Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 03)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

کہنے کو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں

امجد مگر وہ شخص مجھے بھولتا نہیں

ریحاب کبھی کبھی اپنی دیوانگی پہ خود ہی تھک جاتی تھی۔۔۔

یااللّہ کوئی معجزہ ہی کردے اور مجھے اس شخص سے ملوا دے اک بار بس اک بار نظریں سکرین پہ چلتے مناظر پہ تھیں اور خود دل۔ودماغ کی الجھنوں میں گم تھی جب دروازے پہ ہلکی سی دستک دیتے ہوئے سیلمان علوی اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔

ارے بھیا کب آئے خوشدلی سے سیلمان کے گلے لگتے بولی ۔۔۔

تب جب ہماری گڑیا سامنے کے مناظر میں گم تھیں ٹی۔وی پہ بدلتے مناظر پہ نظر ڈالتے اس نے ہلکا پھلکا طنز کیا اوہو آئی۔مین وہ تھوڑی خجل ہوئی تھی۔۔۔۔۔

ریحاب فیورٹیزم اچھی چیز نہیں ہوتی گڑیا آپ جو آئیڈیل بناتے آپکے نزدیک وہ پریفیکٹ ہوتا مگر ہر انسان کی لائف میں کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا جو اسے آپکی سوچ سے الگ کردیتا ہے تب ہرٹ ہونے سے بہتر انسان پہلے سٹپ پہ اپنے قدم روک لے۔۔۔۔

اسکے فیورٹ شاہکار کو اس نے غور سے دیکھتے کہا تھا جبکہ ریحا نا سمجھی سے سلمان کو دیکھنے لگی ۔ ۔۔ ۔

عقل مند کو اشارہ کافی تھا مگر ریحاب علوی کے دماغ میں اتنی جلدی کہاں بات آنی تھی سوائے اسکے کہ بھائی نے سامنے پوسٹر پہ بنی شخصیت کے متعلق اسے وارن کیا تھا ۔۔۔۔

بھائی صرف اک وش ہی تو ہے اور تو کچھ نہیں وہ جانتی تھی اسکا بھائی قدامت پسند نہیں ہے یقیناً کچھ سوچ کے ہی بول رہا ہوگا۔۔۔

ہننمم ویل لیٹس ہیو اے کافی پارٹی بات کو بدلتے سیلمان نے اسے کہا کیونکہ جو بھی تھا ریحاب جیسی کافی کوئی نہیں بنا سکتا تھا۔۔

ڈن بھائی وہ جلدی سے اسکے ساتھ ہولی بائےدا وے ضوئی نے تو کہا کہ تم سو رہی ہو اور وہ بغیر ملے چلی گئی تم سے سیلمان نے کچھ دیر پہلے ضوئی کے رویے کی وجہ جاننی چاہی۔۔۔۔

کیا زویا آئی تھی بٹ میرے پاس تو نہیں آئی آپکو کہاں ملی تھی وہ ۔۔

اسکی غلط فہمی دور کرنے ساتھ سوالوں کے تابڑ توڑ حملے بھی ساتھ کیے تھے۔۔۔

لاؤنچ میں مما ساتھ ۔۔۔۔

اوہ ریحاب فوراً بات کی تہہ تک پہنچی تھی یقیناً مما نے ہی کچھ بولا ہوگا جو وہ اس سے ملے بغیر چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔

کافی سے فری ہوکے سیلمان اپنے روم چلا گیا وہ بھی انیکسی کی طرف بھاگی مگر گیٹ پہ ہوتی مسلسل بیل نے اسے متوجہ کیا ۔۔

خان بابا اپنے گاؤں گئے ہوئے تھے اور کوئی بھی اسے نظر نہیں آیا تھا جبھی وہ گیٹ کھولنے پہنچی تھی۔۔۔۔۔

سامنے موجود شخصیت کو دیکھ کے اسے اتنی جلدی اپنی دعاؤں کی قبولیت کا یقین نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔

ہیلو ۔۔۔۔۔اسکے سامنے چٹکی بجاتے صارب نے اسے متوجہ کیا۔۔۔

جج جی فرمائیں فوراً ہوش میں آئی تھی۔۔

اردگرد اسکے الفاظ گونج رہے تھے مجھے مردوں کو لجھانے والی لڑکیاں پسند نہیں۔۔۔

تف ہے تم پہ زویا کیا سوچے گا کہ میں بھی عام لڑکیوں کی طرح اسکی لکس پہ مرنے کو تیار ٹہری تھی۔۔۔

ہاؤس نمبر تھرٹین ۔۔۔رائیٹ

اک مختصر سوال۔۔۔

نو اٹس تھرٹی۔۔

جتنا مختصر سوال ہوا تھا اس سے بھی مختصر جواب دیا گیا تھا۔۔۔۔۔

بٹ لوکیشن میں تو یہ تھرٹین آرہا ہے ۔۔۔

او مسٹر کہہ چکی نا کہ یہ آپکا مطلوبہ گھر نہیں ہے تو۔۔۔۔

کہی لڑکی دیکھی نہیں اور فلرٹ بازی شروع۔۔۔۔

بدتمیزی سے کہتے اس نے گیٹ اسکے منہ پہ مارنے والے انداز میں بند کیا اور اپنی تیزگام کی رفتار سے چلتی سانسوں کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔

جبکہ دوسری جانب صارب سے اپنی اتنی واضع انسلٹ برداشت نہیں ہورہی تھی ۔۔۔ ۔

اسے اپنے سے غلطی کی اک پرسینٹ بھی گنجائش نہیں تھی پھر بھی وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

لوکیشن دوبارہ ڈالی تھی نتجتاً دوبارہ اس گھر کے سامنے تھا ۔۔۔۔

بیل کی آواز پہ پھر سے وہ اسکے سامنے تھی۔۔۔

کیا ہے کتنی بار آپکو بولا آپ غلط اڈریس پہ پہنچے ہیں ۔۔۔

دیکھیں محترمہ۔۔۔

واٹ کس کو محترمہ بولا آپ نے میں آپکو محترمہ نظر آرہی ہوں اسکو بولنے کا موقع دیے بغیر وہ شروع تھی۔۔

جبکہ صارب کا دل کیا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے چلا جائے۔۔۔۔۔۔

دروازہ اک بار پھر بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی جبھی صارب نے گیٹ میں اپنا پاؤں اڑسا تھا۔۔۔

تھی تو غیرمہزب حرکت مگر وہ اس چیز کیلئے مجبور کررہی تھی۔۔۔

آپ نے شاید غور نہیں کیا میں صارب ۔۔۔۔

تبھی دوبارہ چنگھاڑتی آواز میں ریحاب شروع ہوئی۔۔

اپنی آنکھیں ادھار رکھ کے آئے ہو مسٹر کیا جب میں کہہ رہی ہوں کے یہ ہاؤس نمبر تھرٹی ہے تو آپ کیسے کہہ سکتے کہ یہ تھرٹین ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بغور اپنے سامنے لڑکی کا جائزہ لیا تھا ۔۔۔۔

اسے اپنی حالت پہ رحم آرہا تھا۔۔۔

جواس چینی چاپانی ٹائپ گڑیا نے اسکو ہلا کے رکھا ہوا تھا پندرہ منٹ سے بحث جاری تھی اور وہ گھوم پھر کے اسی گھر سامنے آرکتا ہر بار بیل بجانے پہ وہ آفت کی پڑیا سامنے کھڑی ہوتئ۔۔۔۔۔۔

دیکھو بیٹا آپ اپنے کسی بڑے کو بلا دیں آئی تھنک آپ مجھے پہچان نہیں رہیں اکڑی ہوئی گردن سے وہی ڈائلاگ بولا گیا جو پہلے کئ برا اسکے سامنے بول چکا تھا۔۔۔۔

واہاٹ آپ نے بیٹا کس کو بولا ۔۔۔۔۔

وہ چیخنے والے انداز میں بولی۔۔۔

یاوحشت محترمہ پہ اعتراض بیٹا بولنے پہ اعتراض سامنے کھڑی لڑکی اسکا ٹمپر لوز کررہی تھی۔۔۔۔

ارے صارب تم کب آئے پاکستان سیلمان کی آواز پہ دونوں چونکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبھی سیلمان آگے کو بڑھتے ہوئے اسے گلے ملنے لگا تھا ۔۔۔ کافی دن سے آیا ہوا تھا سوچا تم سے مل۔لو اور تمہاری چھوٹی بہن کو بھی اسکے فیورٹ ون سے ملوا دوں مخصوص مغرور انداز ۔۔۔۔۔۔

ارے احسان ہے آپکا کے انڈسٹری کے کنگ صارب رحمان ہمارے گھر تشریف لائے ہیں اور اس سے ملو یہ میری لٹل سس ریحاب تمہاری بگ فین۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ وہ اپنے اس طرح اکسپوز ہونے پہ بری طرح شرمندہ ہوئی ساری کری کرائی پہ سیلمان نے اک لمحے میں پانی پھیرا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اور صارب اس ڈرامہ باز لڑکی کو دیکھ کے الجھن کا شکار ہوا اگر وہ اسکی فین تھی پچھلے پندرہ منٹ سے کیا ناٹک چل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اور وہ اسکا اپنا انٹرو کرواتا پھر رہا تھا جبکہ وہ جان کے بھی انجان بننے کا ناٹک کھیل رہی تھی۔۔۔۔

آہاں رائٹ ۔۔۔نائس ٹو میٹ یو صارب نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تھا اک طنزیہ مسکراہٹ اسکے لبوں پہ تھی جو ریحا کو ژچ کر نے لگی تھی۔۔۔۔

سوری میں اجنبیوں سے ہاتھ نہیں ملاتی سیلمان کا لحاظ کیے بغیر وہ اسکی صاف انسلٹ کرگئی تھی ۔۔۔۔۔

سیلمان نے حیرت سے ریحا کو دیکھا تھا وہ جو اتنا بڑا پوسٹر دیوار پہ صارب رحمٰن کالگا رکھا تھا کیا یہ وہی ریحا تھی مگر وہ چپ ہوکے رہ گیا تھا۔۔۔۔

اور بھیا اپنے مہمانوں سے کہیں ہاؤس نمبر کی پلیٹ گھر پہ لگی ہے فضول کی بحث سے دوسروں کا ٹائم ویسٹ مت کیا کریں اٹس ہاؤس نمبر تھرٹین بٹ آپکے دوست کہہ رہے اٹس تھرٹی۔۔۔۔۔

کمال۔بےنیازی سے کہتی وہ آگے بڑھ گئی جبکہ اسکے اتنے کنفیڈنٹ پہ اک لمحے صارب کو بھی لگا کے تھرٹی کیلئے ہی بحث کرتا رہا ہے۔۔۔۔۔۔

جھوٹی لڑکی ۔۔۔۔صارب نے اگلے ہی لمحے اسے اپنے ناپسندیدہ ترین لوگوں کی لسٹ میں شامل کیا تھا۔۔۔۔

اور سیلمان اس سے ریحان کے رویے کی معزرت کرتا اسے لے کے اندر کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔

پھر وہ جتنی دیر سیلمان کے ساتھ رہا صارب کو وہ نظر نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں سمیٹے وہ ارحم کے ساتھ بڑی حویلی آگئی تھی ۔۔۔۔۔

چچی جان نے اسکے ہاتھ لگوا کے کئی بکرے صدقہ دیے کتنے نوٹ اس پہ وار کے نوکروں کو پکڑوائے کوئی حساب نہیں تھا ۔۔۔

وہ اپنی نوعیت کی اس خاندان کی پہلی لڑکی تھی جو بنا کسی جہیز اور شورشرابے کے سادگی سے رخصت ہوکے آئی تھی۔۔۔۔۔۔

جسے کمرے میں اسے لا کے بٹھایا گیا وہ مہنگے فرنیچر اور اعلٰی ڈیکوریشن سے مزین کمرہ مکین کے بہترین زوق کا ثبوت دے رہا تھا منہ میں سونے کا چمچہ لے کے پیدا ہونے والے ارحم مصطفٰی کے عادات و خصائل سے کون ناواقف تھا۔۔۔۔۔

اک وقت تھا جب منت کو اس گھر کے مکینوں سے خومخواہ کی الرجی تھی اور اب قسمت نے کیسے اسے کھینچ کے تمانچہ مارا تھا کہ وہ منہ کے بل اسی بڑی حویلی کے در پہ پڑی تھی۔۔۔۔

اپنی حالت پہ غور کیا تو اسے خود پہ ترس آیا اور تو کوئی تھا نہیں وہ بھلا کیوں اک غنڈے موالی کیلئے زینت وآرائش کرکے بیٹھی تھی اماں سائیں نے اسکیلئے جلدی میں کچھ جوڑے ساتھ بھیجے تھے وہ بیڈ سے اٹھی اور اپنے ساتھ لائے چھوٹے سے بیگ سے مناسب سا سوٹ ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔

مگر کچھ بھی اسے اپنے مطابق نہ لگا تھا تمام تر ہیوی ڈریسز سلیکٹ کرتے وقت اماں سائیں شاید بھول چکی تھیں کہ انکی لاڈلی کو اتنے بھاری بھرکم کپڑوں کی عادت نہ تھی آیا کہ ان میں رات گزارنا۔۔۔۔۔۔

بیگ بند کرکے وہ الماری کی طرف بڑھی سامنے اک سے اک اعلٰی مردانہ سوٹ لٹکے ہوئے تھے اس نے منہ بسورتے ہوئے چھانٹی کی تھی کوئی بھی اسکے سائز کا نہ تھا بڑی محنت کے بعد ارحم کا ٹریکنگ سوٹ اسکے ہاتھ لگا تھا جو اسے سائز میں بہت بڑا تھا مگر اسکے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔۔۔۔۔

جلد ہی ہیوی جیولری اور سوٹ سے وہ چھٹکارا پا چکی تھی ٹراؤزر کو بڑی مشکل سے فولڈ کیا مگر جیسے ہی دو قدم آگے بڑھے وہ لڑھکتا اسکے پاؤں میں آئے جارہا تھا۔۔۔

یا اللّٰہ کس امتحان میں ڈال دیا مجھے پہلی ہی آزمائش پہ آنسو نے اسکی غلافی آنکھوں کی جھالر پہ قبضہ۔کیا تھا۔۔۔۔۔۔

مشکل سے بیڈ تک کا سفر طے کیا۔۔۔۔۔۔۔

آنکھیں بند کی تو آج کے مناظر کسی فلم کی طرح اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے تھے ۔۔۔۔۔

بھانت بھانت کی بولیاں بولتے لوگ ،بابا سائیں کی شطرنج کی بساط پہ بچھایا گیا جال،ارحم اور تایا کا رویہ سب اسکے دماغ سے اوپر تھا۔۔۔

اور رمیز لالہ انکا شرمندہ چہرہ اسکا دل۔اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا تھا وہ بھی تو اسکیُیے کچھ نہ کرسکے تھے ۔۔۔۔

پتا نہیں کیا نصیبوں میں لکھا تھا کیا اک قابل نفرت شخص کے ساتھ زندگی گزارنا اتنا آسان تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

باجی کیا بتاؤں چوہدری ارحم تو چوہدریوں کا خون لگتا ہی نی اللّٰہ کی پناہ سارے گاؤں کی کڑیاں انوں ویکھ کے نس جاندیاں اڈی گندی نجر آ اسدی( سب گاؤں کی لڑکیا اسے دیکھ کے بھاگ جاتی ہیں اتنی گندی نظر ہے اسکی)…

رامو موچی دی چھوری پھر تے نظر نی آئی سنا اے ہی اے چوہدری ارحم اس نو اپنے ڈیرے لے گیا سی اپنے یاراں نال۔۔(رامو موچی کی بیٹی دوبارہ نظر نہیں آئی سنا یہی ہے کہ چوہدری ارحم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے ڈیرے پہ لے گیا تھا)…..

دور کہی کام والی عورت کی آواز اسکے کانوں میں گونجی تھی جو گاؤں کا کوئی واقعہ اماں سائیں کے ساتھ ڈسکس کررہی تھی۔۔۔۔۔

ایسا کیا گناہ کیا تھا میرے مالک جو اک بدکردار شخص میری قسمت کیا وہ بے اختیار ہی اپنے رب سے شکوہ کربیٹھی تھی۔۔۔۔

کب اسکی آنکھ لگی اسے کچھ پتا نہیں لگا تھا۔۔

ارحم لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے میں داخل ہوا تو پہلی نظر کمرے میں موجود اس حسین سراپے پہ پڑی تھی جو کہ اسکی ملکیت تھا ۔۔۔

اک فاتحانہ نگاہ اس پہ ڈال کے وہ اسکے برابر ڈھیر ہوا تھا جب منت کی آنکھ فوراً کھلی تھی اپنے اتنے نزدیک ارحم کو دیکھ اک خوف اسکی آنکھوں میں اترا تھا۔۔۔۔

کک کیا ہوا میری جان۔۔

ارحم نے اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا جو وہ نخوت سے جھٹک کے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔

توتم کیا کر رہے ہو یہاں ۔۔۔اک احمقانہ سوال

جو ارحم نے سنتے ہی چھت پھاڑ قہقہ بلند کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

تو اور کس نے آنا تھا یہاں ۔۔۔

کسی اور کا انتظار تھا کیا لال انگارہ آنکھیں اس پہ جمائے سوال کیا تھا منت اسکا لہجہ دیکھ لڑکھڑائی تھی۔۔۔۔

ادھر آؤ میرے پاس اک تحکم بھری آوز ۔۔۔

منت نے بے بسی سے ادھر ادھر اپنے چھپنے کی جگہ تلاشنی چاہی تھی مگر کچھ بھی اس روم میں ایسا خاص نہ تھا ۔۔۔۔

ا ادھر آؤ من ۔۔۔۔

اب کے بار منت کے پاس اسکی بات ماننے کے سوائے کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔

ڈرنکڈ ہے وہ منت کیا بگاڑ لے گا تمہارا خود کو ہمت دلاتی وہ آہستہ آہستہ اسکی طرف بڑھی تھی جب اس نے بازو سے پکڑ کے اسے اپنے اوپر گرایا ۔۔۔۔

اک بدبو کا بھبھوکا اسکے وجود سے اٹھا تھا اسے لگا اسے وومنٹ ہو جائے گی۔۔۔۔

تم ہوش میں نہیں ہو ارحم پلیز یو آر ڈرنک اپنا آپ اس سے چھڑانے کی سعی کرتی وہ خود سے اسے دور ہٹانے لگی۔۔۔۔

جبکہ ارحم نے اسے مزید خود کے قریب کیا تھا۔۔۔۔۔

چھوڑو مجھے گھن آرہی تم سے جاہل آدمی منت اپنا بازو چھڑاتے اس سے دور ہوئی تھی جبکہ اسکے الفاظ ارحم کو مزید تپا گئیے تھے کیا کہا گھن آرہی تمہیں مجھ سے اک جھٹکے سے اسکے بال پکڑے تھے جبکہ منت کی درد سے چیخ نکلی تھی۔۔۔

مم معاف کردو مجھے میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔۔۔

اسے اپنے لہجے کی سختی اور ارحم کے وحشی انداز کا تدراک اب ہورہا تھا۔۔۔ ۔

مجھے وائن سے اسمیل آ۔۔۔

منت کو اک جھٹکے سے چھوڑا تھا جب وہ نیچے گرتے ٹیبل کے کونے سے ٹکرائی تھی خون کی اک دھار اسکے ماتھے سے نکلی تھی…..

ابھی وہ سنبھلی نہیں تھی کہ خود پہ گرتے محلول نے اسے حواس باختہ کیا تھا ۔۔۔

ارحم نے وائن کی پوری بوٹل سے اسے بھگودیا تھا۔۔۔

ارحم مصطفیٰ کے سامنے آئندہ کِبھی بھول کے بھی اسکی پسندیدہ چیزوں کو برا مت کہنا من ۔۔۔

اسکو ٹھوڑی سے پکڑتے ہوئے وہ اس پہ چلایا تھا جبکہ منت نے اپنی چیخوں کا گلا گھونٹا تھا ۔۔۔۔

ایسے ہی رات گزارو گی تم اسکی گود میں سر رکھتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔

اوہ ہاں جیسے کچھ یاد آنے پہ وہ اٹھ کے اسکے سامنے بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ کیا کہتے ہیں اسے منہ دکھائی۔۔۔۔

سوچنے کا ناٹک کرتے وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔۔

اماں سائیں نے کہا تھا نئی دلہن کو منہ دکھائی کا تحفہ دینا۔۔۔۔

تم نے مجھ سے منہ چھپایا ہی نہی می میں کیا منہ دکھائی دوں من تمہیں ۔۔۔

چہرے پہ حد درجہ معصومیت سجائے وہ اسے کہیں سے بھی ابھی والا بے رحم ارحم۔نہیں لگا تھا۔۔۔۔۔

پر اماںّ سائیں نے کہا ہے تو اسکا کہا ٹال نہیں سکتا میں

اسکا چہرہ دونوں ہاتھ میں تھامتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔

خوف کی اک لہر منت کے پورے وجود میں سرائیت کرگئی تھی ۔۔

اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دے بغیر وہ اسکے ہونٹوں پہ جھکا تھا تکلیف کی شدت سے منت کی سانس بند ہونے لگی تھی خون کی اک دھار سی نچلے ہونٹ سے نکلی۔۔۔

ہاں اب ہوگئی مکمل ہماری گولڈن نائٹ ۔۔۔

اسکے نازک ہونٹوں کو کچلنے کے بعد وہ استرائیہ ہنسا۔۔۔

ارحم کی نائٹ ۔۔۔

پھر سے بے ہنگم قہقہ جبکہ منت اپنے ہاتھوں سے اپنے زخمی ہونٹوں کو سہلانے لگی۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا درد کی شدت کہاں زیادہ تھی اسکے جسم کے حصوں سے رستے زخموں سے یا اپنی برداشت پہ روتے دل سے ۔۔۔۔۔۔

وہ ادھر ہی منت کی گود میں سر رکھے آنکھیں موند گیا جبکہ وہ بے حس بیٹھی اپنے نصیب پے نوحہ کناں تھی۔۔۔۔

ماضی کی کچھ یادوں نے اک بار پھر اسے اپنے شکنجے میں لیا۔۔۔۔۔

کیسے منت نے چھری کو چھوا تم سب لوگ اندھے تھے کہاں مرگئے تھے میری بیٹی کے ہاتھ سے خون نکلا ہے ۔۔۔

اسکے اردگرد خیام ارحدی کی آواز گونجی تھی جب غلطی سے منت کے ہاتھ پہ کٹ لگ گیاتھا اور اماں سائیں سمیت سب حویلی کے ملازمین کی شامت آئی تھی۔۔۔۔

بابا اک چھوٹے سے زخم کو نہ دیکھ سکنے والے نے کیسے اپنی منت کو اک بے رحم شخص کے حوالے کردیا۔۔۔

بابا آ کے دیکھو آج آپکی منت کےجسم کا ہر حصہّ زخمی ہے۔۔۔

بابا آکے ارحم سے جواب لو ۔۔۔

بابا آپکی منت زخمی ہے ۔۔۔

اندر ہی اندر چیخوں کا آطوفان برپا تھا مگر اک جامد چپ نے اسکے لبوں کو سی دیا تھا۔۔۔۔

اک نفرت بھری نظر اپنی گود میں سرکھے ارحم مصطفٰی پہ ڈالی اور منہ موڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

جی زیدی صاحب آپ کا کرم ہے بس اتنا خیال رکھیے گا سیٹ پہ کام کرنے والی ٹیم میں خود سلیکٹ کرونگا اور اپنی البم کی ماڈل بھی ۔۔

جی بلکل آپ انٹرویو رکھ لیں۔۔۔

دوسری طرف کی بات سننے کے بعد تھوڑا رکا تھا۔۔۔۔

آپ ٹینشن نہ لیں یہ ہوہی نہیں سکتا جسکا ہاتھ صارب رحمٰن پکڑے اور وہ بلندیوں کو نہ چھوئے۔۔۔

غرور ٹپکاتا لہجہ ،ایک ہاتھ میں کی رنگ کو گھماتے وہ ائیر بلو ٹوتھ پہ مسلسل کال پہ بزی تھا جبھی کسی سے زور سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔۔۔

شاید سامنے والے کے ہاتھ میں کانچ کی چیز تھی جو چھناکے سے ٹوٹتی آوز پیدا کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔

یاوحشت ریحاب کی آواز پہ وہ چونکا تھا یہ لہجہ اور آواز کچھ جانی پہچانی لگتی تھی صارب کا میموری سسٹم اتنا سٹرونگ ضرور تھا کہ وہ اک ہی بار ملنے پہ لوگ یاد رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔

او یو لائر گرل ۔۔۔۔۔۔۔۔

ریحاب کو دیکھتے وہ چٹخا تھا ابھی پچھلی ملاقات بھولی تو نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

آہاں تو آپ ہیں لڑاکا عورتوں کے سٹائل میں ہاتھ کمر پے رکھے وہ پوری طرح اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔

سوچا تھا جسکی وجہ سے میرا اتنا قیمتی واسک ٹوٹا ہے اس سے قیمت وصول کرونگی بٹ ۔۔۔۔۔

جن لوگوں کے پاس آنکھیں نہ ہوں انسے سیمپتھی کی جاسکتی قیمتیں وصول نہیں۔۔۔۔

خشک انداز میں اس پہ چوٹ کی تھی اور آگے کو قدم بڑھائے جبکہ صارب اس چرب زبان لڑکی پہ حیران ٹہرا تھا۔۔۔ ۔۔

دوقدم چلنے کے بعد وہ دوبارہ الٹے قدموں سے اسکے پاس آئی تھی ایک ہاتھ سے اسکے سن گلاسسز اتارے اور دوسرے سے اسکے ائیر بلوٹوتھ اور دونوں اسکے سامنے لہرائے تھے یو نو واٹ اس ٹائم رات کے نو بج رہے ہیں۔۔۔۔۔۔

سن گلاسسز کا استعمال دن کے وقت ہوتا اینڈ ہاں مال کے اندر نہیں ۔۔۔۔۔باہر ۔۔۔

سیکنڈلی یہ چیز پبلک پلیس میں یوز کریں گے تو لوگوں سے ٹکراتے ہی پھریں گے نا تب اندھے کے ساتھ بہرے بھی لگیں گے بلکل سانپ کی طرح۔۔۔۔۔۔۔

اشووشش دونوں ہاتھ سے سانپ کا سٹائل بناتی ڈسنے کے انداز میں ہاتھوں کو صارب کے سامنے کیے جو اسکی حرکت پہ ڈر کے پیچھے ہوا تھا جیسے واقعی اسکے ہاتھ میں سانپ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ زور کا ہنسی تھی جیسے اپنا جوک خود ہی انجوائے کیا ہو۔۔۔۔۔

دونوں چیزیں اسکے ہاتھ میں پکڑاتی یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔

جبکہ صارب جیسے گہری نیند سے جاگا ہو پتا نہیں کیوں اسکی بولتی اس لڑکی کے سامنے آتے ہی بند ہو جاتئ ۔۔۔

ول سی یو اسٹوپڈ گرل ۔۔۔۔

بھاگ کے اسکا پیچھا کیا تھا جب وہ اسے لفٹ میں انٹر ہوتی دکھائی دی تھی۔۔۔۔۔۔

ڈیم فول وچ(پاگل ڈائن)۔۔۔

کا خطاب دیتے اسنے دوبارہ گلاسسز آنکھوں پہ چڑھائے اور بلوٹوتھ سیٹ کرتا بے فکری سے آگے بڑھا تھا مگر اتنا بے فکر تھا نہیں جتنا وہ خود کو دکھا رہا تھا پہلی بار اسکے دماغ میں اک عام سی لڑکی نے کھلبلی مچا رکھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

سانپ ڈس لے تو ہے تریاق کے امکان بہت

آدمی ڈس لے تو ہر سانس بکھر جاتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *