Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 17,18)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

اسے خبر ہی نہیں ہے عقیدتوں کے چراغ !

کہاں جلاے، کہاں پر بجھاے جاتے ہیں۔….

کتنی دیر سے وہ اسے سسکتے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

وہ چپ چاپ اٹھتا گیسٹ روم سے نکل گیا منت نے اسکی آہٹ دور جاتی محسوس کی تو اسے اور رونا آیا تھا تبھی لائٹ آگئی وہ آنسو صاف کرتی اٹھ بیٹھی……

ارحم روم میں واپس آتا دکھا تو وہ تیزی سے اٹھ کے اپنے روم کی جانب جانے لگی تھی جبھی وہ راستے میں حائل ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

ایسے نہیں من سوری دونوں کان پکڑے اسکے سامنے ٹہرا تھا ۔۔۔

منت اس انا پرست انسان کو ایسے دیکھ حیران ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔

سچی جو پرامس لے لو آئیندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔

وہ منہ بسورتی دوسری طرف منہ کرگئی۔۔۔۔

ارحم نے اپنی شرٹ اتارتے بازو اسکے سامنے کیا تھا جہاں اس جنگلی بلی کے دانت گاڑے ہوئے تھے وہ شاید غصے میں اسے زیادہ بائٹ کرگئی تھی۔۔۔۔

اک نظر اسکے بازو کو دیکھتے سامنے نظر کی مگر اسے شرٹ لس دیکھ پھر سے منہ موڑ لیا جبکہ ارحم اسکی حرکت پہ بے ساختہ مسکرایا ۔۔۔۔۔۔

من ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے شرٹ۔۔۔۔۔۔۔

جو حکم سر جھٹکتا واپس شرٹ پہنے اسکے سامنے آیا تھا۔۔۔۔۔۔

سوری قبول ہوئی ہماری۔۔۔۔۔۔۔۔

شاید اسے بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ منت کو اپنی زیادتی کا احساس ہے۔۔۔۔

اپنے کس کس گناہ کی معافی طلب کروگے ارحم مصطفی

اک کمزور عورت پہ ہاتھ اٹھا کے تم اگر خود کو مرد سمجھتے ہو تو تمہاری مردانگی کو سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں مجھ پہ ترس نہیں آتا سوالیہ نظریں اس پہ گاڑیں ۔۔۔۔۔۔۔

ارحم نے شرمندگی سے سرجھکا لیا وہ چاہ کے بھی اسکی غلط فہمی دور نہیں کرپا رہا تھا مگر وہ اب منت کو خود سے مزید بدظن ہوتا بھی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔۔

آگے بڑھتے منت کے ہاتھ پکڑے چہرہ جھکائے بولا تھا۔۔۔۔۔

میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اگر بیٹھ کے سن لو تو۔۔۔۔۔

ابھی اور کیا سنوں تھک گئی ہوں ارحم پلیز مجھے، میرے وجود کو آزاد کردو اپنی قید سے مجھے گھٹن ہوتی ہے جب تم اپنا آپ مجھ پہ مسلط کرتے ہو مم میں آزاد ہونا چاہتی ہوں میں کھلی فضا میں سانس لینا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔

مجھے اپنا وجود کسی صیاد کی قید میں محسوس ہوتا ہے چلتے پھرتے اک پنجرہ میں جکڑہ وجود۔۔۔۔۔

محبت کی زنجیر ہوتی تو شاید سہل کر بھی لیتی مگر انجانے انتقام کی سولی پہ لٹکائے اپنی انا کی تسکین کیلئے منت سے نہ کھیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روتے ہوئے وہ اس سے ہاتھ چھڑا کے چلی گئی اسکے روم کا دروازہ زوردار آواز سے بند ہوا تھا۔۔۔۔۔

وہ شکستہ وجود لیے وہیں بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔

سچ ہی تو تھا اس نے اپنی محبت کو ضد اور انا میں کہیں پیچھے رکھے اسے اک قیدی بنا لیا تھا ۔۔۔۔

یہی سب تو وہ ڈیزرو کرتا تھا ۔۔۔۔

مگر وہ منت کو بتانا چاہتا تھا وہ اب پہلے والا ارحم نہیں رہا وہ اسکیلئے خود کو بدل چکا ہے پر وہ کیسے ثابت کرتا باتوں سے بھلا کسی کے کردار کا کیا معلوم اسکا کوئی عمل ہوتا تو وہ منت کے آگے بھی سر اٹھا کے جی لیتا ۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح وہ بنا اسے بتائے گم ہوچکا تھا مگر ڈرائیور کو سختی سے تنبہی کی تھی کے وہ منت کو چھوڑ کے آئے گا۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

اپنے موبائل پہ انون نمبر سے کال آتے دیکھ وہ چونکی تھی بھلا کون ہوسکتا تھا ۔۔۔۔۔۔

مشعل نے خاموشی سے کال اٹینڈ کی تھی جبھی دوسری طرف کی آواز پہ وہ چونکی اس آواز کو تو وہ۔کبھی بھولی ہی نہ تھی۔۔۔۔۔

مشعل پپ پلیز کال مت کٹ کرنا ۔۔۔۔۔۔

جی کہیں کیا کہنا ہے اب ۔۔۔

جانتی تھی اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے لگا ہے۔۔۔

میں نے بابا کو بہت راضی کرنےکی کوشش کی مگر وہ نہیں مانے مگر سیلمان بھائی آئیں گے مشعل پلیز اپنے گھر والوں کو منا لینا۔۔۔۔

اسکی بات پہ الجھتی مشعل کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ریحاب کی شادی کے بعد سیلمان بھائی آئیں گے مشعل پلیز تھوڑا ویٹ کر لو ریحاب کے نام پہ وہ چونکی تھی۔۔۔۔۔

ریحاب کی شادی کس سے ۔۔۔۔۔۔۔

حیدر جانتا تھا کہ وہ کس لیے ریحاب کی ذات میں انٹرسٹ لے رہی کیونکہ اسکی وجہ سے مشعل کی زندگی خراب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ بابا کے جاننے والے ہیں تم فکر نا کرو مش میں اس سے بھی تعلق نہیں رکھونگا جس شخص سے میری مشی کی ذات کو تکلیف پہنچنے کا خدشہ۔۔۔۔۔۔۔۔

مشعل نے اسکی بات سنے بغیر ہی کال کاٹ دی موبائل پھر سے بجا تو اس نے بند کرکے رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔

ریحاب کیسے شادی کرسکتی جب وہ صارب کے نکاح میں تھی تو۔۔۔۔

اسے کسی طرح صارب تک یہ بات پہنچانی چاہیئے تھی بھلا وہ اس لڑکی کو اتنی آسانی سے کیسے معاف کردیتی جسکی وجہ سے وہ اتنے کرب سے گزری تھی۔۔۔۔۔۔۔

جب صارب نے اسے علی حیدر علوی کے پیچھے کی شطرنج باز کی کہانی سنائی تھی وہ۔کتنا روئی تھی اسکی زات کو انتقام۔کا نشانہ بنایا گیا وہ جو حیدر کی بے وفائی کے بعد بھی اسے معاف کرنے کو پھرتی تھی صرف اس امید پہ کہ وہ بہکا ہے کیسے اسکی زات کا غرور ٹوٹا ۔۔۔۔

حیدر کیلئے تو وہ جسٹ اک گیم تھی جو اس نے شوق سے بھی نہیں اپنی بہن کے شوق پہ کھیلی ۔۔۔۔۔۔۔

نم ہوتی آنکھوں کے کو صاف کیا اسے اب اپنے آنسوؤں سے بھی نفرت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یس کم ان صارب کی آواز پہ وہ اندر آئی جبکہ اسے دیکھتا وہ آگے بڑھا تھا دونوں ہاتھوں کوضبوطی سے پکڑے سامنے بٹھایا کیا ہوا میری ڈول کو کیوں اداس ہے ۔۔۔۔۔۔۔

مشعل۔نے اسکے پیار جتاتی نظروں کو دیکھا وہ اتنے پیارے بھائی کی گنہگار بن بیٹھی اس نے کیوں وقت پہ اپنے قدم۔نہ روکے تھے۔۔۔۔

آپ نے مجھے معاف کردیا بھیا۔۔۔

ایک سائل کے جیسے امید بھری نگاہ اس پہ ڈالی۔۔۔۔۔

میں بھلا اپنی مشی جان سے ناراض ہوسکتا ہوں میں چاہتا ہوں میری ڈول سب سے زیادہ مضبوط ڈول بن جائے تاکہ آئیندہ کوئی اسے ہرٹ نا کرسکے مسکرا کے کہتے اسے اپنے ساتھ لگایا جبکہ وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی ۔۔۔۔

صارب اسے ایسے روتے دیکھ بوکھلایا تھا ۔۔۔۔

مشعل پلیز تمہارے رونے سے تمہارے بھیا کو تکلیف ہورہی ہے بتاؤ کیا ہوا ہے اور۔مشعل۔نے اسے علی حیدر سے اب تک کی ہونے والی گفتگو کے بارے بتایا۔۔۔۔۔۔۔

ریحاب کی شادی والی بات سن اس نے مٹھیاں بھینچی تھیں مگر خود کو ریلکس رکھتے مشعل سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔

تو آپ کیا چاہتی ہو مشعل جو آپکا فیصلہ ہوگا میں آپکے ساتھ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اس شخص کو معاف نہیں کرسکتی بھیا مگر میں اسے مطمئن بھی نہیں دیکھ سکتی مجھے حاصل کرکے تو وہ۔مطمئن ہوجائے گا۔۔۔۔۔

مشعل زندگی میں بعض دفعہ ایسے حادثے ہوجاتے ہیں جنکا ہم۔تصور بھی نہیں کرسکتے مگر ہمیں انکو بھلا کو آگے بڑھنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔

میں بھی چاہوں گا کہ آپ اسے اک موقع اور دے دو باقی جو آپ چاہو گی ہم وہیں کرینگے میری وجہ سے پلہے بھی زہرہ اور تمہاری ذات تکلیف میں آئی ہے مگر میں مزید تم۔لوگوں کو امتحان میں نہیں ڈالوں گا تمہارا ہر فیصلہ منظور ہے مجھے۔۔۔۔۔۔

فیصلہ تو وہ کرکے آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ابھی وہ۔نماز سے فارغ ہوکے بیٹھی تھی کہ شاکرہ اسکے کیلئے بابا کا پیغام۔لے کے آگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باہر ڈرائنگ روم۔میں رحمٰن ،صارب ور انکے ساتھ موجود نفیس سی خاتون کو دیکھ کے وہ چونکی تھی یہ یقینناً صارب کی سٹیپ مام تھیں۔۔۔۔۔۔۔

ریحاب یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں شاہد علوی کی آواز پہ اسکا دل۔کانپا تو یقیناً وہ حقیقت کھولے انکے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔

میری دونوں اولادوں نے مجھے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں اک تنفر بھری نگاہ علی اور ریحاب پہ ڈالتے بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں ابھی ڈائیورس پیپر پہ سائن کرنے ہوں گے میں اپنے وکیل کو بلاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

انکی بات سنتی ریحاب کو لگا کسی نے تیز دھار آلہ اسکے دل میں مار دیا ہو۔۔۔

نن نہیں بابا مجھے آپکا فیصلہ منظور نہیں صارب بھی اسکی بات پہ چونکا تھا بھلا وہ کیوں اس نکاح کو قائم۔رکھنا چاہتی تھی جبکہ وہ جانتی بھی تھی کہ صارب نے مشی کی ضد میں نکاح کیا,۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہد علوی کا دل۔کررہا تھا خود کو شوٹ کرلیں سب کچھ انکے ہاتھ سے باہر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انکی اولاد اتنی سرکش ہوگئی انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔

دیکھیں علوی صاحب بچے نادانی میں جو کچھ کر چکے حالات اور وقت کا تقاضا یہی ہے کہ انکی بات مان لی جائے۔۔۔۔۔۔

اگر تم۔میری اور سندس کی ذات سے ہٹ کے دیکھو تو صارب تمہارا بھانجا بھی تو ہے سندس کا بیٹا اگر تم اسکی بیٹی کو اپنا سکتے تو بیٹے کو کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رحمٰن صاحب کی بات پہ وہ اسے دیکھ کے رہ گئے جبکہ سندس کے زکر پہ مسسز علوی نے پہلو بدلہ تھا۔۔۔۔

وہ عورت سدا ان کی دشمن رہی اب انکے بچوں کی خوشیاں صارب انہیں پہلے بھی بہت پسند تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہد علوی کا دماغ بری طرح الجھ چکا تھا اپنی اولاد کے اقدام انکی پرانی دشمنی بھلا وہ کیسے اتنا کچھ بھولتے۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمیں سوچنے کا وقت چاہیئے شاہد علوی کہتے کمرے سے واک آؤٹ کرگئے ۔۔۔۔

علی کے دل میں اک امید جگی تھی ریحاب نے صارب سے نکاح کب اور کیوں کیا یہ بعد کی کہانی تھی۔۔۔۔۔۔۔

صارب نے اک نظر ریحاب پہ ڈالی جو سمپل لان کے شلوار قمیض میں ملبوس دوبٹہ نماز اسٹائل میں باندھے اسے پہلے سے مختلف نظر آرہی تھی اسکا بدلاؤ اسکیلئے غیر یقینی تھا ۔۔۔۔

اندر آتی زویا نے حاظرین مجفل پہ نگاہ ڈالی جبکہ جانے پہچانے نقوش کی مالک لڑکی کو اپنے سامنے دیکھ رحمٰن صاحب بھی چونکے تھے۔۔۔۔۔

تو کیا یہ سندس کی بیٹی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

رحمٰن صاحب اور زہرہ کے نقوش چرائے وہ لڑکی انہیں قدرت کی طرف سے اپنے لیے اک امتحان لگی تھی ۔۔۔۔۔۔

صارب کو اک لمحے لگا کہ زہرہ اسکے سامنے ہے ۔۔۔۔۔

زویا رحمٰن صاحب کو خود کو تکتے پا کے کنفیوژ ہوئی تھی اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

واپسی پر وہ پھر سے اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکے آن وارد ہوا تھا۔۔۔۔۔

منت رابی کے ساتھ موجود تھی بقول رابی مجھے تمہارے اکلوتے کزن سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔

رابی نے اسے آتے دیکھ خود ہی آگے بڑھ کے اپنے تعارف کی فارمیلٹی نبھائی جبکہ منت جو اسے کہہ چکی تھی کے ڈرائیور اسے لینے آئے گا اسے اپنی پوزیشن آکورڈ لگ رہی تھی رابی کیا سوچے گی بھلا وہ کیوں جھوٹ بول رہی۔۔۔

مجھے منت کو لے کے آپ سے اہم بات کرنی ہے رابی کا ایکسائیٹڈ انداز دیکھ وہ دونوں چونکے تھے۔۔۔

وہ۔ایکچوئلی ہم آج شام آپکے گھر آرہے ہیں میری فیملی کے ساتھ منت کے رشتے کیلئے اگر آپ کو کوئی اعتراز نہ ہو تو اپنی جلد بازی میں وہ سامنے ٹہرے دونوں اشخاص کو زمین دوز کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارحم۔نے اک بے یقین نگاہ اس پہ ڈالی تو وہ اس آزادی کی بات کررہی تھی۔۔۔۔۔

جبکہ منت دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ رابی کو دیکھے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بغیر کوئی بات کیے اور منت کو دیکھے بغیر ہی واپس مڑ گیا وہ بھاگ کے اسے روکنا چاہ رہی تھی مگر اس کے پاؤں جیسے زمین نے جکڑ لیے ۔۔۔۔۔۔

او ہو اکڑو کہیں کا تم سہی کہتی ہو من تمہارا کزن ہے ہی کھڑوس اک نگاہ زرد پڑتی منت پہ ڈالی اسے منت کی طبیعت سہی نہیں لگ رہی تھی رابی نے اسے بازو سے ہلایا اور تبھی وہ زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاسپٹل میں رابی اس عجیب شخص کو اتنا بے چین گھومتا دیکھ حیران ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آپ۔چاہیں تو ڈرائیور آپکو گھر چھوڑ دے گا وہ۔مسلسل رابی کی تاڑتی نگاہوں سے پریشان ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ نہیں میں جب تک منت کو ہوش نہیں آجاتا میں ادھر انتظار کرلوں گی اس شخص کا سخت لہجہ اسے گڑبڑا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

تبھی ڈاکٹر باہر آئی تھی پیشنٹ کے ساتھ کون ہے ان دونوں پہ نگاہ دوڑائی ۔۔۔۔۔۔

جی میں کیا ہوا من کو وہ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔

جی بلکل وہ ٹھیک ہیں آپ انکے ہیسبینڈ ہیں۔۔۔۔۔

اس نے پھر سے ارحم۔کو دیکھا اور رابی نے بھی وہ تردید کرنا چاہ رہی تھی مگر دوسرے ہی لمحے منہ پہ ہاتھ رکھ گئی تھی۔۔۔۔۔

جی میں انکا ہیسبینڈ ہوں ارحم مصطفی آپ بتائیں اسے کیا ہوا ہے ارحم۔کی بے قراری دیکھ رابی نے خود پہ سو بار ملامتیں بھیجیں۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی وائف امید سے ہیں بٹ شی از ٹو ویک ابھی ڈرپ لگا دی ہے کچھ دیر میں ان کی طبیعت سنبھل جائے گی تو آپ انہیں گھر لے جا سکتے ہیں پیشہ ورانہ انداز میں تسلی دیتی وہ آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر کی بات اسکے وجود پہ چھائی ساری پرمژدگی ختم۔کرگئی تھی جب کہ رابی کا دل کررہا تھا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے وہ اک شوہر سے اسکی بیوی کا رشتہ مانگنے چلی تھی۔۔۔۔۔۔

رابی نے آگے بڑھ کے ارحم سے معزرت کی اور اپنی صفائی دینے لگی کہ اس نے منت سے اس متعلق کوئی بات نہیں کی ورنہ شاید وہ اسکی غلط فہمی دور کردیتی شرمندہ شرمندہ انداز ارحم نے اٹس اوکے کہہ کے بات ہی ختم۔کردی اور وہ اسکے ڈرائیور ساتھ گھر واپس آگئی تھی۔۔۔۔۔۔

ارحم مکمل سرشاری میں ڈوبا گاؤں کال۔کرنے لگا۔۔۔۔۔۔

آنکھیں موندے۔منت نے آنے والے کی چاپ سے محسوس کر لیا تھا کہ کون ہوسکتا ہے۔۔۔۔

بے اختیار اسکی پلکوں سے آنسو موتیوں کی ٹوٹی لڑی کی طرح بکھر رہے تھے۔۔۔۔۔۔

من ارحم کی پکار پہ اسکا رو رو لبیک کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

محبت بھرا لمس اپنی پیشانی پہ محسوس کرکے اسکا خود پہ کنٹرول ختم۔ہوا آنکھوں کے سامنے اسکا بے اعتبار چہرہ گھوما تھا۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

بابا سیلمان کی آواز پہ شاہد علوی اپنی سوچوں کے تسلسل سے نکلے تھے ۔۔۔۔۔

کب تک آپ ماضی کی آگ میں جلیں گے مصلحت اسی میں ہے جو قدم وہ دونوں اٹھا چکے ہیں قبول کرلیں۔۔۔۔۔۔

ہمیں وقت ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی بات سمجھتے انہوں نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔۔۔۔۔۔

رحمٰن کی بیٹی انکے گھر آرہی تھی سندس کا قرض چکانے اک مبہم مسکراہٹ انکے چہرے پہ آئی جبکہ وہ بھولے بیٹھے تھے کہ وہ۔اپنی بیٹی بھی رحمٰن صاحب کے گھر بھیج رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیلمان نے کال کرکے ہی انہیں دونوں رشتوں کی رضامندی دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے ملنا ہے اپنے فلیٹ پہ تم سے ریحاب کو مسیج کرتے وہ مسکرائے جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

کیوں کوئی نیا زخم دینا ہے اب۔۔۔۔۔

اسکا ریپلائے پڑھتے زور سے ہنسا تھا۔۔۔۔۔۔۔

نہیں پرانے زخموں پہ مرہم رکھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔

ریحاب نے اک بیزار نگاہ اس کے ریپلائے پہ ڈالی موبائل بند کرتی سائیڈ پہ رکھ چکی تھی۔۔۔۔

اسکا دماغ الجھا ہوا تھا پھوپو کا ہنگامہ ،بھائی کو طعنے، زویا کو ساتھ لے چلے جانا اگر رحمان فیملی سے ٹرمز بنائیں تو انکا بھائی سے تعلق ختم اور شاہد علوی کا جھکا سر وقت ان سے کیا کیا فیصلے کروا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے اندر مزید ملال جاگے تھے اک وہی تو تھی جسکی چالوں نے کتنے دل توڑے تھے۔۔

Episode 18

کیا یار یہ بن بادل برسات کیوں آواز کی چاشنی پہ وہ چونکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو سمجھ رہی تھی کہ وہ اسکا یقین کیے بغیر چلا گیا وہ لوٹ آیا تھا۔۔۔۔۔

آئی۔ایم۔سوری مم مجھے نہیں پپ پتا تھا کک کہ رابی کیا کہنے لگ لگی ہے وو ورنہ میں اسے اسکی ہچکیوں نے بات مکمل ہی نہیں کرنے دی ارحم اسکے سرہانے بیٹھا اسکے سر پہ اپنی ٹھوڑی ٹکائے بیٹھ گیا تھا اس نے منت کو بولنے سے روکا نہیں تھا۔۔۔۔۔

سس سوری رات میں بکواس کرگئی مگر ارحم وہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اول تو وہ اسے صفائیاں کیوں دے رہی شاید اس شخص کی آنکھوں میں اپنے لیے بے اعتباری نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔

باقی باتیں گھر پہ کرلیں گے ہم من کچھ نہیں ہوا خود کو اتنا سٹریس نہ کرو چلیں گھر اسکے آنسو اپنی پوروں سے صاف کرتا بولا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راستےمیں اک طویل خاموشی انکے درمیان حائل رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

پھر اس نے منت کی لیو لے لی اور پورا ویک بچوں کی طرح اسکا خیال رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

منت اسے اپنا خیال رکھتے دیکھ رہی تھی اس دن کے بعد منت نے اپنا روم بھی لاک نہیں کیا تھا اور وہ رات کو اٹھ اٹھ کے اسکے پاس آجاتا منت اسکے اوباہام سے ناواقف تھی۔۔۔۔۔

مگر اسے اچھا لگ رہا تھا ارحم کا اپنے لیے اتنا پوزیسو انداز دیکھ ۔۔۔۔۔۔

بلا آخر اس خاموشی کی تان منت نے خود توڑی تھی۔۔۔۔

کیوں کررہے ہیں یہ سب آپ مجھے آپکی ہمدردیوں کی بھی ضرورت نہیں جانتی ہوں آپ رابی کی بات کا سارا الزام۔مجھے دیے ہوئے ہیں مگر ۔۔۔۔۔

شش بہت بکواس کرتی ہو ارحم کے لب اسے اتنا اونچا اونچا بولتا دیکھ مسکرا رہے تھے۔۔۔۔

بلکل بیوی بیوی لگ رہی ہو۔۔۔۔۔

ارحم کی بات سن وہ بلش ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

اور آج ہی تو بابا جی نے ارحم۔سے کہا تھا کہ وہ منت کے سامنے اپنی ہستی کے راز کھول دے تو اچھا ہے زیادہ دیری دلوں میں مزید کدروتیں لے کے آتی ہیں۔۔۔۔۔

وہ اسے لیے سٹنگ صوفے پہ بیٹھا اور خود اسکے قدموں میں بیٹھ گیا منت ارحم۔چوہدری کو اپنے سامنے ایسے بیٹھ دیکھ حیران ہوئی تھی۔۔۔۔

من میری بات غور سے سنوگی بغیر کچھ بولے۔۔۔

ہنمم جی۔۔۔۔۔۔۔

جانتی ہو من میرے گھر میں ہمیشہ سے اک بات ہوتی تھی منت کو اس گھر میں آنا ہے منت یہاں آئے گی مگر اسکے باوجود منت خیام نے کبھی ارحم مصطفی کو نوٹس نہیں کیا میں جان بوجھ کے اکثر ایسی حرکتیں کر جاتا کہ شاید میں اسکی نظروں میں آؤں اور میری خواہش جلد ہی پوری ہوگئی مگر غلط ٹائم پہ۔۔۔۔۔

منت خیام کو لگتا تھا میں گاؤں کے کمیوں کی لڑکی اٹھا کے لے گیا حلانکہ ایسا نہیں تھا وہ لڑکی خود ڈیرے پہ میرے پاس آئی تھی کہ اسکا باپ اسے بیچ رہا ہے اسے پناہ چاہیئے دائی اماں لائی تھیں اسے میرے پاس اور اس دن تمہارے گھر کی نوکرانی کے ساتھ بیٹھے تبصرے سنے پتا نہیں مجھے کیا ہوا جو میں سیدھی راہ پہ چلتا بھٹک گیا ارحم مصطفی کو اب منت خیام ہر حال میں چاہیئے تھی منت میری ضد بن گئی۔۔۔۔۔

اکثر ہم۔یار دوست محفل سجا بیٹھتے میں یہ نہیں کہتا ارحم مصطفی نیک انسان ہے مگر وہ زانی اور رہزن نہیں ہے ملکوں کی لڑکی میرے دوست ساتھ بھاگ گئی بات میں علم آئی تو اپنے دوست کے پیار کی خاطر ہر الزام سہہ گیا ارحم مصطفی ضدی ،اور غصے کا تیز ضرور ہے شراب کی لت بھی ہے مگر لڑکیوں کی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن حویلی میں واپس آکے چھائے گہرے سناٹے کو دیکھ اس لڑکی کو اٹھا کے گھر والوں کا پوچھنا چاہا مگر منت خیام۔تو پہلے دن سے ارحم۔مصطفی کیلئے کینہ لے کے آئی تھیں بھلا وہ کیوں یقین کرنے لگی اس پہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اور جو اتنا ٹارچر کیا اسکا کیا بھرائی آواز پہ وہ اسکے گھٹنوں پہ سر رکھے اسکے ہاتھ تھامے آنکھیں بند کر گیا۔۔۔۔

منت اک مرد کبھی بھی اپنی عزت نفس پہ حرف برداشت نہیں کرسکتا مجھے چاہ کے بھی رمیز لالہ اور تمہارے رویے نہیں بھولتے تھے میں کئی بار کوشش کہ سب بھلا کے نئی زندگی کا آغاز کروں مگر تمہاری بے اعتباری ہمیشہ قدم۔پیچھے ہٹانے پہ۔مجبور کردیتی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اور تم نے بھی تو آگے بڑھ کے مجھے سنبھالنے کی کوشش نہیں کی من۔۔,۔۔۔۔۔۔

ہاں تو ہٹلر بن کے سامنے آو گے تو کون سامنا کرے اور جو اتنا مارا اور ۔۔۔۔۔

ارحم نے شہادت کی۔انگلی اسکے ہونٹوں پہ رکھ کے خاموش کروایا بہت لمبی داستان ہے من پلیز بعد میں کبھی کیا تم مجھے معاف نہیں کرسکتی کیا ہم اک نارمل۔لائف کا آغاز نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔

تم بھی تو بنا میری اجازت کے شہر آگئی اک بار حقیقت پوچھ لیتی اتنی بے۔اعتباری کی مار کون مارتا ہے بھلا کسی کو ۔۔۔۔۔

شکوہ کناں نظریں منت پہ گاڑیں۔۔۔۔

بے اعتباریوں اور کثفاتوں کی دھول صاف ہوگئی تھی ارحم نے وعدہ کیا تھا وہ شراب اور غلط دوستوں کی کمپنی چھوڑ دے گا ۔۔۔۔۔۔۔

واقعی اگر ارحم کی زات میں کوتاہیاں تھیں تو اس نے کونسا کہیں کمی رکھی تھی۔۔۔۔۔۔

شام۔کو تایا ،تائی سائیں دادی سمیت اپنے ماں بابا سائیں کو دیکھ وہ حیران ہوئی تھی ۔۔۔۔

اور جب انکی آمد کا مقصد پتا چلا تو وہ حیران ہوئی اتنی بڑی بات اس سے ارحم نے چھپائی کیوں ۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

‏دو طرفہ اِس سکوت کی بھی خیر ہو مگر

خواہش ہے تجھ سے بات چلے دیر تک چلے۔۔۔۔

آج صارب اور مشعل کی مہندی کا فنکشن تھا جبکہ دوسری طرف علوی ہاؤس میں گہرے سناٹے چھائے ہوئے تھے جب رسم کی بات ہوئی تو شاہد علوی نے گھر پہ کسی قسم کے فنکشن کے انعقاد پہ پاپندی لگا تھی ۔۔۔۔۔

یہ کیا بات ہوئی بھلا رابی مہندی نالیجانے والی بات پہ غصہ ہوئی تھی۔۔۔۔

ہم لوگ خود لگا لیں گے نا صارب بھیا کو مہندی مشعل بھی چہکی تھی۔۔۔

بےشک حالات جو بھی تھے انکے اکلوتے بھائی کی شادی تھی کتنے خواب دیکھتی تھیں وہ۔۔۔۔

صارب نے بغور اپنی بہنوں کو دیکھا تھا شاید ایسی کوئی خواہش ہو جو اس نے انکی پور نہ کی ہو۔۔۔۔۔۔

ریحاب کمرے میں داخل ہوتے صارب کو دیکھ حیران ہوئی ۔۔۔

تم یہاں کیوں آئے اگر بابا نے دیکھ لیا تو پہلے کم تماشا لگا ہے سب تمہاری من مرضی کا ہوتو رہا ہے گھبراہٹ میں وہ اسکے نزدیک آئی تھی اک لمحے کو صارب کا دل رک سا گیا تھا مگر اس ظالم حسینہ کے سامنے کمزور نہیں پڑنا تھا اسے ۔۔۔۔۔

یہ پہن کے آؤ شاپنگ بیگ اسکے سامنے کیا جب وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔

منہ پہ ہلدی لگائے سفید کلف لگا سوٹ پہنے وہ مہندی کا بھگوڑا دلہا ہی تو لگ رہا تھا ۔۔۔۔

جانتا ہوں بہت پیارا لگ رہا ہوں میں مگر فلحال وہ کرو جو میں نے کہا ہے اپنی جانب بغور دیکھتے پا کر اس نے ریحاب کو ٹوکا۔۔۔۔۔

وہ بیگ میں جھانکنے لگی جہاں پہ شاید نہیں یقناً مہندی کی مناسبت سے جوڑا تھا۔۔۔

یہ یہ نہیں صارب بابا کا پتا نا انہوں نے تم کیوں ایسا کررہے وہ روہانسی ہوئی۔ ۔۔۔۔۔۔

صارب نے اسکی رونی شکل دیکھتے اک جھٹکے سے اپنے سامنے کیا تھا اگر تم یہ جوڑا پہن کے نا آئی تو میں خود ہی ۔۔۔۔۔

سمجھ گئی ہونا تو چلو شاباش یہ جوڑا تو تمہیں پہننا ہی ہوگا ۔۔۔۔

وہ فوراً بیگ لیتی واشروم میں گھسی تھی مبادہ وہ اس پہ عمل ہی نہ کرڈالے۔۔۔۔

گرین اور یلو کلر کا لہنگا چولی پہنے وہ اسکے سامنے تھی

دوبٹہ سر پہ۔پھر سے سیٹ تھا۔۔۔۔۔۔

صارب نے آگے بڑھتے اسکے دونوں ہاتھوں میں گجرے پہنائے تھے۔۔۔

تبھی اسکا موبائل بج اٹھا ۔۔۔۔

ہاں سب اوکے ہے تم لوگ آجاؤ اوپر ہی نجانے وہ کسکو اب بلا رہا تھا وہ جو سمجھ رہی تھی کہ شاید وہ اسے زچ کرنے کو یہ سب کررہا حیران ہوا تبھی تین لڑکیاں اسکے روم میں انٹر ہوئی تھیں واؤ شی از سو کیوٹ رابی جو اسے فرسٹ ٹائم دیکھ رہی تھی آتے ہی چٹ پٹ اسکے گال چوم ڈالے زہرہ بھی آگے بڑھ کے اسے گلے لگانے لگی مگر مشعل بہنوں اور بھائی کی خوشی کیلئے آگئی تھی ۔۔۔۔

پر اس پہ نظر پڑتے ہی وہ پہچان چکی تھی کہ یہ وہی ہاسپٹل والی لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔

ریحاب کو ان سب کی آمد حیران کررہی تھی ۔۔۔

چلیں آپ یہاں بیٹھیں ریحاب کو پکڑے وہ اسے سیٹنگ صوفے بیٹھا چکی تھی جبکہ صارب خود ہی آگے بڑھ کے اسکے برابر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔

ریحاب اسکے بیٹھتے ہی تھوڑا دور ہوئی اور شاید کسی نے نوٹ کیا ہو نا کیا ہو مگرشعل جو اسی کو بغور دیکھ رہی تھی فوراً اسکی حرکت نوٹ کی تھی۔۔۔۔۔

رابی نے مٹھائی کا ڈبہ کھولا اور ساتھ مہندی ہلدی بھی وہ اک ساتھ ہی سب رسمیں کرنے آگئیں تھیں ۔۔۔۔۔

زہرہ نے مسکراتے دونوں کو پہلے ہلدی لگائی گویا مایوں کی رسم۔ادا ہوگئی۔۔۔۔۔۔

پھر ان تینوں نے مل کے مہندی لگائی ۔۔۔۔

رابی اس سب میں اک فوٹوگرافر کا کام بھی ساتھ انجام دیے جارہی تھی صارب نے رابی کو اشارے کرتے ریحاب کے شانے پہ سر ٹکایا تھا جبکہ ریحاب اسکی حرکت پہ اسے دیکھنے لگی تبھی رابی نے یہ خوبصورت منظر کیمرے میں مقید کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشعل بھائی کے یہ لاڈ سمجھنے سے قاصر تھی جو یقناً ریحاب کو زچ کررہا تھا۔۔۔۔۔

اس سب میں وہ اک کٹھ پتلی بنے ان کے حکم مانے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔

بھائی مہندی برائڈل کا مکمل شوٹ ہوگا ود فیملی اور شاید وہ انکا دل رکھنے کو یا پھر ازالے کو چپ چاپ انکی بات مانتی گئی تھی۔۔۔۔

صارب کا موبائل بجا نمبر دیکھتے ہی وہ الرٹ ہوا چلو بچو ٹائم از اوور وہ کھڑا ہوا باقیوں کو بھی الرٹ کرگیا تھا ۔۔۔۔

اور تبھی دروازہ کھلا سندس اندر داخل ہوئی تھیں ۔۔۔

اندر ہوتا تماشہ دیکھ وہ حیران تھیں ۔۔۔۔

پھوپو آپ ریحاب کی آواز پہ وہ سب پلٹے تھے۔۔۔۔۔

تو وہ لمحہ آن وارد ہوا جب زہرہ اور صارب اس ہستی کے سامنے ٹہرے تھے جسے دنیا ماں کہتی ہے ۔۔۔

مگر ان کیلئے یہ حوالہ اک گالی سے کم نہ تھا۔۔۔

کیونکہ جب اک عورت محبوب سے بے وفائی کرے تو وہ عورت ہی رہتی ہے مگر جب وہ شوہر سے بے وفائی کرے تو اک گالی بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا چلیں صارب زہرہ کی آواز پہ وہ ہوش میں آیا تھا جبکہ سندس اپنی اولاد کو سامنے دیکھ تڑپ کے آگے بڑھیں تھیں۔۔۔

زز زہرہ صارب وہ دیوانہ وار انکی جانب لپکیں جبھی صارب زہرہ کو سائیڈ پہ کرتا ہوا آگے آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھیں خاتون یہاں پہ جو کچھ ہوا اگر اس کی خبر شاہد علوی یا باقی کسی گھر کے فرد کو ہوئی تو یقیناً یہ آپ کیلئے اچھا نہیں ہوگا جو شخص شادی کی رات آپکی بیٹی کو اغوا کر سکتا ہے وہ راز کھول کے سیلمان کے سامنے بھی لاسکتا ہے مسسز شاہد کو تو بہانہ چاہیئے سمجھ ہی گئی ہونگی آپ ۔۔۔۔۔

اجنبی وارن کرتا انداز کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اپنی ماں سے مخاطب ہے ۔۔۔۔۔۔

بب بیٹا اک اور ٹوٹا پھوٹا لفظ ان کے منہ سے ادا ہوا مگر صارب ان لوگوں کو لیتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

سندس علوی اپنے تمام حق کھو چکی تھیں مگر نو ماہ اسے اپنے خون سے سینچا تھا اور زہرہ وہ کتنی بڑی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔

پھوپو ریحاب انکے کندھے پہ ہاتھ رکھے ان سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔۔

ریحاب وہ تم نے دیکھا نا اس نے مجھے ماں کہنا بھی گوارہ نہیں کیا زہرہ وہ تو پہچانتی تھی مجھے پھر ۔۔۔

ریحاب کو انکی حالت دیکھ افسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔

مگر وہ انکیلئے کچھ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔

تم میرے صارب کی دلہن بنوگی ریحاب مم میں کتنی پاگل تھی جو شاہد کو تعلق ختم کرنے کا بول رہی تھی تمم تم ہی تو جوڑوں گی اس خاندان کو تم واپس لاؤگی میری زہرہ اور صارب کو بتاؤ لاؤ گی نا وہ دیوانوں کی طرح اسکے ہاتھ پکڑے التجائیں کرنے لگی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

زویا ناک کرتی اندر داخل ہوئی سامنے موجود ماں اور ریحاب کو مہندی کے جوڑ ےمیں ملبوس دیکھ حیران ہوئی تھی۔۔۔۔۔

یہ سب کیا ہورہا ہے اسکے پیچھے مسسز شاہد بھی اندر آئی تھیں وہ جو سوچ رہی تھی کہ ان لوگوں کے جاتے ہی چینج کرے گی بری طرح پھنسی تھی وہ مما گھبراہٹ میں اسے کچھ سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔۔۔

میں لائی تھی ریحاب کیلئے یہ جوڑا اور سب کچھ میرے بیٹے کی دلہن بن رہی ہماری ریحاب بھلا کوئی رسم نہ سہی مگر اتنا حق تو ہے نا اسکا کہ سسرال۔کا آیا جوڑا پہن سکے۔۔۔۔۔

ارے واہ سندس پہلے تمہارا بیٹا ماں مانتا ہے تمہیں مسسز علوی کی بات زویا کے بھی دل پہ لگی تھی۔۔۔۔۔

چلیں مما زویا نے سندس کو وہاں سے ہٹانا چاہا تھا ۔۔۔۔۔

ایسے کیسے تم آؤ بھابی کو مہندی لگاؤ وہ صارب کی بہنوں کا رکھا سامان اسکے آگے کرنے لگی جبکہ ریحاب اک لمحے انکی حالت نارمل نہیں لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

مما زویا نے کچھ بولنا چاہا تبھی مسسز علوی آگے بڑھیں تھیں میری اکلوتی بیٹی کی شادی ہے چلو زویا ۔۔۔

گویا وہ خود بھی اس کار خیر میں حصہ لینے لگی تھیں۔۔۔

اور پھر وہ سسرال۔اور میکہ دونوں طرف کی رسم میں شریک ہوئیں ۔۔۔

ریحاب نے اک مشکور نظر پھوپو پہ ڈالی تھی جو شاید صارب کی دھمکیوں سے ڈر گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واؤ اٹ واز امیزنگ ۔۔۔۔۔۔

رابی کی آواز پہ سب ہنسے تھے جو صارب کی مہندی کی رسم کی تصاویر سبکو دکھانے میں لگی تھی سب کزنیں ان کے چپ چاپ نکلنے پہ غصہ تھیں کل آجائیں گی نا اس گھر میں شوق سے دیکھ لینا۔۔۔۔

اور تبھی مشعل کا دل بھی بے۔چین ہو اٹھا تھا تو کل وہ بھی تو یہاں سے رخصت ہو جائے گی چاہے دنیا کے دکھاوے کو ہی سہی۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *