Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid NovelR50613 Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 15)
Rate this Novel
Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 15)
Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid
ایک عمر تو میں نے یہ سنبھال کر رکھے ۔۔۔۔۔۔۔
پھر بکھر گئے مجھ سے ٹوٹتے ہوئے لمحے۔۔۔۔۔۔۔
منو کیوں رو رہی ہو چھ سالہ صارب اپنی کلاس فیلو جو اسے کبھی رابی کی ڈول جیسی لگتی تھی اس سے کھڑا پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
اپنی مما کیلئے منو منہ بسورتی اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔
کیوں تمہاری مما کہاں گئیں وہ منو کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔۔
دادو کہتی ہیں اللہ میاں پاس چلی گئی ہیں ۔۔۔
پھر تمہیں کھانا کون بنا کے دیتا ہے معصوم سا سوال۔۔۔
منو یعنی کے مناہل نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے آنسو صاف کیے میری سٹیپ مام۔۔۔۔
پھر جب تمہارے پاس مما ہیں تو تم کیوں روتی ہو۔۔۔
میری مما نہیں ہیں وہ الشبہ کی مما ہیں۔۔۔۔۔
الشبہ کون ہے میری سسٹر۔۔۔۔۔
تو تمہاری مما اور اور سسٹر کی مما الگ کیسے ہوسکتی ہیں۔۔۔
صارب کا دماغ اسکے جواب نہیں سمجھ پا رہا تھا۔۔۔۔۔
دیکھو منو مما جو ہوتی ہے وہ اک ہی ہوتیں ہیں جو گھر میں کھانا بناتی ہیں بابا کو تیار کرکے آفس بھیجتی ہیں جیسے زہرہ میری رابی اور رابی کی ڈول کی مما اک ہی ہیں۔۔۔۔۔۔
صارب نے کسی ناصح اور معتبر کی طرح اسے سمجھایا تھا۔۔۔۔۔
مما اگر اک ہوتیں تو سٹیپ مما کون ہوتی صارب اور وہ مارتی بھی اپنی مما نہیں مارتی اس معصوم کی آنکھوں میں پھر سے آنسو آئے تھے جبکہ صارب ہر طرح سے اسے چپ کروانے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو دادی ماں سے جب وہ سٹوری سن رہا تھا اسکے زہین میں منو کی باتیں آئی تھیں ۔۔۔۔
دادو یہ سٹیپ مما کونسی ہوتی ہیں منو کہیتی انکے گھر سٹیپ مما ہے مگر ہمارے گھر تو نہیں ہے۔۔۔
صارب کی بات پہ دادی کے تو گویا برسوں سے سوئے زخم ادھڑے تھے ۔۔۔
کس نے کہا سٹپ مما نہیں تمہارے گھر یہ زریں تمہاری اور زہرہ کی سوتیلی ماں ہی تو ہے۔۔۔۔
کلموہی میرے بیٹے پہ جادو کرکے آگئی پورے گھر پہ قبضہ کرلیا ارے سوتیلی ماں نہیں ڈائن سمجھو اسے تمہاری ماں کی دوست تھی لو سوتن بن کے نکال باہر کیا دادی نے اک نظر اسے دیکھا جو ناسمجھی سے انہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
توں سوجا میرا بچہ اب یہ تو ساری زندگی ہی تم لوگوں کے سر پہ سوار ہے۔۔۔۔
ننھے صارب کو یہ پوچھنا بھی یاد نہ رہا کہ اگر زریں اسکی سٹیپ مما تھی تو اسکی رئیل مما کہاں گئی۔۔۔۔
وہ روز منو کے ساتھ بیٹھ کے اسکی سٹیپ مما کے قصے سنتا دونوں معصوم زہن اک دوسرے کی سوچوِں سے انجان غم بانٹ لیتے منو کو اسے سننا والا مل گیا تھا لیکن صارب کا دماغ زریں میں سٹیپ مما ڈھونڈنے لگا تھا جو منو کی مما جیسی تھیں۔۔۔۔۔
پتا صارب الشبہ کی مما مجھے الشبہ کی گڑیا سے نہیں کھیلنے دیتیں بابا سے مجھے بات نہیں کرنے دیتں۔۔۔۔
وہ بھی مشعل ڈول کو لے کے بیٹھ جاتا کے کب اسکی سٹیپ مما اسے ڈانٹیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوا زریں خود کبھی اسے مشعل پکڑا دیتیں کے اسکے ساتھ کھیلو۔۔۔۔۔۔
وہ کوئی موقع نہ پاسکا مگر۔۔۔۔۔
جلد ہی زریں نے اسے موقع دیا جسکے بعد وہ زندگی بھر کیلئے اس سے متنفر ہوگیا تھا۔۔۔۔
بابا مجھے بائیک چاہیئے مصروف سے رحمٰن صاحب کو وہ اپنی سنائے جارہا تھا جبکہ وہ کسی ڈیلنگ کی پریشانی میں اسکی بات سن نہیں پائے تھے۔۔۔۔۔۔
زریں کال پہ رحمٰن صاحب کو رابی اور اسکی ڈول کی چیزیں کہ رہیں تھیں اور شام میں پاپا وہ لے آئے جسکے بعد اسکے زہن میں بیٹھ گیا کہ سٹیپ مما پاپا کو صارب کی چیزیں لانے سے منع کرتی ہیں۔۔۔۔
وقت گزرتا رہا اور دادی بھی دنیا سے چلی گئیں اور وہ آہستہ آہستہ زریں اور رحمٰن صاحب سے الگ ہوتا گیا۔۔۔۔
لیکن اسکے باوجود وہ زہرہ رابی اور رابی کی ڈول مشعل سے بہت پیار کرتا تھا کیونکہ اسکے زہن میں سگے سوتیلے بہن بھائیوں کا کوئی امیج نہیں بن سکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
انٹر کے بعد اسکی ضد تھی کہ وہ میڈیکل کی فیلڈ میں جائے مگر رحمان صاحب اسے انجیئنرگ کروانا چاہتے تھے وہ دوٹوک انداز میں بات کرنے انکے روم کی طرف جارہا تھا جب زریں کی آواز پہ دروزے پہ رکا تھا۔۔۔۔
رحمان آپ صارب کو میڈیکل میں ایڈمیشن لینے دیں آپ اپنا شوق رابی یا مشی پہ پورا کرلیجیئے گا۔۔۔۔
زریں آپ میری بات نہیں سمجھ رہیں کل کو اگر وہ میڈیکل میں جاتا ہے تو اس کاروبار کو کون سنبھالے گا۔۔
زریں اگلی بات سنے بغیر وہ واپس آگیا تھا وہ عورت یقیناً نہیں چاہتی ہوگی کے میں بابا کے ساتھ رہوں اسلیئے وہ۔۔۔
نہیں میں ایسا نہیں کرونگا۔۔۔۔
اور اگلی صبح جو رحمان صاحب اسے ہاں کہنا چاہتے تھے گویا صارب نے انجنئرگ میں ایڈمیشن کی حامی بھر کے سب کو حیران کردیا تھا ۔۔۔۔۔
اور پڑھائی کے دوران ہی یونیورسٹی میں شوقیہ سنگنگ کرنے والے صارب کو انڈسٹری آفر ہوئی تو وہ ہر بات بھلائے اس جانب راغب ہوگیا ۔۔۔۔
رحمان صاحب اور اسکے درمیان اک واضع دیوار ہائل ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اک احساس محرومی جو وہ بہنوں سے پوری کرتا تھا آج رابی کی ڈول اور اسکی مشی جان کے ایسے جانے کا سن کے وہ تڑپ رہا تھا نجانے کس طرح اپنا پرمژدہ وجود لیے ہاسپٹل۔پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
علی۔اور ریحاب کو دیکھ وہ پھر سے پاگل ہو اٹھا تھا تم گھٹیا شخص کیوں آئے ہو یہاں علی کا گربیان پکڑے اسے بری طرح پیٹنے لگا جبکہ ہاسپٹل میں تماشہ ہوتا دیکھ رحمان صاحب اور بہنیں اسے علی سے الگ کرنے لگیں۔۔۔
مم میری مشی کو مار دیا بےبس لہجہ وہاں ٹہرے ہر شخص کو غمناک کر گیا تھا۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوا تمہاری مشی کو صارب زہرہ اسے گلے لگائے خود بھی رونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہوجائیگی وہ ڈاکٹر کہتے کچھ امید ہے دعا کی ضرورت ہے اسے ہماری باوجود کوشش کے وہ بھی زور زور سے رونے لگی رابی بھی ان دونوں کے گلے آلگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
آج جہاں سگے رشتے اک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے وہاں صارب اپنی سوتیلی بہن کو لیے رو رہا تھا ۔۔۔۔۔
اگر وہاں کوئی تیسرا شخص ہوتا تو یقیناً انکلیئے یہ اک حیرت زدہ کردینے والی بات ہوتی۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کی آمد پہ وہ اسکی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔۔
پیشنٹ کے ہیسنیڈ کون ہیں ڈاکٹر کی سوالیہ نگاہ پہ علی اسکی جانب لپکا تھا ۔۔۔
جج میں ہوں۔۔۔
سوری سر ہم آپکے بچے کونہیں پچا سکے اسکیلئے ہمیں آپریشن کرنا ہوگا آپ ان پیپرز پہ دسخط کردیجئے۔۔۔
اور علی حیدر علوی اپنے پورے وجود سے زمین بوس ہوا تھا۔۔۔
مم میں سائن نہیں کر سکتا وہ اک دم پیچھے ہوا تھا بھلا وہ کیسے اس لڑکی کی موت کے پروانے پہ دستخط کرسکتا تھا جو سانس بن کے اسکے وجود میں دوڑتی تھی۔۔۔۔۔
دیکھیں سر پیشنٹ کی حالت بہت کریٹکل ہے آپ لوگوں کو جلدی کوئی سٹیپ لینا ہوگا ۔۔۔
اسکی بات سن زریں تیزی سے اسکی جانب آئی تھیں جیتے جی تو تم اسے پہلے ہی مار چکے ہو اب کس چیز کا ڈھونگ رچا رہے ہو زریں بیگم کی بات پہ زخمی نگاہ انکی طرف اٹھائی اور یہ وقت ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنی محبت کی سچائی پیش کرتا چپ چاپ مطلوبہ جگہ دستخط کرتا وہ وہاں سے چلا۔گیا تھا اور ریحاب بھی اسکے پیچھے بھاگی۔۔۔۔
صارب کی کاٹدار نظروں نے دور تک ان دونوں کا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔۔۔
ایسے کیوں چلے آئے اسوقت مشعل کو تمہاری ضرور۔۔۔۔
بس کرو تم بس ریحاب علوی مجھے۔میرے حال پہ چھوڑ دو علی جو سب کے سامنے ضبط کیے ٹہرا تھا اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور کتنا مجھے کٹھ پتلی کی طرح گھماؤ گی آزما لی دیکھ لی نا اپنے لیے اپنے بھائی کی محبت کیا پایا تم نے اس معصوم کو برباد کرکے ہاں ریحا بولو جس شخص کو تم۔خالی دامن دیکھنا چاہتی تھی وہ تو آج بھی محبتوں سے مالامال ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اگر کوئی برباد ہوا ہے تو یہ شخص جو تمہارے سامنے ٹہرا ہے وہ لڑکی جو اندر زندگی موت کی جنگ لڑرہی ہے۔۔۔۔۔۔
قاتل۔ہو تم ریحاب ہم سب کی خوشیوں کی اگر اسے کچھ ہوا قسم اٹھا کے کہتا ہوں میں ساری زندگی تمہاری شکل نہیں دیکھوں گا۔۔۔۔
علی کی بات پہ اس نے تڑپتے اسکا راستہ روکا تھا۔۔۔۔۔
میری غلطی نہیں ہے ساری مم میں نے کہا تھا اس لڑکی سے نکاح کو اسے اس حد تک لانے کو۔۔۔۔۔۔۔
آج بھی وہ اسے وہی خودغرض ریحاب لگ رہی تھی جو اپنی سچائی ثابت کرنا زیادہ اہم جانتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
واہ ریحاب علوی واہ داد دینی پڑے گی آپکو کتنی اچھی ڈبیٹر ہیں آپ۔۔۔۔۔
آگ کو شعلہ دکھا کے کہتی ہو دامن بھی نہ جلے اپنے کندھے سے اسکے ہاتھ جھٹکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
شرم آرہی ہے کہ میں تمہارا بھائی ہوں ریحاب علوی تم تو ایسی نہ تھی ریحاب پھر کیوں کیا یہ سب ۔۔۔۔۔
اور وہ دونوں بھائی اپنی اپنی بہنوں سے ہار گئے تھے۔۔۔۔
صارب کو مشعل کا پیار ہرا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
علی حیدر کو ریحاب کی نفرت ہرا گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
مگر دونوں نے اپنی اپنی بہنوں کو معتبر کرنے کیلئے غلط راستے چنے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔







زندگی کا فلسفہ سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے وہ ہر موڑ پہ اپنا اک نیا رنگ دکھا کے انسان کو بے بس کردیتی ہے۔۔۔
اگر سب کچھ انسانوں کی من مرضی کے مطابق ہونے لگ جائے تو شاید لوگ خدا کی ذات ہی سے منکر ہوجائے اسلیئے اس پاک ذات نے انسان نما کٹھ پتلی کی ڈور اپنے “کن” پہ رکھ دی ہے جب وہ کہتا ہے ہوجا تو وہ چیز ہو کے رہتی ہے نا کسی کی من مرضی نا کسی کے دل کے آباد یا برباد ہونے کا فرق پڑتا ہے۔۔۔
ہاں وہ آزماتا ضرور ہے کبھی کچھ دے کے تو کبھی کچھ لے کے ۔۔۔۔۔۔
مگر اپنے کن سے پہلے اک امید کا در بھی کھلا رکھا ہے جسے دعا کہتے ہیں جو اگر سچے دل سے مانگی جائے تو رد ہے کا سوال۔ہی پیدا نہیں ہوتا وہ کاتب تقدیر جب انسان کی تقدیر کو “کن” کا محتاج کردیتا ہے تو ساتھ دعا کا در بھی کھول دیتا ہے اور شاید یہ اسکے اپنوں کی دعائیں تھیں کے رب نے کن فرمایا اور وہ زندگی کی طرف لوٹ آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا دل۔کرتا ہے تمہیں زور کا تھپڑ ماروں تمہاری اس حرکت پہ۔مشی جان ایسا بھی کوئی کرتا ہے اسکی بات سن مشی سمیت سب رونے لگے تھے۔۔۔۔۔
مجھے معاف کردیں بھیا میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔
زریں نے اپنی بیٹی کے کملاتے چہرے کو دیکھا ابھی تو وہ صرف اٹھارہ سال کی تھی اور زندگی کے اتنے بڑے امتحان سے گزر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
چند دن بعد وہ مکمل صحت یاب ہوکے گھر آچکی تھی کسی نے بھی اسکے سامنے علی کا زکر نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔
مشعل۔کا معصوم دل اسکے پیار کی نشانی کے چھن جانے پہ غمزدہ تھا مگر رابی کی پٹ پٹ اسکا زہن اس چیز کی طرف جانے ہی نہ دیتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
تنہائی پاتے ہے اسکے دل دماغ پہ حیدر کا قبضہ ہوجاتا تھا وہ جتنی کوشش کرتی کہ اسکی بے وفائی کو بھلا سکے مگر علی کے سچے جزبوں کی آنچ اسے بھولنے ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے بعد صارب نے بھی ریحاب سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی وہ اپنا فلیٹ چھوڑ کے گھر شفٹ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
آج اتنے دن بعد وہ سٹڈی میں آیا تھا مختلف کتابوں کو چیک کرتے اک ڈائری اسکے ہاتھ سے پھسلتی نیچے گری تھی جن میں کچھ تصاویر تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے الٹ پلٹ کے ان مدھم پڑتے نقش والی تصویروں کو دیکھا تھا رحمان صاحب کے پہلو میں موجود انتہائی خوبصورت لڑکی یقیناً کوئی اور نہیں اسکی ماں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تک اس نے انکو جاننے کی۔کوشش کیوں نہیں کی تھی بھلا تو کیا بچپن سے زہن میں خود ساختہ الیوژن موجود تھا کہ وہ مرچکی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصویہ میں موجود بچی بھی یقیناً زہرہ تھی۔۔۔۔۔
اسے کچھ تو معلوم ہوگا فیصلہ کن انداز میں وہ زہرہ کی جانب بڑھا تھا اور پچھتایا بھی تھا کہ کاش وہ ان حقیقتوں سے انجان ہی رہتا تو اچھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مما بہت جھگڑالو تھیں صارب اپنی گود میں بچوں کی طرح لیٹے صارب کے سر میں اپنی نرم انگلیاں چلاتے وہ اسے اپنی ماں کے بارے بتانے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اکثر رات کو گھر سے غائب رہیتیں تھیں مگر دادی جان کی بھانجی ہونے کی وجہ سے وہ انہیں بہت عزیز تھیں۔۔۔
بابا نے بھی ہر طرح سے اس رشتے کو نبھانا چاہا مگر آخر کار وہ انکی ضد کے آگے ہار گئے تھے ۔۔۔۔۔
سندس مما اگر بدزبان ہوتیں تو تب بھی برداشت ہوجاتا مگر وہ اکثر راتوں کو ڈرنکڈ گھر واپس آتی تھیں اور سب سے بڑھ کے انکے مسسز شاہد کے بھائی سے ناجائز تعلقات کا شبہ تھا بابا کو۔۔۔۔۔۔۔
بہت ضبط سے اک بیٹی نے اپنی ماں کی بدکرداری کو بیان کیا تھا وہ ماں جس کے قدموں میں جنت رکھ دی گئی پھر بھی وہ بجائے معتبر ہونے کے نفس کے پیچھے بھاگنے والی عورت نکلی تھی۔۔۔۔۔۔۔
پتا ہے صارب میں نے تمہارا ہر وہ کام۔کیا جو مما کو کرنا چاہیئے تھا مگر انہیں کسی کی پرواہ ہی کہاں تھی۔۔۔۔
اور پھر زریں مما نے ہمیں اور اس گھر کو آکے سنبھال لیا زریں مما سندس علوی کی دوست تھیں اور اکثر ان سے ملنے گھر آتیں رہتی تھیں اور جب وہ ہمیں چھوڑ گئیں بابا نے انہیں پرپوز کیا جو انہوں نے ایکسپٹ کرلیا لیکن دادو کسی کو بھی اپنی بھانجی کی جگہ نہیں دیکھ سکتی تھیں اور انجانے میں یا جان بوجھ کے انہوں نے تمہیں اک کارڈ کی طرح سندس مما کے خلاف استعمال کیا اور اکثر اپنے کارنامے وہ کال۔پہ کسی کو سنا رہی ہوتیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ان دونوں کے درمیان اک گہری خاموشی کا وقفہ آیا تھا ۔۔۔۔۔
زہرہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں اک بار ان سے پوچھنا چاہتا ہوں انہوں نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔۔۔
صارب کی بات پہ زہرہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا کیا تمہیں میری باتوں کا یقین نہیں صارب ۔۔۔
نہیں زہرہ وہ بات نہیں مگر۔۔۔
کیوں ازیت کا شکار ہونا چاہتے ہو صارب آج تک جیسے مرا ہوا سمجھے رکھا اب بھی ایسے سمجھ لو۔۔۔۔
اک منٹ زہرہ تو کیا ریحاب اور علی مطلب شاہد علوی۔۔۔۔
ہاں صارب وہ سندس علوی کے بھتیجے ہیں نیچ خون نیچ خاندان نے اپنا اثر تو دکھانا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔
زریں اور رحمٰن کے منہ سے اس وقع کی تفصیل جان چکی تھی کے مشعل کیلئے جب لوگوں کو پیر پڑنے وہ جانے والے تھے سندس کے خاندان کو دیکھ وہ اپنی انا کولیے واپس آگئے تھے۔۔۔۔۔۔
تو زویا ۔۔۔۔۔۔
اسکے منہ سے زویا کا نام سن کے وہ چونکی تھی کتنی مماثلت رکھتی تھی وہ بابا اور زہرہ سے۔۔۔۔۔
تم ملے ہوزویا سے اسکی بات پہ صارب نے ناگہیں چرائیں انجانے میں وہ اپنی ہی بہن کی زندگی داؤ لگانے چلا تھا۔۔۔
کچھ پوچھا ہے صارب اس کے سخت لہجے پہ وہ کچھ بھی نہیں چھپا سکا تھا اس سے ۔۔۔
اف میرے خدایا کیا کر ڈالا تم نے صارب۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کل کو ریحاب نے مشی جیسا کوئی قدم اٹھا لیا تو۔۔۔
اسکی تنبہی کرتی نگاہیں وہ فیس نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
پلیز زہرہ میں اس ٹاپک پہ بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔
پر مجھے کرنی ہے تم وہی غلطی دہرانے جارہے غصے میں اسکا بازو پکڑ کے واپس بٹھایا۔۔۔۔۔۔
تمہیں کیوں اس سے ہمدردی ہورہی ہے تمہیں نہیں پتا کے کیا کیا اس نے تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کیا ہے جو نصیب میں لکھا تھا وقت سے پہلے نہیں ہوسکتا۔۔۔۔
پلیز زہرہ نو مو آرگو وہ لڑکی یہی سب ڈیزرو کرتی ہے۔۔۔۔
بے زاری سے کہتا وہ جانے لگا جب زہرہ کے لفظوں نے اسکے قدم روکے۔۔۔۔
بھگت تو چکی اپنے کیے کی سزا وہ اسے طلاق دے دو صارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







رحمٰن صاحب نے اسکے آگے خلع کی پیپر رکھے گویا پھر سے موت کے منہ دھکیلا تھا مگر وہ اک لاحاصل چیز کیلئے پھر سے اپنوں کو آزمائش میں نہیں ڈال سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
بنا کوئ بات کیے اس نے ان پیپرز پہ سائن کردیے تھے۔۔۔۔
ہن لوڑ نہیں تیرے سہاریاں دی
ہن آپ میں ٹُرنا سِکھ گی آں
چنگے مندے دی چنگی پہچان ہوئی اے
چنگی راہ تے مُڑنا سِکھ گئی آں
میرے روہ روہ کے مُک گے نِیر سَجنا
پُوڑی صبر دی چَڑنا سِکھ گئی آں
تیرے نال تے لڑ نہ سکی
حالات نال لڑنا سکھ گئی آں







من ۔۔۔۔
ارحم نے سوئی ہوئی منت کو جگایا مگر وہ تو ہر چیز سے آزاد سکون سے سوئی ہوئی تھی۔۔۔
من اب کے آواز زرا تیز تھی اگر تم نہ اٹھی پھر مجھ سے کوئی شکایت نہیں کروگی اسکی دھمکی سن وہ اچھلتے سیدھی ہو بیٹھی تھی کیا ہے کیوں نہیں سونے دے رہے ۔۔۔۔
گھڑی پہ نگاہ ڈالیں گی زرا آپ اسکی نیند میّ ڈوبی شربتی آنکھیں دیکھ اسکی نیت بے ایمان ہوئی تھی۔۔۔۔۔
توبہ ہے ارحم مصطفٰی دو جماعتیں پڑھ لینی تھیں اس ٹائم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ٹائم دیکھنے کیلئے مجھے نا جگاتے پھرتے کسلمندی سے کہتے وہ پھر سے کمفرٹر میں منہ گھساڑے سو گئی تھی۔۔۔۔
اسکی باتیں سن ارحم۔کو بے ساختہ ہنسی آئی تھی اسکے برابر گرتے اپنے بازو کے حصار میں لیا تھامنت فوراً الرٹ ہوئی نیند بھبوکے سے اڑتی اپنے گھر کا راستہ لے گئی ۔۔۔۔
کک کیا ارحم سوالیہ نظروں سے اسے گھورا تھا۔۔۔۔۔
کچھ بھی تو نہیں میرا تو خیال تھا کہ تمہیں کالج جانا ہوگا مگر تم تو جھگڑالو عورتوں کی طرح مجھے طعنے دینے لگی چلو پڑھائی کو رکھتے ہیں سائیڈ پہ میرے والی بات مان لو زیادہ آسان ہے شرارت سے کہتا وہ اس پہ جھکا تھا جبکہ اسکی بات بے توجہی سے سنتی منت اسے دور دھکیلے فوراً کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
میرا تو اتنا امپارٹنٹ ٹیسٹ تھا اسکی ہڑبڑاہٹ پہ ارحم کا قہقہ بے ساختہ تھا اک نظر رک کے اسے گھورا اور جلدی سے واشروم گھس گئی تھی۔۔۔۔۔۔
باہر آئی سامنے ہی ناشتہ تیار دیکھ بھاگ کے ندیدے پن سے اسے ختم کرتی کھڑی ہوگئی گاڑی کے ہارن پہ کتابیں سمیٹے باہر بھاگی اک نظر گھڑی پہ ڈالی اف اتنا کم ٹائم آج سر نہیں گھسنے دیں گے کلاس میں روہانسی شکلیں بناتی باہر آئی۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولنے لگی جب ارحم اس پہ چیخا تھا خانساماں تو آلریڈی بنا چکی مجھ ان پڑھ شوہر کو اب ڈرائیور بناؤ گی کیا ۔۔۔
منت کو اسکی بات پہ ہنسی آئی مگر کنٹرول کرتی بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
کالج پہنچتے وہ۔اترنے کو بےتاب تھی جبھی ارحم نے اسے روکا ۔۔۔۔۔۔
من یہ میں تمہارے لیے لایا تھا گھر میں دینے کا موقع ہی نہیں ملا اک نفیس سا برسیلٹ اسکے سامنے کیا جس میں چھوٹے ہیرے جڑےہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
یہ بہت پیارا ہے بے ساختہ تعریفی الفاظ اسکے منہ سے نکلے تھے اور ساتھ اسے لینے کو ہاتھ آگے بڑھایا تبھی ارحم اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے خود بریسلٹ پہنانے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بغور اسکی کلائی کا معائنہ کرتے اپنے لبوں کا لمس اسکے ہاتھ پہ عطا کیا گیا ۔۔۔۔۔
مم۔مجھے دیر ہوری جلدی سے ہاتھ چھڑاتے وہ اندر کو بھاگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہاں بڑے ہینڈسم بندے کے ساتھ رابی نے اسے گاڑی سے اترتے دیکھ چھیڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منت بغیر کوئی جواب دیے آگے بڑھنے لگی تھی۔۔۔
کیا پرابلم ہے منت رابی اسکے تیوری پہ پڑتے بل۔دیکھے ۔۔۔۔
جبکہ منت اپنے اندر ہی جنگ کرنے میں مصروف تھی اسکا دل۔ہمیشہ ارحم۔مصطفٰی کے معاملے بغاوت کرتا تھا وہ بھول۔کیسے سکتا وہ کون ہے اس نے کیسے کیسے منت کو ایزا نہں پہنچائی۔۔۔۔۔
ساری محبتیں اک سائیڈ کیے اسکا دماغ منفی سوچوں کی۔آمجگاہ بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
رابی نے بھی۔رسپونس نہ دیکھ چپ اختیار کرلی وہ بھاگتے قدموں سے کلاس میں پہنچی تھیں اور خوشقسمتی سے سر خود لیٹ تھے۔۔۔۔۔
منت اسکی جانب متوجہ ہوئی جو چپ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
ہیں تمہیں کیا ہوا آج رابیکا رحمٰن خاموش یااللّٰہ یہ کونسی صدی کا معجزہ ہے ۔۔۔
معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے اسے دیکھا جبکہ اسکی بات پہ رابی نے گھور کے دیکھا اور منہ دوسری طرف کرلیا۔۔۔
اچھا نا سوری منت نے باقاعدہ کان پکڑے سوری کی رابی تو اسکی معصومیت کی ہمیشہ سے شیدائی تھی۔۔۔۔۔
منت نے جب میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لیا گاؤں اور شہر کے واضع فرق نے اسے بہت بوکھلایا تھا ۔۔۔۔
شروع میں وہیں بڑی چادر سے خود کو لپٹائے آتی تھی مگر کالج کے ڈسپلن اور رولز کو دیکھتے وہ گھبرا جاتی تب اس سہمی چڑیا کا رابی نے ہاتھ تھام لیا وہ اسے مشعل کے جیسی لگتی تھی۔۔۔۔
اور پھر بہت جلد رابی کی سنگت میں وہ اس ماحول کے مطابق ڈھلنے لگی مگر ڈریسنگ کے معاملے نو کمپرومائز اپنا دوپٹہ سیٹ کیے چہرے کو مکمل حجاب سے ڈھکے وہ خود کو زیادہ کانفیڈینٹ محسوس کرتی تھی اور یہ انداز بھی اسکے حجاب کو نہ چھوڑنے کی ضد پہ رابی نے سکھایا تھا۔۔۔۔۔۔
اچھا اب بتاؤ کون تھا وہ ہینڈسم رابی کا سسپنس دیکھ منت کو ہنسی آنے لگی تھی ۔۔۔۔۔
تمہیں کیوں مروڑ اٹھ رہے کزن ہے میرا ۔۔۔۔۔
ہیں سچی رابی خوشی سے چہکی منت فوراً الرٹ ہوئی میریڈ ہے وہ نجانے کیوں منت کو ارحم۔کیلئے رابی کا اتنا اشتیاق اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
اوہ پتا نہیں یہ خوبصورت لڑکے لڑکیاں اتنی جلدی میریڈ کیوں ہوجاتے وہ۔جلے دل۔سے بولی تھی جبکہ اسکی بات غور سے سنتی منت کی۔ہنسی نہیں رک رہی تھی۔۔۔۔۔








ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْم بَعْدِہٖ رُسُلًا اِلٰی قَوْمِھِمْ فَجَآءُ وْھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ ط کَذٰلِکَ نَطْبَعُ عَلٰی قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ o(یونس ۱۰:۷۴)
پھر(نوحؐ) کے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر جس چیز کو انھوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا۔ اسی طرح ہم حدسے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
لاؤنچ میں مما پاس بیٹھی ریحاب یہ آیات سن پوری جان سے کانپی تھی کیا میرا دل بھی انہی لوگوں کے جیسا ہے اک سوال اسکے گرد گھوما تھا اک نظر غور سے سنتی اپنی ماں پہ ڈالی اور فوراً کمرے کی طرف بھاگی اسکی حالت عجیب ہورہی تھی اسے اک دم اپنے وجود سے گھن آنے لگی تھی اسکی امان تو کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔۔
اسے اپنے کالج کی عالمہ دوست یاد آئی جو اکثر ایسی باتیں کرتی تھی کہ اللّٰہ نے منکرین کے دلوں پہ مہر ثبت کردی ہے اور بار بار اس بات کا زکر ہم لوگوں کے سامنے اس لیے کیا گیا تاکہ ہم بھی انہیں میں شامل نہ ہوجائیں۔۔۔
ریحاب نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑا تھا مگر وہ اسکے ہاتھ سے بار بار گر رہا تھا۔۔۔۔۔
خشیت الہٰی کا ڈر اسے جی جان سے کپکا رہا تھا اور خود کو سنبھالے وہ زینب سے بات کرنے لگی تھی ۔۔۔
مم مجھے ملنے ہے تم سے نجانے وہ کیوں چاہ رہی تھی کوئی شخص ہو جسکے سامنے وہ رو لے اپنی کیفیت بیان کرلے میں آرہی ہوں تمہارے پاس بغیر کسی توقف کے وہ گاڑی لیتی روانہ ہوئی تھی۔۔۔۔۔
جبکہ زویا اور مما اسے آواز دیتی رہ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔
آگاہی کا در کھلا تو اپنی منزل پہ پہنچنے کی لگن اسے اس در پہ لے گئی جہاں وہ ہمیشہ اس لڑکی کو ڈگریڈ کرتی تھی اسکے حجاب کو برقعے کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔۔۔۔۔
اسے نہیں یاد تھا کے راستے میں اسکی گاڑی کتنی بار حادثات کا شکار ہوتے بچی تھی کتنے جگہ ٹائروں کی چر چراہٹ نے اسے وحشت میں مبتلا کیا وہ۔تو ریحاب علوی تھی سدا کی جلد باز نہیں مگر کچھ اور بھی تھا جو اسے بے چین کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسکا رب اس پہ راضی ہوگیا تھا ٹھیک ویسے جیسے ابوجہل اور عمر میں سے عمر بن خطاب کو چنا گیا تھا ۔۔
حق آنے میں دیر تو لگتی ہے مگر باطل کو اندھیروں میں سے نکال پھینکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
زینب کو لگا شاید وہ اس سے مزاق کررہی تھی مگر اسکی حالت زار دیکھ وہ بھی حیران ہو اٹھی تھی اسے وہ ریحاب تو نہیں لگی تھی جو کالج کی جان کہلاتی تھی۔۔۔۔۔
زینب میں صرف تم سے صرف اک سوال پو چھنے آئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
وہ کون لوگ ہیں جن کے دلوں پہ مہر ثبت کردی گئی ہے۔۔۔۔۔
زینب نے اک نظر مسکرا کے اسے دیکھا اور اپنے پاس بٹھائے اسکے ہاتھ تھامے زینب کے ہاتھوں کی گرمی ریحاب کو سکون پہچانے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ۔ایسے لوگ ہیں جو جنت کی خوشبو تک سے محروم رہیں گے اسکی بات سنتی ریحاب نے خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھا ان نشانیوں میں وہ بھی تو شامل تھی پھر وہ ۔۔۔۔۔۔
زینب حد سے گزرنے والے لوگ کون تھے اک اور سوال ہوا تھا جیسے آج ہی خودی کو پانے کی چاہ تھی اس میں جیسے دوبارہ اسے موقع نہ ملے اسکا ہاتھ ابھی تک زینب کے ہاتھوں میں دبا تھا۔۔۔۔۔۔
حد سے تجاوز کرنے والا، جہگڑالو اور متکبر وہ لوگ جو مسرف، مرتاب، مجادل، متکبّر اور جباّر ہوتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔
زینب کی بات اسے سمجھ نہیں آئی تھی پھر بھی اسے سننا چاہ رہی تھی۔۔۔۔۔
ان لوگوں جیسا روّیہ اور طرز عمل اختیار کرنے والوں کے دلوں پر بھی اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتے ہیں۔ارشاد خدا وندی ہے:۔۔۔
کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ نِ oالَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰھُمْ ط کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ o(المؤمن۴۰:۳۴۔۳۵)
اسی طرح اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکّی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو ۔یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہرمتکبر و جبّار کے دل پر مہر (ٹھپّہ) لگا دیتا ہے۔۔۔۔۔
یہ سب کون لوگ ہیں زینب ۔۔۔۔۔
مسرف حد سے تجاوز کرنے والے کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی مسرف وہ شخص ہوتا ہے جو شریعت کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتاب شک کرنے والے اور شک میں ڈالنے والے کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتاب وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ کی آیات اور احکام کے سلسلے میں خود شکّی ہوتا ہے اور دوسرں کو بھی شک میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
ہاں وہ بھی تو صارب کے معاملے مرتاب ٹہری تھی۔۔۔۔۔
مجادل جھگڑالو،کج بحثی کرنے والے اورمیں نہ مانوں کا رویہ اختیار کرنے والے کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحاب کو لگ رہا تھا جیسے زینب اسی کی تو بات کیے جارہی تھی ۔۔۔۔
متکبر وہ شخص ہوتا ہے جوخود کو بڑا جانتا اور دوسروں سے بڑا منوانے کی کوشش کرتا ہے،یعنی خود کو بڑا جان کر اللہ کی آیات کا انکار کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبّار اپنی طاقت اور قوت کے بل بوتے پر دوسروں کو زیر کرنے کی کوشش کرنے والا، یعنی اللہ اور اس کے رسولؐ کی مرضی کے مقابلے میں اپنی مرضی دوسروں پر مسلّط کرنے والے کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب کی آخری بات پہ اسکی ہچکی بندھی تو گویا یہ طے پایا تھا کہ وہ جنت تک رسائی حاصل کرنے والوں میں سے نہ تھی۔۔۔
زینب نے مسکراتی نگاہ اس پہ ڈالی تھی مگر وہ۔مسکرا ہی تو نہ سکی ریحاب علوی بھی تو متکبر تھی ،اک شک کی آگ میں جلتے اس نے اپنے ساتھ دوسروں کو بھی تو جلایا تھا ۔۔۔۔
وہ بھی رب کی بنائی حدودقیود پار کیے بیٹھی تھی کیسے اسکے بندوں کی زندگیوں کے فیصلوں کی ڈور ہاتھ میں تھامے خدا بن بیٹھی تھی بھلا قہ۔کون تھی سزا اور جزا کے فیصلے کرنے والی اپنے ضمیر کی آواز پہ اک آنسو ٹپکا تھا جو زینب کے ہاتھ پہ گرا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مم میں نے بہت برے اعمال کیے زینب وہ چاہ رہی تھی کہ وہ اسے اپنے راز بتائے مگر زینب نے اسکے ہاتھ کو دباتے اسے اس چیز سے منع کیا تھا جسکا پردہ خدا کی ذات رکھنا چاہے ہمیں کوئی حق نہیں اسے اسطرح عوام الناس کے سامنے لائیں۔۔۔۔۔۔۔
