Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Sakoon e Rooh (Last Episode)

Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan

مجھے امی کے گھر چھوڑ آئیں۔اس نے ابقار کو پانی کا گلاس تھماتے ہوئے کہا

کیوں ک۔کیا۔؟اسکا گلاس تھاما تھما

بے فکر رہیں آپ کے گھر کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانے والی میں امی کا فون آیا تھا کہہ رہی تھیں کہ میں چند روز رکنے آجاؤں۔اس نے کہاتاثر چہرے سے کہا

اگر میں کہوں کہ میں نہیں چاہتا آپ ابھی جائیں پھر؟اس نے بغور اسے دیکھا

تو۔تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی کیا پتا اگر میں آپ سے جانے کی ضد لگا بیٹھوں اور آپ ہمیشہ کے لیے مجھے وہاں چھوڑ ائیں۔اس نے آہستہ سے کہا

آپ کو کیوں ایسا لگتا ہے کہ میں ایسا کچھ کروں گا کیوں لگتا ہے کہ میرے لیے آپ اہم نہیں ہیں۔اس نے بے بسی سے سامنے کھڑی بیوی کو دیکھا ۔

کیا آپ کے دل میں میری لیے تھوڑی محبت بھی پیدا ہوئی ہے؟اس نے ابقار کی آنکھوں میں جھانک کر کہا

جس پر چند لمحے بعد ہی وہ آنکھیں چرا گیا کیونکہ اپنے دل میں پنپتی محبت سے ابھی وہ خود بھی واقف نہیں ہوا تھا یا دل کو ایسا ماننے پر روک رہا تھا ۔

اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو میں حماد بھائی کو بلا کر انکے ساتھ چلی جاؤں گی۔سپاٹ چہرے سے کہتی وہ الماری کی طرف بڑھ گئی

__&&-&

آپی کافی دن ہو گئے میں مارکٹ نہیں گئی ایک سوٹ لا کر رکھا ہوا اس کے لیے لیس لے کر آنی ہے اب آپ آئی ہیں تو آپ چلے نہ میرے ساتھ۔ابھی دونوں بہنیں اور اماں شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہیں تھی اور چائے کے ساتھ منتہہ نے پکوڑے بنا لیے

اے آرام سے بیٹھ بہن کی طبیعت ٹھیک نہیں یہ اور انہیں سیر سپاٹوں کی سوج رہی ہے۔اماں نے جھڑپ ہی دیا

ارے نہیں امی میں بالکل ٹھیک ہوں اور مارکٹ میں کونسا ٹائم لگے گا اور مجھے بھی دو تین استعمال کی چیزیں لینی ہیں۔اس نے مسکرا کر کہا

بیٹا اسکے ساتھ گئیں تو شام سے پہلے نہیں اپاوگی اور ابھی تمھارے شروع کے مہینے ہیں اتنا چلنا پھرنا ٹھیک ہے۔اماں سمجھانے والے انداز میں کہا

امی آپ خود تو میرے ساتھ جاتی نہیں ہیں اور اپی کو بھی منع کر رہی ہیں ۔اس منہ بنا کر کہا

اماں صحیح تو کہہ رہی ہے بچی اب جب کوئی ساتھ جانے والا نہیں ہوگا پھر مجھ سے ہی کہے گی نہ۔اس نے اسکی سائیڈ لی۔

ویسے آپی میں بہت زیادہ خوش کہ مجھ سے بھی چھوٹا کوئی آئے گا ہائے مجھے اپنی میٹھی زبان میں آنی کہے گا اور میں اسکے نخرے اٹھاوں گی اور اپکو پتا ہے آج کل میں امی سے بچوں کے کپڑے سینے کی کلاسس لے رہی ہوں تاکہ میں اپنے بھانجا یا بھانجی خود محبت سے کپڑے سی کر پہناوں۔منتہہ بی بی کچھ زیادہ خوش تھیں اور خوشی اسکے چہرے سے ظاہر تھی اماں اور حصیفہ اسکی بات پر مسکرا دیں۔

بیٹا کب جانا ہے آپ نے ۔اماں نے پوچھا

امی ابھی مجھے آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں اور آپ مجھے جانے کا کہہ رہی ہیں کیا واقعی شادی کے بعد یہ میرا گھر نہیں رہا ۔وہ ایک دم روہانسی ہو گئی

ارے نہیں میرا بچہ ابقار تمھیں گیٹ سے ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا پھر دوبارہ ملنے نہیں آیا میں سمجھیں کوئی بات ہو گئی اور ویسے بھی تمھارے سسرال میں تمھارے آجانے کے بعد ساس بھی اکیلی ہوجاتی ہوں گی۔انہیں پتا نہیں کیوں یہ بات کھٹک رہی تھی

نہیں اماں اجکل کام میں مصروف ہیں بہت اتنے دن ہم وہاں رہے تو بابا ہی سب دیکھ رہے تھے بابا زیادہ کام نہیں دیکھ پاتے اسی لیے اب سارے معاملات وہیں ہینڈل کرتے ہیں تو آ نہیں پا رہے فون پر تو بات ہوتی ہی رہتی ہے میں نے کہا تھا کہ مجھے لے جائیں کہہ رہے تھے دو تین دن تک آجاؤں گا ۔اماں کی تسلی کے لیے کہنا تھا تو کہہ دیا۔

ہمم اچھا زرا میں رات کے کھانے کا دیکھ لوں تم بتا دو جو تمھیں کھانا ہے۔انہوں نے کہا اور اٹھنے لگیں

اماں آپ آرام کریں آج میں کھانا بنا لیتی ہوں آج ماما تو مجھے کوئی کام نہیں کرنے دے رہی ہیں میں تھک گئی بیٹھے بیٹھے۔اس نے منہ بنا کر کہا

کام تو ساری عمر ہی کرنے ہیں اور انہی دنوں بس عورت کو آرام نصیب ہوتا ہے کر لو۔کہتی ہوئی اندر کی طرف چل دیں۔

$_&####_

گھر آنے کا ارادہ نہیں ہے کیا جناب کا؟ابقار کا میسج آیا

کونسا گھر؟اس نے لکھ بھیجا

ہمارا گھر جہاں حال اور مستقبل کی خوشیوں کا آشیانہ سجانا ہے ہم نے مل کر۔ابقار کا میسج آیا چند پل کو مسکراہٹ چہرے کا احاطہ کر گئی۔

اچھا ۔۔۔۔اس نے لکھ بھیجا

ماما آپکو بہت یاد کر رہی ہیں آج بھی کہہ رہی تھیں کہ اپکو لے آؤں لیکن میں اپکو آپکی مرضی کے بغیر نہیں لانا چاہتا۔اسکا میسج آیا

اپکو جب لینے آنا ہو آجائیے گا۔قدرے دیر میں جواب دیا

اور اگر میں کہوں کہ میں ابھی اپکو لینے آنا چاہتا ہوں تو۔ساتھ میں ابرو آچکا اموجی تھا

یہ ٹائم مناسب نہیں ہے سب سو رہیں ہیں۔اس نے جھٹ کہا کہیں آگیا تو

اپکو میں کسی بھی ٹائم لینے آجاؤں وہ مناسب ہی ہے بیوی ہیں آپ میری چلیں تیار رہیں میں آرہا ہوں۔اس نے کہا اور اللہ حافظ کہہ دیا

یا اللہ یہ چار دن میں انہیں کیا ہوگیا اب میں امی ابا کو کیا کہوں ۔وہ ایک دم بوکھلا گئی۔

یہاں آئے اسے چار دن ہو گئے تھے اور چار دن بعد ان ہی اسکی ابقار سے بات ہوئی تھی لیکن اماں کو کچھ برا نہ لگے اسی مصلحت کے لیے جھوٹ بول گئی۔

___&&&&

اپکو ایسے نہیں آنا چاہیے تھا پتا ہے امی ابو کے سامنے مجھے کتنی سبکی ہوئی۔اس نے منہ بنا کر کہا

ارے میری جان کچھ نہیں ہوتا اور انہیں تو خوشی ہو رہی ہوگی کہ انکا داماد انکی بیٹی کو لے جانے کے لیے کتنا بے تاب تھا۔اس نے شرارت سے کہا

ہمم ہر ماں باپ کو یہی بھرم ہوتا ہے کہ انکے داماد کے لیے انکی بیٹی اہمیت رکھتی ہے لیکن اصلیت تو بس بیٹی اور انکے داماد کو ہی معلوم ہوتی ہے۔اس نے تمخسرے سے کہا

ائسکریم کھائیں گیں۔اس نے پوچھا

اپکو کھانی ہے تو کھا لیں۔اس نے آہستہ سے کہا

میں نے سنا ہے پریگنینسی میں کوئی نہ کوئی چیز کھانے کا دل چاہتا ہے لیکن آپ نے تو ابھی تک کچھ کھانے کی فرمائش کی نہیں کی۔اس نے بتایا تھا

ہنہہ کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے میری فرمائش کرنے کہ انتظار میں بیٹھے ہیں۔وہ منہ میں بڑبڑائی جو کہ ابقار نے سن لی تھی

جان من آپ فرمائش کر کہ تو دیکھیں اگر وہ چیز اپکو میسر نہ ہوئی تو پھر چاہے جو کہہ لینا۔اس نے اسکا تھام کر ہلکا سا کھینچا اور گھمبیر سرگوشی میں کہا

ہم سڑک پر ہیں۔اس نے ہاتھ چھڑوانے کی سعی کی

اچھی بات ہے لوگوں کو رومینٹک سین دیکھنے کو مل جائے گا ۔اس نے شرارت سے کہا

بہت ہی کوئی بگڑے ہوئے ہیں آپ ۔اس نے منہ چڑھا کہ کہا

چلیں آئیں۔وہ گاڑی سے اترا اور اسکے پاس آیا

##$__&

بیوی شوہر سے کتنی دیر ناراض رہ سکتی ہے صرف چند گھنٹے ان چند دنوں ابقار سے بات نہ کرنا غصہ نہیں تھا بلکہ یہ دیکھنا تھا کہ شادی کے تین ماہ بعد بھی وہ اس کے لیے کچھ اہمیت رکھتی ہے یا نہیں اور کہیں نہ کہیں اسے اس بات کا نام تھا کہ محبت نہ صحیح اسے قدم قدم عزت و مان دیا ہے ابقار نے اسکا حصیفہ کی بیماری میں پریشان ہونا ہی محبت کی شروعات کی علامت تھی۔

اس وقت دونوں سڑک کے کنارے چل رہے تھے ماحول میں ہلکی ہلکی ٹھنڈ تھی ارد گرد لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔

جانتی ہیں میرے خواب میں جو پری آتی تھی میں نے اسکا چہرا دیکھ لیا ہے۔اس نے خوشی سے بتایا

کیا مطلب پہلے کیا وہ آپسے نقاب لگا کر خواب میں آتی تھی۔اسے خوابی پری سے چڑ ہو گئی کیونکہ اکثر ابقار نیند میں پری کا راگ لاپتا تھا

ہاں نہ میری پری پردا کرتی ہے۔اس نے مسکراہٹ دبا کر کہا

تو ایسے تو اپکے اسکے نا محرم ہوئے تو اب کیوں اسنے اپکو اپنا چہرا دکھا دیا حیرت ہے۔اس نے حیران ہوتے کہا

کس نے کہا وہ میری نا محرم ہے۔اس نے ابرو آچکا کر کہا

تو۔؟ایک ایک آپ نے تیسری شادی کرلی مجھے پہلے ہی شک تھا کہ کیوں وہ آپ کے خواب میں آتی ہیں اور آپ نیند میں کہتے ہیں پری مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔اس نے منہ بنا بنا کر کہا

یار میری پوری بات تو سن لیں اپنی بولے جاتی ہیں ۔اس نے چڑ کہا

نہیں نہیں اب میں ماما کو بتاؤں گی کہ آپ کسی اور کی محبت میں مبتلا ہوگئے ہیں اور۔۔۔۔۔۔وہ اپنی ہی کہے جا رہی تھی کہ ابقار نے شہادت کی انگلی اسکے لبوں پر رکھ دی اور جبکہ اسے دوسرے بازو سے اپنے حصار میں لے لیا

میری پری پہلے میری نا محرم تھی لیکن تین مہینے پہلے وہ میری زندگی میں آکر میری محرم بن گئی ہے اس نے مجھے تاریکیوں سے اجالا میں لا پٹخہ ہے وہ میری زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے اسکا لڑنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے اور اسکی سیاہ آنکھیں جو نقاب میں سے نظر آتی ہیں مجھے دیوانہ کر دیتی ہیں کیونکہ ان میں بہت نور سی چمک ہے۔ آہستہ آہستہ وہ اس کی کانوں میں محبت سے شہد انڈیل رہا تھا

اور،

وہ،

وہ تو ساکت ہی ہو گئی تھی۔

میری پری کا نام جاننا چاہیں گی۔اس اسکی طرف دیکھا جس کی محض سیاہ آنکھیں دیکھ سکتیں تھیں لیکن وہ اس وقت پلکوں نے ان پر پردہ گرا دیا تھا اس نے ہلکے سے سر ہلایا ۔

حصیفہ میری پری جو خوابوں کئی بار مجھ سے دور چلی گئی لیکن حقیقت میں پاس بہت پاس ہو گئی میں نہیں کہوں گا کہ مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے لیکن۔ آپ کی محبت میرے دل پروسس موڈ پر ہے اور مجھے یقین ہے یہ جلد ہی میرے دل میں پوری طرح سے قابض ہو جائے گی۔ابقار نے اسکے ہاتھ تھامے رکھے تھے اور لہجوں میں سچائی لیے کہہ رہا تھا

مجھے آپ کے ماضی سے کوئی سروکار نہیں تھا اور میں غصہ بھی نہیں تھی بس میں چاہتی تھی اب آپکے دل میں ماضی کی کوئی تلخی نا رہے تبھی آپ سے آپکا ماضی سننے کی ضد کی مجھے بس اتنا پتا ہے کہ آپ اب کسی لیزا کہ نہیں ہے آپکی زندگی میں اب حصیفہ ابقار ہے اور ہماری چھوٹی سی فیملی۔اس نے بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

-#—$-$$$-#–#

پری میں نے اسے معاف کر دیا۔ابقار نے حصیفہ کو دیکھ کر کہا

کسے معاف کر دیا آپ نے آپکی طبیعت کو ٹھیک ہے نہ۔اس نے اسے ہاتھ لگا کر کہا

ل۔لیزا میں نے اسے معاف کر دیا وہ بہت تکلیف میں اور اللہ تو معاف کرنے والے کو پسند کرتا ہے نہ۔وہ بے ربط باتیں کر رہا تھا۔

کیا ہوا ابقار آپ وہاں میٹنگ کے لیے گئے تھے ک۔کیا اپکو وہاں ل۔لیزا ملی۔وہ گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھ گئی

ہاں.اس نے اثبات میں سر ہلا دیا

جب میں میٹنگ کر کہ باہر نکلا ایک عورت تھی جو دکھنے میں لاغر تھی اور اسکے منہ پر بھی عجیب سے دانے ہو رہے تھے جیسے کوئی عجیب سی بیماری ہو میں نے پیسے دینے کے لیے اسکی طرف بڑھا تو۔تو۔و۔وہ لیزا تھی پری۔پری وہ لیزا تھی و۔وہ پ۔پاگل سی ہو گئی ہے وہ بہت بری حالت میں تھی پتا نہیں کیا ہوا ہوگا اسکے ساتھ جو ایسی ہو گئی وہ ل۔لیکن میں ۔میں نے تو اسے کوئی بد دعا نہ دی تھی۔اس نے کھوئے کھوئے لہجے میں۔ کہا

ابقار تین دن پہلے ہی لندن ایک میٹنگ کے لیے گیا تھا حالانکہ اس جگہ جانا اسکے لیے مشکل تھا لیکن وہ اب بہت آگے جا چکا تھا

آپ نے اسے معاف بھی تو نہیں کیا تھا۔اس نے ابقار کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا

ہاں میں نے اسے معاف نہیں لیکن اب میں نے اسے معاف کر کر دیا۔اس نے آنکھیں بند کر کہ کہا

اچھا اب آپ زیادہ سوچیں نہیں اور کھانے کے لیے آجائیں میں کھانا لگا رہی ہوں ۔کہہ کر وہ اٹھی وہ باہر کی طرف چل دی۔

_–_-$

6 سال بعد

ماما آپ انہیں سمجھا لیں صبح سے انہوں نے فضول ضد لگائی ہوئی ہے۔حصیفہ نے حلیمہ بیگم کو کہا جو چشمہ لگائے اپنی پوتی کی فراک جانچ رہی تھیں

کیا کر دیا اب اس نے۔انہوں نے چشمہ ذرا نیچے کیا اور اسے دیکھا

ماما میں بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ آج ہماری شادی کی چھٹی سالگرہ ہے تو ہم کہیں لانگ ڈرائیو پر چلتے ہیں ایک سہانا دن گزار کر آتے ہیں لیکن آپکی بہو کے تو نخرے ہی نہیں ملتے۔اخری بات پر اس نے دانت پیسے

یہ جو آپ اتنے دانت پیستے ہیں نہ عنقریب پاوڈر فورم میں بن کر جھڑ جائیں گے۔اس مسکراہٹ دبا کر کہا

آپ بات نہ گھمائیں سمجھیں مما اپنی بہو کہیں نہ کہ آپکے پوتا پوتی اتنے بھی شرارتی نہیں ہیں جو اپکو بہت تنگ کریں۔اس نے حلیمہ بیگم کو بولا

بیٹا وہ کہہ رہا ہے تو چلی جاؤ نا ویسے بھی کونسا روز روز جاتے ہو تم لوگ ۔انہوں نے حصیفہ کو سمجھاتے ہوئے کہا

ماما آپ جانتی تو ہیں وہ انکی چاہیتی دائنہ تھوڑی دیر سونے کے بعد ہی اٹھ کر رونے لگتی ہے پھر کسی سے سنمبھلتی بھی نہیں ہے اور حیام بھی ٹیوشن سے آئے جائے گا۔اس کے پاس نہ جانے کے ایک سو ایک طریقے تھے

اچھا آبی بچی بھی ٹھیک کہہ رہی ہے ایسا کرنا تم لوگ ہفتے کو چلے جانا میرا اور تمھارے بابا کا ارادہ ہے زبیدہ بہن کے گھر جانے کا ہم بچوں کو لے کر وہاں چلے جائیں نانی کے گھر میں بچے ہیں تو دل لگا رہے گا۔انہوں نے معاملا حل کرنے والے انداز میں کہا

ٹھیک پھر ہم ہفتے کو ہی جائیں گے یاد رہے۔اسے انگلی سے سمجھا کر باہر نکل گیا

__—++-

ماما ماما۔چار سالا حیام دوڑتا بھاگتا کمرے میں آیا

ہاں ماما کی جان بولو۔اس نے محبت سے اسے دیکھا

ماما اپکو پتا ہے اج مجھے مس نے سٹار دیا تھا کیوں کہ میں نے انہیں اچھا اچھا یاد کر کہ دکھایا۔وہ خوشی سے گھوم گھوم کر کہہ رہا تھا

ارے واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے میں بھی اپنے بچے کو سٹار دوں اب۔اس نے اسکا ماتھا چوما

ہاں ماما مجھے سٹارز بہت پسند ہیں۔اس نے فوراً اپنی ماں کے آگے گال کیا جسکو پہلے ماں نے چوما اور پھر سٹار بھی بنا دیا ۔اور وہ اچھلتا کودتا واپس چلا گیا

ابقار کام میں مصروف تھا لیکن مسکرا رہا تھا۔

اپ چھٹی کے دن تو اسے چھوڑ دیا کریں ہر وقت اس سے چپکے رہتے ہیں۔اتنے سالوں میں بھی ابقار کی یہ عادت نہ ختم ہو سکی تھی کہ وہ چھٹی کے دن اکثر کام میں ہی مصروف رہتا تھا

اچھا جناب جو آپکا حکم۔کام سمیٹ کر اسکے سامنے آیا جو الماری میں کپڑے ترتیب سے رکھ رہی تھی

اب سامنے کیوں کھڑے ہو گئے مجھے کپڑے تو رکھنے دیں۔اس نے جھنجھلا کر کہا

ویسے کام تو میں بھی بہت اچھا کرتا ہوں کبھی مجھے بھی سٹار دے دیا کریں۔اس نے معصومیت سے کہا

کیا مطلب اپکو پاپا دیں گے نا سٹار۔اس نے مسکرا کر اسے دیکھا

لیکن مجھے تو پاپا کی بہو سے چاہیئے سٹار۔اس نے مسکراہٹ ضبط کر کہ کہا

اچھا لائیں پین میں کر دیتی ہوں آپکی خواہش پوری۔اس نے ہنس کر کہا

نہیں پین سے نہیں۔اس نفی میں سر ہلایا۔

پھر۔اس نے ابرو آچکا کر کہا

مجھے ایسے سٹار چاہیے۔اس نے کہتے ہی اسکی آنکھوں پر بوسہ دیا

بہت زیادہ رومینٹک ہو گئے ہیں اپ۔اس نے ابقار کے کندھے پر ہلکا سا مکا مارا

اب جیسا بھی ہوں آپکا ہی ہوں اب جلدی سے سٹار دے دیں۔وہ آگے کو تھوڑا جھکا تو حصیفہ نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا

اور دونوں نے ایک دوسرے ماتھا ٹکا دیا

زندگی میں خوشی اور غم تو آتے ہی رہتے ہیں کوئی بھی وقت ایک جگہ نہیں رکتا لیکن اگر زندگی کے ساتھی با وفا ہوں تو زندگی دکھ کے لمحوں میں بھی خشگوار رہتی ہے۔

مجھے اچھا لگتا ہے

اسکا مجھے محبت سے دیکھنا

اور میرا شرم سے پلکیں جھکا لینا

مجھے اچھا لگتا ہے

اس کی شرارتوں پر میرا سٹپٹانا

اور اسکا زندگی سے بھرپور قہقہہ لگانا

مجھے اچھا لگتا ہے

اسکی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کو دیکھنا

اور اسکا مجھے خود کے حصار میں قید کرنا

مجھے اچھا لگتا ہے

میرے محرم کے محبت کرنے کا ہر انداز

مجھے اچھا لگتا ہے

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *