Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese (Episode 21,22)

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

زریں بیگم اتنے عرصے بعد صارب کا کھلا چہرہ دیکھ خوش ہورہی تھیں ریحاب انکی محبتوں پہ شرمندہ ہو ئی جانتی تھی کے اسکے بابا مشعل کا کیا حال کررہے ہوں گے اس چہز کا خیال آتے ہی نوالہ اسکے گلے میں اٹکا تھا رابی اور زہرہ زریں بیگم کی تو جیسے جان پہ بن آئی تھی وہ حیران تھی ان لوگوں کے ظرف پہ کہ کتنے عظیم۔تھے وہ لوگ جو اسکی کوتاہیاں جان کے بھی نظرانداز کرگئے کمرے میں آتے ہی اسکا ضبط ختم ہوا تھا اسے صارب اور اسکی فیملی کی خلاف کی گئی اپنی سازشیں رلا رہی تھیں زہرہ جو اسے ولیمے کی تیاری کا کہنے آئی تھی اسکو ایسے روتے دیکھ گھبرا گئی تھی” کیا ہوا ریحاب صارب نے کچھ کہا ہے ہماری کوئی بات بری لگی ہے “اور ریحاب اسے اپنی پرواہ کرتے دیکھ بنا کسی جھجک اسے گلے لگائے رو پڑی وہ اتنے دنوں کی کثافت کو آنسوؤں کے زریعے دھو رہی تھی “مجھے معاف کردو زہرہ میں نے تم لوگوں کے ساتھ بہت برا کیا ہے تمہیں مشعل کو صارب سبکو بہت ہرٹ کیا ہے میں بہت شرمندہ ہوں مجھے لفظ نہیں مل رہے کس طرح معافی مانگوں” اور زہرہ جو سمجھ رہی تھی کوئی بڑا مسئلہ پیش آیا وہ اک دم پرسکون ہوئی تھی۔۔۔

میں نے مرتد اور دنیا پرست ہوگئی تھی میں اندھیروں میں بھٹکتی اپنی زات اور اپنے رب پہ غلط گمان رکھنے لگی تھی مم مگر اب ۔۔

آنسو کے کثرت نے اسے بات پوری نہیں کرنے دی جانتی ہو زہرہ زینب نے مجھے کیا بتایا خود پہ ضبط کرتی وہ پھر سے شروع ہوئی اور زہرہ بھی چاہ رہی تھی کہ وہ اک ہی بار رو کے دل کا غبار ہلکا کرلے کیونکہ وہ اتنی پیاری لڑکی کی آنکھوں میں پھر سے نادامت کے آنسو نہیں دیکھنا چاہ رہی تھی جبکہ وہ دونوں ہی دروازے پہ صارب کی موجودگی سے انجان تھیں وہ بھی چاہ رہا تھا کے ریحاب اپنی ہستی کے راز کھولے۔۔۔۔۔۔

مرتد اور دنیا پرست لوگوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر ثبت کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنْم بَعْدِ اِیْمَانِہٖٓ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَءِنٌّم بِالْاِیْمَانِ وَلٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْھِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ oذٰلِکَ بِاَنَّھُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ oاُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ سَمْعِھِمْ وَ اَبْصَارِھِمْ وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ o(النحل۱۶:۱۰۶ تا ۱۰۸)

جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر ہے)۔ مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کرلیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا اور اللہ کا قاعدہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو راہِ نجات نہیں دکھاتا جو اس کی نعمت کا کفران کریں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اورآنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔اور یہ غفلت میں ڈوب چکے ہیں۔۔

اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَھُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اِِنَّھُمْ سَآءَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ oذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لاَ یَفْقَہُوْنَ o(المنافقون۶۳:۲۔۳)

انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ لوگ اللہ کے راستے سے خود رُکتے اور دوسرں کو روکتے ہیں کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ اب یہ کچھ نہیں سمجھتے”

وہ زینب کی باتوں کا پرچار کررہی تھی جبکہ صارب کی زہنی رو اسکی باتوں سے بھٹکی تھی شعور میں اک آواز نمودار ہوئی تھی وہ جو کچھ عرصہ پہلے خود سوچنے لگا تھا کہ وہ کون لوگ ہیں جنکے دلوں پہ مہر ثبت کر دی گئی وہ جو ریحاب کو لگا تھا وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے کہیں وہ بھی تو ان میں شامل نہیں تھا کیونکہ صبح ریحاب کو نماز پڑھتے دیکھ اسے بھی اک سوچ آئی وہ بھلا کب سے اپنے دین سے دور تھا وہ بھی دنیا پرست تھا کامیابی اور گلیمر کی چمک اسے بھی ہر چیز سے دور رکھے ہوئے تھی مگر شاید اسکیلئے آگاہی کا در نہیں کھل پا رہا تھا کیونکہ اسکے اردگرد دنیا کی۔محبت اک مضبوط قلعہ بنائے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

انکے ولیمے سیلمان اور زویا ساتھ مسسز شاہد آئی تھیں جبکہ مشعل اور علی کے جانے کا سن وہ سب اداس ہوئے اک طرح سے اچھا تھا کہ وہ اسے لے گیا ورنہ بابا اور سندس پھوپو کو اپنے بدلے پورے کرنے کا موقع مل۔جاتا ۔۔۔

پرپل کلر کے ایمبرائیڈڈ فراک میں صارب کو وہ دل۔میں اترتی محسوس ہوئی تھی اسے اپنی طرف یک ٹک دیکھتے پا وہ کنفیوژ ہوتے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔

جبھی ڈریسنگ روم میں لٹکتی نائیٹز اسے شرم سے لال کرگئیں وہ اپنے لیے سادہ سا سوٹ نکالے پلٹنے لگی جب پیچھے کھڑے صارب سے ٹکرائی۔۔۔۔۔۔

وہ پیچھے کو ہوتی الماری سے ٹکرائی صارب نے ہاتھ بڑھا کے سلک کی ریڈ نائیٹی نکالتے اسکی طرف بڑھائی اسکا بےباک انداز دیکھ ریحاب نظریں چرانے لگی۔۔۔۔۔۔

کیاہی اچھا ہو اگر تم اس کمرے میں میری مقرر کردہ حدود قیود میں رہو نائیٹی اسے پکڑاتے پیچھے کو ہٹ گیا تھا جیسے وہ پہلے سے جانتا تھا کہ وہ اسکی سلیشن ریجکٹ کرے گی۔۔۔۔۔۔

مرتا کیا نا کرتا کے مصداق پہ عمل۔پیرا ہوتے وہ اپنا ڈریس واپس رکھتی چینج کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

اک نظر قدآور آئینے میں نظر آتے اپنے سراپے پہ ڈالی مگر باہر تو آنا ہی تھا ۔۔۔

اسکی نگاہ جیسے ہی صارب پہ پڑی وہ مبہم مسکراہٹ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا ریحاب کا دل کیا وہ اسے اک لمحے میں غائب کردے کیا رات کھڑے کھڑے بیتانے کا ارادہ ہے۔مسسز صارب۔۔۔۔۔

اور ریحاب کو دنیا میں سب سے برا ترین شخص ہی وہیں لگ رہا تھا چھوٹے چھوٹے قدم۔بڑھاتی وہ بیڈ کے قریب آئی صارب نے اسکی کلائی سے پکڑے اپنی طرف کھینچا خود کا بچاؤ کرنے کی کوشش کے باوجود وہ اسکے قریب گری تھی صارب نے اسکی بے بسی کا جیسے لطف لیا ہو وہ جھکتے ہوئے اسکے لبوں کو اپنے مقید کرچکا تھا ریحاب نے سختی سے اپنی آنکھیں میچی تھیں اور صارب اسکے حال۔پہ رحم۔کھاتا اسے چھوڑ کے اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔۔۔

کیا خیال ہے اگر کوئی مووی دیکھی جائے وہ جو کہنے لگی تھی کے اتنے تھکا دینے والے دن کے بعد اس میں ہمت نہیں ڈی۔وی۔ڈی پلئیر کی طرف بڑھتے دیکھ چپ رہ گئی جب کرنی اس نے اپنی مرضی تھی پھر اسکی رائے لینے کا فائدہ لائٹس آف کرتا وہ اسکے پہلو میں آبیٹھا تھا ۔۔۔۔

مووی کے آن ہوتے ہی وہ اندازہ لگا چکی تھی کے وہ اسے کیوں مووی دیکھانے پہ باضد تھا یقیناً وہ اپنے ہاتھ سے اسے زچ کر ے کا کوئی موقع نہیں گنوانا چاہتا تھا ۔۔۔۔

جبکہ وہ اسے مووی دیکھا کم اور مظاہرہ زیادہ کررہا تھا ہارر سین دیکھ اسےاپنی جان سولی پہ لٹکی نظر آرہی تھی وہ صارب کے قریب ہوئی تو صارب مووی بھول اس میں ہی ہی اپنے ہوش گنوانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

،❤❤❤❤❤

وہ ارحم۔ساتھ شاپنگ پہ نکلی تھی جبھی رابی اور زہرہ کو شاپنگ کرتے دیکھ انکے پاس چلی آئی رابی ارحم۔کو دیکھ کے تھوڑی کنفیوژ ہوئی تھی اگرچہ منت اسے بتا چکی تھی کے اس بات کو لے کے انہوں نے گھر میں کوئی ڈسکیشن نہیں کی یہ محظ اک غلط فہمی تھی مگر پھر بھی اب وہ اس سے ڈرنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

زہرہ اسے پھر سے اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دینے لگی کیونکہ شادی کے موقعے پہ وہ سہی طریقے سے ان سے بات چیت نہیں کرپائیں تھیں ۔۔۔۔۔۔

جی ضرور آئیں گے منت کے بجائے ارحم نے خوشدلی سے جواب دیا وہ چاہ رہا تھا کہ رابی اسکے حوالے سے دل میں کوئی خلش نہ رکھے بہرحال وہ اسکی من کی اکلوتی دوست تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منت گھر میں بے بی کے کھلونے کپڑے بچھائے بیٹھی تھی۔۔۔۔

میڈم کل آپکا پیپر ہے بہتر ہے آپ اس پہ توجہ دیں چھوٹے چھوٹے کپڑے اشتیاق سے دیکھتی وہ اسے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

ارحم آنے والا بے بی گرل ہوگا یا بوائے یہ تو ہمیں پتا ہی نہیں منت کے سر اور پریشانی ۔۔۔۔

اف کیا فرق پڑتا ہے بوائے یاگرل ہو ہمارے رشتے کو مضبوط کرنے کو ہمارے پیار کی نشانی ہوگا کیا اتنا کافی نہیں اسکے بلش کرتے چہرے سے اپنے گالوں کو مس کیا۔۔۔۔

جبکہ منت اسکو بہکتے دیکھ دور اٹھی آہاں نو مجھے ابھی پڑھنا ہے راہ فرار چاہی جبکہ ارحم اسکے بھاگنے کی تمام راہیں مسدود کرتا اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا اسکی پیار بھری سرگوشیاں منت کو گدگدائے جا رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤

ملائشیاء آئے ان کو ہفتہ ہوچکا تھا مگر یہاں آتے ہی علی اپنے آفس ورک میں بہت بری طرح بزی ہوچکا تھا اس نے پہلے ہی دن اپنا کمرہ الگ کرلیا تھا اسکا اپارٹمنٹ جو پہلے لڑکوں کے ساتھ شئیر میں تھا اب مکمل اسکی نگرنی میں آچکا تھا دو روم اور چھوٹا سا ڈرائنگ روم ساتھ میں امریکن سٹائل میں بنایا گیا کچن اک فیملی کے رہنے کو بلکل مکمل تھا اک ہفتے سے وہ۔کھانا باہر سے آرڈر کررہے تھے مگر اب علی کو لگ رہا تھا کہ مشعل کو بھی گھر کی زمداری قبول۔کرنی چاہیئے اور آج اسلیئے وہ جلدی آگیا تھا حسب معمول ڈورے مون لگائے وہ اپنا ٹائم پاس کیے جارہے تھی اسے دیکھتے سیدھی ہوبیٹھی تھی۔۔۔

خیریت آج اتنی جلدی کیسے آگئے مشعل پاپ کارن کھاتی اسکی طرف متوجہ ہوئی “ویسے کچھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہ۔رہا تھا تمہارے ساتھ”تھکن اسکی آواز سے ہی ظاہر تھی مگر وہ ظالم لڑکی پتا نہیں کب اس سے راضی ہونے والی تھی۔۔۔۔

مگر مجھے آپکے ساتھ کوئی ٹائم سپینڈ کرنے کا شوق نہیں زندان میں لے آئے نا یہی کافی ہے بے نیازی سے کہتے وہ آگے بڑھی تو علی نے اسے پکڑے اپنے سامنے کیا کیوں کررہی ہو ایسا بس کردو مش میں تھک چکا ہوں تمہاری بے توجہی سہتے سہتے اب تو مان جاؤ مگر ہمیشہ کہ طرح اس سے ہاتھ چھڑاتی چلی گئی تھی علی نے غصے میں فلاسک اٹھا کے دیوار پہ مارا کچھ ٹوٹنے کی آواز پہ اسکا دل پہ سہما تھا مگر اسکے سامنے معصوم قلقاریاں گونجی وہ کانوں پہ ہاتھ رکھتے بیٹھ گئی تھی بیڈ پہ گرے روتے روتے وہ سو گئی تھی۔۔۔۔۔

اسکی آنکھ بھوک کی شدت سے کھلی تھی مگر گھر میں مکمل سناٹا دیکھ ہو بوکھلاتی ڈرائینگ روم کی طرف بڑھی جہاں علی ہوش سے بےپہرہ پڑا تھا مشعل کے دل۔میں انجانا سا ڈر پیدا ہوا وہ علی کے قریب آتی اسے آوازیں دینے لگی مگر بے سود اس نے ہاتھ بڑھا کے چھوا تو شدید بخار میں تپ رہا تھا بے اختیار کو خود کو ملامت کرتی اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

من اسکے سر کو سہلاتے اس سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔۔

ہنمم وہ جو کتاب پڑھنے میں مصروف تھی صرف ہنم پہ اکتفا کیا۔۔۔۔۔۔۔

تم رمیز لالہ لی شادی کا کیوں نہیں سوچتی۔۔۔۔۔۔

وہ فوراً بک بند کرتی اٹھی تھی سوچا ہے پر ان کے جوڑ کی کوئی ملے تو بھی نا آپکی نظر میں کوئی ہے کیا

سوچتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ اسے ایسے دیکھتے دیکھ گڑ بڑایا تھا نہیں تمہارا مطلب کیا ہے میں لڑکیوں پہ نگاہیں رکھے پھرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

منت اسے گھور کے رہ گئی۔۔۔۔

میں اس لیے کہہ رہی تھی ارحم تمہیں اچانک یہ خیال کیسے آگیا۔۔۔۔۔۔

وہ تمہاری دوست ہے نا رابی ۔۔۔نو نو میں کبھی اتنی نان سریس لڑکی کو بھابھی نہیں بنا سکتی رمیز لالہ کا پتا ہے نا اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے منت نے اپنا کہہ سنائی اف لڑکی۔۔۔۔

میں اسکی سسٹر کی بات کررہا ہوں جو مال۔میں ہمیں ملی تھی۔۔۔۔

اسکی بات سن منت کی آنکھیں بھی چمکیں زہرہ ہاں مجھے بھی وہ۔کافی ڈیسینٹ لگی ہیں منت نے خوشی سے بھرپور لہجے میں اکلوتے بھائی کی شادی کا ارمان جو جاگ اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور جیسے ہی اس نے رابی سے بات کی اس نے وہی بیٹھے رشتہ ڈن کردیا جبکہ منت اسکی سدا کی جلد باز طبیعت پہ ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر گاؤں سے سبکو بلانے آگے بات بڑھانے کا سب ارحم نے اپنے زمہ لیا۔۔۔۔۔

کیوں منت بییبی میں آپکو پرسکون زندگی گزارتا اچھا نہیں لگ رہا رمیز لالہ کی بات پہ سب ہنسے تھے ججبکہ وہ خجل سی ہوگئی۔۔۔۔۔

رحمن صاحب اور زریں بیٹی کے اتنے خوبصورت نصیب پہ شادمان تھے صارب کو بھی وہ فیملی کافی اچھی لگی تھی۔۔۔۔۔

Episode 22

وہ اب تک اس سے بات نہیں کررہا تھا جب اسکی طلب محسوس ہوتی سوتے میں ہی اسکے وجود کے گرد گھیرا اسے بتا دیتا کہ وہ کیا چاہ رہا چپ چاپ اسکی ہر خواہش کی تکمیل کرتی اک فرمانبردار بیوی بنی ہوئی تھی “میری پیکنگ کردو ایک ہفتے کیلئے مجھے سنگاپور جانا ہے ” مصروف انداز میں اس سے مخاطب تھا وہ بنا کوئی بات کیے ہی اٹھ کے اسکے کپڑے نکالنے لگی “ایک بات کرنی تھی اگر آپ باہر جارہے ہیں تو میں کچھ دن امی کے گھر رہ آوں “سوالیہ نظریں اسکے کی بورڈ پہ چلتے ہاتھوں پہ ڈالے بولی تھی “نو” ایک لفظی جواب بنا کوئی سوال۔جواب وہ خاموشی سے اٹھتی باہر کی طرف بڑھی تھی کہاں جارہی ہو لیپ ٹاپ بند کرتے اسے مخاطب کیا”وہ مما ساتھ کھانا ” رہنے دو تم۔کرلیں گی وہ خود میرا سردبادو دونوں ہاتھوں سے ماتھے کو مسلتے سر درد کا تعین کیا تھا وہ بنا کچھ بولے بیڈ پہ آکے بیٹھ گئی اسکے برابر بیٹھے سر دبانے۔لگی مگر اسکا سر اونچا ہونے کے باعث ریحاب کا بازو اٹھا ہوا تھا صارب نے بغور اسکے صاف شفاف چہرے کو دیکھا جس پہ ہر وقت سوگواری چھائی رہتی تھی اسکا اٹھتا ہاتھ اس میں موجود چوڑیوں کی کھنک صارب کو بن پیے بہکا رہے تھے “میں نے کیا بولا تھا کمرے میں تم بال کھلے رکھو گی پھر یہ چوٹی کیوں” بات کرنے کو کوئی نا کوئی بہانہ تو چاہیئے تھا صارب نے اسکا دوبٹہ اتارے سائیڈ پہ رکھا اور بالوں کو ہاتھ میں لیے بل کھولنے لگا تھا جبکہ وہ اسکی حرکت پہ سٹپٹائی تھی مگر اسے احتجاج کا حق ہی کہاں دیا تھا اسکے بال بکھیرتا گود میں سر رکھے آنکھیں موند گیا تھا اسکے بال صارب کے چہرے پہ آرہے تھے کہیں وہ پھر سے نہ پھبر اٹھے اسلئے جب ریحاب نے اپنے بالوں کو سمیٹنا چاہا اسکا ہاتھ پکڑ کے بولا کتنی بار بولا میری بات کو بے مول نا کیا کرو سمجھ کیوں نہیں آتی تمہیں اک ہی بار کی کہی بات

آنکھوں میں شعلے لپکے تھے “سوری آپکے فیس پہ آرہے تھے تو ” جب مجھے اعتراض نہیں تو پھر تمہیں کیا اور آئیندہ میرے سے بحث مت کرنا اسکا پوک فیس بنا دیکھ صارب کو ہنسی آئی تھی مگر وہ کنٹرول کر گیا تھا دروازے پہ ہوئی دستک پہ وہ چونکتے ہوئے سیدھا ہو بیٹھا تھا ریحاب نے دوبٹہ پھر سے سر پہ جمایا آجاؤ یار کون ہے آواز سے بیزاری صاف ظاہر تھی دروازے پہ رابی موجود تھی بھئی وہ آپکا مینجر یہ ٹکٹس دے کے گیا ہے اسکے غصے سے تو کبھی کبھی وہ بھی سہم جاتی تھی ہنمم ٹھیک ہے ۔۔۔

بھابی آپ نے اپنی پیکنگ کر بھی لی رابی سامنے موجود بیگ کو دیکھتے حیرانگی سے بولی آپکو پتا سنگا پور مجھے اتنا پسند ہے بھیا پاس تو ٹائم ہی نہیں ہوگا آپ مجھے وہاں کی ہر لوکیشن کی تصاویر بھیجو گی اور لائیو ویڈیو کال پہ باف کریں گے وہ پھر سے پرجوش تھی ریحاب جو اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہ رہی تھی صارب کی بات پہ رک سی گئی ۔۔۔

یہ کہیں نہیں جارہی دوسری ٹکٹ میری اک دوست کی ہے صارب نے گویا خود ہی رابی کہ غلط فہمی دور کی تھی جبکہ ریحاب کا دل اسکا “میری دوست” پہ خراب ہوا تھا اگر وہ پہلے والی ریحاب ہوتی تو یقیناً رابی کا بھی لحاظ کیے بغیر اس سے لڑپڑتی مگر اب وہ چپ رہنا سیکھ چکی تھی ۔۔۔۔

اوہوں یہ کیا بات ہوئی آپ بھابی کو لے کے جائیں گے کم از کم ہنی مون ٹرپ ہو جائے گا رابی کی بات پہ صارب نے اسے گھورا وہ منہ بناتی باہر چلی گئی ریحاب کا دل بھی ہر چیز دے اچاٹ ہوا تھا وہ بھی بنا کچھ بولے وہاں سے کھسک لی۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

مشعل نے اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کیں اور گھر میں موجود فرسٹ ایڈ باکس سے بخار کی دوائی اسے کھلا دی اور اب اسکی طبیعت کافی بہتر لگ رہی تھی پوری رات وہ اسکے سرہانے پریشان بیٹھی رہی تھی علی نے اسے اپنے شانے سے سرٹکائے سوتا دیکھ حیرانی سے اسکی مہربان ادا دیکھی اسے یاد آرہا تھا وہ نیم بے ہوشی میں بھی اسکے پاس آتی رہی تھی اپنے شانے سے اسکا سر احتیاط سےاٹھاتا اپنے پاس کرلیا تھا مش اپنی حالت سے بے پرواہ اسے آوازیں دیں وہ نیند میں ڈوبی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی اور علی اسکی خمار آلود نگاہوں میں اپنا آپ تحلیل ہوتا دیکھ رہا تھا نرمی سے اس پہ جھکا پیاسے ہونٹوں سے اسکے اک اک نقش کو چوم رہا تھا جبکہ وہ اسکی جسارتوں پہ خاموش پڑی تھی جیسےوہ خود سے مزید لڑنے کی ہمت نہیں پاتی تھی اور وہ مرد تھا اس پہ مکمل اختیار رکھتا تھا اسکی سانسوں کی تپش مشعل کو بھی جلا رہا تھی مگر اس نے علی کو روکا نہیں تھا وہ خاموش آنسو بہاتی اسکے سینے میں منہ چھپائے رونے لگی تھی اپنی پیاس بجھانے کے بعد وہ پھر سے سوچکا تھامشعل نے اس شخص کو دیکھا جس کو وہ اتنے دن سے سزا دیے جارہی تھی مگر اسکی شدتیں بتا رہی تھیں کے مشی کے معاملے وہ آج بھی ویسا تھا۔۔۔۔۔

کرنے کو بہت کچھ تھا مگر طے یہی پایا

ہم اہلِ محبت ہیں ، محبت ہی کریں گے

علی نے اسے اپنے پاس پرسکون سوتا دیکھ لب اسکی پیشانی پہ رکھے اک دن کی اسکی حالت نے مشعل کا غصہ ناراضگیاں اور وہ جو نفرت کے بلندوبانگ دعوے کرتی تھی دور کہیں رکھ دیے تھے اسکی مہربانیاں سوچتے وہ مسکرا دیا تھا ۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ اسے اٹھائے جارہا تھا کیا علی سونے دو وہ منہ پہ تکیہ رکھتی دوسری طرف منہ کر گئی اوکے میں جارہا ہوں آفس اسکی بات پہ فوراً اٹھی تھی ایسے کیسے جارہے ابھی کوئی ضرورت نہیں ٹمپریچر ابھی بھی ہے

اسکی پیشانی پہ ہاتھ رکھے تفکر سے بولی تھی وہ اسکا نرم ونازک ہاتھ اپنے ہونٹوں پہ رکھے اسکی اتنی کئیر پہ مسکرا اٹھا تھا شکر ہے کہ مجھے میری مش کا روپ دیکھنے کو ملا تھکن زدہ لہجہ جیسے اب وہ ناامید ہوچکا تھا اس سے

مشی باوجود کوشش خود پہ مکمل کنٹرول ختم کربیٹھی تھی روتے ہوئے وہ اسکے گلے لگ گئی تھی علی حیدر کو اک بار پھر سے پیشمانی نے گھیرلیا ۔۔۔

تم نے مجھ معاف کردیا مش اسکی کمر سہلاتے بچوں کی طرح سے ٹریٹ کر رہا تھا وہ بنا کوئی بات کیے بس خاموشی سے رو رہی تھی علی کے دل میں اس چیز کی امید ضرور جاگی تھی کہ وہ آج نہیں تو کل اسکی تمام خطائیں معاف کردے گی۔۔۔۔

مجھے باہر جانا ہے علی وہ اسکے سر پہ کھڑی تھی جو کبسے فائل اٹھائے کام کرنے میں بزی تھا ہاں مش بس تھوڑا سا انتظار مشعل نے اس کے ہاتھ سے فائل کھینچی تھی تبھی علی نے غصے سے ناک پھلائے اپنی متاع حیات کو دیکھا تھا اسکو مسکراتا دیکھ وہ مزید بگڑی تھی میری سزا کیا ہے جو جب سے آئی ہوں یہاں بند کردیا ہے علی نے اسکی بات پہ قہقہ لگایا اپنی بات کااثر نا ہوتا دیکھ وہ چلائی تھی اس نے مشعل کو ہاتھ پکڑے اپنے برابر بٹھایا تھا ۔۔۔

کیوں شور مچا رہی ہو وجہ تو ہو کوئی اسکی بات سنتی مشعل نہ اک شکوہ کناں نظر اس پہ ڈالی مجھے پاکستان واپس جانا ہے سب مجھے اتنا یاد آرہے اور وہ زہرہ اسکا بھی رشتہ پکا ہوگیا رابی کی دوست کے بھائی ساتھ پھر۔۔۔ اوکے اوکے میں کوشش کرتا ہوں وہاں کسی اچھی جگہ اپلائی کر لوں تاکہ ہم جلدی واپس جاسکیں مگر ابھی بہت مشکل ہے جان علی ۔۔۔اسے دوبارہ سے رونے کیلئے تیار دیکھ علی نے اسے تسلی دی ۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤

وہ سنگاپور آچکا تھا بنا ریحاب کو لیے دوسری ٹکٹ وہ کینسل کروا چکا تھا اسے ریحاب پہ بے حد غصہ تھا وہ لڑکی اپنے حق کیلئے بولتی کیوں نہ تھی اسے واپس سے وہی ریحاب چاہیئے تھی جو بات بے بات کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی

رابی اور زہرہ ہمیشہ کی طرح ٹی۔وی کے سامنے سٹک ہوچکی تھیں وہ بھی انکے برابر آبیٹھی پروگرام شاید ریکارڈڈ شدہ چل رہا تھا نیچے کی ہیڈلائن میں صارب کے انٹرویو کی ٹائمنگ بھی لگائی گئی تھی ریحاب کو ان دونوں کی بے قراری دیکھ اپنی دیوانگی یاد آتی تھی اور آج وہ شخص اسکی دسترس میں تھا مگر اسے قدر کرنی نہیں آرہی تھی اسکے جانے کے بعد وہ مسلسل الجھی ہوئی تھی اگر وہ چاہتی تو اس سے لڑائی کرکے خود بھی جاسکتی تھی پھر ۔۔۔

اوہو یہ پھر آگئی سفید باندری پتا نہیں یہ سنگاپور والے ہر شو میں اسی کو بھیا ساتھ کیوں اسپانسر کردیتے سامنے موجود یورپین بیوٹی کی حامل لڑکی پہ رابی کا تبصرہ سن وہ بھی ہنسی تھی ۔۔

سو دس سونگ از ڈیڈکیشن فار مائی لائف پارٹنر ۔۔۔۔۔ریحاب کا دل اسکے لائف پارٹنر کے الفاظ پہ دھڑکا تھا رابی اور زہرہ کی معنی خیز نظریں خود پہ مرکوز دیکھ وہ بھی دھیمے انداز میں مسکرا دی تھی۔۔۔۔۔

کہتا ہے پل پل تم سے یہ ہوکے دل یہ دیوانہ

اک پل بھی جاناں مجھ سے دور نہیں جانا

پیار کیا تو نبھانا پیار کیا تو نبھانا

آنکھوں میں میری میرا ہی چہرہ دھڑکتا رہے

توں جو نا ملے سینے میں یہ دل دتڑپتا رہے

توں مجھے نا ستانا میرا دل نا دکھانا

آہاں بڑی بڑی فرمائشیں آرہی ہیں بھابی جی رابی کی شوخیاں عروج پہ۔تھیں ریحاب بھی گانے کے بولوں پہ غور کرتی اسکی فرمائش پہ حیران تھی یہ سب تو ریحاب کو ہی کہنا چاہیئے تھا مگر دوسرے لمحے اسکی دوست کے ساتھ جانے والی بات ریحاب کا دل۔خراب کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

ریحاب کچن میں مصروف زریں بیگم ساتھ لگی کھانا بنانا سیکھ رہی تھی مما اک بات پوچھوں ان کے مصروف انداز کو بغور دیکھتی وہ زریں سے پوچھنے لگی تھی۔۔۔

ہاں نا پوچھو کسی بھی بات کیلئے اجازت کی کیا ضرورت پڑ گئی جیسے میرے لیے زہرہ اور رابی ہیں ویسے ہی آپ ہو بیٹا انکا محبت بھرا انداز دیکھ اس نے ممنون نگاہوں سے انہیں دیکھا شادی کے بعد وہ علوی ہاؤس نہیں گئی تھی صرف دو بار مما اور سیلمان اس سے ملنے آئے تھے زویا کو بھی لے آتے آپ لوگ جب اس نے کہا تب سیلمان نے کہا وہ خود ہی نہیں آنا چاہتی یہاں پہ شاید پھوپو نے منع کیا ہے اسکے بعد اس نے کبھی انسسٹ نہیں کیا مگر سندس کے حوالے سے اسکے ذہن میں بھی بہت سوال تھے اس نے ہمیشہ اپنی ماں کو اس سے اختلاف میں ہی دیکھا تھا۔۔۔۔۔

سندس پھوپو اور رحمن انکل کے درمیان ڈائیورس کی وجہ کیا بنی تھی اسکے سوال پہ زریں کا کام کرتا ہاتھ رکا تھا مگر وہ پھر سے شروع ہوچکی تھیں کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ یہ سب اپنی امی سے پوچھتیں۔۔۔۔

سچ پوچھیں زریں مما تو کبھی پھوپو کی پرسنل لائف کو جاننے کا شوق نہیں ہوا مگر اب صارب زہرہ اور زویا جب وہ اک ہی کڑی ہیں تو زویا ان سے الگ کیوں اسکا بھی تو اپنے باپ بھائی پہ اتنا حق ہے نا جتنا باقیوں کا ریحاب شاید زویا کی الجھنوں کا حل چاہ رہی تھی ۔۔۔

بیٹا میں نہیں چاہتی کہ میری ذات سے نکلا کوئی حرف کسی اور پہ بھاری بنے اس بات کو یہی رہنے دو بس زویا کیلئے اتنا کہہ سکتی کہ زویا کو لے رحمٰن صاحب نے وہی الفاظ کہے تھے جو شاہد علوی نے ہماری مشعل کیلئے بیٹا وہ تو اپنے مکافات عمل سے گزرے ہیں مگر اب وقت گزر چکا ہے ہم چاہ کے بھی زویا اور اس گھر کے درمیان کی دوریاں ختم نہیں کرسکتے مشعل کا حوالہ دیتے انکے چہرے پہ اک واضع کرب تھا ریحاب نے انکے دونوں ہاتھ پکڑے آئی ۔ایم سوری مما انجانے میں ،میں آپ سبکی مجرم بنی ہوں رئیلی سوری اسکی آنکھیں نم ہوتے دیکھ زریں نے اسے سینے سے لگا لیا تھا میری بیٹی ہو آپ ریحاب اور ماں کیوں ناراض ہونے لگی آپ سے مشعل کو جو ملا اسکا نصیب تھا اور اسکی اپنی زات کی کوتاہیآں تم اس چیز پہ دل برا نا کرو میری جان چلو اب جاکے فریش ہو جاؤ میرے صارب کی خوشی ہوتم برسوں بعد اس نے ہم۔سے کچھ مانگا تھا جو ہمیں بھی بہت پسند آیا پیار سے اسے بوسا دیتے وہ پھر سے کام میں لگی تھیں ۔۔۔

صارب کیلئے انکی محبت حلاوت کسی بھی بناوٹ سے پاک تھی پھر بھی وہ ان سے خائف رہتا تھا ریحاب نے اسے کبھی زریں سے بات کرتے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

انہی سوچوں میں گم اسکی کب آنکھ لگی کوئی پتا نہیں تھا صارب نے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے بے آرام سوتی ریحاب کو دیکھا جسکے لمبے بال بکھرے ہوئے تھے شاید وہ نہا کے سوئی تھی تبھی کنگھی بھی نہیں کی گئی تھی لمبے سفر کی تھکن سے چور وہ بھی گرنے کے سے انداز میں اسکے برابر لیٹا تھا ریحاب نے اس اچانک آفت پہ آنکھیں کھولیں جہاں وہ دونوں ہاتھ آنکھوں پہ رکھے انہیں مسل رہا تھا آپ کب آئے اسے دو ہفتوں بعد سامنے دیکھ اسے بے پناہ خوشی ہورہی تھی صارب اسکی آواز پہ متوجہ ہوا جب آپ جناب آرام۔فرما تھیں کہنی بیڈ پہ ٹکائے ایک ہاتھ پہ سر رکھے اسکی جانب متوجہ تھا یاد کیا تھا مجھے اسکا ہاتھ اپنے سینے پہ رکھتے سیدھا لیٹا ریحاب بھلا کیا جواب دیتی کہ وہ اسے بھولا کب تھا ۔۔۔۔

اسے سرجھکائے دیکھ اسکا ہاتھ چھوڑتے دوسری جانب رخ موڑ گیا تھا کیا ہوا صارب آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے کھانا لگاؤں آپکلیئے وہ جو اسکی بے رخی پہ کٹ سی گئی تھی فوراً اسے متوجہ کرنا چاہا۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ وہ بنا جواب دیے خاموشی سے لیٹا رہا اس کا بار بار ماتھے کو مسلنا اسکے زہنی اضطراب کو ظاہر کررہا تھا ریحاب نے اسکے قریب ہوتے سر پہ اپنی نرم ہاتھ رکھے دبانا شروع کیا تھا تم نے مجھے مس کیوں نہیں کیا ریحاب اک شکوہ اسکے لبوں سے ادا ہوا تھا ۔۔۔

آپ نے بھی تو اک بار کال نہیں کی گھر میں سب کو کال کرتے تھے اس گھر میں شاید آپکے قصوروار میں اور زری مما ہیں جنکا پوچھنا بھی کبھی گوارہ نہیں کیا ۔۔

آہا تو ریحاب میڈم کے پاس بھی جواب شکوہ کی زبان ہے وہ اسکے برابر بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔۔

آپ کو کیا آپ جائیں اپنی فرینڈ کے ساتھ ٹرپ انجوائے کریں اسکی بات سنتا صارب ہنسا تھا اوہو تو میڈم ریحاب جیلس ہورہیں تھیں وہ جو جاتے وقت اسکی زبان سے سننا چاہ رہا تھا غلط ٹائم پہ اسکی زبان سے ادا ہوئے تھے ۔۔۔۔

ریحاب بنا کوئی جواب دیے اٹھنے لگی تھی صارب نے پھر سے پکڑ کے بٹھا دیا ہاں تو تم کیا کہہ رہی تھی یار تمہاری زریں مما بھی تمہاری طرح مجھے بہت ارٹیٹ کرتی ہیں انسان کو اتنا اچھا بھی نہیں ہونا چاہیئے کے صارب آپ سے بچپن سے اب تک اتنی بدتمیزی کرے اور آپ اسکی کوئی کمپلین نہ کریں نا کوئی شکوہ میرے نزدیک یہی سب سے بری بات ہے ریحاب کا دل کیا اسے دو لگا دے بھلا کِبھی کسی کی اچھائی کا صلہ ایسے بھی ہوتا ہے پر صارب ریحاب نے انکی صفائی میں بولنا چاہا تو اس نے روک دیا کیا تم نے سارے جگ کے اختلافات ختم کرنے کا بیڑھ اٹھا لیا ہے تھوڑی توجہ اپنے اس شوہر نامدار پہ بھی دیں جس پہ گوری لڑکیاں لائن مار رہی تھیں لے اڑے گی کوئی پھر پچھتاتی پھرنا شوخی سے کہتے اسکی جانب جھکا تھا ۔۔۔۔۔

سستی چیزوں کی طرف ہر کوئی ہی بھاگ کے آتا ہے صارب اسکی اتنی صاف گوئی پہ حیران ہوا تھا خیر ہے محترمہ بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔

ریحاب اسکی بات پہ صرف مسکرا کے رہ گئی تھی اور اسکی مسکراہٹ صارب کی ساری تھکن سمیٹ گئی تھی۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

آج منت اور ارحم سمیت چوہدری فیلمی زہرہ کی تاریخ لینے آئے ہوے تھے اور شگن کے طور پہ انگوٹھی بھی ڈال گئے تھے ۔۔۔۔۔

منت کیا مسئلہ ہے کیوں خود کو اتنا ٹینس کررکھا ہے ارحم کو اسکی گرتی صحت نے پریشان کررکھا تھا ۔۔

ارحم۔میرے اکلوتے بھائی کی شادی ہے آپ یہ بھی تو دیکھیں گھر میں کرنے کو اتنے کام ہیں اف اف اور اوپر سے آپکی اولاد منت نے ارحم کے سامنے اپنی بیچارگی کا رونا رویا تو یار اور لوگ ہیں نا کام کرنے کو تم کیوں میری اولاد کو ہلکان کررہی ہو اور ساتھ انکی مما کو بھی اور یہ کیا ہر وقت تم تم لگائے پھرتی ہو شوہر کی بھی کوئی عزت ہے یار ۔۔۔۔۔

ارحم۔مجھ سے نہیں ہوتا یہ آپ جناب منت کی طرف سے صاف جواب ملا تھا ٹھیک ہے تو پھر ہم سوچ لیتے کسی عزت کرنے والی کے بارے ارحم نے خطرناک تیور لیے اسے اپنی جانب بڑھتے دیکھا تھا اف لڑکی میں اپنی بیٹی کی بات کررہا تھا اسکے تیوروں سے گھبرا کے فوراً بولا تھا منت اسکا پینترا بدلتے دیکھ ہنسی تھی تم سے کوئی جیت ہی نہیں سکتا ارحم۔۔۔

غلط فہمی ہے آپکی ہم تو دل وجان سے آپ پہ خود کو ہار چکے ہیں اسکا رومینٹک موڈ دیکھ وہ ہاتھوں سے وکٹری کا نشان بناتی روم سے غائب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

یااللّٰہ میری بھی قسمت کھول دے بھابی آپ ہی کوئی اور بھائی پیدا کرلیتی توں اک ہی گھر میں ہم دو بہنیں چلی جاتیں اب میں اپنی نکی سی جان لیے کہاں جاؤں رابی کی دہائی پہ زہرہ کا سوٹ ٹانکتی وہ بے اختیار مسکرائی تھی آہا یہاں تو بڑی محفل جمی ہوئی ہے خیر کی مسکراہٹیں ہیں ریحاب کو وارفتگی سے دیکھتے بولا تھا کچھ نہیں ہماری رابی کو بھی شوق ہورہا شادی کا کوئی اک ڈھونڈ لو صارب اک ساتھ تینوں بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہوکے زندگی جیو زہرہ نے بغیر لگی لپٹی رابی کا مدعا صارب تک پہنچایا جبکہ وہ گڑبڑا کے سیدھی ہوئی

جتنی بھی منہ پھٹ تھی بھائی کے آگے اتنی زبان نہی چلی تھی کبھی زریں بھی اسکی حالت پہ مسکرائیں ۔۔۔۔۔

ریحاب میری بلو شرٹ نہیں مل رہی یار زرا وہ تو ڈھونڈ دو انداز میں بیچارگی پیدا کی تھی جبکہ وہ اسکے مدعے سے اچھی طرح واقف تھی ابھی صارب آپ اور کوئی شرٹ پہن لیں میں یہ کام کرلوں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں وہ بہانہ بناتی صاف خود کو بچا گئی تھی اک نظر وہاں موجود لوگوں پہ ڈالتا وہ وہاں سے روانہ ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

سب کاموں سے فراغت کے بعد وہ روم میں آئی صارب کو پہلے سے موجود دیکھ اسے گڑبڑ کا احساس ہوا تھا مطلب کے وہ دن والے کیوئل ڈریس میں ہی ملبوس تھا اور کہیں نہیں گیا چور نظروں سے اسے دیکھتی وہ الماری کی ڈرار کی جانب گئی بے مقصد چیزوں کی تلاشی لینے۔لگی تھی مگر اس نے کوئی نوٹس ہی نہیں کیا ریحاب کو اپنے موبائل میں مشغول رہا تھا نائٹ ڈریس لیے واشروم میں گئی واپس آئی پھر بھی اسی پوزیشن میں بیٹھا تھا وہ بنا کوئی بات کیے تکیہ اٹھائے اپنی سائیڈ آکے سونے لگی صارب نے اسکا تکیہ اٹھا کے صوفے کی طرف اچھالا تھا کوئی ضرورت نہیں یہاں سونے کی اپنا بوریا بستر اٹھاؤ اور وہی زہرہ پاس جا کے سو ریحاب کو اسکا روڈ انداز دیکھ کے رونا آرہا تھا مگر وہ ضبط کرتی اپنا تکیہ صوفے پہ رکھے اسکے طرف کروٹ کیے سو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔

صارب کو خوامخوہ ہی غصہ آرہا تھا نجانے کیوں شاید اسے اپنا اگنور کیا جانا پسند نہیں آیا تھا اور اس دن کے بعد ان دونوں کا مکمل بائیکاٹ ہوگیا تھا وہ ضرورت پڑنے پہ بھی اسے نہیں بلاتا تھا۔۔۔۔۔۔

زہرہ کی شادی کے فنکشن سٹارٹ ہوچکے جبھی گھر میں اک بار پھر سندس کے آنے سے طوفان کھڑا ہوا تھا وہ زہرہ کی۔شادی میں ماں کی حثیت سے شمولیت چاہ رہی تھی جبکہ رحمٰن صاحب اسکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

صارب کے علم میں جب اسکی موجودگی آئی وہ ان کے سر پہ جاپہنچا تھا میں تمہاری ماں ہوں صارب نو مہینے اپنے خون سے سینچا ہے تم لوگوں کو پلیز میرے ساتھ ایسا نا کرو ۔۔۔

ماں کونسی ماں آپ محظ اک گالی ہیں ہمارے لیے زریں کو دونوں شانوں سے پکڑے اسکے سامنے کیا یہ ہیں میری اور زہرہ کی ماں جنہوں نے نو ماہ اگر اپنی کوکھ میں پالا نہیں مگر باقی ہر فرض ادا کیا اگر زہرہ نے اپکے خون کا اثر نہیں پکڑا تو اس ماں کی وجہ سے سمجھ رہی ہیں نا آپ ہم سے کسی بھی قسم کی ممتا کی امید مت رکھئے گا آپ ہماری ہنستی بستی زندگی میں کیوں اپنی نحوست کا گرہن لگانے آئی ہیں آپ زریں نمناک آنکھوں سے صارب کو دیکھ رہیں تھیں جنہوں نے آج اسے ماں پکار کے اسکے اتنے سالوں کی ریاضت کا صلہ دے دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

میں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں رحمٰن زویا کو اپنی محبت سے محروم نہ رکھو انہوں نے اک اور مہرہ سامنے رکھا مگر آج بھی انکی شنوائی نہیں ہوئی تھی مگر زویا کے زکر پہ رحمٰن کا دل ضرور موم ہوا تھا وہ بے آس واپس لوٹ آئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *