Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 04)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

ارحم کی جب آنکھ کھولی خود کو زمین پہ لیٹے پایا ۔۔۔۔

آنکھوں کے گرد دھند سی تھی کمرے کی چھت کو خالی آنکھوں سے گھورا اپنے زمین پہ ہونے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔۔۔

لیکن کچھ دیر میں دماغ کے پردوں پہ اک روشن سکرین واضع ہوئی تھی منت اور اسکا نکاح چچا جان کی تکرار اپنی ہار کا سوگ دوستوں کے ساتھ شراب اور شباب کی محفل اور پھر منت۔۔۔

منت کا خیال آتے ہی وہ چونکا تھا تیزی سے اٹھا لیکن دوسرے ہی پل زمین پہ بیٹھ گیا تھا شاید رات کا نشہ ابھی پوری طرح سے اترا نہیں تھا تبھی اسکی نگاہ ہوش وخرد سے بیگانہ منت پہ پڑی جو شاید زمین پہ اکڑوں بیٹھے ہی سوگئی تھی ۔۔۔۔

اسکے ماتھے سے رستہ خون چہرے کے گرد پھیلتا جم گیا تھا بکھرے بال ،آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان یہ تو کوئی اور ہی منت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

منت خیام جسے وہ جانتا تھا ہر ٹائم نک سک تیار اپنے کپڑوں پہ اک شکن بھی برداشت نہیں کرتی ۔۔ ۔۔۔۔

اسے اپنے رات والے رویے پہ تھوڑی شرمندگی ہوئی تھی مگر دوسرے ہی لمحے اسے اپنے عظیم نقصان کا احساس ہوا تھا اور وہی رات ولا ارحم بیدار ہوا۔۔۔۔

اے اٹھو دونون ہاتھوں سے اسے جھنجوڑتے اس نے منت کو اٹھایا تھا جبکہ منت کے جسم میں کوئی حرکت ہوتا نہ دیکھ اسے لگا شاید وہ مرچکی ہے ۔۔۔

اسے دونوں بازو میں اٹھائے بیڈ پہ لایا تھا اور اسکی نبض چیک کرنے لگا ۔۔۔

مدھم چلتی نبض اور سانسیں اس بات کا پتا دے رہی تھیں کہ ابھی منت کی زندگی کا باب ختم۔نہیں ہوا ہے پہلی آزمائش نے اسکی سانسوں کو ہرایا نہیں تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نبٹے اگر گھر کا کوئی فرد انہیں اٹھانے آجاتا تو وہ اسکی اس حالت کا کیا جواب دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ اپنی آیا ماں کو بلا لایا تھا جنہوں نے بڑی مشکل سے منت کو دیکھ اپنے آپ پہ قابو پایا تھا۔۔۔۔

اگر چھوٹی حویلی والے اپنی اکلوتی بیٹی کو اس حال۔میں دیکھ لیتے تو شاید اک طوفان آجاتا ۔۔۔

ارحم۔باہر چلا گیا جبکہ وہ اسکی حالت ٹھیک کرنے لگی تھیں ۔۔۔۔۔

بےجان پڑی معصوم گڑیا جیسی منت انہیں ہولائے جارہی تھی پتا نہیں وہ سانس بھی لے رہی ہے کہ نہیں ۔۔۔

ارحم مصطفٰی کی بےرحم فطرت سے کون ناواقف تھا بھلا ۔۔

وہ دوبارہ تقریباً آدھے گھنٹے بعد روم میں داخل ہوا تھا آیا ماں کی موجودگی میں ڈاکٹر کو لایا تھا۔۔۔۔۔

پیشنٹ سٹریس اور خوف وجہ سے بےہوش ہوئی ہیں انجکشن لگا دیا ہے کچھ دیر میں ہوش آجائے گا ڈاکٹر نے تفصیلی چیک اپ کے بعد ارحم کو تسلی دینے والے انداز میں کہتے وہاں سے روانہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔

اماں سائیں کو اس نے منت کی طبیعت کا بتایا اور گھر سے نکل گیا کچھ دیر بعد اسکے گھر والے بھی آگئے ۔۔۔۔۔

شاید اچانک رخصتی وجہ سے وہ سٹریس میں آگئی تھی۔۔سب کے سامنے اک ہی وجہ تکھی گئی ۔۔۔۔۔۔

اور منت نے اپنی زندگی کا آج پہلا جھوٹ بولا تھا جب رمیز بھائی نے اس سے چوٹ کی بابت دریافت کیا تھا۔۔۔۔۔

چکر آنے سے واشروم۔میں گر گئی تھی جبکہ اسکی آنکھیں اسکی زبان کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں……….

ہنگامی بنیادوں پہ آج شام کو انکا ولیمہ تھا۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر میں ارحم۔لالہ آجائیں گے خالہ جان نے کہا ہے کہ آپ انکے ساتھ جا کے ولیمے کا ڈریس لے آئیے گا ۔۔۔

ارحم کی کزن نے نازک کانچ جیسی لڑکی کو دیکھتے ہوئے بولا جبکہ منت صرف ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئی تھی اختلاف کا نتیجہ وہ رات بھگت چکی تھی۔۔۔۔۔

رمیز لالہ نے ارحم کو بلایا اسے لگا شاید منت نے اسکی شکایت کی ہے کیونکہ وہ جانتا تھا وہ گھر میں سب سے زیادہ اپنے لالہ کے قریب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی لالہ آپ نے بلوایا تھا مردان خانے میں داخل ہوتے ارحم نے اس سے پوچھا تھا۔۔۔۔

ہاں بیٹھو بات کرنی ہے تم سے۔۔۔۔۔

رمیز لالہ کے لہجہ میں پہلے کی نسبت آج کچھ اسکیلئے رعایت تھی ورنہ ہمیشہ انکا رویہ اسکے ساتھ سرد رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو ارحم میں تم سے گھما پھرا کے نہیں بلکہ واضع الفاظ میں بات کروں گا بابا سائیں کی نسبت منت میری گود میں زیادہ پلی ہے اسلیئے میں اسکی ہر اک جنبش سے اچھے سے آگاہ ہوں میں نہیں جانتا اسکی چوٹ کا بہانہ جھوٹ ہے یا سچ۔۔۔۔

وہ آگے بڑھے اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا مگر تمہیں اتنا بتا دوں کہ اسکے معاملے میں کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کرونگا پہلے ہی بابا سائیں کے فیصلے نے اسے بری طرح توڑ دیا ہے ۔۔۔۔۔

عام سا لہجہ ارحم۔کو دھمکی دینے والا انداز لگا تھا اپنی بات مکمل کرکے وہ آگے بڑھے تھے مگر پھر واپس آئے تم اس سے پوچھ لینا کہ اس نے کونسا کالج سلیکٹ کیا ہے اسکے بعد اپنے ہاتھوں سے اسکے فارم جمع کروا کے آؤ گے تاکہ اسکا تم پہ اعتماد بنے کہ اسکے ہر قدم پہ تم اسکے ساتھ ہو نکاح کی نسبت یہ اس سے میرا وعدہ تھا کہ وہ میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ضرور لے گی ۔۔۔۔۔۔۔

امید ہے کہ تمہیں میرے کسی فیصلے پہ کوئی اعتراض نہیں ہوگا دوٹوک انداز اپنائے آخر میں انکا لہجہ تھوڑا سخت ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی بہتر ۔۔۔۔ارحم نے دو الفاظ بول کے گویا ٹالا ہی تھا۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ھم تُجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ھیں

جس طرح لوگ ، سکوں ڈھونڈتے ھیں

ریحاب صارب سے ہونے والی پہ در پہ ملاقات سے بہت ڈپریسڈ ہوگئی تھی ۔۔۔۔

حلانکہ اس نے صارب سے ملنے کی کتنی دائیں مانگی تھیں مگر جب قبول ہوئیں تو ۔۔۔

شاید بھیا صیح کہتے ہیں مجھے ظاہری لکس پہ نہیں جانا چاہیئے کیونکہ صارب کی نیچر اسے واقعی ڈسٹرب کر گئی تھی۔۔۔

پراؤڈ بوگی مین۔۔۔۔۔

اس نے لاکھوں دلوں کی دھڑکن کو اک جن سے تشبہیہ دے ڈالی تھی۔۔۔۔

۔۔ کمرے میں بےچینی سے گھومتے اسے اپنی کیفیت سمجھ نہیں آرہی تھی اک نظر رک کے اسکے پوسٹر کو دیکھا کتنی سٹوپڈ خواہش تھی نا میری کے تم۔مجھے جانو تمہیں بھی پتا چلے کہ اس دنیا میں کوئی ریحاب بھی ہے ۔۔۔۔

اوف ریحاب کچھ چیزیں دور سے ہی اچھی لگتی ہیں پاس آنے پہ اپنی قدر کھو دیتی ہیں کاش وہ بھیا کا دوست نہ ہوتا ۔۔۔

آہ بھیا سیلمان کا خیال آتے ہی اسے افسردگی نے گھیر لیا کیونکہ اس دن ریحاب کی حرکت پہ اسے بری طرح جھاڑ پڑی تھی اور اس میں مما نے بھی برابر کا حصہّ لیا تھا منہ بناتے پھر سے نظر سامنے گئی تو اسے لگا وہ اس کو طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔

اے یو۔۔۔۔۔۔

انگلی اٹھائے وارن کرنے والے انداز میں اسے مخاطب کیا۔۔۔

پاگل ہوگئی ہے ریحاب کیا اول فول بک رہی بےبسی سے اپنی حالت پہ غور کیا ۔۔۔

شاکرہ ۔۔۔شاکرہ دوسرے ہی لمحے گھر میں کام والی کو آوزیں دے کے اپنے روم میں بلایا ۔۔۔

جی بیبی جی شاکرہ اسکے غصے سے ہمیشہ خار کھاتی تھی۔۔۔۔۔

اتارو اسے یہاں سے اور باہر لان میں جاکے آگ لگا دو دیوار گیر پوسٹر کی طرف اشارہ کرتے اس نے شاکرہ کو آنکھیں دکھائیں جیسے اس نے وہاں پہ یہ تصویر لگائی ہو ۔۔۔۔

پربیبی جی شاکرہ کو اک پل اسکی زہنی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی کیونکہ وہ کئی بار پوسٹر پہ زرا سی دھول جم جانے پہ اسے بےعزت کرچکی تھی اور آج وہ اسے آگ لگانے کی بات کررہی تھی ۔۔۔۔۔

دراصل ریحاب سے خود بھی یہ بات برداشت نہیں ہورہی تھی کہ صارب نے اسے نوٹ نہیں کیا انوکھا انداز اپنا کے اس نے کی تو عام لڑکیوں والی حرکتیں ہی تھیں کہ کسی نہ کسی طرح صارب اسے نوٹ کر لے مگر صارب کا کوئی انداز بھی اسے من پسند اشارہ نہیں دے سکا تھا ۔۔۔۔۔۔

اک غصے بھری فضول بحث کرتی شاکرہ پہ ڈالی پھینکو اسے باہر ورنہ اسکے ساتھ تمہیں بھی جلا دونگی۔۔۔۔

شاکرہ نے جلدی جلدی دوسرے نوکر کے ساتھ مل کے اس دیو ہیکل پوسٹر کو اکھاڑا اور روم سے باہر لے گئی۔۔ ۔۔۔۔

اچھا سنو یہ جلانے کی ضرورت نہیں اسے سٹورروم میں رکھ دو الجھے ہوئے دماغ سے نیا حکم صادر کیا تھا۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

صارب نے نجی پروڈکشن کمپنی کے ساتھ مل کے اپنی نئی البم کا کانٹریکٹ سائن کیا تھا اور اپنے سونگ کیلئے ایکڑس ضرورت تھی جسکیلئے آج وہ خود انٹرویو لینے لگا تھا باہر امیدوار لڑکیوں کی لمبی قطار موجود تھی اک سے بڑھ کے اک خوبصورت چہرہ موجود تھا کچھ کا تعلق شوبز سےبھی تھا مگر صارب کو اپنے سونگ کے حساب سے کوئی چہرہ اپیل ہی نہیں کررہا تھا دو تین لڑکیوں کو مارک کیا تھا اک تھکا دینے والے دن کے بعد وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔

مے آئی کم ان۔۔۔۔مدھرتا آواز نے اسے چونکایا تھا۔۔۔

یس کم ان زیدی صاحب کی آوز پہ اس نے مڑ کے دیکھا وہ جو ساتھ والے کمرے میں جانے لگا تھا مڑ کے واپس آیا ۔۔۔۔

یہ لاسٹ کنٹسٹنٹ ہیں سر لڑکے نے آکے آنے والی لڑکی فائل سامنے رکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یس سٹ ڈاؤن پلیز زیدی صاحب کی آوز کے ساتھ اس لڑکی کی صورت بھی اسے ناگوار گزری رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

جی تو کیا نام ہے آپکا مس۔۔۔۔۔

اٹرویو میں موجود فاروقی صاحب نے سٹارٹ لیا تھا۔۔

ریحاب ملک ۔۔کنفیڈینٹ سے اپنا تعارف کروایا گیا۔۔۔

گڈ نیم تو کیا کیا کر لیتی ہیں آپ آئی مین ڈانس وغیرہ کوئی ایکٹنگ کا تجربہ ہے آپکے پاس ۔۔۔۔۔۔

اک اور سوال پہ وہ گڑبڑائی تھی۔۔۔۔۔۔

ج جی کرلیتی ہوں اور کالج لیول پہ سٹیج پرفارمنس دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریحاب نے بڑی مشکل سے خود پہ قابو پایا تھا جبکہ سامنے موجود شخص کے ماتھے پہ ان گنت شکنوں کا جال پھیلا تھا۔۔۔۔

سو شیور فاروقی صاحب پلے بیک میوزک لگائیں ہم بھی انکا ٹیلنٹ دیکھنا چاہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے عین سامنے والی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھ کے بولا تھا جبکہ وہاں بیٹھا ہر شخص اسکی مداخلت پہ حیران ہوا تھا کیونکہ پچاس لڑکیوں کے انٹرویو میں وہ صرف وہاں موجود تھا کسی قسم کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا اب جب بولا تو انوکھا مطالبہ۔۔۔۔۔۔

جی تو مس ریحاب آپ ہم لوگوں کو ڈانس کرکے دکھائیں تاکہ ہم آپکے لیول کا اندازہ کرسکیں ۔ ۔۔۔

دوبارہ سے اک اک لفظ چبا کے بولا گیا جبکہ ریحاب تو اسکے مطالبے پہ ہی پانی پانی ہوگئی تھی اتنے لوگوں کے سامنے اتنی تحقیر آمیز رویہ ۔۔۔۔۔۔

سس سوری آئی کانٹ ۔۔۔۔ماتھے پہ آئے پسینے کو صاف کرتی وہ بولی ۔۔۔

دن واٹ آر یو ڈوئنگ ہیئر۔۔۔۔۔۔

استہفسامی نظریں اس پہ گاڑی تھیں ریحاب نے اسکی شولے لپکاتی نظروں کو دیکھ بڑی مشکل سے اپنے آنسو کنٹرول کیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

کرسی پیچھے دھکیلتے وہ وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

جبکہ صارب رحمٰن کی چبھتی نظروں نے جیسے دیوار پار بھی اسکا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔۔

وہاں پہ موجود ہر شخص اس عجیب سچویشن پہ حیران تھا۔۔۔

جبھی فاروقی کے بلند قہقے نے ان سب کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا ۔۔

واٹ ہیپنڈ سب فاروقی کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔۔۔۔

ٹیپکل شریف گھرانے کی لڑکی لگ رہی تھی ورنہ شوق سے آئی ہوتی تو یقیناً مجرا کرنے کو بھی تیار ہوجاتی۔۔۔۔

فاروقی صارب نے اک دم اسکا گربیان پکڑا تھا۔۔۔۔

وہاں بیٹھے ہر شخص کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔۔۔۔۔

کبھی کسی نے اسے کسی لڑکی کیلئے پوزیسو ہوتے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

جس فیلڈ میں وہ تھا بظاہر مہزہب نظر آنے والی فیلڈ ہر طرح کے گند سے بھری تھی ایسے عامیانہ فقرے تو روٹین کی بات تھی مگر اسکا ریکشن یقیناً نوٹس کیے جانے لائق تھا۔۔۔۔

خبردار جو اک لفظ برا بولا تو زبان گدی سے کھینچ لونگا میں۔۔۔۔۔

شعلہ بار لہجہ زیدی نے مشکل سے آگے بڑھ کے اسکا گربیان چھڑایا تھا کام ڈاؤن صارب یہ انڈسٹری یہاں طرح طرح کے لوگ آتے ہیں تمہیں اگر وہ پسند نہیں آئی تو ہم۔کوئی اور رکھ لیتے ہیں ویسے بھی وہ کام کے لحاظ سے پروفیشنل لڑکی نہیں تھی اس نے جلدی جلدی بات سنبھالی تھی۔۔۔۔۔

ایڈمن سے اس لڑکی کا ایڈریس نکالو اور اسے اوکے کا لیٹر بھیج دو صارب کی حتمی آواز نے وہاں موجود ہو چیز کو ساکن کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *