Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid NovelR50613 Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 16)
Rate this Novel
Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 16)
Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid
رحمٰن ہاؤس کے سامنے ٹہرا وہ کب سے گیٹ پہ نظریں جمائے ہوئے تھے جب اسے مشعل۔کالج یونیفارم۔میں ملبوس نظر آتی اسکا دل دھڑکا گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمٰن صاحب کی طرف سے خلع کا نوٹیفیکشن اسے مل چکا تھا مگر وہ مشعل سے مل کے اک بار اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا ڈرائیور کے ساتھ بیٹھتی وہ روانہ ہوچکی تھی علی نے بھی گاڑی انکے برابر نکالتے گھر سے دور آتے ہی وہ اپنی گاڑی سامنےروکے انکا راستہ روک گیا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔
خان لالہ گاڑی سے باہر نکلے تھے مگر علی نے انہیں کہا وہ بس کچھ دیر مشعل سے بات کرنا چاہتا ہے انکی موجودگی میں ہی مشعل ان دونوں کی تکرار سے انجان خان بابا کو کسی اجنبی سے الجھتے دیکھ باہر آگئی تھی۔۔۔۔۔
کیا مسئلہ ہے آپکا مسٹر کیوں اسطرح ہمارا راستہ روکا ہے مشعل کی بات وہ مڑا تھا ۔۔۔۔۔۔
مشعل کو لگا اسکے اردگرد کے نظاروں کی گردش رک گئی ہے ۔۔۔
مشی میں وہ بے قرار انداز میں اسکی طرف بڑھا تھا مجھے معاف کردو ریحاب کے کہنے میں آکے تمہاری زندگی خراب کی مم مگر میں تم سے شچ میں بہت پیار کرتا ہوں پلیز اس نے مشی کا ہاتھ پکڑنا چاہا مگر نزدیک آنے پر مشی کا ہاتھ اٹھا تھا جو اسے اک لمحے کو ساکت کرگیا مگر جو کچھ وہ کرچکا تھا بھلا اس کا ریکشن تو کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔
مم مجھے معاف کردو مشی پلیز میں نے بہت غلط کیا مگر میرا یقین کرو میری محبت سچی تھی اسکا ہاتھ پکڑے گھٹنوں کے بل سڑک پہ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا آپ سے کوئی واسطہ نہیں مسٹر حیدر میں اپنی راہیں آپ سے الگ کرچکی ہوں اسلیئے آئیندہ میرا راستہ روکنے کی غلطی نہ کیجئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
مضبوط لہجہ وہ اسے کہیں سے اپنی نادان سی مشی نہیں لگی تھی مشی پلیز مجھے آخری موقع دے دو پلیز ۔۔۔۔۔
کیوں کس لیے دوں موقع تاکہ اک بار پھر سے میرے جزبات کا مزاق اڑا سکو ۔۔۔۔
اس نے علی کا گربیان پکڑا تھا مگر وہ تو جیسے اپنی انا عزت نفس سب اسکے قدموں میں نچھاور کرنے کو تیار بیٹھا تھا۔۔۔۔
صرف اک بار مشی میں سارے جہاں کی خوشیاں میں تمہیں لے کے سب سے دور چلا جاؤنگا مجھے خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ میں اپنے کیے کی سزا بھگت چکا ہوں ہمارے بچے کو گنوا کے وہ شخص جو چلتا تھا تو لگتا تھا دنیا کو تسخیر کرلے گا ہر چیز بھلائے بیچ راہ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
مشعل اسکی بات پہ چونکی تو وہ اس سے اتنا انجان نہیں تھا ۔۔۔۔۔
اک لمحے اسکی آنکھوں کے گرد باپ اور بھائی کا چہرہ گھوما لیکن دوسرے لمحے اس نے مضبوط لہجا اپنائے اس سے کہا۔۔
اچھا تو دیا موقع مسٹر علوی جاؤ شان سے دنیا کے سامنے اپنانے کا اقرار کرو موقع ہی چاہیئے نا مل گیا ۔۔۔۔
حاتم طائی کی قبر پہ۔لات مارنے جیسے انداز تھا آیا کسی ملکہ نے اسے بے تحاشا دولت سے نوازا ہو۔۔۔۔۔
علی حیدر کیلئے یہ دولت ہی تو تھی۔۔۔
مجھے منظور ہے مش تمہاری ہر شرط پلیز تم وہ نوٹس کرب بھرے لہجے میں کہتا وہ پھر سے آگے بڑھا تھا جبکہ وہ خود کو کمزور پڑتا دیکھ جلدی سے اس سے ہاتھ چھڑاتی بھاگتے قدموں سے گاڑی میں جا بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
خان لالہ گاڑی گھر کی طرف لے لیں مم میری طبیعت ٹھیک نہیں آنسو کو بےدردی سے صاف کرتی وہ بولی تھی۔۔۔۔۔۔
اور جو روتا ہے کمزور بنتا ہے یہ دنیا اسے مزید رولاتی ہے مگر مشی کو اب مضبوط بننا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت پچھتاؤ گے حیدر علوی تمہاری نسلیں نا اجاڑ دیں تو کہنا اور بے تحاشا محبت پہ نفرت کا جزبہ غالب آیا تھا۔۔۔۔۔







واپسی پہ مقررہ وقت پہ وہ اسے لینے کالج پہنچا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
منت تمہارا یہ کزن کتنا پنکچوئل ہے۔۔۔۔
مطلب۔۔۔۔
ارے دیکھو یار آن ٹائم تمہیں لینے آچکا ہے رابی ارحم سے کافی ایمپریس نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ دل۔میں سوچ رہی تھی کہ اس سے زیادہ ویلا بندہ شاید ہی کوئی ہو ۔۔۔۔
کیسا رہا دن گاڑی روٹ پہ ڈالتے ہی اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
اچھا ہی تھا جیسے گزرتا ہے اک لفظی جواب دیے وہ باہر کے مناظر میں گم ہونے لگی۔۔۔۔
آہم لگتا ہے جناب کا موڈ کچھ ٹھیک نہیں کیوں نا آئسکریم کھائی جائے منت حد درجہ حیران تھی بھلا یہ وہی ارحم ہے جسکا غضبناک چہرہ کئی بار وہ حویلی میں دیکھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے آئی۔ایم ٹئیرڈ اک بے نیاز سا جواب ارحم کے اندر سناٹا سا چھا گیا تھا ۔۔۔
اسے گھر پہ ڈراپ کرتے وہ گاڑی بھگا لے گیا تھا۔۔۔۔۔
•••••••••••••√••••••••••••
آپ تو کہتے تھے وہ مان جائے گی اک اداس نگاہ سامنے موجود شخص پہ ٹکائے وہ اداسی سے بیٹھا تھا جبکہ ان کے پرشفیق چہرے پہ اک مسکراہٹ آئی اسکی اتنی جلد بازی کو دیکھ کر۔۔۔۔۔۔
ان کو مسکراتا دیکھ وہ جی جان سے جلا تھا ٹھیک ہے آپ بھی اڑا لیں میرا مزاق میں اس سے اپنے طریقے سے نبٹوں گا وہ اٹھنے لگا جب انہوں نے اسکا شانہ دباتے اسے دوبارہ واپس بیٹھنے پہ مجبور کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم بابا پہلے ہی آپ اپنی جزباتیات میں بہت نقصان کرچکے ہیں عورت کو اللّٰہ۔تعالی نے ٹیڑھی پسلی سے پیدا کیا ہے جب تک تم سیدھے رہو گے وہ بھی سیدھی رہے گی ۔۔۔۔
پر وہ غلط سمجھتی ہے ان کی بات درمیان میں اچک کے بولا تھا اب وہ نوکرانی کو بھگا دیا کہ کہیں میں اسکے ساتھ لاحولہ اگلی بات بولتے اسکا دبا غصہ پھر نکلنے کو تھا ۔۔۔۔۔۔
صبر اور پیار سے بیٹا عورت ذات سے اگر پیار سے جان بھی مانگو گے تو دے دیگی مگر اسکا اعتبار تو جیت لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوں صبر کسی بچے کی طرح ان الفاظ کو دماغ میں بٹھائے پورا دن آوارہ گردی کے بعد گھر پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح وہ اپنے کمرے میں بند ملی اس کمرے کا کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔
ارحم مصطفی پرسوچ نگاہ اسکے کمرے سے ہوتی چھت کی طرف گئی اور کچھ دیر بعد پورے گھر کی لائٹ گم تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو پورے انہماک سے پڑھنے میں مصروف تھی لائٹ والوں کو سو صلواتیں سنائیں۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے گھر میں پراسرار خاموشی کا راج تھا دور کہیں کتوں کے اونگنے کی آوازیں ماحول کی ہولناکی میں مزید اضافہ ہوا تھا تبھی کچن میں کچھ گرنے کی آواز آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور منت اسوقت کو کوسنے لگی جب اس نے فل ٹائم موجود ملازمہ کو بھگایا تھا آنکھوں میں آنسو بھرے ارحم کو کال ملائی اور تبھی اسکے روم کے دروازے پہ موجود ارحم کے ہاتھ میں موبائل بج اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا آ ارحم بے بس آواز پہ اس نے خود کو سولعنتیں بھیجیں مگر اسکے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا اسکے پاس کیونکہ وہ ٹیڑھی پسلی اسے اپنے سامنے جھکتی نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔
ہاں من میں دروازے پہ موجود ہوں کھولو موبائل کی روشنی میں فوراً دروازے پہ پہنچی اسکے گلے لگتے زور زور سے رونا شروع کردیا اور ارحم کو اپنا مشن کامیاب ہوتا دیکھ بہت خوشی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائٹ کب سے نہیں تم مجھے پہلے کال کردیتی یہ تو میں اچانک آگیا اسکے گرد مضبوط بازو کا گھیرا بنائے بولا تھا۔۔۔۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا وہ کچن بلی آنسو سے گلہ تر ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
میں ہوں نا اب ڈرنے کی کیا بات ۔۔۔۔۔۔
آج پہلی بار وہ خود سے اسکے قریب آئی تھی چاہے جس سچویشن میں ہی سہی۔۔۔۔
کھانا کھایا تم نے اسی پوزیشن میں ٹہرے وہ اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
نہ نہیں بات بھول گئی اسکی بات پہ ارحم حیران ہوا تھا شاید وہ دنیا کی پہلی لڑکی تھی جسکو کھانا بھولا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ منت اسے یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کے اسے کھانا بنانا ہی نہیں آتا اور انتظار میں تھی کب وہ کچھ لے کے آئے بہرحال صبح بھی تو اسکیلئے ناشتہ ریڈی کیا تھا اس نے ۔۔۔۔
چلو آؤ میں لے آیا ہوں اکھٹے کھانا کھاتے اسے لیے وہ کچن میں آیا برتن رکھے سائیڈ پہ موم بتی جلائے مکمل کینڈل لائٹ ڈنر کا ارینج کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منت اب تک ڈر کی کیفیت میں تھی چلو شروع کرو یا کھانا بھی بھول چکی ہو تو سوری میں نہں کھلا سکتا کیونکہ مجھے خو کو بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔
اک لطیف سا طنز ہوا تھا وہ چپ چاپ سرجھکائے کھانا کھانے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے سے فارغ ہوتے ارحم نیند آنے کا پوز کرتے کچن سے نکلنے لگا جبکہ منت کی جان اٹکی تھی اتنے اندھیرے میں ۔۔۔۔۔۔
کہاں سونا اپنے روم میں اکیلے تو پھر تم ڈرو گی مدھم روشنی میں اسکے تاثرات کا جائزہ لیا تھا۔۔۔۔۔۔
تم آئی مین آپ گیسٹ روم کا ڈور اوپن کرکے سو جائیں میں یہی سامنے ڈرائنگ روم۔میں سوجاؤنگی روم۔میں مجھے ڈر لگے گا ۔۔۔۔۔
وہ جو اسکے پکارنے پہ خوشفہم ہوا تھا اگلی بات سن آگ بگولہ ہوتا گیسٹ روم میں بند ہوکے زور سے دروازہ بند کیا۔۔۔۔۔۔۔
کب بدلا تھا وہ شخص آج بھی وہ اسکے معاملے بےرحم تھا آنسو کی برسات ہوئی تھی مگر اس وقت اتنی تسلی کافی تھی کہ وہ اس گھر میں موجود ہے پڑھائی کا تو اب سوال پیدا نہیں ہوتا تھا لہذا وہ ادھر صوفے پہ ایڈجیسٹ ہوتی سونے لگی جبکہ اندر ارحم مسلسل غصے میں کھول رہا تھا۔۔۔۔۔۔
حد ہوگئی ایسی بھی کیا ڈھٹائی باوجود کوشش کے برداشت نہیں ہوا اسکا اگنور کرنا تو باہر آیا تھا ۔۔۔۔۔۔
من اندر آکے سوجاؤ رات میں تمہیں ڈر لگے گا۔۔۔۔۔
خوش اخلاقی کے ریکارڈ توڑتے بولا تھا۔۔۔۔۔
اٹس اوکے میں یہی صیح ہوں اندر سونے کا مطلب کا تھا آبیل مجھے مار دل میں سرگوشی کی ۔۔۔۔۔۔
تمہیں اک بار کا کہا سمجھ نہیں آرہا کہا جو ہے تمہیں نیند نہیں آئے گی اب انداز ذرا سخت تھا کھا نہیں جاؤنگا تمہیں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کے کوئی بحث کیے بغیر وہ گیسٹ روم میں آگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو فائنلی ارحم۔مصطفٰی اسکی ضد توڑنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ من کل سے دوبارہ ملازمہ کو اپنے ساتھ ٹہرانے کا سوچنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا پوری رات مراقبے کی حالت میں گزارنی ہے بیڈ کے پاس رکے دیکھ وہ بولا تھا۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں کیا مسئلہ ہے ارحم تمہارا بس چلے تو گود میں اٹھا کے سلا دو سو جاؤنگی جب نیند آئی گی توبہ ہے اپنے گھر میں ہی مرضی کی اجازت نہیں اندھیرے میں اس پہ تیر چلائے مگر نظر آتے تو نا اور پھر کچھ ہی لمحے بعد اندازہ ہوا غلط وقت پہ غلط بات کرچکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جبھی ارحم۔نے اسے اپنی گرفت میں جکڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا گھر یہ نہیں ہے من اور کس بات پہ اتنا بل کھا رہی ہو تمہارے سکون کو ہی تو بولا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو! بات ہاتھ چھوے بغیر بھی تو ہوسکتی اسکی گرفت سے خود کو چھڑایا تھا جبکہ اسکی بے رخی کا انداز ارحم کو مزید اکسا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتا ہے من میں نے تمہیں کچھ زیادہ ڈھیل دے دی ہے آئیندہ سے روم لاک نظر آیا میں دروازہ توڑ دونگا میں ان احمق مردوں میں سے نہیں جو کنوے کے پاس رہ کے پیاسے مرجائیں ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اپنے حق کیلئے ہاتھ پاؤں چلانے اچھے سے آتے ہیں سرگوشیانہ انداز منت کی جان نکالنے کو تھا تبھی اسکو اپنی گردن پہ پرحدت لمس محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
دوبٹے کو سرکتا محسوس کر اپنے دوبٹے پہ گرفت محسوس کی تھی ارحم اندھیرے میں بھی اسکا کانشئیس انداز دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔۔
ہاتھ پاؤں ہی تو چلانے آتے اور آتا ہے کیا آپکو۔۔۔۔۔
آہاں تو مسسز ارحم مصطفی جب آپ کو سب پتا تو یہ تغافل کیوں اسے مزید خود میں سمویا تھا جبکہ اسکی شدتوں سے وہ پریشان ہواٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔
پیاسے لبوں کی پیاس تھی کہ اسکا اک اک نقش چھوتے طلب اور بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
تمہاری ہر سرکشی سر آنکھوں پہ مگر میرے پاس آنے پہ مجھے جھٹکنے کی کوشش بھی مت کرنا من وارن کرتا انداز منت تو جیسے ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔۔
غلام نہیں ہوں آپکی چھوڑیں مجھے خود کو چھڑوانے کی کوشش میں اس نے ارحم کے بازو میں اپنے دانت گاڑ دیے جبکہ وہ درد کی شدت سے بلبلایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی حرکت اسے بری طرح غصہ دلا گئی تھی چٹاخ کی آواز کمرے میں گونجی اسکے بات ہر طرف سناٹا چھاگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔








زہرہ کی بات سن کے اسکے قدم زمیں میں جکڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔
بدلہ پورا ہوچکا ہے نا اب اسکو آزاد کر دو تاکہ ہم بھی اپنے بھائی کے سر سہرا سجا دیکھ سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایگزیکٹلی کمرے میں داخل ہوتی آواز پہ دونوں چونکے تھے۔۔۔۔۔ ۔۔۔
رابی جس نے زہرہ کی آخری بات سنی تھی خوشی سے چلائی تھی اور میں نے بھابی بھی ڈھونڈ لی ہے شرارتی انداز میں صارب کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
بلکل بھیا کی پسند آئیڈیل لڑکی اپنے ہاتھ میں موجود موبائل زہرہ کے آگے کیا وہ جو اشتیاق بھری نگاہوں سے اسکا موبائل دیکھ رہی تھی غصے سے اسےگھورا کیا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔
لڑکی رابی نے حیرت سے اسے کہا جیسے اسکی بینائی کے جانے کا خطرہ لگا ہو بھلا اسے کیوں نہ نظر آئی۔۔۔۔
یہ نقاب پوش زہرہ نے لفظ چباتے اسے کہا تھا اور ان دونوں کی باتیں سنتا وہ کمرے سے جانے کا سوچنے لگا۔۔۔۔
او ہو میری فرینڈ منت خیام اف زہرہ وہ اتنی پیاری ہے کیا بتاؤں دیکھنا وہ ہمارے گھر آجائے تو گھر جگمگا اٹھے۔۔۔۔
انسانوں والی تصویر دکھاؤ ۔۔۔۔۔۔
زہرہ نے آنکھیں دکھائی۔۔۔
ہائے اللّٰہ زہرہ رابی نے صدمے بھری ڈوبی آواز میں کہا جبکہ صارب بھی اسکی نوٹنکی دیکھ مسکرایا تھا ۔ ۔۔۔۔
آ اچھا دکھاتی ہوں جلدی سے منت کی تصویر آگےکی ۔۔۔
واہ رابی پہلی بار کوئی ڈھنگ کی دوست بنائی ہے۔۔۔۔
ہیں نا دیکھ لو بھیا جلدی سے آپ پسند کرلو پھر ہم باقاعدہ رشتہ لے جائیں گے رابی اسکی جانب بڑھی ۔۔۔
صارب کو اپنی دھڑکن بند ہوتی سنائی دی تھی تو کیا وہ ریحاب کی جگہ کسی اور کو دے دیگا مگر اسکی گنجائش تھی کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب جب مشعل کا کا ناطہ علی سے ٹوٹ چکا تھا اور سندس علوی وہ بھلا کیسے اپنے ماضی کی دردناک یاد کو پھر سے تازہ کرسکتا تھا جو اہم رشتے میں بندھی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اک نظر رابی کی کھولی تصویر پہ ڈالی سامنے موجود لڑکی واقعی بہت خوبصورت تھی مگر اس دل کا کیا۔۔۔۔۔
کیسی لگی بھیا ۔۔۔
اچھی پر ۔۔۔۔
ہرے تو ڈن ہم کل ہی منت کے گھر جائیں گے کل کیوں آج شام کو ہی میں اسے کال کرکے ابھی ایڈرس لے کے آتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
تو تمہیں صارب رحمٰن کی زندگی سے جانا ہی ہوگا ریحاب علوی اپنی شور برپا کرتی سانسوں کو متوازن کیا۔۔۔۔۔
منت کو اپنے آنے کا انفارم کیا وہ بھی بہت خوش تھی پہلی بار اسکی کوئی دوست اسکے گھر آرہی تھی مگر اسکی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی تھی جب ارحم کے سامنے سدا کی جلد باز رابی نے اپنی ڈیمانڈ رکھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







چمک اُٹھتا ھے سرِ شام ، تیری یاد کا چاند…
کبھی تاریک نہ دیکھی ، شبِ فُرقت میں نے…
ریحاب بیٹا تمہارے بابا چاہتے ہیں کہ اب ہم علی اور تمہارے فرض سے بھی سبکدوش ہوجائیں۔۔۔۔
مما کی بات پہ اس نے خالی خولی نگاہ ان پہ ڈالی مما اتنی جلدی کیا ہے آپ پہلے علی کی کردیں۔۔۔۔۔۔
ارے بھائی تم۔دونوں کی پیدائش پہ ہم نے سوچ لیا تھا کہ اک ہی گھر میں اک ہی دن بیاہ کروگی تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور انکی بات سنتی ریحاب چونکی انکی بات سچ تو ہوچکی تھی پھر۔۔۔۔۔۔
شام میں ریڈی رہنا تمہارے بابا کے دوست اپنی فیملی ساتھ آرہے ہیں ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ تم ان لوگوں کو پسند آجاؤ تو ہم بات آگے بڑھائیں ۔۔۔۔۔
بات تو آگے بڑھنی ہی تھی جتنی خاموشی صارب نے اختیار کرلی تھی اب تو لگتا تھا اسکی ضد بھی ختم ہوگئی اک ٹھنڈی سانس بھرتی خود کو وقت کی بدلتی کروٹ پہ چھوڑ دیا اب اس نے صابرین میں سے ہونا تھا جنت میں گھر بنانا تھا کوئی نئی چال چل کےوہ پھر سے متکبر نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گویا آساں نہیں، کر جائیں گے
جیتے جی ہم بھی سدھر جائیں گے
کون مانے گا مگر کہتا ہوں
دل ہیں کم ظرف یہ بھر جائیں گے
جو بجھاتے ہیں چراغِ محفل
خود اندھیروں میں اتر جائیں گے
جانے والوں سے محبت کر کے
جینے والے یہ کدھر جائیں گے
لوگ آرام کو گھر جاتے ہیں
ہم کسی کام سے گھر جائیں گے
ایک دن یہ بھی تماشا ہو گا
یوں ہی چپ چاپ گزر جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔
موبائل کی بجتی رنگ نے اسے متوجہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئی نیڈ یور فائنل ڈسیژن بی ود می۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صارب کا مبہم مسیج اسے چونکا گیا تھا تو کیا فیصلے کی گھڑی آن پہچی تھی ۔۔۔
کسی نہ کسی دن تو اس راز سے پردہ اٹھانا ہی تھا ۔۔۔۔
اور پھر مہمانوں کی آمد سے پہلے اک طوفان آیا تھا شاہد علوی کبھی بھی سندس علوی کی سوتن کی بیٹی کو اس گھر میں جگہ دینے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔۔۔
اک نئی حقیقت نیا انکشاف وہاں موجود سب کو دنگ کرگیا تھا ۔۔۔۔۔۔
زویا جو آج تک یہ سمجھتی رہی کہ اسکا باپ مرچکا ہے وہ اندھیروں کے سفر سے روشنی میں آئی تھی۔۔۔۔۔۔
علی کا دل اپنی راہ کے مزید کٹھن ہونے پہ خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔۔
اور ریحاب اسکو تو اپنی منزل کا ہی پتا نہیں تھا اسکا وجود مکمل اندھیروں میں ڈوبا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہی۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں اپنے نام اپنی جائیداد سے بے دخل کردونگا علی۔۔۔۔۔۔۔
مجھے آپکا فیصلہ منظور ہے بغیر کوئی توقف اس نے فیصلہ سنایا تھا۔۔۔۔
ریحاب نے چٹانوں کے جیسی مضبوطی لیے شخص کو دیکھا تو کیا محبت اتنی طاقتور ہے جو اپنوں کے خلاف جانے کو تیار تھا وہ۔۔۔۔
علی وہ ریحاب نے اپنا فیصلہ سنا کے جاتے علی کو روکنا چاہا۔۔۔۔
جانتی ہو ، محبت کو کیسا پایا میں نے ۔۔۔۔
دنیا کی ساری خوشیاں جمع کر لیں.۔۔۔۔
ساری راحتیں جمع کر لیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری رونقیں جمع کر لیں۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت پھر بھی بھاری ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت پھر بھی امر ہے ۔۔۔۔۔۔۔







میں ریحاب علوی سے نکاح کرچکا ہوں بابا اور علوی خاندان سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کیلئے آپ اسے رخصت کروا کے یہاں لائیں گے میں نے زندگی میں آپ سے کچھ نہیں مانگا امید ہے آپ مجھے خالی ہاتھ نہیں لوٹائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تو وہ پہلے جھٹکے سے نہیں سنبھلے تھے جب ریحاب بنت شاہد علوی کا نکاح نامہ صارب رحمٰن کے ساتھ آن وارد ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم۔صارب انکی آواز میں لعرزش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور مشعل جو چاہ رہی تھی کہ آج کے واقعے بارے گھر میں کسی کو بتائے یا نا خاموشی اختیار کرگئی ۔۔۔۔۔۔۔
تو علی حیدر تم بھی مکافات عمل سے گزرو گے اتنے عرصے بعد اسکے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی اس کے بھائی نے سب کچھ اسکی خاطر تو کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندس علوی زویا کی زبانی تمام حالات سن کے چپکے بیٹھی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔
مجھے کیوں سب سے انجان رکھا مما میں رشتوں کے ہوتے بھی انکیلئے ترسی اور وہ صارب مما وہ آپ جانتی ہیں اتنا بڑا سنگر ہے وہ اور مما۔۔۔۔۔
چپ کرجاؤں زویا کس شخص سے امیدیں باندھ رہی وہ جو سرے سے تمہارے وجود سے انکاری ہے۔۔۔۔۔۔
وہ شخص جو تمہیں ناجائز کہتا ہے۔۔۔۔۔
سندس کی چپ ٹوٹی تھی تو زویا کی زات بھی کھنڈر زدہ عمارت بن گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
