Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 19)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

میں اُس کی محبت میں سدا مہکتا رہو گا

وہ شخص گلابوں کے جزیروں کی طرح ہے۔۔۔۔۔۔

دونوں گھروں میں منت اور ارحم کے بعد آنے والی پہلی خوشی تھی جتنے دن وہ لوگ شہر رہے اسے ہاتھ کا چھالا بنائے رکھا تھا وہ ارحم سے بات کرنا چاہ رہی تھی مگر اسے کوئی موقع دیے بغیر گاؤں روانہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔

رمیز لالہ نے بھی اسے دعائیں دی جبکہ منت پڑھائی کے درمیان یہ سب وہ گھبرا اٹھی تھی۔۔۔۔۔

تائی سائیں اسکی گود بھرائی کی رسم کرنا چاہ رہیں تھیں

مگر رمیز لالہ نے سختی سے منع کیا کہ فلحال وہ اک سٹوڈنٹ بھی ہے ان فضول رسموں کی ضرورت نہیں سب اپنا دل مسوس کے رہ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ان سب کی گاؤں واپسی تھی ارحم کی آمد اسے ژچ کرگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روم لاک دیکھ وہ مسکرا اٹھا تھا جانتا تھا کس بات کا احتجاج ہورہا ہے مگر اب کے وہ اسکے تمام منصوبوں پہ پانی پھیرنے آیا تھا ۔۔۔۔۔

کلک کی آواز کے ساتھ درواز کھلا اور وہ شرارتی نظریں لیے اندر داخل پہلے وہ اسکی آمد پہ حیران تھی مگر دوسرے ہی پل اک پلو نے ارحم کو خوش آمدید کہا تھا۔۔۔۔

اف میری جنگلی بلی کبھی تو مسکرا کے شوہر کا ویلکم کرلیا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منت نے بنا کوئی جواب دیے گھورنے پہ ہی اکتفا کیا تھا۔۔۔۔

اچھا سوری یار میں بس سرپرائز دینا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔

منت اس گھور کے رہ گئی تھی مگر ارحم وہ میرا خواب بات ادھوری چھوڑ دی کبھی ارحم کو برا نہ لگ جائے ۔۔۔

ضرور پورا ہوگا اور ہم اپنے گاؤں میں اک شاندار ہاسپٹل بنائیں گے مسکرا کے اسکی ہمت بندھائی تھی۔۔۔

پھر بےبی کو کون سنبھالے گا اک اور پریشانی۔۔۔

لو جی اسکی دادی نانی میں ابھی سے لڑائیاں شروع ہوچکی ہیں ابھی بھی تمہیں فکر کرنے کی ضرورت ہے میں تو سوچ رہا ہوں اک ساتھ دو ہی آجائیں اک دادی کا اک نانی کا اور اگر مجھے ضرورت ہوگی تو ہم اور لے لیں گے نا۔۔۔۔۔۔

ارحم کی بات پہ اک زوردار چٹکی کاٹ کے اسے نیند سے بیدار کیا۔۔۔۔

کیا کہہ رہے تھے اسکے خطرناک تیور دیکھ وہ کھکھلا کے ہنس اٹھا منت اسے پہلی بار شاید اتنا ہنستے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی دور سے بھلا کہاں میری بات سمجھ آئے گی شرارتی انداز میں کہتے اس اپنی جانب کھینچا اور وہم کٹی ہوئی پتنگ بنی اسکے اوپر آن گری تھی۔۔۔۔۔

تھینک یو من میری زندگی میں آنے کیلئے ۔۔۔۔۔۔

اسکے سر کو اپنے لبوں سے چومتے بولا تھا اور منت کے اندر اتنی محبت پا کے اک سرشاری سی دوڑی تھی۔۔۔۔۔۔

اسکی دعائیں مقبولیت پا گئی تھیں وہ عشق مجازی کو رازی کرنے کیلئے عشق حقیقی تک جا پہنچا تھا ۔۔____

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

رحمٰن ہاؤس میں اس وقت خوب چہل پہل تھی واقعی شادی میں گھر کا ساماں تھا سب سے زیادہ شور شرابہ رابی کی طرف سے مچایا گیا تھا کیونکہ آج مشعل کی رخصتی تھی اور صارب کی رخصتی اگلے دن تھی۔۔۔۔۔

اسلیئے ان لوگوں کو بارات کے ویلکم کیلئے وقت سے پہلے ہال میں پہنچنا تھا مشعل کو وہ پہلے ہی پارلر چھوڑ کے آچکا تھا۔۔۔۔

اور دوسری طرف علوی ہاؤس میں کہیں سے بھی شادی والے گھر کا ہلہ گلہ نہیں تھا۔۔۔۔۔

شاہد علوی کمرے میں مقید ہوکے رہ گئے تھے اور وہ پہلے ہی علی کو بتا چکے تھے دنیا کے دکھاوے کو یہ شادی کروا رہے ہیں۔۔۔۔

مگر اسکی بیوی کا وجود وہ اپنے گھر برداشت نہیں کریں گے اس لیے بہتر ہے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ لے جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی پرانی بات تو نہ تھی جب سیلمان کی شادی پہ وہ ہر کام میں پیش پیش تھے۔۔۔۔۔۔

مسسز شاہد نے بہت اچھے طریقے سے اسکا روم ڈیکوریٹ کروایا تھا انکو رحمٰن کی اولاد سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی کیونکہ وہ سندس کے تمام کارناموں کی گواہ تھیں اور وہ اپنے بیٹے کی خوشی کیلئے اتنا تو کر ہی سکتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقررہ وقت پہ ریحاب سمیت گھر کے مکین میرج ہال کی طرف روانہ ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی سادہ سی بارات دیکھ کےلوگ حیران رہ گئے تھے اور سب سے بڑھ کے سندس کی موجودگی ہزاروں سوال اٹھے تھے ۔۔۔۔

مگر وہ سب پہلے سے ہی صورتحال کیلئے تیار تھے۔۔۔۔۔۔

علی حیدر علوی کو مشعل کے پہلو میں لا کے بٹھایا گیا تب بھی مشعل کے دل میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ایسے جیسے یہ کوئی سٹیج ڈرامہ پرفارم ہورہا ہو تھا اور سب لوگ اپنا اپنا کردار بخوبی انجام دے رہے ہوں۔۔۔۔۔۔۔

کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دونوں فیملیز کے منہ پہ لکھا تھا یہ مجبوریوں کے رشتے ہیں پھر بھی ایسی نوبت کیوں آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

انگوری کلر پہ میرون ایمبرائیڈڈ کام والی لانگ فراک پہنے ، پارٹی میک اپ کیے ریحاب بہت جازب نظر لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صارب نے اک نظر اسے دیکھا جو الگ تھلگ کونے میں بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔

پورے فنکشن کو مسسز شاہد علوی اور زریں اچھے طریقے سے دیکھ رہی تھیں جبکہ سندس زویا کے ہمراہ بیٹھیں سٹیج پہ ہنستے کھیلتی رابی اور زہرہ پہ نظریں جمائے بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔۔۔

زویا آجاؤ نیو کپل ساتھ تصویریں لیں سیلمان نے اسے ماحول کا حصّہ بنانا چاہا تھا وہ اسکی سنگت میں سٹیج کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔۔۔

جبھی زہرہ اسے دیکھ کے چونکی مگر کچھ کہے بغیر ان دونوں کیلئے سٹیج خالی کرتی ریحاب پاس آگئی تھی۔۔۔۔

آجاؤ ریحاب تم بھی فیملی شوٹ میں حصہّ لو زہرہ نے اسے ہاتھ پکڑے کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

جو بھی تھا علی کو تو اسکا من پسند ساتھی مل رہا تھا وہ مسکراتی اسکی ہمراہی سٹیج کی طرف بڑھی جبھی صارب سامنے آیا تھا ۔۔۔۔

واؤ ابھی سے نند بھاوج میں اتنا پیار زہرہ کے ہاتھ میں دبے اسکے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔

ریحاب اسکے طنز پہ سر جھکا گئی تھی۔۔۔۔

آپ نا زرا دور رہیں بھابی سے رابی انکے درمیان ٹپکی تھی۔۔۔۔

کیوں ان کو ہیومن فوبیا ہے صارب نے اپنا مزاق خود ہی انجوائے کیا تھا ۔۔۔۔۔

نہیں جی صارب فوبیا رابی اسی کی ہی بہن تھی اسکے برجستہ جواب پہ ان تینوں کی چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔۔۔

واؤ بھابی آپ اسلیئے نہیں مسکراتیں نا کہ کہیں نظر نہ لگ جائے آپ مسکراتی پیاری لگتی ہیں۔۔۔۔

رابی کا اتنا منہ پھٹ انداز صارب کے سامنے دیکھ وہ بلش ہوئی تھی ۔۔۔۔

صارب کا دل اک لمحے اسکے سرخ گالوں میں کھویا تھا۔۔۔

آہنم چلیں کیمرہ مین کبسے سٹیج پہ ویٹ کررہا زہرہ کے گلہ کھنکار کے متوجہ کرنے پہ وہ اس ظالم حسینہ کے سحر سے نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سٹیج پہ دونوں فیملیز موجود تھیں سیلمان سمجھا بجھا کے باپ کو بھی لے آیا تھا سندس نے نم آنکھوں سے یہ منظر دیکھا وہ سب کتنے مکمل تھے ان کے بغیر بھی اور زویا وہ بھی تو اپنے اصل سے جاملی تھی۔۔۔۔۔۔۔

رابی نے پھر سے صارب کو گانے کی فرمائش کی تو وہ اسکی بے تکی فرمائش پہ صاف انکار کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔

منت بھی ارحم۔کے ساتھ آن موجود ہوئی تھی رابی اسکو گلے لگائے ارحم کے ہاسپٹل والے قصے سنانے میں مصروف تھی اور وہ کھلکھلا اٹھی ۔۔۔۔۔

ارحم نے انجپھے سے اسے دیکھا اور رابی کی گھوری پہ اس نے اپنی ہنسی کنٹرول کی۔۔۔۔۔۔

منت کو اسکی فیملی بہت اچھی لگی تھی اسپیشلی زہرہ وہ وہیں بیٹھے ہی اسے رمیز کے حوالے سے سوچنے لگی

سب لوگ سٹیج پہ موجود صارب کی طرف متوجہ ہوئے تھے جو مائیک سنبھالے گانے کیلئے ریڈی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

تیری راہ میں ہوگیا فدا

بن تیرے میں جاؤنگا کہاں

اک مبہم مسکراہٹ اس نے ریحاب کی طرف اچھالی تھی وہ اسکی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے مطلب سے اچھے سے آگاہ تھی۔۔۔۔۔۔

اے صنم اقرار کر

ٹوٹ کے اظہار کر

تنہا ہوں میں تیرے بنا

مجھے پیار کر ہاں پیار کر

تیری راہ میں ہو گیا فدا

بن تیرے میں جاؤنگا کہاں

حاظرین کی طرف سے بھرپور گرمجوشی کا اظہار کیا گیا تھا۔۔۔۔۔

رابی کی فرمائش پوری کرنے کے بعد وہ پھر سے مشعل کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو آنکھوں میں آنسو لیے موم کہ گڑیا لگ رہی تھی ۔۔۔

ڈیپ ریڈ کلر کی میکسی میں ملبوس مکمل دلہن کا روپ دھارے بہت خوبصورت لگ رہی تھی اسکی ڈول وہ بے ساختہ اسے گلے لگا کے روپڑا تھا کیا نصیب پایا تھا اسکی بہن نے ۔۔۔۔۔۔

علی میں صرف تمہارے سہارے اپنی بہن کو اس گھر میں بھیج رہا ہوں جہاں پہ اسکی عصمت پہ سوال اٹھے سخت برفیلا لہجہ ریحاب کو چونکا رہا تھا وہ اب بھی اپنی بہن کو لے کے اتنا ٹچی ہورہا تھا اور اگر بابا یا پھوپو کی طرف سے کوئی زیادتی ہوئی تو اسکا کیا انجام کرے گا وہ مستقبل کا ڈر اسے بھی گھیرنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر اک بھرپور دن کا اختتام ہوا تھا جہاں سے آگے زندگی نئی کروٹ لینے کو تھی۔۔۔۔۔

ریحاب اور علی کے درمیان پہلے ہی اجنبیت کی دیوار ہائل ہوچکی تھی اس لیے مشعل کا استقبال بلکل روایتی دلہنوں کے جیسا نہیں ہوا تھا نا بہنوں کی کوئی رسم نا ہی بھابی کی طرف سے کچھ تھا۔۔۔۔۔

اسے علی کے روم میں بٹھا کے زویا اور ریحاب بغیر کوئی بات کیے وہاں سے چلی گئی تھیں ۔۔۔۔

اور مشعل رابی ابھی تک زویا اور سندس سے اپنے کسی رشتے سے ناواقف تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

تو سیلمان کی بیوی بھی اسے دیورانی کے روپ میں قبول نہیں کررہی تھی ۔۔۔۔

اس نے اک سرسری نگاہ کمرے پہ ڈالی تھی جسے شاید بحالت مجبوری گنے چنے فریش روز کے گلدستے رکھ کے فارمیلٹی پوری کی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

سب کچھ اتنا ایب نارمل دیکھ اسکے دل کو کچھ ہوا تھا تبھی علی سیلمان اور زویا سمیت کمرے میں داخل ہوا اور پھر مسسز علوی بھی آگئی تھیں۔۔۔۔۔

ویلکم ٹو علوی ہاؤس لٹل گرل سیلمان شرارتی انداز میں اسکی طرف بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔۔۔

مائی سیلف سیلمان علوی جسے آپ بالکل صارب سمجھ سکتی ہیں اگر علی کہیں بھی کوئی گڑبڑ کرے ڈائرکیٹلی کانٹکیٹ می بردارنہ انداز میں اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے بولا تھا۔۔۔۔

اور یہ محترمہ زویا سیلمان علوی آپکی جیٹھانی کم سسٹر زیادہ ہیں جیسے میں بھائی ویسے ہی یہ سسٹر سو ڈونٹ بی فارمل فار اینی تھنگ ان فرنٹ آف ہر زویا کو آنکھوں سے کچھ اشارہ کیا تبھی وہ اسکے ساتھ آکے بیٹھی تھی اور ریپرڈ گفٹ اسکی جانب بڑھایا جو اس نے شکریہ کہہ کے وصول کیا تھا زویا بھی اس معصوم سی لڑکی کو دیکھتے مسکرائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

اور یہ آپکے شوہر نامدار مسٹر حیدر علوی یہ اپنا تعارف خود بہتر طریقے سے کروا دیں گے شرارتی نگاہ علی پہ ڈالی جبکہ مشعل کا سنجیدہ چہرہ دیکھ وہ بھی نہیں مسکرا سکا تھا۔۔۔۔۔۔۔

جن کا تعارف پہلے ہونا چاہیئے سیلمان بھائی آپ نے ان سے تو کروایا نہیں خود کو سنبھالتے وہ مما کو اسکے سامنے لایا تھا۔۔۔۔۔

او ہاں یار موسٹ امپورٹنٹ لیڈی اف دس ہاؤس اینڈ یو مادر ان لاء مسسز شاہد علوی سیلمان ہاتھ سے مائیک بنائے تعارف کرائے جارہا تھا جبکہ اسکی حرکت پہ بے ساختہ ان سب کے چہروں پہ مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔۔

ناؤ فیملی از کمپلیٹڈ مگر ابھی کہاں مکمل تھی شاید وہ شاہد علوی کو بھلائے ہوئے تھے اوپر سے آتے قہقوں کی آوازیں انہیں بے چین کررہی تھیں اس لڑکی کو لا کے وہ اک ناکامی کا شکار ہوچکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

انکا دل کررہا تھا سبکو جھاڑ پلا دیں مگر وہ پہلے ہی سادگی سے رخصتی کیے علی کو سزا دے چکے تھے اپنی طرف سے۔۔۔۔۔۔۔

سب نیچے چلے گئے تھے علی سمیت سیلمان کو اس سے کوئی امپورٹنٹ بات کرنی تھی تبھی وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

مشعل اپنا ہیوی ڈریس سنبھالے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی تھی اور خود کوجیولری سے آزاد کرنے لگی پنیں اتارتا اسکا ہاتھ آئینے میں نظر آتے حیدر کے عکس کو دیکھ کے کچھ لمحے رکا مگر پھر وہ بے نیازی سے اپنا کام کرنے لگی علی اسکے پاس آیا ۔۔

اور اسکے ہاتھ سے پن لیتا خود اسکی پنز اتارنے لگا تھا۔۔۔۔

اتنی جلدی اتار دیا سب ابھی تو میں نے جی بھر کے دیکھا بھی نہیں تھا آپکو مش ۔۔۔

شکوہ اسکی زبان سے پھسلا تھا جبکہ وہ اک جھٹکے سے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔

آپ شکوہ کرنے کے حق کھو چکے ہیں حیدر کسی خوشفہمی میں مت رہیئے گا مسٹر حیدر علوی میں یہاں صرف آپکے خاندان کا غرور توڑنے آئی ہوں اسی گھر سے میرے فرشتوں جیسے بھائی اور باپ کو بے عزت کرکے نکالا تھا نا آپکے گھر والوں نے لو میں آگئی اسی گھر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے کردار پہ انگلیاں اٹھائی تھیں میرے بچے کو اک گناہ قرار دیا تھا نا آپ لوگوں نے میں اپنے اسے نجس ناپاک وجود کے ساتھ یہاں آگئی ہوں صرف اور صرف علوی خاندان کو یہ بتانے کے یہ دنیا مکافات عمل کی جگہ ہے۔۔۔۔

جو انھوں نے میرے ساتھ کیا وہ سود سمیت لوٹائیں گے مجھے سن رہے ہیں نا آپ میرا مان میرا غرور میری عزت سب کچھ مسٹر حیدر ۔۔۔۔۔۔۔

وہ حیران سا اسے دیکھ رہا تھا جو شولہ جوالہ بنی اپنی زبان سے زہر اگل رہی تھی۔۔۔۔۔

اوکے میں مانتا ہوں مش کے بہت ناانصافی ہوئی تمہارا جو دل چاہے کرلینا مگر میرا یقین کرو میں لاعلم تھا ان سب باتوں سے مش میں بھلا اپنے بچے کو کیسے وہ بے بس انداز میں اسکی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔

اک قدم آگے نہیں آئیں گے آپ مسٹر علوی ورنہ انجام کے زمدار آپ خود ہونگے سامنے ڈریسنگ پہ موجود پوائزن کی ڈبی اسکے سامنے کی تھی علی کا دل اسکی اتنی سنگدلی پہ دھک سا رہ گیا تھا۔۔۔

پلیز مش تم ایسا کچھ نہیں کروگی میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا پلیز۔۔۔۔۔۔

مشعل کا دل اسکا بے بس انداز دیکھ کٹ سا گیا تھا مگر وہ بھی تو اسکے معاملے میں نرم نہیں پڑا تھا بھلا وہ کیسے اتنی آسانی سے اسے معاف کردیتی ۔۔۔۔

وہ بنا اسے کچھ کہے روم سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔

فریش ہونے کے بعد وہ روم لاک کرتی لیٹ گئی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے اپنے ماں باپ اور بہنوں کے مطمئن چہرے گھوم رہے تھے جو دنیا کے سامنے اک جائز رشتہ دے کے سرخرو ہوچکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس شہرِ کم نظر کی عجب ریت ہے اے دل

مٹی کے بھاؤ بکتے ہیں ، کُندن مثال لوگ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *