Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 07)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 07)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
اللہ جانے وہ جانے کے بعد پتا چلے گا ویسے کونسا سبجیکٹ لیا ہے تم نے۔نمرہ نے پوچھا
میں نے سائنس ہی لی ہے کیونکہ نمبر بھی اچھے اگئے اللہ کے کرم سے اب دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔اس نے مسکرا کہ کہا۔
اچھا حصیفہ تم بتاؤ تمہیں کیا گفٹ چاہیئے میں وہی لے لوں گی پھر۔نمرہ حصیفہ کی جانب متوجہ ہوئی جو ان دونوں کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی۔
بس تم آجاؤ اور میرے لیے ڈھیڑ ساری دعائیں کرو اس سے بہتر تحفہ میرے اور کوئی نہیں ہوگا۔اس اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔
وہ تو میری جان میں ہر وقت کرتی ہوں تمھارے لیے خیر میں خود ہی کچھ خرید لوں گی تم سے پوچھنا ویسے بھی فضول ہے۔اس نے کہا
اچھا ٹھیک ہے اور نکاح پر جلدی آجانا تم بھائی سے پوچھ کر۔حصیفہ نے اسے تائید کی
ہاں ہاں یار آجاؤں گی انشاللہ۔نمرہ نے مسکرا کر کہا۔
پھر کچھ باتیں کرنے بعد نمرہ واپس چلی گئی اور حصیفہ نماز پڑھنے۔
میں نے اپکو کہا ہے میں آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔اس نے غصے سے کہا۔
تم میری بات تو سن لو ایک بار یاررر پلیز۔دوسری طرف سے التجا کی گئی۔
مجھے کچھ نہیں جب اپکو مجھ سے محبت ہے ہی نہیں اور جب آپ میرے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تو میں بھی آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔لڑکی نے دانت پیس کر کہا۔
یار مجھے تھوڑا ٹائم دو میں سب ٹھیک کر دوں گا اور میں نے ماما سے بات کرنی ہے ایک دو دن بس ذرا مصروف تبھی ہو نہیں پا رہی بات تم مجھے ایک موقع دے بس ایک۔دوسری طرف بے بسی سے کہا گیا۔
اپکے پاس ایک ہفتے کا ٹائم ہے اگر آپ کچھ نہیں کر پائے تو یہ تعلق ہمیشہ کے لیے ختم اب جب مسئلہ حل ہو جائے گا تم تب ہوگی اللہ حافظ۔کہہ کر فون ٹیبل پر پٹخہ اور دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔
یا اللہ میری مدد کر اب میرے ساتھ ایک اور جان وابستہ ہے۔اس نے بے بسی سے کہا۔
____________________$$
کچھ جدوجہد کے بعد الہان شادی کے لیے مان گیا تھا لیکن وہ کسی بھی کام میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا
بیٹا تمھارے لیے حصیفہ کے گھر سے نکاح کے لیے کرتا آیا ہے زرا دیکھ لو۔وہ جو باہر جا رہا تھا مسز جمال کی آواز پر رک گیا۔
جب ہر چیز آپ اپنی پسند اور مرضی سے کر رہی ہیں ہے تو یہ بھی دیکھ لیں مجھے کچھ نہیں دیکھنا اور میں باہر جا رہا ہوں لیٹ آؤں گا۔کہہ کر لمبے لمبے ڈنگ بھرتا چلا گیا۔
یا اللہ اس لڑکے کو عقل دے میرے مالک پتا نہیں کیا چل رہا ہے اسکے دماغ میں۔انہوں نے پریشانی سے کہا۔
کیا ہوا ماما کیوں اتنی پریشان لگ رہی ہیں۔منال جو ابھی لاونج میں آئی ماں کا پریشان چہرا دیکھ کر بولی
کیا پریشانی ہو سکتی الہان کے رویہ پر پریشان ہو رہی ہوں پتا نہیں کیا کرے گا یہ لڑکا میری تو سمجھ سے باہر ہے اس کی انہی حرکتوں پر تمھارے بابا مجھ پر غصہ کر رہے ہیں۔انہوں نے روہانسی ہو کر کہا۔
ماما ٹھیک ہو جائے گا جب شادی ہو جائے گی آپ ٹیشن نہ لیں۔اس نے انہیں تسلی دی۔
کسی چیز میں حصہ نہیں لے رہا یہاں تک کہ میں جب شادی کی شاپنگ پر اسے لے کر گئی تب بھی اس نے کوئی خریدا۔مسز جمال نے سر تھام کر کہا۔
چلیں آپ فکر مت میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔اس نے کہا اور کیچن کی طرف چلی گئی۔
_____$$$$$
ابقار بیٹا۔مبین صاحب نے دروازے پر دستک دی۔
ارے بابا آپ آئیے نہ۔اس نے لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا جس تھوڑی دیر پہلے کام کر رہا تھا۔
کوئی ضروری کام کر رہے تھے بیٹا۔انہوں نے اندر داخلہوتے ہوئے پوچھا
نہیں بابا بس کچھ فائلز ہیں جنہیں ریچیک کر کہ میل کررہا تھا آپ بتائیں کوئی تھا مجھے بلالیا ہوتا۔اس نے مسکرا کہ کہا۔
نہیں بیٹا بس ایک بات کرنی تھی مجھے تم سے۔انہوں تمہید باندھی
جی جی بابا بولے۔اس نے پوچھا۔
بیٹا ہماری زندگی کا کچھ نہیں پتا کہ کب آنکھ بند ہو جائے لیکن ہر ماں باپ دنیا سے جانے سے پہلے کچھ خواہشات ہوتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے زندگیوں میں خوش دیکھ لیں تاکہ سکون سے آنکھیں بند کر سکیں۔انہوں نے رسان سے کہا
بابا کیسی باتیں کر رہے ہیں اللہ اپکو صحت دے آپ اور ماما ہی تو ہیں جو بہت قیمتی ہیں میرے لیے۔اس نے انکا ہاتھ تھام کر کہا۔
بیٹا ہم چاہتے ہیں کہ تم شادی کر کہ اپنی زندگی آگے بڑھو اور وہ خوشیاں سمیٹو جو تمھاری منتظر ہیں بیٹا جب کچھ برا ہوتا ہے اسکے پیچھے کچھ بہت بہتر چھپا ہوتا ہے بس ہمیں وہ نظر نہیں آتا۔ہم بس دکھوں کو سینے سے لگا کر ان خوشیوں کو نظر انداز کرتے ہیں جو ہماری منتظر ہیں تو یہ ناشکری ہے اللہ ہمارے حق میں ہر چیز بہتر کرتا ہے بس ہمیں وہ وقت رہتے پتا نہیں چلتا اور جب پتا لگتا ہے تو پھر ہمیں بات سمجھ آتی ہے اسی طرح اب تم بھی خوشیوں کی طرف قدم بڑھاؤ۔انہوں نے اسے سمجھایا۔
جی بابا میں پوری کوشش کروں گا۔اس نے مسکرا کر کہا
بیٹا آپکی ماما نے آپکے لیے دو تین لڑکیاں دیکھی ہیں اب وہ چاہتی ہیں کہ تم بھی ایک بار دیکھ لو جو بھی اچھی لگے پھر اسی کہ گھر رشتہ لے جائے گے۔انہوں نے اگلی بات بیان کی۔
بابا اپکو اور ماما کو جو پسند ہو اسی کو دیکھ لیں میں اب اپنی مرضی نہیں کرنا چاہتا ایک بار انجام بھگت چکا ہوں۔اس نے زخمی مسکراہٹ سے کہا۔
ٹھیک ہے پھر میں تمھاری ماں کو کہ دیتا ہوں کہ لڑکا مان گیا ہے بس تیاری کرو اب۔انہوں نے شرارت سے کہا۔
بابا آپ بھی نہ۔اس نے ہنس کر کہا۔
____________
رشتہ سننے اور لکھنے میں معمولی اور چھوٹا لفظ ہے لیکن اسے نبھاتے نبھاتے اس میں پختگی لاتے لاتے انسان تھک جاتا ہے لیکن ان رشتوں کی نازک ڈوری کو زرا بھی زور زبردستی کھینچا جائے تو وہ نازک ڈور میں کچا پن پیدا ہو جاتا ہے ہر رشتے میں دل کی رضا مندی کا شامل ہونا لازمی ہے کسی بھی رشتوں میں اگر دل کا عمل دخل نہ ہو تو رشتہ مجبوری اور برداشت تک رہ جاتا ہے جو رشتے کی چمک کو ختم کر دیتا ہے اور جب رشتوں میں چمک اور لگاؤ ختم ہو جائے تو رشتے مکروہ ہو جاتے ہیں اور ان میں محض دکھاوا رہ جاتا ہے جو صرف دنیا داری ہوتی ہے۔
___________$$$
ساری تیاری مکمل ہو گئی تھی نکاح میں اب صرف ایک ہفتہ ہی بچا تھا پر نصیب میں تو کچھ اور ہی لکھا تھا۔
ابھی وہ اپنے کمرے سے نکلی تو اسکا رنگ زرد ہو رہا تھا۔
بیٹا تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟؟مسز جمال نے سامنے کھڑی لڑکی سے کہا۔
جی پھوپھو میں ٹھیک ہوں بس آوفس میں کچھ الٹا کھا لیا تھا تو شاید فوڈ پوائزنگ ہو گئی ہے۔اس نے نظریں چرائی
بیٹا تو ایک بار ڈاکٹر کو چیک اپ کرالو کہیں زیادہ طبعیت خراب نہ ہو جائے اور دیکھو کتنی کمزور ہو گئی ہو کہا بھی ہے کہ چھوڑ دو کام اللہ سب ہر فرد کے نصیب کا عطا کرتا ہے لیکن تم نے میری بات نہیں سنی۔انہوں نے فکر مندی سے کہا اور ڈانٹا بھی
ارے میری پیاری پھوپھو جان آپ زیادہ پریشان نہ ہو ایک دو دن میں بالکل ٹھیک ہو جاؤں گی اور میں نے دوائی بھی لے لی ہے۔اس نے مسکرا کر انکے ہاتھ اپنا ہاتھ رکھا۔
پھر ایک ابکائی تو وہ فوراً بھاگتی ہوئی گئی۔
ارے مقدس بیٹا کیا ہوا۔وہ بھی پریشانی سے اسکے پیچھے بھاگیں۔
کمرے میں پہنچیں تو وہ واشروم میں تھی۔
وہ باہر آئی تو وہ پریشان سی کھڑی نظر آئیں
کب سے ہے تمھاری یہ طبیعت۔انہوں نے مشکوک انداز میں پوچھا۔
کل سے کل ہی تو میں نے پتا نہیں کیا کھا لیا تھا نہ اس لیے اپکو آکر پریشان نہیں بس۔اس نے پھر نظریں چرائی
ادھر دیکھو میری طرف۔انہوں نے سختی سے کہا۔
ج۔۔جی۔اس نے انکی آنکھوں میں دیکھا جہاں کچھ عجیب تھا۔
کہاں اپنے ماں باپ کی تربیت اور میرے بھروسے کو روندھ کر آئی ہو۔انہوں نے چیخ کر کہا۔
اپ کیا کہہ رہی ہیں پھوپھو میں کیا کیا؟؟اس نے گھبرا کر پوچھا۔
سب کچھ اجاڑ کر پوچھ رہی کہ کیا کیا ہے ت۔۔۔تم نے ایسا قدم کیسے اٹھایا بتاؤ کس کا بچہ ہے یہ جائز بھی ہے یا نہیں۔انہوں نے اسے غصے سے تھام کر پوچھا۔
پھوپھو کیا کہہ رہی ہیں آ۔اپ ایسا کہہ بھی کیسے سکتی ہیں کسی کا گناہ نہیں ہے یہ اور نہ ناجائز نکاح ہوا ہے اس کے ہونے والے باپ سے میرا۔اس نے چلا کر کہا۔
تو بتاؤ کون ہے وہ مجھے ابھی اسکے ساتھ رخصت کرتے ہیں۔عقب سے ایک غصے والی آواز سنائی دی دونوں پیچھے موڑیں۔
پیچھے جمال صاحب کھڑے تھے۔
بلاؤ اپنے یار کو اور دفاع ہو جاؤ اس گھر سے اسی وقت نہیں تم ایسے نہیں جاؤ گی چلو میرے ساتھ۔انہوں اسکا ہاتھ تھاما اور اسکے گھسیٹتے ہوئے باہر لے آئے
انکل اک۔۔ایک بار میری بات سنیں ایسا مت کریں پلیز۔اس نے بے بسی سے کہا۔
کچھ نہیں سننا نکلو اس گھر سے۔انہوں نے زور سے اسکا ہاتھ چھوڑا وہ ابھی گرتی جب دو مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا۔
کیا تماشہ لگایا ہوا ہے آپ لوگوں نے۔یہ الہان تھا جس نے مقدس کو تھاما ہوا تھا
پوچھو اس سے کہاں منہ کالا کر کہ آئی ہے ہمارا ہمارا بھروسہ تو چھوڑو اپنے ماں باپ کی تربیت کا بھی خیال نہیں کیا۔جمال صاحب نے حقارت سے کہا۔
انف بابا کوئی منہ کالا نہیں کیا ہے اس نے۔الہان نے غصے سے کہا۔
تم کیوں اتنا یقین سے کہہ رہے ہو۔جمال صاحب نے آبرو آچکا کر کہا۔
کیونکہ یہ میری بیوی ہے اور یہ بچہ بھی میرا ہے۔اس نے سب گھر والوں کے کانوں میں سور پھونکا۔
یہ کیا بکواس کر رہے ہو۔جمال صاحب نے اشتعال سے کہا
جبکہ مسز جمال تو سر تھام کر بیٹھ گئیں۔
بالکل سچ کہہ رہا ہوں ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ہم نے نکاح اسی وجہ سے کیا جیسا آپ نے اس شادی کے لیے رضا مند نہیں ہونا سیدھی طرح پھر میں نے سوچا ایک بار شادی ہو جائے گی تو آپ لوگ خود ہی مان جائیں گے۔اس نے آرام سے بتایا۔
میں نہیں مانتا اس رشتے کو۔انہوں ضد سے کہا۔
بابا آپکے نہ ماننے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر آپ مجھے اس گھر نہ بھی رکھنا چاہے تو میرا خود کا فلیٹ ہے ہم وہیں شفٹ ہو جائیں گے پر میں مقدس کو کسی حال ن
میں نہیں چھوڑوں گا یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں۔اس نے آرام سے کہا۔
تو جاؤ دفاع ہو جاؤ میرے گھر سے ابھی کہ ابھی۔جمال صاحب نے دھاڑ کر کہا۔
جی جا رہا ہوں جاؤ مقدس اپنا سامان پیک کرو ہم اسی وقت یہ گھر چھوڑ کر جائے گے۔اس نے مقدس کو کہا جو جب سے ایک ہی غیر مرئی نقطے پر دیکھ رہی تھی
کوئی نہیں جائے گا اس گھر سے اور آپ جمال صاحب کب تک خود سے سارے فیصلے کرتے رہے گے آپ اپکے انہی بے جا رعب کی وجہ سے ہمیں یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔مسز جمال نے دکھ سے کہا۔
میں۔
بس بہت ہوا اب چپ ہو جائیں آپ۔اپ نے اولاد کو ساری سہولتیں تو دے دیں لیکن کبھی ان سے دوستانہ رویہ نہیں رکھا ہر وقت بات بے بات پر اپنا غصے دیکھاتے رہے جس سے آپکی اولاد آپ سے ہی اتنی بد ظن ہو گئی خدا کا واسطہ ہے اپکو بخش دیں ہمیں اور شانتی سے رہنے دیں۔انہوں نے انکے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
جمال صاحب بھی پھر خاموش ہو گئے۔
رشتوں میں محبت اور بھروسہ دینا لازمی ہے اور ہر رشتے میں دوستی ہونا چاہیے سب سے زیادہ ماں باپ کے ساتھ تاکہ بچے کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے آپ سے بات کریں اور سیدھا راستہ اپنائیں اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے۔
______$$$$$$
ارے اماں آپ اتنی پریشان کیوں بیٹھی ہوئی ہیں آپ کب تک اس بات کو لے کر بیٹھی رہے گیں جو زیادہ اہمیت کی حامل نہیں تھی۔حصیفہ نے زبیدہ بیگم کو کہا جو کسی سوچ میں گم تھیں۔
کیسے پریشان نہ ہوں لڑکے والوں نے بیٹی کے رشتے سے انکار کر دیا وہ بھی جب سب تیاری مکمل ہو گئی ہیں کیا منہ دکھائیں گے ہم لوگوں کو اور کیا جواب دیں گے لوگ تو یہی سوچیں گے کہ ضرور ہماری بیٹی میں جھول ہے۔انہوں نے سر تھام کر کہا۔
اماں کیا ہو گیا ہے اپکو کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ اللہ نے میرے نصیب میں جو لکھا تھا وہی ہوا اور مجھے یقین ہے اس میں میری بہتری ہے اب اس ایک رشتے کی وجہ سے ہم دنیا سے منہ چھپانے سے تو رہے۔بھول جائیں اس بات کو جتنا سوچیں گیں اتنی ہی پریشان رہے گیں چلیں میں نے کھانا لگا دیا ہے آکر کھا لیں.اس نے انکھیں ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر سمجھایا۔
بیٹا یہ باتیں ہم تو سمجھ لیں گے کہ اس میں کوئی بہتری ہوگی تبھی ایسا ہوا لیکن یہ لوگ یہ معاشرہ یہ بات نہیں سمجھتا یہاں سب لڑکی کو ہی مشکوک سمجھتے ہیں۔انہوں نے بے بسی سے کہا۔
ارے میری پیاری اماں اللہ ہے نہ وہ خود ہی سبکو جواب دے گا وقت کر ذریعے اور لوگ چند دن یہ بات یاد رکھیں گے پھر بھول جائیں گے۔اس نے مسکرا کر کہا۔
اماں ابو اپکو بلا رہے ہیں آکر کھانا کھائیں چلیں۔منتہہ نے آکر کہا
ہاں ہاں آرہی ہوں کبھی تو سکون سے دکھ منانے دیا کرو۔انہوں نے منہ بنا کر کہا۔
یار اماں آپ دکھی بالکل اچھی نہیں لگتیں آپ بس ہمیں شانتی اور سمجھاتی ہوئی اچھی لگتی ہیں اور آپ زیادہ پریشان نہ اللہ جلد آپی کو اپنے گھر جا کر دیگا جہاں وہ بہت خوش رہے گیں انشاللہ۔اس نے اماں کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
دیکھا اماں اسے یاد آرہی ہے آپکی ڈانٹ زرا اسے پھر سے ڈانٹ دیں ورنہ پھر یہ نکمی ہو جائے گی۔اس نے ہنس کر کہا۔
یار آپی آپ بھی اب کرتی تو ہوں نہ کام۔اس نے منہ بنا کر کہا۔
اچھا چلو اب کہیں ایسا اب تمھارے ابا ہی اٹھ کر آجائیں۔اماں نے اٹھتے ہوئے کہا۔
جی ہمارے ابا سے آپکے بغیر کھانا جو نہیں کھایا جاتا۔منتہہ نے آنکھ مار کہا۔
چل ہٹ بے شرم۔اماں نے مسکرا کر کہا۔
ہائے اماں آپ بلش کر رہی ہیں۔منتہہ نے حیران ہو کر کہا۔
منتہہ باز آجا ورنہ ابھی سدھاروں۔اماں نے مصنوعی غصے میں کہا۔
اچھا اچھا سوری۔اس نے کان پکڑ کہا۔
پھر سب کھانا کھانے چلے گئے۔
________&&&&&&
ہمارے نصیب کے دو حصے ہیں ایک حصہ وہ جس میں کاتب تقدیر نے جو لکھ دیا ہے وہ بدل نہیں سکتا دوسرا حصہ وہ جسے ہم خود لکھتے ہیں اپنے برے اور اچھے کاموں سے۔کہتے ہیں نہ کہ دعاؤں سے نصیب بدل جاتے ہیں دوسرے حصے کو دعائیں ہی ہوتی ہیں ہمارا نصیب ہمارے اپنے اچھے اور برے عمل سے بہتر اور بدتر بنتا ہے اور دوسروں کی نیک دعاؤں سے بھی۔
اور اللہ نے جو بہتر لکھا ہے وہ اپکو وہی دیگا اگر کبھی کوئی چیز دے آپ سے لے لیتا ہے تو وہ اپکو آزماتا ہے آیا اب بھی آپ اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں یا اس چیز کا دکھ منا کر اللہ سے شکوے کر رہے ہیں اگر ہم آزمائش میں بھی ثابت قدم ہیں اور آپکا دل اور زبان اللہ کا شکر کر رہی ہیں تو اللہ اپکو بہترین نوازتا ہے کیونکہ وہ تو ہے ہی کریم ہم سے محبت کرنے والا جہاں ہر اپنا ساتھ چھوڑتا وہاں اللہ اپکو گرنے نہیں دیتا لیکن اگر انسان اللہ کی عطا کردہ پچھلی ہر ںعمت کی نا شکری کرتا ہے اور اللہ سے شکوے کرنے لگتا ہے تو آزمائش طویل ہو جاتی ہے۔
_________&&&_
حصیفہ نے دوبارہ مدرسے جانا سٹارٹ کر دیا تھا لیکن اب صرف درس ہی سننے جارہی تھی۔
آج بھی جب درس ختم ہوا سب باہر کی طرف نکل رہے تھے جب حلیمہ بیگم نے اسے پکارا۔
اسلام و علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ ۔اسنے مسکرا کر ان سے مصافحہ کیا۔
وعلیکم السلام میں الحمدللہ ٹھیک ہوں میں نے معذرت کرنی تھی میں تمھاری شادی پر نہیں آ پائی بس تھوڑی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔انہوں نے کہا۔
نہیں آنٹی میری شادی نہیں ہوئی۔اس نے بغیر کسی تاثر کہ کہا
ک۔کیا مطلب شادی نہیں ہوئی۔؟؟انہوں حیرت سے پوچھا۔
پتا نہیں شاید اللہ کو منظور نہیں تھا اس لیے انکی طرف سے ہی منع ہو گیا۔اس نے مسکرا کے کہا
اچھا اللہ کی جو بہتری تو آپکا تو عالمہ کا کورس ختم ہو گیا نا پھر آپ یہاں۔انہوں نے پوچھا۔
جی بس مکمل تو ہو گیا لیکن میں درس کے لیے آرہی ہوں اور کچھ جو نیو لڑکیاں ہیں انہیں گائیڈ کر دیتی ہوں۔اس نے کہا۔
اچھا چلو پھر ملاقات ہو گی اللہ حافظ۔انہوں الوداعی کلمات کہے اور چلی گئیں لیکن ایک سوچ آ ضرور گئی تھی۔
__&&____&
وہ گھر آئیں تو زنیرہ کی کال آرہی تھی
اسلام وعلیکم بیٹا کیسی ہو خیریت اتنی کالز میں درس میں گئی ہو یہ تھی۔انہوں نے فون اٹھاتے ہی کہا
جی جی الحمدللہ سب ٹھیک ہے بس کافی دن ہوئے آپ سے بات نہیں ہوئی تھی تبھی کال کر رہی تھی اور آپکے نواسا اور نواسی بھی آپ سے بات کرنا چاہ رہے تھے۔اس نے وجہ بتائی۔
اچھا اور گھر میں سب کیسے ہیں۔انہوں نے پوچھا۔
سب ٹھیک ہیں ہم اسلام آباد گھومنے جا رہے ہیں تو بس اسی کی تیاری کر رہی تھی۔اس نے مسکرا کے کہا۔
ہمم اچھا اللہ اپنی امان میں رکھے اور خیر سے جاؤ ۔انہوں سانس ہوا کے سپرد کر کہ کہا۔
اور ہو گئی حصیفہ کی شادی گئیں تھیں آپ؟؟۔اس نے یاد آنے پر پوچھا۔
ہاں اس کی شادی نہیں ہوئی لڑکے والوں نے انکار کر دیا اینڈ ٹائم پر لیکن پتا ہے کیا مجھے اسکے چہرے پر کوئی دکھ نظر نہیں آرہا تھا اور اس نے کہا کہ اللہ نے بہتری نہیں رکھی ہوگی۔انہوں مسکرا کہ کہا۔
ہاں کہہ تو ٹھیک رہی ہے لیکن ایسے اچانک منع کر دیا۔اس نے تعجب سے پوچھا۔
ہوگی بیٹا کچھ بات بس اللہ سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔انہوں نے دل سے دعا کی۔
ہاں ماما مجھے ہمارے ابقار کے لیے وہ ہمیشہ سے پسند رہی ہے۔اسکی شادی کی خبر سن کے میں خاموش ہو گئی تھی لیکن کیا پتا اللہ نے سچ میں اسے ہمارے ابقار کے لیے بنایا ہو۔اس نے کچھ سوچ کر کہا۔
ہمم ہے تو بہت اچھی بچی وہ مجھے بھی کوئی دانہ نظر نہیں آئی اور اخلاق بھی بہتر ہے ماشاءاللہ۔انہوں نے تعریفی انداز میں کہا۔
تو ماما آپ چلی جائیں نہ اسکے گھر ایک بار بات کر کہ دیکھیں شاید اللہ کوئی بات بنا دے۔اس نے کہا
اچھا پر میرے پاس اسکا ایڈریس نہیں تو کیسے جاؤں گی میں؟؟انہوں پریشانی سے پوچھا۔
ارے ماما میرے پاس ہے اسکا ایڈریس میں نے وہاں سے جاتے وقت لیا تھا میں اپکو سینڈ کر دیتی ہوں۔اس نے فورا بتایا۔
اچھا ٹھیک ہے تمھارے پاپا سے بات کر لوں پہلے پھر تمھیں بتاؤں گی۔اانہوں نے کہا
اچھا ٹھیک ہے میں بھی تیاریاں دیکھ لوں دانیال کے آنے کا بھی ٹائم ہو رہا ہے اور بس میرے بھائی کی شادی کی تیاریاں کریں۔اسنے شرارت سے کہا۔
ہاں ہاں انشاللہ ضرور اللہ نیک دن دکھائے۔وہ مسکرائیں
