Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 20)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

ریحاب بے چین انداز میں کمرے میں گھوم رہی تھی آج اس گھر میں وہ مہمان تھی مگر نہ تو آنے والی کا ویلکم سہی انداز میں ہوا تھا اور نہ جانے والی کا کوئی چانس نظر آرہا تھا وہ مشعل کی زات کو لے کے بہت شرمندہ ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

صارب کو لہجہ اسکی سماعتوں میں گونج رہا تھا نجانے کیوں اسکو لگ رہا تھا کہ کچھ غلط ہونے والا ہے مگر کیا ۔ وہ خود کو منفی سوچوں سے نکالتی وضو کرنے چلی گئی تھی اسکے بے چین دل کی راحت کا شاید اس در سے کوئی حل مل جاتا۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

رات اپنے پر سمیٹے بہت سے راز لیے روانہ ہوئی ۔۔۔

صبح کا سورج روشن کرنیں لیے نمودار ہوچکا تھا مشعل کی آنکھ پردوں سے چھن چھن کے آتی روشنی کی وجہ سے کھلی کچھ دیر بلینک دماغ سے اس جگہ کا تعین کرنے لگی تھی کہ وہ کہاں موجود تھی ۔۔۔۔۔۔

اک بھرپور نیند کے بعد وہ خود کو مکمل تروتازہ محسوس کرہی تھی جبھی اسکی نظر سامنے صوفے پہ سوئے حیدر پہ پڑی تھی اک ملال نے اسے گھیرا تھا مگر دوسرے ہی لمحے وہ سب جھٹکتی فریش ہونے کو چل پڑی تھی اک نظر بے سدہ پڑے علی کو دیکھا وہ جو سمجھ رہی تھی کہ وہ روم لاک کیے ہر طرح سے اسکو کم مائیگہ کرگئی ہے بھول گئی تھی کے وہ اس کے گھر اسکے کمرے میں موجود ہے یقیناً وہ ڈپلی کیٹ کی کے زریعے روم میں واپس آیا تھا ۔۔۔۔۔

الماری کے پٹ زور سے بند کرتی واشروم کی جانب بڑھی تھی جبکہ علی آواز سنتے ہی اٹھ بیٹھا تھا یقیناً یہ حرکت اسے سبق سکھانے کا اک طریقہ تھا کہ اک کھلا چیلنج تھا وہ اب سکون سے سو بھی نہیں پائے گا۔۔۔۔۔۔۔

واشروم کو گھورتے وہ بیڈ پہ دراز ہوا تھا جبھی دروازہ ناک ہوا تھا ۔۔۔۔۔

صبح صبح نازل ہونے کی وجہ” ۔۔سامنے موجود زویا کو گھورا۔۔۔

آہاں دلہا میاں نیچے سب آپکا ناشتے پہ انتظار کررہے ہیں جلدی آئیں پیغام دیتی وہ روانہ ہوچکی تھی۔۔۔۔۔

کیا مصیبت ہے کوئی سکون سے سونے دینگے مجھے مشعل نے اسکی بڑبڑاہٹ سنی زیرلب مسکرائی تھی۔۔۔ ۔

بالوں کو تولیے سے خشک کرنے کے بعد گیلہ تولیہ بیڈ کی طرف اچھالا تھا…..

یہ کیا حرکت ہے مش اسے اسکی جگہ پہ رکھو علی کی آواز میں غصہ دیکھ وہ زرا بھی مرعوب نہیں ہوئی تھی۔۔۔

وہ جانتا کے اسے ژچ کرنا چاہ رہی ہے مزید کچھ بولے بغیر وہ اپنے کپڑے نکالنے لگا تھا اپنی پیکنگ کرلو ولیمے کے بعد ہم ملائشیاء روانہ ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی بات پہ وہ پلٹی مگر وہ اپنے کپڑے لیے جاچکا تھا

وہ اسکی ساری پلایننگ اک جھٹکے میں نسب و نابود کرچکا تھا۔۔۔۔۔

زویا انکا ناشتہ روم میں ہی لے آئی تھی مشعل نے خاموش طبع اپنی جٹھانی کو دیکھا

کیا اس گھر میں ایسے ہی موت کے جیسے سناٹے چھائے رہتے ہمیشہ یا پھر میری آمد کا نتیجہ ہے”

مشعل جاننا چاہ رہی تھی گویا اسکی آمد سے یہ گھر ٹینشن کا شکار ہوا ہے کہ نہیں۔۔۔

زویا اس منہ پھٹ لڑکی کو دیکھ سکتے میں آئی تھی سوری میں آپکا مطلب نہیں سمجھی ہوں۔۔۔

ارے زویا تم روم میں ناشتہ کیوں لے آئی ہم باہر آجاتے علی جو مشعل کی گوہر فشانی ملاحظہ کرچکا تھا اسکا تاثر زائل کرنے کو آگے بڑھا تھا۔۔۔۔

ہاں زویا ہم نیچے آہی رہے تھے انکل سے بھی ملاقات ہوجاتی انہوں نے تو اپنی بہو کو منہ دکھائی دی نہیں سوچا تھا بہو ہی چلی جائے گی پر خیر اب لے آئی ہو تو رکھ دو۔۔۔۔۔

مشعل کا انداز علی اور زویا دونوں پہ ناگوار گزر رہا تھا مگر وہ صبر کے گھونٹ پی کے رہ گئے۔۔۔

اور کچھ تو ضرورت نہیں ہے نا علی زویا مشعل کو اب اگنور کر رہی تھی۔۔۔۔

نہیں تھینکس علی مشکور لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔۔

ریحاب اور مشعل کو پارلر بھی چھوڑ کے آنا ہے تمہیں علی وہ اسے مخاطب کرتی یاد کروا رہی تھی۔۔۔۔

ہاں وہ یاد ہے آپ اس سے کہیں اپنا سامان رکھ لے مشعل کے سامنے نام لینے سے اجتناب کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اک منٹ زویا مشعل نے اسے روکا آپ ریحاب کو کسی اور ساتھ بھیج دیں سوری ہماری ابھی رات شادی ہوئی ہے میں اپنی پرائیوسی میں کسی کو مخل ہوتا نہیں دیکھ سکتی رعونت سے کہتے وہ ناشتے کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔

علی کو تو اسکے انداز مارے جارہے تھے زویا اس سے انجان تھی مگر وہ تو نہیں تھا نا اور جو روم لاک کرکے سوئی ہوئی تھی اسے بھلا شوہر کے ساتھ کیا پرائیوسی چاہیئے۔۔۔۔۔۔

زویا کو بھی اسکے انداز کھل رہے تھے مگر وہ علی کے لحاظ میں چپ کرکے چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

علی اپنے بروقت فیصلے پہ شکر کر رہا تھا ورنہ یہ لڑکی تو دوسری ریحاب بننے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

کیا ڈرامہ تھا یہ مشی زویا کے جاتے ہی وہ اسکے سر ہوا تھا ۔۔۔۔۔

دیکھو میں آپ سے اس موضوع پہ کوئی بات نہیں کرنا چاہتی جان چھڑاتا انداز اسے اور تپا رہا تھا وہ خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناشتہ کرنے کے بعد مشعل کو باہر جاتا دیکھ وہ حیران ہوا کہاں جارہی ہو تم اسکے سر پہ پہنچا تھا۔۔۔۔

اپنے سسر سے ملنے علی کو اسکا زہنی توازن بلکل خراب لگ رہا تھا پاگل ہوچکی ہو مش کیوں کررہی ہو ایسا بتاؤ اور کیسے معافی مانگوں تم سے ۔۔۔۔۔

ادھر آؤ اسکو بازو سے پکڑتے بیڈ کی جانب لایا تھا وہ کچھ بولنا چاہ رہی تھی جبھی اسے چپ کرا دیا۔۔۔۔۔۔

تم جانتی ہو زویا کون ہے سندس پھوپو کون ہیں بتایا تمہیں کسی نے علی کی بات سنتی زویا اور سندس کے نام پہ غصہ ہوئی وہ جو سمجھ رہی تھی کوئی امپورٹنٹ بات کرنے لگا ہے زویا کے نام پہ پھر بھڑک اٹھی ۔۔

کیا مسئلہ ہے تمہیں کیوں میری بات سننا نہیں چاہتی تم ناچاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ سخت ہوا تھا وہ بھلا حیدر کے اتنے سخت لہجوں کی کہاں عادی تھی۔۔۔

ایم سوری مش پلیز اک بار میری بات سن لو اسکی التجائیہ انداز دیکھ وہ بھی شاید اس پہ ترس کھا بیٹھی تھی اور پھر علی نے اسے اختلافات کی اصل وجہ بتائی تو وہ حیران ہوئی تھی اسکا بچکانہ ذہن جس بات پہ اٹکا کہ صارب زویا کا سگا اور اسکا سوتیلا بھائی ہے۔۔۔۔۔۔

آپ اپنی بہن کی طرح میرے بھائی کے خلاف چال چلنے لگے ہیں وہ مشعل کی بات سن سر پکڑ بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

بس کردو من یار اتنا تو تم اپنی شادی پہ تیار نہیں ہوئی تھی ارحم کی کب سے جلدی جلدی کی رٹ سنتی منت کا بی۔پی ہائی ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ جو کب سے ائیر رنگ پہننے کی کوشش میں اپنے کان لال کیے ٹہری تھی ڈریسنگ پہ جھمکے پٹختی بیڈ پہ آبیٹھی تھی۔۔۔۔

مجھے کہیں جانا ہی نہیں ہے روہنسا انداز ارحم۔کو اسے چھیڑنے کا موقع مل گیا تھا۔۔۔۔

اوہ رئیلی یار میں تو کب سے یہی چاہ رہا تھا کہ تم منع کردو میں نہیں چاہتا کہ میری اکلوتی بیوی کو کسی کی نظر لگ جائے منت کی سوئی اکلوتی پہ اٹکی۔۔۔۔

کیا مطلب ارحم آپ اکلوتی تو دوسروں کی کتنی ہوتیں۔۔۔

یار سچ من لوگوں کی اکھٹے چار چار ہوتیں ویسے بھی اب تم موٹی ہوتی جارہی فیٹی ایسڈ تو سوچ رہا ہوں اک اور لے ہی آؤں ۔۔۔۔۔۔

ذومعنی انداز میں کہتا جملہ ادھورا چھوڑا منت کو اپنی ساری تیاری بھول چکی تھی کیا مطلب میں اب آپ کو موٹی بھی لگنے لگ گئی ہوں ارحم کا دل اسکے آنسو ٹپکتے دیکھ موم ہوا۔۔۔

او او میری شوہنا مزاق کیا تھا اب تو تم۔اور زیادہ پیاری ہوتی جارہی ہو اسے اپنی طرف کھینچتے بولا جبکہ منت اسکی نیت کی بے ایمانی دیکھ جلدی سے اپنا آپ چھڑانے لگی ۔۔۔

نو ارحم ہم نے شادی پہ جانا ہے خود کو چھڑانے کی تگ دو کی تھی جبکہ ارحم نے اسکی کمر کے گرد اپنا شکنجہ تنگ کیا ۔۔۔۔

نہیں میری جان میرا بلکل دل نہیں تم۔بعد اپنی اس نان سٹاپ تیزگام۔دوست سے معزرت کرلینا اسکےہئیر بینڈ میں مقید بالوں کو کھولا تھا جبکہ منت اپنی ساری تیاری رائیگاں ہوتے دیکھ تاسف سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

ارحم اسکی آنکھوں کی زبان سمجھ کے بھی انجان بن گیا یار تو تمہیں کس نے کہا اتنی پیاری لگا کرو اب بھگتو پھر سارا الزام۔اسی کے سر ڈال دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسے گھورتی پیچھے ہوئی تھی۔۔۔

آہاں یہ بیوی نا بنا کرو ارحم اسے بیڈ پہ گرائے اسکی جانب جھکا تھا انگلیوں سے اسکی لپ اسٹک مسلی وہ چیخ اٹھی کیا ارحم یہ کوئی طریقہ اسکا انداز دیکھ وہ مسکراتے اپنے ہونٹوں سے اسکے لبوں کو ٹارگٹ کیا تھا گویا اسکا اعتراض ختم کیا ہو ۔۔۔

ا ارحم ۔۔۔۔

شش ایک تو تم بولنے بہت لگی ہو اسکی سانسوں کی پرتپش آہٹ اپنی گردن پہ محسوس کرتی اسکے وجود پہ رینگتے محبت بھرے لمس وہ اسکے شکنجے میں بے بس ہوئی تھی اسکی شدتوں کے سامنے تو وہ اول روز سے ہارتی آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

شادی کی نسبت ولیمہ میں کافی بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے شاید بیٹی کا بھرم بھی رکھنا تھا شاہد علوی کو ریحاب کو انکی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی تھی بارات کی آمد کا شور اٹھا تو علی اور۔مشعل بھی بارات ریسو کرنے پہنچے تھے ۔۔۔۔۔

آج انکا بھی ولیمہ تھا علی کے ہاتھ میں دبا مشعل کا ہاتھ دیکھتے صارب نے پرسکون سانس لی تھی تھوڑی دیر ریحاب صارب اور علی مشعل کا فؤٹو شوٹ ہوا دونوں دلہنیں اپنے دن کی مناسبت سے نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہیں تھیں مشعل کل کی نسبت آج پرسکون تھی جتنا وہ علی کا خون جلا سکتی تھی کررہی تھی۔۔۔۔۔۔

مسکرانے سے آپکی لپ اسٹک خراب نہیں ہوگی میڈم لوگ سمجھ رہے کہ ہم زبردستی کررہے آپ سے اب انکو کیا پتا کہ ریحاب میڈم تو کب سے امیدواروں کی لسٹ میں تھیں بظاہر مسکراتا صارب آج بھی طنز کرنے سے بعض نہیں آیا تھا۔۔۔

رخصتی کا شور اٹھا تو ریحاب باپ سے ملنے کی خواہش دل میں ہی دبا گئی دنیا کے دکھاوے کو بھی شاہد علوی نے سر پہ ہاتھ رکھنا گوارا نہیں کیا اک ان چاہا بوجھ سر سے اتار کے وہ مہمانوں سے پہلے جاچکے تھے ۔۔۔

علی کے اسکی جانب بڑھتے قدم مشعل کے اسکے بازو پہ ہوتی سخت گرفت نے روک دیے تھے وہ مزید اس لڑکی کو کسی بے وقوفی کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا اسلیئے چپ چاپ اسکے آگے سرینڈر کیا تھا ۔۔۔۔۔

صارب کے مضبوط ہاتھ بھی ریحاب کے دل مین پلتے وہم نہیں نکال پائے تھے۔۔۔

مشعل کی نسبت اسے مکمل پروٹوکول۔ملا تھا۔۔۔

والٹ خالی ہوگا تو روم میں انٹری ملے گی ورنہ رات گزارنے کو گھر خالی پڑا ہے رابی کو دروازے میں ایسادہ دیکھ وہ دل مسوس کے رہ گیا۔۔۔

نادیدی لڑکی صبح سے کتنی اپنی من گھڑت رسموں کے نام پہ میری جیب خالی کرچکی ہو آجکل میں ویسے بے روزگار پھر رہا ہوں صارب نے مظلومیت کے ریکارڈ توڑے تھے۔۔۔

بری بات رابی اب بس کردو تم زہرہ نے اسے گھورا تھا زریں بیگم نے بھی نظروں کے اشارے کیے تھے ان دونوں کو گھورتے دیکھ وہ تن فن کرتی اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔

اوہو زہرہ میں مزاق کررہا تھا تم نے اسکا ایویں موڈ خراب کردیا وہ بھی اسکے پیچھے لپکا تھا وہ ٹھنڈی سانس بھرتی ریحاب کے پاس آگئیں ویلکم ہئیر ریحاب بیٹا زریں نے پرشفیق انداز میں کہتے دو جڑاؤ کنگن اسکی کلائی میں چڑھا دیے آ آنٹی یہ وہ کنفیوژ ہوتی ہکلائی تھی ۔۔

ارے بیٹا یہ ہمارے خاندانی کنگن چلے آرہے ہیں میرے بعد صارب کی دلہن ہی تو انکی حقدار ہے اسکی جھجک کو ختم۔کرنا چاہا تھا گاڑی کی سٹارٹ ہونے کی آواز پہ زہرہ کا دل۔کیا اپنا ماتھا پیٹ لے ۔۔۔

اوف یہ بے وقوف لڑکی کماز کم آج صارب کے سپیشل ڈے کا احساس کرلیتی ان ماں بیٹی کا پریشان چہرہ دیکھے وہ بھی پریشان ہوئی کیا ہوئی آنٹی سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔

ارے ہاں بیٹا تم بھی کیا سوچو گی کہ صارب نئی نویلی دلہن کو چھوڑے بہن کے پیچھے بھاگ گیا وہ ایسا ہی ہے بہنوں کا دیوانہ لے گئی ہوگی کوئی فرمائش پوری کرنے کو رات کے اس پہر اسے وہ وہاں سے اٹھتی چلی گئیں تھیں۔۔۔۔

تو کیا یہ ریحاب کی کھلی توہین نہیں تھی اس سے اچھی امیدیں تو وہ ویسے بھی لے کے نہیں آئی تھی مگر بھلا کون اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کے ایسے جاتا ہے۔۔۔۔

ریحاب تم۔مائنڈ نہ کرنا یہ رابی ہے ہی زرا الٹی کھوپڑی کی زہرہ ادھر ادھر کی باتیں کرتی اسکا دھیان بٹانے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

صارب اوررابی کو آتا دیکھ زہرہ نے ریحاب سامنے مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کیا تھا ۔۔

بھابی یہ گفٹ میری طرف سے آپکیلئے رابی نے اسکی طرف ایک گولڈ کا بریسلٹ بڑھایا جسے اس نے شکریے کے ساتھ وصول کیا وہ لوگ شاید واقعی اتنا سادہ دل تھے جو اسکی ہر خطا کو معاف کیے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں بھی چلیں گئیں ریحاب کی کمر پورا دن بیٹھ بیٹھ کے اکڑ چکی تھی صارب نے اک اچٹکتی نگاہ اسکے سراپے پہ ڈالی تو نگاہ اٹھنے سے انکاری تھی پورا دن وہ اس سے بے نیاز رہا تھا مگر اسوقت وہ اسکی خوبصورتی کے زیر ہوا تھا سو کیسا لگ رہا مسسز ریحاب آپکو صارب رحمٰن کے گھر آکے اسکی بات سنتی ریحاب اسکے انداز پہ جزبز ہوئی بھلا وہ کونسا اک دن کی مہمان تھی جو وہ اس سے ایسے انداز میں بات کررہا تھا بنا کوئی جواب دیے وہ کھڑی ہوئی تھی مگر لہنگا اسکے پاؤں میں اٹکا تھا وہ نیچے گرنے کو تھی جب صارب نے آگے بڑھ کے اسے تھام۔لیا ۔۔۔

ابھی سے مسسز ابھی تو بہت کچھ برداشت کرنا ہے آپکو سرشار انداز میں کہتے اسے کچھ سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کے خوبصورت لبوں پہ جھکا تھا وہ بنا کوئی حرکت کیے اسکی وارفتگی محسوس کررہی تھی اسے لگا ابھی اسکی سانس بند ہوجائے گی صارب کے سینے پہ ہاتھ رکھے اسے پیچھے کرنے لگی اور شاید اسے بھی ترس آیا تھا اسے چھوڑتے اپنی سانس بھی بحال کی

ریحاب خود کو سنبھالتی پیچھے ہوئی تھی مگر صارب نے اسے پکڑتے خود سے قریب کیا تھا اسکے ہاتھوں کی سختی اپنی کمر پہ محسوس کرسکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اک ہاتھ سے اسکے سیٹ شدہ بالوں سے نکلتی لٹ کو اپنی انگلی پہ لیپٹتے اسکا چہرہ خود کے قریب لایا تھا جبکہ بالوں کا کھینچاؤ اسکے سر میں درد کرنے لگا تھا ۔۔۔۔

بتایا نہیں تم نے وائفی کیسا لگا تمہیں اس گھر میں ویلکم ۔۔

اچھا لگا صارب پپ پلیز مجھے درد ہورہا ہاتھ آگے کرتے بالوں کو اس سے آزاد کروانا چاہا صارب نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں مقید کیے زور سے دبایا وہ بلبلا کے رہ گئی تھی۔۔۔۔

جانتی ہو میں نے سوچا تھا تمہیں تمہارے جرائم کی بہت کڑی سزا دونگا پر برا ہو اس دل کا جو عین موقعے پہ دغا دے گیا انا ضد نفرت اپنی جگہ مگر اپنا حق صارب کبھی چھوڑتا نہیں ہے۔۔۔۔

جتنی سختی الفاظ کی ادائیگی میں اس سے زیادہ سختی سے وہ اسے تھامے کھڑا تھا ریحاب کو لگ رہا تھا کہ اسکی پسلیاں چٹخنے لگ جائیں گی اگر کچھ دیر وہ اسے ایسے ہی جھکائے کھڑا رہا تو۔۔۔

مجھے معاف کردو صارب آئی پرامس کے میں سب سے معافی مانگ لونگی آنکھیں نم ہوئیں تو کاجل بھی پھیلا صارب کو لگ رہا تھا وہ جان بوجھ کے اسکیلئے ایسے ہتکنڈے استعمال کررہی ہے وہ بنا کوئی بات کیے اسے لیے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا کیا آئینے میں موجود اسکا عکس دیکھ مسکرایا تھا جبکہ وہ آنکھیں بند کیے اسکے بدلتے موسموں جیسے رویے کو سوچ رہی تھی ۔۔۔

صارب نے اسکا دوبٹہ پنوں سے آزاد کیا وہ خود میں سمٹی تھی آنکھیں کھولے اپنے قریب ٹہرے صارب کو دیکھا کتنے مکمل لگ رہے تھے وہ دونوں مگر کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ من چاہی ہوتی صرف انتقام اور ضد کی نظر نہ ہوتی۔۔۔۔

ریحاب کو وقت یاد آرہا تھا جب وہ اسکیلئے پاگل تھی اس سے ملنے اسے پانے کی دعائیں کرتی تھی اور آج اسکی دعاؤں نے مقبولیت حاصل کرلی تھی مگر تب تک کوئی آنچ دیتا جزبہ موجود نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔

اپنے حلیے پہ غور کیا تو اک دم شرمندہ سی ہوئی کیونکہ اسکی شرٹ کا گلہ آگے سے کافی ڈیپ تھا جسکی وجہ سے اسکے جسم کی رعنائیاں صارب کے ساتھ ساتھ اسکیلئے بھی امتحان بنی تھیں اس نے بے ساختہ اپنے دونوں ہاتھوں سے خود کو کور کرنا چاہا مگر صارب سے اسکی حرکت مخفی نہیں رہ سکی تھی”اسکا رخ اپنی جانب موڑا ریحاب کو لگ رہا تھا وہ کھڑے کھڑے بے ہوش ہوجائیگی” کس سے اتنے پردے رکھے جارہے ہیں جو اگر چاہے تو اک لمحے سب شرم وحجاب کو بالائے طاق رکھتا اس وجود کو اپنے لمس سے معطر کردے صارب کی بات سنتے وہ شرم سے زمین میں گڑے جارہی تھی اس سے اتنی صاف گوئی کی امید کبھی بھی نہ تھی آگے بڑھتے اسکے بالوں کو بکھیرا تھا جو جوڑا کھلتے ہی کسی آبشار کی طرح اسکی کمر پہ بکھرے تھے اتنا حسین منظر اسکی آنکھوں کو خیرہ کررہا تھا ریحاب جانتی ہو میں اسوقت چاہ کے بھی تم سے نفرت نہیں کر پا رہا مجھے اسوقت اعتراف کرتے کوئی شرمندگی نہیں ہورہی کہ ریحاب علوی صارب رحمان کی کرش ہے مخمور لہجہ اس نے آنکھیں بند کرلیں شاید وہ اپنے نفس کی تسکین کیلئے ان وقتی جزبوں کو پسندیدگی کا نام دے رہا تھا کیا ریحاب اسکے پچھلے رویے بھول سکتی تھی بدگمانی کے سمندر میں ڈوبتی ریحاب اسکے سچے جزبوں کی پزیرائی بھی نہیں کرسکی تھی وہ اسے مومی گڑیا کی طرح دونوں ہاتھوں میں سنبھالے بیڈ تک لایا تھا بیڈ پہ بکھری پھولوں کی پتیا ان کے اتنے خوبصورت ملن پہ مسکرا رہی تھیں”صارب نے ہاتھ بڑھا کے لائٹ آف کرتے اسکی مشکل آسان کی تھی جو شرم وحیا کا پیکر بنی اسی کے سینے میں سر دیے لال انار بنی جارہی تھی صارب نے اسکا وجود خود میں سمویا ۔۔۔ کمرے میں پھیلی خاموشی میں ان دو افراد کی تیز چلتی سانسوں اور اک دوسرے کی دھڑکنوں کا ارتعاش وہ اچھے سے محسوس کرسکتے تھے۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

رات کے دو بجے کی انکی ملائشیاء کی فلائٹ تھی اس بات کا زکر اس نے گھر میں بھی کسی سے نہیں کیا تھا علی بیڈ پہ جوتوں سمیت دراز اسکی حرکتوں کو بغور دیکھ رہا تھا جو رائل بلیو مکسی پہ زرقون کے نگینے اور کٹورک پہ چمکتے کام کے ساتھ خود بھی جھلملا رہی تھی جب سے روم میں واپس آئی تھی اک اک چیز کی اٹخ پٹخ علی کو مسکرانے پہ مجبور کررہی تھی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھے جیولری اتارنے کے بعد چوڑیوں سے نبرد آزما دیکھ وہ مسکرا اٹھا کس بات کا غصہ نکل رہا اتنی مہنگی جیولری مجھ غریب کی زاتی کمائی سے خرید گئی ہے زیرلب مسکراتے اٹھ کے وہ اسکے پاس آیا اسکے مخملی ہاتھوں کو اپنے مظبوط مردانہ ہاتھوں میں لیے خود چوڑیاں اتارنے لگا تھا وہ پہلے ہی ہاتھ زخمی کیے بیٹھی تھی مسئلہ چوڑیا اتارنا نہیں تھا جس انداز میں وہ اتار رہی تھی اسکا ہاتھ زخمی کرگئے تھے۔۔

میں کہہ رہی ہوں میں کہیں بھی آپکے ساتھ نہیں جانے لگی مجھے یہی رہنا ہے پاکستان وہ اک دم رونے لگی تھی وہ اسکی پریشانی سمجھ رہا تھا اپنوں سے دور جانا اسکیلئے ممکن نہین تھا شاید مگر یہاں پہ رہ کے بھی وہ کیا کرتی ویسے بھی وہ پہلے کافی چھٹیاں لے چکا تھا علی نے اسے اپنے حصار میں لینا چاہا تو وہ مچھلی کی طرح ہاتھ سے پھسلتی دور جاکھڑی ہوئی “کیوں آزما رہی مش میرے صبر کو”وہ اس پہ سختی نہیں کرنا چاہتا تھا”اور جو آپ نے کیا اسکا کیا”نخوت سے کہتی منہ دوسری طرف کرگئی “معاف کردو یار اور کیسے مناؤں جو تم نے کہا جو چاہا میں ویسے ہی تو کررہا ہوں “علی نے پھر سے پیش قدمی کی تھی ۔۔۔

کیوں چیٹ کیا مجھے آپ۔جانتے ہیں سب آپکو دھوکے باز کہہ رہے تھے مگر میں آپکی گواہیاں دیتی پھر رہی تھی کہ میرا حیدر ایسا نہیں اور آپ نے کیا کیا میرا اعتبار توڑا مجھے سارے زمانے کے سامنے رسوا کیا اور میرا بچہ وہ بلکتے ہوئے رو پڑی تھی علی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے وہ واقعی اسکی زات پہ بہت ظلم کرچکا تھا مگر ازالہ بھی تو کررہا تھا پر وہ تھی کے ہاتھ نہیں آرہی تھی مشعل پلیز اک اور موقع دے دو جو تم۔چاہو گی جیسے چاہوگی میں ویسے کرونگا آئی سوئیر آئی پرامس یو پلیز اپبے دل سے تمام غلط باتیں نکال دو

مشعل نے اپنے سامنے سرجھکائے اونچے لمبے مرد کو دیکھا جو اسکی اولین محبت تھا مگر وہ اس دل اور دماغ کی لڑائی میں بری طرح الجھ چکی تھی۔۔

مش اگر مجھے پتا ہوتا کہ ہمارا بچہ آرہا میں ساری دنیا سے لڑکے تم دونوں کو پروٹیکٹ کرتا مگر میں انجان تھا مجھے اندھیرے میں رکھا گیا صارب سب جانتا ہے تو پلیز ۔۔

مگر مشعل ہی کیا جو ضد سے ہٹ جائے اور علی حیدر علوی کو بھی اب صییح معنوں میں اس ضدی لڑکی کو دیکھ کے غصہ آنے لگا تو اچھئ خاصی زندگی کو ولن بن کے بگاڑنے پہ بیٹھی تھی مگر وہا سے مزید کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا تھا سوائے صبر کے وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا اسکی ذات پہ احسان کرتی وہ پیکنگ کرنے لگی تھی اور رات کو دو بجے وہ بنا کسی سے ملے ملائشیاء کیلئے روانہ ہوگئے ۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ریحاب کی آنکھ کھلی تو خود کو صارب کے بازو پہ سر رکھے دیکھ اٹھ بیٹھی رات کی شدتیں اسکے سامنے کسی رنگین منظر کی طرح گھومیں تو مسکراہٹ خود بخود لبوں کو چھو گئی بغیر آہٹ کے وہ بستر سے اٹھ گئی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی وجہ سے صارب کی آنکھ کھل جائے اپنے حلیے پہ غور کرتی وہ ڈریسنگ سے اک سادہ سا سوٹ نکال لائی غسل کے بعد نماز ادا کرتی اسکی نگاہ بے اختیار پرسکون سوتے صارب کی طرف اٹھی جو چاہا تھا پا تو لیا تھا اس نے پھر بھی اسکے دل کی بے سکونی کم نہیں ہوئی تھی اور آج پہلی بار وہ بنا کچھ مانگے اٹھ آئی تھی سورج نکلنے میں کافی ٹائم تھا مگر اسے سمجھ نہیں آئی وہ کیا کرے اپنا موبائل تو وہ لائی نہیں تھی ٹائم۔دیکھنے کو صارب کا موبائل ڈھونڈا جو اسے صارب کے سائیڈ ڈرا پہ نظر آیا تھا وہ بنا چاپ اسکو اٹھانے کو جھکی تھی جبھی صارب نے اسکا ہاتھ گرفت میں لیتے اسے اپنے اوپر گرایا اسکا دوبٹہ سرکا تھا اور گیلے بال صارب کا چہرہ چھونے لگے صبح صبح کونسی جاسوسی کیلئے میرا موبائل اٹھایا جاریا تھا صارب کی بات پہ وہ بے چین ہواٹھی وہ کیوں بھلا اسکی جاسوسی کرتی اتنے غلط اندازوں پہ وہ تلملائی “میں ٹائم دیکھنا چاہ رہی تھی ” اس نے ابرو اچکائے صارب کو جیسے اس پہ یقین نہ آیا ہو انگلیاں اسکے گیلے بالوں میں پھنسائے وہ کوئی بات کیے بغیر اسے اپنی گرفت میں لینے لگا ریحاب نے خود اسکی گرفت سے چھڑایا مگر بے سود “آج تو تم نے یہ حرکت کی مگر آئیندہ میرے بازو کا حصار توڑنے کی کوشش کی نا تو میں تمہیں توڑ دونگا مسسز صارب روکھا لہجہ آنکھوں میں نیند کی وجہ سے سرخی بھری ریحاب کو جی جان سے جلا گیا تھا ” اسے خود سے دور کرتا وہ کروٹ بدل گیا وہ جو زینب سے شوہر کے حقوق وفرائض کے لیکچر لیتی تھی اپنے مجازی خدا کو خود سے ناراض ہوتا دیکھ پچھتائی اپنی حرکت پہ مگراسکی انا نے معافی طلب کرنے کی بھی گنجائش نہیں دی اپنی سوچوں کے تانے بانے بنتی وہ بھی سو چکی تھی

دوبارہ اسکی آنکھ اپنے منہ پہ پڑنے والے گیلے تولیے سے کھلی تھی جو صارب نے اسکو جگانے کو اچھالا تھا سامنے موجود نک سک سا تیار صارب اسکے دل کو دھڑکا گیا تھا دنیا کا ہیرو کئی لوگوں کا جس پہ کرش تھا وہ ریحاب کا تھا مگر اپنی صبح کی حرکت یاد آتے اک ملال نے اسے آگھیرا وہ یقیناً اس سے ناراض ہوچکا تھا نیچے چلو سب انتظار کررہے ہیں ریحاب اسکی آوز پہ متوجہ ہوئی کچھ دیر بعد وہ ریڈی سی اسکے ساتھ چل رہی تھی سر پہ دوبٹہ لے رکھا تھا مگر بال کھلے رکھے جس پہ صارب کا فوراً اعتراض آیا تھا کس کو نمائش کروانے ہیں اپنے بال کور کرو انہیں روم سے باہر کبھی مجھے کھلے نظر نا آئیں وہ اثبات میں سرہلاتی اسکے پیچھے چل پڑی تھی جبکہ صارب رات سے اسکی جی حضوری والی طبیعت دیکھ حیران تھا ایسے جیسے اسکے منہ میں زبان ہی نہ ہو ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *