Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Sakoon e Rooh (Episode 06)

Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan

چھان بین کے بعد جمال صاحب کے گھر والوں کو مثبت جواب دے دیا گیا تھا اور ان سے ٹائم بھی لے لیا گیا تھا کہ حصیفہ کے عالمہ بن نے کے بعد شادی کر دیں گے۔

_____________

جمال صاحب کی فیملی مڈل کلاس تھی کافی عرصے سے وہ زمان صاحب کے دوست تھے جمال صاحب کی ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں بڑا عماد اور چھوٹا بیٹا الہان۔اور مریم

ماما میں نے آپ سے پہلے بھی کہا ہے میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تب بھی آپ نے میرا رشتہ پککا کر دیا۔اس نے غصے سے کہا۔

بیٹا وہ بہت اچھی بچی ہے اور تم دیکھنا بہت خوش رہو گے تم۔مسز جمال نے تحمل سے کہا

ماما مجھے جب کرنی ہی نہیں ہے شادی تو مجھے نہیں جاننا وہ کیسی ہے اور کیسی نہیں آپ جائیں اور انہیں منع کر دیں ورنہ یہ کام میں خود کر دوں گا۔الہان نے دانت پیس کر کہا۔

کیا شور مچا کر رکھا ہے اب ماں باپ کا تم اتنا بھی حق نہیں کہ تمھارے لیے کوئی فیصلہ لے سکے اگر تم کچھ الٹا سیدھا کیا تو سمجھ لینا کہ کبھی اس گھر میں واپس نہیں آ پاؤ گے۔جمال صاحب جو کافی ٹائم سے ساری بات سن رہے تھے قطعت سے بولے۔

ڈیڈ یہ میری زندگی ہے اس لیے شادی کس سے کرنی اس بات کا فیصلہ کرنے حق مجھے حاصل اس معاملے آپ لوگ نہ بولیں تو بہتر ہوگا اور اس رشتے سے منع کر دیں ورنہ انجام کے ذمہ آپ لوگ خود ہونگے۔سفاکی سے کہتا وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔

سمجھا لو اپنے لاڈلے کو ورنہ ایسا نہ آگے نقصان اٹھانا پڑے۔جمال صاحب نے انگلی اٹھا کر کہا۔

آپ غصہ نہیں کریں وہ سمجھ جائے گا۔انہوں نے آرام سے کہا۔

_________

اوفس میں فی میل اسسٹنٹ کی نیڈ تھی جس کے لیے ابقار نے اخبار میں اشتہار دیا اسی سلسلے میں آج انٹرویؤ لینے تھے۔

جی اپکو جواب مل جائے یو مے گو ناؤ۔ابقار نے سامنے بیٹھی لڑکی سے کہا۔

مس منال جو نیکسٹ ہیں انہیں اندر بھیج دیں۔ابقار نے انٹرکوم پر ریسیپشن پر موجود لڑکی سے کہا

مے آئی کم ان سر۔لڑکی نے اجازت مانگی۔

یس کمنگ۔اجازت دی۔

اس لڑکی نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے اپنی فائل اسکے آگے کردی۔

جی تو مس مقدس آپ۔۔۔۔اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ٹھٹک گیا وہی دو سیاہ نین جن میں نور سی چمک تھی۔

جی سر۔اس کہا

ہاں کچھ نہیں آپ کو یہ جاب کیوں کرنی ہے اینی ریزن کیوں جسے اس کی نیڈ ہو گی وہی اس جاب کو زیادہ اچھے نبھا سکے گا۔اس نے سانس کھینچ کر کہا۔

سر مجھے جاب کی ضرورت ہے تبھی میں جاب کے لیے آئی ہوں ورنہ کس لڑکی کو شوق ہوتا ہے یوں در در پھرنے کا اور عجیب عجیب نظروں کا سامنا کرنے کہا۔اس نے سنجیدگی سے کہا۔

آپ نے کبھی کوئی جاب نہیں کی تو کیا آپ آرام سے کام کر سکے گیں کیوں اس جاب میں تھوڑے تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس دونوں ہاتھ کی انگلیاں آپس میں جکڑ کر ٹیبل پر رکھے۔

سر حالات زندگی سارے تجربے کرا دیتی ہے آگے آپکی مرضی کہ میں اپکو اس جاب کے لیے بہتر لگوں یا نہیں۔اس نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔

ہمم ٹھیک کہا آپ نے حالات زندگی کافی کچھ سیکھا دیتے ہیں۔خیر اگر اپکو سلیکٹ کر لیا گیا تو اپکو انفارم کر دیا جائے اب آپ جا سکتی ہیں۔اس ہاتھ اٹھا کر کہا۔

تھینک یو۔کہہ کر باہر نکل گئی۔

اس کے جانے کے بعد وہ کافی ان دو سیاہ انکھوں کے بارے میں سوچتا رہا کیا یہ وہی پری ہے۔اس نے سوچا۔

میں بھی پتا نہیں کیا کیا سوچ رہا ہوں۔سر جھٹکا۔

وہ بیٹھا ہی تھا جب موبائل کی رنگ ہوئی۔

زنیرہ کالنگ لکھا ہوا تھا۔

اسلام و علیکم۔سامنے سے سلام کیا گیا

وعلیکم السلام خیریت کیسے فون کر لیا۔اس نے مسکرا کے کہا۔

میں تم سے کہنا تھا کہ مدرسے میں ہوں تو مجھے 5 بجے تک لینے آجانا آج ماما نہیں جا رہیں میرے ساتھ۔اس نے تفصیل بتائی ۔

اور میں لینے آجاؤں گا۔اس نے سر ہلا کر کہا۔

_______&&&&&_____________

ابھی جانے میں تھوڑا ٹائم تھا اس زنیرہ حلیمہ بیگم کے ساتھ بیٹھی تھی۔

ماما ابقار اب اگر شادی کے لیے تیار ہو ہی گیا ہے تو ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیئے اس معاملے میں ورنہ ایسا نہ اور پھر انکار کر دے۔اس نے چائے کا آپ لیتے ہوئے کہا۔

ہاں ٹھیک کہہ رہی میں لڑکیاں دیکھنا شروع کر دیتی ہوں اللہ میرے بچے کی بھی زندگی میں خوشیاں لائے۔انہوں نے فورا کہا

ماما میری نظر میں ہے ایک اور وہ ہمارے ابقار کے لیے ٹھیک بھی رہے گی۔اس نے آگے ہو کر کہا۔

اچھا کون ہے وہ۔حلیمہ بیگم تھوڑی حیرانی سے کہا۔

حصیفہ جو درس کی کلاس میں ہوتی ہے۔اس نے کہا۔

کس کی بات کر رہی ہو۔انہوں نے ناسمجھی میں کہا۔

ارے ماما وہی جس نے اس دن میلاد میں لاسٹ میں نعت پڑھی تھی جب سے ہم درس کے لیے جا رہے ہیں میری اس سے تھوڑی بہت بات چیت ہوئی ہے مجھے تو بہت اچھی لگی۔اس تفصیل سے بتایا۔

اچھا وہ ہاں لگی تو مجھے بھی اچھی ہے وہ لیکن اگر اسکا کہیں رشتہ طے ہوا تو۔انہوں نے خدشہ بیان کیا۔

نہیں ماما میں نے ایک بار باتوں ہی باتوں میں پوچھا تھا۔اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

اچھا لیکن ہم ان کے جائیں گے کیسے۔؟انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔

ماما میں کہہ دوں گی کہ میں اگلی بار جب آؤں گی تو تمھارے گھر آؤں گی اس لیے تم اپنا ایڈریس دے دو۔اس نے مسکرا کے کہا۔

اچھا چلو تم دیکھ لو۔انہوں نے سر ہلایا۔

_________&&&&&&_________

رات میں کھانے کے بعد سب ٹی وی لاونج میں بیٹھے تھے حصیفہ کھڑی کپڑے پریس کر رہی تھی جب کہ باقی چاروں ٹی وی دیکھ رہے تھے۔

یار کیا تم ہر عجیب و غریب شکلوں کو دیکھتی رہتی ہو۔حماد نے ٹی وی پر آتی ایک لڑکی ککودیکھ کر کہا۔

بری بات ہوتی ہے بھائی کی شکل کو عجیب یا برا نہیں کہتے کیوں کہ ہم سب کو اللہ نے بنایا ہے اور اس کی بنائی گئی کسی بھی شے کو برا کہنا ہمارے لیے اچھا نہیں ہے۔اس سمجھداری سے کہا۔

زبیدہ بیگم نے چونک اسے دیکھا۔

عجیب کو عجیب ہی کہیں گے خوبصورت تو کہنے سے رہے۔اس ہنس کر کہا۔

ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم کسی کو دیکھ کر مذاق اڑائیں اور عجیب سا محسوس کریں کیونکہ انسان تو کوئی بھی مکمل نہیں ہوتا اور نا ہی خوبصورت اور ظاہری خوبصورتی کوئی معنی بھی نہیں رکھتی اصل خوبصورتی آپکی باطنی خوبصورتی ہوتی ہے جو کسی کسی انسان کو ملتی ہے۔اس نے سر ہلا کر کہا۔

اس کی بات حصیفہ مسکرائی

لیکن انسان کو ظاہری خوبصورتی متوجہ کرتی ہے۔اس نے ایک بات رکھی۔

ہاں کیونکہ آج کل ہم نے محض ظاہری خوبصورتی کو دیکھنا شروع کر دیا ہے لیکن جب ہم کسی انسان کے قریب جاتے ہیں تو ہمیں اسکی سیرت دیکھتے ہی دیکھتے ہیں کیوں کہ اگر وہ سیرت اچھا نا ہوا تو ہمیں اسکی ظاہری حسن برا لگنے لگتا ہے۔اور اللہ کی نظر میں بھی باطنی خوبصورتی معنی رکھتی ہے کہ آیا کہ وہ بندہ اللہ کے کتنے قریب ہے۔اور ویسے بھی ہم ہی لوگ ہوتے ان لوگوں کو کمپلیکس میں مبتلا کرنے والے جو زیادہ خاص شکلوں کے مالک نہیں ہوتے اور پھر پتا ہے وہ اللہ سے شکوے کرتے ہیں اور پھر اپنی زندگی سے عاجز آکر موت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔اس نے مسکرا کر کہا۔

ارے واہ تم تو بڑی سمجھ دار ہو گئی عقل کی داڑ نکل آئی ہے کیا۔حماد نے چھیڑتے ہوئے کہا

جی نہیں میں پہلے بھی سمجھدار تھی اور میں آپی کے ساتھ جاتی ہوں وہاں بھی اچھی اچھی باتیں ہوتی ہیں۔اس نے منہ بنا کر کہا۔

___&&&&_____

درس ختم ہونے کے بعد زنیرہ حصیفہ کے پاس ہی آگئی تھی

اسلام و علیکم۔حصیفہ سلام کیا۔

وعلیکم السلام کیسی ہو۔اس نے پوچھا

میں الحمدللہ ٹھیک۔مسکرا۔کہ جواب دیا۔

آج میں واپس جا رہی ہوں تو سوچا آپ لوگوں سے ملتی ہوئی چلوں۔اس نے بات شروع کی

اچھا جی خیریت سے جائیں۔

حصیفہ مجھے آپکے گھر کا ایڈریس چاہیے میں جب دوبارہ آؤں گی تب میں آپکے گھر بھی آؤں گی۔زنیرہ نے اصل مدعا بیان کیا

جی اچھا بلکل آئیں۔اس نے خوشدلی سے کہا

اپکو پتا ہے زنیرہ ہماری حصیفہ کا رشتہ طے ہوگیا ہے اب تو آپ اس کی شادی ہی جلد آئیں گی۔نمرہ نے مسکرا کہ کہا۔

ک۔کیا رشتہ مطلب کب ہوا رشتہ۔اس نے حیرانی پوچھا

بس کچھ دنوں پہلے ہی۔نمرہ نے کہا

اوہ اچھا۔اوکے بھائی آگیا ہے باہر اللہ نے چاہا تو پھر ملاقات ہو گی اللہ حافظ۔اس نے کہااور آگے چل دی۔

______________

زندگی کے دن پر لگا اڑھ رہے ہیں زندگی کا اصل مقصد ہم شاید بھول ہی گئے ہیں بس اس ایک کے لیے زندگی جیئے چلے جا رہے ہیں کچھ نیکیاں کر کہ اور بہت سے گناہ کر کہ۔

مائک میں ایک پر اثر آواز ابھری۔

اللہ نے ہمیں جس مقصد کے لیے دنیا میں اتارا ہے اسے چھوڑ کر ہم اس دنیائے فانی میں حد درجے مصروف ہو چکے ہیں۔پھر جب ایک دن اپکو یہ دنیا تکلیف دینے لگے تو اس کا شکوہ بھی اللہ سے کرنے لگ جاتے ہیں۔ایسا کیوں؟؟

اللہ نے تو ہمیں کوئی تکلیف نہیں دی بلکہ ہم ہیں جو آئے دن ڈھیروں گناہوں سے تر ہونے کے باوجود دن میں ایک بار اگر اللہ کا خوف آجائے تو ایک بار اس کے سامنے جھک اپنی گناہ کی معافی مانگ لیتے ہیں۔

لیکن کیا ہم وہ معافی سچے دل سے مانگ رہے ہیں کیا ہمارا دل صاف ہے اپنے کردہ گناہوں کی معافی مانگتے وقت کیا ہم یہ وعدہ کر رہے ہیں کہ وہ گناہ دوبارہ نہیں کریں۔کیاکیا کیا؟؟؟

آج کا بیان حصیفہ دے رہی تھی عالما بننے کے بعد اس کی یہ شدید خواہش تھی کہ وہ ایک درس ضرور دے گی اور موقع اسکو بڑی عالمہ نے فراہم کیا تھا

ہر ہر جگہ ہے کیا؟

ہاں ہم وعدہ تو کر رہے ہوتے ہیں لیکن خود سے اور انسان اجکل کسی دوسرے سے کیا وعدہ یاد نہیں رکھتا خود سے کیا وعدہ تو وہ مینٹوں میں توڑ دے گا۔

اللہ اج کے بعد ہم یہ گناہ نہیں کریں کسی کے ساتھ برا نہیں کریں گے۔کسی کا حق نہیں ماریں گے۔تیری عبادت میں مشغول ہو نگے بس تو ایک بار معاف کردے۔

ایسی ہی دعائیں ہم روز مانگتے ہیں اور توبہ بھی۔

اللہ بہت رحیم و کریم ہے ہمیں معاف کر دیتا ہے کیونکہ بس وہ اپنے بندے کی توبہ کا منتظر ہوتا ہے

اور اللہ کو پتا ہے کہ ہم پھر یہی کام کریں گے کیونکہ ہم اپنے نفس کے قابو میں ہیں نفس کے خلاف جنگ نہیں کرتے

اللہ کی کم سنتے ہیں اور نفس کے بہکاوے میں زیادہ رہتے ہیں۔

لیکن اگر کوئی ہمارے ساتھ کوئی برا کر دے تو دیکھو عالم بن کر اسکے گناہ گنوانے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ کہ ہمیں یہ بھی حق حاصل نہیں کہ کسی کو گنہگار کہیں کیونکہ ہم تو خود گناہوں میں پور پور ڈوبے ہوئے ہیں۔

پھر ہم کون ہوتے ہیں کسی کو کہنے والے کہ اپنے گریبان میں جھانکو کیا ہو اور کیا کیا کرتے ہو۔

کیا ہم خود پر نظر ثانی کرتے ہیں کہ ہم کیا کر چکے ہیں کیا کر رہے ہیں اگر ہم خود پر نظر ثانی کرنا شروع کردیں تو ہم کسی پر انگلیاں اٹھانے کے قابل نہیں رہے گے۔اس نے پر اثر انداز میں کہا۔

اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کردہ گناہوں کی فہرست پر دھیان دیں کیوں کہ قبر کا حساب ہمیں اپنی خود ہی دینا ہے

اور اللہ تو بڑا انصاف والا اور رحیم ہے۔

دوسری طرف اگر کوئی انسان برا کام کر رہا ہے تو اسے احسن طریقے سے روکیں اگر وہ پھر بھی اپنے کام پر قائم رہے تو اسے دل میں برا جان لیں۔

لیکن اگر کسی کے لیے برائی رکھیں تو اللہ کے لیے اس سے مراد ہے کہ کوئی بندہ گناہ کر رہا ہے اور کسی کے روکنے پر بھی نہیں روک رہا تو ایسے انسان کو دل میں برا جانے اگر آپ کسی سے ذاتی اختلاف کے عوض دل میں کینا رکھیں گے وہ گناہ ہوگا۔

اسی طرح جو پیسے اللہ کی راہ میں اللہ کے بندوں کی بھلائی میں خرچ کیے جائیں وہ بہترین دولت کا خرچ ہے۔

___________$$$$$___

اللہ نے ہمیں اپنی عبادت کرنے اور اسکی کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کرنے دنیا بھیجا ہے ہماری زندگی کا اصل اسلام کی روشنی میں زندگی گزارنا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیغام ہم تک پہنچا یا اسے مزید آگے پہنچانا تا کہ روز قیامت ہر ایک مسلمان ہو کر اٹھے اور ہمیں بھی اللہ کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے

اور جب مشکلات آئیں تو اس سے گھبرائیں نہیں نا موت کی دعا کریں کیوں نکہ موت مسئلے کا حل نہیں بلکہ راہ فرار ہے۔

اور اگر اپکو کوئی تکلیف پہنچے تو اللہ سے شکوہ بھی نہ کریں

بلکہ اللہ سے صبر کی دعا مانگ کر خود ثابت قدم رہیں۔

کیونکہ بے شک مشکل کے بعد آسانی ہے۔اس نے مسکرا کر اختتام کی طرف بڑھی۔

اپنے بیان کے اختتام میں چند دعائیں کرنا چاہوں گی اور آپکی آمین کے ذریعے ہی اللہ ان پر کن کہہ دیگا انشا اللہ

سب سے پہلے درود شریف پڑھ لیں سب۔۔

یا اللہ تو رحیم ہے کریم گناہوں کا پخشنے والا نعمتوں کو عطا کرنے والا انصاف کرنے والا۔

ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔

آمین

ہمارے ایمان کو مضبوطی عطا کر کہ ہم ایک بار تیری طرف موڑیں تو گناہوں کی طرف پلٹنا بھول جائیں۔ آمین

ماحول بہت پر سوز تھا اور ایک دعاؤں کے بعد پھر سے درود شریف پڑھا اور پھر محفل کا اختتام ہو گیا______

___________

گھر میں حصیفہ کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں اگلے مہینے کی 1 تاریخ بروز جمعے کو نکاح رکھا گیا اور اسکے دو ہفتے بعد رخصتی

اور اپنی ہی شادی کی شاپنگ میں حصیفہ نے کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔

جب اماں اسے کہتیں کہ شادی تمھاری ہے اگر کچھ اپنی مرضی کا کچھ لینا ہے تو لے لو۔

اماں اپکو پتا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا اور پھر جو بھی آپ لائے گیں وہ اچھا ہی ہوگا اور ویسے بھی منتہہ ہے نہ آپ اسکے ساتھ کر لیں۔یہ کہہ کر ٹال دیتی۔

نمرہ کی شادی کورس کے دوران ہی ہو گئی تھی اور آج بہت دن بعد وہ حصیفہ سے ملنے اسکے گھر آئی تھی اور ابھی دونوں منتہہ اور حصیفہ کے مشترکہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھیں۔

یار حصیفہ تمھیں بہت یاد کرتی ہوں اور مجھے آج کل ٹائم بھی نہیں ملتا کہ تمھیں کل کر لوں تم بھی یاد نہیں کرتی مجھے۔نمرہ نے منہ بنا کر کہا۔

میں بھی تمھیں بہت یاد کرتی ہوں میری جان اور میں بھی تمھیں کال یوں نہیں کرتی کیونکہ آپ اب اپنی گھر کی ہو گئیں ہیں کبھی کسی کام میں مصروف کبھی کسی۔اس نے نمرہ کی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

اچھا چلو کوئی بات نہیں تم بتاؤ تم نے الہان بھائی کو دیکھا ہے کیسے دکھتے ہیں۔اس نے تجسس سے پوچھا۔

نہیں یار میں نے نہیں دیکھا جب ایک بار ہی دیکھنا ہے تو محرم کی صورت میں دیکھوں گی۔اس نفی میں سر ہلا کر کہا۔

ہمم اچھا۔

ہاں اب آپ بتائیں خوش تو ہیں اور دلہا بھائی کیسے ہیں۔اس نے شرارت سے کہا۔

ہاں الحمدللہ میں بھی خوش ہوں اور رامش بھی بہت اچھے ہیں میرا بہت خیال رکھتے ہیں بلکہ پوری فیملی ہی بہت اچھی ہے بہت محبت کرنے والے لوگ ہیں پتا ہے۔اگر وہاں کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو پیار سے سمجھاتے ہیں نہ ڈانٹنا نہ طنز وغیرہ۔نمرہ نے بھر پور مسکراہٹ سے کہا۔

اللہ کا شکر ہے ایسی ہی ہمیشہ خوش رہو۔ آمین ۔حصیفہ نے دل سے کہا۔

اور سناؤ۔۔۔

ارے بعد میں سنا لیجیے گا ایک دوسرے کو ابھی تو گرم گرم چائے اور پکوڑوں کا لطف اٹھائیں۔اس سے پہلے حصیفہ کچھ کہتی منتہہ چائے اور پکوڑے ایک ٹرے میں لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔

ارے واہ یہ تو کام والی ہو گئیں یہ چاند کہاں سے نکل آیا ۔نمرہ نے شرارت سے چھیڑا

اب میں نے سوچا آپی اب جا رہی ہیں اپنے سسرال تو کیونہ انہیں ریسٹ دے دوں۔ورنہ یہ نا کہیں بعد میں کہ میکے میں بھی آرام نہ ملا نہ سسرال میں۔منتہہ نے شرارتی لہجے میں کہا۔

ایسا کچھ نہیں ہونا میرا بچہ اپکو بعد میں اماں کی صلواتیں نہ اننی پڑیں اس لیے کر رہی ہیں اور کچھ اماں نے بھی تنبیہ کیا ہے کہ اب کچھ سیکھ لو تاکہ بعد میں آسانی رہے۔حصیفہ نے ہنس کر کہا۔

اووو تو آنٹی نے کام پر لگایا ہے ورنہ ہماری منتہہ اور کام جیسے میٹھے میں نمک کیوں حصیفہ صحیح کہا نا۔نمرہ نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔

جی نہیں میں کام کرتی ہوں وہ تو آپی مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتی تھیں ہے نا آپی؟۔اس نے حصیفہ سے تائید چاہی

ہاں ہاں ہماری منتہہ کو سب کام آتا ہے۔حصیفہ نے اسے ساتھ لگا کر کہا۔

اور آگے کا ارادہ ہے منتہہ آپکا آگے پڑھائی کرنی ہے نا؟نمرہ نے اس سے پوچھا۔

جی جی بالکل کرنی ہے اور ابھی میں نے ایڈمیشن فارم فل کیا ہے دیکھیں اب کونسے کالج کے بھاگ جاگتے ہیں جہاں ہمارا نام آئے گا۔منتہہ نے آنکھ دبا کر کہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *