Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid NovelR50613 Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 14)
Rate this Novel
Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 14)
Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid
تم بن جیا جائے کیسے
ہونٹوں پہ تم بن تبسم لاوں کیسے
ان آنکھوں کو تم بن سلاوں کیسے
عید آئے اور تیرے لوٹ آنے کی آس ہو
کیسے عید پر تم بن خوشیاں مناوں کیسے
یہ لمحے جو سالوں کی طرع گزرتے ہیں مجھ پر
ان لمحوں کو لمحوں میں بتاوں تو بتاوں کیسے
ہر سانس اٹکتی ہے ہر سانس مچلتی ہے تم بن
ہر سانس کی روانگی بناوں تو بناوں کیسے
کہتی ہو اس حقیقت کو خواب سمجھ کر بھول جا
اتنا بتا اس حقیقت کو خواب میں بناوں کیسے
کمال یار کرتے ہو سدا دل میں دھڑکتے ہو
اس دل کی دھڑکن کو تم بن دھڑکنا سکھاوں کیسے
ہاتھوں کی لکیروں میں
تمہیں ڈھونڈھتی ہوں شب بھر
آتا نہیں سمجھ میں تجھے ڈونڈھ لاوں کیسے
ہر لمحہ میرا اداس ہے ہر سانس تم بن بے قرار
اس لمحے اور سانس کا تسلسل میں بناوں کیسے
محبت تو میری کمال ہے پر تجھ بن اس پر زوال ہے
اس زوال کو اپنی محبت سے دور بتا میں ہٹاوں کیسے
تم بن جیا جائے کیسے
تنہا پڑا ہے آج بھی سینے
کے کسی کونے میں دل
تم بن اس دل کی رونق میں لاوں تو لاوں کیسے
تم آو گے اک دن لوٹ کر امید
یہ اول بھی اور آخر بھی
بس ٹوٹ نہ جائے سانس
جیسے ٹوٹتا ہے کنول ایسے
تم بن جیا جائے کیی
اک بات کہنی ہے آخری سن لو ا
گر تو عنایئت ہے جان
نہیں شکوہ کوئ تم سے نہ ہی
کوئ سوال وہ کیسے یہ کیسے
بس لوٹ آو لوٹ آو اور اتنا مجھے بتلا جاو
کہ تم بن جیا جائے کیسے
اداسی سے باہر دیکھتی مشعل کو اپنا آپ ہوا میں معلق دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ اک نئی زندگی کے ساتھ سب پہ بوجھ نتی جارہی تھی۔۔۔
مگر اب وہ اپنے پیاروں کو مزید امتحان میں نہیں ڈال سکتی تھی۔۔۔۔۔
اک ارادہ باندھے وہ رائٹنگ ٹیبل کی طرف بڑھی تھی اور نوٹ پیڈ اٹھائے لکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
میں مشعل حیدر آپ سب لوگوں سے بہت شرمندہ ہوں مگر اک بند گلی میں زیادہ دیر رکنے کا حوصلہ میں خود میں نہیں پاتی۔۔۔
مجھے معاف کردیجئے گا بابا میں آپکی اچھی بیٹی نہیں بن سکی۔۔۔
مما میں آپکے کردار پہ بھی سوال بنی لیکن میں اپنا گنہگار وجود لے کے زہرہ اور رابی کی زندگی کو زندان نہیں بنا سکتی اک آنسو پلکوں کی باڑ سے ہوتا اس نوٹ پہ گرا تھا۔۔۔۔
وہ بہت کچھ لکھنا چاہتی تھی مگر بند ہوتی آنکھوں نے اسے مہلت ہی نہیں دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







من آج سے تمہیں پک اینڈ ڈراپ میں کرونگا ناشتے کی ٹیبل پہ منت کا منہ کھلا رہ گیا کل تک جو اسے پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا اتنا کرم۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں رہنے دو تم نا اپنا قیمتی وقت مجھ پہ ضائع کرو پھر سے کٹھور منت بنی تھی جیسے رات تو ان کے درمیان آئی نہیں تھی۔۔۔۔۔
میں تم سے پوچھ نہیں رہا تمہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کررہا ہوں چئیر پیچھے کھسکاتا وہ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
میں لالہ کو بتا دونگی کے آپ اک ہفتے سے یہ قبضہ کیے بیٹھے وہ میری سٹڈی کو لے کوئی کمپرومائز نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔
منت نے رمیز لالہ کے نام سے جیسے اسے ڈرانا چاہا تھا۔۔۔۔
وہ۔سب جانتے ہیں اس لیئے تم اپنی انرجی ویسٹ نہ ہی کرو تو اچھا ہے ۔۔۔۔
زچ کردینے والی مسکراہٹ اسکی جانب اچھالتا وہ گیٹ روم میں چلا گیا کیونکہ اک ہفتے سے اسکا ٹھکانہ یہی تھا۔۔۔۔
منت کے روم میں جانے کی کوشش کی وہ اسے دیکھتے ہی روم لاک کرکے سوجاتی ۔۔۔۔۔
اک ہفتہ وہ ان دو لڑکوں کی تلاش میں خوار ہوا تھا اور مل جانے پہ اب وہ اسکے ڈیرے پہ مہمان نوازی کے مزے لوٹ رہے تھے جبکہ ارحم بھی اپنے کام سے فارغ ہوتا اب منت پہ فوکس کررہا تھا۔۔۔۔۔۔
آج سنڈے تھا تو وہ۔اس سے بات کررہا تھا ورنہ تو اک ہفتے سے اس نے اپنی شکل بھی نہیں دکھائی تھی۔۔۔۔۔۔۔
گاؤں کی لڑکیاں ختم ہوگئیں جو اب شہر منہ مارنے آگیاہے۔۔۔
اسکا موڈ بری طرح بگڑ چکا تھا باجی ناشتہ ملازمہ کی آواز پہ اسے گھوری سے نوازا اک پرسوچ نگاہ گیسٹ روم کے بند دروازے پہ ڈالی ۔۔۔۔۔
سنو آئیندہ میں اپنا ناشتہ خود بنالونگی تم مجھے صرف سنڈے یہاں نظر جھاڑو پوچا کرکے واپس۔۔۔۔
ملازمہ اسکی شکل دیکھنے لگی۔۔۔۔
کیا اب سوالیہ نظریں اس پہ گاڑیں۔۔۔
وہ جی۔۔۔۔۔
تنخواہ پوری ملے گی تمہیں جو کہا اتنا کرو۔۔۔۔۔۔
اسے گھورتی اپنے روم۔میں گھس گئی تھی۔۔۔۔
ملازمہ اپنے دھیمے مزاج والی باجی کو اتنا کڑوا کریلہ بنا دیکھ حیران تھی۔۔۔۔۔۔
اور گیسٹ روم میں موجود اسکی آوازیں سنتا ارحم۔غصے سے کھولا رہا تھا کیا وہ نہیں جانتا کہ وہ اسکے بارے کیا رائے رکھتی ہے۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اسکے کمرے میں داخل ہوا تھا جو شاید لاک کرنا بھول گئی تھی۔۔۔
دھاڑ کی آواز سے دروازہ کھلا اور بند ہوا تھا۔۔۔۔۔
یہ کیا طریقہ ہے کسی کے روم۔میں آنے کا اس اچانک افتاد پہ وہ بھی پریشان ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اور وہ کیا طریقہ تھا جو تم۔میڈ کے ساتھ اپنا رہی تھی۔۔۔۔
اوہ تو آپکو کیوں تکلیف ہورہی کہیں یہاں بھی ۔۔۔۔۔۔
معنی خیزی سے کہتی وہ بولی تھی جبھی ارحم۔کا ہاتھ اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
من مجھے کوئی انتائی فیصلہ کرنے پہ مجبور نہ کرو پھر یہ نہ ہو کہ پچھتانے کا موقع نہ ملے۔۔۔۔
منت کی آنکھیں پانی سے لبریز ہوئیں وہ جو خود سے عہد کیے ہوئے تھا کہ آئیندہ منت سے نرم۔لہجہ اپنائے گا وہ پھر اسے سختی پہ مجبور کر گئی تھی۔۔۔۔
سوری من اپنے ساتھ لگاتے بچوں کے جیسے اسے منانے لگا تھا اپنے لبوں سے اسکی پلکوں سے موتی چنے ۔۔۔۔
یہ بہت اہم ہیں انہیں ایسے ضائع مت کرو ۔۔۔
منت کو اسکا یہ دکھاوا پسند نہیں آیا تبھی اس سے الگ ہوتی دوسری جانب رخ کرگئی اسے اپنے گال پہ ابھی تک جلن محسوس ہورہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
ارحم۔نے اسکا روٹھا روٹھا انداز بخوبی دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔
اب تم ایسے کروگی تو میری جان مشکل ہوجائے گی اسکا عخ اپنی جانب موڑتے بولا۔۔۔۔۔۔
پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیں پھر سے دور جانا چاہا تھا۔۔
ارحم اسے اٹھائے بیڈ تک لایا تھا۔۔۔۔
جبکہ اسکے اراد جان کے منت کی جان پہ بن آئی تھی۔۔۔
ارحم مم میں پلیز تم جاؤ یہاں سے اپنا آپ چھڑانے کی تگ ودو میں وہ اسکے مزید قریب ہوئی تھی جبھی ارحم نے اس پہ جھکتے اسکی روشن پیشانی پہ اپنے لب رکھے۔۔۔۔
ہر چیز جائز ناجائز پہ لڑ لیا کرو من مگر مجھے میرے حق سے نہ روکا کرو اسے بولتے دیکھ اپنے ہونٹوں سے اسکے لفظ چن لیے تھے جبکہ منت اسکی بے خودی پہ خود پھر سے اسکا اسیر ہوتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
یہاں تھپڑ مارا ہیں نا میں نے اسکے سرخی مائل گالوں سے اپنے لب مس کرتا گویا مرحم رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔۔
من ۔۔۔
کیا کچھ نہ تھا اس پکار میں تڑپ،اسکی چاہ اور سب سے بڑھ کے اپنے وجود کا احساس دلاتا حق۔۔۔۔۔
مجھے تمہاری جیسی اک اور من چاہیئے پھر چاہے تم پڑھتی رہنا میں اس سے دل بہلا لونگا۔۔۔۔۔۔۔
اسکی فرمائش سن منت لال ٹماٹر بنی نظر آرہی تھی۔۔۔۔
اسکو ایسے بلش کرتا دیکھ ارحم۔کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔
وہ اسکے کشادہ سینے میں منہ چھپانے لگی اسکے علاوہ کوئی راستہ بھی تو نہ تھا۔۔۔۔۔
اپنا حق وصول کرتا وہ قرینے سے اسے سنبھال رہا تو قربت ان خاص لمحات میں بھی وہ اسے اپنے کردار کی صفائیاں دیے جارہا تھا مگر شاید من تو قسم کھائے بیٹھی تھی کبھی یقین نہ کرنے کی۔۔۔۔۔







یہ یہ کک کیسا مزاق ہے صارب بوکھلتی وہ دروازے سے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تو سزا بنتی ہے نا میری جان بات نہ ماننے کی اسکے نزدیک ٹہرا دائیں بائیں ہاتھ رکھے ۔۔۔۔
اسکے حصار میں سہمی سی ٹہری تھی ۔۔۔
عورت چاہے خود کو کتنا تیس مار خان سمجھ مرد کے سامنے بلکل زیرو ہے مئی ڈئیر وائف اپنی انگلی کی پوروں سے اسکے لبوں کو چھوتے بولا تھا۔۔۔۔
نن نہیں صارب تت تم دور ہٹو مجھ سے ریحاب نے اسے دھکا دیا مگر وہ چٹان سامنے موجود تھی بھلا اسے کیا فرق پڑنا تھا۔۔۔۔
تبھی اس نے صارب کی چھائی سرمستی کو اک نی کک سے ختم کیا ۔۔۔
اف صارب درد کی شدت سے زمیں پہ بیٹھا تھا شاید اسے اتنی لگی نہیں تھی جتنا وہ پوز کر رہا تھا۔۔۔۔
کک کیا ہوا صارب زیادہ لگی ہمدردی سے کہتے اسکے برابر بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
تم صارب نے ضبط سے خود کو قابو میں رکھا ۔۔۔
ریحاب اک ترحم بھری نگاہ اس پہ ڈالے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔
کی دو مجھے گھر جانا ہے وہاں میرے بھائی کی شادی ہے وہ اس سے ایسے مخاطب تھی جیسے ان کے درمیان بھرپور یارانہ رہا ہو اور وہ اسکی بات مان ہی نہ لے ۔۔۔۔۔
شادی دلہن کے بغیر نہیں ہوسکتی مگر دلہے کی بہن کے بغیر ضرور ہوسکتی ہے دونوں اک دوسرے کو غصے سے گھورے جارہے تھے …..
صارب ۔۔۔
جی مسسز صارب اگر اتنے پیار سے پکاریں گی جان بھی حاضر ہے ۔۔۔۔۔
مؤدب بنا کش بجا لایا تھا۔۔۔۔
اسکی ڈھٹائی پہ ریحاب روہانسی ہورہی تھی۔۔۔
آئی۔ہیٹ۔یو چیٹر۔۔۔۔
چیخ کے کہتے دوسری طرف منہ کیا تھا ریحاب نے۔۔۔
ناٹ مور دن یو مسسز چڑاتا انداز ریحاب کا دل کررہا تھا اسکا سر پھاڑ دے اور اپنی سوچ پہ عمل کرنے کا سوچنے بھی لگی تھی تبھی ریحاب کا سیل بج اٹھا جو اس سے پہلے ہی صارب نے اٹھا کے لاؤڈ سپیکر آن کر لیا ۔۔۔۔
کہاں ہویار یہاں سب پوچھ رہے ہیں علی کی آواز پہ اک بےبس نگاہ اپنے موبائل پہ ڈالی تھی۔۔۔
مم میں آرہی ہوں جسٹ ویٹ ع علی ہکلایا انداز علی کو شاید اسکی بات سمجھ نہیں آرہی تھا۔۔۔۔
واٹ ہیپنڈ ریحا آر یو اوکے تم ہو کہاں اچانک یوں غائب ہونا۔۔۔
علی میری دوست کی طبیعت خراب ہے میں اسکے پاس ہوں جلدی آتی ہوں بس۔۔۔
اور علی کے گرد اک اور آواز گونجی تھی “آپی میں دوست پاس ہوں”۔۔۔۔۔۔
اور مکافات عمل کی چکی شروع ہوچکی تھی علی کو ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کے اردگرد سب جھوٹے لوگ بستے ہیں پہلے زویا اور اب ریحاب۔۔۔
اوکے وی آر ویٹنگ کہتا کال بند کرچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور صارب کے کانوں میں بھی اک بازگشت ہوئی تھی۔۔
مشی کہاں ہے رابی میری کال ہی نہیں اٹھاتی بھیا اسکی اک دوست بیمار ہے وہ اسکے پاس ہے۔۔۔۔۔۔
سو تو یہ وقت طےہوچکا تھا کہ یہاں ہر کوئی اپنے کیے کا انجام بھگتنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔
اک شرط پہ جاسکو گی تم مشعل کو اپنے ساتھ لے جاکے بھری محفل میں علی کی بیوی ڈکلئیر کروگی ورنہ علی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔
دھمکی والے انداز میں کہتا وہ چپ ہوچکا تھا۔۔ ۔۔۔۔
مم مجھے منظور ہے ریحاب کسی نتیجے پہ پہنچی تھی اپنی غلطی خود سدھارنی تھی ۔۔ ۔۔۔
تبھی صارب کا موبائل بجا تھا گھر کے نمبر سے کال آرہی تھی۔ ۔۔۔۔
بھیا وہ مشی رابی کی روتی آواز نے اسکے دماغ میں سنسناہٹ پیدا کی۔۔۔
کک کیا ہوا مشی کو۔۔۔
اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ ریحاب بھی چونکی تھی۔۔۔
اس نے سوسائیڈ کرلی رابی کی آواز نے گویا کائنات کی ہر چیز کو ساکت کردیا تھا موبائل اسکے ہاتھ سے گرا تھا۔۔۔۔۔
میں جانتی ہوں آپ کو مجھ سے زرا بھی پیار نہیں رابی کو لیپ ٹاپ لے دیا مجھے نہیں،
جس ملک جائیں وہاں سے مشی کیلئے پرفیوم ضرور لائیں،
ورلڈ بیسٹ بھیا صارب،
رابی کی دوست کے ہاں چار بچے پیدا ہوئے ہیں،
مشی تم بلی کی بچوں کی بات کررہی،
بھیا اپنی مشی کو معاف کردیں۔۔۔۔۔
آوازوں کے بڑھتے شور پہ وہ چیخا تھا۔۔۔۔۔
کیا ہوا صارب ریحاب نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھے اسے دنیا میں واپس لانا چاہا۔۔۔۔
مم مار دیا تت تم نے مم میری گڑیا کو مم مشی کو میں تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا ریحاب کی گردن دونوں ہاتھوں میں لیے وہ اسکا گلہ دبا رہا تھا ۔۔۔
چھچ چھوڑو ممجھے پاگل ہوگئیے ہو وہ اسکے ہاتھ ہٹانے کی کوشش میں تھی لیکن صارب پہ جنون طاری تھا۔۔۔۔۔
مشکل سے اپنا آپ چھڑاتی وہ اس سے دور ہٹی تھی۔۔۔۔
میں برباد کردونگا سب کو اگر میری مشی وہ سر دونوں ہاتھوں میں گرائے رو رہا تھا ۔۔۔
ریحاب نے زندگی میں پہلی بار کسی مرد کو اتنا دیوانہ وار روتے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
صس صارب چلو ہاسپٹل چلیں وہ اس کے پاس جانے کا رسک نہیں لے سکتی تھی مگر دور سے بولی ضرور تھی۔۔۔۔۔
شٹ اپ شٹ اپ دفع ہوجاؤ یہاں سے جاؤ علوی ہاؤس میں شادیانے بجاؤ جاؤ یہاں سے ریحاب کو بازو سے پکڑے اپنے اپارٹمنٹ سے نکالا تھا۔۔۔۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آئی وہ کیا کرے ہاں علی ۔۔۔۔
اس نے علی کو کال ملا کے ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔
جبکہ علی حیدر کا وجود زلزلوں کی زد میں آیا تھا۔۔۔۔۔
وہ مرگئی۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اسکا خواب سچ ہوگیا۔۔۔۔۔
کیا ہوگیا ہے حیدر آپ تو کہتے ساری زندگی انتظار کرونگا اور اب کیا وہ جو سیلمان کی شادی کے بعد اسکیلئے مما بابا سے بات کرکے اپنی غلطی سدھارنا چاہتا تھا وہ اسے موقع دیے بغیر ہی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
مشعل پریکننٹ تھی علی اور بدنامی سے بچنے کو اس نے سوسائیڈ کرلی ۔۔۔
ریحاب کی آواز شہانائیوں سے بھی زیادہ گونج رہی تھی۔۔۔۔
میں مربھی گئی تو کیا ہوگا۔۔۔
فقط تین روزہ سوگ۔۔۔۔
