Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 13)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

آندھیوں نے توڑ دی ہیں درختوں کی ٹہنیاں..

کیسے کٹے گی رات ،پرندے اُداس بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

مشعل کے آگے حیدر کی محبتوں بھرے لمحے کسی فلم کی طرح گھوم رہے تھے کیا کوئی اتنی آسانی سے کسی کی زندگی سے کھیل سکتا ہے آنکھیں بند کیے اسکے لمس کی گرمی محسوس کی تھی۔۔۔۔

دور کہیں اک آواز گونجی تھی “وعدہ کرو مشی تم کبھی مجھے نہیں چھوڑو گی” اک بےنام آنسو اپنی کم مائیگی احساس پاتے اسکی آنکھوں سے نکلتے ہونٹوں کا سفر کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔

وعدے لینے والا خود ہی کائر نکلا تھا فریب کار۔۔۔۔۔

مگر نہیں شاید۔۔۔۔۔

اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی وہ اس بات پہ یقین نہیں کرسکی تھی کے حیدر نے اسے دھوکا دیا ہے۔۔۔

اک لمحے کو اسکی محبت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا اور شاید حیدر نے بھی کئی بار اپنے کردار کی مضبوطی دکھائی تھی وہ خود ہی پکے پکائے پھل کی طرح اسکی جھولی میں جاگری تھی بے چین ہوتی اٹھ کے بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔

بیشک سب نے اس پہ یقین کرلیا تھا مگر یہ معاشرہ کبھی بھی اسکے بچے اور اسکو قبول نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔

وہ جو ابھی تک اپنی گڑیاں سنبھالے بیٹھی تھی اتنی جلدی وقت کی ظالم روش نے اسے بہت کچھ سکھا دیا تھا جس میں سرفرہست کبھی کسی کا اعتبار نہ کرنا تھا۔۔۔۔

اپنی طبیعت سے گھبرا کے وہ رابی کے روم کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

اج روح دا سودا کر آیا کل ویچے گا ساہ میرے تو

تیرے نال کیدا گلہ میں کراں بےشرمہ بے پرواہ توں

ہائے ایدا دا ہوندا دس مینوں کاروبار کیتھے آ

جتھے جا کے توں وکیا او بازار کیتھے آ

میرے جزبتاں دا ہویا دس دے ویپار کیتھا آ

رابی کے روم میں لاؤڈ بجتے گانے کے بول اسے اپنے جزبات کی ترجمانی کرتے لگے تھے آگے بڑھ کے اس نے سوئچ نکال دیا تھا ۔۔۔۔

کیا مسئلہ ہے خود تو آل ٹائم دکھی آتما بن کے گھومتی ہو اور دوسروں کو بھی اپنی بدروحوں والی شکل دکھا کے خواہ مخواہ موڈ خراب کرتی رابی بنا لحاظ کے اسے شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔۔

مشعل اپنے امڈ آنے والے آنسو روک نہیں پائی تھی ۔۔۔

اف کیا تکلیف ہے اب اسکے آنسو دیکھ فوراً اسکا دل موم ہوا تھا رابی مشعل بھرائی ہوئی آواز میں کہتی اسکے گلے لگی تھی۔۔۔

کیا ہوا مشی مما نے کچھ کہا اس کے آنسو صاف کرتے وہ بولی تھی اس نے نفی میں سر ہلایا، صارب بھیا نے پھر نفی میں سر ہلا زہرہ نے پاپا اف کیا مسئلہ مشی بتاؤ مجھے کیوں ٹینشن دے رہی ہو تمہیں پتا ہے نا میں نے اناٹومی کا کل پیپر دینا ہے پہلے دکھی سونگ سن کے اپنے غم دور کررہی تھی اوپر سے تم ۔۔۔

اسے آنکھیں دکھاتے وہ نان سٹاپ شروع تھی مشعل کا کوئی رسپونس نہ دیکھ وہ مزید ہائیپر ہوئی تھی ۔۔۔

اچھا بتاؤ کیا ہوا ہے وہ اسے لے کے اپنے بستر پہ آ بیٹھی تھی رابی وہ۔۔۔۔

مم مجھے لگتا حیدر کسی مشکل میں ہیں ورنہ وہ ایسے نہیں ممجھے بہت یاد آرہی انکی رابی کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے ۔۔۔۔

لو جی جسکی وجہ سے پورا شہر غرق ہوا پڑا اسکی سوئی وہیں اٹکی ہوئی سچ میں مشی تمہیں ایسا لگتا تمہاری اسی انوسنسی کو اس نے کیش کیا ہے۔۔۔۔

توبہ میں بھی کس دیوار سے ماتھا پھوڑ رہی ہوں رابی نے مشکل سے خود پہ کنٹرول رکھا تھا۔۔۔۔

اسکی اتنی باتیں سنکے وہ اسکے کمرے سے چلی گئی تھی۔۔۔۔۔

یااللّٰہ توں ہی رحم کردے اس لڑکی سے تو کبھی اچھائی کی امید نہیں۔۔۔۔۔۔۔

یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ

ہم زمیں زاد نہ ہوتے ، تو ستارے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

منت نے اپنے سامنے ایسادہ شخص کو دیکھا پہلے تو وہ کچھ سمجھ نہیں پائی تھی پر دوسرے ہی لمحے وہ اسکے سینے سی لگی بے تحاشا رودی تھی۔۔۔۔۔۔

دونوں لڑکوں نے سامنے ٹہرے ارحم کو دیکھا تو وہ پیچھے کو ہی بھاگ گئے تھے۔۔۔۔۔۔

من دھیمے سروں میں اسے مخاطب کیا وہ نہیں چاہتا تھا اسکے غصے سے وہ مزید سہمے۔۔۔

من دوسری بار بھی پکار پہ کوئی رسپانس نا پا کے اس الگ کیا مگر وہ بے جان مورت کی طرح اسکے بازو میں لڑھک گئی تھی یقیناً خوف اور دہشت وجہ سے وہ بے ہوش ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

اسے احتیاط سے پچھلی سیٹ پہ لٹا کے وہ اسے قریبی کیلنک لایا تھا ۔۔۔۔۔۔

گھبرانے کی بات نہیں شاید کسی چیز کی دہشت کی وجہ سے یہ بے ہوش ہوئی ہیں ڈاکٹر نے اسے تسلی تھی اور جلد ہی وہ ہوش میں آگئی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ بنا اسے کچھے کہے پوچھے گھر لے آیا تھا وہ ابھی بھی غنودگی کی حالت میں تھی ارحم نے کل وقتی رکھی گئی ملازمہ کی مدد سے اسے روم میں پہنچایا تھا۔۔۔۔

ارحم پپ پلیز میرے پاس رہیں وہ شاید ابھی تک ڈر کے حصار میں تھی ارحم چپ چاپ اسکے برابر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔

یہ محظ خواب نہیں تھا اسکا وجدان منت کو لے کے اتنا مضبوط ہوچکا تھا کہ آدھی رات کو اسکیلئے وہاں پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔

اگر ارحم نہ آتا تو ۔۔۔اس معنی خیز تو نے منت کو لرزا کے رکھ دیا تھا وہ بے اختیار ہی اسکے مضبوط بازو کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھامتے اسکے قریب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اسکا خوف ارحم پہ وحشت طاری کررہا تھا آنکھوں کے گرد بار بار ان لڑکوں کے چہرے گھوم رہے تھے۔۔۔۔۔۔

اس نے منت کے لباس پے غور کیا یقیناً وہ کسی پارٹی میں گئی تھی مگر رات کے اس پہر اکیلی کیوں اور اسکی گاڑی بہت سے ادھورے سوال اسکے زہن میں پیدا ہوئے تھے مگر منت کی حالت دیکھتے وہ اس نے ہر چیز پس پشت ڈال دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوتے میں ہی منت اسکے بہت قریب آگئی تھی جبکہ اسکی آنکھوں سے تو نیند جیسے روٹھ گئی تھی بار بار منت کا حواس باختہ چہرہ سامنے آرہا تھا اگر میں نہ پہنچتا تو وہ درندے یقناً اسے نوچ کھاتے نیند میں لی گئی سسکاری اسکی جان پہ بن گئی تھی ۔۔۔۔

من کیا ہوا کہیں درد ہورہا بے چین آواز پہ اس نے آنکھیں بند کیے ہی اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔

پاؤں میں شاید چچ چوٹ لگی ہے ۔۔۔

بے بس لہجہ وہ فوراً اٹھ کے اسکے پاؤں دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔

پاؤں واقعی زخمی تھے کوئی نوکیلا پتھر لگا تھا جو ناخن اسکے اکھڑا تھا اور خون بہہ بہہ کے جم چکا تھا۔۔۔۔۔۔

ارحم کو لگ رہا تھا شاید یہ رات اسکی طویل آزمائش کی رات تھی۔۔۔۔۔

میں انہیں مار ڈالوں گا مجھے بتاؤ من کون تھے وہ مٹھیاں بھیجے اسے کے پاس آیا تھا۔۔۔۔

منت کی اسکے آنکھوں میں پینپتے انتقام۔کے جزبے دیکھ کے سہم گئی تھی جبھی وہ اٹھتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑے اپنے ساتھ بیٹھانے لگی تھی۔۔۔۔

غلطی میری ہے ارحم مجھے لیٹ نائٹ کالج فنکشن میں اکیلے نہیں جانا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔۔۔

روتے ہوئے وہ اسے پورا واقعہ سنانے لگی تھی ۔۔۔

کالج سے واپسی پہ اسکی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا تھا اور وہ اکیلی ٹائر نہیں بدل سکتی اسلئے پاس سے گزرتے لڑکوں سے ہیلپ لینی چاہی جو الٹا اسکو مصیبت کا شکار کرگئی تھی اور بھاگتے ہوئے وہ کہاں گری کہاں چوٹ لگی کوئی ہوش نہ تھا یاد تھا تو صرف اتنا کے اسے اپنی عزت بچانی ہے روتے ہوئے وہ پھر سے ارحم سے لپٹی تھی۔۔۔

اٹس اوکے من بس آئیندہ سے رات میں سفر کا سوچنا بھی مت ناچاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ درشت ہوا تھا۔۔۔۔

فرسٹ ایڈ باکس کہاں ہے اس سے پوچھتا اسکے زخم پہ مرحم لگانے لگا تھا پین کلر دی تھی۔۔۔

مجھے چائے پیبی ہے اک نئی فرمائش پہ ارحم کلبلایا تھا بھلا وہ کب ان کاموں سے واقف تھا مگر اسوقت تیمادار تھا سو اسکی بات ماننا بنتا تھا۔۔۔۔

پندرہ منٹ بعد وہ چائے کے نام کڑوا کسیلا کپ اسکے سامنے لایا تھا۔۔۔۔

منت کو پہلے ہی گھونٹ پہ اندازہ ہوگیا تھا اس کام میں ارحم زیرو ہے مگر وہ اسکا دل رکھنے کو ہاف کپ پی گئی تھی۔۔۔۔

مجھے نیند آرہی ہے کپ رکھتے فوراً سے لیٹنے لگی تھی ارحم بھی لائٹ آف کرتا اسکے برابر آلیٹا تھا۔۔۔۔

ارحم آپ مجھ سے ناراض تو نہیں آئی مین۔۔۔

کمرے میں نائٹ بلب کی ہلکی روشنی میں ارحم نے اسے دیکھا وہ بھلا کیا بتاتا کہ کس کس بات پہ وہ اس سے ناراض تھا مگر بنا کچھ کہے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا تھا منت کو رہ رہ کے خود پہ غصہ آرہا تھا جو وہ اک مغرور شخص کے سامنے بری طرح سے ہار رہی تھی۔۔۔۔

اپنی اپنی سوچوں میں گم وہ دونوں نیند کی آغوش میں جا سوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

تیرے دل سے جو اتر جائیں گے

اپنے ہونے سے مکر جائیں گے

اب قفس کا یہ تکلف کیسا

اُڑ بھی جائیں تو کدھر جائیں گے

آنکھ دیکھے ہے ہزاروں رستے

ہم سے اندھے، اسی در جائیں گے

ہم کو معلوم، ہے یہ لا حاصل

پھر بھی تا حدِ نظر جائیں گے

ہم کنارے پہ اتر بھی جائیں

ساتھ پاؤں کے بھنور جائیں گے

ٹوٹ کر اور ہوئے ہم مضبوط

خوف یہ تھا کہ بکھر جائیں گے

عمر بھر وہم یہ دل سے نہ گیا

ایک دن ہم بھی سنور جائیں گے

جو کٹی جیسی کٹی ،خیر ، مگر

یوں ہی کیا ساری بسر جائیں گے

بعد مدت کے ملے ، شرمندہ

دعویٰ دونوں کا تھا مر جائیں گے

دھوپ نکلی تو بھرم ٹوٹ گیا

ہم جدھر جائیں شجر جائیں گے

کتنے خوش فہم ہیں شاعر ، ابرک

ہم ہی ہم ہوں گے جدھر جائیں گے

صارب چاہتا تو اپنے سامنے پڑے شواہد جا کے سیلمان اور شاہد علوی کے منہ پہ دے مارتا لیکن اس نے ریحاب کی بازی اسی پہ الٹنے کا سوچا تھا اس سب میں علی حیدر اسے سوائے اک مہرے کے کچھ نہیں لگا تھا اس لیے اس نے شطرنج کی ملکہ کو مات دینے کا سوچا تھا ۔۔۔۔۔۔

علی اور ریحاب کے پاکستان سے آنے جانے اور اسکے علاوہ ریحاب علوی کی مستقل صارب کے ساتھ ساتھ ہر جگہ کا سفر انکی ڈیٹیل اسکے سامنے تھی۔۔۔۔۔

وہ ہمیشہ اسکے آس پاس رہی تھی کتنی بار اسکا دل ایسے نہیں دھڑکا تھا مگر اسکے مقاصد جان اسے بہت غصہ آرہا تھا۔۔۔۔۔

مگر اتنی نفرت کی پیشھے کی وجہ سے وہ اب بھی لاعلم۔تھا۔۔۔۔۔۔

تبھی اسکا پہلا پتا ہی کامیاب ٹہرا تھا بنا کچھ سوچے سمجھے وہ گھر سے نکل پڑی تھی اور اب صارب پوری شطرنج میں ملکہ کو اپنی انگیلوں کے پھیر سے گھمانے لگا تھا۔۔۔۔۔۔

علی از آرائیوڈ۔۔۔۔۔

ریحاب جانتی تھی کہ یہ مسیج کیوں آیا تھا سوائے اس شخص کو اسے ٹارچر کرنے کے اور کوئی کام نہیں تھا۔۔۔۔۔۔

مسسز صارب۔۔۔۔۔۔۔

پھر سے مسیج نہیں میں خود کو اتنے لوگوں کے سامنے زلیل نہیں کرسکتی اور بابا نو کبھی تم سے معافی نہیں مانگیں گے خود سے باتیں کرتے اس نے موبائل آف کردیا اور زخمی شیر کی پونچھ پہ پاؤں رکھ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ غلط کرنے کا احساس اسے کچوکے لگائے جارہا تھا کتنا بزدل انسان تھا وہ اک لڑکی سے جائز رشتہ قائم کرنے کے بعد اسے ایسے بے آسرا چھوڑنا اک نظر مطمئن بیٹھی ریحاب ڈالی کیسے اس نے علی کی ذات کو طوفانوں کے سپرد کرکے بھول چکی تھی۔۔۔۔۔

ہاں بھائی زویا کو لے کے ٹائم سے روانہ ہو تم ریحاب بچے پھوپھو کی بات پہ اس نے اک بیزار نگاہ سب پہ ڈالی آپ اسے کسی اور ساتھ بھیج دیں سست روی سے کہتے وہ اٹھ گئی تھی۔۔۔

میں چھوڑ آتا ہوں پھوپھو آپ کسی اور کو بھی ریڈی کرلیں کہتے علی کھڑا ہوا تھا زویا کو پارلر پہ چھوڑنے کے بعد وہ کالج کی طرف روانہ ہوا تھا پورا دن گزارنے کے بعد وہ نہیں نکلی تھی شاید نہیں آئی آج وہ۔۔۔۔۔

خالی دل۔لیے واپس ہوا تھا۔۔۔۔۔

میرج ہال میں کب سے دلہن کا انتظار ہورہا تھا مگر دلہن تھی کے آئے نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔

بابا میں دو چکر لگا آیا ہوں مگر پارلر والوں کا یہی کہنا ہے کہ علی حیدر نامی شخص اسے وہاں سے لے گیا ہے جبکہ میں نے انہیں یقین دلانے کی بھی کوشش تھی مگر اس کی بات نے سب کو پریشانی میں ڈال دیا تھا ۔۔۔۔

ہنہ ہوگا بیٹی کا بھی چکر ماں کی طرح ہمیں الو بنارہی تھیں دونوں مل کے مسسز علوی کی بات سندس علوی کا دل بیٹھا تھا۔۔۔

بھابھی میری معصوم بیٹی پہ اتنی بڑی تہمت مت لگائیں….

ارے واہ معصوم جسکے باپ نے اسے بیٹی ہی ماننے سے انکار کر دیا تھا آج تو جیسے مسسز علوی ہر راز سے پردہ اٹھانے پہ تلی تھیں۔۔۔۔۔

چپ ہو جائیں کچھ اندازہ ہے کیا بولے جارہی ہیں آپ زویا ہمیں ریحاب کے جتنی پیاری ہے اگر خدانخواستہ یہ سب اسکے ساتھ ہوتا تب بھی آپ ایسے کرتیں شاہد علوی نے دبے دبے لہجے میں انہیں تنبہیہ کے لو جی میری بیٹی کے ساتھ کیوں ہونے لگا ایسا وہ تو رحمٰن کی ہی قسمت خراب جو ہر بیٹی کے انجام۔دیکھتا تنفر سے کہتی انہیں وہیں چھوڑ کے چلی گئیں تھیں ۔۔۔۔

بابا یہ رحمٰن کون علی نے دل کا چور دبائے اس سے پوچھا ۔۔۔

کچھ نہیں تم لوگ زویا کو ڈھونڈو اور ریحاب کا دل۔گواہی دے رہا تھا اس سب کے پیچھے یقیناً صارب کا ہاتھ تھا۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

زویا کہاں ہے صارب دبی دبی آواز میں وہ اس پہ چیخی تھی۔۔۔۔۔

جہاں اسے ہونا چاہیئے ۔۔۔

کیوں کررہے تم اتنا کچھ کرکے تم مطمئن نہی ہو اسکا اس قصے میں کوئی قصور نہیں ہے پلیز بے بسی اسکے لہجے سے عیاں تھی۔۔۔۔۔

میری ڈیلنگ تم بھول گئی مسسز ۔…..

مم میں بات کروگی پلیز آج تم ایسے ہمیں لوگوں سامنے رسوا نہ کرو بےبسی سے کہتی وہ صارب کی منت کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے تو آ کے لے جاؤ اسے ایڈریس بھیج رہا ہوں۔۔۔

نہ نہیں صارب تم پھر سے مجھے ٹریپ کررہے ہو ۔۔۔

آہاں سیانی ہوگئیں مسسز۔۔۔۔۔۔

چلو ٹھیک ہے اک ڈیل کرتے ہیں تم میرے پاس اور زویا میرج ہال شطرنج کا آک خانہ خالی ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

ریحاب اسکی ضد سے اچھے سے واقف تھی پہلے کونسا اس نے سکون دیا تھا جو بحث میں وقت ضائع کرتی ۔۔۔

مجھے ڈیلنگ منظور ہے۔۔۔۔

اور جیسے ہی وہ صارب کے فلیٹ پہنچی زویا ہال پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔

ڈرائیور کسی اور کے دھوکے میں مجھے لے گیا تھا اور میں علی نام سن کے ساتھ ہولی اک سوبر مرد اور عورت ڈرائیور ساتھ اسے ہال چھوڑنے آئے تھے ۔۔۔۔

اور واقعی مس انڈرسیٹنڈنگ ہوسکتی ہے اسکی بات سنکے سب مطمئن تھے سوائے علی حیدر کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے فلیٹ میں قدم۔رکھتے ہی پھولوں کا اک سیلاب آیا تھا وہ گھبرا سی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

یہ یہ کیا مزاق ہے صارب اسکے انداز سے بوکھلاہٹ واضع تھی۔۔۔۔

ہماری گولڈن نائٹ سلیبریٹ کرنے کی تیاری صارب کی سنجیدہ آواز پہ اسے لگا چھت اس پہ آگری تھی۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *