Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 02)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

الجھنیں بھی اسے دیکھیں تو سلجھ جاتی ہیں

یار وہ شخص نگاہوں سے گرہ کھولتا ہے _۔۔

نجی چینل پہ صارب رحمٰن کا اٹرویو دیکھتے وہ سوچے جارہی تھی کیا کوئی اس شخص سے زیادہ بھی خوبصورت بول سکتا ہے ۔۔۔۔

انڈسٹری میں دو سال کامیابی سے گزار چکے ہیں آپ مگر ہمیشہ فیملی ٹاپک پہ ڈسکیشن سے گریز کرتے ہیں آپ اس کی کوئی خاص وجہ اینکر کے سوال پہ وہی مخصوص مسکراہٹ سجائے بولا تھا۔۔۔

کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کل کو میری فیملی کسی مشکل کا شکار ہو ۔۔۔۔۔

اک پرسنل سوال کیا آپ اپنا ہمسفر ڈھونڈ چکے ہیں اور آپکی فیملی کی کس حد تک آپکو سپورٹ حاصل ہے۔۔

اینکر نے جلدی جلدی اپنا سوال مکمل کیا جبکہ وہ آلریڈی سکرپٹڈ سوالوں کے جواب دے چکا تھا ۔۔۔۔

بیک اپ ٹہرے لوگ اینکر کی متوقع شامت پہ لاحولہ پڑھ رہے تھے کیونکہ جانتے تھے وہ صرف انہی سوالوں کے جواب دیتآ ہے جنکے سوال وہ خود انکو دیتا ہے شاید اینکر نئی تھی اور اسکے مزاج سے بھی ناواقف۔۔۔۔۔

جبکہ ریحا کی دھڑکنیں اس سوال پہ بے ترتیب انداز میں شور برپا کیے ہوئے تھیں ۔۔۔۔۔۔

اسکا ہر عضو اسوقت کان بنا ٹی۔وی پہ مرکوز تھا ۔۔ ۔۔۔۔

جب اس نے دبنگ لہجے میں جواب دیا ویل اس بارے میں ابھی کچھ ڈیسائڈ نہیں کیا مگر میری لائف پارٹنر کم از کم شوبز سے نہیں ہوگی نا ہی مجھے مردوں کو لبھاتی دعوت عام دیتی عورتیں پسند ہیں اٹینشن سیکر لوگوں سے مجھے ویسے بھی الرجی ہے اک اک لفظ چبا چبا کے ادا ہوا تھا ادھر ڈائریکٹر نے اینکر میں بریک اناؤنسمنٹ کا بولا تھا۔۔۔۔۔

جی تو نظرین ہمارے ساتھ اسوقت موجود ہیں ملک کے نامور سنگر اور ادکار صارب رحمٰن ان سے مزید گپ شپ کریں گے تب تک لیتے ہیں شارٹ بریک ول بی بیک سٹے ود اس۔۔۔۔۔

کیا تماشا ہے یہ صابری صاحب آپکو اچھے سے پتا ہے میری نیچر اسکے باوجود آپ نے سکرپٹ میں اپنی مرضی ڈالی چنگھاڑتا ہوا وہ کہیں سے بھی ول مینرڈ نظر آنے والا صارب نہیں لگ رہا تھا۔۔۔

سوری سر اصل میں یہ نئی لڑکی ہے تو اتنا نہیں جانتی معزرت کرتے ہیں ہم ڈائریکٹر اتنے بڑے سٹار کے سامنے گھگیا ہوا تھا کٹیلے انداز میں ان سب پہ نظر ڈالتا آگے بڑھا تھا۔۔۔

صابری صاحب آپکی لڑکی نئی ہے مگر میرے اصول پرانے لمبےلمبے ڈگ بھرتا وہ شو کو ادھورا چھوڑ کے جاچا تھا جبکہ پوری ٹیم ملامتی نظروں سے اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

ریحاب کب سے بریک ختم ہونے کے انتظار میں تھی مگر یہ کیا ہوسٹ نئے گیسٹس ساتھ موجود تھی جبکہ صارب رحمٰن کے اچانک ایمرجنسی میں جانے پہ نظرین سے معزرت کے ساتھ آئندہ بلانے کا جھوٹا سچا وعدہ کرنے لگی تھی۔۔۔

اس نے بیزار نظریں ٹی۔وی پہ ڈالی اور بند کردیا ارے بیٹا کیوں بند کردیا اتنا اچھا شو تو لگ رہا تھا۔۔۔۔

اپنی بیزاری میں وہ پاس بیٹھی اپنی ماں کو اگنور کرچکی تھی ۔۔۔۔

اتنا اچھا بھی نہیں ہے پٹاخ سے ریموٹ رکھتے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی اسے کیا ہوا پیچھے مسسز شاہد نے اسے حیرت سے دیکھا عجیب سنکی لڑکی ہے ناک میں دم کررکھا ہے۔۔۔۔

ادھر تینوں بہنیں سر جوڑے بھائی کے ادھورے انٹرویو کو چھوڑنے پہ قیاس آرائیاں کرنے میں مگن تھیں۔۔۔

مجھے پتا بھائی کو شادی کے ٹاپک پہ غصی آیا ہوگا رابی پورے وثوق سے کہہ رہی تھی۔۔۔

نہیں رابی فیملی تمہیں پتا نا بھیا کتنے کونشئس رہیتے فیلمی کو لے کے یقیناً اس سوال۔پہ بیچاری ثناء کی دھلائی کی ہوگی مشعل اپنی جگہ اچھی قیاس آراء ثابت ہوئی تھی جو بھی ہویار صارب کو ایسے پروگرام چھوڑ کے نہیں جانا چاہیے تھا زہرہ نے دکھی دل سے کہا تھا ۔۔۔

گاڑی رکنے کی آواز پہ تینوں چونکیں تھیں یاہو مشعل نارا لگاتی باہر کو بھاگی تھی کیونکہ صارب کی گاڑی کی آواز وہ اچھے سے پہچانتیں تھیں رابی بھی اسکے پیچھے دوڑی تھی البتہ اک زہرہ تھی جو سلجھی ہوئی تھی اور دھیمے مزاج میں بات کرنا ہمیشہ بڑک پن کا احساس دلاتی ۔۔۔۔۔

آپکو پتا رابی کی جو دوست تھی رمشہ اسکے ہاں چار بچے ہوئے ہیں اف کتنے کیوٹ ہیں صارب بھیا اس نے ہمیں پکس بھیجی ہیں میں نے اس سے پرامس لیاہے کہ وہ اپنا اک بےبی ہمیں دے گی مشعل کی باتیں سنتا وہ لاؤنچ میں انٹر ہوا تھا جبکہ رابی بولنے کو منہ کھولتی تو مشعل اسکے منہ پہ ہاتھ رکھے اپنی سنائے جارہی تھی ۔۔۔

زریں بیگم نے اسکے بازو کے گھیرے میں بہنوں کو دیکھا تو آگے بڑھ کے اسے گلے لگانے کو بڑھیں تھیں جو صاف انکو اگنور کرتا آگے کو بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔

ان کی آنکھیں بے اختیار اسکا کٹھور پن دیکھ کے بھیگی تھیں جسکیلئے مشعل تو اہم تھی اسکی بےپرکی باتیں بھی اگر کوئی غیر اہم تھا تو زریں بیگم اور اسکے ساتھ رحمٰن صاحب کا وجود جنکو وہ کسی کھاتے میں نہیں لاتا تھا۔۔۔۔

اگر اس گھر میں اسکی آمد کی کوئی وجہ تھی تو وہ صرف بہنیں ورنہ اسے کسی سے کوئی سروکار نہ تھا۔۔۔

مشی جان ہم رمشہ کے بےبی کیوں لیں گے وہ اپنی ماں کے بغیر کیسے رہ سکتا ہے وہ اور اسکی فیملی اچھے سے سنبھال لے گی ان بچوں کو مشعل کے جزباتی انداز پہ صارب نے اسے سمجھایا تھا ۔۔۔

نہیں نا رمشہ آپی کے گھر والے ان بچوں کو قبول نہیں کررہے پہلے بھی وہ دو بچے محلے میں کسی اور کو دے چکے ہیں مشعل رونے والی ہوگئی تھی وہ جو رابی کے مسئلے کے حل۔کیلئے آیا تھا اک نیا مسئلہ دیکھ چکرا گیا تھا۔۔۔۔

مشی جان ہم رمشہ کے گھر جائیں گے اسکے پیرنٹس سے بات کریں گے آخر کو ان بچوں کا باپ بھی تو ہوگا ہی شوڈ بی رسپونسبل آف دئیر بیببز۔۔۔۔۔

درمیان کی راہ ہموار کی تھی آہاں ان بچوں کا باپ تو انکے پیداہونے سے پہلے ہی اک گاڑی کے نیچے آکے مرگیا تھا بھیا میں آپکو اسکی تصویر دکھاتی وہ بھی بہت کیوٹ تھا۔۔۔

اوہ تو یتیم بچے ہیں شاید اسلیئے کوئی انکی رسپونسبلٹی نہیں لینا چاہ رہا ۔۔۔

واقعی دنیا میں ظالم اور بے حس لوگ بھی ہیں جو اگر باپ نہیں تو ان بچوں سے انکی ماں کی گود بھی چھیننا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔۔

زریں بیگم اسکے لیجے کی کڑواہٹ سے اچھے سے واقف تھیں مگر ہمیشہ کی طرح سوائے اسکی کڑوی کسیلی باتیں سننے کے انکے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔

ہاں بھیا وہ بلکل یتیم ہیں ۔۔

مگر پاپا کیسے مانیں گے مشی جان صارب نے بے چارگی سے اسے دیکھا۔۔۔

سٹاپ اٹ مشی نان سینس۔۔۔۔۔۔۔۔

بھیا یہ جن بچوں کی بات کررہی یو نو واٹ وہ اتنے ڈرٹی ہیں اک۔لمحے کو گھر کے کسی کونے ہوتے تو کبھی کسی ہم نہیں لے سکتے اتنے گندے بے۔بی رابی نے منہ بناتے ہوئے اپنا اعتراض کیا تھا۔۔۔

صارب ان دونوں کے چکروں میں پڑ کے اپنی ساری ٹینشنیں بھولے بیٹھا تھا۔۔

اور ویسے بھی میں رمشہ کو انکار کرچکی ہوں تمہیں پتا ہے نا بھیا کو کیٹو سے کتنی الرجی ہے نو وے۔۔۔

رابی کی بات پہ وہ اچھل کے سیدھا ہوا تھا۔۔۔

کیا مطلب تم لوگ اب تک کیٹو کے بچوں کا زکر رہی تھیں۔۔

جی بھیا وہ بہت کیوٹ ۔۔مشی نے صفائی دینی چاہی اور صارب نے اپنا سر پکڑ لیا مطلب کہ وہ اتنی دیر سے صرف بلی کے بچوں کیلئے اتنا ایموشنل ہوررہی تھی ۔۔۔۔۔

مشی واٹ نان سینس تم اک گھنٹے سے بھائی کو اک بلی کی وجہ سے زچ کررہی ہو زہرہ کی دخل اندازی نے ان دونوں کو چپ کرایا تھا۔۔۔۔۔

صارب نے انکے لٹکے منہ دیکھے جیسے دل۔کسی نے مٹھی میں لیا ہو مشی جان آپ نے اپنے گفٹس تو دیکھے نہیں جو میں دبئ سے لایا ہوں گاڑی میں پڑے ہیں آپ لوگ ووہ دیکھو جب تک میں فریش ہو لوں بعد میں آپ لوگوں کو جوائن کرتا ہوں ہلکے سے اپنی انگلیاں اسکے گال سے مس کرتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ گفٹس کانام سنتے وہ گاڑی کی طرف بھاگی تھییں۔۔۔۔۔

بیٹا تم فریش ہولو جب تک کے میں کھانا گرم کرتی ہوں تمہارے لیے زریں نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔

نو تھینکس مجھے بھوک نہیں ہے میں ریسٹ کرونگا کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔۔۔۔۔۔

ازلی بےپرواہ لہجہ اپنائے وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا جہاں چند گھنٹوں بعد منت کا نکاح راحم مصطفی سے ہونا تھا ۔۔۔۔۔۔

بیوٹیشن کے ماہر ہاتھ اسکی خوبصورتی میں چار چاند ٹانکتے نظر آئے تھے سوگوار کمسن حسن اسے کسی اداس شہزادی کی مانند لگ رہا تھا ۔۔۔

جبکہ تائی اماں اور ربیعہ چوہدری اسکی بلائیں لیتے نہ تھک رہی تھیں نکاح کا شور اٹھا تو اسکی دھڑکنیں تھم سی گئی تھیں اک شکوہ کناں نظر رمیز لالہ پے ڈالی جو اس سے نظریں چرائے قلم اسکے ہاتھوں پکڑوانے لگے تھے ۔۔۔۔

بسم اللّٰہ کریں مولوی صاحب تایا کی آواز پہ مولوی صاحب نے نکاح شروع کرناچاہا ۔۔۔

رکیں مولوی صاحب اتنی بھی کیا جلدی ہے بابا سائیں کی آواز سن کے سر جھکائے منت کے دل میں امید کا دیا جلا تھا شاید کوئی معجزہ ہونے لگا تھا شاید کے بابا سائیں نے اپنا فیصلہ بدل۔لیا ہو تھی تو آخر وہ انکا سگا خون ہی نا

۔۔۔۔۔

پہلے کچھ شرط وشرائط تو طے کرلیں بابا سائیں کی بات سے چھناکے سے کچھ اسکے دل میں ٹوٹا تھا کیا بات کررہے ہیں بھائی صاحب گھر کی بات ہے کونسی شرط وشرائط بھلا تایا بھی بروقت سنبھلے تھے۔۔۔۔۔

وہ تو ٹھیک ہے مگر آجکل کے بچے بڑے جزباتی ہیں کب بزرگوں کی پگڑیاں اچھالنے لگیں بہتر ہے کے ہر طرح سے معمالات دیکھ بھال لیے جائیں۔۔۔۔۔

شرط وشرائط بعد میں بھی تو طے پا سکتی ہیں چچا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راحم اک دم غصہ ہوا تھا منزل کے اتنے قریب آکے دور ہونا نہیں وہ اتنی بڑی شکست کیسے تسلیم کر لیتا ۔۔۔

دھیرے پتر سائیں دھیرے جب بڑے ہیں بات کرنے کو تو تایا کے آنکھیں دکھانے پہ وہ تلملا کے رہ گیا تھا۔۔۔۔۔

ہمیں آپکی ہر شرط منظور ہے آپ نکاح کی حامی بھریں چچا جان ارحم کی برداشت کی حد اب ختم ہونے لگی تھی۔۔۔

اتنی بھی کیا جلدی پہلے سن تو لو بیٹا چچا کی آوز پہ وہ زچ ہوا تھا۔۔۔۔۔

ارحم کے نام جو بھی زمین جائیداد ہے وہ سب منت کے نام۔کرنا ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔

اک دھماکہ ہوا تھا بحری محفل میں۔۔۔۔۔۔

دیکھو بھائی جائے گا تو سب تمہارے ہی گھر مگر بیٹی کا باپ ہوں نا اس لیے دل میں سو وہم ہیں خیام۔صاحب کا مدعا سنکے حاضرین محفل پہ بھی سکتہ ہوا تھا جبکہ ارحم اپنی چال خود پہ الٹی ہوتے دیکھ بو کھلایا تھا۔۔۔۔۔

یہ کیا کہہ رہے ہو خیام تمہاری یہ انوکھی منطق ہماری سمجھ سے باہر ہے جبکہ تم جانتے بھی ہو کہ ارحم۔میرا اکلوتا بیٹا اور ہر چیز کا وارث ہے کڑکتی آوز میں تایا گرجے تھے۔۔۔

بھائی منظور ہے تو یہی اک شرط ہے نہیں تو بارات واپس لے کے چلے جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیام۔صاحب نے بھی گویا دوٹوک مؤقف اپنایا تھا۔۔۔۔۔۔۔

کیوں برخودار اب آپ کچھ نہیں کہیں گے اپنے پرت کا پتا ارحم کی طرف ڈالا تھا۔۔۔۔

کوئی کچھ بھی نہی بولے گا اگر ایسے تو ایسے سہی ہمیں بھی یہ شرائط منظور نہیں چلو ارحم تایا جان باہر کی طرف بڑھے تھے جبکہ منت پل پل بدلتی سچویشن پی حیران تھی کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوگا۔۔۔۔۔

نہیں بابا جان مجھے چچا کی ہر شرط منظور ہے اور یہ نکاح بھی ہوگا ارحم باپ کے سامنے کھڑا ہوا تھا جبکہ مصطفٰی صاحب کا رنگ فق ہوا تھا کیسے انکی زندگی کی جمع پونجی انکا بیٹا اک لڑکی کیلئے لوٹانے کو تیار ہوگیا تھا۔۔۔۔

ہوش میں تو ہو تم ارحم گرجدار آواز بھی اس پہ کوئی اثر نہیں دکھا سکی تھی۔۔۔۔۔

چلو تو پھر یہاں سائن کرو خیام صاحب نے جلدی سے کچھ کاغزات اسکی جانب بڑھائے مبادہ وہ باپ کے سامنے جھک نہ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ باقی سب ہکا بکا ان دونوں کی کروائی دیکھ رہے تھے اور کچھ دیر مزید بحث مباحثے کے بعد مصطفی چوہدری بھی مان گئے تھے جائیداد تو ہاتھ سے گئی تھی اب اکلوتا بیٹا وہ نہیں گنوا سکتے تھے۔۔۔۔۔

میری بھی اک شرط ہے تایا کہ رخصتی آج ہی ہوگی ارحم کی بات رمیز اور منت دونوں پہ بجلی بن کے گری تھی۔۔۔

بابا سائیں رمیز نے آگے بڑھ کے باپ کو اسکا وعدہ یاد کروانا چاہا تھا ۔۔۔

ٹھیک ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں خیام ارحدی کی بات پہ منت کا وجود ریزہ ریزہ ہوا تھا بھلا کسی کی زات اتنی بھی بے معنی اور ارضاں ہوگی جتنا بے مول اسے کیا گیا تھا۔۔۔۔۔

اور خیام چوہدری اور ارحم۔مصطفی دونوں اپنی اپنی بازی جیت چکے تھے اگر کوئی ہارا تھا تو منت کا اپنوں پہ بھروسہ اسکی زات کا غرور۔۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ریحاب ریحاب ضویا کی آواز پورے گھر میں گونجتی پھر رہی تھی۔۔

کیا ہے لڑکی کیوں گھر سر پہ اٹھا رکھا ہے مسسز شاہد نماز کے سٹائل میں دوبٹا باندھے اسکے سامنے تھیں آنٹی وہ ریحا اچانک انہیں سامنے دیکھ وہ گڑبڑا گئی تھی۔۔۔۔۔

کمرے میں ہوگی وہ یوں کیا پورے گھر میں تم۔دندناتی پھر رہی ہو جوان لڑکوں ۔۔۔

کا گھر ہے بی بی کوئی ہوش میں رہ کے چلو ۔۔۔۔

جج جی آنٹی بیچاری ضویا جو ایکسائیٹڈ ہو کے ریحاب پاس آئی تھی ساری ایکسائٹمنٹ جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی۔۔۔

جی آنٹی میں چلتی ہوں پھر آجاؤں گی ضویا مشکل سے خود پہ قابو پاتے وہاں سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگی تھی اب آگئی ہو تو مل کے بھی جاؤ ورنہ پھر وہ گھر میں طوفان اٹھائے گی کہ اسکی سہیلی آئے تھی ماں نے اس سے ملے بغیر واپس بھیج دیا ۔۔۔۔۔

ارے ضوئی تم کب آئی سیلمان کی آوز پہ اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تھا ۔۔۔

ہا اک اور مصیبت اب تو یقینناً مسسز شاہد کا غصہ بڑھنے والا تھا ۔۔

وہ ریحا سے ملنے آئی تھی وہ سو رہی ہے تو میں پھر آجاؤنگی جلدی سے کہتی وہ وہاں سے بھاگ لی تھی۔۔

ہونہہ اک تو ان ماں بیٹیوں کے ڈرامے ہی ختم نہیں ہوتے وہ نخوت سے کہتی آگے کو بڑھ گئیں جب کہ سلمان انکے اس رویے کو تاسف بھرے انداز میں دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔

علوی ہاؤس کراچی کےرہائشی علاقوں میں اپنی طرز کا جدید اور دلکش گھر تھا جو دور سے اندر کے میکنوں کی نفاست پسندی کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔۔۔۔

شاہد علوی اپنے تین بچوں سیلمان،علی اور ریحاب کے ساتھ یہاں پہ رہائش پزیر تھے جبکہ انیکسی میں انکی بیوہ بہن اپنی اکلوتی بیٹی ضویا ساتھ انکے رحم وکرم پہ رہ رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔

مسسز روبینہ شاہد زاتی عتاب کا نشانہ ہمیشہ ضویا کو بنائے رکھتی تھیں جبکہ اسکی ماں سندس علوی شازوناز ہی انیکسی سے نکلتی تھیں بھابی کی نسبت بھائی کا رویہ انکے ساتھ کافی حد تک بہتر ہوتا تھا اور ریحاب ضویا کو اک ہی سکول اک ہی کالج میں پڑھایا تھا جنکی وجہ سے بچے آپس میں بہت اٹیج تھے اک دوسرے سے ۔۔۔۔

سیلمان علوی اپنے باپ کے ساتھ بزنس سنبھال رہا تھا جبکہ علی ابھی پڑھائی میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔

ضویا اور ریحا بھی کالج سٹوڈنٹ تھیں ۔۔۔

ویسے تو سب ٹھیک تھا مگر روبینہ علوی کو اپنی نند کچھ خاص پسند نہیں تھی اور وجہ تو شاید کوئی بھی نہیں جانتا تھا سوائے اسکے کہ شاہد علوی نے ضویا اور سیلمان علوی کا رشتہ طے کررکھا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *