Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid NovelR50613 Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 23)
Rate this Novel
Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 23)
Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid
علی گھر میں انٹر ہوا گھر میں پھیلے غیر معمولی سناٹے نے اسے حیران کیا تھا اتنی گہری خاموشی دیکھ وہ گھبرا اٹھا تھا مشعل کو آوازیں دیتا وہ کمرے میں داخل مگر اسکا کہیں نام ونشان نا پا کے پریشان ہو اٹھا تھا وہ تو یہاں کے راستوں سے بھی ناواقف تھی پھر وہ کہاں جاسکتی تبھی اسے باہر سے آتی مشی کی ہنسی کی آواز اور وہ بھی کسی مرد کی ہنسی شامل تھی علی کے تو گویا دماغ پہ جالگی تھی وہ دندنتا اسکے سر پہ پہنچا تھا جبکہ مرد کی اسکی طرف پیٹھ تھی مشعل اسکے سینے سے لگی پھر سے ہنسی تھی مشعل کیا ہورہا ہے یہ علی کے چیخنے پہ وہ دونوں اسکی جانب متوجہ ہوئے تھے مشعل نے بے اعتبار نگاہوں سے دیکھتے علی کو دیکھا جبکہ علی اپنے سامنے موجود صارب کو دیکھ گھبرا گیا تھا وہ صارب سوری ایکچوئلی جبکہ صارب کو بھی مشعل کیلئے اسکا اتنا بے اعتبار انداز بلکل نہیں بھایا تھا ۔۔۔
سوری صارب وہ اچانک سے گھر میں مشعل۔کو نہ پا کے اور اچانک پھر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنی صفائی کیسے پیش کرے مشعل منہ بسورتی اندر کی طرف بھاگی تھی علی اپنی متوقع شامت دیکھ سر پہ ہاتھ پھیر کے رہ گیا تھا صارب نے اسکے چہرے پہ پھیلتی ندامت کو بغور دیکھا اور اسے آگے بڑھ کے گلے لگایا اگرچہ تمہارا انداز مجھے بھی بہت فیل ہوا بٹ اٹس اوکے غلط میری ہے مجھے چاہیئے تھا کہ تمہیں انفارم کرکے مشعل کو لے کے جاتا صارب نے ہلکے پھلکے انداز میں اسے تسلی دی وہ اپنے اک روزہ دورے پہ یہاں آیا تھا تو سوچا کے مشعل کو بھی ساتھ لے جائے زہرہ کی شادی کیلئے کیونکہ اس نے جو سچویشن بتائی تھی اس میں علی کی چھٹی ممکن نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
علی کو جب اسکے اچانک فیصلے کا معلوم پڑا وہ اپنا سا منہ لے کے رہ گیا وہ پہلے ناراض تھی کوئی اعتراض کرکے وہ مزید لڑائی مول نہیں لے سکتا تھا۔ ۔۔۔
میں تمہیں مس کرونگا یار میں کوشش کرتا ہوں چھٹی کی اک ساتھ چلیں گے پلیز اس نے مشعل کو برملا خوشامد کرلی مگر وہ پھر بھی واپس پاکستان آچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اسکے آتے ہی زہرہ کو مایوں بٹھا دیا گیا تھا ادھر ریحاب بوکھلائی بوکھلائی پھر رہی تھی پورے گھر اور مہمانوں کی زمداری اس پہ آگئی تھی اور اس سب میں وہ صارب کو مکمل اگنور کرچکی تھی۔۔۔۔۔
زہرہ کی مایوں تھی اور ابھی تک وہ ماسیوں والے حلیے میں گھومتی پھر رہی تھی زریں نے اسے زبردستی اسکے کمرے میں بھیجا تھا شومئی قسمت کمرے میں آتے ہی اسکا ٹکراؤ صارب سے ہوا تھا سامنے ہی پوری الماری جیسے بیڈ پہ الٹی پڑی تھی وہ تو چکرا کے رہ گئی تھی
کک کیا ڈھونڈ رہے ہیں آپ کو کچھ چاہیئے تھا تو مجھے بتا دیا ہوتا سامنے کا پھیلاوا دیکھ اسکے ہوش اڑ رہے تھے صارب کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا تمہیں پرواہ ہے کہ یہاں پہ کوئی صارب رحمن بھی رہتا ہے جو غلطی سے آپکا شوہر ہے مگر نہیں آپکو تو واہ واہ سمیٹنی ہے جی پورے گھر کی زمداری تو ریحاب علوی پہ آچکی ہے باقی سب تو مرچکے ہیں نا یہاں پہ اسکا مکمل خطاب صارب کے شدید غصے کی علامت تھا ۔۔۔
سوری صارب مگر آپ ہی اٹیٹوڈ دکھا رہے میں نے تو کئی بار” بس کرو ریحاب علوی جاؤ یہاں سے بلکہ میں تم سے بحث ہی کیوں کررہا ہوں” زبانی وار کرتا وہ روم سے باہر نکل چکا تھا تھوڑی دیر میں ملازمہ نے آکے اسکی الماری پھر سے سٹ کردی تھی رابی جو اس سے جیولری سلیکٹ کروانے آئی تھی گم صم دیکھ چونکی تھی خیریت یہ چہرے پہ بارہ کیوں بج رہے ریحاب نے نم آنکھوں سے اسے دیکھ وہ بے وقت کی ہوتی رم جھم دیکھ چونکی تھی یقیناً صارب اور اسکے درمیان کوئی ان بن ہوئی تھی کیا ہوا یار میں پریشان ہورہی ہوں بتاؤ نہیں تو امی کو بلانے جارہی اسکی بات پہ ریحاب نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے وہ کچھ نہیں رابی تم بتاؤ کیا کہنے آئی تھی۔۔۔۔۔
ہاں میں جیولری سیلکٹ کروانے آئی تھی کونسا سیٹ پہنوں آج کی مناسبت سے ویسے آئے گی تو منت ہی یا پھر دو چار اور خواتین کیا پتا کوئی آنٹی مجھے پسند کرلے اور میرا بھی چانس بن جائے اک آنکھ دباتے شرارت سے بولی ریحاب کو اسکے انداز پہ بے ساختہ ہنسی آئی تھی۔۔
اندر آتے صارب کو اسکی آواز کی کھنک چبھ رہی تھی رابی ان دونوں کو پرائیوسی دیتی وہاں سے چلی گئی
آپکلئے کیا نکالوں آئی میں کرتا نکال دوں اچھا رہے گا مصروف انداز میں کہتی اس سے نظریں چرا رہی تھی
حسابِ عشق دیکھا
عجب دیکھا, غضب دیکھا
سب کو نفی تُجھے واحد
خود کو صِفر دیکھا
صارب اسکی جانب بڑھا تھا اک جھٹکے سے اسکے بالوں کی چٹیا کے بل کھولنے لگا ریحاب خاموشی سے اسکے سامنے ٹہری تھی کیوں نہیں آئی جب شرٹ کیلئے بلایا تھا اسکے بالوں پہ اپنی گرفت مضبوط کی
سس سوری وہ بزی تھی تو۔۔
تو بھی تمہیں حق نہیں کے تم مجھے اگنور کرو اک خشگمیں نگاہیں اسے چبھ رہیں تھیں ۔۔۔
صارب رحمٰن کو اگنور کرنے کی پلینٹی تو پڑے گی مسسز اسکی کان کی لو کو اپنے لبو سے چھوا ریحاب کے جسم میں اک سنسنی سی پھیلی وہ اوّل روز سے اسکی جسارتوں اور بے باک انداز سے گھبراتی آرہی تھی۔۔۔
پوچھو گی نہیں کہ کیا جرمانہ عائد ہوگا اسکے بالوں کو اک طرف کرتا گردن پہ اپنے لبوں کا لمس چھوڑتا اس سے مخاطب تھا۔۔
وہ ص صارب باہر گیسٹ اسکی بڑھتی گستاخیاں وہ موم کی طرح پگھل رہی تھی جبھی صارب نے اک جھٹکے سے اسے خود میں بھینچا منع کیا تھا نا کہ مجھے روکنے کی کوشش مت کرنا ریحاب علوی غراتا انداز وہ اسے کہیں سے خوشگفتار صارب نہیں لگا تھا سوری میں اس نے پھر سے صفائی دینی چاہی پر صارب اسکے وجود پہ ان گنت اپنے جنون کے نشان چھوڑنے لگا تھا وہ بن پانی کی مچھلی طرح تڑپنے لگی تھی مگر پرواہ کسے تھی وہ اسے اچھے سے رئیلائز کروا چکا تھا کہ اسکی بات ٹالنے کا کیا انجام ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔








من میں وہاں جاکے کیا کرونگا خالص زنانہ رسم ہے ارحم اسکی باتوں پہ زچ ہورہا تھا جی تو بلکل خالص مردانہ یا زنانہ رسم کی بات نہیں آپ ہونگے مجھے اچھا لگے گا لاڈ سے کہتی وہ اسکے شانے پہ سر ٹکا گئی تھی مجھے گاؤں جانا ہے اک اہم کام ہے ارحم نے صاف جواب دیا وہ منہ پھلائے تائی سائیں اور اماں سائیں کے ساتھ دو تین کزن لے کے مایوں کی رسم کو روانہ ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔۔
من ارحم نے اسے پکارا مگر وہ بنا کوئی جواب دیے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی اسکی خوبصورت ادا پہ محظوظ ہوا تھا کوئی نہیں واپس آکے منا لونگا۔۔۔۔۔
مشعل کی توجہ بار بار اپنے سیل پہ جارہی تھی وہ جانتی تھی کہ علی اس سے ناراض ہوچکا ہے مگر وہ بھی تو اس سے ناراض ہوکے آئی کونسا اسے منانے کی کوشش کی تھی
اک اداسی نے اسے اپنے حصار لے رکھا تھا کسی بھی رسم میں اسکا دل نہیں لگا ریحاب نے اسے گم صم سوچوں میں دیکھا تو اسکے پاس چلی آئی کیا ہوا مشعل تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے وہ جانتی تھی کہ مشعل اسے کچھ خاص پسند نہیں کرتی پھر بھی وہ اس سے مخاطب کر بیٹھی تھی مشعل نے چونکتے ہوے اسے دیکھا اور بنا کوئی جب دیے تن فن کرتی کمرے کی طرف بڑھ گئی اسکی حرکت پہ صارب کے ماتھے پہ ان گنت سوچوں کا جال۔بچھا تھا ۔۔
زہرہ کے سسرال والے رسم کرکے جاچکے تھے ریحاب زریں کو اپنی طبیعت خراب کا کہتی ان کی محفل میں بیٹھنے سے معزرت کرکے کمرہ کی طرف روانہ ہوگئی سب کزنیں زہرہ کے گرد ڈھولکی رکھے ہلہ گلہ کرنے میں مصروف ہوگئں وہ مشعل کے پاس آیا جو ونڈو سائیڈ ٹہری خلاؤں میں نجانے کیا تلاش کررہی تھی صارب نے نرمی سے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ اسکی جانب پلٹی مش کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے ڈسکس کرسکتی ہو علی نے کچھ کہا ہے تو مجھے بتاؤ میں ۔۔۔
کچھ نہیں بھیا ویسے طبیعت کچھ بوجھل سی تھی میں نے آپ سب لوگوں کو بہت مس کیا ہے۔۔۔۔
مشی جان اگر میں تم سے کچھ مانگوں تو دوگی صارب کی بات پہ اس نے سر اٹھائے اسکی جانب دیکھا بھیا آپ کیلئے تو مشی کی جان بھی حاضر ہے بتائیں مجھے اسکے ہر لفظ سے بھائی کیلئے محبت ٹپک رہی تھی۔۔۔
کیا تم ریحاب کو معاف نہیں کرسکتی میں تمہیں فورس نہیں کرونگا مش بس اک بات کہوں گا اس دنیا میں اگر کس کام میں غلطی پہ بخشش نہیں ہے تو وہ نماز ہے مگر خدا نے اس میں بھی سجدہ سہو رکھ کے اپنے بندے کو غلطی سدھارنے کا دوسرا موقع دے دیا تو پھر ہم کیوں نہیں ادنیٰ سے انسان ہوکے اسکے بندوں کو معاف کرنے کا ظرف نہیں رکھتے صارب کی بات اسکے دل کو لگی تھی زہرہ اور زریں بیگم بھی اسے ریحاب کے۔معاملے نرمی اختیار کرنے کا کہہ چکی تھیں مشعل نے بھائی کے ہاتھ تسلی آمیز انداز میں ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے اسکے شانے سے لگی صارب کے اندر اک سکون کی لہر دوڑی تھی







مشعل گہری نیند میں تھی جب اس نے جھکتے ہوئے اسکی پیشانی پہ اپنے لب رکھے اسے دیکھ آنکھیں سیراب ہی نہیں ہورہی تھیں کل زہرہ کی مہندی تھی اور آج وہ کسی کو بھی انفارم۔کے بنا اسے سرپرائز دینے آیا تھا دونوں ہاتھوں مہں لگی مہندی اپنا گہرا رنگ چھوڑے ہوے تھی رابی دروازہ ناک کرتی اندر آئی وہ تیزی سے اپنی پوزشن کلئیر کرتا صوفے پہ بیٹھا علی بھائی آپ کو مما بلا رہیں آپ نے مشعل کو اٹھایا نہیں وہ آگے بڑھ کے اسے جگانے لگی جب علی نے اسے روک دیا وہ فریش ہوتا زریں بیگم کے پاس کچن میں چلا آیا ریحاب نے اتنے دن بعد بھائی کو دیکھا دل کہہ رہا تھا آگے بڑھ کے اسکے گلے لگ جائے مگر جانتی تھی مشعل کی طرح وہ بھی اس سے منہ پھیر کے چلا جائے گا وہ بنا کوئی بات کیے کچن سے نکل گئی تھی۔
صارب کوچائے پکڑاتی وہ خاموشی سے اسکے پاس بیٹھ گئی ” کیا ہوا منہ پہ بارہ کس لیے بج رہے ہیں ” بغور اسکا جائزہ لیتا بولا تھا “کچھ نہیں بس تھکن بودا سا بہانہ بناتی وہ سونے لگی تھی کچھ دیر بعد صارب نے اسکے گرد بازو کا گھیرا بنایا تو وہ اسکے سینے پہ سر رکھتی سوگئی ۔۔۔۔۔۔






آج کے دن مہندی کا فنکشن تھا اور کمبائن فنکشن رکھا گیا تھا مشعل اور رابی کا کمبائن روم ہونے کی وجہ سے علی گیسٹ روم میں سورہا تھا جبکہ وہ ابھی تک اسکی آمد سے بے خبر اداس گھوم رہی تھی یار وہ پھول والا گیسٹ روم میں پھول رکھ گیا وہ تو لے آؤ رابی اسکے سر ہوئی جبکہ گیسٹروم میں پھولوں کی منطق پہ وہ حیران ہوتی اس جانب بڑھ گئی سامنے ہی علی ابھی نیند سے بیدار ہوئے بیٹھا تھا اک شاک کے عالم میں وہ اسکی طرف بڑھی آپ آگئے بے یقینی سے اسے چھوتے بولی علی حیدر اسکی حالت کا حظ اٹھاتے اسکے سامنے آیا مشعل کو زوردار چٹکی وہ چیخ پڑی علی کا قہقہ بلند ہوا وہ اسے گھورتی واپس مڑی وہ اسکے راستے میں آیا ایسے کیسے اتنے دن بعد دیدار یار نصیب ہوا کوئی ویلکم کوئی ملنا ہوتا ہے ایسا کیا منہ کھول کے آئے بندہ اور منہ بنا کے واپس اک جست میں اسے کھینچتے ہگ کیا اور مشعل کو تو جیسے اپنی اتنے دن کی بے سکونی سے قرار ملا تھا آنکھوں سے آنسو بے اختیار ٹپکے تھے اپنے سینے پہ اسکے آنسو محسوس کرتا جلدی سے اسے سامنے کیا “کیا ہوا مش رو کیوں رہی کسی نے کچھ کہا ہے ” وہ بےتابی سے اسکی طرف جھکتے پوچھے جارہا تھا کیونکہ وہ مشکل سے ہی اسکے کندھے تک آتی تھی مشعل نفی میں سرہلاتے پھر سے اسکے سینے میں منہ چھپانے لگی جبکہ وہ بے چین ہورہا تھا “اگر تم مجھے بتاؤ گی نہیں تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ کیا ہوا ہے ایسے تو تم مجھے پریشان کررہی ہو میں آنٹی سے پوچھتا ہوں” وہ دروازے کی طرف لپکا وہ گھبرا کے اسکے پیچھے ہوئی ایساکچھ نہیں ہے حیدر جو آپ سوچ رہے میں بس آپکو بہت یاد کررہی تھی مجھے لگا آپ ناراض ہیں اپنے رونے کی وجہ بتاتے پھر سے چہرہ جھکا لیا جیسے کوئی مجرم اپنے جرم کا اعتراف کررہا ہو علی کا دل کیا اسکے دل سے اعتراف سن کے سجدہ ریز ہوجائے بلاآخر اس نے اپنی مشعل کو پا ہی لیا تھا اسکے آنسو اپنے لبوں سے صاف کرتے اسکی پیشانی چومی “آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں اپنے آنے کا بہرحال شکایتیں ابھی بھی تھیں اگر میں بتا دیتا تو یہ خوبصورت منظر تو دیکھنے کو نہ ملتا اسکی بھیگی پلکوں کی طرف اشارہ کیا مشی اسکی بات سن کے مبہم سا مسکرائی اسکا ڈمپل دیکھ وہ مبہوت ہوا تھا بھیگی پلکوں پہ مسکراتا ڈمپل وہ بے اختیار اس پہ جھکتا گیا اتنے دن کی پیاس بھی تو بجھانی تھی ۔
