھ اٹھا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ بے یقینی سے خود سے تین سال بڑی بہن کو دیکھ رہا۔تھا جانتے کیا ہو تم اپنی ماں کے بارے۔۔۔۔۔۔
جو لوگوں کی سنی سنائی باتوں پہ اپنی فرشتہ صفت زریں ماں پہ اک ایسی عورت کی خاطر الزام لگارہے جو اپنی عیاشیوں کی خاطر اپنے کمسن بچوں کو چھوڑ کے چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
کیا جانتے ہوتم سندس علوی کے بارے ہاں بتاؤ اسکا گربیان پکڑے وہ اس سے سوال۔پوچھ رہی تھی جبکہ صارب تو واقعی آج تک اپنی ماں کے نام۔کی بھی گرمی حاصل نہیں کرسکا تھا۔۔۔۔۔۔
اک سال کے صارب کو تو اک دن بھی اپنی ماں کا لمس نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔۔
رحمٰن صاحب اور علوی فیملی والوں کے آپسی دوستی بے مثالی تھی رحمٰن صاحب کی والدہ نے جب انکے رشتے کی بات چلائی سندس علوی ہتھے سے اکھڑ گئیں انکی چاہہت کچھ اور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
سندس علوی نے گھر والوں کے پریشر میں آکے رحمٰن صاحب سے شادی تو کرلی مگر انکا دل دماغ بھابی کے بھائی میں اٹکا رہا تھا شادی کے بعد بھی وہ ان سے رابطے میں رہی تھیں صارب کی پیدائش کے بعد وہ مکمل طور پہ رحمٰن صاحب کو چھوڑنے کا سوچ چکی۔تھیں۔۔۔۔۔۔
اور جب انہوں نے یہ انتہائی قدم۔اٹھا لیا تب راشد (بھابی کابھائی)اسکا ساتھ دینے سے انکار کردیا ور ملک چھوڑ کے چلا گیا تھا ۔۔۔
جبکہ پیچھے وہ ساری کشتیاں جلا کے آئی تھیں تبھی ڈاکٹر نے انہیں پھر سے امید سے ہونے کی خبر سنائی تھی مگر رحمٰن صاحب نے اسے اپنی اولاد ماننے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔۔۔
ایسے وہ ہمیشہ کیلئے میکے کی دہلیز پہ آ بیٹھیں تھیں اک دو بار بچوں کیلئے ممتا جاگی تو رحمٰن صاحب نے کورٹ میں انہیں بدکردار ثابت کرکے ہمیشہ کیلئے اپنے بچوں کی شکل دیکھنے سے بھی محروم۔کردیا تھا۔۔۔۔۔
مگر دادی نے اپنے بیٹے کی من پسند بیوی لانے پہ جو کہ واقعی عبدالرحمٰن کے بچوں کی حقیقی ماں ثابت ہوئی تھی اسکے خلاف معصوم۔صارب کے زہن میں ایسی باتیں ڈالیں جو اسکے پختہ ہوتے زہن پہ نقش ہو چکی تھیں ۔۔۔۔۔۔
وہ جانتی تھیں کہ صارب جان چکا ہے وہ اسکی سگی ماں نہیں پھر بھی ہر طرح سے اسے ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دیتی تھیں مگر آج کے الفاظ اسکی نفرت کا پیمانہ بتا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
مشعل باہر کے ہنگامے سے انجان مسلسل حیدر کا نمبر ملا۔رہی تھی جو بند جارہا تھا۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سے اپنی کنڈیشن پتا چلنے کے بعد اک انہونی کا احساس اسے کچوکے لگائے جارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
صارب نے مشعل کی رپورٹس زہرہ کے ہاتھ پکڑائیں اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ بے یقینی سے رپورٹ دیکھتی اسے ہر چیز گھومتی لگی تھی۔۔۔۔
مم مما زور سے بلکتی وہ زریں بیگم کے برابر بیٹھی تھیں ۔۔
وہ۔جو پہلے بیٹے کے الفاظ پہ گھائل بیٹھی تھیں زہرہ کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ رپورٹس اسکے ہاتھ سے لی تھیں۔۔۔
نہیں یہ جھوٹ ہے میری مشعل ایسی نہیں ہے انہیں کچھ دن سے گرتی مشعل کی طبیعت کی وجہ سامنے دیکھ اک اور شاک لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہورہا ہے یہ رابی جو ابھی یونیورسٹی سے واپس آئی تھی زریں اور زہرہ کو لٹے پٹے قافلے کی طرح بیٹھے دیکھ حیرت سے پو چھا تھا جبکہ زریں نے اک خاموش نگاہ اس پہ ڈال کے نظر جھکا لی تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا زہرہ اور باہر بھائی کی گاڑی اٹس مین بھیا آئے ہوے ہیں۔۔۔۔۔۔
ہونگے اپنی لاڈلی کی پاس میں بھی دیکھو کیا لے کے آئے ہیں وہ بغیر انکے فق ہوتے چہرے دیکھے مشعل کی روم کی طرف بڑھ گئ تھی۔۔۔۔۔
سرپرائز مشعل کے روم کا دروازہ جھٹکے سے اوپن کرتی روم میں داخل ہوئی لیکن سامنے مشعل کے سوا کوئی نہیں تھا۔۔۔
بھیا کہاں گئے رابی نے بدحواس ٹہری مشعل سے پوچھا جبکہ صارب کے زکر پہ اسکا دل۔سہما تھا۔۔
بھ بھیا تو نہیں آئے رابی۔۔ مشعل اٹکتے ہوے بولی تھی۔۔۔
ارے واہ کیسے نہیں آئے باہر انکی گاڑی ٹہری ہے اور رابی نے رک کے اسکا سفید پڑتا چہرہ دیکھا تھا۔۔۔۔۔
تمہیں کیا ہوا مش تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے اور یہ آج تم سب کچھ عجیب سا بے ہیو نہیں کر رہے۔۔۔۔۔
اسکے تجزے پہ مشعل چونکی تھی۔۔۔
س سسب کون اپنے دل کے چور کو چھپائے رابی سے پوچھنے لگی تھی تبھی زریں بیگم نے آتے ہی اس کو روئی کی طرح دھنک ڈالا۔۔۔۔۔
مر کیوں نہیں گئی مشعل تم آج تمہاری وجہ سے تمہاری ماں کو بدکرداری کا طعنہ ملا جبکہ زہرہ اور رابی ماں کو سنبھالنے میں لگی تھیں۔۔۔۔۔
بتا کس کے ساتھ منہ کالا کیا کسکا گندہ خون لیے اس گھر میں بیٹھی ہو۔۔۔۔۔۔
زہرہ اسے کہو باپ کو پتا چلنے سے پہلے یہ سب ختم۔کردے تم تم اسے ہاسپٹل لے جاؤ سب ختم۔کر دو۔۔۔۔
زریں ہسٹریک ہوتے چلائی تھیں جبکہ مشعل کو لگا کسی نے تیز دھار آلے سے اسکا وجود کاٹ دیا ہو۔۔۔۔
نہ نہیں مما میں اپنے بچے کو کچھ نہیں کرونگی میں نے نکاح کیا تھا ان سے۔۔۔۔۔۔
اسکی بات پہ زریں کے بڑھتے ہاتھ رکے تھے۔۔۔۔۔۔
نکاح ۔۔۔۔۔ نہ نہیں تم۔کب اتنی بڑی ہوئی مشعل نہیں تم۔جھوٹ بول رہی اپنا گناہ بچانے کو۔۔۔
فارگاڈ سیک مما کیوں آپ اک جائز بچے کو بار بار گناہ کہہ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
کس سے ہوا ہے تمہارا نکاح کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس زہرہ نے ماں کو سہارا دیتے بستر پہ بٹھایا اور مشعل کو بازو سے پکڑے سامنے کیا تھا۔۔۔۔۔
سر علی حیدر علوی سے ۔۔۔۔
Episode 12
زہرہ کا ہاتھ اسکے پہلو میں گرا تھا جبکہ علوی خاندان کا زکر سنتے زریں بھی چونک اٹھی تھیں۔۔۔۔۔۔
میرا یقین کریں مما میں جھوٹ نہیں بول رہی وہ زریں کے آگے گڑگڑاتے بولی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے کہو وہ آکے تمہیں لے جائے اس سے پہلے کے میرا بیٹا یا شوہر تمہارے ناپاک خون سے اپنے ہاتھ رنگیں۔۔۔۔۔
اٹل لہجے میں کہتی زریں بیگم نے اسے ٹھوکر ماری تھی اور کمرے سے چلی گئی تھیں۔۔۔۔۔
اس سلوک کی تو وہ مستحق تھی جو اولاد ماں باپ کی نافرمانی کا سبب بنی تھی وہ تو دنیا اور آخرت میں نامراد ہی ٹہرتی ہے پھر وہ کیسے خوشیوں سے جھولی بھر سکتی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔
اس نے آخری امید سے پھر حیدر کا نمبر ملایا جو کہ ابھی بھی بند تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
فلیٹ اسکا لاکڈ تھا کالج سے وہ بنا کسی کو انفارم کیے غائب ہوچکا تھا بلکہ کالج والوں کے پاس اسکا جو ریکارڈ تھا سب جعلی تھا انہوں نے بھی ہر طرح سے معزرت کر لی تھی۔۔۔۔۔۔۔
مشعل تمہارے پاس اور کوئی راستہ نہیں سوائے اسکے کہ تم ابارٹ کروا لو ہوسکتا ہے اس شخص نے تم سے نکاح بھی نقلی کیا ہو رابی کا دل اپنی معصوم بہن کو اتنے بڑے غم سے گزرتے دیکھ کٹ سا گیا تھا نہیں ۔۔۔۔۔
رابی وہ ایسے بلکل نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔
اک شخص تمہاری کال نہیں اٹھا رہا جسکا آگا پیچھا تمہیں کچھ معلوم نہیں ہے بھلا یہ فنیسٹ مومنٹ نہیں ہے تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔
تم۔کیوں اک انجان شخص کے پیچھے اپنی پوری لائف سپائل۔کررہی ہو ۔۔۔
تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ تمہاری یہ حرکت کسی کے سامنے ہمیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑے گی کیا جواب دیں گے ہم لوگوں کو بھلا کوئی پروو ا تو کیا سنگل پک تو تمہارے پاس ہے نہیں اسکی کشن کو غصے میں پھینکتی وہ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابی میم میرے پاس ہیں تصویریں اسکی لاپ ٹاپ لاؤ اپنا۔۔۔۔۔۔۔
تاریکی میں جیسے روشنی کی کرن نظر آئی تھی رابی کو اسکی دماغی حالت پہ شبہ ہوا تھا مگر پھر بھاگ کے وہ لیپ ٹاپ لے آئی تھی۔۔۔۔۔
اک بار جب مشعل نے اسکی ڈرائیو میں موجود اسکی پکس کے فولڈر کا زکر کیا تھا تو اس نے وہ ڈرائیو اپنے پاس ہی رکھ لی تھی جبکہ وہ تو اسی رات ہی اک سیکرٹ فولڈر بنائے رابی کے لاپ ٹاپ میں سیو کرچکی تھی ۔۔۔۔
اور اب گیلری میں اسکی تصویریں تھیں۔۔۔۔
بندہ ہینڈسم ہے تمہارا قصور نہیں مشی …….
اتنی سریس سچویشن میں بھی رابی کو مزاق سوجھا تھا مشی کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ۔لیتی وہ صارب کے روم کی طرف بھاگی تھی جو باہر برستی بارش میں اپنے مسائل میں الجھا کوئی کرن ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔۔
بھیا رابی کی ایکسائٹمنٹ سے بھسے بھرپور آواز نے اسے متوجہ کیا تھا ۔۔۔
وہ حیدر آئی میں علی حیدر علوی کا پتا چل گیا ہے۔۔
نو آئی مین اسکی تصویریں رابی بری طرح کنفیوژ ہوئی تھی کیونکہ مشعل کی حرکت بعد اس نے زہرہ اور رابی سے بھی بات کرنا بند کر دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک نظر اس پہ ڈال کے دوسری نظر اسکے ہاتھ میں موجود لیپ ٹاپ پہ ڈالی تھی ۔۔۔۔۔۔
دور کہیں بجلی گری تھی شاید وہ اک چست میں اسکے پاس پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
آر یو شیور یہ وہی حیدر ہے ۔۔۔۔
جج جی بھیا وہ مشعل۔۔۔۔
نام۔مت لو اس کم زات کا لیپ ٹاپ بستر پہ پھینکتے اس نے کوئی نمبر ملایا تھا ہاں مجھے علوی گروپ آف انڈسٹری کے چھوٹے بیٹے علی حیدر کی۔تمام۔ڈیٹل چاہییئے اور یہ کام۔بہت سیکرٹلی ہونا چآہہئے۔۔۔۔۔۔۔۔
پاس کھڑی رابی نے قربان ہونے والی نگاہ صارب پہ ڈالی کیسے اسکے بھائی نے منٹوں میں پہیلی سلجھا لی تھی جبکہ ابھی پہیلی سلجھی ہی کہاں تھی رشتوں کی ڈور مزید الجھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔…







ریحاب بیٹا شاہد علوی کی آواز پہ وہ تھم سی گئی تھی۔۔۔۔
ایسا بھی کیا ناراضگی اپنے گھر سے اپنے باپ سے معاف کردو ہمیں لوٹ چلو گھر جھکے سر سے بیٹی سامنے گڑگڑاتے شخص کو دیکھ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ بزنس ٹائیکون کا روشن نام شاہد علوی ہے۔۔۔۔
باپ کو سامنے دیکھ اسکا دل پسچا تھا انکے بندھے ہاتھوں کو کھولتے انکے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔
کیوں بابا اپنی ریحاب کا یقین نہیں کیوں اک انجان شخص کی باتوں میں آگئے آپ لوگ وہ روتی ان سے گلے شکوے کرنے لگی تھی لاہور کے مشہور مال میں اتفاقاً ہونے والا ملاپ باپ بیٹی کے درمیان ساری دوریاں ختم کر گیا تھا سیلمان نے بھی اس سے اپنے رویے کی معافی مانگ لی تھی اور ویسے بھی کچھ دن تک زویا اور اسکی باقاعدہ رخصتی طے پائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کسی پہ اسکا واپس آنا برا تھا تو وہ تھیں سندس علوی اپنی طرف سے وہ اسکا پتا صاف کیے اس گھر پہ عنقریب زویا کے زریعے اپنی اجارہ دری قائم کرنے والی تھیں سارے خواب اور پلاینگ دھری کی دھری رہ گئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صارب رحمان صاحب کے ساتھ علوی ہاؤس پہنچا تھا۔۔۔
اتنے برس بعد انہیں سامنے دیکھ علوی ہاؤس والوں کی سوئی نفرت جاگ اٹھی تھی۔۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس گھر کی دہلیز پار کرنے کی وہ جو اندازے سے صارب کے ساتھ وہاں پہنچے تھے صارب کو بھی اس گھر سے اسکا رشتہ نہیں بتایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ تو تم ہو شاہد علوی ارے وار کرنا تھا تو مرد بن کے سامنے سے کرتے بزدلوں کی طرح میری بیٹی کو مہرہ بنا کے کونسے جھنڈے گاڑ لیے تم لوگوں نے آج بھی وہی مغرور لہجہ برقرار تھا۔۔۔۔۔۔۔
اپنی زبان کو لگام دو رحمان صاحب اس گھر کے مردوں کی پرورش اتنی کمزور نہیں کہ وہ عورتوں کو ہتھیار بناتے پھریں اور وہ بھی تب جب یہاں کوئی تمہارے نام سے واقف نہیں ۔۔۔۔۔۔
لاؤنچ سے آتی آوازوں پہ ریحاب نے بھی باہر جھانکا تھا صارب کو سامنے دیکھ اک فتح کا احساس جاگا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ بابا مشعل سے علی کے نکاح کو ماننے سے انکاری تھے۔۔۔۔
کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس جبکہ میں یہاں کھڑے کھڑے ثبوت پیش کرسکتا ہوں کہ علی دو سال سے ملائشیاء میں ہے۔۔۔۔
صارب کے قدم شکست خوردہ سے ہوئے تھے۔۔۔
اپنی بیٹی کا گناہ ہمارے سر لگانے کی کوشش نہ کرو رحمانی جاکے اپنا مجرم ڈھونڈو یا اپنی بیٹی سے پوچھو کس کس کے ساتھ رنگ رنگلیاں مناتی رہی ہے ۔۔۔۔۔۔
اور رحمان صاحب کو لگا تھا گویا آج مکافات عمل ہے کا دن ہے ٹھیک چھبیس سال پہلے انہوں نے بھی تو یہی الفاظ کہے تھے سندس علوی کیلئے جب شاہد علوی بہن کی استدعا لے ان کے پاس آئے تھے۔۔۔۔۔۔
جبکہ ہمارا مزہب تو کچھ بھی گمان کرنے سے پہلے گواہی اور ثبوت مانگتا ہے ۔۔۔۔۔
”لا یرمي رجلٌ رجلاً بالفسوق ولا یرمیه بالکفر إلا ارتدت علیه إن لم یکن صاحبه کذلک” ۔ (صحیح البخاري، باب ما ینهی عن السباب واللعن، ۲؍۸۹۳رقم:۵۸۱۰، مشکاة المصابیح۴۱۱)
نیز شریعت میں دعوی اور حق کو ثابت کرنے لیے یہ ضابطہ ہے کہ مدعی ( دعوی کرنے والے ) کے ذمہ اپنے دعوی کو گواہی کے ذریعہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے، اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعی علیہ (جس پر دعوی کیا جائے اس) پر قسم آئے گی ، اور اگر وہ قسم کھالے تو اس کی بات معتبر ہوگی، لہذ ا کسی شخص کو محض الزام لگاکر اس کے جرم کے ثابت ہوئے بغیر سزا دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔اگر سزا نافذ نہ کی گئی ہو تو سچی توبہ اور صاحبِ حق سے زبانی معافی کافی ہوگی۔ اگر سزا نافذ بھی کردی گئی اور اس سے مالی نقصان اٹھانا پڑا ہو تو صدقِ دل سے توبہ اور زبانی معافی کے ساتھ مالی تاوان بھی ادا کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں باپ بیٹا شکست پائی سے کے مرحلے سے گزرتے وہاں سے نکل آئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
علوی ہاؤس والوں نے اس واقع کو اک گھناؤنا مزاق سمجھ کے بات ختم کردی تھی جبکہ اتنا بڑا الزام سہنے کے بعد سیلمان نے بھی صارب سے ہمیشہ کیلئے کٹ آف کرلیا تھی۔۔۔۔۔۔۔






من اک دم گھبراہٹ سے ارحم کی آنکھ کھولی تھی۔۔۔۔
یقیناً منت کسی مشکل میں تھی اور اسے بلا رہی تھی وقت کی پرواہ کیے بغیر وہ اسکے گھر کی طرف روانہ ہوا تھا۔۔۔
چوکیدار نے اسے دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا تھا۔۔۔
گھر میں سناٹا پھیلا تھا سب لوگ سوئے ہوے تھے۔۔۔
صاحب مین ڈور تو بند ہے چوکیدار نے اسے الجھے دیکھ اسکی مشکل آسان کرنی چاہی۔۔۔۔۔
تم لوگوں پاس چابی نہیں باربار ماتھا مسلتے وہ پریشان سا ٹہرا تھا جبھی چوکیدار نے گیسٹ روم سائیڈ اسکیلئے کھول دیا تھا جسکا اک دروازہ گھر میں بھی کھولتا تھا۔۔۔۔۔
اک خیال آنے پہ وہ دوبارہ اس سے مخاطب ہوا تھا پر صاحب منت بیبی تو شہر والے گھر میں ہیں ارحم کے اندر بڑھتے قدم رکے تھے جب وجہ ہی موجود نہیں تھی تو وہ بھلا کیوں اندر جاتا الٹے قدموں واپس آیا تھا اور گاڑی میں بیٹھتے ہی روانہ ہوگیا ۔۔۔۔۔
تقریباً فاسٹ ڈرائیونگ کے باوجود بھی اسے لاہور پہنچتے آدھا گھنٹہ لگ گیا تھا۔۔۔
گاؤں کی نسبت شہر کی رونقیں بحال تھیں تبھی کالونی کا رخ کرتے سڑک پہ بھاگتی لڑکی پہ اسے منت کا گمان ہوا تھا بھلا رات کے اس پہر کوئی لڑکی اسطرح کس سے بھاگ رہی دولڑکوں کو اسکے پیچھے بھاگتے دیکھ اس نے گاڑی ریورس اسی لڑکی طرف کی تھی جبکہ اسے شاک لگا تھابء یقینی سی کیفیت میں گھرا اسے پکارا تھا۔۔۔۔
من۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔








ڈھول کی بجتی تھاپ ریحاب کے سر پہ لگ رہی تھی بار بار موبائل کو دیکھتی وہ بے چین اٹھی تھی وہ شخص اسکا سکون برباد کرچکا تھا۔۔۔
تبھی اسکا سیل دوبارہ بجا تھا اگر تین منٹ میں تم گیٹ پہ نہ پہنچی مسسز تو یاد رکھنا بھری محفل سے بازو میں اٹھا کے لے جاؤنگا یو نو واٹ آئی مین۔۔۔۔
ریحاب نے سیل کو گھورتے کال بند کی تھی بلیک میلر انسان۔۔۔۔۔
ملٹی شیڈ لہنگا اور شارٹ شرٹ پہنے مہندی کے حساب سے میک اپ کے ساتھ اس پہ جج رہا تھا کتنے ارمان تھے اسے سیلمان کی شادی کے مگر ہر فنکشن میں اس شخص کی کوئی نا کوئی فرمائش ریحاب کا موڈ بری طرح خراب کرتی۔۔۔۔
اب بھی بھائی کی مہندی چھوڑے وہ مین گیٹ کی طرف بڑھی تھی اک حسرت بھری نگاہ ہنستے کھیلتے چہروں پہ ڈالتی اپنی قسمت کو کوسا تھا۔۔۔۔۔
دور تک گلی سنسان تھی ڈرتے ڈرتے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے تبھی اچانک سے گاڑی اسکے سامنے رکی تھی۔۔۔
نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبائے زرارت سے وہ مسکرایا تھا جبکہ ریحاب اس بلیک میلر کو دیکھ کے جی جان سے جل بھن گئی تھی۔۔۔۔۔
آئیے مسسز اگر آپ کو لگتا ہے کہ صارب رحمٰن آپ کے خیرہ کن حسن سے متاثر ہوجائیں گے تو غلط ہتھیار استعمال کررہی ہیں آپ۔۔۔۔
اسکے سامنے اترتے ہاتھ پکڑا تھا ہمیشہ کی طرح اس نے ہاتھ جھٹک دیا تھا ۔۔۔
فرنٹ سیٹ کھولتے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
پپ پلیز صارب بھیا کی مہندی ۔۔۔۔
آہاں تمہیں میں پہلے ہی وارن کرچکا ہوں کہ جب تک اس گھر میں میری بہن نہیں آئے گی کوئی شہنائی نہ گونجے پھر بھی تم لوگوں نے اپنی من مانی کر ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔
اک کرلاتی نگاہ اس پہ ڈالی وہ چپ چاپ سرجھکا گئی تھی۔۔۔
کل علی واپس آرہا ہے بہتر یہی ہے کہ تم۔لوگ مشعل کو یہاں لانے کی تیاری کرو اور تم بھی اس بندھن سے آزاد ہوسکتی ہو بچوں کی طرح ٹافی آفر کی تھی۔۔۔
بھاڑ میں جاؤ تم غصے سے پیر پٹختی وہ وہاں سے جانے کو مڑی جبھی اس نے اپنی جانب کھینچا تھا نو نو مسسز ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی اور شوہر کی اجازت کے بنا تم کوئی فنکشن اٹینڈ نہیں کرسکتی اور ویسے بھی ہم لیٹ ہورہے ہیں مجھے میرے شو میں جانا ہے لیٹس موو ۔۔
گاڑی میں پٹخنے کے انداز میں اسے بٹھاتا خود بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔۔۔
تم اچھا نہیں کررہے صارب رحمٰن یاد رکھنا پچھتاؤ گے غصے میں پھر سے غلط بولتی اسے مزہ دے گئی تھی۔۔۔
آہاں اب پچھتانے کو باقی بچا ہی کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے شرارت سے اک انکھ دبائی تھی۔
گھٹیہ، کمینہ، انسان دل میں صلوتیں سنا دوسری جانب منہ کرگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی واضع بربڑاہٹ صارب کو مزید شرارتوں پہ اکسا رہی تھی۔۔۔۔
ہال پہنچتے ہی اسے اپنے گارڈز کے حوالے کیا تھا جب تک شو ختم نہیں ہوگا تم یہاں سے ہلو گی بھی نہیں۔۔۔۔۔
اچھی زبردستی تھی جو اسکا کبھی فیورٹ تھا آج وہ اسکی آواز بھی سننا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
آج کی شام میرے پارٹنر کے نام بغل میں لمبی چڑیل کو لیے وہ اسکیلئے گانا گانے لگا تھا جبکہ اچھی خاصی معروف سنگر ریحاب کو ہی چڑیل لگ رہی تھی عوام تو انکو ساتھ دیکھ دیوانی ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبھی مائیک سنبھالے وہ پوزیشن میں آچکا تھا۔۔۔۔
کیسے کہوں عشق میں تیرے کتنا ہوں بے تاب میں
آنکھوں سے آنکھیں ملا کے چرا لوں تیرے خواب میں
اپنے ساتھ موجود لڑکی کو فریفتہ نظروں سے دیکھتا وہ گانے لگا تھا جبکہ ریحاب کی آنکھوں میں یہ منظر مرچیں بھرنے لگا تھا۔۔۔۔
میرے سائے ہیں ساتھ میں یار آج جس جگہ تم ہو
میں جو جی رہا ہوں وجہ تم ہو
اک مسکراتی نگاہ شعلہ بار دیکھتی ریحاب کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
میں جو جی رہا ہوں وجہ تم ہو
انگلی اٹھاتے پھر سے سٹیج پہ لڑکی کو مخاطب کیا تھا اور وہ تو اتنی اہمیت پہ ہی آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگی ۔۔۔۔۔
ہے یا نشہ یاہے زہر اس پیار کو ہم کیا نام دیں
کب سے ادھوری ہے اک داستاں
آجا آج اسے انجام دیں
تمہیں بھولوں کیسے میں میری پہلی خطا تم ہو
اس نے دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی ریحاب کو دیکھا تھا۔۔۔۔
کیا جانے توں میرے ارادے لے جاؤنگا سانسیں چرا کے
دل کہہ رہا ہے گنہگار بن جا بڑا چین ہے ان گناہوں سے آگے۔۔۔۔۔
میں گم شدہ سی رات ہوں میری خوشنما صبح تم ہو۔۔۔۔۔
اک فلائنگ کس پبلک کی طرف اچھالی لوگ تو گویا اسکی اداؤں پہ پاگل ہوئے جارہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور شاید یہ اسکی زندگی کا پہلا گانا تھا جس پہ وہ مسلس مسکراتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔









بھیا آپکی مشعل سے غلطی ہوئی آپ مجھے اپنے ہاتھوں سے مار دو مگر میں جھوٹ نہیں بول رہی ۔۔۔۔
صارب نے اپنے قدموں پاس بیٹھی مشعل کو پرسوچ نگاہ سے دیکھا تھا۔۔۔۔
نہیں مش تمہارا مجرم عنقریب تمہارے پاس ہوگا اک حتمی فیصلہ کرتے وہ وہاں سے روانہ ہوا تھا س پہلی کو اگر کوئی سلجھا سکتا تھا تو وہ علی حیدر علوی تھا۔۔۔۔۔
وہ پہلی فرصت میں اسکے پاس پہنچا تھا۔۔۔۔۔
مگر شاید وہ اسکے پلین کو جان چکا تھا تبھی غائب ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
صارب نے اک پرائیوٹ ایجنٹ ہائر کر کے اسکے بارے معلومات کا کہا تھا۔۔۔۔۔۔
سر ۔۔۔۔۔
اور صارب کے سامنے موجود رپورٹ نے اس پہ آگاہی کا در کھولا تھا۔۔۔۔۔۔۔







رات کے دوبجے ریحاب کی نیند تواتر سے بجتے موبائل کی وجہ سے کھلی تھی ۔۔۔۔۔
ہیلو کون نیند سے ڈوبی آواز تھی۔۔۔۔۔
اپنا واٹس ایپ چیک کریں محترمہ ۔۔۔
اک جملہ بول کے کال بند کردی گئی تھی۔۔۔۔۔
سٹوپڈ لوگ اس نے محظ اک رونگ کال سمجھ کے اگنور کردیا اور دوبارہ سو گئی ۔۔۔
آنکھیں بند کرتے شعور کے پردے پہ وہ آواز نمودار ہوئی تھی تو کیا صارب نہیں یہ میرا وہم ہوسکتا ہے۔۔۔۔
نیند بھکے سے اڑی تھی جلدی سے اسکی ہدایت پہ عمل کیا ۔۔۔۔
سامنے موجود ویڈیو اسے پورے وجود سے ہلا گئی تھی۔۔
ن نہ نہیں علی اک گھٹی گھٹی آواز اسکے گلے سے برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔
بےآب مچھلی کی طرح تڑپتا آخری سانسیں لیتا وجود علی ہی کا تھا بھلا وہ کیسے اپنے جڑواں کو نہ پہچانتی تبھی نئے میسج نے اسے چونکایا تھا۔۔۔
اگر بچا سکتی ہوتو آکے بچا لو اپنے بھائی کو اک مختصر تحریر کے ساتھ ایڈریس سینڈ کیا گیا تھا اور وہ بنا کچھ سوچے اک لمحہ ضائع کیے بغیر وہاں سے روانہ ہوئی تھی اس بات سے انجان کے گھر سے نکلتے ہی دوسری گاڑی اسکے تعاقب میں تھی۔۔۔۔۔۔
سامنے موجود گھر کو دیکھ وہ زرا سہمی تھی مگر اندر علی تھا اسکا بھائی وہ بھلا کیسے اسکی جان رسک میں ڈال سکتی تھی۔۔۔۔
ہیلو کوئی ہے مکمل ویران پڑے گھر کو دیکھ اسے وحشت ہوئی تھی علی علی کہاں ہو پلیز تبھی دروازہ بند ہونے کی آواز پہ وہ مڑی سامنے موجود صارب رحمٰن کو دیکھ اسکا حوصلہ بحال ہوا تھا اوہ تو تم نے کڈنیپ کیا ہے علی کو کیوں وہ چیختی زخمی شیرنی کی طرح اس پہ جھپٹی تھی صارب نے اپنے ہاتھ آگے کیے اس سے اپنا بچاؤ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
علی کو تو نہیں البتہ تمہیں ضرور ٹریپ کیا ہے میں بھلا اپنے بہنوئی کا کیوں ایسا حال کرنے لگا۔۔۔۔۔
اسکی بات سن اک دم سے اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔
دیکھو۔۔۔۔۔۔انگلی اٹھائے اسے وارن کیا۔۔۔۔
دیکھنا ہی تو عمر بھر ریحاب بی بی ۔۔۔
اسکا لہجہ ریحاب نے اک دم وہاں سے دوڑ لگائی تھی جبکہ صارب کے اونچے قہقے نے اسکا استقبال کیا۔۔۔
یہاں سے جانے کے سب راہیں مسدود ہوچکی ریحاب اب سے تمہارا ہر راستہ مجھ تک آئے گا جبکہ وہ مسلسل دروازہ کھولنے کے چکر میں تھی۔۔۔۔۔
صارب نے آگے بڑھتے اسے پکڑ کے اپنے سامنے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانتی ہو ریحاب اس دنیا میں اگر میں نے خود سے بڑھ کے کسی کو چاہا ہے نا وہ ہیں میری بہنیں تمہیں شاید یہ جان کے حیرت ہوگی کی زہرہ کے علاوہ دونوں میری سوتیلی بہنیں ہیں مگر انکیلئے تو میں جان بھی قربان کرسکتا ہوں تم نے تاک کے وار کیے اور کامیاب بھی رہی مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے وار سے کیسے بچو گی ۔۔۔
کہتے ساتھ اس نے ریحاب کو اپنے ساتھ لگایا جبکہ وہ اپنی کنگ فو کی پریکٹس اس پہ آزمانے لگی تھی ۔۔۔۔۔
مگر صارب تو گویا آئرن مین بنا سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔
بس اتنی سی ہمت۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح جب تمہارا باپ میرے پاس بیٹی کی فریاد لے کے آئے گا تو پتا ہے کیا ہوگا ہزیاتی انداز میں کہتے وہ اس پہ چیخا تھا۔۔۔۔
میں صاف مکر جاؤں گا کہ میں نے تو انکی بیٹی کو چھوا تک نہیں پتا نہیں کسکا گناہ میرے سر تھوپ رہی۔۔۔۔۔
شاہد علوی کے جملے دہراتے اسکی آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے ۔۔۔
ریحاب کو اب پتا لگ رہا تھا یوں بنا کسی تحقیق کے چلے آنا کتنا خطرناک بن چکا تھا اسکیلئے ۔۔۔۔۔۔۔
مگر تم فکر نہ کرو حرام نہیں کھاتا میں کچھ دیر کو ہلال کرکے کھا سکتا ہوں ہاں مگر تم جیسی نیچ لڑکی سے چند سیکنڈز کا ربط بنانے پہ بھی میں اپنی زات سے شرمندہ ہوں۔۔۔۔۔
اسکا زہرخند لہجہ اتنی نفرت ریحاب لرز گئی تھی ۔۔۔۔
تبھی اس نے ریحاب کے سامنے کچھ پیپر کیے تھے سائن کرو ان پہ ۔۔۔۔
رات کے اس پہر نجانے کونسے کاغزات اٹھائے وہ اس سے سائن کروا رہا تھا۔۔۔۔
کیا ہے یہ۔۔۔
راضی نامہ کے تم ہوش وحواس میں اپنے وجود کا مالک مجھے بنا رہی ہو۔۔۔۔
پاگل ہوگئے ہوتم سوچنا بھی مت ہاتھوں میں کاغز لیے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔۔۔۔
گڈ یہی امید رکھتا تھا میں تم سے اب اگر چاہتی ہو کہ میں بنا نکاح کے ہی تم۔سے تعلقات بناؤں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں دھکا دیتے اسے بیڈ پہ گرایا جبکہ وہ سراسیمہ انداز میں اسے دیکھے جارہی تھی۔۔۔
نہ نو صارب تم ایسا کچھ نہیں کروگے۔۔۔۔۔۔
کیوں نہیں کرنگا تم میرے باپ کی اولاد تھوڑی ہو حد درجہ عامیانہ پن شو کرتے وہ کہیں سے اک سپر سٹار نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
میں کاغزات پہ سائن کرنے کو تیار ہوں اسکی قربت سے گھبراتے وہ بولی تھی۔۔۔۔۔
اہاں اب تو تم پیپر پھاڑ چکی ہو اب کچھ نہیں ہوسکتا دونوں بازو اسکے دائیں بائیں پھیلائے اس پہ جھکا تھا۔۔۔۔
پپ پلیز صا صارب اسکی ممناہٹ سن کے شاید وہ اس پہ ترس کھا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے چھوڑتے وہ کمرے سے نکلا تھا اور روم کو لاک کرگیا تھا۔۔۔۔۔
واپسی پہ مولوی اور دوتین آدمیوں کے ساتھ آیا تھا اور آتے ہوے اک چادر بھی ڈھونڈ لایا تھا جو درمیانی شب اتنا کچھ ارینج کرسکتا تھا تو ریحاب کیسے اس سے اچھائی کی امید رکھ سکتی تھی جبکہ کچھ دیر پہلے وہ خود اس چیز کی حامی بھر چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اس نے اپنی زندگی کا مالک اس شخص کو بنا دیا جس سے اب تک وی دشمنی نبھاتی آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحاب پہ زندگی کے تمام دروازے بند کرنے کے بعد اب اس نے دروازہ بند نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
نمناک آنکھوں سے اس نے کھلے دروازے کو دیکھا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی وہ واپس آگیا تھا۔۔۔۔۔
جی تو مس ریحاب علوی کیسا لگ رہا ہے مسسز ریحاب صارب بن کے اک پرتیش نگاہ اس پہ ڈالتے مسکرایا تھا۔۔۔۔
جبکہ وہ ایسے چپ بیٹھی رہی جیسے وہ اس سے نہیں دیواروں سے مخاطب ہوا ہو ۔۔۔
ریموٹ اٹھاتے اس نے سامنے موجود دیوار پہ لگا ٹی۔وی آن کیا سکرین پہ علی کے ویڈیو کلپس چلے تھے جو مزید چھوٹی چھوٹی اسکرین پہ بھی نظر آرہے تھے۔۔۔۔۔
ریحاب نے چونک کے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
جو کلپ دیکھ کے تم آئی ہو مسز ریحاب وہ تو اک سٹیج ڈرامے پہ اسکی پرفارمنس تھی ۔۔۔۔۔
لیکن وہ سچ بھی ہوسکتی ہے سامنے موجود مناظر آپکو اس چیز کی وضاحت کررہے ہونگے کہ آپ اور آپکا بھائی صارب رحمٰن کی رسائی سے اب دور نہیں۔۔۔۔
مجھے تو کسی ٹریکر کی بھی ضرورت نہیں اک طنزیہ مسکراہٹ اس پہ اچھالی وہ تلملا کے رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
جسطرح تم نے میری معصوم بہن کو مہرہ بنایا اب سب ٹھیک بھی تم ہی کروگی ورنہ کل صبح کے اخبار میں یہ دونوں علی حیدر اور مسسز ریحاب صارب رحمٰن کےنکاح نامے علوی خاندان کو تاب توش کرنے کیلئے کافی ہیں ۔۔۔۔۔
کمینگی سے نگاہ اس پہ دوڑائی۔۔۔۔
تو وہ مشعل اور علی کے نکاح نامے تک بھی رسائی حاصل کرچکا تھا اک ٹھنڈی سانس بھرتے اس نے اک ناکام نگاہ صارب پہ ڈالی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
آؤ تمہیں گھر چھوڑ آؤں اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا جبکہ وہ اسے جھٹکتی آگے بڑھی تھی۔۔۔۔۔
آہاں آئی ۔لائک اٹ صارب کا قہقہ دروازہ پار کرتی ریحاب کو جی جان سے جلا گیا تھا۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے تک صبح کو سویرا طلوع ہوچکا تھا اسکی زندگی کے سورج کو ڈبونے کے بعد۔۔۔
جاری ہے
